بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں مقام:
حضرت سیدنا علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ تفسیر روح البیان، ج:5، صفحہ 374، سورۂ طہٰ، آیت نمبر 18 کے تحت نقل فرماتے ہیں: حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: آپ کا فرمان ہے: "عُلَمَاءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَاءِ بَنِیْ اِسْرَائِیْل یعنی میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں "۔لہٰذا مجھے ان میں سے کوئی دکھائیں ـ
حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت سیدنا امام محمد غزالی علیہ الرحمہ کی طرف اشارہ فرمایا ۔ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے ایک سوال کیا ۔ آپ نے اس کے دس جواب عرض کئے ۔
حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: کہ سوال ایک کیا گیا اور تم نے دس جواب دئیے، تو حضرت امام محمد غزالی علیہ الرحمہ نے عرض کی: جب اللہ تعالیٰ نے آپ سے پوچھا تھا: " وَمَا تِلْکَ بِیَمِیْنِکَ یٰمُوْسٰی " (پ:16، طٰہ:17) اے موسیٰ! تمھارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ۔ تو اتنا عرض کر دینا کافی تھا کہ یہ میرا عصا ہے، مگر آپ نے اس کی کئی خوبیاں بیان فرمائیں ۔
حضراتِ علمائے کرام فرماتے ہیں:
کہ گویا امام غزالی علیہ الرحمہ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں عرض کر رہے ہیں کہ جب آپ کاہم کلام باری تعالیٰ تھا تو آپ نے وفورِ محبت اور غلبۂ شوق میں اپنے کلام کو طول دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ ہم کلامی کا شرف حاصل ہو سکے اوراس وقت مجھےکلیمِ خدا سے گفتگو کا شرف حاصل ہو رہا ہے اس لئے میں نے بھی شوق و محبت میں کلام کو طویل کیا ہے ۔
حضرت سیدنا امام ابو الحسن شاذلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: میں خواب میں زیارتِ رسول ﷺ سے مشرف ہوا تو دیکھا کہ حضور رحمتِ عالم ﷺ، حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے حضرت امام غزالی علیہ الرحمہ پر فخر کرتے ہوئے فرمارہے ہیں:" کیا تمہاری امتوں میں میرے غزالی جیسا کوئی عالم ہے ۔ دونوں نے عرض کی: نہیں ۔ (النبراس، ص:247) ـ
حضرت امام غزالی ملت اسلامیہ کا فخر ہیں ۔ آپ کی تعلیمات کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں ۔ آپ کی کتب سالکین و عارفین، علماء و فاضلین کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں ۔ بعض حضرات آپ کو دنیا سے الگ تھلگ اور ایک گوشہ نشین صوفی تصور کرتے ہیں ۔بس جس کا کام صرف اللہ ہٗو کی ضربیں لگانا ہو ۔ ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہےکہ وقت کا مجدد ہو، فلسفیِ اسلام ہو، اور اپنے وقت کا عظیم امام ہو، وہ حالات سےکیسے صرفِ نظر کر سکتا ہے ۔ آپ کی حالات پرپوری نظرتھی۔شاہانِ وقت آپ کی ہیبت سے کانپتے تھے، غیر شرعی امور اور رعایا پر ظلم کے خلاف آپ کی آواز ایک اثر رکھتی تھی۔یہی وجہ ہےکہ شاہِ سلجوق جس کی سلطنت چین سے یورپ تک تھی آپ نے اس کو للکارا اور فرمایا: "افسوس!کہ مسلمانوں کی گردنیں مصیبت اور تکلیف سے ٹوٹی جاتی ہیں، اور تیرے گھوڑوں کی گردنیں سونے اور چاندی کےطوقوں سے جھکی ہوئی ہیں "۔
آئینِ جوانمرداں حق گوئی وبیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
تاریخِ وصال:
14 جمادی الثانی 505ھ / مطابق 18 دسمبر 1111ء بروز پیر کو عالمِ اسلام کا یہ سورج غروب ہو گیا ۔ آپ کا مزار شریف "طوس" ایران میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
طبقات الشافعیہ ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ مقدمہ مکاشفۃ القلوب ۔ مقدمہ احیاء لعلوم ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hujjat-ul-islam-hazrat-imam-muhammad-ghazali
حضرت سیدنا علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ تفسیر روح البیان، ج:5، صفحہ 374، سورۂ طہٰ، آیت نمبر 18 کے تحت نقل فرماتے ہیں: حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: آپ کا فرمان ہے: "عُلَمَاءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَاءِ بَنِیْ اِسْرَائِیْل یعنی میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں "۔لہٰذا مجھے ان میں سے کوئی دکھائیں ـ
حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت سیدنا امام محمد غزالی علیہ الرحمہ کی طرف اشارہ فرمایا ۔ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے ایک سوال کیا ۔ آپ نے اس کے دس جواب عرض کئے ۔
حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: کہ سوال ایک کیا گیا اور تم نے دس جواب دئیے، تو حضرت امام محمد غزالی علیہ الرحمہ نے عرض کی: جب اللہ تعالیٰ نے آپ سے پوچھا تھا: " وَمَا تِلْکَ بِیَمِیْنِکَ یٰمُوْسٰی " (پ:16، طٰہ:17) اے موسیٰ! تمھارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ۔ تو اتنا عرض کر دینا کافی تھا کہ یہ میرا عصا ہے، مگر آپ نے اس کی کئی خوبیاں بیان فرمائیں ۔
حضراتِ علمائے کرام فرماتے ہیں:
کہ گویا امام غزالی علیہ الرحمہ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں عرض کر رہے ہیں کہ جب آپ کاہم کلام باری تعالیٰ تھا تو آپ نے وفورِ محبت اور غلبۂ شوق میں اپنے کلام کو طول دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ ہم کلامی کا شرف حاصل ہو سکے اوراس وقت مجھےکلیمِ خدا سے گفتگو کا شرف حاصل ہو رہا ہے اس لئے میں نے بھی شوق و محبت میں کلام کو طویل کیا ہے ۔
حضرت سیدنا امام ابو الحسن شاذلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: میں خواب میں زیارتِ رسول ﷺ سے مشرف ہوا تو دیکھا کہ حضور رحمتِ عالم ﷺ، حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے حضرت امام غزالی علیہ الرحمہ پر فخر کرتے ہوئے فرمارہے ہیں:" کیا تمہاری امتوں میں میرے غزالی جیسا کوئی عالم ہے ۔ دونوں نے عرض کی: نہیں ۔ (النبراس، ص:247) ـ
حضرت امام غزالی ملت اسلامیہ کا فخر ہیں ۔ آپ کی تعلیمات کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں ۔ آپ کی کتب سالکین و عارفین، علماء و فاضلین کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں ۔ بعض حضرات آپ کو دنیا سے الگ تھلگ اور ایک گوشہ نشین صوفی تصور کرتے ہیں ۔بس جس کا کام صرف اللہ ہٗو کی ضربیں لگانا ہو ۔ ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہےکہ وقت کا مجدد ہو، فلسفیِ اسلام ہو، اور اپنے وقت کا عظیم امام ہو، وہ حالات سےکیسے صرفِ نظر کر سکتا ہے ۔ آپ کی حالات پرپوری نظرتھی۔شاہانِ وقت آپ کی ہیبت سے کانپتے تھے، غیر شرعی امور اور رعایا پر ظلم کے خلاف آپ کی آواز ایک اثر رکھتی تھی۔یہی وجہ ہےکہ شاہِ سلجوق جس کی سلطنت چین سے یورپ تک تھی آپ نے اس کو للکارا اور فرمایا: "افسوس!کہ مسلمانوں کی گردنیں مصیبت اور تکلیف سے ٹوٹی جاتی ہیں، اور تیرے گھوڑوں کی گردنیں سونے اور چاندی کےطوقوں سے جھکی ہوئی ہیں "۔
آئینِ جوانمرداں حق گوئی وبیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
تاریخِ وصال:
14 جمادی الثانی 505ھ / مطابق 18 دسمبر 1111ء بروز پیر کو عالمِ اسلام کا یہ سورج غروب ہو گیا ۔ آپ کا مزار شریف "طوس" ایران میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
طبقات الشافعیہ ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ مقدمہ مکاشفۃ القلوب ۔ مقدمہ احیاء لعلوم ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hujjat-ul-islam-hazrat-imam-muhammad-ghazali
scholars.pk
Hujjat-ul-Islam Hazrat Imam Muhammad Ghazali Biography
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سید حاجی علی شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/43255
حضرت حاجی علی شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ ہندوستان کی معروف روحانی شخصیت ہیں ۔
خاندانی تعلق:
آپ کا خاندانی تعلق ساداتِ بخارا سے ہے ۔ آپ بخارا سے ہجرت کرکے ہندوستان تشریف لائے ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار شریف ممبئی (انڈیا) کے ورلی سمندر کے کنارے ایک چھوٹے سے جزیرے پر واقع ہے ۔ مزار کے ساتھ ایک عالی شان مسجِد بھی ہے ۔ سیاحتی مقام پر ہونے کی وجہ سے تمام طبقات اس پر حاضری دیتے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-haji-ali-shah-bukhari-mumbai-india
https://t.me/islaamic_Knowledge/43255
حضرت حاجی علی شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ ہندوستان کی معروف روحانی شخصیت ہیں ۔
خاندانی تعلق:
آپ کا خاندانی تعلق ساداتِ بخارا سے ہے ۔ آپ بخارا سے ہجرت کرکے ہندوستان تشریف لائے ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار شریف ممبئی (انڈیا) کے ورلی سمندر کے کنارے ایک چھوٹے سے جزیرے پر واقع ہے ۔ مزار کے ساتھ ایک عالی شان مسجِد بھی ہے ۔ سیاحتی مقام پر ہونے کی وجہ سے تمام طبقات اس پر حاضری دیتے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-haji-ali-shah-bukhari-mumbai-india
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-06-1445 ᴴ | 27-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-06-1445 ᴴ | 28-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-06-1445 ᴴ | 28-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-06-1445 ᴴ | 28-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1