🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.83K subscribers
69.7K photos
228 videos
257 files
8.84K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
نہ ہو اور اتنا کھانے کی اجازت ہے کہ جس سے ضرورت پوری ہو جائے ۔

📝 حجۃ الوداع کے موقع پر دین اسلام کے مکمل اور اللہ کے پسندیدہ نظام حیات ہونے کا اعلان ہے کہ اسلام اللہ تعالی کا پسندیدہ دین ہےاور یہ ایک نظام حیات ہے۔

🦆🐐 پرندوں،چوپایوں اور درندوں کی مدد سے شکار کےجو اصول و ضوابط ہیں اسکو بیان کیا گیا ہے ۔اہل کتاب کا ذبح کیا ہوا جانور بھی مسلمانوں کیلئے حلال ہے خواہ یہودی ذبح کرے یا عیسائی، یونہی مرد ذبح کرے یا عورت یا سمجھدار بچہ۔لیکن یہ یاد رکھنا نہایت ضروری ہے کہ ان اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے جو واقعی اہلِ کتاب ہوں ، موجودہ زمانے میں عیسائیوں کی بہت بڑی تعداد دہریہ اور خدا کے منکر ہو چکے ہیں لہٰذا نہ ان کا ذبیحہ حلال ہے اور نہ عورتیں۔

🔗  *اہلِ کتاب سے نکاح کے چند اہم مسائل*

📍اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح حلال ہے لیکن اس میں بھی یہ شرط ہے کہ وہ واقعی اہلِ کتاب ہوں ،دہریہ نہ ہوں جیسے آج کل بہت سے ایسے بھی ہیں۔

📍یہ اجازت بھی دارالاسلام میں رہنے والی ذِمِّیَہ اہل کتاب عورت کے ساتھ ہے۔ موجودہ زمانے میں جو اہلِ کتاب ہیں یہ حربی ہیں اور حربیہ اہلِ کتاب کے ساتھ نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے۔

📍ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ یہ اجازت صرف مسلمان مردوں کو ہے مسلمان عورت کا نکاح کتابی مرد سے قطعی حرام ہے۔

🚿 پھر طہارت حاصل کرنے کے لیے وضو اور تیمم کا طریقہ پھر اللہ تبارک و تعالی کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

⚔️ حدیبیہ کے موقع پر کافروں نے حملہ آور ہونے کا پروگرام بنایا، لیکن اللہ تعالی نے انہیں مرعوب کردیا اور وہ حملہ نہ کر سکے، اس انعام خداوندی کا شکر ادا کرنے اور توکل کا اہتمام کرنے کی بندوں کو تلقین کی گئی ہے۔

⛓️ پھر اللہ تبارک و تعالی نے موسی علیہ السلام کا تذکرہ فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم کو جہاد کے لیے تیار کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالی نے تمہیں ایک منصب عطا فرمایا ہے اور تمہارے خاندان میں تمہاری نسل میں انبیا اور رسولوں کو پیدا فرمایا۔تمہیں چاہیے کہ اب عمالقہ قوم سے بیت المقدس سے پاک کردو، تو اللہ تبارک وتعالی تمہیں فتح اور کامرانی سے ہمکنار فرمائے گا ،مگر وہ لوگ اپنی بزدلی اور اپنی طبیعت کی خباثت کے پیش نظر جہاد سے پیچھے ہٹ گئے اور معاذاللہ یہاں تک بھی انہوں نے کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑیں ہم تو یہیں پر بیٹھے ہیں ۔ معاذاللہ

💥 پھر اللہ تبارک و تعالی نے آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کے باہمی اختلاف اور انکی قربانی کا تذکرہ فرمایا ہے، ان میں سے ایک تو صالح تھے مومن تھے اور دوسرا بدبخت ، ایک کا نام قابیل تھا ایک کا نام ہابیل تھا ۔اب اسکو یاد رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ قابیل ق سے آتا ہے اور قاتل بھی ق سے آتا ہے تو یہ قابیل جو ہے سمجھ لیں وہ صحیح نہیں تھا اور جوہابیل تھے وہ شہید ہوئے تھے ۔تو ہابیل میں بھی ہ آتا ہے اور شہید میں بھی ہ آتا ہے تو اسطرح یاد رکھا جا سکتا ہے۔
بہرحال قابیل دنیائے انسانی کا پہلا قاتل ہے جس نے اپنی ضد اور بغض کی خاطر اپنے بھائی ہابیل کو حسد کی وجہ سے شہید کردیا۔دنیا میں قیامت تک جتنے قتل ہوں گے انکا گناہ قاتل کے ساتھ ساتھ اس قابیل کو بھی ملتا رہے گا، ہابیل نے قابیل کو قتل ناحق جیسے بد ترین جرم سے روکنے کے لیے عمدہ وعظ اور نصحیت کرتے ہوئے فرمایا کہ تم مجھے قتل کرنے کی کوشش کرو گے تومیں ہر گز ردعمل کے طور پر تمہیں قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھاوں گا۔میں اللہ سے ڈرتا ہوں سوچ لو میرے ناحق قتل کرنے سے تم خود گناہ گار ہو گے،قابیل پر اس نصیحت کا کچھ اثر نہ ہوا اور اس نے ہابیل کو شہید کر کے خسارے کا سودا مول لے لیا ۔اللہ تبارک وتعالی نے کوّے کے ذریعے سکھایا کہ کیسے زمین کو کھود کر بھائی کی لاش اس میں دفن کرنی ہے، جسے دیکھ کر قابیل کو بڑی ندامت ہوئی کہ ہائے افسوس میں تو اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا۔

🔗 آگے اہل ایمان کو تقوی پر کاربند رہنے، اللہ کا قرب حاصل کرنے، نیک اعمال کو وسیلہ بنانے اور جہاد فی سبیل اللہ میں مصروف ہوکر فلاح و کامرانی حاصل کرنے کی دعوت دی ہے ۔


🩸 پھر آیت نمبر 45 میں ایک قانون بیان کیا گیا ہے کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ،کان کے بدلے کان ،دانت کے بدلے دانت ہوگا ،لیکن اگر کوئی فریق درگزر کردے اور معافی کا فیصلہ کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالی اسکے لیے گناہوں کی معافی کا وعدہ فرمارہا ہے۔

❤️🤝🏻 اس کے بعد مسلمانوں کو یہودو نصاری کے ساتھ قلبی دوستی لگانے سے منع کیا گیا  کیونکہ وہ امت مسلمہ کے سخت ترین دشمن ہیں۔قرآن کی صداقت کا معجزہ ہم اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ سکتے ہیں کہ آپس میں انکا شدید اختلاف کیوں ہی نہ ہو شدید مذہبی اور سیاسی اختلافات کے باوجود بھی یہود ونصاری مسلمانوں کے مقابلے میں متحد ہو جاتے ہیں بلکہ سارے کے سارے کفار مسلمانوں کے مقابلے میں ایک ہو جاتے ہیں ۔اور یہ ایک مقولہ بھی ہے
کہ
الکفر ملۃ واحدۃ
کفار سارے کے سارے ایک قوم کی طرح ہی ہیں


 🌼 پھر اللہ
تبارک وتعالی کے محبوب بندوں کی چار صفات بیان کی گئی ہیں ایک یہ کہ اللہ ان سے محبت فرماتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں، دوسری یہ کہ اہل ایمان کے حق میں انتہائی نرم اور کافروں کے حوالے سے انتہائی سخت ہوتے ہیں،تیسرا یہ کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور چوتھا یہ کہ اللہ کی راہ میں جہاد کے حوالے سے کسی بھی ملامت کرنے والے کی ملامت کو خاطر میں نہیں لاتے،کوئی انکو تنگ کرے کوئی انکا مذاق اڑائے تو انکے مذاق کا خیال نہیں کرتے۔

📲 +92-321-2094919
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📃 *فیضان خلاصہ تراویح*📃

✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*

👂🏻 *ساتواں پارہ،واذا سمعوا*

💧 عیسائیوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو قرآن کریم سن کر اپنے آنسووں پر قابو نہیں رکھ پاتے اور بےاختیار انکی آنکھوں سے آنسو نکل جاتے ہیں۔

📢 واقعہ اصل میں یہ تھا کہ کفار مکہ کے مظالم سے تنگ آ کر مسلمانوں کا ایک قافلہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے ہجرت کر کے ملک حبشہ گیا اور حبشہ عیسائیوں کا ملک تھا۔مشرکین مکہ ان کے پیچھے گئے اور حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے سامنے غلط بیانی کر کے مسلمانوں کے خلاف ایک سازش کرنے کی کوشش کی۔
نجاشی نے مسلمانوں کو طلب کر کے سوالات کیے،حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے نجاشی کو سورہ مریم پڑھ کر سنانا شروع کی تو نجاشی اور اسکے ساتھیوں پر قرآن کریم سن کر ایسی رقت طاری ہوگئی کی انکی ہچکیاں بندھ گئیں انکی داڑھیاں آنسووں سے تر ہو گئیں۔آخر کار کلام الہی سے متاثر ہو کر انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور مسلمانوں کو وہاں پر مہمان کے طور پر اپنے ملک میں ٹھرانے کا اعلان کر دیا اور مشرکین مکہ رسوا ہوئے۔

⚖️ اس کے بعد آیت نمبر 87 سے حلال اور حرام کے حوالے سے کچھ گفتگو اور انتہا پسندی کی مذمت کی گئی کہ اسلام انسانوں کو میانہ روی کا درس دیتا ہے اعتدال کا درس دیتا ہے۔

📖 پھر آیت نمبر 89 میں قسم کے احکام ہیں۔
صحابۂ کرام  رضی اللہ عنھم کی ایک جماعت نے کھانے پینے کی چند حلال چیزیں اور کچھ لباس اپنے اوپر حرام کر لئے اور دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی، مزید یہ کہ اس پر انہوں نے قسمیں بھی کھا لیں۔جب اللہ پاک نے انہیں اس چیز سے منع کیا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اب ہم اپنی قسموں کا کیا کریں ؟ اس پر اللہ پاک نے یہ آیت نازل فرمائی جس میں قسم کے احکام بیان کئے گئے۔
*قسم کی تین قسمیں ہیں*
    
یمینِ لَغْو یعنی غلط فہمی کی قسم، یہ وہ قسم ہے کہ آدمی کسی واقعہ کو اپنے خیال میں صحیح جان کر قسم کھالے اور حقیقت میں وہ ایسا نہ ہو، ایسی قسم پر کفارہ نہیں۔ 
         
یمینِ غَموس یعنی جھوٹی قسم ،کسی گزشتہ واقعے کے متعلق جان بوجھ کرجھوٹی قسم کھانا، یہ حرام ہے۔          

🔳 یمینِ مُنعقدہ، جو کسی آئندہ کے معاملے پر اسے پورا کرنے یا پورا نہ کرنے کیلئے کھائی جائے، کسی صحیح معاملے پر کھائی گئی ایسی قسم توڑنا منع بھی ہے اور اس پر کفارہ بھی لازم ہے۔ قسم کی تیسری صورت پر ہی کفارہ لازم آتا ہے۔
                    
📝 یہاں آیت مبارکہ میں قسم کا کفارہ بھی بیان کیا گیا ہے اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ اگر کوئی قسم توڑے تو ایک غلام آزاد کرے یا دس مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر درمیانے درجے کا کھانا کھلائے یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنائے ۔ ان تینوں میں سے کوئی بھی طریقہ اختیار کرنے کی اجازت ہے اور اگر تینوں میں سے کسی کی بھی طاقت نہ ہو تو مسلسل تین روزے رکھنا کفارہ ہے۔مزید احکام کتب فقہ میں دیکھے جا سکتے ہیں یا اسی آیت کے تحت صراط الجنان سے مطالعہ کیے جا سکتے ہیں۔ 

پھر آیت نمبر 90 سے 92 میں شراب اور جوئے کی حرمت کا حتمی فیصلہ بیان کر دیا گیا ہے، سورہ بقرہ کے اندر اسکے نقصانات کو بیان کیا پھر آگے چل کر بیان کیا کہ جب تم نماز کے قریب جانے لگو تو اس سے پہلے نشہ وغیرہ نہ کرو اور اب اسکو بالکل حرام قرار دے دیا گیا اور اسکے بعد کبھی بھی شراب حلال نہیں ہوئی ہے، اللہ پاک نے اسکو قطعی طور پر حرام قرار دے دیا اور فرما دیا کہ شیطان اسکے ذریعے اسلامی معاشرے کے افراد میں نفرتیں پیدا کرنا چاہتا ہے۔شراب کے نشے میں آکر یا جوئے میں مسلسل ہار کر انسان دوسروں کے خلاف ایسی حرکات کرتا ہے کہ جس سے باہمی نفرت اور دشمنی جنم لیتی ہے ، مزید یہ کہ انسان اس سے اللہ کے ذکر اور بالخصوص نماز پڑھنے سے محروم ہو جاتا ہے۔
جوئے کے ذریعے حرام کمائی کا حصول انسان  کو ذکر کی لذت اور حلاوت اور نماز کی چاشنی سے محروم کر دیتا ہے ۔پھر بڑے سخت الفاظ میں تنبیح کی گئی کہ تم شراب اور جوئے سے باز آتے ہو یا نہیں۔

اسکے بعد حالت احرام میں شکار کی ممانعت اور اسکی جزا کا بیان ہے ہاں مچھلی کے شکار کی اجازت دی گئی ہے۔

اسکے بعد اللہ پاک کی قدرت کے دو مظاہر کا ذکر ہے کہ وہ شدید عذاب دینے والا بھی ہے اور بہت بخشش کرنے والا مہربان بھی ہے۔اب یہ بندے کے اوپر ہے کہ وہ کس طرح کا عمل کرتا ہے اور اپنے آپ کو کس چیز کا مستحق بناتا
ہے  سزا کا مستحق بناتا ہے یا رحمت کا مستحق بناتا ہے۔

پھر آیت نمبر 101 میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر ضروری سوالات کرنے سے منع فرمایا گیا کہ اگر بہت سی باتیں تم پر ظاہر ہو جائیں تو تمہیں ناگوار لگیں ۔یہاں پر یہود کی مثال دی گئی کہ وہ اللہ کا حکم آنے پر غیر ضروری سوالات کرتے تھے اور اللہ پاک کی طرف سے جوابات آنے پر مزید پابندیوں کا سامنا کرنے پر مجبور ہو جاتے،اب ان پابندیوں کو وہ پورا نہ کر پاتے۔

🔥 اس کے بعد قیامت کے دن کی منظر کشی کی گئی اور اس ہولناک دن کے حساب کتاب کو یاد دلایا گیا ہے ۔جب تمام رسولوں کو جمع کر کے ان سے سوال کیا جائے گا کہ جب تم نے میرا پیغام میرے بندوں تک پہنچایا تو تمہیں کیا جواب دیا گیا تو وہ اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ یا اللہ پاک تو ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے تو سمیع و بصیر ہے تو جانتا ہے کہ تیرے بندوں نے کیا جواب دیا۔

🌹 یہاں پر حضرت عیسی علیہ السلام کا خاص طور پر تفصیلی ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے انہیں بڑی نعمتوں سے نوازا ہے ۔فرمایا کہ ہم نے تم پر اور تمہاری والدہ پر انعام کیا اسکو یاد کرو۔

🤲🏻 پھر آیت نمبر 112 میں بتایا گیا کہ عیسی علیہ السلام کے حواریوں یعنی آپ کے ساتھیوں نے عرض کی کہ اللہ پاک سے دعا کیجئے کہ آسمان سے کوئی دستر خوان بطور نعمت اتار دے اس میں سے ہم کھائیں گے اور ایک قلبی اطمینان پائیں گے ۔
عیسی علیہ السلام نے غسل کیا،موٹا لباس پہنا، دو رکعت نماز ادا کی اور سر کو جھکا کر اللہ پاک سے دعا کی:

*اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَۚ-وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(۱۱۴)*
اے اللہ ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اُتار دے جو ہمارے لئے اور ہمارے بعد میں آنے والوں کے لئے عید اور تیری طرف سے ایک نشانی ہوجائے اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔

اس دعا کے بعد اللہ پاک نے فرمایا کہ میں یہ نعمت نازل فرماؤں گا مگر پھر جو شخص اس نعمت کو دیکھنے کے بعد کفر کرے گا تو اسے ایسا عذاب دوں گا جو اس سے پہلےجہاں والوں میں سےکسی کو بھی نہیں دیا ہو گا۔

🔎 اس سے معلوم ہوا کہ نعمت الہی کے نزول کے دن کو عید کہا جا سکتا ہے ۔یہاں پر عیسی علیہ الصلوةوالسلام نے عید ہی فرمایا اور اسی لیے اہل اسلام میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دن کو عید سے تعبیر کرتے ہیں۔

قیامت کے دن کی ہولناک منظر کشی اور اللہ تبارک وتعالی کی بادشاہت کے تذکرے پر سورہ مائدہ کا اختتام ہوتا ہے ۔


🐑🐐 *سورہ انعام*

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما   فرماتے ہیں کہ پوری سورۂ اَنعام ایک ہی رات میں مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی،اور انہی سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ سورۂ اَنعام کی6 آیتیں مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں اور باقی سورت ایک ہی مرتبہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔
اس میں20رکوع   اور   165 آیتیں ہیں۔

*وجہ*
عربی میں مویشیوں کو ’’اَنعام‘‘ کہتے ہیں اور اس سورت کا نام ’’اَنعام‘‘ اس مناسبت سے رکھا گیا کہ اس سورت کی آیت نمبر 136 اور138 میں ان مشرکین کا رد کیا گیا ہے جو اپنے مویشیوں میں بتوں کو حصہ دار ٹھہراتے تھے اور خود ہی چند جانوروں کو اپنے لئے حلال اور چند جانوروں کو اپنے اوپر حرام سمجھنے لگے تھے۔  

*فضیلت*

حضرت انس بن مالک   رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے، رسولِ کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا ’’ سورۂ اَنعام نازل ہوئی اور اس کے ساتھ بلند آواز سے تسبیح کرتی ہوئی فرشتوں کی ایک جماعت تھی جس سے زمین و آسمان کے کنارے بھر گئے، زمین ان فرشتوں کی وجہ سے ہلنے لگی اور   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے تین مرتبہ ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمْ   ‘‘ کہا۔

🔛 سورت کے آغاز میں اللہ پاک کی قدرت کا بیان ہے کہ اس نے آسمان و زمین و ظلمت و نور کو پیدا کیا اس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا پھر اسکے لیے ایک مدت حیات اور قیامت کا وقت مقرر فرمایا لیکن کافر پھر بھی اپنے رب کے ساتھ شریک ٹھراتے ہیں اور اسکی قدرت کے بارے میں شک میں مبتلا  ہوتے ہیں حالانکہ اللہ پاک ظاہر و باطن ہر عمل کو جاننے والا ہے۔

📖 پھر آیت نمبر7 میں فرمایا کہ کافروں کا حال تو یہ ہے کہ اگر لکھی ہوئی کتاب انکے پاس اتار دی جائے تو جسے وہ اپنے ہاتھوں سے چھو کر دیکھ لیں پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے بلکہ اسے جادو ہی قرار دیں گے۔
اللہ پاک نے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ہر دور کے کفار معاذاللہ اپنے نبیوں کے ساتھ استہزاء کرتے آئے ہیں،آپ زمین میں مشاہدہ کر لیں گزشتہ امتوں کے تباہ شدہ آثار انکے عبرت ناک انجام کا پتہ دیتے ہیں،
یہ لوگ آپکی بات سنتے ہیں مگر انکی بد عملی کی وجہ سے انکے دلوں پر پردہ چڑھا ہوا ہے۔

🖤 پھر یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ لوگ آپکی بات سنتے ہیں آپکا کلام سنتے ہیں م
گر انکے دلوں پر ایسا پردہ چڑھ گیا ہے ، انکے کانوں کے اندر ایسی روئی پڑی ہوئی ہے جسکی وجہ سے یہ قرآن کی باتوں کا اثر قبول نہیں کرتے۔

آیت نمبر 31 میں اللہ پاک نے فرمایا کہ انہوں نے اللہ کے حضور پیش ہونے کی حقیقت کو جھٹلایا ، وہ اپنی بد اعمالیوں کا بوجھ اپنی پشت پر اٹھائے ہوئے ہیں اور جب قیامت آئے گی تو اپنی کوتاہی پر پھر وہ افسوس کرتے رہیں گے۔

💨🌊 آیت نمبر 64 میں فرمایا کہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے تمہارے پاؤں کے نیچے سے تم پر عذاب بھیج دے ۔مفسرین نے فرمایا کہ اوپر کے عذاب کی صورتیں ایک تو تباہ کن آندھیاں اور طوفانی بارشیں ہیں اور نیچے کے عذاب کی ایک صورت سیلاب، زلزلے اور قحط سالی ہے، اوپر کے عذاب کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ظالم حکمرانوں کا مسلط ہونا اور جو ماتحت لوگ ہیں وہ نافرمان ہو جائیں اور اس امت کے مختلف گروہوں کا ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہو جانا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہے۔

☀️🌟 آیت نمبر 74 سے 79 میں وہ واقع بیان کیا گیا ہے جس کے ذریعے ابراہیم علیہ السلام نے ستارہ پرستوں، چاند پرستوں اور سورج پرستوں کے خلاف دلیل قائم کر دی۔ یہ مسئلہ یقینی ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام  ہرحال میں معصوم ہوتے ہیں اور وہ شروع ہی سے ہر   وقت معرفت الٰہی سے شناسا ہوتے ہیں۔ اس عقیدہ کو ذہن نشین رکھتے ہوئے اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ سمجھنے کیلئے قرآن پاک میں بیان کردہ واقعے کو ذرا تفصیل سے بیان کر رہا ہوں۔

💫 حضرت ابراہیم   علیہ السلام  نے ابتدا ہی سے توحید کی حمایت اور کفریہ عقائد کارد کرنا شروع فرما دیا اور پھر جب ایک سوراخ سے رات کے وقت آپ   علیہ السلام  نے زہرہ یا مشتری ستارہ کو دیکھا تو لوگوں کے سامنے توحید باری تعالیٰ کی دلیل بیان کرنا شروع کردی کیونکہ اس زمانہ کے لوگ بت اور ستاروں کی پرستش کرتے تھے تو آپ علیہ السلام  نے ایک نہایت نفیس اور دل نشیں پیرایہ میں انہیں غوروفکر کی طرف رہنمائی کی جس سے وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ تمام جہان عدم سے وجود میں آنے والا ہے اور پھر ختم ہونے والا ہے تو یہ معبود نہیں ہوسکتا بلکہ تمام جہان بذات خود کسی وجود میں لانے والی ذات کا محتاج ہے جس کے قدرت وا ختیار سے اس میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔
چنانچہ پہلے آپ علیہ السلام  نے ستارے کو دیکھا تو فرمایا کہ’’ کیا اسے میرا رب کہتے ہو ؟ پھر جب وہ ڈوب گیا تو فرمایا کہ’’ میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔یعنی جس میں ایسے تغیرات ہورہے ہیں وہ خدا نہیں ہوسکتا۔
🌕 پھر اس کے بعد آپ علیہ السلام  نے چاند کو چمکتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : کیا اسے میرا رب کہتے ہو؟ پھر جب وہ ڈوب گیا تو فرمایا: اگر مجھے میرے رب  کریم  نے ہدایت نہ دی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں سے ہوجاتا۔ اس میں اُس قوم کو تنبیہ ہے کہ جو چاند کومعبود مانتے تھے، انہیں آپ علیہ السلام  نے گمراہ قرار دیا اور خود کو ہدایت پر۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ آپ  علیہ السلام   کی یہ باتیں ان کا رد کرنے کیلئے ہی تھیں۔ چاند کے معبود نہ ہونے پر بھی آپ  علیہ السلام  نے یہی دلیل بیان فرمائی کہ اس کا ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہونا قابل فنا ہونے کی دلیل ہے۔
☀️ پھر اس کے بعد آپ علیہ  السلام  نے سورج کو جگمگاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ’’ کیا اسے میرا رب کہتے ہو ؟یہ تو ان سب سے بڑا ہے، پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو فرمایا: اے میری قوم! میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم   اللہ پاک  کاشریک ٹھہراتے ہو۔ یوں حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے ثابت کردیا کہ ستاروں میں چھوٹے سے بڑے تک کوئی بھی رب ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ،ان کا معبود ہونا باطل ہے اور قوم جس شرک میں مبتلا ہے آپ  علیہ السلام  نے اس سے بیزاری کا اظہار کردیا اور اس کے بعد دینِ حق کا بیان فرمایا جو اگلی آیتوں میں آرہا ہے۔حضرت ابراہیم   علیہ السلام  کے   ستارے، چاند اور سورج کے بارے میں فرامین لوگوں کو سمجھانے کیلئے تھے اور معاذاللہ  ، اپنے   بارے میں نہ تھے اس کی بہت واضح دلیل یہ بھی ہے کہ جب آپ   علیہ السلام نے ستارے، چاند اور سورج کے بارے یہ فرمایا تو کیا آپ علیہ السلام نے اس سے پہلے دن رات کے فرق کو اور سورج چاند   کے   غروب ہونے کو کبھی نہیں دیکھا تھا، ایسا تو ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ تو معلوم ہوا کہ سورج چاند ستارے کے حوالے سے آپ کا کلام صرف     قوم کو سمجھانے کیلئے تھا

🕋 حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے جھوٹے معبودوں سے    بیزاری ظاہر کرنے کے بعد اپنا عقیدہ اور دین حق کا اعلان فرما دیا چنانچہ فرمایا کہ’’ میں نے ہر باطل سے جدا ہو کر اپنا منہ اس اللہ پاک کی بارگاہ کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یعنی اسلام کے    سوا باقی تمام ادیان سے جدا رہ کرمیں    اللہ پاک کے سامنے جھکنے والا ہوں۔   

🌐 حضرت ابراہیم علیہ السلام کو انکی قوم کے لوگوں نے ڈرایا کہ تم نے ہمارے معبودوں کا انکا کیا ہے لہذا تم پر اب
کوئی آفت آئے گی تو خلیل اللہ نے فرمایا کہ جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ کسی سے نہیں ڈرتا اور جو اللہ سے نہیں ڈرتا تو پھر وہ ہر ایک سے ڈرتا ہے۔

🌳 پھر کمال اختصار کے ساتھ تین لائنوں میں 18 انبیا اور رسل کا تذکرہ اور تعریف بیان کی گئی ہے ۔پھر قدرت خداوندی کی ایک کائناتی حقائق میں مشاہدہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے کہ اللہ نے دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر درخت اور پودے پیدا کیے۔زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کو نکالا،
اور سورج اور چاند کو حساب کے لیے مقرر کیا گیا۔

⛴️ خشکی اور تری میں راستہ متعین کرنے کے لیے ستارے اسی نے بنائے ہیں۔
آسمان سے پانی برسا کر کھتیاں اور باغات پیدا کیے ہیں جن کے اندر سبزیاں پھل کجھوریں اور انگور بنائے جو گچھے والے بھی ہیں اور بغیر گچھے کے پیدا ہونے والے بھی ہیں۔پھلوں کے موسم میں دیکھو کیسے خوشنما اور بھلے لگتے ہیں، علم سمجھ بوجھ اور ایمان رکھنے والوں کے لیے قدرت الہی اور وحدانیت کے اسکے اندر واضح دلائل موجود ہیں

پھر آخر میں توحید کا بیان اور شرک کی نفی کی گئی کہ مشرکین جنات کو معاذاللہ اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں ۔فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں معاذاللہ ۔فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے اللہ مخلوق پر نگہبانی فرمانے والا ہے ۔وہ سب کو دیکھنے والا ہے اور کوئی نگاہ اسکا احاطہ نہیں کر سکتی ۔اللہ تبارک وتعالی نے حق کو بالکل واضح کر دیا ہے ۔انسان کو اختیار ہے کہ چاہے وہ حق سے نظریں چرالے یا حق کی روشنی میں کائنات کے اصل حقائق کو دیکھ لے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں گر پڑے ۔
📲 *+92-321-2094919*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📗 *فیضان خلاصہ تراویح*📗

*ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*

📢 *آٹھواں پارہ، ولو اَنَّنَا*

☄️ مشرکین مطالبہ کیا کرتے تھے کہ ہمیں کوئی ایسا معجزہ دکھایا جائے جو سب کو نظر آئے تو ہم ایمان لے آئیں گے، پچھلے پارے کی آخری آیات میں مختصر طور پر بیان ہوا تھا کہ نشانیاں طلب کرنے والے کفار کے مطالبات پورے کر دئیے جائیں تو بھی وہ ایمان نہ لائیں گے اور یہاں تفصیل بیان ہوئی ہے کہ’’ اے محبوب! (صلی الله عليه وسلم ) اگر ہم کفار کے مطالبے کے مطابق ان کی طرف فرشتے اُتار دیں جنہیں وہ ان کی اصلی شکل میں دیکھ لیں اور وہ ان سے آپ کی رسالت کی گواہی سن لیں۔ یونہی اگر ہم ان کے مطلوبہ یا عام مردے زندہ کر کے ان کے سامنے کھڑے کر دیں تاکہ یہ ان سے معلوم کر لیں کہ آپ جو پیغام لائے ہیں وہ حق ہے یا نہیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے، بلکہ اگر ہم ان کے مطالبات سے زائد مخلوقات میں سے ہر خشک و تر، شجرو حجر، نباتات و حیوانات ان کے سامنے جمع کردیں تب بھی یہ لوگ ایمان لائیں گے اور نہ آپ کی تصدیق کریں گے اور نہ ہی آپ کی پیروی کریں گے البتہ جن کی قسمت میں ایمان لکھا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی مرضی جن کے ایمان کے متعلق ہوگی وہ ایمان لائیں گے۔
یہاں دو باتیں بہت اہم ہیں

✔️اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا فرمایا اور جیسا ہونے والا تھا اور جیسا کوئی کرنے والا تھا وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں تھا اور اس نے وہی لکھ دیا، تو یہ نہیں کہ جیسا اس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا اس نے لکھ دیا۔

یہ درست ہے کہ بندوں کے تمام افعال اللہ تعالیٰ کے ارادہ، اس کی مشیت اور اس کی قضاء سے وجود پذیر ہوتے ہیں لیکن قادر و قدیر رب قدیر نے انسان کو پتھر اور دیگر جمادات کی طرح بے بس، مجبور اور بالکل بے اختیار نہیں بنا یا بلکہ اسے ایک قسم کا اختیار دیا ہے کہ کوئی کام چاہے تو کرے، چاہے نہ کرے اور اس کے ساتھ عقل بھی دی ہے کہ اپنا برا بھلا، نفع و نقصان پہچان سکے، پھر نیکی یا بدی، اچھائی یا برائی میں سے جس کام کو اختیار کرتا ہے اللہ پاک اس کی قوت اس بندے میں پیدا فرما دیتا ہے اور اسی اختیار کے اعتبار سے وہ جزا یا سزا کا مستحق ہوتا ہے۔

🔝 *آیت 125* میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ جسے اللہ تبارک و تعالی ہدایت دینا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جس کی گمراہی کا فیصلہ فرما لیا گیا ہو اس کا سینہ تنگ کر دیا جاتا ہے۔

اگلی آیت میں بتایا گیا کہ تمام جنات اور انسانوں سے قیامت کے دن سوال ہوگا ، ان کا حساب لیا جائے گا اور جنات کو بھی اس عمل سے گزرنا ہوگا لہذا ثابت ہوتا ہے کہ انسانوں کی طرح جنات بھی قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔

🍌🍋 آیت 141 میں اللہ تبارک و تعالی نے پھلوں اور جانوروں میں اپنی تخلیق کی قدرت کو بیان فرمایا کہ اللہ پاک نے کچھ باغات ایسے پیدا فرمائے جو زمین پر پھیلے ہوئے ہیں جیسے خربوزہ، تربوز اور دیگر بیل بوٹے وغیرہ اور کچھ ایسے پیدا فرمائے جو زمین پر پھیلے ہوئے نہیں بلکہ تنے والے ہیں جیسے آم، امرود اور مالٹا وغیرہ کے باغات، اسی طرح کھجور اور کھیتی، انار اور زیتون کوپیدا فرمایا اور اس میں اللہ پاک کی عجیب قدرت ہے کہ ان پھلوں میں تاثیر اور ذائقے کے اعتبار سے تو فرق ہوتا ہے لیکن رنگ اور پتوں کے اعتبار سے بہت مشابہت ہوتی ہے۔اور پھر فرمایا کہ اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق دو۔یہاں فصلوں کا حق ادا کرنے کا حکم ہے، اس میں سب سے اول تو عشر یعنی پیدا وار کا دسواں حصہ یا نصف عشر یعنی پیداوار کا بیسواں حصہ داخل ہے اور اس کے علاوہ مساکین کو کچھ پھل وغیرہ دینا بھی پیداوار کے حقوق میں آتا ہے۔ اس آیت میں اس بات کی دلیل بھی ہے کہ ہر پیداوار میں زکوٰۃ ہے، چاہے پیداوار کم ہو یا زیادہ، اس کے پھل سال تک رہیں یا نہ رہیں۔

📝 آیت 151 سے 154 میں اللہ پاک کے عطا کردہ حقیقی حلت و حرمت کے متعدد احکام ہیں،تقریبا 9 چیزوں کو بیان فرمایا۔
اللہ کی عبادت، والدین کے ساتھ حسن سلوک، تنگی کے خوف سے اولاد کے قتل سے بچنا، برائی کے کاموں سے گریز کرنا اور ایسے افراد کو قتل کرنا کے جس کے قتل کرنے کا شریعت نے حکم نہیں دیا ہے، یتیم کے مال کو ناجائز استعمال کرنے سے بچنے کا حکم، ناپ تول میں کمی نہ کی جائے، قول اور فعل میں انصاف کے تقاضے پورے کرنا ،اللہ سے کیے ہوئے وعدے کو پورا کرنا اور صراط مستقیم کی پیروی کرنا کیوں کے یہی احکام شریعہ ہی دین اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ اور لب لباب ہیں اور باقی تمام شرعی حکام ان ہی پر منحصر ہے۔

🔃 سورت کے اختتام پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ہی تمہارا رب ہے، وہ ہر چیز کا مالک ہے ، اسی طرح تمام انسانوں کو واپس کر جانا ہے، وہی ہر انسان کے آخری انجام کا فیصلہ فرمائے گا۔
---------------------

🌐 *سورہ اعراف*

یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے اور ایک روایت کے مطابق پانچ آیتوں کے علاوہ یہ سورت مکیہ ہ
ے۔
اس سورت میں 24 رکوع اور 206 آیتیں ہیں۔

*وجہ*

اعراف کا معنی ہے بلند جگہ، اس سورت کی آیت نمبر 46 میں جنت اور دوزخ کے درمیان ایک جگہ اعراف کا ذکر ہے جو کہ بہت بلند ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ اعراف ‘‘رکھا گیا۔

🕋 اس سے پہلے والی سورت کا مرکزی مضمون توحید تھا، اور اس سورت کا مرکزی مضمون رسالت ہے، اس کے ساتھ ہی جنت اور جہنم اور قیامت کے موضوع کو بھی کافی بیان کیا گیا ہے۔

📖 سورت کی ابتدا میں قرآن کریم کی حقانیت کو ایک انوکھے انداز میں بیان کیا گیا ہے، جس میں ایک طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت افزائی ہے تو دوسری طرف آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ کتاب قرآن پاک آپ کی طرف اس لئے نازل کیا گیا تاکہ آپ اس کے ذریعے لوگوں کو اللہ پاک کے عذاب سے ڈرائیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں لوگوں کے سابقہ طرز عمل کی وجہ سے اور اس خیال سے کہ لوگ نہ مانیں گے اور اس پر اعتراض کریں گے اور اسے جھٹلانے لگیں گے اس کی تبلیغ فرمانے سے کوئی تنگی نہ آئے، آپ ان کفار کی مخالفت کی ذرہ بھر پروا نہ کریں کہ یہ لوگ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں گے کیوں کہ اس سے پہلے بھی ایسی قومیں گزری ہیں جنہیں وحی الہی کے انکار پر پلک جھپکتے میں نیست ونابود کر دیا گیا۔

آیت 11 سے 27 میں ہے کہ جب ابلیس نے اللہ پاک کے حکم پر حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کو سجدہ نہ کیا تو اللہ پاک نے اس سے فرمایا کہ تم کو سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا؟ تو اس نے اپنی سرکشی کا جواز عقلی دلیل سے پیش کیا، اس نے کہا کہ آدم علیہ السلام سے میں بہتر ہو کیوں کہ انہیں مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور میرا وجود آگ کا
ہے اور لطیف ہونے کی بنا پر آگ مٹی سے افضل ہے، جبکہ یہ غلط ہے،اس کے تکبر کی وجہ سے اللہ پاک نے اسکو مقام عزت سے نکال دیا اور وہ رسوا ہوا، ابلیس نے اللہ پاک سے قیامت تک مہلت طلب کی تو اللہ پاک نے مہلت عطا فرمادی، اس پر اس نے کہا کے میں صراط مستقیم پر گھات لگا کر بیٹھ جاؤں گا اور بنی آدم کو دائیں بائیں آگے پیچھے ہر جگہ سے گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا،اللہ پاک نے فرمایا کہ تمہارے پیروکار جہنم میں جائیں گے، اللہ پاک نے آدم علیہ السلام اور بی بی حوا رضی اللہ تعالی عنہا کو جنت میں داخل کیا، ان کو ایک خاص درخت کے قریب جانے سے منع فرمایا، شیطان نے ان کو وسوسہ ڈالا اور مخلص اور خیرخواہ کا روپ اختیار کرکے کہا : کہ آپ لوگوں کو قریب جانے سے محض اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اس کے قریب اگر آپ لوگ فرشتے بن جائیں گے اور آپ لوگوں کو اپنی ابدی زندگی مل جائے گی، اس نے قسم کھانا شروع کر دی اور اپنی خیرخواہی کا یقین دلانا شروع کر دیا، حضرت آدم علیہ السلام کے دل میں چونکہ اللہ پاک کے نام کی عظمت انتہا درجے کی تھی، اس لئے آپ علیہ السلام کو گمان بھی نہ تھا کہ اللہ پاک کی قسم کھا کر کوئی جھوٹ بھی بول سکتا ہے، نیز جنت قرب الہٰی کا مقام تھا اور حضرت آدم علیہ السلام کو بھی اُس مقام قرب میں رہنے کا اشتیاق تھا اور فرشتہ بننے یا دائمی بننے سے یہ مقام حاصل ہوسکتا ہے، لہٰذا آپ نے شیطان کی قسم کا اعتبار کر لیا اور ممانعت کو محض تنزیہی سمجھتے ہوئے یا خاص درخت کی ممانعت سمجھتے ہوئے اسی جنس کے دوسرے درخت سے کھالیا، پھر انھوں نے استغفار کیا، اللہ پاک نے ان پر خاص نظر رحمت فرمائی، پھر انھیں جنت سے زمین کی طرف اتارا گیا اور فرمایا گیا کہ ایک مقررہ مدت تک آپ کو یہاں رہنا ہے۔

🥼 آگے چل کر مقصد لباس کو بیان فرمایا کہ ہم نے بنی آدم پر لباس اس لئے اتارا کہ ان کی ستر پوشی ہو، وہ اپنے اعضاء کو ڈھانکے اور جو سامان زینت ہے وہ حاصل کریں اور سب سے بہتر لباس تقویٰ کا لباس ہے، آدم علیہ السلام کی اولاد کو شیطان کے شر سے بچنے کے لیے ایک انتہائی حکمت بھرے انداز میں خطاب فرمایا گیا " کہ اے بنی آدم وہ شیطان جس نے تمہارے والدین کو جنت سے اتروانے کی سازش کی وہ تمہیں فتنے میں مبتلا کرکے جنت سے محروم نہ کردے۔لہذا شیطان کی دھوکے بازیوں سے بچو۔

💥 اس کے بعد قیامت کے دن کی منظر کشی کرتے ہوئے اصحاب الجنہ، اصحاب النار اور اصحاب اعراف کا تذکرہ ہے جس میں جنت والے جہنم والوں کا ویسے ہی مذاق اڑائیں گے جیسے وہ لوگ دنیا میں ان کی نیکی اور اصلاح و تقویٰ کا مذاق اڑایا کرتے تھے، ایسا منظر ہوگا کہ جنت والے انعامات اور عیش و عشرت کے مزے لے رہے ہونگے اور جہنم والے اذیت اور تکلیف میں مبتلا ہوں گے اور جنتیوں سے کھانے کے ایک نوالے اور پانی کے دو گھونٹ مانگ رہے ہوں گے، اعراف والے جنت اور جہنم والوں میں اپنے جاننے والوں کو پہچانیں گے ان سے گفتگو کریں گے، اہل جنت کے نظارے بہت خوبصورت ہوں گے جبکہ کہ اہل جہنم بد شکل اور سیاہ اور ذلت و رسوائی کے عالم میں ہوں گے ۔

🌨️⛈️ آیت 57 میں بتایا کہ اللہ کے حکم سے ہوا پانی سے بھرے ہوئے بادلوں کو چلا کر لے جاتی ہے اور بنجر زمین پر برسا کر اس پر اللہ کی نعمتیں پیدا کرتی ہے، پھر فرمایا کہ
اچھی زمین کا سبزہ اللہ کے حکم سے نکلتا ہے اور خراب زمین باغ وبہار نہیں لے کر آتی، مثالیں دے کر قرآن نے یہ بتایا کہ انسانوں کے دل ودماغ کی جو حالت ہے وہ زمین کی مانند ہے یعنی پاکیزہ دل اور دماغ میں ایمان قرار پاتا ہے اور اعمال کے ثمرات پیدا ہوتے ہیں اس کے لیے وہ پھل پیدا ہوتے ہیں جبکہ خبیث دل میں خیر کے پھل پیدا نہیں ہوتے۔

🌎 آیت 59 میں انبیاء کرام علیہم السلام کی قوموں کا ذکر ہے، نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کے حالات بیان کئے گئے ہیں ان کی قوم کے سرداروں نے کہا کہ معاذ اللہ آپ تو کھلی گمراہی میں ہیں، نوح علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تو اللہ کا رسول ہوں میرا کام تمہاری خیر خواہی اور دعوت حق پہنچانا ہے۔

🔮 آیت 65 سے ہود علیہ السّلام کا تذکرہ ہے، انہوں نے قوم عاد کو دعوت توحید دی، انھوں نے ہود علیہ السلام کو معاذاللہ بےوقوف اور نہ سمجھ کہ کر انکار کر دیا، اللہ پاک نے ان پر آندھی اور طوفان کا عذاب بھیج کر انھیں ہلاک کردیا اور اپنے نبی علیہ السلام اور ان کے ماننے والوں کو بچا لیا۔

🌎 پھر قوم ثمود کا تذکرہ کہ صالح علیہ السلام نے دعوت توحید اپنی قوم کو دی، انہوں نے انکار کیا اور بلاوجہ کے مطالبے شروع کر دیے ، وہ لوگ پتھر کو تراش کر مکان بنانے میں بڑے ماہر تھے، تو کہنے لگے کہ پہاڑ سے اوٹنی پیدا کرکے دکھائیے جو نکلتے ہی بچہ بھی جنے، جب اللہ پاک نے اونٹنی پہاڑ سے ظاہر فرمادی تو انہوں نے اسے قتل کردیا اور حد سے بڑھ گئے، اللہ پاک نے اس گستاخی پر انھیں ہلاک فرمادیا۔

پھر قوم لوط کا ذکر ہے، وہ اپنی جنسی خواہش کو غیر فطری طریقے سے پورا کرتے تھے معاذاللہ، جس کو ہم جنس پرستی کہتے ہیں، اور جب اللہ کے نبی عذاب کا ڈر سناتے تو وہ اسے مذاق سمجھتے آخر کار اللہ پاک نے ان پر عذاب نازل کیا ، آسمان سے پتھر برسائے گئے اور اس طرح ان کا نام و نشان مٹا دیا گیا کہ گویا تھے ہی نہیں، یہاں تک کہ لوط علیہ السلام کی وہ بیوی جو قوم لوط کی ہم خیال تھی، وہ بھی عذاب سے نہ بچ سکی، کیوں کہ وہ لوط علیہ السلام کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بناتی اور لوط علیہ السلام کے خلاف باتیں کیا کرتی تھی، لوط علیہ الصلاۃ والسلام اور ان کے ساتھ تقریباً 72 افراد محفوظ رہے۔

🌊 پھر مدین کا ذکر ہے جو شعیب علیہ السلام کی قوم ہے، انہیں توحید کی دعوت دی گئی اور تجارت میں جو بددیانتی کرتے اسے منع کر کے ناپ تول پورا کرنے کی تلقین فرمائی اور انہیں یہ بھی حکم فرمایا گیا کہ راہ گیروں اور مسافروں کو ڈرانے دھمکانے سے باز رہہں، مگر وہ لوٹ مار کرتے اور شعیب علیہ الصلاۃ والسلام کی مخالفت پر اتر آئے، شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ اے میری قوم تمہارے دو گروہ بن چکے ہیں، ایمان والے اور کفر والے، لہذا اب عذاب کا انتظار کرو، عنقریب ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ پاک فیصلہ فرما دے گا۔انہی کے ذکر پر پارے کا اختتام ہوتا ہے۔
📱+92-321-2094919
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📕 *فیضان خلاصہ تراویح*📕

✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*

📣 *نواں پارہ، قال الملا*

⚖️ آٹھویں پارے کے آخر میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا قصہ شروع ہوا اس کا باقی حصہ اس پارے کے شروع میض مذکور ہے کہ قوم کے سرداروں نے دھمکی دی کہ آپ اور آپ کے ساتھی اپنے خیالات سے تائب ہو کر ہمارے طریقے پر نہ لوٹے تو ہم آپ لوگوں کو در بدر کر دیں گے، اس پر اہل ایمان نے کہا کہ اللہ نے ہمیں کفر سے نجات دے کر ایمان سے سرفراز فرمایا ہے تو اب ہم کیسے گمراہی کی طرف جا سکتے ہیں؟ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں وہ ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے اور حق کو غالب کر دے، چنانچہ بڑی شدت کا زلزلہ آیا اور ان کی قوم کو بری طرح تباہ کردیا گیا اور مومنوں کو عافیت کے ساتھ بچالیا گیا، اس پر شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب کے فرمان کو پورا کیا ان تک حق کو پہنچایا مگر انھوں نے تسلیم نہ کیا ، اب میں کافر قوم پر کیسے غم کروں؟

🌊 آیت 103 سے 108 میں حضرت موسی علیہ السلام اور فرعون کا ذکر ہے۔ اس واقعے کو قرآن پاک میں مختلف مقامات پر مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے،
یہاں بیان کیا گیا کہ اس سے پہلی آیات میں جن انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر ہوا ان کے بعد ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی صداقت پر دلالت کرنے والی نشانیوں جیسے روشن ہاتھ اور عصا وغیرہ معجزات  کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا توانہوں نے ان نشانیوں پر زیادتی کی کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام  جو نشانیاں لے کر آئے تھے وہ بالکل صاف واضح اور ظاہر تھیں لیکن پھر بھی فرعون اور اس کے درباریوں نے اقرار کی بجائے انکار ہی کیا تو انہوں نے اقرار کی جگہ انکار اور ایمان کی جگہ کفر کو رکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نشانیوں کے ساتھ زیادتی کی تو اے حبیب !     صلی الله عليه وسلم ، آپ نگاہِ بصیرت سے دیکھیں کہ فسادیوں کا کیسا انجام ہوا اور ہم نے انہیں کس طرح ہلاک کیا۔


📢 جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی رسالت کی تبلیغ مکمل فرمائی تو فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: اگر آپ کے پاس اپنی صداقت کی کوئی نشانی ہے تومیرے سامنے اسے ظاہر کریں تاکہ پتا چل جائے کہ آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں یا نہیں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ،وہ فورا ً ایک ظاہر اژدہا بن گیا۔

☀️ پھر دوسرے معجزے کا ذکر ہے کہ آپ نے ا پنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ دیکھنے والوں کے سامنے جگمگانے لگا اور اس کی روشنی اور چمک نورِ آفتاب پر غالب ہوگئی۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام  نے فرعون کو اپنا ہاتھ دکھا کر     پوچھا کہ’’ یہ کیا ہے؟ فرعون نے جواب دیا :آپ کا ہاتھ ہے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام  نے ا پنا ہاتھ گریبان میں  ڈال کر نکا لا تو وہ جگمگانے لگا۔

فرعون نے ان معجزات کو جادو کہ دیا، پھر مقابلے کے لئے ایک وقت طے ہوا، موسی علیہ السلام کا عصا اژدھا بن گیا،اس نے جادوگروں کی رسیوں کو جو نظر بندی کی وجہ سے سانپ لگ رہے تھے نگل لیا، جادو گر جو اپنے فن کے ماہر تھے وہ سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں ہے، یہ معجزہ ہی ہے وہ سب مسلمان ہو کر سجدے میں گر گئے، فرعون نے دیکھا تو کہا کہ یہ سب جادوگروں کا استاد ہے، ان سب جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر سولی چڑھا دیا گیا لیکن اب وہ ایمان لا چکے تھے اور موسی علیہ السلام کے صحابہ بن گئے اور شہید بھی ہوئے۔

💥 آیت 130 میں فرعونیوں پر عذاب کے سلسلے کو بیان کیا گیا ہے، اللہ پاک نے ان پر جوں، خون، مینڈک، ٹڈیوں اور طوفان کا پے در پے عذاب بھیجا، جب بھی ان پر عذاب کی شکل ظاہر ہوتی تو یہ چھوٹے وعدے کرکے حضرت موسی علیہ السلام سے دعا کروا لیتے عذاب کے ختم ہوتے ہی پھر نافرمانی پر اتر آتے، جب بار بار فرعونیوں کو عذابوں سے نجات دی گئی اور وہ کسی عہد پر قائم نہ رہے اور ایمان نہ لائے اور کفر نہ چھوڑا تو جو میعاداُن کے لئے مقرر فرمائی گئی تھی وہ پوری ہونے کے بعد اُنہیں اللہ پاک نے دریائے نیل میں غرق کرکے ہلاک کردیا۔ 

 دسویں محرم کے دن فرعون اور اس کی قوم کو غرق کرنے کے بعد اللہ پاک نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم کے پاس سے ہوا جو اپنے بتوں کے آگے جم کر بیٹھے ہوئے تھے اور اُن کی عبادت کرتے تھے، یہاں سے بنی اسرائیل کے دل میں بچھڑا پوجنے کا شوق پیدا ہوا جس کا نتیجہ بعد میں گائے پرستی کی شکل میں نمودار ہوا۔ اُن کو دیکھ کر بنی اسرائیل نے موسی علیہ السلام سے کہا: اے موسیٰ! جس طرح ان کے لئے کئی معبود ہیں جن کی یہ عبادت اور تعظیم کرتے ہیں ہمارے لئے بھی ایسا ہی ایک معبود بنادو تاکہ ہم بھی ا س کی عبادت کریں اور تعظیم بجا لائیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے فرمایا: بیشک تم جا ہل لوگ ہو کہ اتنی نشانیاں دیکھ کر بھی نہ سمجھے کہ اللہ پاک  واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔

📖 حضرت موسیٰ علیہ السلام  ن
ے مصر میں بنی اسرائیل سے وعدہ فرمایا تھا کہ جب اللہ پاک اُن کے دشمن فرعون کو ہلاک فرما دے گا تو وہ اُن کے پاس اللہ پاک کی جانب سے ایک کتاب لائیں گے جس میں حلال و حرام کا بیان ہوگا۔ جب       اللہ پاک نے فرعون کو ہلاک کر دیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ پاک سے اُس کتاب کو نازل فرمانے کی درخواست کی، انہیں حکم ملا کہ تیس روزے رکھیں پھر مزید دس روزوں کا حکم ہوا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہاڑ پر مناجات کے لئے جاتے وقت اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام  سے فرمایا ’’تم میرے واپس آنے تک میری قوم میں میرے نائب بن کر رہو،حضرت ہارون علیہ سلام کو وہاں نائب بنا کر حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور پر چالیس دن کے لیے تشریف لے گئے، جب حضرت موسیٰ  علیہ السلام  کلام سننے کے لئے حاضر ہوئے تو آپ نے طہارت کی اور پاکیزہ لباس پہنا اور روزہ رکھ کر طورِ سینا میں حاضر ہوئے۔ آپ کے لئے آسمان کھول دیا گیا تو آپ نے ملائکہ کو ملاحظہ فرمایا کہ ہوا میں کھڑے ہیں اور آپ نے عرشِ الٰہی کو صاف دیکھا یہاں تک کہ اَلواح پر قلموں کی آواز سنی اور   اللہ پاک نے آپ سے کلام فرمایا،حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کلامِ ربانی کی لذت نے اس کے دیدار کا آرزو مند بنایا۔چنانچہ اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کی: اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کرلوں ‘‘ یعنی صرف دل یا خیال کا دیدار نہیں مانگتا بلکہ آنکھ کا دیدار چاہتا ہوں کہ جیسے تو نے میرے کان سے حجاب اٹھا دیا تو میں نے تیرا کلامِ قدیم سن لیا ایسے ہی میری آنکھ سے پردہ ہٹا دے تاکہ تیرا جمال دیکھ لوں۔ اللہ پاک نے ان سے ارشاد فرمایا: تم دنیا میں میرا دیدار کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
یاد رہے دنیا میں صرف ایک ہستی کے لئے اللہ پاک کا دیدار جاگتے میں سر کی آنکھوں سے کرنا ممکن ہے اور وہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

📝 آیت 172 میں ایک عہد کا ذکر ہے۔اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السلام کی نسل میں قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی روحوں کو جمع کیا اور فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا ہاں تو ہی ہمارا رب ہے، اس عہد کی یاد دھانی کے لئے اسے یہاں ذکر کیا تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں یاد نہیں تھا، یہ شرک ہمارے باپ دادا سے ہمیں ملا ہے،کیونکہ عالم ارواح میں ہر ایک نے اقرار کیا تھا۔

💰💎 پھر بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر ہے کہ اللہ نے اسے علم اور کرامات سے نوازا تھا، بد قسمتی سے اس شخص پر شیطان غالب آ یا، اپنی نفسانی خواہش اور مال و دولت کی حرص کی وجہ سے ایسی پستی میں گرا دیا گیا کہ کتے کی شکل ہوگیا۔ اس کا نام بلعم بن باعوراء تھا جو کہ ایک ولی تھا۔ لوح محفوظ کو دیکھ لیتا تھا۔ مستجاب الدعوات تھا لیکن لالچ نے اس کا ایمان برباد کر دیا، بنی اسرائیل کے لوگ اس کے پاس حضرت موسی علیہ السلام کے لیے بد دعا کروانے آئے، پہلے تو وہ منع کرتا رہا، پھر مال و دولت کی لالچ میں بددعا کرنے بیٹھا تو تو الفاظ اسکے اپنے لئے نکلنے لگے، یہ اللہ کی خفیہ تدبیر ہے۔

🌼 پھر فرمایا کہ اللہ کے بندوں میں ایسے نیک سیرت لوگ بھی ہیں جو حق کے ذریعے نصیحت کرتے ہیں اور ایسے بھی لوگ ہیں جو حق کو جھٹلاتے ہیں پھر انکی پکڑ بھی بہت شدید ہے، پھر حضرت آدم علیہ السلام سے ایک انسانی تخلیق کا تذکرہ ہے، زوجین کو ایک دوسرے سے راحت کا ذکر ہے، شرک کی مذمت کہ ایسے کمزوروں کو اللہ کا شریک بناتے ہیں جو خود اپنی پیدائش کے محتاج ہیں۔جن بتوں کو وہ اپنا معبود سمجھتے ہیں جو چلنے پھرنے اور دیکھنے سے محروم ہیں۔
جو اللہ کی راہ کی طرف بلانے والا تھا، اس کو اچھے اخلاق کی تلقین اور عفو درگزر کرنے، شیطان کی اتباع چھوڑ کر اللہ کی اطاعت کو اختیار کرنے کا ذکر ہے،

📗 پھر اگلی آیات میں حکم ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو خاموشی سے سننا ضروری ہے، اور صبح و شام اللہ کو یاد کرو آخری آیت میں فرمایا ہے کہ جو اللہ کے مقرب بندے ہوتے ہیں وہ عاجزی کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، تسبیح و تہلیل کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
-------------------
💰💎 *سورہ انفال*

صحیح قول کے مطابق یہ سورت مدنی ہے۔اور ایک قول یہ ہے کہ یہ سورت ان سات آیتوں کے علاوہ مدنی ہے جو مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں۔
اس سورت میں 10 رکوع اور 75 آیتیں ہیں۔  

*وجہ*
اَنفال نَفَل کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے غنیمت کا مال، اس سورت کی پہلی آیت میں اَنفال یعنی مالِ غنیمت کے احکام کے بارے میں مسلمانوں کے سوال اور انہیں دئیے جانے والے جواب کا ذکر ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ اَنفال‘‘ رکھا گیا۔  


پہلی آیت میں فرمایا گیا کہ آپ سے مال غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ فرما دیجئےکے مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔ پھر کامل ایمان والوں کی صفات اور ظاہری و باطنی کیفیت کا ذکر ہے کہ مومن صرف اللہ کا ذکر سن کر لرز اٹھتے ہیں اور آیت قرآنی سن کر ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے ان کا ایمان اللہ پر ہوتا ہے اخلاص کے ساتھ نمازیں قائم ک
رتے ہیں اور اللہ کے دئیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں۔ ایسے مومنوں کے لئے بلند درجات والے رزق کی بشارت ہے۔

⚔️ اگلی آیتوں میں بدر کے مجاہدین کا اور اللہ پاک کی ان لئے بھیجی گئی غیبی مدد کا ذکر ہے۔
میدان بدر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی میں ریت لے کر کافروں کی جانب پھینکی تھی اور فرمایا تھا کہ آج یہ رسوا ہو جائیں گے، اسی کا تذکرہ ہے کہ اللہ کی شان یہ ریت ان کی آنکھوں میں جاپڑی اللہ نے فرمایا کہ یہ آپ نے نہیں کی حقیقت میں آپ کے رب نے پھینکی، اللہ نے بدر کو فیصلہ کن معرکہ فرمایا اور مسلمانوں سے فرمایا کہ اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے بلانے پر فورا حاضر ہو جاؤ، اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت نہ کرو اور اپنے امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو ان آیتوں میں اللہ نے پانچ دفعہ "اے ایمان والوں" کے ایمان افروز لقب سے مخاطب فرمایا۔

⬇️ آخر میں فرمایا کہ اے مسلمانوں ان مشرکین مکہ سے اس وقت تک جنگ کرتے رہو جب تک کے دین اسلام کا نظام غالب نہ آجائے اور فتنہ ختم نہ ہوجائے مشرکین کو پھر دعوت اسلام دی گئی اور بشارت سنائی گئی کہ اہل حق کا حامی و ناصر اللہ ہے اور کیا ہی خوب حامی و ناصر ہے۔
📲 +92-321-2094919
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌼 *فیضان خلاصہ تراویح*🌼

✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*

🖊️ *دسواں پارہ، وعلموا*

💰 اس پارے کے شروع میں مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں تفصیل بیان کی گئی ہے۔
وہ مال جسے مسلمان کفار سے جنگ میں قہر و غلبہ کے طور پر حاصل کریں اسے غنیمت کہتے ہیں اور جنگ کے بغیر جو مال کفار سے حاصل کیا جائے جیسے خَراج اور جِزیہ اس کو فَئے کہتے ہیں۔
💎 مال غنیمت میں سے خُمُسْ یعنی پانچواں خاص اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے ہے ، پانچواں حصہ نکال کرباقی چار حصے مجاہدین پر تقسیم کر دئیے جائیں گے اور مالِ فَئے مکمل طور پر بیتُ المال میں رکھا جائے گا۔  
💎رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم  اور آپ کے اہلِ قرابت کے حصے ساقط ہو گئے۔ اب مالِ غنیمت کا جو پانچواں حصہ نکالا جائے تو اس کے تین حصے کئے جائیں گے۔ ایک حصہ یتیموں کے لئے، ایک مسکینوں اور ایک مسافروں کے لئے اوراگر یہ تینوں حصے ایک ہی قسم مثلاً یتیموں یا مسکینوں پر خرچ کردئیے جب بھی جائز ہے اور مجاہدین کو حاجت ہو تو ان پر خرچ کرنا بھی جائز ہے۔ 
💎خُمُس کے علاوہ باقی چار حصے مجاہدین پر اس طرح تقسیم کئے جائیں گے کہ سوار کو پیدل کے مقابلے میں دگنا ملے گا یعنی ایک اس کا حصہ اور ایک گھوڑے کا اور گھوڑا عربی ہو یا کسی اور قسم کا سب کا ایک حکم ہے۔

⚔️ اسکے بعد غزوہ بدر کو بڑے پیارے انداز میں بیان کیا گیا ہے اور اسکی منظر کشی اس انداز میں فرمائی گئی ہے جیسے سننے والے اپنی آنکھوں سے اس کا حال دیکھ رہے ہیں، پارے کے شروع میں اللہ پاک نے بدر کے اس واقعہ کو ذکر فرمایا ہے جب مسلمان بدر کے مقام پر پہنچے تو میدان بدر کے اس حصے میں پڑاؤ کیا جو مدینے پاک سے قریب تھا اور کفار دور والے کنارے پر تھے، اس جنگ میں کیفیت یہ تھی کہ کفار کے حصے میں پانی تھا اور زمین بھی زیادہ بہتر تھی، جبکہ مسلمانوں نے اپنا پڑاؤ کیا تو زمین پرتھیلی تھی اور اس میں چلنے پھرنے میں بھی دشواری تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کے وہاں پر پانی کی بھی بہت قلت تھی، ان مشکلات کے باوجود اللہ پاک نے مسلمانوں کو غلبہ عطا فرمایا، اللہ پاک ان کے لئے بارش نازل فرمائی تو مسلمانوں کے لیے چلنا آسان ہو گیا اور مسلمانوں نے بارش سے اپنے کنویں بھر لئے، برتنوں میں پانی جمع کرلیا۔غزوہ بدر کے حوالے سے جو حقائق ذکر کیے گئے ہیں ان میں سے جو خاص خاص ہیں وہ یہ ہیں کہ جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو کفار نے مسلمانوں کی تعداد بہت کم سمجھی اور ایسا ہی مسلمانوں کو بھی دکھایا گیا، اور ایسا اس لئے ہوا کہ اللہ پاک نے اس جنگ کا ھونا مقرر فرما دیا تھا۔ پھر اللہ پاک نے جنگ کے آداب تعلیم فرمائے۔

📝میدان جنگ میں ثابت قدم رہنا
📝لڑائی کے دوران اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرنا۔
📝 اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا
📝 آپس میں بے اتفاقی نہ کرنا اور
📝 صبر سے کام لینا

🔃 اسکے بعد قوموں کے عروج و زوال کا ایک ضابطہ بیان فرمایا گیا کہ اللہ پاک کسی قوم کو اس وقت تک زوال پزیر نہیں فرماتا جب تک وہ اپنی عملی زندگی میں خودپستی کا شکار نہ ہوجائے، اللہ پاک نے اس سورت میں اس واقعہ کو بھی بیان فرمایا کہ شیطان لعین بدر کے موقع پر انسانی شکل میں موجود تھا اور پھر کافروں کو لڑائی کیلئے اکسا رہا تھا، سراقہ بن مالک کے روپ میں موجود شیطان کافروں کو یقین دلا رہا تھا کہ مسلمانوں کا کافروں پر غلبہ پانا آسان کام نہیں ہے اور مسلمان کافروں پر غلبہ نہیں پا سکتے، جب اللہ پاک نے جبرائیل علیہ السلام کی سرپرستی میں فرشوں کی جماعتوں کو اتارا تو شیطان جو کچھ دیر پہلے کافروں کو مشورے دے رہا تھا، وہ میدان بدر سے فرار ہو گیا، کافروں نے اس سے پوچھا کہ تم تو ہمیں فتح کی نوید سنارہے تھے، اب کہاں بھاگے جا رہے ہو؟ اس پر شیطان نے جواب دیا میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے، مجھے اللہ کا خوف ہے اور اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔

‼️ پھر آیت نمبر 50 میں بتایا گیا کہ فرشتے کافروں کی جان نکالتے ہیں، چہروں اور پیٹھوں پر ضربیں لگاتے ہیں اور ڈانٹتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بدلہ ھے تمھارے جرموں کا۔

🤝🏻 آیت نمبر 72 سے واضح کیا گیا کہ اہل ایمان کی دوستی اور محبت صرف ان اہل ایمان سے ہونی چاہیے جو دین کی خاطر مال اور جان کی قربانیاں دینے والے ہوتے ہیں، اسکے مقابلے میں کافر کا دوست کافر ہی ہو سکتا ہے، مسلمان کافر کا دوست نہیں ہو سکتا، اگر دوستی کا یہ معیار اختیار کر لیا جائے تو معاشرے سے فتنے فساد ختم ہو جائیں گے۔

⬇️ سورت کے آخر میں ان لوگوں کو رفیق قرار دیا گیا جو اللہ کی رضا کے لئے ہجرت اور جھاد کرتے ہیں اور دین کی خاطر قربانی دینے والوں کی ہر طرح مدد کرتے ہیں، اس سورت کی ابتداء میں جھاد اور غنیمت کا تذکره تھا اور اختتام نصرت اور ہجرت کے مضمون پر ہو رہا ہے، گویا یہ سورت شروع سے آخر تک جھاد ہی کے بیان کا احاطہ کرتی نظر آرہی ہے۔

-----------------------

🤲🏻 *سورہ ت
وبہ*
سورۂ توبہ مدنیہ ہے مگر اس کی آخری آیات ’’ لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ ‘‘ سے آخر تک، ان کو بعض علماء مکی کہتے ہیں۔
اس سورت میں  16  رکوع اور  129  آیتیں ہیں۔

*وجہ*
اس سورت کے دس سے زیادہ نام ہیں ،ان میں سے یہ دو نام مشہور ہیں
1️⃣ توبہ : اس سورت میں کثرت سے توبہ کا ذکر کیا گیا اس لئے اسے ’’سورۂ توبہ‘‘ کہتے ہیں۔
2️⃣ براءت: یہاں اس کا معنی بری الذمہ ہونا ہے، اور اس کی پہلی آیت میں کفار سے براء ت کا اعلان کیا گیا ہے ،اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ براءت‘‘ کہتے ہیں۔

اس سورت کے شروع میں  بِسْمِ اللہْ  نہیں لکھی گئی، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام  اس سورت کے ساتھ  بِسْمِ اللہْ  لے کر نازل ہی نہیں ہوئے تھے اور نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے  بِسْمِ اللہْ  لکھنے کا حکم نہیں فرمایا۔


📢 شروع کی آیات میں مشرکین عرب کے لئے اعلان کیا گیا ہے کہ ان تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کا پیغام پہنچا دیا ہے اور حجت قائم فرما دی ہے، یہ سورت غزوہ تبوک کے بعد واپسی پر نازل ہوئی، جہاد اور زکوة کے حوالے سے منافقین کی بدباطنی کی نشاندہی کی گئی ہے اور انہوں نے جو اسلام کا لبادہ اوڑھا ہوا تھا اس کی حقیقت کو ظاہر کیا گیا۔

🕌 آیت نمبر 24 میں اللہ پاک نے 8 دنیاوی محبتوں اور 3 دینی محبتوں کو بیان فرمایا، اسکے بعد دعوت دی کہ اپنے باطن میں ترازو قائم کرو ایک پلڑے میں دنیاوی محبتیں اور دوسرے میں دینی محبتیں رکھو، اگردینی محبتوں والا پلڑا ہلکا رہے اور دنیاوی محبتوں والا پلڑا وزنی ہوجائے تو پھر موت کا انتظار کرو۔
اللہ پاک نے فرمایا:
*قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠(۲۴)*
تم فرماؤ: اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا خاندان اور تمہاری کمائی کے مال او ر وہ تجارت جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور تمہارے پسندیدہ مکانات تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیاد ہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

⚔️ اسکے بعد غزوہ حنین کی تفصیلات بیان ہوئی ہیں۔

فتحِ مکہ کے بعد عام طور سے تمام عرب کے لوگ اسلام کے حلقہ بگوش ہوگئے کیونکہ ان میں اکثروہ لوگ تھے جو اسلام کی حقانیت کا پورا پورا یقین رکھنے کے باوجود قریش کے ڈر سے مسلمان ہونے میں تَوَقُّف کررہے تھے اور فتحِ مکہ کا انتظار کررہے تھے۔ پھر چونکہ عرب کے دلوں میں کعبہ کا بے حد احترام تھا اور ان کا اعتقاد تھا کہ کعبہ پر کسی باطل پرست کا قبضہ نہیں ہوسکتا، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کو فتح کرلیا تو عرب کے بچے بچے کو اسلام کی حقانیت کا پورا پورا یقین ہوگیا اور وہ سب کے سب جوق در جوق بلکہ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے۔ باقی ماندہ عرب کی بھی ہمت نہ رہی کہ اب اسلام کے مقابلہ میں ہتھیار اٹھا سکیں۔ لیکن مقامِ حُنَین میں ’’ہوازن‘‘ اور ’’ثقیف‘‘ نام کے دو قبیلے آباد تھے جو بہت ہی جنگجو اور فُنونِ جنگ سے واقف تھے۔ ان لوگوں پر فتحِ مکہ کا اُلٹا اثر پڑا اور ان لوگوں پر خواہ مخواہ کی جاہلیت کیغیرت سوار ہوگئی اور ان لوگوں نے یہ خیال قائم کرلیا کہ فتحِ مکہ کے بعد ہماری باری ہے اس لئے ان لوگوں نے یہ طے کرلیا کہ مسلمانوں پر جو اس وقت مکہ میں جمع ہیں ایک زبردست حملہ کردیا جائے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم    نے حضرت عبداللہ بن ابی حدرد رضی اللہ عنہ کو تحقیقات کے لئے بھیجا۔ جب انہوں نے وہاں سے واپس آکر ان قبائل کی جنگی تیاریوں کا حال بیان کیا اور بتایا کہ قبیلہ ہوازن اور ثقیف نے اپنے تمام قبائل کو جمع کرلیا ہے اور قبیلہ ہوازن کا رئیسِ اعظم مالک بن عوف ان تمام اَفواج کا سپہ سالار ہے اور وہ سو برس سے زائد عمر کا بوڑھا ہے۔ ’’درید بن الصمہ‘‘ جو عرب کا مشہور شاعر اور مانا ہوا بہادر تھا بطور مشیر کے میدانِ جنگ میں لایا گیا ہے اور یہ لوگ اپنی عورتوں بچوں بلکہ جانوروں تک کو میدانِ جنگ میں لائے ہیں تاکہ کوئی سپاہی میدان سے بھاگنے کا خیال بھی نہ کرسکے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی شوال8ھ میں بارہ ہزار کا لشکر جمع فرمایا۔ دس ہزار تو مہاجرین و انصار وغیرہ کا وہ لشکر تھا جو مدینہ سےآپ کے ساتھ آیا تھا اور دو ہزار نومسلم تھے جو فتحِ مکہ میں مسلمان ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکر کو ساتھ لے کر اس شان و شوکت کے ساتھ حنین کا رُخ کیا کہ اسلامی افواج کی کثرت اور اس کے جاہ و جلال کو دیکھ کر بے اختیار بعض صحابۂ کرام  رضی اللہ عنھم کی زبان سے یہ لف
ظ نکل گیا کہ ’’آج بھلا ہم پر کون غالب آسکتا ہے۔ لیکن اللہ پاک کو ان حضرات کا اپنی فوجوں کی کثرت پر ناز کرنا پسند نہیں آیا۔ چنانچہ اس فخر و نازِش کا یہ انجام ہوا کہ پہلے ہی حملہ میں قبیلہ ہوازن و ثقیف کے تیر اندازوں نے جو تیروں کی بارش کی اور ہزاروں کی تعداد میں تلواریں لے کر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے تو وہ دو ہزار نو مسلم اور کفارِ مکہ جو لشکرِ اسلام میں شامل ہو کر مکہ سے آئے تھے ایک دم سرپر پیر رکھ کر بھاگ نکلے۔ ان لوگوں کی بھگدڑ دیکھ کر انصار و مہاجرین کے بھی پاؤں اکھڑ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو گنتی کے چند جاں نثاروں کے سوا سب فرار ہو چکے تھے۔ تیروں کی بارش ہو رہی تھی۔بارہ ہزار کا لشکر فرار ہو چکا تھا مگر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پائے اِستقامت میں بال برابر بھی لغزش نہیں ہوئی۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اکیلے ایک لشکر بلکہ ایک عالَمِ کائنات کا مجموعہ بنے ہوئے نہ صرف پہاڑ کی طرح ڈٹے رہے بلکہ اپنے سفید خچر پر سوار برابر آگے ہی بڑھتے رہے اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی زَبانِ مبارک پر یہ الفاظ جاری تھے کہ
"میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے : میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔"
حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے لشکر کو پکارا    ’’ یَامَعْشَرَ الْاَنْصَار ‘‘اور   پھر ’’
 یَالَلْمُھَاجرِیْنَ‘‘ کا نعرہ مارا تو ایک دم تمام فوجیں پلٹ پڑیں اور لوگ اس قدر تیزی کے ساتھ دوڑ پڑے کہ جن لوگوں کے گھوڑے اِژْدِحام کی وجہ سے نہ مڑ سکے انہوں نے ہلکا ہونے کے لئے اپنی زرہیں پھینک دیں اور گھوڑوں سے کود کود کر دوڑے اور کفار کے لشکر پر جھپٹ پڑے اور اس طرح جانبازی کے ساتھ لڑنے لگے کہ دم زَدَن میں جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ کفار بھاگ نکلے ،کچھ قتل ہو گئے اور جو رہ گئے گرفتار ہو گئے۔ قبیلہ ثقیف کی فوجیں بڑی بہادری کے ساتھ جم کر مسلما نو ں سے لڑتی رہیں یہاں تک کہ ان کے ستر بہادر کٹ گئے، لیکن جب ان کا علمبردار عثمان بن       عبداللہ       قتل ہو گیا تو ان کے پاؤں بھی اُکھڑ گئے۔ اور فتحِ مُبین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے قدموں کا بوسہ لیا اور کثیر تعداد و مقدار میں مالِ غنیمت ہاتھ آیا۔ 

پھر اللہ پاک نے آیت نمبر 28 میں ذکر فرمایا کہ مشرک بالکل ناپاک ہیں یعنی ان کو باطن کے اعتبار سے ناپاک قرار دیا ہے کہ وہ کفر و شرک کی نجاست سے آلودہ ہیں۔ حکم دیا گیا کہ اِس سال یعنی سَن9 ہجری کے بعد وہ مسجدِ حرام کے قریب نہ آنے پائیں نہ حج کے لئے نہ عمرہ کے لئے۔یہاں اصلِ حکم مسجد ِ حرام شریف میں آنے سے روکنے کا ہے اور بقیہ دنیا بھر کی مساجد میں آنے کے متعلق بھی حکم یہ ہے کہ کفار مسجدوں میں نہیں آسکتے ۔ خصوصاً کفار کو عزت و احترام اور استقبال کے ساتھ مسجد میں لانا شدید حرام ہے۔

💰💵 اسکے بعد اس مال و دولت اور سونے چاندی کی مذمت بیان فرمائی گئی جس کے حقوق ادا نہ کیے جائیں، زکوۃ ادا نہ کرنے والوں کو وعید سنائی گئی اور اس دردناک کیفیت کو بیان فرمایا گیا کہ قیامت کے دن اسے جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا  یہاں تک کہ شدت ِحرارت سے سفید ہوجائے گا پھر اس کے ساتھ زکوٰۃ    ادا نہ کرنے والوں کی پیشانیوں اور ان کے پہلوؤں اور ان کی پشتوں کو داغا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا یہ وہ مال ہے جو تم نے    اپنے لئے جمع کر رکھا تھا تو دنیا میں اپنا مال جمع کر کے رکھنے اور حق داروں کو ان کا حق ادا نہ کرنے کے عذاب کا مزہ چکھو۔  

🌹 آیت نمبر 40 میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان بیان فرمائی گئی کہ ہجرت میں انھیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص رفاقت نصیب ہوئی، اور بارگاہ رسالت سے بے خوف رہنے اور اللہ پاک کی معیت کا مژدہ عطا کیا گیا۔

🔰 آیت نمبر 79 میں مسلمانوں کا ایک شعار اور منافقین کا ایک شعار بتایا گیا کہ نادار مومنین اپنی محنت کی کمائی سے اپنا مال صدقہ کرتے ہیں تو منافق ان پر طعن کرتے ہیں، مذاق اڑاتے ہیں، فرمایا گیا کہ اللہ ان کو ان کے مذاق کی سزا ضرور دیگا۔

🔚 آخر میں صحابہ کرام علیھم الرضوان کا جذبۂ جہاد بیان کیا گیا کہ انہوں نے اللہ پاک کی رضا کی طلب میں اور اس کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنے کے لئے اپنے مال اور اپنی جانیں دونوں خرچ کر دیں۔جہاد کے لئے جانے کے لئے باطل عذر والوں کا ذکر فرمانے کے بعد سچے عذر والوں کے متعلق  فرمایا کہ ان پر سے جہاد کی فرضیت ساقط ہے ۔یہ کون لوگ ہیں ؟ان کے چند طبقے بیان فرمائے  
پہلا طبقہ  ضعیف جیسے کہ بوڑھے ،بچے ، عورتیں اور وہ شخص بھی انہیں میں داخل ہے جو پیدائشی کمزور ضعیف ونحیف ہو۔   
  دوسرا طبقہ  بیمار، اس میں اندھے ،لنگڑے، اپاہج بھی داخل ہیں۔  
تیسرا طبقہ  وہ لوگ جنہیں خرچ کرنے کی قدرت نہ ہو اور سامانِ جہاد نہ کرسکیں یہ لوگ رہ جائیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔
📲 *+92-321-2094919*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📖 *فیضان خلاصہ تراویح*📖

✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*

🔮 *گیارہواں پارہ، یعتذرون*

🚫 پارے کے شروع میں ان منافقین کی مذمت بیان فرمائی گئی جنھوں نے اسباب ہونے کے باوجود جہاد میں شرکت نہیں کی اور بہانے بناتے رہے، اللہ پاک نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو ان منافقین کا حال بیان فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ علیہ وسلم، آپ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنھم جب غزوۂ تبوک سے واپس مدینہ منورہ پہنچیں گے تو غزوہ سے رہ جانے والے منافقین جھوٹے بہانے بنا کر اور باطل عذر پیش کر کے آپ سب کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے۔ اے حبیب!  صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ ان سے فرما دینا کہ بہانے مت بناؤ، جو عذر تم پیش کر رہے ہو ہم اس کی ہر گز تصدیق نہیں کریں گے، تم نے جو کچھ کیا اللہ پاک  نے ہمیں اس کی خبریں دیدی ہیں اور اب اللہ پاک  اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے کام دیکھیں گے کہ تم نفاق سے توبہ کرتے ہو یا اس پر قائم رہتے ہو۔
دراصل منافقین کے ذہنوں میں یہ غلط فہمی تھی کہ مسلمان غزوہ تبوک میں شکست سے دو چار ہونگے، اسی لئے انھوں نے شرکت نہیں کی، اللہ پاک نے محض اپنے فضل وکرم سے ایمان والوں کی مدد فرمائی اور انہیں کامیابی عطا فرمائی۔

💰 آیت نمبر 98 میں عرب کے دیہاتی لوگوں کے دو طبقوں کا بیان ہوا ہے،
کچھ دیہاتی ایسے ہیں کہ اللہ پاک کی راہ میں جو خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں کیونکہ وہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں رضائے الٰہی اور طلبِ ثواب کے لئے تو کرتے نہیں بلکہ ریاکاری کے طور پر اور مسلمانوں کے خوف سے خرچ کرتے ہیں اور وہ مسلمانوں پر گردشیں آنے کے انتظار میں رہتے ہیں اور یہ راہ دیکھتے ہیں کہ کب مسلمانوں کا زور کم ہو اور کب وہ مغلوب ہوں ، انہیں خبر نہیں کہ اللہ پاک   کو کیا منظورہے ، وہ اللہ پاک نے بتا دیا کہ بری گردش انہی پر ہے اور وہی رنج و بلا اور بدحالی میں گرفتار ہوں گے۔

🌹دیہات میں رہنے والے بعض حضرات ایسے ہیں کہ وہ اللہ پاک کی راہ میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ پاک کے ہاں نزدیکیوں     اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم   کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں کہ جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں صدقہ پیش کریں گے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کیلئے خیرو برکت و مغفرت کی دعا فرمائیں گے۔ 

🌼 آیت نمبر 100 میں ان مہاجر و انصار صحابہ کرام علیھم الرضوان کی تعریف بیان کی گی ہے جنہوں نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کی اور مال و جان سے اس دینِ حق کا بھرپور ساتھ دیا۔

🚷 اگلی آیت میں ان دو گروہوں کا ذکر ہے جو غزوہ تبوک میں بغیر کسی شرعی عذ ر کے شرکت سے محروم رہے، لیکن انکو اپنی اس محرومی پر شدید ندامت تھی، ان میں سے ایک گروہ نے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی سے پہلے ہی خود کو سزا دے دی اور مسجدِ نبوی کے ستونوں سے خود کو باندھ لیا، آیت مبارکہ میں انھیں بشارت دی گئی کہ اللہ پاک نے ان کے گناہوں کو معاف کردیا ہے۔

🏛️ آیت نمبر 107 میں مسجدِ ضرار کا تذ کرہ ہے۔ قبا شریف کے مخلص مسلمانوں نے مسجد قبا بنا کر اللہ کی عبادت اور اعمال خیر کی بنیاد ڈالی ،تو منافقوں نے ان کے مقابلے میں فتنہ اور فساد کے لئے مرکز بنا کر اسکو مسجد کا نام دے دیا ، اور انھیں خفیہ طور پر کافروں کی سرپرستی حاصل تھی، یہ لوگ جنہوں نے مسجدِ ضرار بنائی تھی وہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر اس کا افتتاح کروانا چاہتے تھے تاکہ مسلمانوں کی نظر میں وہ مسجد مقدّس ہوجائے اور اس کے پسِ پشت یہ اس مسجد کے ذریعے مسلمانوں میں انتشار پھیلانے کی سازشیں کرتے رہیں ،لیکن اللہ پاک نے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تشریف لے جانے سے منع فرمادیا اور فرمایا کہ یہ مسجد مسلمانوں کو ضرر پہچانے، کفر پھیلانے، اہل ایمان کے درمیان جھگڑا اور فساد کرنے اور اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے والوں کی باطل منصوبہ بندی اور سازشوں کا مرکز ہے، لہٰذا پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کو بھیجا اور اس مسجد کو آگ لگا کر جلانے کا حکم ارشاد فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ بعض اوقات بظاہر نیک کام اگر منفی مقاصد کے لئے کیا جائے تو اللہ پاک کے ہاں اسکو قبولیت حاصل نہیں ہوسکتی، اس کے مقابلے میں اللہ تعالٰی نے مسجدِ قُبا اور اس میں جمع ہونے والے مخلصین کی تعریف فرمائی اور ان کے ظاہری اور باطنی طہارت کے جذبہ کو بیان فرمایا اور فرمایا کہ مسجدِ قُبا کی بنیاد پہلے دن سے اخلاص پر رکھی گئی ہے ،اللہ پاک کی عبادت،حمد اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے بنائی گئی ہے۔

📝 اگلی آیت میں بتایا گیا کہ کلمہ پڑھ کر بندہ مومن اللہ سے ایک طرح کا وعدہ کرتا ہے،اور اس وعدہ کی رو سے وہ اپنا مال،جان اللہ کے حوالے کردیتا ہے اور اللہ پاک اس کے بدلے میں اسے جنت عطا فرمائے گا۔ اب اگر مومن مال و جان اللہ کی مرضی کے خلاف استعمال کرے گا تو یہ امانت میں خیانت ہے۔

🌸 آیت نمبر 118 میں ان تین مخلص مومنوں کا ذکر ہے