🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.87K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.81K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مخدوم شیخ رکن الدین سہروردی جونپوری علیہ الرحمہ

نام: رکن الدین ۔ لقب: مخدوم، شیخ ۔

نسب:
حضرت مخدوم شیخ رکن الدین رحمتہ اللہ علیہ حضرت خواجہ عبداللہ انصاری رحمتہ اللہ علیہ کے خاندان سے تھے ۔

ان کے والدِ بزرگ گوار مخدوم صدر الدین ہجرت کر کے ہندوستان آئے اور دہلی میں آباد ہو گئے ۔

ولادت:
مخدوم رکن الدین رحمۃ اللہ علیہ کی جائے پیدائش اور تاریخ پیدائش کا حوالہ کسی تذکرہ و تاریخ کی کتاب میں نہیں ملتا لیکن زیادہ قیاس یہی ہے کہ وہ دہلی میں پیدا ہوئے ـ مگر جب دہلی پر امیر تیمور کے حملے کی خبر عام ہوئی تو دہلی سے ہجرت کرکے جون پور چلے آئے ۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ سہروردیہ میں حضرت بابو تاج الدین رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ تھے اور انہیں حضرت مخدوم جہانیاں رحمۃ اللہ علیہ سے بھی بڑا فیض حاصل تھا ۔

سیرت:
حضرت مخدوم شیخ رکن الدین رحمۃ اللہ علیہ ہر وقت عشق حقیقی میں جذب رہتے اور دنیا کی ہر چیز سے محترز رہتے ۔

تجلی نور کے مصنّف لکھتے ہیں کہ انہونے کئی بار اپنے گھر کا تمام سامان فقرا میں بانٹ دیا تھا ۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ چند قلندر ان کے ہاں آئے اور پوچھا کہ سنا ہے آج آپ نے اپنا سارا گھر فقرا میں لٹا دیا ہے، مگر ہمیں بھی تو کچھ عنایت فرمائیں ۔

جب گھر میں ان کے لیے کچھ نہ ملا تو انھوں نے اپنے بیٹے شیخ جلال ہی کو اٹھا کر اُن کے حوالے کر دیا اور کہا کہ اس کو فروخت کر کے اپنی ضروریات پوری کر لیں ۔

یہ خبر شرقی وزیرِ سلطنت عماد الملک قاضی خاں کو پہنچی تو وہ بھاگے ہوئے آئے اور قلندر کو پانچ سو تنگے (اُس وقت کی کرنسی) دے کر شیخ جلال کو واپس لے لیا اور گھر لے جا کر اپنی بیٹی کی نسبت ان سے ٹھہرا دی ۔

مخدوم مال و دولت سے بڑی نفرت کرتے تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز ان کے پاس فتوح و نذرانہ کے ایک لاکھ تنگے جمع ہو گئے ۔ انہوں نے وہ تمام رقم اسی وقت فقرا و مساکین میں بانٹ دی، یہاں تک کہ اگلے روز کی ضروریات کے لیے بھی کچھ نہ رکھا ۔

مخدوم بڑے صاحبِ کرامات بزرگ تھے:
ایک بار فاطمہ نام کی ایک عورت کا ایک بارہ سالہ بیٹا فتح خاں بہت بیمار ہو گیا اور اس کی جان کے لالے پڑ گئے ۔ وہ عورت بچے کو لے کر روتی پیٹتی ان کے پاس آئی ۔ انہونے اس لڑکے پر اسم پاک کا دم کیا اور اس کے لیے دعائے خیر کی اور وہ لڑکا اسی وقت تندرست ہو گیا ۔

مخدوم نے سیکڑوں کو راہِ حق پر گامزن کیا ۔ ان کے بے شمار خلفاء تھے جن میں سے مخدوم شیخ منکن رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ تاج رحمۃ اللہ علیہ، جو پٹنہ میں مدفون ہیں، بڑے عالی مرتبت بزرگ تھے ۔

وصال:
ان کا وصال ۱۳ جمادی الثانی ۸۷۴ھ میں ہوا اور ان کا مزار دریائے گومتی کے کنارے جونپور کے محلہ تاڑتلہ میں ہے ۔

ماخذ:
تذکرہ اولیائے جونپور ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-makhdoom-shiekh-rukunuddin-soharwardi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ الاسلام محمد بن قاضی القضاۃ شمس الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نسب:
شیخ الاسلام محمد بن قاضی القضاۃ شمس الدین ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ دیری ـ

آپ اپنے باپ کی ہی کنیت و لقب یعنی ابی عبد اللہ و شمس الدین سے مشہور تھے ۔

ولادت:
قدس میں ماہ محرم ۷۷۰ھ میں پیدا ہوئے ـ

تعلیم:
کل علوم و فنون میں عالم فاضل ہوکر تدریس و افتاء میں مشغول رہے ـ

وصال:
۱۳ جمادی الآخر ۸۴۱ھ میں وفات پائی ۔ ’’ قطب خلق ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-muhammad-bin-qazi-ul-qaza-shamsuddin
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
حاجی امداد اللہ بن حافظ محمد امین، بن حافظ شیخ بڈھا، بن حافظ شیخ بلاقی علیہم الرحمہ ۔ آپ کے والدین نے آپ کا نام امداد حسین رکھا ۔ عرفی نام: امداد اللہ مہاجر مکی اور تاریخی نام: ظفر احمد ہے ۔ آپ فاروقی النسب ہیں ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 22 صفر 1233ھ / مطابق 29 دسمبر 1817ء بروز پیر بمقام نانوتہ ضلع سہارنپور (انڈیا) میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
حفظ اپنے گھر کے قریبی مکتب میں کیا ۔ فارسی کی ابتدائی کتب علامہ مملو ک علی علیہ الرحمہ ۔ مشکوٰۃ شریف اور دیگر کتبِ حدیث اور مثنوی شریف مولانا قلندر بخش جلال آبادی سے پڑھیں ۔ حصن حصین اور فقہ اکبر مولانا عبد الرحیم سے پڑھیں ۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے جید علماء و عرفاء میں ہوتا تھا ۔

بیعت و خلافت:
سرکارِ دو عالم ﷺ کے اذن سے شیخ نور محمد چشتی جھنجھانوی کے دستِ حق پرست پر سلسلہ چشتیہ صابریہ میں بیعت ہوئے، اور انہیں سے خلافت ملی ۔

سیرت و خصائص:
شیخ المشائخ، عارفِ باللہ، عاشقِ مصطفیٰ ﷺ ، شیخ العرب والعجم، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، شیخِ طریقت، رونقِ شریعت، مطلع انوار سبحانی، منبع اسرارِ صمدانی، حاجی الحرمین حضرت حاجی شاہ امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ فاروقی النسب، چشتی مشرب بزرگ تھے 1859ء میں‌آپ ہندوستان سے ہجرت کرکے مکہ معظمہ چلے گئے اور بقیہ زندگی وہیں بسر کی ۔ اس لیے مہاجر مکی کے لقب سے مشہور ہیں ۔ آپ کا شہرہ عرب و عجم میں ہے ۔ کثیر مخلوق آپ سے فیض یاب ہوئی، اور بالخصوص طبقۂ علماء نے آپ سے استفادہ کیا ۔حرم شریف میں درسِ مثنوی دیتے تھے ۔ درس کے بعد لنگر سے حاضرین کا تواضع کرتے تھے ۔ نذر و نیاز، میلاد و قیام وغیرہ معمولاتِ اہل سنت کے پابند تھے ۔ حضرت حاجی امداللہ علیہ الرحمہ قدرتی طور پر میانہ قد مگر کچھ لمبائی مائل تھے ۔ دبلا بدن، گندمی رنگ ، بڑا سر ، چوڑی پیشانی ، باریک اور لمبی ابرو، بڑی آنکھوں والے، شیریں زبان ، بہت زیادہ محبت والے ، ہنس مکھ، ہر وقت ہشاش بشاش رہنے والے، بہت کم سونے والے، اور مختصر کھانے والے تھے ۔

اس وقت کے بعض نام نہاد علماء ( نانوتوی، تھانوی، وغیرہ ) جو حاجی صاحب سے رَسمی بیعت ہوئے تھے اور عوامِ اہل سنت کو گمراہ کرنے کے لئے مدعیِ خلافت ہوئے ۔ جب وہ آپ کی تعلیمات سے منحرف ہوئے تو آپ نے ان کے نظریات کی شدت سے تردید کی اور " فیصلہ ہفت مسئلہ " تحریر کیا ۔ ان حضرات کی عجیب منطق ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ قبلہ حاجی صاحب کی تعلیمات تو یہ ہیں، اور تم ان کو اپنا پیر و مرشد اور اپنے لئے خلافت کے مدعی بھی ہو تو امت میں اِختلافات ختم کرو ۔ تم امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی بات نہ مانو، اپنے پیر و مرشد کی تو مان لو ۔ حضرت حاجی صاحب کو حکم تسلیم کر لیتے ہیں ۔ اس وقت فیصلہ ہفت مسئلہ تمام اختلافات کا حل موجود ہے ۔ اس پر بھی تیار نہیں ہیں ۔ جب تم ان کی تعلیمات و نظریات قبول کرنے کو تیار نہیں ۔ تو بات واضح ہے کہ، پھر یہ پیری مریدی کا دھندا سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کے لئے بنایا ہوا ہے ۔ یہ منافقت میں عبد اللہ بن ابی سے بھی نمبر لے نکلے ۔

میلاد شریف:
حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تصنیف لطیف بنام "فیصلہ ہفت مسئلہ "میں تحریر فرماتے ہیں: "مشرب فقیر (فقیر کا عمل) کا یہ ہے کہ محفل مولود شریف (میلاد) میں شریک ہوتا ہوں، بلکہ ذریعہ برکات کا سمجھ کر ہر سال کرتا ہوں، اور قیام میں لطف و لذت پاتاہوں" ۔ الیٰ آخرہ ۔ (فیصلہ ہفت مسئلہ، ص:4) ـ

فیصلہ ہفت مسئلہ کے علاوہ " براہینِ قاطعہ " کے جواب میں " انوارِ ساطعہ در بیانِ مولود و فاتحہ " مولانا عبد السمیع رامپوری سے لِکھوا کر شائع کرائی ۔ الغرض حضرت حاجی الحرمین شیخ امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ کے عقائد و نظریات آپ کے ان ابیات سے واضح ہیں ۔

؎ یارسولِ کبریا فریاد ہے
یا محمد مصطفیٰ فریاد ہے

سخت مشکل میں پھنسا ہوں آج کل
آپکی امداد ہو میرا یا نبی حال ابتر ہوا فریاد ہے
اے میرے مشکل کشا فریاد ہے

( کلیاتِ امدادیہ ، ص: ۹۰،۹۱ )

وصال:
بروز بدھ 13 جمادی الثانی 1317ھ / مطابق 18 اکتوبر 1899ءکو مکۃ المکرمہ میں وصال ہوا ۔ جنت المعلیٰ میں شیخ کیرانوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قریب مدفون ہیں ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرۂ علمائے ہند ۔ روشن دریچے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-haji-shah-imdadullah-muhajir-makki
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-06-1445 ᴴ | 26-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-06-1445 ᴴ | 27-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2