🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-06-1445 ᴴ | 27-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-06-1445 ᴴ | 27-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤3
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت شاہ جعفر علی فریدی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت شاہ جعفر علی فریدی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: خاندانِ بابا فرید الدین گنج شکرعلیہ الرحمہ سے تعلق کی وجہ سے "فریدی" کہلاتے ہیں ۔
آپ کا نام شیخ الاصفیاء حضرت سید شاہ اشرف حسین کچھوچھوی قدس سرہ (برادر بزرگ و پیر و مرشد حضرت قطب العالم شاہ علی حسین کچھوچھوی اشرفی میاں قدس سرہ) نے رکھا، اور فرمایا یہ لڑکا قطبِ وقت ہوگا ۔
نسب:
آپ نسباً فاروقی ہیں ۔ نسلی رشتہ حضرت شیخ شہاب الدین کے واسطے سے شیخ الاسلام فرید الدین مسعود گنج شکر قدس سرہ تک پہنچتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1857ء کو واقعہ غدر سے پہلے محلہ الہی باغ، ضلع گورکھپور (انڈیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
جامع مسجد گورکھپور، مدرسۂ چشمہ ٔرحمت غازی پور، مدرسہ احمدیہ ملکی محلہ آرہ وغیرہ میں عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی ۔ عربی و فارسی میں مہارت رکھتے تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت شیخ المشائخ حافظ شاہ محمد فرید الدین جون پوری ثم آروی کے مرید ہوئے، اور ان کی خدمت میں حاضر رَہ کر راہِ سلوک کی تعلیم مکمل کی، اور تمام سلاسل قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ، نقشبندیہ، کی تربیت حاصل کی ۔
سیرت و خصائص:
شیخِ طریقت، عالمِ شریعت، عاملِ قرآن و سنت، مبلغِ اہل سنت حضرت شاہ جعفر علی فریدی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ انتہائی متقی و پرہیز گار تھے ۔ عبادت و ریاضت کے ساتھ ہر وقت تبلیغِ دین متین میں کوشاں رہتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی تبلیغی کوششوں سے بہت سے لوگوں کو دولتِ ایمان حاصل ہوئی ۔ آپ نے سمتی پور میں سکونت اختیار کی، اور یہاں کے لوگوں کو دینِ اسلام کی تعلیمات سے لوگوں کو روشناس کیا ۔
درس و تدریس، وعظ و نصیحت محبوب مشغلہ تھا ۔ اپنے گزر اوقات کے لئے تجارت کرتے تھے ۔ دین کی خدمت فی سبیل اللہ کرتے تھے ۔ آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ تبلیغ اسلام میں ہمہ وقت کوشاں رہتے، اور اس کے لئے دور دراز دیہاتی علاقوں کا سفر کرتے تھے ۔ (کیونکہ شہروں کی بہ نسبت دیہاتوں میں جہالت زیادہ ہوتی ہے ۔
فی زمانہ اس کی زیادہ ضرورت ہے ۔ ہماری مذہبی تنظیموں کے مبلغین عدمِ سہولیات کی وجہ سے دیہاتوں کا رخ نہیں کرتے اور شہری علاقوں میں جانا پسند کرتے ہیں، اور بدمذہب اس چیز سے بڑا فائدہ اٹھا رہے ہیں) آپ نے مسلمانوں کے گھروں سے ہندوانی رسم و رواج کو دور کیا ۔ بہتوں کو حلقہ بگوش قادریہ کیا ۔
آپ کے متوسلین میں مجاذیب بھی ہیں اور سالکین بھی ۔ کئی اصحابِ کشف و طریقت نے کہا: کہ مولانا شاہ جعفر علی فریدی علاقہ " سہرسا صوبہ بہار " کے قطب ہیں ۔ مولانا مفتی محمد ابراہیم سمستی پوری علیہ الرحمہ مدرس جامعہ منظر اسلام بریلی شریف، اور خلیفۂ محدث اعظم ہند آپ کے صاحبزادے ہیں ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 جمادی الاخریٰ 1378ھ / مطابق 26 دسمبر 1958ء شبِ جمعہ کو ہوا ۔ بعد نماز جمعہ خانقاہ قادریہ سربیلہ ضلع سہر سا صوبہ بہار (انڈیا) میں مدفون ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-jafar-ali-faridi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت شاہ جعفر علی فریدی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: خاندانِ بابا فرید الدین گنج شکرعلیہ الرحمہ سے تعلق کی وجہ سے "فریدی" کہلاتے ہیں ۔
آپ کا نام شیخ الاصفیاء حضرت سید شاہ اشرف حسین کچھوچھوی قدس سرہ (برادر بزرگ و پیر و مرشد حضرت قطب العالم شاہ علی حسین کچھوچھوی اشرفی میاں قدس سرہ) نے رکھا، اور فرمایا یہ لڑکا قطبِ وقت ہوگا ۔
نسب:
آپ نسباً فاروقی ہیں ۔ نسلی رشتہ حضرت شیخ شہاب الدین کے واسطے سے شیخ الاسلام فرید الدین مسعود گنج شکر قدس سرہ تک پہنچتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1857ء کو واقعہ غدر سے پہلے محلہ الہی باغ، ضلع گورکھپور (انڈیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
جامع مسجد گورکھپور، مدرسۂ چشمہ ٔرحمت غازی پور، مدرسہ احمدیہ ملکی محلہ آرہ وغیرہ میں عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی ۔ عربی و فارسی میں مہارت رکھتے تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت شیخ المشائخ حافظ شاہ محمد فرید الدین جون پوری ثم آروی کے مرید ہوئے، اور ان کی خدمت میں حاضر رَہ کر راہِ سلوک کی تعلیم مکمل کی، اور تمام سلاسل قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ، نقشبندیہ، کی تربیت حاصل کی ۔
سیرت و خصائص:
شیخِ طریقت، عالمِ شریعت، عاملِ قرآن و سنت، مبلغِ اہل سنت حضرت شاہ جعفر علی فریدی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ انتہائی متقی و پرہیز گار تھے ۔ عبادت و ریاضت کے ساتھ ہر وقت تبلیغِ دین متین میں کوشاں رہتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی تبلیغی کوششوں سے بہت سے لوگوں کو دولتِ ایمان حاصل ہوئی ۔ آپ نے سمتی پور میں سکونت اختیار کی، اور یہاں کے لوگوں کو دینِ اسلام کی تعلیمات سے لوگوں کو روشناس کیا ۔
درس و تدریس، وعظ و نصیحت محبوب مشغلہ تھا ۔ اپنے گزر اوقات کے لئے تجارت کرتے تھے ۔ دین کی خدمت فی سبیل اللہ کرتے تھے ۔ آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ تبلیغ اسلام میں ہمہ وقت کوشاں رہتے، اور اس کے لئے دور دراز دیہاتی علاقوں کا سفر کرتے تھے ۔ (کیونکہ شہروں کی بہ نسبت دیہاتوں میں جہالت زیادہ ہوتی ہے ۔
فی زمانہ اس کی زیادہ ضرورت ہے ۔ ہماری مذہبی تنظیموں کے مبلغین عدمِ سہولیات کی وجہ سے دیہاتوں کا رخ نہیں کرتے اور شہری علاقوں میں جانا پسند کرتے ہیں، اور بدمذہب اس چیز سے بڑا فائدہ اٹھا رہے ہیں) آپ نے مسلمانوں کے گھروں سے ہندوانی رسم و رواج کو دور کیا ۔ بہتوں کو حلقہ بگوش قادریہ کیا ۔
آپ کے متوسلین میں مجاذیب بھی ہیں اور سالکین بھی ۔ کئی اصحابِ کشف و طریقت نے کہا: کہ مولانا شاہ جعفر علی فریدی علاقہ " سہرسا صوبہ بہار " کے قطب ہیں ۔ مولانا مفتی محمد ابراہیم سمستی پوری علیہ الرحمہ مدرس جامعہ منظر اسلام بریلی شریف، اور خلیفۂ محدث اعظم ہند آپ کے صاحبزادے ہیں ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 جمادی الاخریٰ 1378ھ / مطابق 26 دسمبر 1958ء شبِ جمعہ کو ہوا ۔ بعد نماز جمعہ خانقاہ قادریہ سربیلہ ضلع سہر سا صوبہ بہار (انڈیا) میں مدفون ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-jafar-ali-faridi
❤1
حضرت امام محمد بن حسن شیبانی رضی اللہ عنہ
نام و نسب:
کنیت ابو عبداللہ اسم گرامی محمد، سلسلۂ نسب اس طرح ہے ، محمد بن حسن بن فرقد شیبانی، قبیلہ شیبان کی طرف نسبت ولاء کی وجہ سے شیبانی کہلائے ۔
تاریخِ ولادت:
امام محمد 132ھ میں " واسط " میں پیدا ہوئے ۔ پھر والدین نے " کوفہ " کو وطن بنایا اور یہیں آپ کی پرورش ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
امام محمد علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر کے قریبی مکتب یا معلّمِ خاص (جیسا کہ اہلِ ثروت کے ہاں گھر میں پڑھانے کے لئے استاذ آتا ہے) سے حاصل کی ۔ چودہ سال کی عمر میں امام الائمہ سراج الامہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ امام صاحب کے وصال کے بعد حضرت امام ابو یوسف سے مزید تعلیم اورفقہ میں مہارت حاصل کی ۔علمِ حدیث میں مہارت ِ تامہ حاصل کرنے کیلئے امام دارلہجرہ حضرت امام انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ان کے علاوہ متعدد شیوخ سے علمی و روحانی استفادہ فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
امام محمد علیہ الرحمہ حدیث و فقہ کے استاذ، امام و مجتہد، عابد و زاہد، جواد و فیاض، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ اور واصلِ مراتبِ عظیمہ تھے ۔
آپ نے ایک لاکھ سے زیادہ مسائلِ شرعیہ قرآن و سنت سے مستنبط کیے ۔ ہزار کے قریب کتب تصنیف فرمائیں ۔ بے شمار لوگوں کو زیورِ علم سے آراستہ فرمایا، جن میں حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ جیسی عبقری شخصیات شامل ہیں ۔ آپ بے حد ذہین و فطین تھے ۔ آپ نے صرف سات دن میں قرآنِ مجید مکمل حفظ کیا ۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر یہود و نصاریٰ امام محمد کی تصانیف دیکھ لیں تو بے اختیار ایمان لے آئیں ۔ ایک عیسائی عالم نے امام محمد علیہ الرحمہ کی کتاب " جامع کبیر " کا مطالعہ کیا تو فوراً مسلمان ہو گیا، اور کہنے لگا اگر یہ شخص پیغمبری کا دعویٰ کرے اور بطورِ معجزہ اس کتاب کو پیش کرے تو کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، تو میں نے سوچا جس امتی کی یہ شان ہے اس نبی کے علم کا کیا مقام ہوگا ۔ (حدائق الحنفیہ)
؎ یہ شان ہے خدمت گاروں کی،
سرکار کا عالم کیا ہوگا
امام شافعی فرماتے ہیں:
مارأیت اعقل ولا افقہ ولا ازھد ولا اورع ولا احسن نطقاولا ایرادا من محمد ن الحسن مارأیت افصح منہ وکنت اظن اذ رأیتہ یقرأ القرآن کأن القرأن نزل بلغتہ ـ
یعنی: میں نے امام محمد جیسا عاقل، فقیہ، زاہد متقی خوش گفتار اور بحث و نقد کرنے والا نہیں دیکھا ۔ میں نے ان سے زیادہ فصیح اللسان کسی کو نہیں دیکھا جب وہ قرآن پڑھتے تھے تو معلوم ہوتا تھا گویا ان ہی کی لغت میں نازل ہوا ہے ۔ (تہذیب الا سماء نووی)
وصال:
آپ کا وصال بروز پیر 14 جمادی الثانی 189ھ / بمطابق ۱۶ مئی ۸۰۵ ء کو "رے" (عراق) میں ہوا ۔
بحوالہ:
(الامام محمد بن حسن شیبانی واثرہ فی الفقہ الاسلامی، ص:۹۲، دکتور محمد الدسوقی) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-muhammad-bin-al-hassan-shaibani
نام و نسب:
کنیت ابو عبداللہ اسم گرامی محمد، سلسلۂ نسب اس طرح ہے ، محمد بن حسن بن فرقد شیبانی، قبیلہ شیبان کی طرف نسبت ولاء کی وجہ سے شیبانی کہلائے ۔
تاریخِ ولادت:
امام محمد 132ھ میں " واسط " میں پیدا ہوئے ۔ پھر والدین نے " کوفہ " کو وطن بنایا اور یہیں آپ کی پرورش ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
امام محمد علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر کے قریبی مکتب یا معلّمِ خاص (جیسا کہ اہلِ ثروت کے ہاں گھر میں پڑھانے کے لئے استاذ آتا ہے) سے حاصل کی ۔ چودہ سال کی عمر میں امام الائمہ سراج الامہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ امام صاحب کے وصال کے بعد حضرت امام ابو یوسف سے مزید تعلیم اورفقہ میں مہارت حاصل کی ۔علمِ حدیث میں مہارت ِ تامہ حاصل کرنے کیلئے امام دارلہجرہ حضرت امام انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ان کے علاوہ متعدد شیوخ سے علمی و روحانی استفادہ فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
امام محمد علیہ الرحمہ حدیث و فقہ کے استاذ، امام و مجتہد، عابد و زاہد، جواد و فیاض، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ اور واصلِ مراتبِ عظیمہ تھے ۔
آپ نے ایک لاکھ سے زیادہ مسائلِ شرعیہ قرآن و سنت سے مستنبط کیے ۔ ہزار کے قریب کتب تصنیف فرمائیں ۔ بے شمار لوگوں کو زیورِ علم سے آراستہ فرمایا، جن میں حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ جیسی عبقری شخصیات شامل ہیں ۔ آپ بے حد ذہین و فطین تھے ۔ آپ نے صرف سات دن میں قرآنِ مجید مکمل حفظ کیا ۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر یہود و نصاریٰ امام محمد کی تصانیف دیکھ لیں تو بے اختیار ایمان لے آئیں ۔ ایک عیسائی عالم نے امام محمد علیہ الرحمہ کی کتاب " جامع کبیر " کا مطالعہ کیا تو فوراً مسلمان ہو گیا، اور کہنے لگا اگر یہ شخص پیغمبری کا دعویٰ کرے اور بطورِ معجزہ اس کتاب کو پیش کرے تو کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، تو میں نے سوچا جس امتی کی یہ شان ہے اس نبی کے علم کا کیا مقام ہوگا ۔ (حدائق الحنفیہ)
؎ یہ شان ہے خدمت گاروں کی،
سرکار کا عالم کیا ہوگا
امام شافعی فرماتے ہیں:
مارأیت اعقل ولا افقہ ولا ازھد ولا اورع ولا احسن نطقاولا ایرادا من محمد ن الحسن مارأیت افصح منہ وکنت اظن اذ رأیتہ یقرأ القرآن کأن القرأن نزل بلغتہ ـ
یعنی: میں نے امام محمد جیسا عاقل، فقیہ، زاہد متقی خوش گفتار اور بحث و نقد کرنے والا نہیں دیکھا ۔ میں نے ان سے زیادہ فصیح اللسان کسی کو نہیں دیکھا جب وہ قرآن پڑھتے تھے تو معلوم ہوتا تھا گویا ان ہی کی لغت میں نازل ہوا ہے ۔ (تہذیب الا سماء نووی)
وصال:
آپ کا وصال بروز پیر 14 جمادی الثانی 189ھ / بمطابق ۱۶ مئی ۸۰۵ ء کو "رے" (عراق) میں ہوا ۔
بحوالہ:
(الامام محمد بن حسن شیبانی واثرہ فی الفقہ الاسلامی، ص:۹۲، دکتور محمد الدسوقی) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-muhammad-bin-al-hassan-shaibani
www.scholars.pk
Hazrat Imam Muhammad Bin Al-Hassan Shaibani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حجۃ الاسلام امام محمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: محمد ۔ کنیت: ابو حامد ۔ لقب: حجۃ الاسلام ۔ امام غزالی کے نام سے معروف ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت حجۃ الاسلام امام محمد بن محمد بن احمد طوسی غزالی شافعی رحمہم اللہ تعالیٰ ہے ۔ حضرت امام غزالی علیہ الرحمہ پانچویں صدی کے مجدد تھے ۔
علامہ تاج الدین سُبکی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: کہ حضرت سیدنا امام غزالی علیہ الرحمہ کے والد ماجد بڑے نیک انسان تھے ۔ فقہائے کرام سے انہیں بہت محبت تھی لہٰذا ان کی بڑی تعظیم و توقیر فرماتے اور حتی المقدور اُن پر خرچ کرتے، ان کی مجالس میں حاضر ہوتے اور وہاں خوفِ خدا سے تضرع و زاری کرتے اور اکثر اللہ جل شانہ سے دعا کرتے کہ باری تعالیٰ مجھے بیٹا عطا فرما اور اسے فقیہ بنا ۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں ان کی دونوں دعائیں قبول فرمائیں ۔
بزرگوں کا مبارک قول:
بزرگوں کا قول ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا عالمِ دین یا صالح بنے تو اس کو چاہئے کہ علماء کرام کی خدمت کرے ۔ (طبقات الشافعیۃ الکبری، ج:۶، ص:۱۹۴) ـ
تاریخِ ولادت:
450ھ / مطابق 1058ء خراسان کے شہر طوس میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد ماجد دھاگے کی تجارت کر تے تھے ۔ اس مناسبت سے آپ کا خاندان غزالی کہلاتا ہے ۔ ان علاقوں میں نسبت کا یہی طریقہ مروج ہے، جیسے عطار کو عطاری اور قصار کو قصاری کہتے ہیں ۔
تحصیلِ علم:
حضرت امام محمد غزالی علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم اپنے شہر میں حاصل کی اور فقہ کی کتابیں حضرت احمد بن محمد راذ کانی سے پڑھیں ۔ پھر جرجان میں امام ابو نصر اسماعیلی کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ 473ھ نیشا پور میں امام الحرمین الجوینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں زانوئے تلمذ تہ کیا اور ان سے اصولِ دین، اخلاقی مسائل، مناظرہ، منطق، حکمت اور فلسفہ، وغیرہ میں مہارتِ تامہ حاصل کی ۔ 484ھ میں وزیر نظامُ الملک نے مدرسہ نظامیہ بغداد کے شیخ الجامعہ (وائس چانسلر) کا عہدہ آپ کو پیش کیا جسے آپ نے قبول فرمایا ۔ آپ سے کثیر تعداد میں جید علماء کرام نے اکتساب فیض کیا ۔
بیعت و خلافت:
ابو علی فضل بن محمد بن علی فارمدی طوسی علیہم الرحمہ سے حاصل تھی ۔شیخ موصوف بہت عالی مرتبت ، فقہ شافعی کے زبردست عالم اور مذاہب سلف سے با خبر تھے اور حضرت سیدنا امام ابو القاسم قشیری علیہ الرحمہ کے جلیل القدر شاگردوں میں سے ہیں ۔
سیرت و خصائص:
امام الجلیل، شیخ الکبیر، حجۃ الاسلام، حکیم الامۃ، کاشف الغمۃ، عارف باللہ، صاحبِ اسرار و معارف، امام الاولیاء، شیخ الاصفیاء، وارثِ علومِ مصطفیٰ ﷺ، صاحبِ علم و تقویٰ، حضرت ابو حامد محمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے مجددِ اسلام ، حجۃ الاسلام، علومِ اسلامیہ کے بحرِ بے کنار، عظیم مصلح، مصنفِ کتبِ کثیرہ اور فلسفیِ اسلام تھے ۔ امام الحرمین امام جوینی علیہ الرحمہ کی شاگردی اختیار کی، اور بہت ہی قلیل عرصے میں علومِ دینیہ اور فلسفہ ومنطق میں اپنی مہارت کا لوہا منوایا ۔ یہاں تک کہ دنیائے اسلام کی نظروں کا مرکز بن گئے ۔ علم کیساتھ زہد و تقویٰ ، عبادت و ریاضت اور اخلاقِ مصطفوی ﷺ کی دولت سے بھی قدرت نے وافر حصہ عطا فرمایا تھا ۔
امام غزالی علیہ الرحمہ نے اپنے فکر انگیز نظریات کے سبب مسلم دنیا پر وہ گہرے نقوش چھوڑے ہیں جو آج بھی اسلامی فلسفہ و تصوف، علم و حکمت، تصوف و روحانیت ، معاشرتی اقدار اور اخلاقیات کی اصلاح کے لیے اساسی حیثیت رکھتے ہیں ۔ علم و عمل کے بحار ذخار ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی بسر کرتے تھے ۔ آپ کے شاگرد قاضی ابو بکربن عربی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت امام غزالی علیہ الرحمہ کو لوگوں کے درمیان اس حال میں پایا کہ آپ کے ہاتھ میں لاٹھی تھی، پیوند دار لباس زیب تن تھا اور کندھے سے پانی کا برتن لٹک رہا تھا اور میں دیکھا کرتا کہ بغداد میں آپ کے بحر علم سے مستفیض ہونے کے لیے بڑے بڑے جید علما و فضلاء آپ کی مجلس درس میں حاضر ہوتے جن کی تعداد چار سو تک پہنچ جاتی ۔ (مقدمہ مکاشفۃ القلوب) ـ
نام و نسب:
اسم گرامی: محمد ۔ کنیت: ابو حامد ۔ لقب: حجۃ الاسلام ۔ امام غزالی کے نام سے معروف ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت حجۃ الاسلام امام محمد بن محمد بن احمد طوسی غزالی شافعی رحمہم اللہ تعالیٰ ہے ۔ حضرت امام غزالی علیہ الرحمہ پانچویں صدی کے مجدد تھے ۔
علامہ تاج الدین سُبکی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: کہ حضرت سیدنا امام غزالی علیہ الرحمہ کے والد ماجد بڑے نیک انسان تھے ۔ فقہائے کرام سے انہیں بہت محبت تھی لہٰذا ان کی بڑی تعظیم و توقیر فرماتے اور حتی المقدور اُن پر خرچ کرتے، ان کی مجالس میں حاضر ہوتے اور وہاں خوفِ خدا سے تضرع و زاری کرتے اور اکثر اللہ جل شانہ سے دعا کرتے کہ باری تعالیٰ مجھے بیٹا عطا فرما اور اسے فقیہ بنا ۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں ان کی دونوں دعائیں قبول فرمائیں ۔
بزرگوں کا مبارک قول:
بزرگوں کا قول ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا عالمِ دین یا صالح بنے تو اس کو چاہئے کہ علماء کرام کی خدمت کرے ۔ (طبقات الشافعیۃ الکبری، ج:۶، ص:۱۹۴) ـ
تاریخِ ولادت:
450ھ / مطابق 1058ء خراسان کے شہر طوس میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد ماجد دھاگے کی تجارت کر تے تھے ۔ اس مناسبت سے آپ کا خاندان غزالی کہلاتا ہے ۔ ان علاقوں میں نسبت کا یہی طریقہ مروج ہے، جیسے عطار کو عطاری اور قصار کو قصاری کہتے ہیں ۔
تحصیلِ علم:
حضرت امام محمد غزالی علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم اپنے شہر میں حاصل کی اور فقہ کی کتابیں حضرت احمد بن محمد راذ کانی سے پڑھیں ۔ پھر جرجان میں امام ابو نصر اسماعیلی کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ 473ھ نیشا پور میں امام الحرمین الجوینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں زانوئے تلمذ تہ کیا اور ان سے اصولِ دین، اخلاقی مسائل، مناظرہ، منطق، حکمت اور فلسفہ، وغیرہ میں مہارتِ تامہ حاصل کی ۔ 484ھ میں وزیر نظامُ الملک نے مدرسہ نظامیہ بغداد کے شیخ الجامعہ (وائس چانسلر) کا عہدہ آپ کو پیش کیا جسے آپ نے قبول فرمایا ۔ آپ سے کثیر تعداد میں جید علماء کرام نے اکتساب فیض کیا ۔
بیعت و خلافت:
ابو علی فضل بن محمد بن علی فارمدی طوسی علیہم الرحمہ سے حاصل تھی ۔شیخ موصوف بہت عالی مرتبت ، فقہ شافعی کے زبردست عالم اور مذاہب سلف سے با خبر تھے اور حضرت سیدنا امام ابو القاسم قشیری علیہ الرحمہ کے جلیل القدر شاگردوں میں سے ہیں ۔
سیرت و خصائص:
امام الجلیل، شیخ الکبیر، حجۃ الاسلام، حکیم الامۃ، کاشف الغمۃ، عارف باللہ، صاحبِ اسرار و معارف، امام الاولیاء، شیخ الاصفیاء، وارثِ علومِ مصطفیٰ ﷺ، صاحبِ علم و تقویٰ، حضرت ابو حامد محمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے مجددِ اسلام ، حجۃ الاسلام، علومِ اسلامیہ کے بحرِ بے کنار، عظیم مصلح، مصنفِ کتبِ کثیرہ اور فلسفیِ اسلام تھے ۔ امام الحرمین امام جوینی علیہ الرحمہ کی شاگردی اختیار کی، اور بہت ہی قلیل عرصے میں علومِ دینیہ اور فلسفہ ومنطق میں اپنی مہارت کا لوہا منوایا ۔ یہاں تک کہ دنیائے اسلام کی نظروں کا مرکز بن گئے ۔ علم کیساتھ زہد و تقویٰ ، عبادت و ریاضت اور اخلاقِ مصطفوی ﷺ کی دولت سے بھی قدرت نے وافر حصہ عطا فرمایا تھا ۔
امام غزالی علیہ الرحمہ نے اپنے فکر انگیز نظریات کے سبب مسلم دنیا پر وہ گہرے نقوش چھوڑے ہیں جو آج بھی اسلامی فلسفہ و تصوف، علم و حکمت، تصوف و روحانیت ، معاشرتی اقدار اور اخلاقیات کی اصلاح کے لیے اساسی حیثیت رکھتے ہیں ۔ علم و عمل کے بحار ذخار ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی بسر کرتے تھے ۔ آپ کے شاگرد قاضی ابو بکربن عربی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت امام غزالی علیہ الرحمہ کو لوگوں کے درمیان اس حال میں پایا کہ آپ کے ہاتھ میں لاٹھی تھی، پیوند دار لباس زیب تن تھا اور کندھے سے پانی کا برتن لٹک رہا تھا اور میں دیکھا کرتا کہ بغداد میں آپ کے بحر علم سے مستفیض ہونے کے لیے بڑے بڑے جید علما و فضلاء آپ کی مجلس درس میں حاضر ہوتے جن کی تعداد چار سو تک پہنچ جاتی ۔ (مقدمہ مکاشفۃ القلوب) ـ
❤1
بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں مقام:
حضرت سیدنا علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ تفسیر روح البیان، ج:5، صفحہ 374، سورۂ طہٰ، آیت نمبر 18 کے تحت نقل فرماتے ہیں: حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: آپ کا فرمان ہے: "عُلَمَاءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَاءِ بَنِیْ اِسْرَائِیْل یعنی میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں "۔لہٰذا مجھے ان میں سے کوئی دکھائیں ـ
حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت سیدنا امام محمد غزالی علیہ الرحمہ کی طرف اشارہ فرمایا ۔ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے ایک سوال کیا ۔ آپ نے اس کے دس جواب عرض کئے ۔
حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: کہ سوال ایک کیا گیا اور تم نے دس جواب دئیے، تو حضرت امام محمد غزالی علیہ الرحمہ نے عرض کی: جب اللہ تعالیٰ نے آپ سے پوچھا تھا: " وَمَا تِلْکَ بِیَمِیْنِکَ یٰمُوْسٰی " (پ:16، طٰہ:17) اے موسیٰ! تمھارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ۔ تو اتنا عرض کر دینا کافی تھا کہ یہ میرا عصا ہے، مگر آپ نے اس کی کئی خوبیاں بیان فرمائیں ۔
حضراتِ علمائے کرام فرماتے ہیں:
کہ گویا امام غزالی علیہ الرحمہ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں عرض کر رہے ہیں کہ جب آپ کاہم کلام باری تعالیٰ تھا تو آپ نے وفورِ محبت اور غلبۂ شوق میں اپنے کلام کو طول دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ ہم کلامی کا شرف حاصل ہو سکے اوراس وقت مجھےکلیمِ خدا سے گفتگو کا شرف حاصل ہو رہا ہے اس لئے میں نے بھی شوق و محبت میں کلام کو طویل کیا ہے ۔
حضرت سیدنا امام ابو الحسن شاذلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: میں خواب میں زیارتِ رسول ﷺ سے مشرف ہوا تو دیکھا کہ حضور رحمتِ عالم ﷺ، حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے حضرت امام غزالی علیہ الرحمہ پر فخر کرتے ہوئے فرمارہے ہیں:" کیا تمہاری امتوں میں میرے غزالی جیسا کوئی عالم ہے ۔ دونوں نے عرض کی: نہیں ۔ (النبراس، ص:247) ـ
حضرت امام غزالی ملت اسلامیہ کا فخر ہیں ۔ آپ کی تعلیمات کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں ۔ آپ کی کتب سالکین و عارفین، علماء و فاضلین کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں ۔ بعض حضرات آپ کو دنیا سے الگ تھلگ اور ایک گوشہ نشین صوفی تصور کرتے ہیں ۔بس جس کا کام صرف اللہ ہٗو کی ضربیں لگانا ہو ۔ ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہےکہ وقت کا مجدد ہو، فلسفیِ اسلام ہو، اور اپنے وقت کا عظیم امام ہو، وہ حالات سےکیسے صرفِ نظر کر سکتا ہے ۔ آپ کی حالات پرپوری نظرتھی۔شاہانِ وقت آپ کی ہیبت سے کانپتے تھے، غیر شرعی امور اور رعایا پر ظلم کے خلاف آپ کی آواز ایک اثر رکھتی تھی۔یہی وجہ ہےکہ شاہِ سلجوق جس کی سلطنت چین سے یورپ تک تھی آپ نے اس کو للکارا اور فرمایا: "افسوس!کہ مسلمانوں کی گردنیں مصیبت اور تکلیف سے ٹوٹی جاتی ہیں، اور تیرے گھوڑوں کی گردنیں سونے اور چاندی کےطوقوں سے جھکی ہوئی ہیں "۔
آئینِ جوانمرداں حق گوئی وبیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
تاریخِ وصال:
14 جمادی الثانی 505ھ / مطابق 18 دسمبر 1111ء بروز پیر کو عالمِ اسلام کا یہ سورج غروب ہو گیا ۔ آپ کا مزار شریف "طوس" ایران میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
طبقات الشافعیہ ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ مقدمہ مکاشفۃ القلوب ۔ مقدمہ احیاء لعلوم ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hujjat-ul-islam-hazrat-imam-muhammad-ghazali
حضرت سیدنا علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ تفسیر روح البیان، ج:5، صفحہ 374، سورۂ طہٰ، آیت نمبر 18 کے تحت نقل فرماتے ہیں: حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: آپ کا فرمان ہے: "عُلَمَاءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَاءِ بَنِیْ اِسْرَائِیْل یعنی میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں "۔لہٰذا مجھے ان میں سے کوئی دکھائیں ـ
حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت سیدنا امام محمد غزالی علیہ الرحمہ کی طرف اشارہ فرمایا ۔ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے ایک سوال کیا ۔ آپ نے اس کے دس جواب عرض کئے ۔
حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: کہ سوال ایک کیا گیا اور تم نے دس جواب دئیے، تو حضرت امام محمد غزالی علیہ الرحمہ نے عرض کی: جب اللہ تعالیٰ نے آپ سے پوچھا تھا: " وَمَا تِلْکَ بِیَمِیْنِکَ یٰمُوْسٰی " (پ:16، طٰہ:17) اے موسیٰ! تمھارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ۔ تو اتنا عرض کر دینا کافی تھا کہ یہ میرا عصا ہے، مگر آپ نے اس کی کئی خوبیاں بیان فرمائیں ۔
حضراتِ علمائے کرام فرماتے ہیں:
کہ گویا امام غزالی علیہ الرحمہ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں عرض کر رہے ہیں کہ جب آپ کاہم کلام باری تعالیٰ تھا تو آپ نے وفورِ محبت اور غلبۂ شوق میں اپنے کلام کو طول دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ ہم کلامی کا شرف حاصل ہو سکے اوراس وقت مجھےکلیمِ خدا سے گفتگو کا شرف حاصل ہو رہا ہے اس لئے میں نے بھی شوق و محبت میں کلام کو طویل کیا ہے ۔
حضرت سیدنا امام ابو الحسن شاذلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: میں خواب میں زیارتِ رسول ﷺ سے مشرف ہوا تو دیکھا کہ حضور رحمتِ عالم ﷺ، حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے حضرت امام غزالی علیہ الرحمہ پر فخر کرتے ہوئے فرمارہے ہیں:" کیا تمہاری امتوں میں میرے غزالی جیسا کوئی عالم ہے ۔ دونوں نے عرض کی: نہیں ۔ (النبراس، ص:247) ـ
حضرت امام غزالی ملت اسلامیہ کا فخر ہیں ۔ آپ کی تعلیمات کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں ۔ آپ کی کتب سالکین و عارفین، علماء و فاضلین کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں ۔ بعض حضرات آپ کو دنیا سے الگ تھلگ اور ایک گوشہ نشین صوفی تصور کرتے ہیں ۔بس جس کا کام صرف اللہ ہٗو کی ضربیں لگانا ہو ۔ ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہےکہ وقت کا مجدد ہو، فلسفیِ اسلام ہو، اور اپنے وقت کا عظیم امام ہو، وہ حالات سےکیسے صرفِ نظر کر سکتا ہے ۔ آپ کی حالات پرپوری نظرتھی۔شاہانِ وقت آپ کی ہیبت سے کانپتے تھے، غیر شرعی امور اور رعایا پر ظلم کے خلاف آپ کی آواز ایک اثر رکھتی تھی۔یہی وجہ ہےکہ شاہِ سلجوق جس کی سلطنت چین سے یورپ تک تھی آپ نے اس کو للکارا اور فرمایا: "افسوس!کہ مسلمانوں کی گردنیں مصیبت اور تکلیف سے ٹوٹی جاتی ہیں، اور تیرے گھوڑوں کی گردنیں سونے اور چاندی کےطوقوں سے جھکی ہوئی ہیں "۔
آئینِ جوانمرداں حق گوئی وبیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
تاریخِ وصال:
14 جمادی الثانی 505ھ / مطابق 18 دسمبر 1111ء بروز پیر کو عالمِ اسلام کا یہ سورج غروب ہو گیا ۔ آپ کا مزار شریف "طوس" ایران میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
طبقات الشافعیہ ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ مقدمہ مکاشفۃ القلوب ۔ مقدمہ احیاء لعلوم ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hujjat-ul-islam-hazrat-imam-muhammad-ghazali
scholars.pk
Hujjat-ul-Islam Hazrat Imam Muhammad Ghazali Biography
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سید حاجی علی شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/43255
حضرت حاجی علی شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ ہندوستان کی معروف روحانی شخصیت ہیں ۔
خاندانی تعلق:
آپ کا خاندانی تعلق ساداتِ بخارا سے ہے ۔ آپ بخارا سے ہجرت کرکے ہندوستان تشریف لائے ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار شریف ممبئی (انڈیا) کے ورلی سمندر کے کنارے ایک چھوٹے سے جزیرے پر واقع ہے ۔ مزار کے ساتھ ایک عالی شان مسجِد بھی ہے ۔ سیاحتی مقام پر ہونے کی وجہ سے تمام طبقات اس پر حاضری دیتے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-haji-ali-shah-bukhari-mumbai-india
https://t.me/islaamic_Knowledge/43255
حضرت حاجی علی شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ ہندوستان کی معروف روحانی شخصیت ہیں ۔
خاندانی تعلق:
آپ کا خاندانی تعلق ساداتِ بخارا سے ہے ۔ آپ بخارا سے ہجرت کرکے ہندوستان تشریف لائے ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار شریف ممبئی (انڈیا) کے ورلی سمندر کے کنارے ایک چھوٹے سے جزیرے پر واقع ہے ۔ مزار کے ساتھ ایک عالی شان مسجِد بھی ہے ۔ سیاحتی مقام پر ہونے کی وجہ سے تمام طبقات اس پر حاضری دیتے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-haji-ali-shah-bukhari-mumbai-india
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-06-1445 ᴴ | 27-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-06-1445 ᴴ | 28-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1