🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-06-1445 ᴴ | 28-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-06-1445 ᴴ | 28-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-06-1445 ᴴ | 28-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-06-1445 ᴴ | 28-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ کیا آپ نے کبھی یہ سوچا کہ ہم دین کتنا جانتے ہیں؟ ❷ لفظِ فتوی مِیں کھڑا زَبر یاء پر نہیں بلکہ واؤ پر ہونا چاہئے یعنی: فتویٰ نہیں بلکہ فتوٰی لِکھنا چاہئے ـ مکتوبات فقیہ ملت ـ ❸ حضرت ابو بکر صدیق اور اللہ سے شرم ـ ❹ مزاج اور اہم فیصلے ـ ❺ آپ نیا سال کس طرح منائیںگے؟ ❻ دو ستونوں کے درمیان صف بنانا کیسا ہے؟ ❼ امتحان میں نقل کرنا کیسا ہے؟ ❽ تمام امتوں کا دین ایک ہی تھا یا جدا جدا ؟ ❾ کرتا اُتار کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ ❿ کیا عورت نا محرم کا جوٹھا یعنی بچا ہوا کھانا کھا سکتی ہے؟
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ کیا آپ نے کبھی یہ سوچا کہ ہم دین کتنا جانتے ہیں؟ ❷ لفظِ فتوی مِیں کھڑا زَبر یاء پر نہیں بلکہ واؤ پر ہونا چاہئے یعنی: فتویٰ نہیں بلکہ فتوٰی لِکھنا چاہئے ـ مکتوبات فقیہ ملت ـ ❸ حضرت ابو بکر صدیق اور اللہ سے شرم ـ ❹ مزاج اور اہم فیصلے ـ ❺ آپ نیا سال کس طرح منائیںگے؟ ❻ دو ستونوں کے درمیان صف بنانا کیسا ہے؟ ❼ امتحان میں نقل کرنا کیسا ہے؟ ❽ تمام امتوں کا دین ایک ہی تھا یا جدا جدا ؟ ❾ کرتا اُتار کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ ❿ کیا عورت نا محرم کا جوٹھا یعنی بچا ہوا کھانا کھا سکتی ہے؟
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت خواجہ شمس الدین ترک پانی پتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ شمس الدین ۔ لقب: شمس الاولیاء ۔ ترکی النسل ہونے کی وجہ سے ترک، اور پانی پت میں قیام کی وجہ سے پانی پتی کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شمس الدین ترک بن سید احمد بن سید عبدالمومن بن سید عبدالملک بن سید سیف الدین بن خواجہ ورعنابن بابا قرعنا ۔ علیہم الرضوان ۔
آپ کے آباؤ اجداد ترک کے رہنے والے تھے ۔ آپ ساداتِ علوی سے تھے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت محمد حنیفہ بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
21 جمادی الثانی 597ھ کو بمقام مرخس ترکمانستان میں پیدا ہوئے ۔
تحصیل ِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت ترکمانستان میں ہوئی۔ آپ نے بہت جلد تفسیر، حدیث، فقہ، ریاضی، منطق، ہیئت، ہندسہ میں قابلیت حاصل کی۔جلد ہی علم معقول و منقول سے فارغ ہو کر علم باطنی کی طرف متوجہ ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو خلافت سے سرفراز فرمایا، اور آپ سے فرمایا: تمھارا باقی حصہ دوسرے مرشد کے پاس ہے۔ "حصول نعمت و کمال تو موقوف بر مرشد دیگر است" ۔ تمہارا حصول نعمت و کمال دوسرے مرشد پر موقوف ہے ۔
آپ کو اپنے مرید و خلیفہ حضرت علاؤ الدین احمد صابر رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں کلیر روانہ کیا ۔ (اس وقت ایسا پیر نہیں دیکھا گیا کہ جو بابا فرید کے مقام پر فائز ہو اور آئے ہوئے شخص سے یہ کہے کہ تم فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ، تمھارا حصہ ان کے پاس ہے ۔ اب تو یہ ہے کہ ایک ترغیبی مہم چلائی جاتی ہے کہ فلاں حضرت اس مقام پر فائز ہیں تم ان کے مرید ہو جاؤ، ماشاء اللہ لنگر مزیدار ہوتا ہے وغیرہ ۔ پھر صرف لنگر ہی ملتا ہے، خدا نہیں ملتا) حضرت مخدوم علاؤالدین احمد صابر (رحمۃ اللہ علیہ) نے آپ کو دیکھ کر فرمایا ۔
"اے شمس الدین! تو میرا فرزند ہے ۔ میں نے خدا سے چاہا کہ میرا سلسلہ تجھ سے جاری ہو اور قیامت تک رہے" ۔ آپ کو بیعت سے مشرف فرمایا ۔ سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے مطابق آپ کو حلق کرایا ۔ کلاہ چہار ترکی آپ کے سر پر رکھی ۔ آپ گیارہ سال تک اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں رہے ۔ پیر و مرشد کو وضو کرانے کی خدمت آپ کے سپرد تھی ۔ حضرت نے خرقۂ خلافت آپ کو عطا فرمایا اور اسم اعظم جو سینہ بسینہ چلا آتا تھا، آپ کو تعلیم کیا ۔
سیرت و خصائص:
شمس الاولیاء، بدر الاتقیاء، آئینہ جمال و جلال حقانی، قطبِ وقت، فیض یافتہ حضرت فرید الدین، و شیخ صابر، معارفِ علومِ ربانی حضرت شمس الدین ترک پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ صوفیِ باصفا اور کاملانِ اولیاء میں سے تھے ۔ تلاش کے حق کے جذبے سے متاثر ہو کر آپ نے اپنے وطن عزیز کو خیرباد کہا ۔ اول ترکستان کی سیر و سیاحت فرمائی ۔ جب وہاں کوئی مرشد کامل نہیں ملا تو ماور النہر تشریف لائے ۔ وہاں بہت سے بزرگوں سے ملے، لیکن آپ کو تسکین نہیں ہوئی ۔ماوراء النہر سے ملتان تشریف لائے۔ملتان سے اجودہن (پاک پتن) آئے اور حضرت بابا فریدالدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی قدم بوسی سے مشرف ہوئے۔ آپ نے کچھ عرصہ حضرت بابا گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت بابرکت میں رہ کر فیوض و برکات باطنی حاصل کئے ۔
آپ صاحب عظمت و ولایت تھے۔علم ظاہری و باطنی میں اپنی مثال آپ تھے۔ زہد و تقویٰ آپ کا مشہور تھا۔ ترک و تجرید، ریاضت، مجاہدہ اور عبادمت میں بےنظیر تھے، وضع قطع سے قلندر معلوم ہوتے تھے اور قلندروں کا سا لباس چرمی پہنتے تھے۔ جو کچھ زبان سے فرماتے تھے ویسا ہی ہو جاتا۔ آپ کے پیر و مرشد حضرت مخدوم صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کے متعلق فرمایا:
شمس ما در اولیاء چوں شمس است"
ہمارا شمس اولیاء میں سورج کی طرح ہے۔
آپ اپنے پیر دستگیر کی اجازت سے سلطان غیاث الدین بلبن کے لشکر میں ملازم ہوگئے۔ ریاضت، عبادت اور مجاہدہ کے ساتھ ساتھ آپ اپنے فرائض کو بھی بحسن و خوبی انجام دیتے رہے۔ آپ اپنا حال کسی پر ظاہر نہیں کرتے تھے ۔ باوجود امارت و اعزاز کے فقر و فاقہ میں گزارتے تھے ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ شمس الدین ۔ لقب: شمس الاولیاء ۔ ترکی النسل ہونے کی وجہ سے ترک، اور پانی پت میں قیام کی وجہ سے پانی پتی کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شمس الدین ترک بن سید احمد بن سید عبدالمومن بن سید عبدالملک بن سید سیف الدین بن خواجہ ورعنابن بابا قرعنا ۔ علیہم الرضوان ۔
آپ کے آباؤ اجداد ترک کے رہنے والے تھے ۔ آپ ساداتِ علوی سے تھے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت محمد حنیفہ بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
21 جمادی الثانی 597ھ کو بمقام مرخس ترکمانستان میں پیدا ہوئے ۔
تحصیل ِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت ترکمانستان میں ہوئی۔ آپ نے بہت جلد تفسیر، حدیث، فقہ، ریاضی، منطق، ہیئت، ہندسہ میں قابلیت حاصل کی۔جلد ہی علم معقول و منقول سے فارغ ہو کر علم باطنی کی طرف متوجہ ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو خلافت سے سرفراز فرمایا، اور آپ سے فرمایا: تمھارا باقی حصہ دوسرے مرشد کے پاس ہے۔ "حصول نعمت و کمال تو موقوف بر مرشد دیگر است" ۔ تمہارا حصول نعمت و کمال دوسرے مرشد پر موقوف ہے ۔
آپ کو اپنے مرید و خلیفہ حضرت علاؤ الدین احمد صابر رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں کلیر روانہ کیا ۔ (اس وقت ایسا پیر نہیں دیکھا گیا کہ جو بابا فرید کے مقام پر فائز ہو اور آئے ہوئے شخص سے یہ کہے کہ تم فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ، تمھارا حصہ ان کے پاس ہے ۔ اب تو یہ ہے کہ ایک ترغیبی مہم چلائی جاتی ہے کہ فلاں حضرت اس مقام پر فائز ہیں تم ان کے مرید ہو جاؤ، ماشاء اللہ لنگر مزیدار ہوتا ہے وغیرہ ۔ پھر صرف لنگر ہی ملتا ہے، خدا نہیں ملتا) حضرت مخدوم علاؤالدین احمد صابر (رحمۃ اللہ علیہ) نے آپ کو دیکھ کر فرمایا ۔
"اے شمس الدین! تو میرا فرزند ہے ۔ میں نے خدا سے چاہا کہ میرا سلسلہ تجھ سے جاری ہو اور قیامت تک رہے" ۔ آپ کو بیعت سے مشرف فرمایا ۔ سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے مطابق آپ کو حلق کرایا ۔ کلاہ چہار ترکی آپ کے سر پر رکھی ۔ آپ گیارہ سال تک اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں رہے ۔ پیر و مرشد کو وضو کرانے کی خدمت آپ کے سپرد تھی ۔ حضرت نے خرقۂ خلافت آپ کو عطا فرمایا اور اسم اعظم جو سینہ بسینہ چلا آتا تھا، آپ کو تعلیم کیا ۔
سیرت و خصائص:
شمس الاولیاء، بدر الاتقیاء، آئینہ جمال و جلال حقانی، قطبِ وقت، فیض یافتہ حضرت فرید الدین، و شیخ صابر، معارفِ علومِ ربانی حضرت شمس الدین ترک پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ صوفیِ باصفا اور کاملانِ اولیاء میں سے تھے ۔ تلاش کے حق کے جذبے سے متاثر ہو کر آپ نے اپنے وطن عزیز کو خیرباد کہا ۔ اول ترکستان کی سیر و سیاحت فرمائی ۔ جب وہاں کوئی مرشد کامل نہیں ملا تو ماور النہر تشریف لائے ۔ وہاں بہت سے بزرگوں سے ملے، لیکن آپ کو تسکین نہیں ہوئی ۔ماوراء النہر سے ملتان تشریف لائے۔ملتان سے اجودہن (پاک پتن) آئے اور حضرت بابا فریدالدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی قدم بوسی سے مشرف ہوئے۔ آپ نے کچھ عرصہ حضرت بابا گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت بابرکت میں رہ کر فیوض و برکات باطنی حاصل کئے ۔
آپ صاحب عظمت و ولایت تھے۔علم ظاہری و باطنی میں اپنی مثال آپ تھے۔ زہد و تقویٰ آپ کا مشہور تھا۔ ترک و تجرید، ریاضت، مجاہدہ اور عبادمت میں بےنظیر تھے، وضع قطع سے قلندر معلوم ہوتے تھے اور قلندروں کا سا لباس چرمی پہنتے تھے۔ جو کچھ زبان سے فرماتے تھے ویسا ہی ہو جاتا۔ آپ کے پیر و مرشد حضرت مخدوم صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کے متعلق فرمایا:
شمس ما در اولیاء چوں شمس است"
ہمارا شمس اولیاء میں سورج کی طرح ہے۔
آپ اپنے پیر دستگیر کی اجازت سے سلطان غیاث الدین بلبن کے لشکر میں ملازم ہوگئے۔ ریاضت، عبادت اور مجاہدہ کے ساتھ ساتھ آپ اپنے فرائض کو بھی بحسن و خوبی انجام دیتے رہے۔ آپ اپنا حال کسی پر ظاہر نہیں کرتے تھے ۔ باوجود امارت و اعزاز کے فقر و فاقہ میں گزارتے تھے ۔
❤1