Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌼 *فیضان خلاصہ تراویح*🌼
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
🌐 *پانچواں پارہ،والمحصنت*
اس پارے میں بڑے اہم اور دلچسپ مضامین موجود ہیں۔
📢 ان عورتوں کا بیان جاری ہے جن سے نکاح حرام ہے، یہاں بتایا جا رہا ہے کہ وہ عورت جس کا شوہر ہو وہ دوسرے مرد پر اس وقت تک حرام ہے جب تک پہلے کے نکاح یا اس کی عدت میں ہو،
پھر اصول دے دیا گیا کہ جن عورتوں سے نکاح حرام ہے ان کے علاوہ تمام عورتوں سے نکاح حلال ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ مزید کچھ عورتیں ایسی ہیں کہ جن کا ذکر مذکورہ بالا آیات میں اگرچہ نہیں مگر ان سے نکاح حرام ہے جیسے چار عورتوں کے نکاح میں ہوتے ہوئے پانچویں سے نکاح، مُشرکہ عورت سے نکاح، تین طلاقیں دینے کے بعد حلالہ سے پہلے اسی عورت سے دوبارہ نکاح، اسی طرح پھوپھی بھتیجی، خالہ بھانجی کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا یونہی طلاق یا وفات کی عدت میں نکاح کرنا حرام ہے البتہ ان سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام نہیں ، نکاح میں جو رکاوٹ ہے وہ ختم ہونے کے بعد ان سے نکاح ہو سکتا ہے۔
عورت سے نکاح مہر کے بدلے کیا جائے اور اس نکاح سے مقصود محض لذت نفس اور شہوت پورا کرنا نہ ہو بلکہ اولاد کا حصول، نسل کی بقا اور اپنے نفس کو حرام سے بچانا مقصود ہو۔ یہاں زانی کو تنبیہ کی جا رہی ہے کیونکہ اس کے پیشِ نظر یہ باتیں نہیں ہوتیں بلکہ اس کا مقصود صرف نفسانی خواہش کی تکمیل ہوتا ہے
🌧️ آیت نمبر 26 سے اللہ تعالی کی رحمت کے دو مظاہر کو بیان کیا گیا ہے
⭐ اس نے ایسی شریعت عطا فرمائی جس پر عمل سے معاشرے کے ہر فرد کے مال جان اور آبرو کو تحفظ ملتا ہے۔
🌐 اللہ تعالی نے ماضی کے واقعات کے بیان سے انسان کو درمیان کی راہ پر چلنے کی ترغیب ارشاد فرمائی ہے اور اسکے اچھے انجام سے آگاہ فرمایا ہے کہ اگر وہ درمیانی اعتدال کی راہ پر چلے گا تو اسے کیا کیا انعام دیے جائے گے۔
💰 آیت نمبر 29 میں بتایا ہے کہ "باطل طریقوں سے ایک دوسرے کا مال کھانا حرام ہےاور باہمی رضامندی سے تجارت جائز ہےاور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی جائز ہے،اسی طرح تحفہ اور وراثت کے ذریعے جو مال ملے وہ بھی جائز ہے مگر جوا، غصب، چوری، ڈاکہ، خیانت، رشوت، جھوٹی قسم کھا کر اور جھوٹی گواہی کے ذریعے دوسروں کا مال حاصل کرنا حرام ہے، اور جو شخص ظلماً دوسروں کا مال کھائے گا وہ جہنم کا ایندھن بنے گا۔
📿 آیت نمبر 31 میں بتایا گیا کہ "انسان اگر بڑے بڑے گناہوں سے بچے گا تو اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے گناہ خود ہی معاف فرما دے گا اور بڑے عزت والے مقام میں داخل فرمائے گا۔
💥 اگلی آیت میں حسد کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ "اللہ تعالی نے اپنی حکمت سے کسی کو مال عزت یا مرتبے میں فضیلت دے رکھی ہے تو اسکے زائل ہونے کی تمنا نہ کرو کہ یہ حسد ہے اور حسد حرام ہے، کسی کے ساتھ حسد کرنے سے بہتر ہے کہ اللہ سے اس کا فضل مانگا جائے اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے وہ عطا فرمانے والا ہے۔
🖼️ آگے مردوں کو عورتوں پر فضیلت دینے کا بیان ہے، ارشاد فرمایا:
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ
مرد عورتوں پرنگہبان ہیں اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس وجہ سے کہ مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔
نیک بیویاں اپنے شوہروں کی تابعدار ہوتی ہیں اور اللہ کی حفاظت کے سہارے شوہر کے مال، اولاد، بستر، راز، عزت و آبرو کی حفاظت کرتی ہیں۔
اگلی آیات میں گھریلو نظام کو چلانے کے بہترین اصول بیان کئے گئے اور نافرمان عورت کی اصلاح کا بیان کیا ہے،
🌹 اسے پیار محبت سے سمجھایا جائے
🛏️ نہ سمجھے تو عارضی طور پر بستر کو علیحدہ کردیا جائے۔
🏸 پھر ادب سکھانے کے لیے ہلکی پھلکی اسکو مار ماری جائے، اور یہاں مار سے مراد ہاتھ یا مسواک جیسی چیز سے چہرے اور نازک اعضاء کے علاوہ دیگر بدن پر ایک دو ضربیں لگا دے۔ وہ مار مراد نہیں جو ہمارے ہاں جاہلوں میں رائج ہے کہ چہرے اور سارے بدن پر مارتے ہیں ، مُکّوں ، گھونسوں اور لاتوں سے پیٹتے ہیں ، ڈنڈا یا جو کچھ ہاتھ میں آئے اس سے مارتے اور لہو لہان کردیتے ہیں یہ سب حرام و ناجائز ، گناہ کبیرہ اور پرلے درجے کی جہالت ہے۔
📈 اگر ان مرحلوں سے ان کے معاملات بہتر ہوجاتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے اور اگر نہیں ہوتے تو پھر زوجین کے درمیان جو تنازعہ ہے اسکو دور کرنے کے لیے قرآن کریم نے ایک باہمی صلح کا جو طریقہ بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ شوہر اور بیوی، دونوں کے خاندانوں سے ایک ایک حَکَم جس کو مُنصِف کہتے ہیں یہ مل بیٹھیں اور اگر وہ اصلاح پسند ہونگے تو اللہ تعالی زوجین کے درمیان اتفاق پیدا فرما دے گا،
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے ازدواجی زندگی کو خوشگوار رکھنے اور اچھا رکھنے کو بڑی اہمیت دی ہے۔
❌ آیت نمبر 44 سے شراب کی حرمت کے حوالے سے ذہن سازی کرتے ہوئے فرمایا کہ نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جانا
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
🌐 *پانچواں پارہ،والمحصنت*
اس پارے میں بڑے اہم اور دلچسپ مضامین موجود ہیں۔
📢 ان عورتوں کا بیان جاری ہے جن سے نکاح حرام ہے، یہاں بتایا جا رہا ہے کہ وہ عورت جس کا شوہر ہو وہ دوسرے مرد پر اس وقت تک حرام ہے جب تک پہلے کے نکاح یا اس کی عدت میں ہو،
پھر اصول دے دیا گیا کہ جن عورتوں سے نکاح حرام ہے ان کے علاوہ تمام عورتوں سے نکاح حلال ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ مزید کچھ عورتیں ایسی ہیں کہ جن کا ذکر مذکورہ بالا آیات میں اگرچہ نہیں مگر ان سے نکاح حرام ہے جیسے چار عورتوں کے نکاح میں ہوتے ہوئے پانچویں سے نکاح، مُشرکہ عورت سے نکاح، تین طلاقیں دینے کے بعد حلالہ سے پہلے اسی عورت سے دوبارہ نکاح، اسی طرح پھوپھی بھتیجی، خالہ بھانجی کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا یونہی طلاق یا وفات کی عدت میں نکاح کرنا حرام ہے البتہ ان سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام نہیں ، نکاح میں جو رکاوٹ ہے وہ ختم ہونے کے بعد ان سے نکاح ہو سکتا ہے۔
عورت سے نکاح مہر کے بدلے کیا جائے اور اس نکاح سے مقصود محض لذت نفس اور شہوت پورا کرنا نہ ہو بلکہ اولاد کا حصول، نسل کی بقا اور اپنے نفس کو حرام سے بچانا مقصود ہو۔ یہاں زانی کو تنبیہ کی جا رہی ہے کیونکہ اس کے پیشِ نظر یہ باتیں نہیں ہوتیں بلکہ اس کا مقصود صرف نفسانی خواہش کی تکمیل ہوتا ہے
🌧️ آیت نمبر 26 سے اللہ تعالی کی رحمت کے دو مظاہر کو بیان کیا گیا ہے
⭐ اس نے ایسی شریعت عطا فرمائی جس پر عمل سے معاشرے کے ہر فرد کے مال جان اور آبرو کو تحفظ ملتا ہے۔
🌐 اللہ تعالی نے ماضی کے واقعات کے بیان سے انسان کو درمیان کی راہ پر چلنے کی ترغیب ارشاد فرمائی ہے اور اسکے اچھے انجام سے آگاہ فرمایا ہے کہ اگر وہ درمیانی اعتدال کی راہ پر چلے گا تو اسے کیا کیا انعام دیے جائے گے۔
💰 آیت نمبر 29 میں بتایا ہے کہ "باطل طریقوں سے ایک دوسرے کا مال کھانا حرام ہےاور باہمی رضامندی سے تجارت جائز ہےاور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی جائز ہے،اسی طرح تحفہ اور وراثت کے ذریعے جو مال ملے وہ بھی جائز ہے مگر جوا، غصب، چوری، ڈاکہ، خیانت، رشوت، جھوٹی قسم کھا کر اور جھوٹی گواہی کے ذریعے دوسروں کا مال حاصل کرنا حرام ہے، اور جو شخص ظلماً دوسروں کا مال کھائے گا وہ جہنم کا ایندھن بنے گا۔
📿 آیت نمبر 31 میں بتایا گیا کہ "انسان اگر بڑے بڑے گناہوں سے بچے گا تو اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے گناہ خود ہی معاف فرما دے گا اور بڑے عزت والے مقام میں داخل فرمائے گا۔
💥 اگلی آیت میں حسد کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ "اللہ تعالی نے اپنی حکمت سے کسی کو مال عزت یا مرتبے میں فضیلت دے رکھی ہے تو اسکے زائل ہونے کی تمنا نہ کرو کہ یہ حسد ہے اور حسد حرام ہے، کسی کے ساتھ حسد کرنے سے بہتر ہے کہ اللہ سے اس کا فضل مانگا جائے اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے وہ عطا فرمانے والا ہے۔
🖼️ آگے مردوں کو عورتوں پر فضیلت دینے کا بیان ہے، ارشاد فرمایا:
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ
مرد عورتوں پرنگہبان ہیں اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس وجہ سے کہ مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔
نیک بیویاں اپنے شوہروں کی تابعدار ہوتی ہیں اور اللہ کی حفاظت کے سہارے شوہر کے مال، اولاد، بستر، راز، عزت و آبرو کی حفاظت کرتی ہیں۔
اگلی آیات میں گھریلو نظام کو چلانے کے بہترین اصول بیان کئے گئے اور نافرمان عورت کی اصلاح کا بیان کیا ہے،
🌹 اسے پیار محبت سے سمجھایا جائے
🛏️ نہ سمجھے تو عارضی طور پر بستر کو علیحدہ کردیا جائے۔
🏸 پھر ادب سکھانے کے لیے ہلکی پھلکی اسکو مار ماری جائے، اور یہاں مار سے مراد ہاتھ یا مسواک جیسی چیز سے چہرے اور نازک اعضاء کے علاوہ دیگر بدن پر ایک دو ضربیں لگا دے۔ وہ مار مراد نہیں جو ہمارے ہاں جاہلوں میں رائج ہے کہ چہرے اور سارے بدن پر مارتے ہیں ، مُکّوں ، گھونسوں اور لاتوں سے پیٹتے ہیں ، ڈنڈا یا جو کچھ ہاتھ میں آئے اس سے مارتے اور لہو لہان کردیتے ہیں یہ سب حرام و ناجائز ، گناہ کبیرہ اور پرلے درجے کی جہالت ہے۔
📈 اگر ان مرحلوں سے ان کے معاملات بہتر ہوجاتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے اور اگر نہیں ہوتے تو پھر زوجین کے درمیان جو تنازعہ ہے اسکو دور کرنے کے لیے قرآن کریم نے ایک باہمی صلح کا جو طریقہ بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ شوہر اور بیوی، دونوں کے خاندانوں سے ایک ایک حَکَم جس کو مُنصِف کہتے ہیں یہ مل بیٹھیں اور اگر وہ اصلاح پسند ہونگے تو اللہ تعالی زوجین کے درمیان اتفاق پیدا فرما دے گا،
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے ازدواجی زندگی کو خوشگوار رکھنے اور اچھا رکھنے کو بڑی اہمیت دی ہے۔
❌ آیت نمبر 44 سے شراب کی حرمت کے حوالے سے ذہن سازی کرتے ہوئے فرمایا کہ نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جانا
، اب اس آیت کے اندر نماز سے پہلے شراب کی حرمت بیان کی گئی ہے آگے اس کو مکمل طور پر حرام کرنے کا حکم بیان کیا جائے گا، یہاں پر یہ ہے کہ نماز کے قریب ایسی حالت میں نہ جانا کہ تم مدہوشی میں ہو اور ایسا نہ ہو کہ کوئی غلط بات منہ سے نکل جائے۔
🚿 اس کے بعد ناپاکی اور تیمم کے بعض مسائل ذکر کیے گئے اور پھر یہودیوں کی جو ایک گندی ذہنیت ہے اسکا پردہ چاک کرتے ہوئے انکی بعض سازشوں اور خرابیوں کو بیان کیا گیا ہے۔
💰 امانت کو اس کے مستحقین تک پہنچانے کا حکم دیا گیا ،اللہ اور اس کے رسول اور اولی الامر کی اطاعت کی تلقین فرمائی گئی، اولی الامر میں علما، قاضی، حاکم،بادشاہ شامل ہیں۔
📃اسکے بعد ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے کہ
ایک منافق اور ایک یہودی میں اختلاف ہوا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دلائل کی روشنی میں فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا، منافق نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے انصاف مانگا انہوں نے منافق کی گردن اڑا دی کہ جو شخص رسول خدا کے فیصلے کو انصاف کے برخلاف خیال کرتا ہے تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اسے زندگی کی قید سے ہی آزاد کردیا جائے، اس پر قرآن کریم کی آیت نازل ہوئی کہ "تمھارے رب کی قسم وہ شخص ایمان سے خالی ہے جو اپنے اختلافات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کو تسلیم نہ کرے" تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک طور پر تائید فرمائی گئی کہ انہوں نے جو کیا وہ درست کیا۔
✉️اس کے بعد اہل ایمان کے لیے ایک ایمان افروز خوشخبری ہے اور یہ آیات اطاعت رسول کے موضوع پر انتہائی تاکیدی اسلوب رکھتی ہیں، اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ "ہم نے ہر رسول کو صرف اس لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن سے ان رسولوں کی اطاعت کی جائے اور جب یہ یعنی عام لوگ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تو اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کے پاس آجائیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور رسول بھی ان کے لیے دعائے مغفرت کریں تو یہ ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا بےحد رحم کرنے والا پائیں گے، یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے اللہ تبارک و تعالی سے استغفار کیا جائے تو اللہ اسے رد نہیں فرماتا۔
🎁آیت 69 سے بتایا گیا ہے کہ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرنے والے اللہ کے انعام یافتہ بندوں، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ جنت میں ہونگے، اور ایسے پاکیزہ لوگوں کا ساتھ میسر آنا ظاہر ہے اللہ تبارک و تعالی کا بڑا فضل ہے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کی فضیلت بیان کر کے ایک نیکی کا حکم دیا اور وہ غلبہ اسلام کے لیے اپنی جان اور مال لگا کر جہاد میں حصہ لینا ہے یعنی جہاد کے بارے میں بھی ترغیب ارشاد فرمائی گئی۔
🚷اگلی آیت میں بتایا گیا کہ تمھاری صفوں میں ایسے منافقین بھی موجود ہیں جو جہاد کے مخالف اور جنگ سے پیچھے رہنے والے ہیں ان بزدل لوگوں کو جب جہاد کی دعوت دی جاتی ہے تو جان جانے کے خوف سے انکے دل ڈر جاتے ہیں اور وہ زندگی کی مہلت چاہتے ہیں،
اللہ تعالی نے فرمایا "اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ دیجیے دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے اور اہل تقوی کے لیے اخرت ہی بہتر ہے۔
♻️ اس کے بعد قرآن کریم میں غور و خوض کی دعوت دیتے ہوئے اسکے حق و صداقت پر مبنی ہونے کے لیے دلیل یہ دی گئی کہ اس میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا، اور جتنا جتنا انسان کے اندر اترتا جاتا ہے اتنا ہی انسان کے باطن کو ایمان و یقین سے منور کردیتا ہے ،پھر معاشرے کا امن و سکون تباہ کردینے والی بدترین عامل یعنی افواہ جو ہم بسا اوقات پھیلادیتے ہیں اس کی مذمت کرتے ہوئے اس کے سدِ باب کا طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ
جو متعلقہ شخص ہے اس سے رابطہ کرکے تحقیق کرلی جائے تو افواہیں اپنی موت آپ مرجاتی ہیں کہ جس کا معاملہ ہے اس سے براہ راست تصدیق کروالی جائے۔
💬 آیت 86 میں معاشرتی آداب بتائے گئے جب تمھیں کسی لفظ سے کوئی سلام کرے تو اس سے بہتر الفاظ میں اسکو جواب دو یعنی
اگر السلام علیکم کوئی کہتا ہے تو وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہو
اگر السلام علیکم ورحمۃ اللہ تو وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہو
یعنی اس سے اچھا جواب دو یا پھر فرمایا گیا کہ کم از کم اتنا ہی جواب دے دو۔
⚔️پھر محاذ جنگ پہ موجود مصروف عمل مجاہد کی فضیلت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ مجاہدین اور قائدین برابر نہیں ہوسکتے، یعنی بیٹھنے والے اور جہاد کرنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔ جہاد سے پیچھے رہنے والے جہاد کرنے والوں کے برابر نہیں ہوسکتے۔ ہر مسلمان سے اللہ نے اجر و ثواب کا وعدہ کر رکھا ہے مگر مجاہدین کا مرتبہ اور مقام بہت بڑا ہے۔
🚍 یہ بشارت دی گئی ہے کہ اللہ کے نام پر ہجرت کرنے والوں کو اللہ تعالی بڑی وسعت عطا فرماتا ہے، ہجرت کے لیے گھر سے نکلنے کے ساتھ ہی انسان اللہ کی طرف سے اجر عظیم کا حقدار ہوجاتا ہے خواہ اسے راستے ہی میں موت کا سامنا کرنا پڑجائے۔
🕌مسلمان غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر جب ظہر کی نماز پڑھنے لگے تو کافروں نے کہا کہ اگر ہمیں
🚿 اس کے بعد ناپاکی اور تیمم کے بعض مسائل ذکر کیے گئے اور پھر یہودیوں کی جو ایک گندی ذہنیت ہے اسکا پردہ چاک کرتے ہوئے انکی بعض سازشوں اور خرابیوں کو بیان کیا گیا ہے۔
💰 امانت کو اس کے مستحقین تک پہنچانے کا حکم دیا گیا ،اللہ اور اس کے رسول اور اولی الامر کی اطاعت کی تلقین فرمائی گئی، اولی الامر میں علما، قاضی، حاکم،بادشاہ شامل ہیں۔
📃اسکے بعد ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے کہ
ایک منافق اور ایک یہودی میں اختلاف ہوا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دلائل کی روشنی میں فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا، منافق نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے انصاف مانگا انہوں نے منافق کی گردن اڑا دی کہ جو شخص رسول خدا کے فیصلے کو انصاف کے برخلاف خیال کرتا ہے تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اسے زندگی کی قید سے ہی آزاد کردیا جائے، اس پر قرآن کریم کی آیت نازل ہوئی کہ "تمھارے رب کی قسم وہ شخص ایمان سے خالی ہے جو اپنے اختلافات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کو تسلیم نہ کرے" تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک طور پر تائید فرمائی گئی کہ انہوں نے جو کیا وہ درست کیا۔
✉️اس کے بعد اہل ایمان کے لیے ایک ایمان افروز خوشخبری ہے اور یہ آیات اطاعت رسول کے موضوع پر انتہائی تاکیدی اسلوب رکھتی ہیں، اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ "ہم نے ہر رسول کو صرف اس لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن سے ان رسولوں کی اطاعت کی جائے اور جب یہ یعنی عام لوگ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تو اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کے پاس آجائیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور رسول بھی ان کے لیے دعائے مغفرت کریں تو یہ ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا بےحد رحم کرنے والا پائیں گے، یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے اللہ تبارک و تعالی سے استغفار کیا جائے تو اللہ اسے رد نہیں فرماتا۔
🎁آیت 69 سے بتایا گیا ہے کہ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرنے والے اللہ کے انعام یافتہ بندوں، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ جنت میں ہونگے، اور ایسے پاکیزہ لوگوں کا ساتھ میسر آنا ظاہر ہے اللہ تبارک و تعالی کا بڑا فضل ہے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کی فضیلت بیان کر کے ایک نیکی کا حکم دیا اور وہ غلبہ اسلام کے لیے اپنی جان اور مال لگا کر جہاد میں حصہ لینا ہے یعنی جہاد کے بارے میں بھی ترغیب ارشاد فرمائی گئی۔
🚷اگلی آیت میں بتایا گیا کہ تمھاری صفوں میں ایسے منافقین بھی موجود ہیں جو جہاد کے مخالف اور جنگ سے پیچھے رہنے والے ہیں ان بزدل لوگوں کو جب جہاد کی دعوت دی جاتی ہے تو جان جانے کے خوف سے انکے دل ڈر جاتے ہیں اور وہ زندگی کی مہلت چاہتے ہیں،
اللہ تعالی نے فرمایا "اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ دیجیے دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے اور اہل تقوی کے لیے اخرت ہی بہتر ہے۔
♻️ اس کے بعد قرآن کریم میں غور و خوض کی دعوت دیتے ہوئے اسکے حق و صداقت پر مبنی ہونے کے لیے دلیل یہ دی گئی کہ اس میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا، اور جتنا جتنا انسان کے اندر اترتا جاتا ہے اتنا ہی انسان کے باطن کو ایمان و یقین سے منور کردیتا ہے ،پھر معاشرے کا امن و سکون تباہ کردینے والی بدترین عامل یعنی افواہ جو ہم بسا اوقات پھیلادیتے ہیں اس کی مذمت کرتے ہوئے اس کے سدِ باب کا طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ
جو متعلقہ شخص ہے اس سے رابطہ کرکے تحقیق کرلی جائے تو افواہیں اپنی موت آپ مرجاتی ہیں کہ جس کا معاملہ ہے اس سے براہ راست تصدیق کروالی جائے۔
💬 آیت 86 میں معاشرتی آداب بتائے گئے جب تمھیں کسی لفظ سے کوئی سلام کرے تو اس سے بہتر الفاظ میں اسکو جواب دو یعنی
اگر السلام علیکم کوئی کہتا ہے تو وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہو
اگر السلام علیکم ورحمۃ اللہ تو وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہو
یعنی اس سے اچھا جواب دو یا پھر فرمایا گیا کہ کم از کم اتنا ہی جواب دے دو۔
⚔️پھر محاذ جنگ پہ موجود مصروف عمل مجاہد کی فضیلت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ مجاہدین اور قائدین برابر نہیں ہوسکتے، یعنی بیٹھنے والے اور جہاد کرنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔ جہاد سے پیچھے رہنے والے جہاد کرنے والوں کے برابر نہیں ہوسکتے۔ ہر مسلمان سے اللہ نے اجر و ثواب کا وعدہ کر رکھا ہے مگر مجاہدین کا مرتبہ اور مقام بہت بڑا ہے۔
🚍 یہ بشارت دی گئی ہے کہ اللہ کے نام پر ہجرت کرنے والوں کو اللہ تعالی بڑی وسعت عطا فرماتا ہے، ہجرت کے لیے گھر سے نکلنے کے ساتھ ہی انسان اللہ کی طرف سے اجر عظیم کا حقدار ہوجاتا ہے خواہ اسے راستے ہی میں موت کا سامنا کرنا پڑجائے۔
🕌مسلمان غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر جب ظہر کی نماز پڑھنے لگے تو کافروں نے کہا کہ اگر ہمیں
پہلے سے معلوم ہوتا تو اس حالت میں ایک دم حملہ آور ہوجاتے اور مسلمانوں کو نیست و نابود کردیتے، یہ بڑا آسان ہوجاتا ہمارے لیے، انہوں نے عصر کی نماز میں حملہ کرنے کی تدبیر کی، جس پر اللہ تبارک و تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کافروں کے اس منصوبے کی خبر دے دی اور اس کے سدباب کے لیے اللہ تبارک و تعالی نے صلوةالخوف کا طریقہ بیان فرمایا کہ اگر دشمن سے جان میں خطرہ ہو تو نماز کے لیے کس طرح صف بندی کی جائے اور نماز پڑھنے کا کیا طریقہ کار ہوگا، چنانچہ دشمنوں کی تدبیر دھری کی دھری رہ گئی اور نماز اور جہاد کی مشترکہ اہمیت بھی واضح ہوگئی کہ نماز جیسے عظیم الشان عمل کی وجہ سے جہاد کو مؤخر کرنے کی اجازت نہیں دی گئ اور جہاد جیسے اہم عمل کی بنا پر نماز میں غفلت اور کوتاہی کی اجازت بھی نہیں دی گئی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد دوران جہاد ذکر میں مشغولیت رہے، نماز کو وقت مقررہ پر ادا کرنا فرض ہے، ساری باتیں جو یہاں بیان کی گئی ہیں اس سے نماز کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ دشمن سامنے ہے لیکن اللہ تبارک و تعالی نے نماز کو معاف نہیں فرمایا بلکہ اس حالت نماز پڑھنے کا طریقہ ارشاد فرمایا۔
⚖️ اس کے بعد ہر حال میں عدل وانصاف کا مظاہرہ کرنے کی تلقین ہے یہ دراصل ایک مشہور واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ کسی گھر میں چوری ہوگئ تھی چور بڑا چالاک تھا اس نے کسی یہودی کو پھنسا کر اپنا دامن بچانے کی کوشش کی اور بعض لوگ اس چور سے متأثر تھے کیونکہ وہ چالاک تھا چرب لسان تھا تو اس لیے اس سے متاثر تھے اور اس کو بَری کروانا چاہتے تھے
قرآن کریم نے اس کے جرم کو بلکل واضح کرتے ہوئے یہ تاکید فرمائی کہ بلا تحقیق کسی خائن مجرم کی حمایت کرنے کی بجائے عدل و انصاف کے قانون کے مطابق فیصلہ کر کے مجرمین کو سزا دینی چاہیے۔
💫آیت نمبر 115 اجماعِ امت کے لیے دلیل قرآنی فراہم کر رہی ہے کہ شریعت کے ماخذ چار ہیں یعنی چار طرح سے شریعت کا حکم ثابت ہوتا ہے،
قرآن پاک، سنت رسول، اجماع امت اور قیاس تو اجماع امت ،تو اجماعِ امت کو اس آیت میں "سبیل المؤمنین" یعنی مومنوں کا راستہ کہا گیا ہے، فرمایا کہ جو کوئی مومنوں کے راستے کو چھوڑ کر یعنی مومنون کے متفقہ فیصلوں کو رد کر کے الگ روش اختیار کرے تو وہ دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں انتشار پیدا کرنے کا مجرم قرار دیا جائے گا۔
🚻آیت نمبر 127 سے ایک بار پھر خواتین کے مسائل اور حقوق بیان کیے جارہے ہیں کہ انکے ضعف اور کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انکے ساتھ ظلم اور ناانصافی کا معاملہ نہ کیا جائے ،میاں بیوی کے اختلافات کی صورت میں خلع کا ضابطہ بیان کیا گیا انکے لیے علحیدگی بہتر ہے اور اللہ ان میں ہر ایک کو اپنے فضل سے غنی کردے گا اسکا بیان کیا گیا ہے۔
⚖️اگلی آیت میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا کہ عدل کے قائم کرنے والے بن کر کھڑے ہوجاؤ، یہی اللہ کے شان عدل کی گواہی ہے عدل کرتے وقت یہ نہ دیکھو کہ اسکا نقصان کس کو پہنچ رہا ہے، کوئی قرابت دار ہو یا غیر پھر وہ غنی ہو یا فقیر، اللہ اس پر زیادہ رحم فرمانے والا ہے تو اسے فائدہ پہنچانے کے لیے عدل کے خلاف کوئی کام نہ کرو، اگر تم نے یہ حرکت کی تو پھر جان لو اللہ تمھارے ہر عمل سے باخبر ہے اس آیت کی رو سے معاشرے سے ظلم و زیادتی کو ختم کرنا اور ایک عادلانہ نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کرنا مسلمان پر لازم ہے۔
❌ آیت 140 میں اہل ایمان کو یہ ہدایت دی گئی کہ اگر کسی محفل میں اللہ کی آیات کا انکار کیا جارہا ہو یا معاذاللہ انکا مذاق اڑایا جارہا ہو تو غیرت ایمانی کا تقاضہ یہ ہے کہ اس محفل کا احتجاجاً بائیکاٹ کردیا جائے، نیز جس مجلس میں کوئی گناہ ہورہا ہو اسے روکنے کی کوشش کی جائے اگر روکنا ممکن نہ ہو تو پھر اظہار ناراضی کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ جانا چاہیے، جو ایسی مجلس میں بیٹھا رہے گا وہ بھی دراصل ان مجلس والوں کی طرح ہی شمار کیا جائے گا، پھر بتایا گیا کہ منافقین نماز میں سستی کرتے ہیں ، اللہ کے ذکر سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں، تذبذب کا شکار رہتے ہیں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ایسے گمراہوں کو ہدایت بھی نہیں ملا کرتی یہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ڈالے جائیں گے، مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں سے دوستی کی بلکل بھی اجازت نہیں ہے کافروں کو مسلمانوں پر کسی طرح بھی فوقیت نہیں دی جاسکتی یہ لوگ اگر تائب ہوکر اپنا طرز عمل درست کرلیں تو انکا شمار بھی مومنین کے ساتھ ہوسکتا ہے
اگر تم ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہو اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہو تو اللہ تمھیں عذاب دے کر کیا کرے گا یعنی یوں اسلوب اختیار کیا گیا آیت کریمہ کا اور اللہ تبارک و تعالی دلوں کے رازوں کا جاننے والا اور ایسے افراد کہ جو اچھا عمل کرنے والے ہیں انکے عمل کی قدر فرمانے والا ہے یہاں پر پارے کا اختتام ہوتا ہے۔
📲 *+92-321-2094919*
⚖️ اس کے بعد ہر حال میں عدل وانصاف کا مظاہرہ کرنے کی تلقین ہے یہ دراصل ایک مشہور واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ کسی گھر میں چوری ہوگئ تھی چور بڑا چالاک تھا اس نے کسی یہودی کو پھنسا کر اپنا دامن بچانے کی کوشش کی اور بعض لوگ اس چور سے متأثر تھے کیونکہ وہ چالاک تھا چرب لسان تھا تو اس لیے اس سے متاثر تھے اور اس کو بَری کروانا چاہتے تھے
قرآن کریم نے اس کے جرم کو بلکل واضح کرتے ہوئے یہ تاکید فرمائی کہ بلا تحقیق کسی خائن مجرم کی حمایت کرنے کی بجائے عدل و انصاف کے قانون کے مطابق فیصلہ کر کے مجرمین کو سزا دینی چاہیے۔
💫آیت نمبر 115 اجماعِ امت کے لیے دلیل قرآنی فراہم کر رہی ہے کہ شریعت کے ماخذ چار ہیں یعنی چار طرح سے شریعت کا حکم ثابت ہوتا ہے،
قرآن پاک، سنت رسول، اجماع امت اور قیاس تو اجماع امت ،تو اجماعِ امت کو اس آیت میں "سبیل المؤمنین" یعنی مومنوں کا راستہ کہا گیا ہے، فرمایا کہ جو کوئی مومنوں کے راستے کو چھوڑ کر یعنی مومنون کے متفقہ فیصلوں کو رد کر کے الگ روش اختیار کرے تو وہ دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں انتشار پیدا کرنے کا مجرم قرار دیا جائے گا۔
🚻آیت نمبر 127 سے ایک بار پھر خواتین کے مسائل اور حقوق بیان کیے جارہے ہیں کہ انکے ضعف اور کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انکے ساتھ ظلم اور ناانصافی کا معاملہ نہ کیا جائے ،میاں بیوی کے اختلافات کی صورت میں خلع کا ضابطہ بیان کیا گیا انکے لیے علحیدگی بہتر ہے اور اللہ ان میں ہر ایک کو اپنے فضل سے غنی کردے گا اسکا بیان کیا گیا ہے۔
⚖️اگلی آیت میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا کہ عدل کے قائم کرنے والے بن کر کھڑے ہوجاؤ، یہی اللہ کے شان عدل کی گواہی ہے عدل کرتے وقت یہ نہ دیکھو کہ اسکا نقصان کس کو پہنچ رہا ہے، کوئی قرابت دار ہو یا غیر پھر وہ غنی ہو یا فقیر، اللہ اس پر زیادہ رحم فرمانے والا ہے تو اسے فائدہ پہنچانے کے لیے عدل کے خلاف کوئی کام نہ کرو، اگر تم نے یہ حرکت کی تو پھر جان لو اللہ تمھارے ہر عمل سے باخبر ہے اس آیت کی رو سے معاشرے سے ظلم و زیادتی کو ختم کرنا اور ایک عادلانہ نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کرنا مسلمان پر لازم ہے۔
❌ آیت 140 میں اہل ایمان کو یہ ہدایت دی گئی کہ اگر کسی محفل میں اللہ کی آیات کا انکار کیا جارہا ہو یا معاذاللہ انکا مذاق اڑایا جارہا ہو تو غیرت ایمانی کا تقاضہ یہ ہے کہ اس محفل کا احتجاجاً بائیکاٹ کردیا جائے، نیز جس مجلس میں کوئی گناہ ہورہا ہو اسے روکنے کی کوشش کی جائے اگر روکنا ممکن نہ ہو تو پھر اظہار ناراضی کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ جانا چاہیے، جو ایسی مجلس میں بیٹھا رہے گا وہ بھی دراصل ان مجلس والوں کی طرح ہی شمار کیا جائے گا، پھر بتایا گیا کہ منافقین نماز میں سستی کرتے ہیں ، اللہ کے ذکر سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں، تذبذب کا شکار رہتے ہیں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ایسے گمراہوں کو ہدایت بھی نہیں ملا کرتی یہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ڈالے جائیں گے، مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں سے دوستی کی بلکل بھی اجازت نہیں ہے کافروں کو مسلمانوں پر کسی طرح بھی فوقیت نہیں دی جاسکتی یہ لوگ اگر تائب ہوکر اپنا طرز عمل درست کرلیں تو انکا شمار بھی مومنین کے ساتھ ہوسکتا ہے
اگر تم ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہو اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہو تو اللہ تمھیں عذاب دے کر کیا کرے گا یعنی یوں اسلوب اختیار کیا گیا آیت کریمہ کا اور اللہ تبارک و تعالی دلوں کے رازوں کا جاننے والا اور ایسے افراد کہ جو اچھا عمل کرنے والے ہیں انکے عمل کی قدر فرمانے والا ہے یہاں پر پارے کا اختتام ہوتا ہے۔
📲 *+92-321-2094919*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🗒️ *فیضان خلاصہ تراویح*🗒️
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
🔇 *چھٹا پارہ، لا یحب اللہ*
⭕ پانچویں پارے کے آخر میں منافقوں کی مذمت تھی اور سخت ترین عذاب کی وعید سنائی گئ تھی، اس لئے چھٹے پارے کے شروع میں یہ اہم اصول بتایا گیا کہ اسلام دوسروں کے عیوب کی پردہ پوشی کا حکم دیتا ہے اور کسی کے اندر کوئی بری بات پائی جاتی ہے تو لوگوں کےسامنےظاہر کردینے کو پسند نہیں فرماتا، مگر اسکے باوجود مظلوم کو انصاف کے حصول کے لیے ظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کی اجازت دی گئی، عنقریب مظلوم کی فریاد رسی ہوگی اور ظالم کو اپنے ظلم کی سزا مل کر رہے گی، البتہ اگر کوئی درگزر کر کے نیکی کرے پھر اس پر ثواب کی امید رکھے تو اللہ پاک اس کو اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔
📖 آیت 149 سے رسولوں پر ایمان لانے کے حوالے سے ایک بڑی زبردست گفتگو کی گئی ہے کہ جو لوگ اللہ کو مانیں اور رسولوں کا انکار کریں یا کچھ رسولوں کو مانیں اور کچھ کا انکار کریں وہ پکے کافر ہیں اور ان کو ہمیشہ کے عذاب میں رہنا پڑے گا اور جو لوگ اللہ اور اسکے تمام رسولوں کو تسلیم کریں، ان پر ایمان لائیں اور قیامت کے دن پر ایمان رکھیں تو انکو بہترین اجر و ثواب دیا جائے گا۔
❌ اگلی آیت میں یہودیوں کے سنگین جرم کا بیان ہے کہ یہودیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کردیا ہے اور عیسائیوں نے اس کی تصدیق کی تھی، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی تکذیب فرما دی۔ کیونکہ واقعہ یوں ہوا کہ جو منافق شخص یہودیوں کو حضرت عیسی علیہ السلام کا پتہ دینے کے لئے آپ علیہ السلام کے گھر میں داخل ہوا تھا وہ حضرت عیسی علیہ السلام کا ہم شکل ہوگیا اور آپ علیہ السلام آسمان پر تشریف لے گئے، یہودیوں نے اسی منافق کو عیسی علیہ السلام سمجھ کر سولی دی
اللہ پاک نے فرمایا:
وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْؕ-
انہوں نے نہ تو اسے قتل کیا اور نہ اسے سولی دی بلکہ یہودیوں کے لئے (عیسیٰ سے ) ملتا جلتا (ایک آدمی)بنادیا گیا۔
اور کچھ آگے چل کر بیان فرما دیا کہ کوئی کتابی ایسا نہیں جو عیسی علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے، لہذا پتا چلا کہ عیسی علیہ السلام کی وفات نہیں ہوئی، ابھی آپ زندہ ہیں، قیامت کے قریب تشریف لائیں گے اور یہود و نصاری آپ کے ہاتھ پر اسلام لے آئیں گے۔
🥥🍉 آیت 160 سے بتایا گیا کے یہودیوں کی ظالمانہ حرکتوں کی وجہ سے بعض چیزیں ان پر حرام کر دی گئیں۔منع کرنے کے باوجود سود کھانے ،لوگوں کا مال ناجائز طریقے پر ہڑپ کر جانے کی وجہ سے انکے لیے دردناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔لیکن ان میں ایسےاعتدال پسند، علم اور فضل والے بھی ہیں جو علم کی گہرائیوں تک رسائی رکھتے ہیں، یہ اس علم کی صداقت کا فیض ہے کہ وہ اللہ پر، اسکے نازل کردہ کلام پر اور آخرت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز اور زکوة کی پابندی کرتے ہیں، انکے لیے خوشخبری سنائی گئی کہ عنقریب اللہ پاک انہیں بے حساب انعامات سے نوازے گا۔
📜 پھر مختصرا انبیا کرام علیہم السلام کا تذکرہ فرمایا گیا کے ہم نے نوح ،ابراہیم،اسمعیل ،اسحاق ،یعقوب ،عیسی ،یونس، ہارون،سلیمان علیہم الصلوة و السلام کو نبی بنایا۔اور یونہی پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بیان کیا گیا کے اے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم انہی انبیاءکرام کی طرح آپکو بھی نبی بر حق بنایا گیا ہے۔یعنی حضور علیہ الصلوةوالسلام تو پہلے سے ہی نبی ہیں ۔بیان کرنے کا مقصد لوگوں پر ظاہر کرنا اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و عظمت کو بیان کرنا ہے۔اور یہ آپ صلی اللہ علیہ کی تسکین خاطر کے لئے کہ اگر آپ کی نبوت کی گواہی یہودی دینے کے لئے تیار نہیں ہیں تواس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،اللہ پاک اور فرشتوں کی گواہی کافی ہے۔
📢 اس کے بعد عیسائیوں سے خطاب ہوتا ہے، فرمایا گیا کے دین میں مبالغہ آمیزی نہ کیا کرو،حد سے نہ بڑھا کرو، ادب اور احترام کے جذبات کو اپنی حدود میں رکھنا چاہیے، عیسی علیہ الصلوة و السلام کو معاذاللہ، اللہ کہنا یا اللہ کا بیٹا کہنا ، یہ کوئی دین داری نہیں ہے، عیسی علیہ السلام یا اللہ کے مقرر فرشتوں نے اللہ کا بندہ کہلانے میں کبھی کسی قسم کی عار محسوس ہی نہیں کی، تو یہ عیسائی کیوں پھر عیسی علیہ الصلوة و السلام کو اللہ کا بندہ کہنے میں عار محسوس کرتے ہیں،معبود تو اللہ تبارک وتعالی ہی ہے، وہ اولاد سے پاک ہے اور اسکے ہاں قرب حاصل کرنے کا جو معیار نیک اعمال ہیں،جو ایمان اور اعمال صالحہ کرے گا اسے پورا پورا اجرو ثواب دیا جائے گا۔
📗 اسکے بعد آیت نمبر 174 سے ایک بار پھر انسانوں کو دعوت دی گئی کہ تمہارے پاس قرآن حکیم کی صورت میں حق کی دلیل اور ہدایت کی واضح روشنی آ چکی ہے،اب جو لوگ اللہ پر ایمان لائیں اور قرآن حکیم سے ایک لو لگا لیں تو اللہ انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا اور اپنے فضل سے مالا مال کر دے گا اور اپنی طرف سیدھے راہ کی ہدایت دے گا اور قرآن سے لو لگانے سے مراد صرف زب
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
🔇 *چھٹا پارہ، لا یحب اللہ*
⭕ پانچویں پارے کے آخر میں منافقوں کی مذمت تھی اور سخت ترین عذاب کی وعید سنائی گئ تھی، اس لئے چھٹے پارے کے شروع میں یہ اہم اصول بتایا گیا کہ اسلام دوسروں کے عیوب کی پردہ پوشی کا حکم دیتا ہے اور کسی کے اندر کوئی بری بات پائی جاتی ہے تو لوگوں کےسامنےظاہر کردینے کو پسند نہیں فرماتا، مگر اسکے باوجود مظلوم کو انصاف کے حصول کے لیے ظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کی اجازت دی گئی، عنقریب مظلوم کی فریاد رسی ہوگی اور ظالم کو اپنے ظلم کی سزا مل کر رہے گی، البتہ اگر کوئی درگزر کر کے نیکی کرے پھر اس پر ثواب کی امید رکھے تو اللہ پاک اس کو اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔
📖 آیت 149 سے رسولوں پر ایمان لانے کے حوالے سے ایک بڑی زبردست گفتگو کی گئی ہے کہ جو لوگ اللہ کو مانیں اور رسولوں کا انکار کریں یا کچھ رسولوں کو مانیں اور کچھ کا انکار کریں وہ پکے کافر ہیں اور ان کو ہمیشہ کے عذاب میں رہنا پڑے گا اور جو لوگ اللہ اور اسکے تمام رسولوں کو تسلیم کریں، ان پر ایمان لائیں اور قیامت کے دن پر ایمان رکھیں تو انکو بہترین اجر و ثواب دیا جائے گا۔
❌ اگلی آیت میں یہودیوں کے سنگین جرم کا بیان ہے کہ یہودیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کردیا ہے اور عیسائیوں نے اس کی تصدیق کی تھی، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی تکذیب فرما دی۔ کیونکہ واقعہ یوں ہوا کہ جو منافق شخص یہودیوں کو حضرت عیسی علیہ السلام کا پتہ دینے کے لئے آپ علیہ السلام کے گھر میں داخل ہوا تھا وہ حضرت عیسی علیہ السلام کا ہم شکل ہوگیا اور آپ علیہ السلام آسمان پر تشریف لے گئے، یہودیوں نے اسی منافق کو عیسی علیہ السلام سمجھ کر سولی دی
اللہ پاک نے فرمایا:
وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْؕ-
انہوں نے نہ تو اسے قتل کیا اور نہ اسے سولی دی بلکہ یہودیوں کے لئے (عیسیٰ سے ) ملتا جلتا (ایک آدمی)بنادیا گیا۔
اور کچھ آگے چل کر بیان فرما دیا کہ کوئی کتابی ایسا نہیں جو عیسی علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے، لہذا پتا چلا کہ عیسی علیہ السلام کی وفات نہیں ہوئی، ابھی آپ زندہ ہیں، قیامت کے قریب تشریف لائیں گے اور یہود و نصاری آپ کے ہاتھ پر اسلام لے آئیں گے۔
🥥🍉 آیت 160 سے بتایا گیا کے یہودیوں کی ظالمانہ حرکتوں کی وجہ سے بعض چیزیں ان پر حرام کر دی گئیں۔منع کرنے کے باوجود سود کھانے ،لوگوں کا مال ناجائز طریقے پر ہڑپ کر جانے کی وجہ سے انکے لیے دردناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔لیکن ان میں ایسےاعتدال پسند، علم اور فضل والے بھی ہیں جو علم کی گہرائیوں تک رسائی رکھتے ہیں، یہ اس علم کی صداقت کا فیض ہے کہ وہ اللہ پر، اسکے نازل کردہ کلام پر اور آخرت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز اور زکوة کی پابندی کرتے ہیں، انکے لیے خوشخبری سنائی گئی کہ عنقریب اللہ پاک انہیں بے حساب انعامات سے نوازے گا۔
📜 پھر مختصرا انبیا کرام علیہم السلام کا تذکرہ فرمایا گیا کے ہم نے نوح ،ابراہیم،اسمعیل ،اسحاق ،یعقوب ،عیسی ،یونس، ہارون،سلیمان علیہم الصلوة و السلام کو نبی بنایا۔اور یونہی پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بیان کیا گیا کے اے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم انہی انبیاءکرام کی طرح آپکو بھی نبی بر حق بنایا گیا ہے۔یعنی حضور علیہ الصلوةوالسلام تو پہلے سے ہی نبی ہیں ۔بیان کرنے کا مقصد لوگوں پر ظاہر کرنا اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و عظمت کو بیان کرنا ہے۔اور یہ آپ صلی اللہ علیہ کی تسکین خاطر کے لئے کہ اگر آپ کی نبوت کی گواہی یہودی دینے کے لئے تیار نہیں ہیں تواس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،اللہ پاک اور فرشتوں کی گواہی کافی ہے۔
📢 اس کے بعد عیسائیوں سے خطاب ہوتا ہے، فرمایا گیا کے دین میں مبالغہ آمیزی نہ کیا کرو،حد سے نہ بڑھا کرو، ادب اور احترام کے جذبات کو اپنی حدود میں رکھنا چاہیے، عیسی علیہ الصلوة و السلام کو معاذاللہ، اللہ کہنا یا اللہ کا بیٹا کہنا ، یہ کوئی دین داری نہیں ہے، عیسی علیہ السلام یا اللہ کے مقرر فرشتوں نے اللہ کا بندہ کہلانے میں کبھی کسی قسم کی عار محسوس ہی نہیں کی، تو یہ عیسائی کیوں پھر عیسی علیہ الصلوة و السلام کو اللہ کا بندہ کہنے میں عار محسوس کرتے ہیں،معبود تو اللہ تبارک وتعالی ہی ہے، وہ اولاد سے پاک ہے اور اسکے ہاں قرب حاصل کرنے کا جو معیار نیک اعمال ہیں،جو ایمان اور اعمال صالحہ کرے گا اسے پورا پورا اجرو ثواب دیا جائے گا۔
📗 اسکے بعد آیت نمبر 174 سے ایک بار پھر انسانوں کو دعوت دی گئی کہ تمہارے پاس قرآن حکیم کی صورت میں حق کی دلیل اور ہدایت کی واضح روشنی آ چکی ہے،اب جو لوگ اللہ پر ایمان لائیں اور قرآن حکیم سے ایک لو لگا لیں تو اللہ انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا اور اپنے فضل سے مالا مال کر دے گا اور اپنی طرف سیدھے راہ کی ہدایت دے گا اور قرآن سے لو لگانے سے مراد صرف زب
انی اقرار نہیں بلکہ دل سے یقین رکھنا کہ یہ اللہ کا کلام ہے اسکی باقاعدہ تلاوت کرنا اسے سمجھنا اسکے احکامات پر عمل کرنا اور جو اجتماعی احکامات ہیں انکے نفاذ کی کوشش کرنا۔
💰 سورہ نساء کی آخری آیت میں وراثت کا ایک مسئلہ بیان ہوا ہے، کہ اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اسکا باپ بھی نہ ہو اور کوئی اولاد بھی نہ ہو تو اسے شریعت کی اصطلاح میں کلالہ کہتے ہیں۔
👇🏻آیت میں جو مسائل بیان ہوئے ان کا خلاصہ و وضاحت یہ ہے:
💵 اگر کوئی شخص فوت ہو اور اس کے ورثاء میں باپ اور اولاد نہ ہو تو سگی اور باپ شریک بہن کو وراثت سے مال کا آدھا حصہ ملے گاجبکہ صرف ایک ہو اور اگر دو یا دو سے زیادہ ہوں تو دو تہائی حصہ ملے گا۔
💵 اور اگر بہن فوت ہوئی اور ورثاء میں نہ باپ ہو نہ اولاد تو بھائی اُس کے کل مال کا وارث ہوگا۔
💵 اگر فوت ہونے والے نے بہن بھائی دونوں چھوڑے تو بھائی کو بہن سے دگنا حصہ ملے گا۔
🍽️🍞 *سورۃ المائدہ*
سورہ مائدہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے،البتہ یہ آیت ’’اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ‘‘ حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ کے دن مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی،اس سورت میں 16 رکوع اور 120 آیتیں ہیں۔
*وجہ*
عربی میں دستر خوان کو ’’مائدہ ‘‘ کہتے ہیں اور اس سورت کی آیت نمبر 112 تا 115 میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آسمان سے مائدہ یعنی کھانے کے ایک دستر خوان کے نزول کا مطالبہ کیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے مائدہ کے نازل ہونے کی دعا کی، اس واقعے کی مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ مائدہ‘‘رکھا گیا۔
*فضائل*
🌸 اس سورت کی ایک آیت مبارکہ کے بارے میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ان سے کہا ’’اے امیر المؤمنین! رضی اللہ عنہ، آپ اپنی کتاب میں ایک آیت کی تلاوت کرتے ہیں ، اگر وہ آیت ہم یہودیوں کے گروہ پر نازل ہوئی ہوتی تو (جس دن یہ نازل ہوتی) ہم ا س دن کو عید بناتے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’وہ کون سی آیت ہے؟ اس یہود ی نے عرض کی (وہ یہ آیت ہے)
اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ( مائدہ: ۳)
ترجمہ: آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’ہم اس دن اور اس جگہ کو بھی جانتے ہیں جس میں نبی کریم صلی الله عليه وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی، (جب یہ آیت نازل ہوئی اس وقت) حضور صلی الله عليه وسلم جمعہ کے دن عرفات کے میدان میں مقیم تھے (اور جمعہ و عرفہ دونوں مسلمانوں کی عید کے دن ہیں۔
📘 (بخاری)
✅❌ اس سورت میں حلال وحرام کے بے شمار احکامات اور تین قصے بیان کئے گئے ہیں ۔
📈 سورت کی ابتدا میں ہر قسم کے وعدے کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے چاہے وہ عہد بندوں کا بندوں کے ساتھ ہو یا وہ عہد بندے کا اللہ کے ساتھ ہو۔
🚫 پھر اسکے بعد آگے چل کر کھانے پینے کی بہت ساری ایسی چیزوں کی حرمت یعنی حرام ہونے کا اعلان کیا گیا ہے جنہیں زمانہ جاہلیت میں حلال سمجھا جاتا تھا،کیونکہ ان چیزوں کے کھانے میں صحت اور جسم کا بھی نقصان ہے اور فکر و نظر اور دین واخلاق کا بھی بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔جو کھانے پینے کی چیزیں شریعت میں حرام قرار دی ہیں اس میں ایک بڑی حکمت یہ بھی ہے کہ ان چیزوں کے اثرات انسانی جسم پر منفی طور پر ثابت ہوتے ہیں جیسے کہ خنزیر، اسکے حرام ہونے کی ایک وجہ یہ بھی علماء نے بیان کی کہ یہ بے حیا جانور ہے، اگر معاذاللہ اسکو کوئی کھائے تو اس انسان کےاندر بھی بے حیائی پیدا ہوتی ہے، کھانے پینے کے معاملات میں بہت سی چیزیں ہیں کہ جس کے اندر ایک واضح پہلو یہ ہے کہ اسکا اثر بدن انسانی پر انسان کے اخلاق پر انسان کے اطوار پر اسکے نظر وفکر پر ہوتا ہے اسلئیے بہت ساری چیزوں کو حرام قرار دینے میں ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے۔بہر حال یہاں پر مثلا مردار، بہنے والا خون،خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جسے غیراللہ کے نام پر ذبح کیا گیا، گلا گھونٹ کر مارا ہو ا جانور،وہ جانور جو لاٹھی پتھر ،ڈھیلے، گولی چھرے یعنی بغیر دھار دار چیز سے مارا گیا ہو،جو گر کر مرا ہو خواہ پہاڑ سے یا کنوئیں وغیرہ میں،وہ جانور جسے دوسرے جانور نے سینگ مارا ہو اور وہ اس کے صدمے سے مر گیا ہو۔البتہ اضطرار کی صورت میں اجازت ہوتی ہے، اضطرار سے مراد یہ ہے کہ اسکے پاس کوئی حلال چیز موجود نہیں ہے اور اب اسکی جان پر بن آئی ہے اگر وہ کچھ نہیں کھائے گا تو مر جائے گا اور حرام کے علاوہ کچھ موجود نہیں تو ایسے موقع پر اسے اجازت دی گئی ہے کہ وہ ضرورتا وہ کھا لے بلکہ اس پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ کھا لے اور اپنی جان کی حفاظت کرے لیکن یہ اس موقع پر ہے کہ جب کچھ بھی
💰 سورہ نساء کی آخری آیت میں وراثت کا ایک مسئلہ بیان ہوا ہے، کہ اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اسکا باپ بھی نہ ہو اور کوئی اولاد بھی نہ ہو تو اسے شریعت کی اصطلاح میں کلالہ کہتے ہیں۔
👇🏻آیت میں جو مسائل بیان ہوئے ان کا خلاصہ و وضاحت یہ ہے:
💵 اگر کوئی شخص فوت ہو اور اس کے ورثاء میں باپ اور اولاد نہ ہو تو سگی اور باپ شریک بہن کو وراثت سے مال کا آدھا حصہ ملے گاجبکہ صرف ایک ہو اور اگر دو یا دو سے زیادہ ہوں تو دو تہائی حصہ ملے گا۔
💵 اور اگر بہن فوت ہوئی اور ورثاء میں نہ باپ ہو نہ اولاد تو بھائی اُس کے کل مال کا وارث ہوگا۔
💵 اگر فوت ہونے والے نے بہن بھائی دونوں چھوڑے تو بھائی کو بہن سے دگنا حصہ ملے گا۔
🍽️🍞 *سورۃ المائدہ*
سورہ مائدہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے،البتہ یہ آیت ’’اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ‘‘ حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ کے دن مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی،اس سورت میں 16 رکوع اور 120 آیتیں ہیں۔
*وجہ*
عربی میں دستر خوان کو ’’مائدہ ‘‘ کہتے ہیں اور اس سورت کی آیت نمبر 112 تا 115 میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آسمان سے مائدہ یعنی کھانے کے ایک دستر خوان کے نزول کا مطالبہ کیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے مائدہ کے نازل ہونے کی دعا کی، اس واقعے کی مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ مائدہ‘‘رکھا گیا۔
*فضائل*
🌸 اس سورت کی ایک آیت مبارکہ کے بارے میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ان سے کہا ’’اے امیر المؤمنین! رضی اللہ عنہ، آپ اپنی کتاب میں ایک آیت کی تلاوت کرتے ہیں ، اگر وہ آیت ہم یہودیوں کے گروہ پر نازل ہوئی ہوتی تو (جس دن یہ نازل ہوتی) ہم ا س دن کو عید بناتے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’وہ کون سی آیت ہے؟ اس یہود ی نے عرض کی (وہ یہ آیت ہے)
اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ( مائدہ: ۳)
ترجمہ: آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’ہم اس دن اور اس جگہ کو بھی جانتے ہیں جس میں نبی کریم صلی الله عليه وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی، (جب یہ آیت نازل ہوئی اس وقت) حضور صلی الله عليه وسلم جمعہ کے دن عرفات کے میدان میں مقیم تھے (اور جمعہ و عرفہ دونوں مسلمانوں کی عید کے دن ہیں۔
📘 (بخاری)
✅❌ اس سورت میں حلال وحرام کے بے شمار احکامات اور تین قصے بیان کئے گئے ہیں ۔
📈 سورت کی ابتدا میں ہر قسم کے وعدے کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے چاہے وہ عہد بندوں کا بندوں کے ساتھ ہو یا وہ عہد بندے کا اللہ کے ساتھ ہو۔
🚫 پھر اسکے بعد آگے چل کر کھانے پینے کی بہت ساری ایسی چیزوں کی حرمت یعنی حرام ہونے کا اعلان کیا گیا ہے جنہیں زمانہ جاہلیت میں حلال سمجھا جاتا تھا،کیونکہ ان چیزوں کے کھانے میں صحت اور جسم کا بھی نقصان ہے اور فکر و نظر اور دین واخلاق کا بھی بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔جو کھانے پینے کی چیزیں شریعت میں حرام قرار دی ہیں اس میں ایک بڑی حکمت یہ بھی ہے کہ ان چیزوں کے اثرات انسانی جسم پر منفی طور پر ثابت ہوتے ہیں جیسے کہ خنزیر، اسکے حرام ہونے کی ایک وجہ یہ بھی علماء نے بیان کی کہ یہ بے حیا جانور ہے، اگر معاذاللہ اسکو کوئی کھائے تو اس انسان کےاندر بھی بے حیائی پیدا ہوتی ہے، کھانے پینے کے معاملات میں بہت سی چیزیں ہیں کہ جس کے اندر ایک واضح پہلو یہ ہے کہ اسکا اثر بدن انسانی پر انسان کے اخلاق پر انسان کے اطوار پر اسکے نظر وفکر پر ہوتا ہے اسلئیے بہت ساری چیزوں کو حرام قرار دینے میں ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے۔بہر حال یہاں پر مثلا مردار، بہنے والا خون،خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جسے غیراللہ کے نام پر ذبح کیا گیا، گلا گھونٹ کر مارا ہو ا جانور،وہ جانور جو لاٹھی پتھر ،ڈھیلے، گولی چھرے یعنی بغیر دھار دار چیز سے مارا گیا ہو،جو گر کر مرا ہو خواہ پہاڑ سے یا کنوئیں وغیرہ میں،وہ جانور جسے دوسرے جانور نے سینگ مارا ہو اور وہ اس کے صدمے سے مر گیا ہو۔البتہ اضطرار کی صورت میں اجازت ہوتی ہے، اضطرار سے مراد یہ ہے کہ اسکے پاس کوئی حلال چیز موجود نہیں ہے اور اب اسکی جان پر بن آئی ہے اگر وہ کچھ نہیں کھائے گا تو مر جائے گا اور حرام کے علاوہ کچھ موجود نہیں تو ایسے موقع پر اسے اجازت دی گئی ہے کہ وہ ضرورتا وہ کھا لے بلکہ اس پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ کھا لے اور اپنی جان کی حفاظت کرے لیکن یہ اس موقع پر ہے کہ جب کچھ بھی
نہ ہو اور اتنا کھانے کی اجازت ہے کہ جس سے ضرورت پوری ہو جائے ۔
📝 حجۃ الوداع کے موقع پر دین اسلام کے مکمل اور اللہ کے پسندیدہ نظام حیات ہونے کا اعلان ہے کہ اسلام اللہ تعالی کا پسندیدہ دین ہےاور یہ ایک نظام حیات ہے۔
🦆🐐 پرندوں،چوپایوں اور درندوں کی مدد سے شکار کےجو اصول و ضوابط ہیں اسکو بیان کیا گیا ہے ۔اہل کتاب کا ذبح کیا ہوا جانور بھی مسلمانوں کیلئے حلال ہے خواہ یہودی ذبح کرے یا عیسائی، یونہی مرد ذبح کرے یا عورت یا سمجھدار بچہ۔لیکن یہ یاد رکھنا نہایت ضروری ہے کہ ان اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے جو واقعی اہلِ کتاب ہوں ، موجودہ زمانے میں عیسائیوں کی بہت بڑی تعداد دہریہ اور خدا کے منکر ہو چکے ہیں لہٰذا نہ ان کا ذبیحہ حلال ہے اور نہ عورتیں۔
🔗 *اہلِ کتاب سے نکاح کے چند اہم مسائل*
📍اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح حلال ہے لیکن اس میں بھی یہ شرط ہے کہ وہ واقعی اہلِ کتاب ہوں ،دہریہ نہ ہوں جیسے آج کل بہت سے ایسے بھی ہیں۔
📍یہ اجازت بھی دارالاسلام میں رہنے والی ذِمِّیَہ اہل کتاب عورت کے ساتھ ہے۔ موجودہ زمانے میں جو اہلِ کتاب ہیں یہ حربی ہیں اور حربیہ اہلِ کتاب کے ساتھ نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے۔
📍ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ یہ اجازت صرف مسلمان مردوں کو ہے مسلمان عورت کا نکاح کتابی مرد سے قطعی حرام ہے۔
🚿 پھر طہارت حاصل کرنے کے لیے وضو اور تیمم کا طریقہ پھر اللہ تبارک و تعالی کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
⚔️ حدیبیہ کے موقع پر کافروں نے حملہ آور ہونے کا پروگرام بنایا، لیکن اللہ تعالی نے انہیں مرعوب کردیا اور وہ حملہ نہ کر سکے، اس انعام خداوندی کا شکر ادا کرنے اور توکل کا اہتمام کرنے کی بندوں کو تلقین کی گئی ہے۔
⛓️ پھر اللہ تبارک و تعالی نے موسی علیہ السلام کا تذکرہ فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم کو جہاد کے لیے تیار کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالی نے تمہیں ایک منصب عطا فرمایا ہے اور تمہارے خاندان میں تمہاری نسل میں انبیا اور رسولوں کو پیدا فرمایا۔تمہیں چاہیے کہ اب عمالقہ قوم سے بیت المقدس سے پاک کردو، تو اللہ تبارک وتعالی تمہیں فتح اور کامرانی سے ہمکنار فرمائے گا ،مگر وہ لوگ اپنی بزدلی اور اپنی طبیعت کی خباثت کے پیش نظر جہاد سے پیچھے ہٹ گئے اور معاذاللہ یہاں تک بھی انہوں نے کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑیں ہم تو یہیں پر بیٹھے ہیں ۔ معاذاللہ
💥 پھر اللہ تبارک و تعالی نے آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کے باہمی اختلاف اور انکی قربانی کا تذکرہ فرمایا ہے، ان میں سے ایک تو صالح تھے مومن تھے اور دوسرا بدبخت ، ایک کا نام قابیل تھا ایک کا نام ہابیل تھا ۔اب اسکو یاد رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ قابیل ق سے آتا ہے اور قاتل بھی ق سے آتا ہے تو یہ قابیل جو ہے سمجھ لیں وہ صحیح نہیں تھا اور جوہابیل تھے وہ شہید ہوئے تھے ۔تو ہابیل میں بھی ہ آتا ہے اور شہید میں بھی ہ آتا ہے تو اسطرح یاد رکھا جا سکتا ہے۔
بہرحال قابیل دنیائے انسانی کا پہلا قاتل ہے جس نے اپنی ضد اور بغض کی خاطر اپنے بھائی ہابیل کو حسد کی وجہ سے شہید کردیا۔دنیا میں قیامت تک جتنے قتل ہوں گے انکا گناہ قاتل کے ساتھ ساتھ اس قابیل کو بھی ملتا رہے گا، ہابیل نے قابیل کو قتل ناحق جیسے بد ترین جرم سے روکنے کے لیے عمدہ وعظ اور نصحیت کرتے ہوئے فرمایا کہ تم مجھے قتل کرنے کی کوشش کرو گے تومیں ہر گز ردعمل کے طور پر تمہیں قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھاوں گا۔میں اللہ سے ڈرتا ہوں سوچ لو میرے ناحق قتل کرنے سے تم خود گناہ گار ہو گے،قابیل پر اس نصیحت کا کچھ اثر نہ ہوا اور اس نے ہابیل کو شہید کر کے خسارے کا سودا مول لے لیا ۔اللہ تبارک وتعالی نے کوّے کے ذریعے سکھایا کہ کیسے زمین کو کھود کر بھائی کی لاش اس میں دفن کرنی ہے، جسے دیکھ کر قابیل کو بڑی ندامت ہوئی کہ ہائے افسوس میں تو اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا۔
🔗 آگے اہل ایمان کو تقوی پر کاربند رہنے، اللہ کا قرب حاصل کرنے، نیک اعمال کو وسیلہ بنانے اور جہاد فی سبیل اللہ میں مصروف ہوکر فلاح و کامرانی حاصل کرنے کی دعوت دی ہے ۔
🩸 پھر آیت نمبر 45 میں ایک قانون بیان کیا گیا ہے کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ،کان کے بدلے کان ،دانت کے بدلے دانت ہوگا ،لیکن اگر کوئی فریق درگزر کردے اور معافی کا فیصلہ کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالی اسکے لیے گناہوں کی معافی کا وعدہ فرمارہا ہے۔
❤️🤝🏻 اس کے بعد مسلمانوں کو یہودو نصاری کے ساتھ قلبی دوستی لگانے سے منع کیا گیا کیونکہ وہ امت مسلمہ کے سخت ترین دشمن ہیں۔قرآن کی صداقت کا معجزہ ہم اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ سکتے ہیں کہ آپس میں انکا شدید اختلاف کیوں ہی نہ ہو شدید مذہبی اور سیاسی اختلافات کے باوجود بھی یہود ونصاری مسلمانوں کے مقابلے میں متحد ہو جاتے ہیں بلکہ سارے کے سارے کفار مسلمانوں کے مقابلے میں ایک ہو جاتے ہیں ۔اور یہ ایک مقولہ بھی ہے
کہ
الکفر ملۃ واحدۃ
کفار سارے کے سارے ایک قوم کی طرح ہی ہیں
🌼 پھر اللہ
📝 حجۃ الوداع کے موقع پر دین اسلام کے مکمل اور اللہ کے پسندیدہ نظام حیات ہونے کا اعلان ہے کہ اسلام اللہ تعالی کا پسندیدہ دین ہےاور یہ ایک نظام حیات ہے۔
🦆🐐 پرندوں،چوپایوں اور درندوں کی مدد سے شکار کےجو اصول و ضوابط ہیں اسکو بیان کیا گیا ہے ۔اہل کتاب کا ذبح کیا ہوا جانور بھی مسلمانوں کیلئے حلال ہے خواہ یہودی ذبح کرے یا عیسائی، یونہی مرد ذبح کرے یا عورت یا سمجھدار بچہ۔لیکن یہ یاد رکھنا نہایت ضروری ہے کہ ان اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے جو واقعی اہلِ کتاب ہوں ، موجودہ زمانے میں عیسائیوں کی بہت بڑی تعداد دہریہ اور خدا کے منکر ہو چکے ہیں لہٰذا نہ ان کا ذبیحہ حلال ہے اور نہ عورتیں۔
🔗 *اہلِ کتاب سے نکاح کے چند اہم مسائل*
📍اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح حلال ہے لیکن اس میں بھی یہ شرط ہے کہ وہ واقعی اہلِ کتاب ہوں ،دہریہ نہ ہوں جیسے آج کل بہت سے ایسے بھی ہیں۔
📍یہ اجازت بھی دارالاسلام میں رہنے والی ذِمِّیَہ اہل کتاب عورت کے ساتھ ہے۔ موجودہ زمانے میں جو اہلِ کتاب ہیں یہ حربی ہیں اور حربیہ اہلِ کتاب کے ساتھ نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے۔
📍ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ یہ اجازت صرف مسلمان مردوں کو ہے مسلمان عورت کا نکاح کتابی مرد سے قطعی حرام ہے۔
🚿 پھر طہارت حاصل کرنے کے لیے وضو اور تیمم کا طریقہ پھر اللہ تبارک و تعالی کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
⚔️ حدیبیہ کے موقع پر کافروں نے حملہ آور ہونے کا پروگرام بنایا، لیکن اللہ تعالی نے انہیں مرعوب کردیا اور وہ حملہ نہ کر سکے، اس انعام خداوندی کا شکر ادا کرنے اور توکل کا اہتمام کرنے کی بندوں کو تلقین کی گئی ہے۔
⛓️ پھر اللہ تبارک و تعالی نے موسی علیہ السلام کا تذکرہ فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم کو جہاد کے لیے تیار کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالی نے تمہیں ایک منصب عطا فرمایا ہے اور تمہارے خاندان میں تمہاری نسل میں انبیا اور رسولوں کو پیدا فرمایا۔تمہیں چاہیے کہ اب عمالقہ قوم سے بیت المقدس سے پاک کردو، تو اللہ تبارک وتعالی تمہیں فتح اور کامرانی سے ہمکنار فرمائے گا ،مگر وہ لوگ اپنی بزدلی اور اپنی طبیعت کی خباثت کے پیش نظر جہاد سے پیچھے ہٹ گئے اور معاذاللہ یہاں تک بھی انہوں نے کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑیں ہم تو یہیں پر بیٹھے ہیں ۔ معاذاللہ
💥 پھر اللہ تبارک و تعالی نے آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کے باہمی اختلاف اور انکی قربانی کا تذکرہ فرمایا ہے، ان میں سے ایک تو صالح تھے مومن تھے اور دوسرا بدبخت ، ایک کا نام قابیل تھا ایک کا نام ہابیل تھا ۔اب اسکو یاد رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ قابیل ق سے آتا ہے اور قاتل بھی ق سے آتا ہے تو یہ قابیل جو ہے سمجھ لیں وہ صحیح نہیں تھا اور جوہابیل تھے وہ شہید ہوئے تھے ۔تو ہابیل میں بھی ہ آتا ہے اور شہید میں بھی ہ آتا ہے تو اسطرح یاد رکھا جا سکتا ہے۔
بہرحال قابیل دنیائے انسانی کا پہلا قاتل ہے جس نے اپنی ضد اور بغض کی خاطر اپنے بھائی ہابیل کو حسد کی وجہ سے شہید کردیا۔دنیا میں قیامت تک جتنے قتل ہوں گے انکا گناہ قاتل کے ساتھ ساتھ اس قابیل کو بھی ملتا رہے گا، ہابیل نے قابیل کو قتل ناحق جیسے بد ترین جرم سے روکنے کے لیے عمدہ وعظ اور نصحیت کرتے ہوئے فرمایا کہ تم مجھے قتل کرنے کی کوشش کرو گے تومیں ہر گز ردعمل کے طور پر تمہیں قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھاوں گا۔میں اللہ سے ڈرتا ہوں سوچ لو میرے ناحق قتل کرنے سے تم خود گناہ گار ہو گے،قابیل پر اس نصیحت کا کچھ اثر نہ ہوا اور اس نے ہابیل کو شہید کر کے خسارے کا سودا مول لے لیا ۔اللہ تبارک وتعالی نے کوّے کے ذریعے سکھایا کہ کیسے زمین کو کھود کر بھائی کی لاش اس میں دفن کرنی ہے، جسے دیکھ کر قابیل کو بڑی ندامت ہوئی کہ ہائے افسوس میں تو اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا۔
🔗 آگے اہل ایمان کو تقوی پر کاربند رہنے، اللہ کا قرب حاصل کرنے، نیک اعمال کو وسیلہ بنانے اور جہاد فی سبیل اللہ میں مصروف ہوکر فلاح و کامرانی حاصل کرنے کی دعوت دی ہے ۔
🩸 پھر آیت نمبر 45 میں ایک قانون بیان کیا گیا ہے کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ،کان کے بدلے کان ،دانت کے بدلے دانت ہوگا ،لیکن اگر کوئی فریق درگزر کردے اور معافی کا فیصلہ کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالی اسکے لیے گناہوں کی معافی کا وعدہ فرمارہا ہے۔
❤️🤝🏻 اس کے بعد مسلمانوں کو یہودو نصاری کے ساتھ قلبی دوستی لگانے سے منع کیا گیا کیونکہ وہ امت مسلمہ کے سخت ترین دشمن ہیں۔قرآن کی صداقت کا معجزہ ہم اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ سکتے ہیں کہ آپس میں انکا شدید اختلاف کیوں ہی نہ ہو شدید مذہبی اور سیاسی اختلافات کے باوجود بھی یہود ونصاری مسلمانوں کے مقابلے میں متحد ہو جاتے ہیں بلکہ سارے کے سارے کفار مسلمانوں کے مقابلے میں ایک ہو جاتے ہیں ۔اور یہ ایک مقولہ بھی ہے
کہ
الکفر ملۃ واحدۃ
کفار سارے کے سارے ایک قوم کی طرح ہی ہیں
🌼 پھر اللہ
تبارک وتعالی کے محبوب بندوں کی چار صفات بیان کی گئی ہیں ایک یہ کہ اللہ ان سے محبت فرماتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں، دوسری یہ کہ اہل ایمان کے حق میں انتہائی نرم اور کافروں کے حوالے سے انتہائی سخت ہوتے ہیں،تیسرا یہ کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور چوتھا یہ کہ اللہ کی راہ میں جہاد کے حوالے سے کسی بھی ملامت کرنے والے کی ملامت کو خاطر میں نہیں لاتے،کوئی انکو تنگ کرے کوئی انکا مذاق اڑائے تو انکے مذاق کا خیال نہیں کرتے۔
📲 +92-321-2094919
📲 +92-321-2094919
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📃 *فیضان خلاصہ تراویح*📃
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
👂🏻 *ساتواں پارہ،واذا سمعوا*
💧 عیسائیوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو قرآن کریم سن کر اپنے آنسووں پر قابو نہیں رکھ پاتے اور بےاختیار انکی آنکھوں سے آنسو نکل جاتے ہیں۔
📢 واقعہ اصل میں یہ تھا کہ کفار مکہ کے مظالم سے تنگ آ کر مسلمانوں کا ایک قافلہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے ہجرت کر کے ملک حبشہ گیا اور حبشہ عیسائیوں کا ملک تھا۔مشرکین مکہ ان کے پیچھے گئے اور حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے سامنے غلط بیانی کر کے مسلمانوں کے خلاف ایک سازش کرنے کی کوشش کی۔
نجاشی نے مسلمانوں کو طلب کر کے سوالات کیے،حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے نجاشی کو سورہ مریم پڑھ کر سنانا شروع کی تو نجاشی اور اسکے ساتھیوں پر قرآن کریم سن کر ایسی رقت طاری ہوگئی کی انکی ہچکیاں بندھ گئیں انکی داڑھیاں آنسووں سے تر ہو گئیں۔آخر کار کلام الہی سے متاثر ہو کر انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور مسلمانوں کو وہاں پر مہمان کے طور پر اپنے ملک میں ٹھرانے کا اعلان کر دیا اور مشرکین مکہ رسوا ہوئے۔
⚖️ اس کے بعد آیت نمبر 87 سے حلال اور حرام کے حوالے سے کچھ گفتگو اور انتہا پسندی کی مذمت کی گئی کہ اسلام انسانوں کو میانہ روی کا درس دیتا ہے اعتدال کا درس دیتا ہے۔
📖 پھر آیت نمبر 89 میں قسم کے احکام ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم کی ایک جماعت نے کھانے پینے کی چند حلال چیزیں اور کچھ لباس اپنے اوپر حرام کر لئے اور دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی، مزید یہ کہ اس پر انہوں نے قسمیں بھی کھا لیں۔جب اللہ پاک نے انہیں اس چیز سے منع کیا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اب ہم اپنی قسموں کا کیا کریں ؟ اس پر اللہ پاک نے یہ آیت نازل فرمائی جس میں قسم کے احکام بیان کئے گئے۔
*قسم کی تین قسمیں ہیں*
⚫ یمینِ لَغْو یعنی غلط فہمی کی قسم، یہ وہ قسم ہے کہ آدمی کسی واقعہ کو اپنے خیال میں صحیح جان کر قسم کھالے اور حقیقت میں وہ ایسا نہ ہو، ایسی قسم پر کفارہ نہیں۔
⬛ یمینِ غَموس یعنی جھوٹی قسم ،کسی گزشتہ واقعے کے متعلق جان بوجھ کرجھوٹی قسم کھانا، یہ حرام ہے۔
🔳 یمینِ مُنعقدہ، جو کسی آئندہ کے معاملے پر اسے پورا کرنے یا پورا نہ کرنے کیلئے کھائی جائے، کسی صحیح معاملے پر کھائی گئی ایسی قسم توڑنا منع بھی ہے اور اس پر کفارہ بھی لازم ہے۔ قسم کی تیسری صورت پر ہی کفارہ لازم آتا ہے۔
📝 یہاں آیت مبارکہ میں قسم کا کفارہ بھی بیان کیا گیا ہے اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ اگر کوئی قسم توڑے تو ایک غلام آزاد کرے یا دس مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر درمیانے درجے کا کھانا کھلائے یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنائے ۔ ان تینوں میں سے کوئی بھی طریقہ اختیار کرنے کی اجازت ہے اور اگر تینوں میں سے کسی کی بھی طاقت نہ ہو تو مسلسل تین روزے رکھنا کفارہ ہے۔مزید احکام کتب فقہ میں دیکھے جا سکتے ہیں یا اسی آیت کے تحت صراط الجنان سے مطالعہ کیے جا سکتے ہیں۔
❌❌ پھر آیت نمبر 90 سے 92 میں شراب اور جوئے کی حرمت کا حتمی فیصلہ بیان کر دیا گیا ہے، سورہ بقرہ کے اندر اسکے نقصانات کو بیان کیا پھر آگے چل کر بیان کیا کہ جب تم نماز کے قریب جانے لگو تو اس سے پہلے نشہ وغیرہ نہ کرو اور اب اسکو بالکل حرام قرار دے دیا گیا اور اسکے بعد کبھی بھی شراب حلال نہیں ہوئی ہے، اللہ پاک نے اسکو قطعی طور پر حرام قرار دے دیا اور فرما دیا کہ شیطان اسکے ذریعے اسلامی معاشرے کے افراد میں نفرتیں پیدا کرنا چاہتا ہے۔شراب کے نشے میں آکر یا جوئے میں مسلسل ہار کر انسان دوسروں کے خلاف ایسی حرکات کرتا ہے کہ جس سے باہمی نفرت اور دشمنی جنم لیتی ہے ، مزید یہ کہ انسان اس سے اللہ کے ذکر اور بالخصوص نماز پڑھنے سے محروم ہو جاتا ہے۔
جوئے کے ذریعے حرام کمائی کا حصول انسان کو ذکر کی لذت اور حلاوت اور نماز کی چاشنی سے محروم کر دیتا ہے ۔پھر بڑے سخت الفاظ میں تنبیح کی گئی کہ تم شراب اور جوئے سے باز آتے ہو یا نہیں۔
⚓ اسکے بعد حالت احرام میں شکار کی ممانعت اور اسکی جزا کا بیان ہے ہاں مچھلی کے شکار کی اجازت دی گئی ہے۔
اسکے بعد اللہ پاک کی قدرت کے دو مظاہر کا ذکر ہے کہ وہ شدید عذاب دینے والا بھی ہے اور بہت بخشش کرنے والا مہربان بھی ہے۔اب یہ بندے کے اوپر ہے کہ وہ کس طرح کا عمل کرتا ہے اور اپنے آپ کو کس چیز کا مستحق بناتا
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
👂🏻 *ساتواں پارہ،واذا سمعوا*
💧 عیسائیوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو قرآن کریم سن کر اپنے آنسووں پر قابو نہیں رکھ پاتے اور بےاختیار انکی آنکھوں سے آنسو نکل جاتے ہیں۔
📢 واقعہ اصل میں یہ تھا کہ کفار مکہ کے مظالم سے تنگ آ کر مسلمانوں کا ایک قافلہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے ہجرت کر کے ملک حبشہ گیا اور حبشہ عیسائیوں کا ملک تھا۔مشرکین مکہ ان کے پیچھے گئے اور حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے سامنے غلط بیانی کر کے مسلمانوں کے خلاف ایک سازش کرنے کی کوشش کی۔
نجاشی نے مسلمانوں کو طلب کر کے سوالات کیے،حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے نجاشی کو سورہ مریم پڑھ کر سنانا شروع کی تو نجاشی اور اسکے ساتھیوں پر قرآن کریم سن کر ایسی رقت طاری ہوگئی کی انکی ہچکیاں بندھ گئیں انکی داڑھیاں آنسووں سے تر ہو گئیں۔آخر کار کلام الہی سے متاثر ہو کر انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور مسلمانوں کو وہاں پر مہمان کے طور پر اپنے ملک میں ٹھرانے کا اعلان کر دیا اور مشرکین مکہ رسوا ہوئے۔
⚖️ اس کے بعد آیت نمبر 87 سے حلال اور حرام کے حوالے سے کچھ گفتگو اور انتہا پسندی کی مذمت کی گئی کہ اسلام انسانوں کو میانہ روی کا درس دیتا ہے اعتدال کا درس دیتا ہے۔
📖 پھر آیت نمبر 89 میں قسم کے احکام ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم کی ایک جماعت نے کھانے پینے کی چند حلال چیزیں اور کچھ لباس اپنے اوپر حرام کر لئے اور دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی، مزید یہ کہ اس پر انہوں نے قسمیں بھی کھا لیں۔جب اللہ پاک نے انہیں اس چیز سے منع کیا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اب ہم اپنی قسموں کا کیا کریں ؟ اس پر اللہ پاک نے یہ آیت نازل فرمائی جس میں قسم کے احکام بیان کئے گئے۔
*قسم کی تین قسمیں ہیں*
⚫ یمینِ لَغْو یعنی غلط فہمی کی قسم، یہ وہ قسم ہے کہ آدمی کسی واقعہ کو اپنے خیال میں صحیح جان کر قسم کھالے اور حقیقت میں وہ ایسا نہ ہو، ایسی قسم پر کفارہ نہیں۔
⬛ یمینِ غَموس یعنی جھوٹی قسم ،کسی گزشتہ واقعے کے متعلق جان بوجھ کرجھوٹی قسم کھانا، یہ حرام ہے۔
🔳 یمینِ مُنعقدہ، جو کسی آئندہ کے معاملے پر اسے پورا کرنے یا پورا نہ کرنے کیلئے کھائی جائے، کسی صحیح معاملے پر کھائی گئی ایسی قسم توڑنا منع بھی ہے اور اس پر کفارہ بھی لازم ہے۔ قسم کی تیسری صورت پر ہی کفارہ لازم آتا ہے۔
📝 یہاں آیت مبارکہ میں قسم کا کفارہ بھی بیان کیا گیا ہے اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ اگر کوئی قسم توڑے تو ایک غلام آزاد کرے یا دس مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر درمیانے درجے کا کھانا کھلائے یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنائے ۔ ان تینوں میں سے کوئی بھی طریقہ اختیار کرنے کی اجازت ہے اور اگر تینوں میں سے کسی کی بھی طاقت نہ ہو تو مسلسل تین روزے رکھنا کفارہ ہے۔مزید احکام کتب فقہ میں دیکھے جا سکتے ہیں یا اسی آیت کے تحت صراط الجنان سے مطالعہ کیے جا سکتے ہیں۔
❌❌ پھر آیت نمبر 90 سے 92 میں شراب اور جوئے کی حرمت کا حتمی فیصلہ بیان کر دیا گیا ہے، سورہ بقرہ کے اندر اسکے نقصانات کو بیان کیا پھر آگے چل کر بیان کیا کہ جب تم نماز کے قریب جانے لگو تو اس سے پہلے نشہ وغیرہ نہ کرو اور اب اسکو بالکل حرام قرار دے دیا گیا اور اسکے بعد کبھی بھی شراب حلال نہیں ہوئی ہے، اللہ پاک نے اسکو قطعی طور پر حرام قرار دے دیا اور فرما دیا کہ شیطان اسکے ذریعے اسلامی معاشرے کے افراد میں نفرتیں پیدا کرنا چاہتا ہے۔شراب کے نشے میں آکر یا جوئے میں مسلسل ہار کر انسان دوسروں کے خلاف ایسی حرکات کرتا ہے کہ جس سے باہمی نفرت اور دشمنی جنم لیتی ہے ، مزید یہ کہ انسان اس سے اللہ کے ذکر اور بالخصوص نماز پڑھنے سے محروم ہو جاتا ہے۔
جوئے کے ذریعے حرام کمائی کا حصول انسان کو ذکر کی لذت اور حلاوت اور نماز کی چاشنی سے محروم کر دیتا ہے ۔پھر بڑے سخت الفاظ میں تنبیح کی گئی کہ تم شراب اور جوئے سے باز آتے ہو یا نہیں۔
⚓ اسکے بعد حالت احرام میں شکار کی ممانعت اور اسکی جزا کا بیان ہے ہاں مچھلی کے شکار کی اجازت دی گئی ہے۔
اسکے بعد اللہ پاک کی قدرت کے دو مظاہر کا ذکر ہے کہ وہ شدید عذاب دینے والا بھی ہے اور بہت بخشش کرنے والا مہربان بھی ہے۔اب یہ بندے کے اوپر ہے کہ وہ کس طرح کا عمل کرتا ہے اور اپنے آپ کو کس چیز کا مستحق بناتا
ہے سزا کا مستحق بناتا ہے یا رحمت کا مستحق بناتا ہے۔
❓❓پھر آیت نمبر 101 میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر ضروری سوالات کرنے سے منع فرمایا گیا کہ اگر بہت سی باتیں تم پر ظاہر ہو جائیں تو تمہیں ناگوار لگیں ۔یہاں پر یہود کی مثال دی گئی کہ وہ اللہ کا حکم آنے پر غیر ضروری سوالات کرتے تھے اور اللہ پاک کی طرف سے جوابات آنے پر مزید پابندیوں کا سامنا کرنے پر مجبور ہو جاتے،اب ان پابندیوں کو وہ پورا نہ کر پاتے۔
🔥 اس کے بعد قیامت کے دن کی منظر کشی کی گئی اور اس ہولناک دن کے حساب کتاب کو یاد دلایا گیا ہے ۔جب تمام رسولوں کو جمع کر کے ان سے سوال کیا جائے گا کہ جب تم نے میرا پیغام میرے بندوں تک پہنچایا تو تمہیں کیا جواب دیا گیا تو وہ اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ یا اللہ پاک تو ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے تو سمیع و بصیر ہے تو جانتا ہے کہ تیرے بندوں نے کیا جواب دیا۔
🌹 یہاں پر حضرت عیسی علیہ السلام کا خاص طور پر تفصیلی ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے انہیں بڑی نعمتوں سے نوازا ہے ۔فرمایا کہ ہم نے تم پر اور تمہاری والدہ پر انعام کیا اسکو یاد کرو۔
🤲🏻 پھر آیت نمبر 112 میں بتایا گیا کہ عیسی علیہ السلام کے حواریوں یعنی آپ کے ساتھیوں نے عرض کی کہ اللہ پاک سے دعا کیجئے کہ آسمان سے کوئی دستر خوان بطور نعمت اتار دے اس میں سے ہم کھائیں گے اور ایک قلبی اطمینان پائیں گے ۔
عیسی علیہ السلام نے غسل کیا،موٹا لباس پہنا، دو رکعت نماز ادا کی اور سر کو جھکا کر اللہ پاک سے دعا کی:
*اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَۚ-وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(۱۱۴)*
اے اللہ ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اُتار دے جو ہمارے لئے اور ہمارے بعد میں آنے والوں کے لئے عید اور تیری طرف سے ایک نشانی ہوجائے اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔
اس دعا کے بعد اللہ پاک نے فرمایا کہ میں یہ نعمت نازل فرماؤں گا مگر پھر جو شخص اس نعمت کو دیکھنے کے بعد کفر کرے گا تو اسے ایسا عذاب دوں گا جو اس سے پہلےجہاں والوں میں سےکسی کو بھی نہیں دیا ہو گا۔
🔎 اس سے معلوم ہوا کہ نعمت الہی کے نزول کے دن کو عید کہا جا سکتا ہے ۔یہاں پر عیسی علیہ الصلوةوالسلام نے عید ہی فرمایا اور اسی لیے اہل اسلام میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دن کو عید سے تعبیر کرتے ہیں۔
⏬ قیامت کے دن کی ہولناک منظر کشی اور اللہ تبارک وتعالی کی بادشاہت کے تذکرے پر سورہ مائدہ کا اختتام ہوتا ہے ۔
🐑🐐 *سورہ انعام*
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پوری سورۂ اَنعام ایک ہی رات میں مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی،اور انہی سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ سورۂ اَنعام کی6 آیتیں مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں اور باقی سورت ایک ہی مرتبہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔
اس میں20رکوع اور 165 آیتیں ہیں۔
*وجہ*
عربی میں مویشیوں کو ’’اَنعام‘‘ کہتے ہیں اور اس سورت کا نام ’’اَنعام‘‘ اس مناسبت سے رکھا گیا کہ اس سورت کی آیت نمبر 136 اور138 میں ان مشرکین کا رد کیا گیا ہے جو اپنے مویشیوں میں بتوں کو حصہ دار ٹھہراتے تھے اور خود ہی چند جانوروں کو اپنے لئے حلال اور چند جانوروں کو اپنے اوپر حرام سمجھنے لگے تھے۔
*فضیلت*
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ سورۂ اَنعام نازل ہوئی اور اس کے ساتھ بلند آواز سے تسبیح کرتی ہوئی فرشتوں کی ایک جماعت تھی جس سے زمین و آسمان کے کنارے بھر گئے، زمین ان فرشتوں کی وجہ سے ہلنے لگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمْ ‘‘ کہا۔
🔛 سورت کے آغاز میں اللہ پاک کی قدرت کا بیان ہے کہ اس نے آسمان و زمین و ظلمت و نور کو پیدا کیا اس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا پھر اسکے لیے ایک مدت حیات اور قیامت کا وقت مقرر فرمایا لیکن کافر پھر بھی اپنے رب کے ساتھ شریک ٹھراتے ہیں اور اسکی قدرت کے بارے میں شک میں مبتلا ہوتے ہیں حالانکہ اللہ پاک ظاہر و باطن ہر عمل کو جاننے والا ہے۔
📖 پھر آیت نمبر7 میں فرمایا کہ کافروں کا حال تو یہ ہے کہ اگر لکھی ہوئی کتاب انکے پاس اتار دی جائے تو جسے وہ اپنے ہاتھوں سے چھو کر دیکھ لیں پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے بلکہ اسے جادو ہی قرار دیں گے۔
اللہ پاک نے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ہر دور کے کفار معاذاللہ اپنے نبیوں کے ساتھ استہزاء کرتے آئے ہیں،آپ زمین میں مشاہدہ کر لیں گزشتہ امتوں کے تباہ شدہ آثار انکے عبرت ناک انجام کا پتہ دیتے ہیں،
یہ لوگ آپکی بات سنتے ہیں مگر انکی بد عملی کی وجہ سے انکے دلوں پر پردہ چڑھا ہوا ہے۔
🖤 پھر یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ لوگ آپکی بات سنتے ہیں آپکا کلام سنتے ہیں م
❓❓پھر آیت نمبر 101 میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر ضروری سوالات کرنے سے منع فرمایا گیا کہ اگر بہت سی باتیں تم پر ظاہر ہو جائیں تو تمہیں ناگوار لگیں ۔یہاں پر یہود کی مثال دی گئی کہ وہ اللہ کا حکم آنے پر غیر ضروری سوالات کرتے تھے اور اللہ پاک کی طرف سے جوابات آنے پر مزید پابندیوں کا سامنا کرنے پر مجبور ہو جاتے،اب ان پابندیوں کو وہ پورا نہ کر پاتے۔
🔥 اس کے بعد قیامت کے دن کی منظر کشی کی گئی اور اس ہولناک دن کے حساب کتاب کو یاد دلایا گیا ہے ۔جب تمام رسولوں کو جمع کر کے ان سے سوال کیا جائے گا کہ جب تم نے میرا پیغام میرے بندوں تک پہنچایا تو تمہیں کیا جواب دیا گیا تو وہ اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ یا اللہ پاک تو ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے تو سمیع و بصیر ہے تو جانتا ہے کہ تیرے بندوں نے کیا جواب دیا۔
🌹 یہاں پر حضرت عیسی علیہ السلام کا خاص طور پر تفصیلی ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے انہیں بڑی نعمتوں سے نوازا ہے ۔فرمایا کہ ہم نے تم پر اور تمہاری والدہ پر انعام کیا اسکو یاد کرو۔
🤲🏻 پھر آیت نمبر 112 میں بتایا گیا کہ عیسی علیہ السلام کے حواریوں یعنی آپ کے ساتھیوں نے عرض کی کہ اللہ پاک سے دعا کیجئے کہ آسمان سے کوئی دستر خوان بطور نعمت اتار دے اس میں سے ہم کھائیں گے اور ایک قلبی اطمینان پائیں گے ۔
عیسی علیہ السلام نے غسل کیا،موٹا لباس پہنا، دو رکعت نماز ادا کی اور سر کو جھکا کر اللہ پاک سے دعا کی:
*اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَۚ-وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(۱۱۴)*
اے اللہ ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اُتار دے جو ہمارے لئے اور ہمارے بعد میں آنے والوں کے لئے عید اور تیری طرف سے ایک نشانی ہوجائے اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔
اس دعا کے بعد اللہ پاک نے فرمایا کہ میں یہ نعمت نازل فرماؤں گا مگر پھر جو شخص اس نعمت کو دیکھنے کے بعد کفر کرے گا تو اسے ایسا عذاب دوں گا جو اس سے پہلےجہاں والوں میں سےکسی کو بھی نہیں دیا ہو گا۔
🔎 اس سے معلوم ہوا کہ نعمت الہی کے نزول کے دن کو عید کہا جا سکتا ہے ۔یہاں پر عیسی علیہ الصلوةوالسلام نے عید ہی فرمایا اور اسی لیے اہل اسلام میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دن کو عید سے تعبیر کرتے ہیں۔
⏬ قیامت کے دن کی ہولناک منظر کشی اور اللہ تبارک وتعالی کی بادشاہت کے تذکرے پر سورہ مائدہ کا اختتام ہوتا ہے ۔
🐑🐐 *سورہ انعام*
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پوری سورۂ اَنعام ایک ہی رات میں مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی،اور انہی سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ سورۂ اَنعام کی6 آیتیں مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں اور باقی سورت ایک ہی مرتبہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔
اس میں20رکوع اور 165 آیتیں ہیں۔
*وجہ*
عربی میں مویشیوں کو ’’اَنعام‘‘ کہتے ہیں اور اس سورت کا نام ’’اَنعام‘‘ اس مناسبت سے رکھا گیا کہ اس سورت کی آیت نمبر 136 اور138 میں ان مشرکین کا رد کیا گیا ہے جو اپنے مویشیوں میں بتوں کو حصہ دار ٹھہراتے تھے اور خود ہی چند جانوروں کو اپنے لئے حلال اور چند جانوروں کو اپنے اوپر حرام سمجھنے لگے تھے۔
*فضیلت*
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ سورۂ اَنعام نازل ہوئی اور اس کے ساتھ بلند آواز سے تسبیح کرتی ہوئی فرشتوں کی ایک جماعت تھی جس سے زمین و آسمان کے کنارے بھر گئے، زمین ان فرشتوں کی وجہ سے ہلنے لگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمْ ‘‘ کہا۔
🔛 سورت کے آغاز میں اللہ پاک کی قدرت کا بیان ہے کہ اس نے آسمان و زمین و ظلمت و نور کو پیدا کیا اس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا پھر اسکے لیے ایک مدت حیات اور قیامت کا وقت مقرر فرمایا لیکن کافر پھر بھی اپنے رب کے ساتھ شریک ٹھراتے ہیں اور اسکی قدرت کے بارے میں شک میں مبتلا ہوتے ہیں حالانکہ اللہ پاک ظاہر و باطن ہر عمل کو جاننے والا ہے۔
📖 پھر آیت نمبر7 میں فرمایا کہ کافروں کا حال تو یہ ہے کہ اگر لکھی ہوئی کتاب انکے پاس اتار دی جائے تو جسے وہ اپنے ہاتھوں سے چھو کر دیکھ لیں پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے بلکہ اسے جادو ہی قرار دیں گے۔
اللہ پاک نے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ہر دور کے کفار معاذاللہ اپنے نبیوں کے ساتھ استہزاء کرتے آئے ہیں،آپ زمین میں مشاہدہ کر لیں گزشتہ امتوں کے تباہ شدہ آثار انکے عبرت ناک انجام کا پتہ دیتے ہیں،
یہ لوگ آپکی بات سنتے ہیں مگر انکی بد عملی کی وجہ سے انکے دلوں پر پردہ چڑھا ہوا ہے۔
🖤 پھر یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ لوگ آپکی بات سنتے ہیں آپکا کلام سنتے ہیں م
گر انکے دلوں پر ایسا پردہ چڑھ گیا ہے ، انکے کانوں کے اندر ایسی روئی پڑی ہوئی ہے جسکی وجہ سے یہ قرآن کی باتوں کا اثر قبول نہیں کرتے۔
➰ آیت نمبر 31 میں اللہ پاک نے فرمایا کہ انہوں نے اللہ کے حضور پیش ہونے کی حقیقت کو جھٹلایا ، وہ اپنی بد اعمالیوں کا بوجھ اپنی پشت پر اٹھائے ہوئے ہیں اور جب قیامت آئے گی تو اپنی کوتاہی پر پھر وہ افسوس کرتے رہیں گے۔
💨🌊 آیت نمبر 64 میں فرمایا کہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے تمہارے پاؤں کے نیچے سے تم پر عذاب بھیج دے ۔مفسرین نے فرمایا کہ اوپر کے عذاب کی صورتیں ایک تو تباہ کن آندھیاں اور طوفانی بارشیں ہیں اور نیچے کے عذاب کی ایک صورت سیلاب، زلزلے اور قحط سالی ہے، اوپر کے عذاب کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ظالم حکمرانوں کا مسلط ہونا اور جو ماتحت لوگ ہیں وہ نافرمان ہو جائیں اور اس امت کے مختلف گروہوں کا ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہو جانا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہے۔
☀️🌟 آیت نمبر 74 سے 79 میں وہ واقع بیان کیا گیا ہے جس کے ذریعے ابراہیم علیہ السلام نے ستارہ پرستوں، چاند پرستوں اور سورج پرستوں کے خلاف دلیل قائم کر دی۔ یہ مسئلہ یقینی ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام ہرحال میں معصوم ہوتے ہیں اور وہ شروع ہی سے ہر وقت معرفت الٰہی سے شناسا ہوتے ہیں۔ اس عقیدہ کو ذہن نشین رکھتے ہوئے اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ سمجھنے کیلئے قرآن پاک میں بیان کردہ واقعے کو ذرا تفصیل سے بیان کر رہا ہوں۔
💫 حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابتدا ہی سے توحید کی حمایت اور کفریہ عقائد کارد کرنا شروع فرما دیا اور پھر جب ایک سوراخ سے رات کے وقت آپ علیہ السلام نے زہرہ یا مشتری ستارہ کو دیکھا تو لوگوں کے سامنے توحید باری تعالیٰ کی دلیل بیان کرنا شروع کردی کیونکہ اس زمانہ کے لوگ بت اور ستاروں کی پرستش کرتے تھے تو آپ علیہ السلام نے ایک نہایت نفیس اور دل نشیں پیرایہ میں انہیں غوروفکر کی طرف رہنمائی کی جس سے وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ تمام جہان عدم سے وجود میں آنے والا ہے اور پھر ختم ہونے والا ہے تو یہ معبود نہیں ہوسکتا بلکہ تمام جہان بذات خود کسی وجود میں لانے والی ذات کا محتاج ہے جس کے قدرت وا ختیار سے اس میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔
چنانچہ پہلے آپ علیہ السلام نے ستارے کو دیکھا تو فرمایا کہ’’ کیا اسے میرا رب کہتے ہو ؟ پھر جب وہ ڈوب گیا تو فرمایا کہ’’ میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔یعنی جس میں ایسے تغیرات ہورہے ہیں وہ خدا نہیں ہوسکتا۔
🌕 پھر اس کے بعد آپ علیہ السلام نے چاند کو چمکتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : کیا اسے میرا رب کہتے ہو؟ پھر جب وہ ڈوب گیا تو فرمایا: اگر مجھے میرے رب کریم نے ہدایت نہ دی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں سے ہوجاتا۔ اس میں اُس قوم کو تنبیہ ہے کہ جو چاند کومعبود مانتے تھے، انہیں آپ علیہ السلام نے گمراہ قرار دیا اور خود کو ہدایت پر۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام کی یہ باتیں ان کا رد کرنے کیلئے ہی تھیں۔ چاند کے معبود نہ ہونے پر بھی آپ علیہ السلام نے یہی دلیل بیان فرمائی کہ اس کا ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہونا قابل فنا ہونے کی دلیل ہے۔
☀️ پھر اس کے بعد آپ علیہ السلام نے سورج کو جگمگاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ’’ کیا اسے میرا رب کہتے ہو ؟یہ تو ان سب سے بڑا ہے، پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو فرمایا: اے میری قوم! میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم اللہ پاک کاشریک ٹھہراتے ہو۔ یوں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ثابت کردیا کہ ستاروں میں چھوٹے سے بڑے تک کوئی بھی رب ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ،ان کا معبود ہونا باطل ہے اور قوم جس شرک میں مبتلا ہے آپ علیہ السلام نے اس سے بیزاری کا اظہار کردیا اور اس کے بعد دینِ حق کا بیان فرمایا جو اگلی آیتوں میں آرہا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ستارے، چاند اور سورج کے بارے میں فرامین لوگوں کو سمجھانے کیلئے تھے اور معاذاللہ ، اپنے بارے میں نہ تھے اس کی بہت واضح دلیل یہ بھی ہے کہ جب آپ علیہ السلام نے ستارے، چاند اور سورج کے بارے یہ فرمایا تو کیا آپ علیہ السلام نے اس سے پہلے دن رات کے فرق کو اور سورج چاند کے غروب ہونے کو کبھی نہیں دیکھا تھا، ایسا تو ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ تو معلوم ہوا کہ سورج چاند ستارے کے حوالے سے آپ کا کلام صرف قوم کو سمجھانے کیلئے تھا
🕋 حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جھوٹے معبودوں سے بیزاری ظاہر کرنے کے بعد اپنا عقیدہ اور دین حق کا اعلان فرما دیا چنانچہ فرمایا کہ’’ میں نے ہر باطل سے جدا ہو کر اپنا منہ اس اللہ پاک کی بارگاہ کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یعنی اسلام کے سوا باقی تمام ادیان سے جدا رہ کرمیں اللہ پاک کے سامنے جھکنے والا ہوں۔
🌐 حضرت ابراہیم علیہ السلام کو انکی قوم کے لوگوں نے ڈرایا کہ تم نے ہمارے معبودوں کا انکا کیا ہے لہذا تم پر اب
➰ آیت نمبر 31 میں اللہ پاک نے فرمایا کہ انہوں نے اللہ کے حضور پیش ہونے کی حقیقت کو جھٹلایا ، وہ اپنی بد اعمالیوں کا بوجھ اپنی پشت پر اٹھائے ہوئے ہیں اور جب قیامت آئے گی تو اپنی کوتاہی پر پھر وہ افسوس کرتے رہیں گے۔
💨🌊 آیت نمبر 64 میں فرمایا کہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے تمہارے پاؤں کے نیچے سے تم پر عذاب بھیج دے ۔مفسرین نے فرمایا کہ اوپر کے عذاب کی صورتیں ایک تو تباہ کن آندھیاں اور طوفانی بارشیں ہیں اور نیچے کے عذاب کی ایک صورت سیلاب، زلزلے اور قحط سالی ہے، اوپر کے عذاب کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ظالم حکمرانوں کا مسلط ہونا اور جو ماتحت لوگ ہیں وہ نافرمان ہو جائیں اور اس امت کے مختلف گروہوں کا ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہو جانا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہے۔
☀️🌟 آیت نمبر 74 سے 79 میں وہ واقع بیان کیا گیا ہے جس کے ذریعے ابراہیم علیہ السلام نے ستارہ پرستوں، چاند پرستوں اور سورج پرستوں کے خلاف دلیل قائم کر دی۔ یہ مسئلہ یقینی ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام ہرحال میں معصوم ہوتے ہیں اور وہ شروع ہی سے ہر وقت معرفت الٰہی سے شناسا ہوتے ہیں۔ اس عقیدہ کو ذہن نشین رکھتے ہوئے اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ سمجھنے کیلئے قرآن پاک میں بیان کردہ واقعے کو ذرا تفصیل سے بیان کر رہا ہوں۔
💫 حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابتدا ہی سے توحید کی حمایت اور کفریہ عقائد کارد کرنا شروع فرما دیا اور پھر جب ایک سوراخ سے رات کے وقت آپ علیہ السلام نے زہرہ یا مشتری ستارہ کو دیکھا تو لوگوں کے سامنے توحید باری تعالیٰ کی دلیل بیان کرنا شروع کردی کیونکہ اس زمانہ کے لوگ بت اور ستاروں کی پرستش کرتے تھے تو آپ علیہ السلام نے ایک نہایت نفیس اور دل نشیں پیرایہ میں انہیں غوروفکر کی طرف رہنمائی کی جس سے وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ تمام جہان عدم سے وجود میں آنے والا ہے اور پھر ختم ہونے والا ہے تو یہ معبود نہیں ہوسکتا بلکہ تمام جہان بذات خود کسی وجود میں لانے والی ذات کا محتاج ہے جس کے قدرت وا ختیار سے اس میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔
چنانچہ پہلے آپ علیہ السلام نے ستارے کو دیکھا تو فرمایا کہ’’ کیا اسے میرا رب کہتے ہو ؟ پھر جب وہ ڈوب گیا تو فرمایا کہ’’ میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔یعنی جس میں ایسے تغیرات ہورہے ہیں وہ خدا نہیں ہوسکتا۔
🌕 پھر اس کے بعد آپ علیہ السلام نے چاند کو چمکتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : کیا اسے میرا رب کہتے ہو؟ پھر جب وہ ڈوب گیا تو فرمایا: اگر مجھے میرے رب کریم نے ہدایت نہ دی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں سے ہوجاتا۔ اس میں اُس قوم کو تنبیہ ہے کہ جو چاند کومعبود مانتے تھے، انہیں آپ علیہ السلام نے گمراہ قرار دیا اور خود کو ہدایت پر۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام کی یہ باتیں ان کا رد کرنے کیلئے ہی تھیں۔ چاند کے معبود نہ ہونے پر بھی آپ علیہ السلام نے یہی دلیل بیان فرمائی کہ اس کا ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہونا قابل فنا ہونے کی دلیل ہے۔
☀️ پھر اس کے بعد آپ علیہ السلام نے سورج کو جگمگاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ’’ کیا اسے میرا رب کہتے ہو ؟یہ تو ان سب سے بڑا ہے، پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو فرمایا: اے میری قوم! میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم اللہ پاک کاشریک ٹھہراتے ہو۔ یوں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ثابت کردیا کہ ستاروں میں چھوٹے سے بڑے تک کوئی بھی رب ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ،ان کا معبود ہونا باطل ہے اور قوم جس شرک میں مبتلا ہے آپ علیہ السلام نے اس سے بیزاری کا اظہار کردیا اور اس کے بعد دینِ حق کا بیان فرمایا جو اگلی آیتوں میں آرہا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ستارے، چاند اور سورج کے بارے میں فرامین لوگوں کو سمجھانے کیلئے تھے اور معاذاللہ ، اپنے بارے میں نہ تھے اس کی بہت واضح دلیل یہ بھی ہے کہ جب آپ علیہ السلام نے ستارے، چاند اور سورج کے بارے یہ فرمایا تو کیا آپ علیہ السلام نے اس سے پہلے دن رات کے فرق کو اور سورج چاند کے غروب ہونے کو کبھی نہیں دیکھا تھا، ایسا تو ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ تو معلوم ہوا کہ سورج چاند ستارے کے حوالے سے آپ کا کلام صرف قوم کو سمجھانے کیلئے تھا
🕋 حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جھوٹے معبودوں سے بیزاری ظاہر کرنے کے بعد اپنا عقیدہ اور دین حق کا اعلان فرما دیا چنانچہ فرمایا کہ’’ میں نے ہر باطل سے جدا ہو کر اپنا منہ اس اللہ پاک کی بارگاہ کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یعنی اسلام کے سوا باقی تمام ادیان سے جدا رہ کرمیں اللہ پاک کے سامنے جھکنے والا ہوں۔
🌐 حضرت ابراہیم علیہ السلام کو انکی قوم کے لوگوں نے ڈرایا کہ تم نے ہمارے معبودوں کا انکا کیا ہے لہذا تم پر اب
کوئی آفت آئے گی تو خلیل اللہ نے فرمایا کہ جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ کسی سے نہیں ڈرتا اور جو اللہ سے نہیں ڈرتا تو پھر وہ ہر ایک سے ڈرتا ہے۔
🌳 پھر کمال اختصار کے ساتھ تین لائنوں میں 18 انبیا اور رسل کا تذکرہ اور تعریف بیان کی گئی ہے ۔پھر قدرت خداوندی کی ایک کائناتی حقائق میں مشاہدہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے کہ اللہ نے دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر درخت اور پودے پیدا کیے۔زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کو نکالا،
اور سورج اور چاند کو حساب کے لیے مقرر کیا گیا۔
⛴️⭐ خشکی اور تری میں راستہ متعین کرنے کے لیے ستارے اسی نے بنائے ہیں۔
آسمان سے پانی برسا کر کھتیاں اور باغات پیدا کیے ہیں جن کے اندر سبزیاں پھل کجھوریں اور انگور بنائے جو گچھے والے بھی ہیں اور بغیر گچھے کے پیدا ہونے والے بھی ہیں۔پھلوں کے موسم میں دیکھو کیسے خوشنما اور بھلے لگتے ہیں، علم سمجھ بوجھ اور ایمان رکھنے والوں کے لیے قدرت الہی اور وحدانیت کے اسکے اندر واضح دلائل موجود ہیں
❌❌ پھر آخر میں توحید کا بیان اور شرک کی نفی کی گئی کہ مشرکین جنات کو معاذاللہ اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں ۔فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں معاذاللہ ۔فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے اللہ مخلوق پر نگہبانی فرمانے والا ہے ۔وہ سب کو دیکھنے والا ہے اور کوئی نگاہ اسکا احاطہ نہیں کر سکتی ۔اللہ تبارک وتعالی نے حق کو بالکل واضح کر دیا ہے ۔انسان کو اختیار ہے کہ چاہے وہ حق سے نظریں چرالے یا حق کی روشنی میں کائنات کے اصل حقائق کو دیکھ لے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں گر پڑے ۔
📲 *+92-321-2094919*
🌳 پھر کمال اختصار کے ساتھ تین لائنوں میں 18 انبیا اور رسل کا تذکرہ اور تعریف بیان کی گئی ہے ۔پھر قدرت خداوندی کی ایک کائناتی حقائق میں مشاہدہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے کہ اللہ نے دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر درخت اور پودے پیدا کیے۔زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کو نکالا،
اور سورج اور چاند کو حساب کے لیے مقرر کیا گیا۔
⛴️⭐ خشکی اور تری میں راستہ متعین کرنے کے لیے ستارے اسی نے بنائے ہیں۔
آسمان سے پانی برسا کر کھتیاں اور باغات پیدا کیے ہیں جن کے اندر سبزیاں پھل کجھوریں اور انگور بنائے جو گچھے والے بھی ہیں اور بغیر گچھے کے پیدا ہونے والے بھی ہیں۔پھلوں کے موسم میں دیکھو کیسے خوشنما اور بھلے لگتے ہیں، علم سمجھ بوجھ اور ایمان رکھنے والوں کے لیے قدرت الہی اور وحدانیت کے اسکے اندر واضح دلائل موجود ہیں
❌❌ پھر آخر میں توحید کا بیان اور شرک کی نفی کی گئی کہ مشرکین جنات کو معاذاللہ اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں ۔فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں معاذاللہ ۔فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے اللہ مخلوق پر نگہبانی فرمانے والا ہے ۔وہ سب کو دیکھنے والا ہے اور کوئی نگاہ اسکا احاطہ نہیں کر سکتی ۔اللہ تبارک وتعالی نے حق کو بالکل واضح کر دیا ہے ۔انسان کو اختیار ہے کہ چاہے وہ حق سے نظریں چرالے یا حق کی روشنی میں کائنات کے اصل حقائق کو دیکھ لے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں گر پڑے ۔
📲 *+92-321-2094919*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📗 *فیضان خلاصہ تراویح*📗
*ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*
📢 *آٹھواں پارہ، ولو اَنَّنَا*
☄️ مشرکین مطالبہ کیا کرتے تھے کہ ہمیں کوئی ایسا معجزہ دکھایا جائے جو سب کو نظر آئے تو ہم ایمان لے آئیں گے، پچھلے پارے کی آخری آیات میں مختصر طور پر بیان ہوا تھا کہ نشانیاں طلب کرنے والے کفار کے مطالبات پورے کر دئیے جائیں تو بھی وہ ایمان نہ لائیں گے اور یہاں تفصیل بیان ہوئی ہے کہ’’ اے محبوب! (صلی الله عليه وسلم ) اگر ہم کفار کے مطالبے کے مطابق ان کی طرف فرشتے اُتار دیں جنہیں وہ ان کی اصلی شکل میں دیکھ لیں اور وہ ان سے آپ کی رسالت کی گواہی سن لیں۔ یونہی اگر ہم ان کے مطلوبہ یا عام مردے زندہ کر کے ان کے سامنے کھڑے کر دیں تاکہ یہ ان سے معلوم کر لیں کہ آپ جو پیغام لائے ہیں وہ حق ہے یا نہیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے، بلکہ اگر ہم ان کے مطالبات سے زائد مخلوقات میں سے ہر خشک و تر، شجرو حجر، نباتات و حیوانات ان کے سامنے جمع کردیں تب بھی یہ لوگ ایمان لائیں گے اور نہ آپ کی تصدیق کریں گے اور نہ ہی آپ کی پیروی کریں گے البتہ جن کی قسمت میں ایمان لکھا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی مرضی جن کے ایمان کے متعلق ہوگی وہ ایمان لائیں گے۔
یہاں دو باتیں بہت اہم ہیں
✔️اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا فرمایا اور جیسا ہونے والا تھا اور جیسا کوئی کرنے والا تھا وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں تھا اور اس نے وہی لکھ دیا، تو یہ نہیں کہ جیسا اس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا اس نے لکھ دیا۔
✅یہ درست ہے کہ بندوں کے تمام افعال اللہ تعالیٰ کے ارادہ، اس کی مشیت اور اس کی قضاء سے وجود پذیر ہوتے ہیں لیکن قادر و قدیر رب قدیر نے انسان کو پتھر اور دیگر جمادات کی طرح بے بس، مجبور اور بالکل بے اختیار نہیں بنا یا بلکہ اسے ایک قسم کا اختیار دیا ہے کہ کوئی کام چاہے تو کرے، چاہے نہ کرے اور اس کے ساتھ عقل بھی دی ہے کہ اپنا برا بھلا، نفع و نقصان پہچان سکے، پھر نیکی یا بدی، اچھائی یا برائی میں سے جس کام کو اختیار کرتا ہے اللہ پاک اس کی قوت اس بندے میں پیدا فرما دیتا ہے اور اسی اختیار کے اعتبار سے وہ جزا یا سزا کا مستحق ہوتا ہے۔
🔝 *آیت 125* میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ جسے اللہ تبارک و تعالی ہدایت دینا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جس کی گمراہی کا فیصلہ فرما لیا گیا ہو اس کا سینہ تنگ کر دیا جاتا ہے۔
❓ اگلی آیت میں بتایا گیا کہ تمام جنات اور انسانوں سے قیامت کے دن سوال ہوگا ، ان کا حساب لیا جائے گا اور جنات کو بھی اس عمل سے گزرنا ہوگا لہذا ثابت ہوتا ہے کہ انسانوں کی طرح جنات بھی قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔
🍌🍋 آیت 141 میں اللہ تبارک و تعالی نے پھلوں اور جانوروں میں اپنی تخلیق کی قدرت کو بیان فرمایا کہ اللہ پاک نے کچھ باغات ایسے پیدا فرمائے جو زمین پر پھیلے ہوئے ہیں جیسے خربوزہ، تربوز اور دیگر بیل بوٹے وغیرہ اور کچھ ایسے پیدا فرمائے جو زمین پر پھیلے ہوئے نہیں بلکہ تنے والے ہیں جیسے آم، امرود اور مالٹا وغیرہ کے باغات، اسی طرح کھجور اور کھیتی، انار اور زیتون کوپیدا فرمایا اور اس میں اللہ پاک کی عجیب قدرت ہے کہ ان پھلوں میں تاثیر اور ذائقے کے اعتبار سے تو فرق ہوتا ہے لیکن رنگ اور پتوں کے اعتبار سے بہت مشابہت ہوتی ہے۔اور پھر فرمایا کہ اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق دو۔یہاں فصلوں کا حق ادا کرنے کا حکم ہے، اس میں سب سے اول تو عشر یعنی پیدا وار کا دسواں حصہ یا نصف عشر یعنی پیداوار کا بیسواں حصہ داخل ہے اور اس کے علاوہ مساکین کو کچھ پھل وغیرہ دینا بھی پیداوار کے حقوق میں آتا ہے۔ اس آیت میں اس بات کی دلیل بھی ہے کہ ہر پیداوار میں زکوٰۃ ہے، چاہے پیداوار کم ہو یا زیادہ، اس کے پھل سال تک رہیں یا نہ رہیں۔
📝 آیت 151 سے 154 میں اللہ پاک کے عطا کردہ حقیقی حلت و حرمت کے متعدد احکام ہیں،تقریبا 9 چیزوں کو بیان فرمایا۔
اللہ کی عبادت، والدین کے ساتھ حسن سلوک، تنگی کے خوف سے اولاد کے قتل سے بچنا، برائی کے کاموں سے گریز کرنا اور ایسے افراد کو قتل کرنا کے جس کے قتل کرنے کا شریعت نے حکم نہیں دیا ہے، یتیم کے مال کو ناجائز استعمال کرنے سے بچنے کا حکم، ناپ تول میں کمی نہ کی جائے، قول اور فعل میں انصاف کے تقاضے پورے کرنا ،اللہ سے کیے ہوئے وعدے کو پورا کرنا اور صراط مستقیم کی پیروی کرنا کیوں کے یہی احکام شریعہ ہی دین اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ اور لب لباب ہیں اور باقی تمام شرعی حکام ان ہی پر منحصر ہے۔
🔃 سورت کے اختتام پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ہی تمہارا رب ہے، وہ ہر چیز کا مالک ہے ، اسی طرح تمام انسانوں کو واپس کر جانا ہے، وہی ہر انسان کے آخری انجام کا فیصلہ فرمائے گا۔
---------------------
🌐 *سورہ اعراف*
یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے اور ایک روایت کے مطابق پانچ آیتوں کے علاوہ یہ سورت مکیہ ہ
*ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*
📢 *آٹھواں پارہ، ولو اَنَّنَا*
☄️ مشرکین مطالبہ کیا کرتے تھے کہ ہمیں کوئی ایسا معجزہ دکھایا جائے جو سب کو نظر آئے تو ہم ایمان لے آئیں گے، پچھلے پارے کی آخری آیات میں مختصر طور پر بیان ہوا تھا کہ نشانیاں طلب کرنے والے کفار کے مطالبات پورے کر دئیے جائیں تو بھی وہ ایمان نہ لائیں گے اور یہاں تفصیل بیان ہوئی ہے کہ’’ اے محبوب! (صلی الله عليه وسلم ) اگر ہم کفار کے مطالبے کے مطابق ان کی طرف فرشتے اُتار دیں جنہیں وہ ان کی اصلی شکل میں دیکھ لیں اور وہ ان سے آپ کی رسالت کی گواہی سن لیں۔ یونہی اگر ہم ان کے مطلوبہ یا عام مردے زندہ کر کے ان کے سامنے کھڑے کر دیں تاکہ یہ ان سے معلوم کر لیں کہ آپ جو پیغام لائے ہیں وہ حق ہے یا نہیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے، بلکہ اگر ہم ان کے مطالبات سے زائد مخلوقات میں سے ہر خشک و تر، شجرو حجر، نباتات و حیوانات ان کے سامنے جمع کردیں تب بھی یہ لوگ ایمان لائیں گے اور نہ آپ کی تصدیق کریں گے اور نہ ہی آپ کی پیروی کریں گے البتہ جن کی قسمت میں ایمان لکھا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی مرضی جن کے ایمان کے متعلق ہوگی وہ ایمان لائیں گے۔
یہاں دو باتیں بہت اہم ہیں
✔️اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا فرمایا اور جیسا ہونے والا تھا اور جیسا کوئی کرنے والا تھا وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں تھا اور اس نے وہی لکھ دیا، تو یہ نہیں کہ جیسا اس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا اس نے لکھ دیا۔
✅یہ درست ہے کہ بندوں کے تمام افعال اللہ تعالیٰ کے ارادہ، اس کی مشیت اور اس کی قضاء سے وجود پذیر ہوتے ہیں لیکن قادر و قدیر رب قدیر نے انسان کو پتھر اور دیگر جمادات کی طرح بے بس، مجبور اور بالکل بے اختیار نہیں بنا یا بلکہ اسے ایک قسم کا اختیار دیا ہے کہ کوئی کام چاہے تو کرے، چاہے نہ کرے اور اس کے ساتھ عقل بھی دی ہے کہ اپنا برا بھلا، نفع و نقصان پہچان سکے، پھر نیکی یا بدی، اچھائی یا برائی میں سے جس کام کو اختیار کرتا ہے اللہ پاک اس کی قوت اس بندے میں پیدا فرما دیتا ہے اور اسی اختیار کے اعتبار سے وہ جزا یا سزا کا مستحق ہوتا ہے۔
🔝 *آیت 125* میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ جسے اللہ تبارک و تعالی ہدایت دینا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جس کی گمراہی کا فیصلہ فرما لیا گیا ہو اس کا سینہ تنگ کر دیا جاتا ہے۔
❓ اگلی آیت میں بتایا گیا کہ تمام جنات اور انسانوں سے قیامت کے دن سوال ہوگا ، ان کا حساب لیا جائے گا اور جنات کو بھی اس عمل سے گزرنا ہوگا لہذا ثابت ہوتا ہے کہ انسانوں کی طرح جنات بھی قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔
🍌🍋 آیت 141 میں اللہ تبارک و تعالی نے پھلوں اور جانوروں میں اپنی تخلیق کی قدرت کو بیان فرمایا کہ اللہ پاک نے کچھ باغات ایسے پیدا فرمائے جو زمین پر پھیلے ہوئے ہیں جیسے خربوزہ، تربوز اور دیگر بیل بوٹے وغیرہ اور کچھ ایسے پیدا فرمائے جو زمین پر پھیلے ہوئے نہیں بلکہ تنے والے ہیں جیسے آم، امرود اور مالٹا وغیرہ کے باغات، اسی طرح کھجور اور کھیتی، انار اور زیتون کوپیدا فرمایا اور اس میں اللہ پاک کی عجیب قدرت ہے کہ ان پھلوں میں تاثیر اور ذائقے کے اعتبار سے تو فرق ہوتا ہے لیکن رنگ اور پتوں کے اعتبار سے بہت مشابہت ہوتی ہے۔اور پھر فرمایا کہ اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق دو۔یہاں فصلوں کا حق ادا کرنے کا حکم ہے، اس میں سب سے اول تو عشر یعنی پیدا وار کا دسواں حصہ یا نصف عشر یعنی پیداوار کا بیسواں حصہ داخل ہے اور اس کے علاوہ مساکین کو کچھ پھل وغیرہ دینا بھی پیداوار کے حقوق میں آتا ہے۔ اس آیت میں اس بات کی دلیل بھی ہے کہ ہر پیداوار میں زکوٰۃ ہے، چاہے پیداوار کم ہو یا زیادہ، اس کے پھل سال تک رہیں یا نہ رہیں۔
📝 آیت 151 سے 154 میں اللہ پاک کے عطا کردہ حقیقی حلت و حرمت کے متعدد احکام ہیں،تقریبا 9 چیزوں کو بیان فرمایا۔
اللہ کی عبادت، والدین کے ساتھ حسن سلوک، تنگی کے خوف سے اولاد کے قتل سے بچنا، برائی کے کاموں سے گریز کرنا اور ایسے افراد کو قتل کرنا کے جس کے قتل کرنے کا شریعت نے حکم نہیں دیا ہے، یتیم کے مال کو ناجائز استعمال کرنے سے بچنے کا حکم، ناپ تول میں کمی نہ کی جائے، قول اور فعل میں انصاف کے تقاضے پورے کرنا ،اللہ سے کیے ہوئے وعدے کو پورا کرنا اور صراط مستقیم کی پیروی کرنا کیوں کے یہی احکام شریعہ ہی دین اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ اور لب لباب ہیں اور باقی تمام شرعی حکام ان ہی پر منحصر ہے۔
🔃 سورت کے اختتام پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ہی تمہارا رب ہے، وہ ہر چیز کا مالک ہے ، اسی طرح تمام انسانوں کو واپس کر جانا ہے، وہی ہر انسان کے آخری انجام کا فیصلہ فرمائے گا۔
---------------------
🌐 *سورہ اعراف*
یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے اور ایک روایت کے مطابق پانچ آیتوں کے علاوہ یہ سورت مکیہ ہ
ے۔
اس سورت میں 24 رکوع اور 206 آیتیں ہیں۔
*وجہ*
اعراف کا معنی ہے بلند جگہ، اس سورت کی آیت نمبر 46 میں جنت اور دوزخ کے درمیان ایک جگہ اعراف کا ذکر ہے جو کہ بہت بلند ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ اعراف ‘‘رکھا گیا۔
🕋 اس سے پہلے والی سورت کا مرکزی مضمون توحید تھا، اور اس سورت کا مرکزی مضمون رسالت ہے، اس کے ساتھ ہی جنت اور جہنم اور قیامت کے موضوع کو بھی کافی بیان کیا گیا ہے۔
📖 سورت کی ابتدا میں قرآن کریم کی حقانیت کو ایک انوکھے انداز میں بیان کیا گیا ہے، جس میں ایک طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت افزائی ہے تو دوسری طرف آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ کتاب قرآن پاک آپ کی طرف اس لئے نازل کیا گیا تاکہ آپ اس کے ذریعے لوگوں کو اللہ پاک کے عذاب سے ڈرائیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں لوگوں کے سابقہ طرز عمل کی وجہ سے اور اس خیال سے کہ لوگ نہ مانیں گے اور اس پر اعتراض کریں گے اور اسے جھٹلانے لگیں گے اس کی تبلیغ فرمانے سے کوئی تنگی نہ آئے، آپ ان کفار کی مخالفت کی ذرہ بھر پروا نہ کریں کہ یہ لوگ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں گے کیوں کہ اس سے پہلے بھی ایسی قومیں گزری ہیں جنہیں وحی الہی کے انکار پر پلک جھپکتے میں نیست ونابود کر دیا گیا۔
❌ آیت 11 سے 27 میں ہے کہ جب ابلیس نے اللہ پاک کے حکم پر حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کو سجدہ نہ کیا تو اللہ پاک نے اس سے فرمایا کہ تم کو سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا؟ تو اس نے اپنی سرکشی کا جواز عقلی دلیل سے پیش کیا، اس نے کہا کہ آدم علیہ السلام سے میں بہتر ہو کیوں کہ انہیں مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور میرا وجود آگ کا
ہے اور لطیف ہونے کی بنا پر آگ مٹی سے افضل ہے، جبکہ یہ غلط ہے،اس کے تکبر کی وجہ سے اللہ پاک نے اسکو مقام عزت سے نکال دیا اور وہ رسوا ہوا، ابلیس نے اللہ پاک سے قیامت تک مہلت طلب کی تو اللہ پاک نے مہلت عطا فرمادی، اس پر اس نے کہا کے میں صراط مستقیم پر گھات لگا کر بیٹھ جاؤں گا اور بنی آدم کو دائیں بائیں آگے پیچھے ہر جگہ سے گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا،اللہ پاک نے فرمایا کہ تمہارے پیروکار جہنم میں جائیں گے، اللہ پاک نے آدم علیہ السلام اور بی بی حوا رضی اللہ تعالی عنہا کو جنت میں داخل کیا، ان کو ایک خاص درخت کے قریب جانے سے منع فرمایا، شیطان نے ان کو وسوسہ ڈالا اور مخلص اور خیرخواہ کا روپ اختیار کرکے کہا : کہ آپ لوگوں کو قریب جانے سے محض اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اس کے قریب اگر آپ لوگ فرشتے بن جائیں گے اور آپ لوگوں کو اپنی ابدی زندگی مل جائے گی، اس نے قسم کھانا شروع کر دی اور اپنی خیرخواہی کا یقین دلانا شروع کر دیا، حضرت آدم علیہ السلام کے دل میں چونکہ اللہ پاک کے نام کی عظمت انتہا درجے کی تھی، اس لئے آپ علیہ السلام کو گمان بھی نہ تھا کہ اللہ پاک کی قسم کھا کر کوئی جھوٹ بھی بول سکتا ہے، نیز جنت قرب الہٰی کا مقام تھا اور حضرت آدم علیہ السلام کو بھی اُس مقام قرب میں رہنے کا اشتیاق تھا اور فرشتہ بننے یا دائمی بننے سے یہ مقام حاصل ہوسکتا ہے، لہٰذا آپ نے شیطان کی قسم کا اعتبار کر لیا اور ممانعت کو محض تنزیہی سمجھتے ہوئے یا خاص درخت کی ممانعت سمجھتے ہوئے اسی جنس کے دوسرے درخت سے کھالیا، پھر انھوں نے استغفار کیا، اللہ پاک نے ان پر خاص نظر رحمت فرمائی، پھر انھیں جنت سے زمین کی طرف اتارا گیا اور فرمایا گیا کہ ایک مقررہ مدت تک آپ کو یہاں رہنا ہے۔
🥼 آگے چل کر مقصد لباس کو بیان فرمایا کہ ہم نے بنی آدم پر لباس اس لئے اتارا کہ ان کی ستر پوشی ہو، وہ اپنے اعضاء کو ڈھانکے اور جو سامان زینت ہے وہ حاصل کریں اور سب سے بہتر لباس تقویٰ کا لباس ہے، آدم علیہ السلام کی اولاد کو شیطان کے شر سے بچنے کے لیے ایک انتہائی حکمت بھرے انداز میں خطاب فرمایا گیا " کہ اے بنی آدم وہ شیطان جس نے تمہارے والدین کو جنت سے اتروانے کی سازش کی وہ تمہیں فتنے میں مبتلا کرکے جنت سے محروم نہ کردے۔لہذا شیطان کی دھوکے بازیوں سے بچو۔
💥 اس کے بعد قیامت کے دن کی منظر کشی کرتے ہوئے اصحاب الجنہ، اصحاب النار اور اصحاب اعراف کا تذکرہ ہے جس میں جنت والے جہنم والوں کا ویسے ہی مذاق اڑائیں گے جیسے وہ لوگ دنیا میں ان کی نیکی اور اصلاح و تقویٰ کا مذاق اڑایا کرتے تھے، ایسا منظر ہوگا کہ جنت والے انعامات اور عیش و عشرت کے مزے لے رہے ہونگے اور جہنم والے اذیت اور تکلیف میں مبتلا ہوں گے اور جنتیوں سے کھانے کے ایک نوالے اور پانی کے دو گھونٹ مانگ رہے ہوں گے، اعراف والے جنت اور جہنم والوں میں اپنے جاننے والوں کو پہچانیں گے ان سے گفتگو کریں گے، اہل جنت کے نظارے بہت خوبصورت ہوں گے جبکہ کہ اہل جہنم بد شکل اور سیاہ اور ذلت و رسوائی کے عالم میں ہوں گے ۔
🌨️⛈️ آیت 57 میں بتایا کہ اللہ کے حکم سے ہوا پانی سے بھرے ہوئے بادلوں کو چلا کر لے جاتی ہے اور بنجر زمین پر برسا کر اس پر اللہ کی نعمتیں پیدا کرتی ہے، پھر فرمایا کہ
اس سورت میں 24 رکوع اور 206 آیتیں ہیں۔
*وجہ*
اعراف کا معنی ہے بلند جگہ، اس سورت کی آیت نمبر 46 میں جنت اور دوزخ کے درمیان ایک جگہ اعراف کا ذکر ہے جو کہ بہت بلند ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ اعراف ‘‘رکھا گیا۔
🕋 اس سے پہلے والی سورت کا مرکزی مضمون توحید تھا، اور اس سورت کا مرکزی مضمون رسالت ہے، اس کے ساتھ ہی جنت اور جہنم اور قیامت کے موضوع کو بھی کافی بیان کیا گیا ہے۔
📖 سورت کی ابتدا میں قرآن کریم کی حقانیت کو ایک انوکھے انداز میں بیان کیا گیا ہے، جس میں ایک طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت افزائی ہے تو دوسری طرف آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ کتاب قرآن پاک آپ کی طرف اس لئے نازل کیا گیا تاکہ آپ اس کے ذریعے لوگوں کو اللہ پاک کے عذاب سے ڈرائیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں لوگوں کے سابقہ طرز عمل کی وجہ سے اور اس خیال سے کہ لوگ نہ مانیں گے اور اس پر اعتراض کریں گے اور اسے جھٹلانے لگیں گے اس کی تبلیغ فرمانے سے کوئی تنگی نہ آئے، آپ ان کفار کی مخالفت کی ذرہ بھر پروا نہ کریں کہ یہ لوگ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں گے کیوں کہ اس سے پہلے بھی ایسی قومیں گزری ہیں جنہیں وحی الہی کے انکار پر پلک جھپکتے میں نیست ونابود کر دیا گیا۔
❌ آیت 11 سے 27 میں ہے کہ جب ابلیس نے اللہ پاک کے حکم پر حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کو سجدہ نہ کیا تو اللہ پاک نے اس سے فرمایا کہ تم کو سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا؟ تو اس نے اپنی سرکشی کا جواز عقلی دلیل سے پیش کیا، اس نے کہا کہ آدم علیہ السلام سے میں بہتر ہو کیوں کہ انہیں مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور میرا وجود آگ کا
ہے اور لطیف ہونے کی بنا پر آگ مٹی سے افضل ہے، جبکہ یہ غلط ہے،اس کے تکبر کی وجہ سے اللہ پاک نے اسکو مقام عزت سے نکال دیا اور وہ رسوا ہوا، ابلیس نے اللہ پاک سے قیامت تک مہلت طلب کی تو اللہ پاک نے مہلت عطا فرمادی، اس پر اس نے کہا کے میں صراط مستقیم پر گھات لگا کر بیٹھ جاؤں گا اور بنی آدم کو دائیں بائیں آگے پیچھے ہر جگہ سے گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا،اللہ پاک نے فرمایا کہ تمہارے پیروکار جہنم میں جائیں گے، اللہ پاک نے آدم علیہ السلام اور بی بی حوا رضی اللہ تعالی عنہا کو جنت میں داخل کیا، ان کو ایک خاص درخت کے قریب جانے سے منع فرمایا، شیطان نے ان کو وسوسہ ڈالا اور مخلص اور خیرخواہ کا روپ اختیار کرکے کہا : کہ آپ لوگوں کو قریب جانے سے محض اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اس کے قریب اگر آپ لوگ فرشتے بن جائیں گے اور آپ لوگوں کو اپنی ابدی زندگی مل جائے گی، اس نے قسم کھانا شروع کر دی اور اپنی خیرخواہی کا یقین دلانا شروع کر دیا، حضرت آدم علیہ السلام کے دل میں چونکہ اللہ پاک کے نام کی عظمت انتہا درجے کی تھی، اس لئے آپ علیہ السلام کو گمان بھی نہ تھا کہ اللہ پاک کی قسم کھا کر کوئی جھوٹ بھی بول سکتا ہے، نیز جنت قرب الہٰی کا مقام تھا اور حضرت آدم علیہ السلام کو بھی اُس مقام قرب میں رہنے کا اشتیاق تھا اور فرشتہ بننے یا دائمی بننے سے یہ مقام حاصل ہوسکتا ہے، لہٰذا آپ نے شیطان کی قسم کا اعتبار کر لیا اور ممانعت کو محض تنزیہی سمجھتے ہوئے یا خاص درخت کی ممانعت سمجھتے ہوئے اسی جنس کے دوسرے درخت سے کھالیا، پھر انھوں نے استغفار کیا، اللہ پاک نے ان پر خاص نظر رحمت فرمائی، پھر انھیں جنت سے زمین کی طرف اتارا گیا اور فرمایا گیا کہ ایک مقررہ مدت تک آپ کو یہاں رہنا ہے۔
🥼 آگے چل کر مقصد لباس کو بیان فرمایا کہ ہم نے بنی آدم پر لباس اس لئے اتارا کہ ان کی ستر پوشی ہو، وہ اپنے اعضاء کو ڈھانکے اور جو سامان زینت ہے وہ حاصل کریں اور سب سے بہتر لباس تقویٰ کا لباس ہے، آدم علیہ السلام کی اولاد کو شیطان کے شر سے بچنے کے لیے ایک انتہائی حکمت بھرے انداز میں خطاب فرمایا گیا " کہ اے بنی آدم وہ شیطان جس نے تمہارے والدین کو جنت سے اتروانے کی سازش کی وہ تمہیں فتنے میں مبتلا کرکے جنت سے محروم نہ کردے۔لہذا شیطان کی دھوکے بازیوں سے بچو۔
💥 اس کے بعد قیامت کے دن کی منظر کشی کرتے ہوئے اصحاب الجنہ، اصحاب النار اور اصحاب اعراف کا تذکرہ ہے جس میں جنت والے جہنم والوں کا ویسے ہی مذاق اڑائیں گے جیسے وہ لوگ دنیا میں ان کی نیکی اور اصلاح و تقویٰ کا مذاق اڑایا کرتے تھے، ایسا منظر ہوگا کہ جنت والے انعامات اور عیش و عشرت کے مزے لے رہے ہونگے اور جہنم والے اذیت اور تکلیف میں مبتلا ہوں گے اور جنتیوں سے کھانے کے ایک نوالے اور پانی کے دو گھونٹ مانگ رہے ہوں گے، اعراف والے جنت اور جہنم والوں میں اپنے جاننے والوں کو پہچانیں گے ان سے گفتگو کریں گے، اہل جنت کے نظارے بہت خوبصورت ہوں گے جبکہ کہ اہل جہنم بد شکل اور سیاہ اور ذلت و رسوائی کے عالم میں ہوں گے ۔
🌨️⛈️ آیت 57 میں بتایا کہ اللہ کے حکم سے ہوا پانی سے بھرے ہوئے بادلوں کو چلا کر لے جاتی ہے اور بنجر زمین پر برسا کر اس پر اللہ کی نعمتیں پیدا کرتی ہے، پھر فرمایا کہ
اچھی زمین کا سبزہ اللہ کے حکم سے نکلتا ہے اور خراب زمین باغ وبہار نہیں لے کر آتی، مثالیں دے کر قرآن نے یہ بتایا کہ انسانوں کے دل ودماغ کی جو حالت ہے وہ زمین کی مانند ہے یعنی پاکیزہ دل اور دماغ میں ایمان قرار پاتا ہے اور اعمال کے ثمرات پیدا ہوتے ہیں اس کے لیے وہ پھل پیدا ہوتے ہیں جبکہ خبیث دل میں خیر کے پھل پیدا نہیں ہوتے۔
🌎 آیت 59 میں انبیاء کرام علیہم السلام کی قوموں کا ذکر ہے، نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کے حالات بیان کئے گئے ہیں ان کی قوم کے سرداروں نے کہا کہ معاذ اللہ آپ تو کھلی گمراہی میں ہیں، نوح علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تو اللہ کا رسول ہوں میرا کام تمہاری خیر خواہی اور دعوت حق پہنچانا ہے۔
🔮 آیت 65 سے ہود علیہ السّلام کا تذکرہ ہے، انہوں نے قوم عاد کو دعوت توحید دی، انھوں نے ہود علیہ السلام کو معاذاللہ بےوقوف اور نہ سمجھ کہ کر انکار کر دیا، اللہ پاک نے ان پر آندھی اور طوفان کا عذاب بھیج کر انھیں ہلاک کردیا اور اپنے نبی علیہ السلام اور ان کے ماننے والوں کو بچا لیا۔
🌎 پھر قوم ثمود کا تذکرہ کہ صالح علیہ السلام نے دعوت توحید اپنی قوم کو دی، انہوں نے انکار کیا اور بلاوجہ کے مطالبے شروع کر دیے ، وہ لوگ پتھر کو تراش کر مکان بنانے میں بڑے ماہر تھے، تو کہنے لگے کہ پہاڑ سے اوٹنی پیدا کرکے دکھائیے جو نکلتے ہی بچہ بھی جنے، جب اللہ پاک نے اونٹنی پہاڑ سے ظاہر فرمادی تو انہوں نے اسے قتل کردیا اور حد سے بڑھ گئے، اللہ پاک نے اس گستاخی پر انھیں ہلاک فرمادیا۔
⚫ پھر قوم لوط کا ذکر ہے، وہ اپنی جنسی خواہش کو غیر فطری طریقے سے پورا کرتے تھے معاذاللہ، جس کو ہم جنس پرستی کہتے ہیں، اور جب اللہ کے نبی عذاب کا ڈر سناتے تو وہ اسے مذاق سمجھتے آخر کار اللہ پاک نے ان پر عذاب نازل کیا ، آسمان سے پتھر برسائے گئے اور اس طرح ان کا نام و نشان مٹا دیا گیا کہ گویا تھے ہی نہیں، یہاں تک کہ لوط علیہ السلام کی وہ بیوی جو قوم لوط کی ہم خیال تھی، وہ بھی عذاب سے نہ بچ سکی، کیوں کہ وہ لوط علیہ السلام کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بناتی اور لوط علیہ السلام کے خلاف باتیں کیا کرتی تھی، لوط علیہ الصلاۃ والسلام اور ان کے ساتھ تقریباً 72 افراد محفوظ رہے۔
🌊 پھر مدین کا ذکر ہے جو شعیب علیہ السلام کی قوم ہے، انہیں توحید کی دعوت دی گئی اور تجارت میں جو بددیانتی کرتے اسے منع کر کے ناپ تول پورا کرنے کی تلقین فرمائی اور انہیں یہ بھی حکم فرمایا گیا کہ راہ گیروں اور مسافروں کو ڈرانے دھمکانے سے باز رہہں، مگر وہ لوٹ مار کرتے اور شعیب علیہ الصلاۃ والسلام کی مخالفت پر اتر آئے، شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ اے میری قوم تمہارے دو گروہ بن چکے ہیں، ایمان والے اور کفر والے، لہذا اب عذاب کا انتظار کرو، عنقریب ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ پاک فیصلہ فرما دے گا۔انہی کے ذکر پر پارے کا اختتام ہوتا ہے۔
📱+92-321-2094919
🌎 آیت 59 میں انبیاء کرام علیہم السلام کی قوموں کا ذکر ہے، نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کے حالات بیان کئے گئے ہیں ان کی قوم کے سرداروں نے کہا کہ معاذ اللہ آپ تو کھلی گمراہی میں ہیں، نوح علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تو اللہ کا رسول ہوں میرا کام تمہاری خیر خواہی اور دعوت حق پہنچانا ہے۔
🔮 آیت 65 سے ہود علیہ السّلام کا تذکرہ ہے، انہوں نے قوم عاد کو دعوت توحید دی، انھوں نے ہود علیہ السلام کو معاذاللہ بےوقوف اور نہ سمجھ کہ کر انکار کر دیا، اللہ پاک نے ان پر آندھی اور طوفان کا عذاب بھیج کر انھیں ہلاک کردیا اور اپنے نبی علیہ السلام اور ان کے ماننے والوں کو بچا لیا۔
🌎 پھر قوم ثمود کا تذکرہ کہ صالح علیہ السلام نے دعوت توحید اپنی قوم کو دی، انہوں نے انکار کیا اور بلاوجہ کے مطالبے شروع کر دیے ، وہ لوگ پتھر کو تراش کر مکان بنانے میں بڑے ماہر تھے، تو کہنے لگے کہ پہاڑ سے اوٹنی پیدا کرکے دکھائیے جو نکلتے ہی بچہ بھی جنے، جب اللہ پاک نے اونٹنی پہاڑ سے ظاہر فرمادی تو انہوں نے اسے قتل کردیا اور حد سے بڑھ گئے، اللہ پاک نے اس گستاخی پر انھیں ہلاک فرمادیا۔
⚫ پھر قوم لوط کا ذکر ہے، وہ اپنی جنسی خواہش کو غیر فطری طریقے سے پورا کرتے تھے معاذاللہ، جس کو ہم جنس پرستی کہتے ہیں، اور جب اللہ کے نبی عذاب کا ڈر سناتے تو وہ اسے مذاق سمجھتے آخر کار اللہ پاک نے ان پر عذاب نازل کیا ، آسمان سے پتھر برسائے گئے اور اس طرح ان کا نام و نشان مٹا دیا گیا کہ گویا تھے ہی نہیں، یہاں تک کہ لوط علیہ السلام کی وہ بیوی جو قوم لوط کی ہم خیال تھی، وہ بھی عذاب سے نہ بچ سکی، کیوں کہ وہ لوط علیہ السلام کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بناتی اور لوط علیہ السلام کے خلاف باتیں کیا کرتی تھی، لوط علیہ الصلاۃ والسلام اور ان کے ساتھ تقریباً 72 افراد محفوظ رہے۔
🌊 پھر مدین کا ذکر ہے جو شعیب علیہ السلام کی قوم ہے، انہیں توحید کی دعوت دی گئی اور تجارت میں جو بددیانتی کرتے اسے منع کر کے ناپ تول پورا کرنے کی تلقین فرمائی اور انہیں یہ بھی حکم فرمایا گیا کہ راہ گیروں اور مسافروں کو ڈرانے دھمکانے سے باز رہہں، مگر وہ لوٹ مار کرتے اور شعیب علیہ الصلاۃ والسلام کی مخالفت پر اتر آئے، شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ اے میری قوم تمہارے دو گروہ بن چکے ہیں، ایمان والے اور کفر والے، لہذا اب عذاب کا انتظار کرو، عنقریب ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ پاک فیصلہ فرما دے گا۔انہی کے ذکر پر پارے کا اختتام ہوتا ہے۔
📱+92-321-2094919
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📕 *فیضان خلاصہ تراویح*📕
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*
📣 *نواں پارہ، قال الملا*
⚖️ آٹھویں پارے کے آخر میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا قصہ شروع ہوا اس کا باقی حصہ اس پارے کے شروع میض مذکور ہے کہ قوم کے سرداروں نے دھمکی دی کہ آپ اور آپ کے ساتھی اپنے خیالات سے تائب ہو کر ہمارے طریقے پر نہ لوٹے تو ہم آپ لوگوں کو در بدر کر دیں گے، اس پر اہل ایمان نے کہا کہ اللہ نے ہمیں کفر سے نجات دے کر ایمان سے سرفراز فرمایا ہے تو اب ہم کیسے گمراہی کی طرف جا سکتے ہیں؟ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں وہ ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے اور حق کو غالب کر دے، چنانچہ بڑی شدت کا زلزلہ آیا اور ان کی قوم کو بری طرح تباہ کردیا گیا اور مومنوں کو عافیت کے ساتھ بچالیا گیا، اس پر شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب کے فرمان کو پورا کیا ان تک حق کو پہنچایا مگر انھوں نے تسلیم نہ کیا ، اب میں کافر قوم پر کیسے غم کروں؟
🌊 آیت 103 سے 108 میں حضرت موسی علیہ السلام اور فرعون کا ذکر ہے۔ اس واقعے کو قرآن پاک میں مختلف مقامات پر مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے،
یہاں بیان کیا گیا کہ اس سے پہلی آیات میں جن انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر ہوا ان کے بعد ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی صداقت پر دلالت کرنے والی نشانیوں جیسے روشن ہاتھ اور عصا وغیرہ معجزات کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا توانہوں نے ان نشانیوں پر زیادتی کی کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جو نشانیاں لے کر آئے تھے وہ بالکل صاف واضح اور ظاہر تھیں لیکن پھر بھی فرعون اور اس کے درباریوں نے اقرار کی بجائے انکار ہی کیا تو انہوں نے اقرار کی جگہ انکار اور ایمان کی جگہ کفر کو رکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نشانیوں کے ساتھ زیادتی کی تو اے حبیب ! صلی الله عليه وسلم ، آپ نگاہِ بصیرت سے دیکھیں کہ فسادیوں کا کیسا انجام ہوا اور ہم نے انہیں کس طرح ہلاک کیا۔
📢 جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی رسالت کی تبلیغ مکمل فرمائی تو فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: اگر آپ کے پاس اپنی صداقت کی کوئی نشانی ہے تومیرے سامنے اسے ظاہر کریں تاکہ پتا چل جائے کہ آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں یا نہیں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ،وہ فورا ً ایک ظاہر اژدہا بن گیا۔
☀️ پھر دوسرے معجزے کا ذکر ہے کہ آپ نے ا پنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ دیکھنے والوں کے سامنے جگمگانے لگا اور اس کی روشنی اور چمک نورِ آفتاب پر غالب ہوگئی۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو اپنا ہاتھ دکھا کر پوچھا کہ’’ یہ کیا ہے؟ فرعون نے جواب دیا :آپ کا ہاتھ ہے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ا پنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکا لا تو وہ جگمگانے لگا۔
✅ فرعون نے ان معجزات کو جادو کہ دیا، پھر مقابلے کے لئے ایک وقت طے ہوا، موسی علیہ السلام کا عصا اژدھا بن گیا،اس نے جادوگروں کی رسیوں کو جو نظر بندی کی وجہ سے سانپ لگ رہے تھے نگل لیا، جادو گر جو اپنے فن کے ماہر تھے وہ سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں ہے، یہ معجزہ ہی ہے وہ سب مسلمان ہو کر سجدے میں گر گئے، فرعون نے دیکھا تو کہا کہ یہ سب جادوگروں کا استاد ہے، ان سب جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر سولی چڑھا دیا گیا لیکن اب وہ ایمان لا چکے تھے اور موسی علیہ السلام کے صحابہ بن گئے اور شہید بھی ہوئے۔
💥 آیت 130 میں فرعونیوں پر عذاب کے سلسلے کو بیان کیا گیا ہے، اللہ پاک نے ان پر جوں، خون، مینڈک، ٹڈیوں اور طوفان کا پے در پے عذاب بھیجا، جب بھی ان پر عذاب کی شکل ظاہر ہوتی تو یہ چھوٹے وعدے کرکے حضرت موسی علیہ السلام سے دعا کروا لیتے عذاب کے ختم ہوتے ہی پھر نافرمانی پر اتر آتے، جب بار بار فرعونیوں کو عذابوں سے نجات دی گئی اور وہ کسی عہد پر قائم نہ رہے اور ایمان نہ لائے اور کفر نہ چھوڑا تو جو میعاداُن کے لئے مقرر فرمائی گئی تھی وہ پوری ہونے کے بعد اُنہیں اللہ پاک نے دریائے نیل میں غرق کرکے ہلاک کردیا۔
❌ دسویں محرم کے دن فرعون اور اس کی قوم کو غرق کرنے کے بعد اللہ پاک نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم کے پاس سے ہوا جو اپنے بتوں کے آگے جم کر بیٹھے ہوئے تھے اور اُن کی عبادت کرتے تھے، یہاں سے بنی اسرائیل کے دل میں بچھڑا پوجنے کا شوق پیدا ہوا جس کا نتیجہ بعد میں گائے پرستی کی شکل میں نمودار ہوا۔ اُن کو دیکھ کر بنی اسرائیل نے موسی علیہ السلام سے کہا: اے موسیٰ! جس طرح ان کے لئے کئی معبود ہیں جن کی یہ عبادت اور تعظیم کرتے ہیں ہمارے لئے بھی ایسا ہی ایک معبود بنادو تاکہ ہم بھی ا س کی عبادت کریں اور تعظیم بجا لائیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے فرمایا: بیشک تم جا ہل لوگ ہو کہ اتنی نشانیاں دیکھ کر بھی نہ سمجھے کہ اللہ پاک واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔
📖 حضرت موسیٰ علیہ السلام ن
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*
📣 *نواں پارہ، قال الملا*
⚖️ آٹھویں پارے کے آخر میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا قصہ شروع ہوا اس کا باقی حصہ اس پارے کے شروع میض مذکور ہے کہ قوم کے سرداروں نے دھمکی دی کہ آپ اور آپ کے ساتھی اپنے خیالات سے تائب ہو کر ہمارے طریقے پر نہ لوٹے تو ہم آپ لوگوں کو در بدر کر دیں گے، اس پر اہل ایمان نے کہا کہ اللہ نے ہمیں کفر سے نجات دے کر ایمان سے سرفراز فرمایا ہے تو اب ہم کیسے گمراہی کی طرف جا سکتے ہیں؟ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں وہ ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے اور حق کو غالب کر دے، چنانچہ بڑی شدت کا زلزلہ آیا اور ان کی قوم کو بری طرح تباہ کردیا گیا اور مومنوں کو عافیت کے ساتھ بچالیا گیا، اس پر شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب کے فرمان کو پورا کیا ان تک حق کو پہنچایا مگر انھوں نے تسلیم نہ کیا ، اب میں کافر قوم پر کیسے غم کروں؟
🌊 آیت 103 سے 108 میں حضرت موسی علیہ السلام اور فرعون کا ذکر ہے۔ اس واقعے کو قرآن پاک میں مختلف مقامات پر مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے،
یہاں بیان کیا گیا کہ اس سے پہلی آیات میں جن انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر ہوا ان کے بعد ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی صداقت پر دلالت کرنے والی نشانیوں جیسے روشن ہاتھ اور عصا وغیرہ معجزات کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا توانہوں نے ان نشانیوں پر زیادتی کی کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جو نشانیاں لے کر آئے تھے وہ بالکل صاف واضح اور ظاہر تھیں لیکن پھر بھی فرعون اور اس کے درباریوں نے اقرار کی بجائے انکار ہی کیا تو انہوں نے اقرار کی جگہ انکار اور ایمان کی جگہ کفر کو رکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نشانیوں کے ساتھ زیادتی کی تو اے حبیب ! صلی الله عليه وسلم ، آپ نگاہِ بصیرت سے دیکھیں کہ فسادیوں کا کیسا انجام ہوا اور ہم نے انہیں کس طرح ہلاک کیا۔
📢 جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی رسالت کی تبلیغ مکمل فرمائی تو فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: اگر آپ کے پاس اپنی صداقت کی کوئی نشانی ہے تومیرے سامنے اسے ظاہر کریں تاکہ پتا چل جائے کہ آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں یا نہیں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ،وہ فورا ً ایک ظاہر اژدہا بن گیا۔
☀️ پھر دوسرے معجزے کا ذکر ہے کہ آپ نے ا پنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ دیکھنے والوں کے سامنے جگمگانے لگا اور اس کی روشنی اور چمک نورِ آفتاب پر غالب ہوگئی۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو اپنا ہاتھ دکھا کر پوچھا کہ’’ یہ کیا ہے؟ فرعون نے جواب دیا :آپ کا ہاتھ ہے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ا پنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکا لا تو وہ جگمگانے لگا۔
✅ فرعون نے ان معجزات کو جادو کہ دیا، پھر مقابلے کے لئے ایک وقت طے ہوا، موسی علیہ السلام کا عصا اژدھا بن گیا،اس نے جادوگروں کی رسیوں کو جو نظر بندی کی وجہ سے سانپ لگ رہے تھے نگل لیا، جادو گر جو اپنے فن کے ماہر تھے وہ سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں ہے، یہ معجزہ ہی ہے وہ سب مسلمان ہو کر سجدے میں گر گئے، فرعون نے دیکھا تو کہا کہ یہ سب جادوگروں کا استاد ہے، ان سب جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر سولی چڑھا دیا گیا لیکن اب وہ ایمان لا چکے تھے اور موسی علیہ السلام کے صحابہ بن گئے اور شہید بھی ہوئے۔
💥 آیت 130 میں فرعونیوں پر عذاب کے سلسلے کو بیان کیا گیا ہے، اللہ پاک نے ان پر جوں، خون، مینڈک، ٹڈیوں اور طوفان کا پے در پے عذاب بھیجا، جب بھی ان پر عذاب کی شکل ظاہر ہوتی تو یہ چھوٹے وعدے کرکے حضرت موسی علیہ السلام سے دعا کروا لیتے عذاب کے ختم ہوتے ہی پھر نافرمانی پر اتر آتے، جب بار بار فرعونیوں کو عذابوں سے نجات دی گئی اور وہ کسی عہد پر قائم نہ رہے اور ایمان نہ لائے اور کفر نہ چھوڑا تو جو میعاداُن کے لئے مقرر فرمائی گئی تھی وہ پوری ہونے کے بعد اُنہیں اللہ پاک نے دریائے نیل میں غرق کرکے ہلاک کردیا۔
❌ دسویں محرم کے دن فرعون اور اس کی قوم کو غرق کرنے کے بعد اللہ پاک نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم کے پاس سے ہوا جو اپنے بتوں کے آگے جم کر بیٹھے ہوئے تھے اور اُن کی عبادت کرتے تھے، یہاں سے بنی اسرائیل کے دل میں بچھڑا پوجنے کا شوق پیدا ہوا جس کا نتیجہ بعد میں گائے پرستی کی شکل میں نمودار ہوا۔ اُن کو دیکھ کر بنی اسرائیل نے موسی علیہ السلام سے کہا: اے موسیٰ! جس طرح ان کے لئے کئی معبود ہیں جن کی یہ عبادت اور تعظیم کرتے ہیں ہمارے لئے بھی ایسا ہی ایک معبود بنادو تاکہ ہم بھی ا س کی عبادت کریں اور تعظیم بجا لائیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے فرمایا: بیشک تم جا ہل لوگ ہو کہ اتنی نشانیاں دیکھ کر بھی نہ سمجھے کہ اللہ پاک واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔
📖 حضرت موسیٰ علیہ السلام ن
ے مصر میں بنی اسرائیل سے وعدہ فرمایا تھا کہ جب اللہ پاک اُن کے دشمن فرعون کو ہلاک فرما دے گا تو وہ اُن کے پاس اللہ پاک کی جانب سے ایک کتاب لائیں گے جس میں حلال و حرام کا بیان ہوگا۔ جب اللہ پاک نے فرعون کو ہلاک کر دیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ پاک سے اُس کتاب کو نازل فرمانے کی درخواست کی، انہیں حکم ملا کہ تیس روزے رکھیں پھر مزید دس روزوں کا حکم ہوا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہاڑ پر مناجات کے لئے جاتے وقت اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام سے فرمایا ’’تم میرے واپس آنے تک میری قوم میں میرے نائب بن کر رہو،حضرت ہارون علیہ سلام کو وہاں نائب بنا کر حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور پر چالیس دن کے لیے تشریف لے گئے، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کلام سننے کے لئے حاضر ہوئے تو آپ نے طہارت کی اور پاکیزہ لباس پہنا اور روزہ رکھ کر طورِ سینا میں حاضر ہوئے۔ آپ کے لئے آسمان کھول دیا گیا تو آپ نے ملائکہ کو ملاحظہ فرمایا کہ ہوا میں کھڑے ہیں اور آپ نے عرشِ الٰہی کو صاف دیکھا یہاں تک کہ اَلواح پر قلموں کی آواز سنی اور اللہ پاک نے آپ سے کلام فرمایا،حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کلامِ ربانی کی لذت نے اس کے دیدار کا آرزو مند بنایا۔چنانچہ اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کی: اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کرلوں ‘‘ یعنی صرف دل یا خیال کا دیدار نہیں مانگتا بلکہ آنکھ کا دیدار چاہتا ہوں کہ جیسے تو نے میرے کان سے حجاب اٹھا دیا تو میں نے تیرا کلامِ قدیم سن لیا ایسے ہی میری آنکھ سے پردہ ہٹا دے تاکہ تیرا جمال دیکھ لوں۔ اللہ پاک نے ان سے ارشاد فرمایا: تم دنیا میں میرا دیدار کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
یاد رہے دنیا میں صرف ایک ہستی کے لئے اللہ پاک کا دیدار جاگتے میں سر کی آنکھوں سے کرنا ممکن ہے اور وہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
📝 آیت 172 میں ایک عہد کا ذکر ہے۔اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السلام کی نسل میں قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی روحوں کو جمع کیا اور فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا ہاں تو ہی ہمارا رب ہے، اس عہد کی یاد دھانی کے لئے اسے یہاں ذکر کیا تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں یاد نہیں تھا، یہ شرک ہمارے باپ دادا سے ہمیں ملا ہے،کیونکہ عالم ارواح میں ہر ایک نے اقرار کیا تھا۔
💰💎 پھر بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر ہے کہ اللہ نے اسے علم اور کرامات سے نوازا تھا، بد قسمتی سے اس شخص پر شیطان غالب آ یا، اپنی نفسانی خواہش اور مال و دولت کی حرص کی وجہ سے ایسی پستی میں گرا دیا گیا کہ کتے کی شکل ہوگیا۔ اس کا نام بلعم بن باعوراء تھا جو کہ ایک ولی تھا۔ لوح محفوظ کو دیکھ لیتا تھا۔ مستجاب الدعوات تھا لیکن لالچ نے اس کا ایمان برباد کر دیا، بنی اسرائیل کے لوگ اس کے پاس حضرت موسی علیہ السلام کے لیے بد دعا کروانے آئے، پہلے تو وہ منع کرتا رہا، پھر مال و دولت کی لالچ میں بددعا کرنے بیٹھا تو تو الفاظ اسکے اپنے لئے نکلنے لگے، یہ اللہ کی خفیہ تدبیر ہے۔
🌼 پھر فرمایا کہ اللہ کے بندوں میں ایسے نیک سیرت لوگ بھی ہیں جو حق کے ذریعے نصیحت کرتے ہیں اور ایسے بھی لوگ ہیں جو حق کو جھٹلاتے ہیں پھر انکی پکڑ بھی بہت شدید ہے، پھر حضرت آدم علیہ السلام سے ایک انسانی تخلیق کا تذکرہ ہے، زوجین کو ایک دوسرے سے راحت کا ذکر ہے، شرک کی مذمت کہ ایسے کمزوروں کو اللہ کا شریک بناتے ہیں جو خود اپنی پیدائش کے محتاج ہیں۔جن بتوں کو وہ اپنا معبود سمجھتے ہیں جو چلنے پھرنے اور دیکھنے سے محروم ہیں۔
جو اللہ کی راہ کی طرف بلانے والا تھا، اس کو اچھے اخلاق کی تلقین اور عفو درگزر کرنے، شیطان کی اتباع چھوڑ کر اللہ کی اطاعت کو اختیار کرنے کا ذکر ہے،
📗 پھر اگلی آیات میں حکم ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو خاموشی سے سننا ضروری ہے، اور صبح و شام اللہ کو یاد کرو آخری آیت میں فرمایا ہے کہ جو اللہ کے مقرب بندے ہوتے ہیں وہ عاجزی کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، تسبیح و تہلیل کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
-------------------
💰💎 *سورہ انفال*
صحیح قول کے مطابق یہ سورت مدنی ہے۔اور ایک قول یہ ہے کہ یہ سورت ان سات آیتوں کے علاوہ مدنی ہے جو مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں۔
اس سورت میں 10 رکوع اور 75 آیتیں ہیں۔
*وجہ*
اَنفال نَفَل کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے غنیمت کا مال، اس سورت کی پہلی آیت میں اَنفال یعنی مالِ غنیمت کے احکام کے بارے میں مسلمانوں کے سوال اور انہیں دئیے جانے والے جواب کا ذکر ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ اَنفال‘‘ رکھا گیا۔
❓پہلی آیت میں فرمایا گیا کہ آپ سے مال غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ فرما دیجئےکے مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔ پھر کامل ایمان والوں کی صفات اور ظاہری و باطنی کیفیت کا ذکر ہے کہ مومن صرف اللہ کا ذکر سن کر لرز اٹھتے ہیں اور آیت قرآنی سن کر ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے ان کا ایمان اللہ پر ہوتا ہے اخلاص کے ساتھ نمازیں قائم ک
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہاڑ پر مناجات کے لئے جاتے وقت اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام سے فرمایا ’’تم میرے واپس آنے تک میری قوم میں میرے نائب بن کر رہو،حضرت ہارون علیہ سلام کو وہاں نائب بنا کر حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور پر چالیس دن کے لیے تشریف لے گئے، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کلام سننے کے لئے حاضر ہوئے تو آپ نے طہارت کی اور پاکیزہ لباس پہنا اور روزہ رکھ کر طورِ سینا میں حاضر ہوئے۔ آپ کے لئے آسمان کھول دیا گیا تو آپ نے ملائکہ کو ملاحظہ فرمایا کہ ہوا میں کھڑے ہیں اور آپ نے عرشِ الٰہی کو صاف دیکھا یہاں تک کہ اَلواح پر قلموں کی آواز سنی اور اللہ پاک نے آپ سے کلام فرمایا،حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کلامِ ربانی کی لذت نے اس کے دیدار کا آرزو مند بنایا۔چنانچہ اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کی: اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کرلوں ‘‘ یعنی صرف دل یا خیال کا دیدار نہیں مانگتا بلکہ آنکھ کا دیدار چاہتا ہوں کہ جیسے تو نے میرے کان سے حجاب اٹھا دیا تو میں نے تیرا کلامِ قدیم سن لیا ایسے ہی میری آنکھ سے پردہ ہٹا دے تاکہ تیرا جمال دیکھ لوں۔ اللہ پاک نے ان سے ارشاد فرمایا: تم دنیا میں میرا دیدار کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
یاد رہے دنیا میں صرف ایک ہستی کے لئے اللہ پاک کا دیدار جاگتے میں سر کی آنکھوں سے کرنا ممکن ہے اور وہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
📝 آیت 172 میں ایک عہد کا ذکر ہے۔اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السلام کی نسل میں قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی روحوں کو جمع کیا اور فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا ہاں تو ہی ہمارا رب ہے، اس عہد کی یاد دھانی کے لئے اسے یہاں ذکر کیا تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں یاد نہیں تھا، یہ شرک ہمارے باپ دادا سے ہمیں ملا ہے،کیونکہ عالم ارواح میں ہر ایک نے اقرار کیا تھا۔
💰💎 پھر بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر ہے کہ اللہ نے اسے علم اور کرامات سے نوازا تھا، بد قسمتی سے اس شخص پر شیطان غالب آ یا، اپنی نفسانی خواہش اور مال و دولت کی حرص کی وجہ سے ایسی پستی میں گرا دیا گیا کہ کتے کی شکل ہوگیا۔ اس کا نام بلعم بن باعوراء تھا جو کہ ایک ولی تھا۔ لوح محفوظ کو دیکھ لیتا تھا۔ مستجاب الدعوات تھا لیکن لالچ نے اس کا ایمان برباد کر دیا، بنی اسرائیل کے لوگ اس کے پاس حضرت موسی علیہ السلام کے لیے بد دعا کروانے آئے، پہلے تو وہ منع کرتا رہا، پھر مال و دولت کی لالچ میں بددعا کرنے بیٹھا تو تو الفاظ اسکے اپنے لئے نکلنے لگے، یہ اللہ کی خفیہ تدبیر ہے۔
🌼 پھر فرمایا کہ اللہ کے بندوں میں ایسے نیک سیرت لوگ بھی ہیں جو حق کے ذریعے نصیحت کرتے ہیں اور ایسے بھی لوگ ہیں جو حق کو جھٹلاتے ہیں پھر انکی پکڑ بھی بہت شدید ہے، پھر حضرت آدم علیہ السلام سے ایک انسانی تخلیق کا تذکرہ ہے، زوجین کو ایک دوسرے سے راحت کا ذکر ہے، شرک کی مذمت کہ ایسے کمزوروں کو اللہ کا شریک بناتے ہیں جو خود اپنی پیدائش کے محتاج ہیں۔جن بتوں کو وہ اپنا معبود سمجھتے ہیں جو چلنے پھرنے اور دیکھنے سے محروم ہیں۔
جو اللہ کی راہ کی طرف بلانے والا تھا، اس کو اچھے اخلاق کی تلقین اور عفو درگزر کرنے، شیطان کی اتباع چھوڑ کر اللہ کی اطاعت کو اختیار کرنے کا ذکر ہے،
📗 پھر اگلی آیات میں حکم ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو خاموشی سے سننا ضروری ہے، اور صبح و شام اللہ کو یاد کرو آخری آیت میں فرمایا ہے کہ جو اللہ کے مقرب بندے ہوتے ہیں وہ عاجزی کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، تسبیح و تہلیل کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
-------------------
💰💎 *سورہ انفال*
صحیح قول کے مطابق یہ سورت مدنی ہے۔اور ایک قول یہ ہے کہ یہ سورت ان سات آیتوں کے علاوہ مدنی ہے جو مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں۔
اس سورت میں 10 رکوع اور 75 آیتیں ہیں۔
*وجہ*
اَنفال نَفَل کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے غنیمت کا مال، اس سورت کی پہلی آیت میں اَنفال یعنی مالِ غنیمت کے احکام کے بارے میں مسلمانوں کے سوال اور انہیں دئیے جانے والے جواب کا ذکر ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ اَنفال‘‘ رکھا گیا۔
❓پہلی آیت میں فرمایا گیا کہ آپ سے مال غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ فرما دیجئےکے مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔ پھر کامل ایمان والوں کی صفات اور ظاہری و باطنی کیفیت کا ذکر ہے کہ مومن صرف اللہ کا ذکر سن کر لرز اٹھتے ہیں اور آیت قرآنی سن کر ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے ان کا ایمان اللہ پر ہوتا ہے اخلاص کے ساتھ نمازیں قائم ک