🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.83K subscribers
69.7K photos
228 videos
257 files
8.84K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
نتے بوجھتے حق کو چھپانے کے مرتکب ہوتے ہیں،

📈 آخری آیت میں دین اسلام کے تسلسل کا ذکر ہے کہ یہ مذہب حضرت آدم علیہ السلام سے چلا آرہا ہے اور اسلام کے سوا کوئی اور مذہب کو قبول نہیں کیا جائے گیا ایمان و کفر ایک دوسرے کے الٹ ہیں، کبھی جمع نہیں ہوسکتے اگر کوئی شخص اسلام کی جگہ کسی اور دین میں پناہ تلاش کرتا ہے اس کے لئے کوئی پناہ نہیں۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📝 *فیضان خلاصہ تراویح*📝

✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*

☁️ *چوتھا پارہ،لَنْ تَنَالُوا*

💸 چوتھے پارے کی پہلی آیت مبارکہ میں بیان ہو رہا ہے کہ اگرچہ اللہ کی راہ میں خرچ کیے ہوئے ہر مال کا اس کے مطابق اجر ملے گا، لیکن نیکی کا مرتبہ کمال یہ ہے کہ اپنے پسندیدہ اور محبوب مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے، مطلوب تک پہنچنے کے لیے کبھی پسندیدہ چیز کو قربان کرنا پڑتا ہے، ساتھ یہ واضح فرمایا کہ اللہ تعالی کی راہ میں پیش کردہ ہر مال اور ہر قربانی کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہونا چاہیے اللہ تعالی ہمارے ہر فعل سے باخبر ہے، لہذا ریاکاری کر کے نیکی کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

🕋 آیت نمبر 95 تا 97 میں صاحب استطاعت پر حج کی فرضیت کا حکم بیان ہوا ہے، اور یہ کہ زمین پر اللہ تعالی کی عبادت کے لیے سب سے پہلا گھر مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ بنایا گیا، یہ گھر روحانی برکات کا حامل ہے، اس کے ذریعے لوگوں کے رزق کے وسیع ذرائع پیدا ہوئے اور روحانی اعتبار سے ایسی بڑی بڑی نیکیوں کے مواقع میسر آئے جن کا اجر بھی کئی گنا زیادہ ملنے کی خوشخبری سنائی گئی ہے، عام مساجد کے مقابلے میں یہاں کی 1 نیکی کا اجر ایک لاکھ گنا زیادہ ہے، یہ گھر تمام جہاں والوں کے لیے ہدایت یعنی زندگی کے رخ کی تبدیلی کا ذریعہ ہے،اس گھر میں اللہ تعالی کی معرفت کی کئی نشانیاں ہیں اور خاص طور پر مقام ابراہیم کے نام سے موسوم پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اس گھر کی دیواروں کو بلند کیا تھا، جو شخص بھی مال، صحت اور امن وامان اور دیگر شرائط کے اعتبار سے اس قابل ہو کہ خانہ کعبہ آسکے اس پر اس گھر کا حج لازم ہے،جس شخص نے باوجود استطاعت اس گھر کا حج نہ کیا تو ایسا کرنا حقیقتاً محرومی کا باعث ہے اور گویا کہ یہ اللہ تبارک و تعالی کی نعمت کی ناشکری ہے،حج اور دیگر عبادات بندوں ہی کےلیے باعث خیر ہیں اور بندے ہی کو اجر و ثواب دیا جاتا ہے، ورنہ اللہ تعالی کو بندوں کی عبادات کی قطعاً کوئی حاجت نہیں اور یہی اس آیت مبارکہ کے آخر میں فرمایا کہ "اللہ تبارک و تعالی تمام جہانوں سے بے پرواہ ہے۔"

🌫️ قیامت کے دن اہل ایمان کے چہرے روشن ہونگے اور اللہ اور اسکے رسول کے نافرمانوں کے چہرے کالے ہونگے،
پھر آگے امتِ مسلمہ کو بہترین امت قرار دے کر اسکی وجہ فضیلت بیان کی کہ تمہیں اس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے کہ نیکی کی دعوت دو اور برائی سے منع کرو۔

🔪 آیت نمبر 105 میں ہے کہ "جو لوگ امت مسلمہ میں اختلاف و انتشار پیدا کرنے کی کوشش کریں گے انکے لیے بہت بڑا عذاب ہوگا، روزِ قیامت انسانوں کے اعمال کا نتیجہ انکے چہروں پر ظاہر ہوگا، کالے کرتوتوں کی وجہ سے جن کے چہرے سیاہ ہونگے اللہ پاک ان پر نظر رحمت نہیں فرمائے گا اور نیک لوگوں کے چہرے روشن ہونگے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونگے۔"

🌼 آیت نمبر 110 ہمیں امتِ مسلمہ کے مقصد سے آگاہ کر رہی ہے امت مسلمہ کا دنیا میں کام یہی ہے کہ وہ نیکیوں کی دعوت دے برائیوں سے روکے اور اللہ پر پختہ ایمان رکھتے ہوئے ہر طرح کے شرک سے اجتناب کرے، اگر امت اپنا مقصد پورا نہیں کرتی تو پھر اندیشہ ہے کہ عذاب الہی سے دوچار ہوگی۔آیت کے آخر میں بتایا گیا کہ "یہ ذمےداری اس سے قبل اہل کتاب کی تھی یعنی نیکی کی دعوت دینا برائی سے منع کرنا، لیکن اکثریت نافرمان ہی رہی اور ذمہ داری سرانجام نہ دے سکی، اس موقع پر ہمیں بھی اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم نیکی کی دعوت دیتے ہیں برائی سے منع کرتے ہیں؟ یا ہمارے سامنے برائی ہورہی ہوتی ہے گناہ ہورہا ہوتا ہے لیکن ہم اسکو روکیں گے تو کیا بلکہ مزید اس کا حصہ بن جاتے ہیں، تو ہمیں چاہئے کہ ہم بھی نیکی کی دعوت دیں برائی سے منع کریں، ہر شخص پر اس کے منصب کے اعتبار سے نیکی کی دعوت دینا بہت ضروری ہے، اور آج کا زمانہ ویسے بھی ایسا ہے کہ نیکی کی دعوت دینے کی بہت زیادہ حاجت ہےتو جو برائی دیکھیں حسبِ حال اسکو روکنے کی کوشش کی جائے، اس مقصد کو اچھے انداز میں نبھانے کے لئے دعوت اسلامی کے ماحول سے وابستہ ہوجائیں، دعوت اسلامی عاشقان رسول کی واحد تحریک ہے جو اس وقت تک (1441) 104 سے زائد شعبوں میں نیکی کی دعوت کی دھومیں مچا رہی ہے۔

🔥 اگلی آگے آیات میں مسلمانوں کے ساتھ یہودیوں کی ہمیشہ کی دشمنی اور یہودیوں کے اندر مسلمانوں کے بغض کو بیان کیا ہے کہ اہل ایمان کو بھلائی نصیب ہوتو ان کے سینوں کی جلن بڑھ جاتی ہے، اور اگر اہل ایمان کو کوئی نقصان پہنچے تو خوشی میں وہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں، یہودی مسلمانوں کی خوشی نہیں دیکھ سکتے، مسلمانوں کو جب کوئی تکلیف پہنچے تو اس پر خوش ہوتے ہیں،لیکن اگر اہل ایمان حق پر استقامت کا مظاہرہ کرتے رہے اور اللہ پاک کی نافرمانی سے بچتے رہے تو اہل کتاب کی سازشیں مسلمانوں کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں۔
اس کے بعد منافقون کو اپنا رازدار بنانے، دلی دوستی کرنے سے منع کیا گیا۔

آیت نمبر 122 سے غزوہ بد
ر کا ذکر ہے جسے تمام اسلامی غزوات کا تاج ہونے کا شرف حاصل ہے، اس غزوے کے شرکا نے جہاں خود جرأت اور بہادری کی انوکھی مثالیں قائم کیں وہیں انہوں نے اللہ تعالی کی قدرت اور غیبی مدد کے مظاہر اپنی آنکھوں سے دیکھے، مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی، اسلحہ بھی نہ ہونے کے برابر تھا، ایسے نازک حالات میں پروردگار عزوجل نے تین ہزار فرشتے انکی مدد کے لیے اتارے اور نصرتِ غیبی سے انہیں نوازا اور یہ بھی فرما دیا کہ مجاہدین کی مدد کے لیے فرشتوں کا نزول بس مومنوں کے اطمینانِ قلب اور دلجمعی کے لیے تھا، ورنہ اصل مدد تو اللہ تبارک و تعالی خود ہی فرمانے والا ہے اس غزوہ سے دو بڑے سبق مسلمانوں کو حاصل ہوئے:

🔷 جنگ میں فتح صرف اسلحہ کی کثرت اور افرادی قوت کی بِنا پر حاصل نہیں ہوسکتی بلکہ اسکی بنیاد شرطِ ایمان اور یقین اور اتباع اور استقامت ہے۔

♦️ جب تک مسلمان حق پر ثابت قدم رہیں گے اور اللہ کی رسی مضبوطی سے پکڑے رہیں گے انہیں اللہ کی مدد حاصل ہوتی رہے گی اور ہمیشہ غالب رہیں گے۔

💳 آیت 130 میں ایک بار پھر سود کی ممانعت کا حکم نازل ہوا، آیت نمبر 130 میں بھی سود کی ممانعت کا حکم ہے کہ سود حرام قطعی ہے، اور حرام طریقے سے مال کو بڑھانا یہ سب ناجائز و حرام ہے، سودخوری سے بچنے کے حکم کے ساتھ ہی تقوی اختیار کرنے اور جہنم سے بچنے کی تلقین ہے، اور اللہ کی رحمت سے لطف اندوز ہونے کے لیے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کی تاکید کی گئی ہے، ظاہر ہے کہ نعمتیں اور رحمتیں اسی وقت ہی حاصل ہوسکیں گی کہ جب اللہ اور اسکے رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی جائے۔
پھر بتایا گیا کہ جنت کے مستحقین متقّی ہوتے ہیں جو ہر حال میں اللہ کے نام پر خرچ کرتے ہیں،غصہ پینے والے ہوتے ہیں ،لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں، یہ اللہ کے محبوب ہیں اور اپنے گناہوں پر اصرار کے بجائے ندامت کے ساتھ توبہ کرنے والے ہوتے ہیں۔

🏝️ آگے چل کر یہاں غزوہ احد کا ذکر ہے جو تقریباً 55 آیات میں مکمل ہوتا ہے،
ان آیات میں افرادی قوت یعنی بندوں یا لوگوں کے اعتبار سے فوجی طاقت یا قوت اور اسباب میں کمی کے سبب دل چھوٹا کرنے والے مجاہدین کو تسلی دی گئی کہ ثابت قدم رہو آخر کار تم ہی کامیاب ہوگے، اگر وقتی طور پر تمہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے تو اہل حق کے ساتھ ایسا ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے، مگر وقت ایک جیسا نہیں رہتا، مسلمانوں کو جب کسی مصیبت میں مبتلا کیا جاتا ہے تو یہ ان کی درجات کی بلندی کا سبب بنتا ہے اور جنت کے حصول کے لیے مسلمانوں کو مشکلات سے گزرنا پڑتا ہےاور یہ بھی بتایا گیا کہ موت سے ڈرنا اہل اسلام کا شیوہ نہیں ہے،غزوہ احد میں پیش آنے والے بعض مناظر کی قلبی تصویر کشی کرتے ہوئے کافروں پر مسلمانوں کا رعب ڈال کر اہل ایمان کو مستقبل میں کامیابی کی خوشخبری سنائی گئی، جن اہل ایمان سے میدان احد میں کسی قسم کی کمزوری کا مظاہرہ ہوا تھا انہیں معاف کرنے کا اعلان کردیا گیا اور جن منافقین نے جہاد پر اعتراضات کر کے مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی تھی ان کی سخت گرفت فرمائی گئی۔
آیت نمبر 139 میں بڑی اہم حقیقت کی طرف رہنمائی کی گئی ہے کہ غزوہ احد کی وقتی شکست سے مسلمان ہر گز دلبرداشتہ نہ ہوں، غلبہ مسلمانوں کا ہی ہوگا جبکہ حقیقی ایمان سے اپنا رشتہ مضبوط کرلیں، یعنی انکے اندر ایمان کی چاشنی بھری ہوئی ہو، اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کی اطاعت کرتے ہوں۔

🕕 اس کے بعد یہ حقیت واضح کی گئی کہ ہر انسان کی موت کا وقت اللہ کی طرف سے طے شدہ ہے، موت تو اپنے طے شدہ وقت ہی پر آئے گی البتہ دنیا میں انسان کے پاس دو راستے ہیں چاہے تو وہ دنیا کی عارضی اور کم تر لذتوں کا طلبگار رہے یا آخرت کی ابدی اور اعلی نعمتوں کو مقصود بنائے، جو جس کی آرزو کرے گا اسے اسی میں سے دے دیا جائے گا البتہ آخرت کی نعمتوں کے حصول کے لیے محنت کرنے والے اللہ کے شکرگزار بندے ہیں اور اللہ ضرور انہیں بہترین اجر عطا فرمائے گا۔

اسکے بعد ایک غزوے کا تذکرہ ہے جو غزوہ احد کے فوراً بعد پیش آیا، کفار نے دوبارہ حملہ آور ہونے کا فیصلہ کیا تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان مجاھدین سے جو زخموں سے چور تھے، تھکے ہوئے تھے حکم ارشاد فرمایا کہ وہ کافروں کا تعاقب کریں اور انکے تعاقب میں نکلیں تو کافروں نے فرار اختیار کرنے میں ہی عافیت جانی اور فرار ہوگئے اور مسلمانوں کو اس مقام پر لگنے والے تجارتی بازار میں خرید و فروخت سے اتنا منافع ہوا کہ احد کی پریشانی اور نقصان کا اس میں تدارک ہوگیا۔
اس نازک موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہنے والوں کے ایمان اور ثابت قدمی کی قرآن کریم نے تعریف کی ہے کہ ابھی ایک جنگ سے لوٹے ہیں اور ابھی تھکے ہوئے ہیں، زخموں سے چور چور ہیں لیکن اتباعِ رسول کی ایسی بہترین مثال قائم کی کہ جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ اعلان فرمایا کہ ابھی ہم نے دوبارہ کافروں کا تعاقب کرنا ہے اور ایک اور غزوہ کی طرف روا
نہ ہونا ہے تو صحابہ کرام علیہم الرضوان نے لبیک کہتے ہوئے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ چلنےکا ارادہ کرلیا اور اس غزوہ کی طرف روانہ ہوگئے تو اس چیز کی اللہ تبارک و تعالی نے تعریف فرمائی اور کافروں کی طاقت اور اسلحہ سے خوفزدہ ہونے والوں کو شیطان اور اسکے حمایتی قرار دیا کہ جو کافروں کی طاقت اور اسلحہ سے خوفزدہ ہوگئے تو گویا وہ شیطان اور اسکے حمایتی ہیں۔کافروں کی کامیابیوں سے متأثر ہونے والوں کو بتایا گیا کہ یہ اللہ کی طرف سے مہلت ہے ،ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار ہے۔

🌈 اہلِ عقل اور سمجھدار لوگوں کو اللہ تعالی کی مخلوقات، آسمان اور زمین اور دن رات میں غور و فکر کی دعوت دی گئی، اور اللہ کے نیک بندوں کی پانچ دعاؤں کا تذکرہ موجود ہے جنہیں شرفِ قبولیت حاصل ہے۔

🌹 مرد اور عورت کی تخلیق اور ان کی ذمےداریوں میں اختلاف کے باوجود انہیں اجر و ثواب میں برابری اور مساوات کی خوشخبری سنائی گئی کہ اگرچہ مرد اور عورت کے اندر تخلیق کے اعتبار سے، زمےداریوں کے اعتبار سے فرق ہے لیکن اجر و ثواب کے اعتبار سے کئی معاملات میں برابری ہے، انہیں خوشخبری سنائی گئی اور بتایا ہے کہ ہجرت اور جہاد جیسے عظیم الشان اعمال جو بھی کرے گا اس کے لیے گناہوں کی معافی ہے اللہ کے یہاں بہترین اجر و ثواب اور جنت کا وعدہ ہے۔

💶 پھر آگے بتایا گیا کہ کافروں کے پاس مالی وسائل کی فراوانی اور عیش و عشرت کو دیکھ کر دھوکے میں نہیں پڑ جانا یہ عارضی و معمولی فوائد ہیں،جیسے ہمارے یہاں بھی کسی کی نعمت کو دیکھ کر دل میں حسرت ہونے لگتی ہے کہ اسکے پاس بہت کچھ ہے میرے پاس کچھ بھی نہیں یہ عارضی و معمولی فوائد ہیں، آخرت میں انکا بدترین ٹھکانہ جہنم ہے،اگر کافروں کے مال کو دیکھا جائے تو اس اعتبار سے انکا ٹھکانہ جہنم ہےاور متقیوں کے لیے نہریں ہیں ،باغات ہیں اور اللہ کی یہاں ان کے لیے بہترین مہمانی ہے۔

⚖️ اہل کتاب میں بعض انصاف پسند بھی ہیں جو قرآن اور نبی علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے کی نعمت سے سرفراز ہیں انکا تذکرہ موجود ہے۔

اسکے بعد سورہ کی آخری آیات میں اہل ایمان کی اخروی فلاح یعنی کامیابی و ترقی کے حصول کے لیے چار ہدایات دی گئی:

🔨 اللہ کی راہ میں استقامت کے ساتھ قائم رہو،
📌 صبر و استقامت میں کفار سے بازی لے جاؤ
⛓️ آپس میں مربوط رہو اور نظم وضبط کی پابندی کرتے رہو،
اللہ کی نافرمانی کے ہر عمل سے بچو۔

یہاں پر سورہ آل عمران ختم ہوتی ہے اسکے بعد سورہ نساء کا بیان شروع ہوتا ہے۔
-------------------

🌹 *سورہ نساء*
📝 *تعارف*  
    
سورۂ نساء مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔اس میں 24رکوع اور 176 آیتیں ہیں۔

🔍 *وجہ*  
عربی میں عورتوں کو’’نساء‘‘ کہتے ہیں اوراس سورت میں بہ کثرت وہ احکام بیان کئے گئے ہیں جن کا تعلق عورتوں کے ساتھ ہے ا س لئے اسے ’’ سورۂ نساء‘‘ کہتے ہیں۔


یہ سورة بڑی اہم اور بڑی دور اندیش اصطلاحات پر مشتمل ہے جنہیں اگر دینِ اسلام کا طرہ امتیاز کہا جائے تو قطعاً یہ مبالغہ نہیں ہے۔
اس سورة میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ توجہ گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے پر دی گئی ہے۔

📊 معاشرتی اور قومی مسائل کے ساتھ ساتھ جو تشریعی مسائل ہیں ،ہجرت اور جہاد پر کافی کلام ہے، غیر مسلم قوموں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کا بیان ہے، میراث کے تفصیلی احکام ہیں، عقائد پر گفتگو کی گئی ہے، منافقین کا تذکرہ ہے اور یہود اور نصاری کے مکر و فریب کا بیان ہے۔

📜 تقوی اختیار کرنے کی تلقین کے ساتھ سورت کی ابتداء کی گئی ہے اور اللہ تعالی کی قدرت کا بیان ہے پھر یتیموں کی کفالت اور ان کے اعمال کی دیانت داری کے ساتھ حفاظت کا حکم دیا گیا ہے، چار تک بیویاں رکھنے کی اجازت اور ان میں عدل و انصاف قائم رکھنے کا بیان ہے ،مہر کی ادائیگی دل کی تنگی کے ساتھ نہ ہو، خواتین چاہیں تو اپنا مہر معاف بھی کرسکتی ہیں، معاشرے میں ناسمجھ افراد کی نگہداشت کس طرح کی جائے اور ان کی مالی سرپرستی کس طرح کی جائے، اسکا حکم دیا گیا ہے۔

💰 پھر وراثت کے موضوع پر تفصیلی گفتگو ہے اور تمام وارثین کے حصوں کو تقریباً متعین کر کے بتایا گیا ہے کہ وارثوں کے استحقاق کو اللہ تعالی تم سے بہتر جانتاہے، وراثت کی تقسیم سے پہلے میت کے قرض کی ادائیگی اور وصیت پر عمل درآمد کی تلقین ہے۔ مذکورہ آیات میں احکاماتِ خداوندی کو حدود اللہ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ جو ان حدود کی پاسداری کرے گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کی جنت کا حقدار ہوگا اور اس کے برعکس جو ان حدود کو توڑے گا تو جہنم کے ذلت آمیز عذاب سے دوچار ہوگا۔

🤲🏻 آیت نمبر 16 اور 17
میں اللہ تعالی نے قبولیتِ توبہ کا اصول بیان فرمایا ہے کہ جن لوگوں سے گناہ سرزد ہوجائے اور وہ غلطی کا احساس ہونے پر جلدی توبہ کرلیں تو انکی توبہ کی قبولیت اللہ تعالی کے ذمہ کرم پر ہے،
سچی توبہ کی شرائط یہ ہیں

گناہ پر ندامت
گناہ کو عملاً ترک کردے
آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کیا جائے۔
کسی بندے کے ساتھ اگر زی
👍1
ادتی کی ہے اس کا مال وغیرہ لیا ہوا ہے تو وہ ادائیگی کرنی ہوگی ، جس میں تلافی ہے اس میں تلافی کرنی ہوتی ہے اور جو عبادات وغیرہ ہیں انکی قضا کرنی ہوگی، تب جا کر توبہ تام ہوگی

آیت نمبر 22 میں فرمایا کہ سوتیلی ماں سے نکاح مت کرو یہ بڑی بےحیائی اور اللہ کو ناراض کرنے والا عمل ہے۔

پھر چوتھے پارے کی آخری آیت میں 12 ایسی خواتین کا ذکر ہے جو ابدی طور پر محرم ہیں یعنی کسی صورت میں ان سے نکاح نہیں ہوسکتا اور 2 ایسی عورتوں کا ذکر ہے جو عارضی طور پر محرم ہے یعنی ایک وقت تک تو ان سے نکاح نہیں ہوسکتا اگر وہ معاملہ ختم ہوجائے تو ان سے نکاح ہوسکتا ہے۔

💯 جو ابدی محرم ہیں جن سے کبھی بھی نکاح نہیں ہوسکتا ان میں ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی، رضاعی ماں، رضاعی بہن ، ساس، سوتیلی بیٹی(سوتیلی بیٹی اس وقت کہ اس کی والدہ سے تعلق قائم کیا جا چکا ہو) اور بہو ان سب عورتوں سے نکاح ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے
دو عارضی محرم
پہلی تو بیوی کی بہن، ( دو بہنوں کو ایک وقت میں جمع نہیں کیا جا سکتا یہ حرام ہے)، ہاں اگر پہلی کو طلاق دے دی تو عدت کے بعد یا اس کا انتقال ہوگیا تو اب اس کی بہن سے نکاح ہو سکتا ہے، اسلئے یہاں پر اس کو عارضی محرم قرار دیا کہ جب تک اس کی بہن نکاح میں ہے اس وقت تک اس کو اپنے نکاح میں نہیں لاسکتا،

🖋️ اس کی تفصیل احادیث مبارکہ میں موجود ہے کہ بیوی کی بہن کے علاوہ بیوی کی پھوپھی، بھتیجی ،خالہ اور بھانجی کو بھی اس کے ساتھ نکاح میں جمع نہیں کیا جاسکتا اور ایک اصول قائم کردیا گیا کہ دو ایسی عورتیں کہ جن میں سے ایک کو مرد تصور کیا جائے تو دوسری اس پر حرام ہو، ایسی دو عورتوں کو نکاح میں جمع نہیں کیا جاسکتا۔

📲 *+92-321-2094919*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌼 *فیضان خلاصہ تراویح*🌼

✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*

🌐 *پانچواں پارہ،والمحصنت*

اس پارے میں بڑے اہم اور دلچسپ مضامین موجود ہیں۔

📢 ان عورتوں کا بیان جاری ہے جن سے نکاح حرام ہے، یہاں بتایا جا رہا ہے کہ وہ عورت جس کا شوہر ہو وہ دوسرے مرد پر اس وقت تک حرام ہے جب تک پہلے کے نکاح یا اس کی عدت میں ہو،
پھر اصول دے دیا گیا کہ جن عورتوں سے نکاح حرام ہے ان کے علاوہ تمام عورتوں سے نکاح حلال ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ مزید کچھ عورتیں ایسی ہیں کہ جن کا ذکر مذکورہ بالا آیات میں اگرچہ نہیں مگر ان سے نکاح حرام ہے جیسے چار عورتوں کے نکاح میں ہوتے ہوئے پانچویں سے نکاح، مُشرکہ عورت سے نکاح، تین طلاقیں دینے کے بعد حلالہ سے پہلے اسی عورت سے دوبارہ نکاح، اسی طرح پھوپھی بھتیجی، خالہ بھانجی کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا یونہی طلاق یا وفات کی عدت میں نکاح کرنا حرام ہے البتہ ان سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام نہیں ، نکاح میں جو رکاوٹ ہے وہ ختم ہونے کے بعد ان سے نکاح ہو سکتا ہے۔
عورت سے نکاح مہر کے بدلے کیا جائے اور اس نکاح سے مقصود محض لذت نفس اور شہوت پورا کرنا نہ ہو بلکہ اولاد کا حصول، نسل کی بقا اور اپنے نفس کو حرام سے بچانا مقصود ہو۔ یہاں زانی کو تنبیہ کی جا رہی ہے کیونکہ اس کے پیشِ نظر یہ باتیں نہیں ہوتیں بلکہ اس کا مقصود صرف نفسانی خواہش کی تکمیل ہوتا ہے

🌧️ آیت نمبر 26 سے اللہ تعالی کی رحمت کے دو مظاہر کو بیان کیا گیا ہے

اس نے ایسی شریعت عطا فرمائی جس پر عمل سے معاشرے کے ہر فرد کے مال جان اور آبرو کو تحفظ ملتا ہے۔

🌐 اللہ تعالی نے ماضی کے واقعات کے بیان سے انسان کو درمیان کی راہ پر چلنے کی ترغیب ارشاد فرمائی ہے اور اسکے اچھے انجام سے آگاہ فرمایا ہے کہ اگر وہ درمیانی اعتدال کی راہ پر چلے گا تو اسے کیا کیا انعام دیے جائے گے۔

💰 آیت نمبر 29 میں بتایا ہے کہ "باطل طریقوں سے ایک دوسرے کا مال کھانا حرام ہےاور باہمی رضامندی سے تجارت جائز ہےاور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی جائز ہے،اسی طرح تحفہ اور وراثت کے ذریعے جو مال ملے وہ بھی جائز ہے مگر جوا، غصب، چوری، ڈاکہ، خیانت، رشوت، جھوٹی قسم کھا کر اور جھوٹی گواہی کے ذریعے دوسروں کا مال حاصل کرنا حرام ہے، اور جو شخص ظلماً دوسروں کا مال کھائے گا وہ جہنم کا ایندھن بنے گا۔

📿 آیت نمبر 31 میں بتایا گیا کہ "انسان اگر بڑے بڑے گناہوں سے بچے گا تو اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے گناہ خود ہی معاف فرما دے گا اور بڑے عزت والے مقام میں داخل فرمائے گا۔

💥 اگلی آیت میں حسد کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ "اللہ تعالی نے اپنی حکمت سے کسی کو مال عزت یا مرتبے میں فضیلت دے رکھی ہے تو اسکے زائل ہونے کی تمنا نہ کرو کہ یہ حسد ہے اور حسد حرام ہے، کسی کے ساتھ حسد کرنے سے بہتر ہے کہ اللہ سے اس کا فضل مانگا جائے اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے وہ عطا فرمانے والا ہے۔

🖼️ آگے مردوں کو عورتوں پر فضیلت دینے کا بیان ہے، ارشاد فرمایا:

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ

مرد عورتوں پرنگہبان ہیں اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس وجہ سے کہ مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔

نیک بیویاں اپنے شوہروں کی تابعدار ہوتی ہیں اور اللہ کی حفاظت کے سہارے شوہر کے مال، اولاد، بستر، راز، عزت و آبرو کی حفاظت کرتی ہیں۔
اگلی آیات میں گھریلو نظام کو چلانے کے بہترین اصول بیان کئے گئے اور نافرمان عورت کی اصلاح کا بیان کیا ہے،

🌹 اسے پیار محبت سے سمجھایا جائے
🛏️ نہ سمجھے تو عارضی طور پر بستر کو علیحدہ کردیا جائے۔
🏸 پھر ادب سکھانے کے لیے ہلکی پھلکی اسکو مار ماری جائے، اور یہاں مار سے مراد ہاتھ یا مسواک جیسی چیز سے چہرے اور نازک اعضاء کے علاوہ دیگر بدن پر ایک دو ضربیں لگا دے۔ وہ مار مراد نہیں جو ہمارے ہاں جاہلوں میں رائج ہے کہ چہرے اور سارے بدن پر مارتے ہیں ، مُکّوں ، گھونسوں اور لاتوں سے پیٹتے ہیں ، ڈنڈا یا جو کچھ ہاتھ میں آئے اس سے مارتے اور لہو لہان کردیتے ہیں یہ سب حرام و ناجائز ، گناہ کبیرہ اور پرلے درجے کی جہالت ہے۔

📈 اگر ان مرحلوں سے ان کے معاملات بہتر ہوجاتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے اور اگر نہیں ہوتے تو پھر زوجین کے درمیان جو تنازعہ ہے اسکو دور کرنے کے لیے قرآن کریم نے ایک باہمی صلح کا جو طریقہ بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ شوہر اور بیوی، دونوں کے خاندانوں سے ایک ایک حَکَم جس کو مُنصِف کہتے ہیں یہ مل بیٹھیں اور اگر وہ اصلاح پسند ہونگے تو اللہ تعالی زوجین کے درمیان اتفاق پیدا فرما دے گا،
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے ازدواجی زندگی کو خوشگوار رکھنے اور اچھا رکھنے کو بڑی اہمیت دی ہے۔

آیت نمبر 44 سے شراب کی حرمت کے حوالے سے ذہن سازی کرتے ہوئے فرمایا کہ نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جانا
، اب اس آیت کے اندر نماز سے پہلے شراب کی حرمت بیان کی گئی ہے آگے اس کو مکمل طور پر حرام کرنے کا حکم بیان کیا جائے گا، یہاں پر یہ ہے کہ نماز کے قریب ایسی حالت میں نہ جانا کہ تم مدہوشی میں ہو اور ایسا نہ ہو کہ کوئی غلط بات منہ سے نکل جائے۔

🚿 اس کے بعد ناپاکی اور تیمم کے بعض مسائل ذکر کیے گئے اور پھر یہودیوں کی جو ایک گندی ذہنیت ہے اسکا پردہ چاک کرتے ہوئے انکی بعض سازشوں اور خرابیوں کو بیان کیا گیا ہے۔

💰 امانت کو اس کے مستحقین تک پہنچانے کا حکم دیا گیا ،اللہ اور اس کے رسول اور اولی الامر کی اطاعت کی تلقین فرمائی گئی، اولی الامر میں علما، قاضی، حاکم،بادشاہ شامل ہیں۔

📃اسکے بعد ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے کہ
ایک منافق اور ایک یہودی میں اختلاف ہوا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دلائل کی روشنی میں فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا، منافق نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے انصاف مانگا انہوں نے منافق کی گردن اڑا دی کہ جو شخص رسول خدا کے فیصلے کو انصاف کے برخلاف خیال کرتا ہے تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اسے زندگی کی قید سے ہی آزاد کردیا جائے، اس پر قرآن کریم کی آیت نازل ہوئی کہ "تمھارے رب کی قسم وہ شخص ایمان سے خالی ہے جو اپنے اختلافات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کو تسلیم نہ کرے" تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک طور پر تائید فرمائی گئی کہ انہوں نے جو کیا وہ درست کیا۔

✉️اس کے بعد اہل ایمان کے لیے ایک ایمان افروز خوشخبری ہے اور یہ آیات اطاعت رسول کے موضوع پر انتہائی تاکیدی اسلوب رکھتی ہیں، اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ "ہم نے ہر رسول کو صرف اس لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن سے ان رسولوں کی اطاعت کی جائے اور جب یہ یعنی عام لوگ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تو اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کے پاس آجائیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور رسول بھی ان کے لیے دعائے مغفرت کریں تو یہ ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا بےحد رحم کرنے والا پائیں گے، یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے اللہ تبارک و تعالی سے استغفار کیا جائے تو اللہ اسے رد نہیں فرماتا۔

🎁آیت 69 سے بتایا گیا ہے کہ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرنے والے اللہ کے انعام یافتہ بندوں، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ جنت میں ہونگے، اور ایسے پاکیزہ لوگوں کا ساتھ میسر آنا ظاہر ہے اللہ تبارک و تعالی کا بڑا فضل ہے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کی فضیلت بیان کر کے ایک نیکی کا حکم دیا اور وہ غلبہ اسلام کے لیے اپنی جان اور مال لگا کر جہاد میں حصہ لینا ہے یعنی جہاد کے بارے میں بھی ترغیب ارشاد فرمائی گئی۔

🚷اگلی آیت میں بتایا گیا کہ تمھاری صفوں میں ایسے منافقین بھی موجود ہیں جو جہاد کے مخالف اور جنگ سے پیچھے رہنے والے ہیں ان بزدل لوگوں کو جب جہاد کی دعوت دی جاتی ہے تو جان جانے کے خوف سے انکے دل ڈر جاتے ہیں اور وہ زندگی کی مہلت چاہتے ہیں،
اللہ تعالی نے فرمایا "اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ دیجیے دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے اور اہل تقوی کے لیے اخرت ہی بہتر ہے۔

♻️ اس کے بعد قرآن کریم میں غور و خوض کی دعوت دیتے ہوئے اسکے حق و صداقت پر مبنی ہونے کے لیے دلیل یہ دی گئی کہ اس میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا، اور جتنا جتنا انسان کے اندر اترتا جاتا ہے اتنا ہی انسان کے باطن کو ایمان و یقین سے منور کردیتا ہے ،پھر معاشرے کا امن و سکون تباہ کردینے والی بدترین عامل یعنی افواہ جو ہم بسا اوقات پھیلادیتے ہیں اس کی مذمت کرتے ہوئے اس کے سدِ باب کا طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ
جو متعلقہ شخص ہے اس سے رابطہ کرکے تحقیق کرلی جائے تو افواہیں اپنی موت آپ مرجاتی ہیں کہ جس کا معاملہ ہے اس سے براہ راست تصدیق کروالی جائے۔

💬 آیت 86 میں معاشرتی آداب بتائے گئے جب تمھیں کسی لفظ سے کوئی سلام کرے تو اس سے بہتر الفاظ میں اسکو جواب دو یعنی
اگر السلام علیکم کوئی کہتا ہے تو وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہو
اگر السلام علیکم ورحمۃ اللہ تو وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہو
یعنی اس سے اچھا جواب دو یا پھر فرمایا گیا کہ کم از کم اتنا ہی جواب دے دو۔

⚔️پھر محاذ جنگ پہ موجود مصروف عمل مجاہد کی فضیلت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ مجاہدین اور قائدین برابر نہیں ہوسکتے، یعنی بیٹھنے والے اور جہاد کرنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔ جہاد سے پیچھے رہنے والے جہاد کرنے والوں کے برابر نہیں ہوسکتے۔ ہر مسلمان سے اللہ نے اجر و ثواب کا وعدہ کر رکھا ہے مگر مجاہدین کا مرتبہ اور مقام بہت بڑا ہے۔

🚍 یہ بشارت دی گئی ہے کہ اللہ کے نام پر ہجرت کرنے والوں کو اللہ تعالی بڑی وسعت عطا فرماتا ہے، ہجرت کے لیے گھر سے نکلنے کے ساتھ ہی انسان اللہ کی طرف سے اجر عظیم کا حقدار ہوجاتا ہے خواہ اسے راستے ہی میں موت کا سامنا کرنا پڑجائے۔

🕌مسلمان غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر جب ظہر کی نماز پڑھنے لگے تو کافروں نے کہا کہ اگر ہمیں
پہلے سے معلوم ہوتا تو اس حالت میں ایک دم حملہ آور ہوجاتے اور مسلمانوں کو نیست و نابود کردیتے، یہ بڑا آسان ہوجاتا ہمارے لیے، انہوں نے عصر کی نماز میں حملہ کرنے کی تدبیر کی، جس پر اللہ تبارک و تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کافروں کے اس منصوبے کی خبر دے دی اور اس کے سدباب کے لیے اللہ تبارک و تعالی نے صلوةالخوف کا طریقہ بیان فرمایا کہ اگر دشمن سے جان میں خطرہ ہو تو نماز کے لیے کس طرح صف بندی کی جائے اور نماز پڑھنے کا کیا طریقہ کار ہوگا، چنانچہ دشمنوں کی تدبیر دھری کی دھری رہ گئی اور نماز اور جہاد کی مشترکہ اہمیت بھی واضح ہوگئی کہ نماز جیسے عظیم الشان عمل کی وجہ سے جہاد کو مؤخر کرنے کی اجازت نہیں دی گئ اور جہاد جیسے اہم عمل کی بنا پر نماز میں غفلت اور کوتاہی کی اجازت بھی نہیں دی گئی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد دوران جہاد ذکر میں مشغولیت رہے، نماز کو وقت مقررہ پر ادا کرنا فرض ہے، ساری باتیں جو یہاں بیان کی گئی ہیں اس سے نماز کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ دشمن سامنے ہے لیکن اللہ تبارک و تعالی نے نماز کو معاف نہیں فرمایا بلکہ اس حالت نماز پڑھنے کا طریقہ ارشاد فرمایا۔

⚖️ اس کے بعد ہر حال میں عدل وانصاف کا مظاہرہ کرنے کی تلقین ہے یہ دراصل ایک مشہور واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ کسی گھر میں چوری ہوگئ تھی چور بڑا چالاک تھا اس نے کسی یہودی کو پھنسا کر اپنا دامن بچانے کی کوشش کی اور بعض لوگ اس چور سے متأثر تھے کیونکہ وہ چالاک تھا چرب لسان تھا تو اس لیے اس سے متاثر تھے اور اس کو بَری کروانا چاہتے تھے
قرآن کریم نے اس کے جرم کو بلکل واضح کرتے ہوئے یہ تاکید فرمائی کہ بلا تحقیق کسی خائن مجرم کی حمایت کرنے کی بجائے عدل و انصاف کے قانون کے مطابق فیصلہ کر کے مجرمین کو سزا دینی چاہیے۔

💫آیت نمبر 115 اجماعِ امت کے لیے دلیل قرآنی فراہم کر رہی ہے کہ شریعت کے ماخذ چار ہیں یعنی چار طرح سے شریعت کا حکم ثابت ہوتا ہے،
قرآن پاک، سنت رسول، اجماع امت اور قیاس تو اجماع امت ،تو اجماعِ امت کو اس آیت میں "سبیل المؤمنین" یعنی مومنوں کا راستہ کہا گیا ہے، فرمایا کہ جو کوئی مومنوں کے راستے کو چھوڑ کر یعنی مومنون کے متفقہ فیصلوں کو رد کر کے الگ روش اختیار کرے تو وہ دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں انتشار پیدا کرنے کا مجرم قرار دیا جائے گا۔

🚻آیت نمبر 127 سے ایک بار پھر خواتین کے مسائل اور حقوق بیان کیے جارہے ہیں کہ انکے ضعف اور کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انکے ساتھ ظلم اور ناانصافی کا معاملہ نہ کیا جائے ،میاں بیوی کے اختلافات کی صورت میں خلع کا ضابطہ بیان کیا گیا انکے لیے علحیدگی بہتر ہے اور اللہ ان میں ہر ایک کو اپنے فضل سے غنی کردے گا اسکا بیان کیا گیا ہے۔

⚖️اگلی آیت میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا کہ عدل کے قائم کرنے والے بن کر کھڑے ہوجاؤ، یہی اللہ کے شان عدل کی گواہی ہے عدل کرتے وقت یہ نہ دیکھو کہ اسکا نقصان کس کو پہنچ رہا ہے، کوئی قرابت دار ہو یا غیر پھر وہ غنی ہو یا فقیر، اللہ اس پر زیادہ رحم فرمانے والا ہے تو اسے فائدہ پہنچانے کے لیے عدل کے خلاف کوئی کام نہ کرو، اگر تم نے یہ حرکت کی تو پھر جان لو اللہ تمھارے ہر عمل سے باخبر ہے اس آیت کی رو سے معاشرے سے ظلم و زیادتی کو ختم کرنا اور ایک عادلانہ نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کرنا مسلمان پر لازم ہے۔

آیت 140 میں اہل ایمان کو یہ ہدایت دی گئی کہ اگر کسی محفل میں اللہ کی آیات کا انکار کیا جارہا ہو یا معاذاللہ انکا مذاق اڑایا جارہا ہو تو غیرت ایمانی کا تقاضہ یہ ہے کہ اس محفل کا احتجاجاً بائیکاٹ کردیا جائے، نیز جس مجلس میں کوئی گناہ ہورہا ہو اسے روکنے کی کوشش کی جائے اگر روکنا ممکن نہ ہو تو پھر اظہار ناراضی کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ جانا چاہیے، جو ایسی مجلس میں بیٹھا رہے گا وہ بھی دراصل ان مجلس والوں کی طرح ہی شمار کیا جائے گا، پھر بتایا گیا کہ منافقین نماز میں سستی کرتے ہیں ، اللہ کے ذکر سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں، تذبذب کا شکار رہتے ہیں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ایسے گمراہوں کو ہدایت بھی نہیں ملا کرتی یہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ڈالے جائیں گے، مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں سے دوستی کی بلکل بھی اجازت نہیں ہے کافروں کو مسلمانوں پر کسی طرح بھی فوقیت نہیں دی جاسکتی یہ لوگ اگر تائب ہوکر اپنا طرز عمل درست کرلیں تو انکا شمار بھی مومنین کے ساتھ ہوسکتا ہے
اگر تم ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہو اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہو تو اللہ تمھیں عذاب دے کر کیا کرے گا یعنی یوں اسلوب اختیار کیا گیا آیت کریمہ کا اور اللہ تبارک و تعالی دلوں کے رازوں کا جاننے والا اور ایسے افراد کہ جو اچھا عمل کرنے والے ہیں انکے عمل کی قدر فرمانے والا ہے یہاں پر پارے کا اختتام ہوتا ہے۔

📲 *+92-321-2094919*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🗒️ *فیضان خلاصہ تراویح*🗒️

✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*

🔇 *چھٹا پارہ، لا یحب اللہ*

پانچویں پارے کے آخر میں منافقوں کی مذمت تھی اور سخت ترین عذاب کی وعید سنائی گئ تھی، اس لئے چھٹے پارے کے شروع میں یہ اہم اصول بتایا گیا کہ اسلام دوسروں کے عیوب کی پردہ پوشی کا حکم دیتا ہے اور کسی کے اندر کوئی بری بات پائی جاتی ہے تو لوگوں کےسامنےظاہر کردینے کو پسند نہیں فرماتا، مگر اسکے باوجود مظلوم کو انصاف کے حصول کے لیے ظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کی اجازت دی گئی، عنقریب مظلوم کی فریاد رسی ہوگی اور ظالم کو اپنے ظلم کی سزا مل کر رہے گی، البتہ اگر کوئی درگزر کر کے نیکی کرے پھر اس پر ثواب کی امید رکھے تو اللہ پاک اس کو اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔

📖 آیت 149 سے رسولوں پر ایمان لانے کے حوالے سے ایک بڑی زبردست گفتگو کی گئی ہے کہ جو لوگ اللہ کو مانیں اور رسولوں کا انکار کریں یا کچھ رسولوں کو مانیں اور کچھ کا انکار کریں وہ پکے کافر ہیں اور ان کو ہمیشہ کے عذاب میں رہنا پڑے گا اور جو لوگ اللہ اور اسکے تمام رسولوں کو تسلیم کریں، ان پر ایمان لائیں اور قیامت کے دن پر ایمان رکھیں تو انکو بہترین اجر و ثواب دیا جائے گا۔

اگلی آیت میں یہودیوں کے سنگین جرم کا بیان ہے کہ یہودیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کردیا ہے اور عیسائیوں نے اس کی تصدیق کی تھی، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی تکذیب فرما دی۔ کیونکہ واقعہ یوں ہوا کہ جو منافق شخص یہودیوں کو حضرت عیسی علیہ السلام کا پتہ دینے کے لئے آپ علیہ السلام   کے گھر میں داخل ہوا تھا وہ حضرت عیسی علیہ السلام کا ہم شکل ہوگیا اور آپ علیہ السلام آسمان پر تشریف لے گئے، یہودیوں نے اسی منافق کو عیسی علیہ السلام سمجھ کر سولی دی
اللہ پاک نے فرمایا:
وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْؕ-
انہوں نے نہ تو اسے قتل کیا اور نہ اسے سولی دی بلکہ یہودیوں کے لئے (عیسیٰ سے ) ملتا جلتا (ایک آدمی)بنادیا گیا۔

اور کچھ آگے چل کر بیان فرما دیا کہ کوئی کتابی ایسا نہیں جو عیسی علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے، لہذا پتا چلا کہ عیسی علیہ السلام کی وفات نہیں ہوئی، ابھی آپ زندہ ہیں، قیامت کے قریب تشریف لائیں گے اور یہود و نصاری آپ کے ہاتھ پر اسلام لے آئیں گے۔


🥥🍉 آیت 160 سے بتایا گیا کے یہودیوں کی ظالمانہ حرکتوں کی وجہ سے بعض چیزیں ان پر حرام کر دی گئیں۔منع کرنے کے باوجود سود کھانے ،لوگوں کا مال ناجائز طریقے پر ہڑپ کر جانے کی وجہ سے انکے لیے دردناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔لیکن ان میں ایسےاعتدال پسند، علم اور فضل والے بھی ہیں جو علم کی گہرائیوں تک رسائی رکھتے ہیں، یہ اس علم کی صداقت کا فیض ہے کہ وہ اللہ پر، اسکے نازل کردہ کلام پر اور آخرت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز اور زکوة کی پابندی کرتے ہیں، انکے لیے خوشخبری سنائی گئی کہ عنقریب اللہ پاک انہیں بے حساب انعامات سے نوازے گا۔

📜 پھر مختصرا انبیا کرام علیہم السلام کا تذکرہ فرمایا گیا کے ہم نے نوح ،ابراہیم،اسمعیل ،اسحاق ،یعقوب ،عیسی ،یونس، ہارون،سلیمان علیہم الصلوة و السلام کو نبی بنایا۔اور یونہی پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بیان کیا گیا کے اے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم انہی انبیاءکرام کی طرح آپکو بھی نبی بر حق بنایا گیا ہے۔یعنی حضور علیہ الصلوةوالسلام تو پہلے سے ہی نبی ہیں ۔بیان کرنے کا مقصد لوگوں پر ظاہر کرنا اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و عظمت کو بیان کرنا ہے۔اور یہ آپ صلی اللہ علیہ کی تسکین خاطر کے لئے کہ اگر آپ کی نبوت کی گواہی یہودی دینے کے لئے تیار نہیں ہیں تواس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،اللہ پاک اور فرشتوں کی گواہی کافی ہے۔

📢 اس کے بعد عیسائیوں سے خطاب ہوتا ہے، فرمایا گیا کے دین میں مبالغہ آمیزی نہ کیا کرو،حد سے نہ بڑھا کرو، ادب اور احترام کے جذبات کو اپنی حدود میں رکھنا چاہیے، عیسی علیہ الصلوة و السلام کو معاذاللہ، اللہ کہنا یا اللہ کا بیٹا کہنا ، یہ کوئی دین داری نہیں ہے، عیسی علیہ السلام یا اللہ کے مقرر فرشتوں نے اللہ کا بندہ کہلانے میں کبھی کسی قسم کی عار محسوس ہی نہیں کی، تو یہ عیسائی کیوں پھر عیسی علیہ الصلوة و السلام کو اللہ کا بندہ کہنے میں عار محسوس کرتے ہیں،معبود تو اللہ تبارک وتعالی ہی ہے، وہ اولاد سے پاک ہے اور اسکے ہاں قرب حاصل کرنے کا جو معیار نیک اعمال ہیں،جو ایمان اور اعمال صالحہ کرے گا اسے پورا پورا اجرو ثواب دیا جائے گا۔

📗 اسکے بعد آیت نمبر 174 سے ایک بار پھر انسانوں کو دعوت دی گئی کہ تمہارے پاس قرآن حکیم کی صورت میں حق کی دلیل اور ہدایت کی واضح روشنی آ چکی ہے،اب جو لوگ اللہ پر ایمان لائیں اور قرآن حکیم سے ایک لو لگا لیں تو اللہ انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا اور اپنے فضل سے مالا مال کر دے گا اور اپنی طرف سیدھے راہ کی ہدایت دے گا اور قرآن سے لو لگانے سے مراد صرف زب
انی اقرار نہیں بلکہ دل سے یقین رکھنا کہ یہ اللہ کا کلام ہے اسکی باقاعدہ تلاوت کرنا اسے سمجھنا اسکے احکامات پر عمل کرنا اور جو اجتماعی احکامات ہیں انکے نفاذ کی کوشش کرنا۔

💰 سورہ نساء کی آخری آیت میں وراثت کا ایک مسئلہ بیان ہوا ہے، کہ اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اسکا باپ بھی نہ ہو اور کوئی اولاد بھی نہ ہو تو اسے شریعت کی اصطلاح میں کلالہ کہتے ہیں۔

👇🏻آیت میں جو مسائل بیان ہوئے ان کا خلاصہ و وضاحت یہ ہے:  
💵 اگر کوئی شخص فوت ہو اور اس کے ورثاء میں باپ اور اولاد نہ ہو تو سگی اور باپ شریک بہن کو وراثت سے مال کا آدھا حصہ ملے گاجبکہ صرف ایک ہو اور اگر دو یا دو سے زیادہ ہوں تو دو تہائی حصہ ملے گا۔     

💵 اور اگر بہن فوت ہوئی اور ورثاء میں نہ باپ ہو نہ اولاد تو بھائی اُس کے کل مال کا وارث ہوگا۔     
💵 اگر فوت ہونے والے نے بہن بھائی دونوں چھوڑے تو بھائی کو بہن سے دگنا حصہ ملے گا۔ 

🍽️🍞 *سورۃ المائدہ*

سورہ مائدہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے،البتہ یہ آیت ’’اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ‘‘ حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ کے دن مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی،اس سورت میں 16 رکوع اور 120 آیتیں ہیں۔

*وجہ*    
عربی میں دستر خوان کو ’’مائدہ ‘‘ کہتے ہیں اور اس سورت کی آیت نمبر 112 تا 115 میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ    علیہ السلام کے حواریوں نے حضرت عیسیٰ    علیہ السلام   سے آسمان سے مائدہ یعنی کھانے کے ایک دستر خوان کے نزول کا مطالبہ کیا اور حضرت عیسیٰ    علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے مائدہ کے نازل ہونے کی دعا کی، اس واقعے کی مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ مائدہ‘‘رکھا گیا۔ 

*فضائل*
  
🌸 اس سورت کی ایک آیت مبارکہ کے بارے میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ان سے کہا ’’اے امیر المؤمنین! رضی اللہ عنہ، آپ اپنی کتاب میں ایک آیت کی تلاوت کرتے ہیں ، اگر وہ آیت ہم یہودیوں کے گروہ پر نازل ہوئی ہوتی تو  (جس دن یہ نازل ہوتی)  ہم ا س دن کو عید بناتے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’وہ کون سی آیت ہے؟ اس یہود ی نے عرض کی (وہ یہ آیت ہے)      

اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا   (   مائدہ:   ۳)      

ترجمہ: آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔          
حضرت عمر فاروق    رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’ہم اس دن اور اس جگہ کو بھی جانتے ہیں جس میں نبی کریم    صلی الله عليه وسلم  پر یہ آیت نازل ہوئی،    (جب یہ آیت نازل ہوئی اس وقت)    حضور صلی الله عليه وسلم جمعہ کے دن عرفات کے میدان میں مقیم تھے    (اور جمعہ و عرفہ دونوں مسلمانوں کی عید کے دن ہیں۔
📘 (بخاری)

اس سورت میں حلال وحرام کے بے شمار احکامات اور تین قصے بیان کئے گئے ہیں ۔

📈 سورت کی ابتدا میں ہر قسم کے وعدے کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے چاہے وہ عہد بندوں کا بندوں کے ساتھ ہو یا وہ عہد بندے کا اللہ کے ساتھ ہو۔

🚫 پھر اسکے بعد آگے چل کر کھانے پینے کی بہت ساری ایسی چیزوں کی حرمت یعنی حرام ہونے کا اعلان کیا گیا ہے جنہیں زمانہ جاہلیت میں حلال سمجھا جاتا تھا،کیونکہ ان چیزوں کے کھانے میں صحت اور جسم کا بھی نقصان ہے اور فکر و نظر اور دین واخلاق کا بھی بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔جو کھانے پینے کی چیزیں شریعت میں حرام قرار دی ہیں اس میں ایک بڑی حکمت یہ بھی ہے کہ ان چیزوں کے اثرات انسانی جسم پر منفی طور پر ثابت ہوتے ہیں جیسے کہ خنزیر، اسکے حرام ہونے کی ایک وجہ یہ بھی علماء نے بیان کی کہ یہ بے حیا جانور ہے، اگر معاذاللہ اسکو کوئی کھائے تو اس انسان کےاندر بھی بے حیائی پیدا ہوتی ہے، کھانے پینے کے معاملات میں بہت سی چیزیں ہیں کہ جس کے اندر ایک واضح پہلو یہ ہے کہ اسکا اثر بدن انسانی پر انسان کے اخلاق پر انسان کے اطوار پر اسکے نظر وفکر پر ہوتا ہے اسلئیے بہت ساری چیزوں کو حرام قرار دینے میں ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے۔بہر حال یہاں پر مثلا مردار، بہنے والا خون،خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جسے غیراللہ کے نام پر ذبح کیا گیا، گلا گھونٹ کر مارا ہو ا جانور،وہ جانور جو لاٹھی پتھر ،ڈھیلے، گولی چھرے یعنی بغیر دھار دار چیز سے مارا گیا ہو،جو گر کر مرا ہو خواہ پہاڑ سے یا کنوئیں وغیرہ میں،وہ جانور جسے دوسرے جانور نے سینگ مارا ہو اور وہ اس کے صدمے سے مر گیا ہو۔البتہ اضطرار کی صورت میں اجازت ہوتی ہے، اضطرار سے مراد یہ ہے کہ اسکے پاس کوئی حلال چیز موجود نہیں ہے اور اب اسکی جان پر بن آئی ہے اگر وہ کچھ نہیں کھائے گا تو مر جائے گا اور حرام کے علاوہ کچھ موجود نہیں تو ایسے موقع پر اسے اجازت دی گئی ہے کہ وہ ضرورتا وہ کھا لے بلکہ اس پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ کھا لے اور اپنی جان کی حفاظت کرے لیکن یہ اس موقع پر ہے کہ جب کچھ بھی
نہ ہو اور اتنا کھانے کی اجازت ہے کہ جس سے ضرورت پوری ہو جائے ۔

📝 حجۃ الوداع کے موقع پر دین اسلام کے مکمل اور اللہ کے پسندیدہ نظام حیات ہونے کا اعلان ہے کہ اسلام اللہ تعالی کا پسندیدہ دین ہےاور یہ ایک نظام حیات ہے۔

🦆🐐 پرندوں،چوپایوں اور درندوں کی مدد سے شکار کےجو اصول و ضوابط ہیں اسکو بیان کیا گیا ہے ۔اہل کتاب کا ذبح کیا ہوا جانور بھی مسلمانوں کیلئے حلال ہے خواہ یہودی ذبح کرے یا عیسائی، یونہی مرد ذبح کرے یا عورت یا سمجھدار بچہ۔لیکن یہ یاد رکھنا نہایت ضروری ہے کہ ان اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے جو واقعی اہلِ کتاب ہوں ، موجودہ زمانے میں عیسائیوں کی بہت بڑی تعداد دہریہ اور خدا کے منکر ہو چکے ہیں لہٰذا نہ ان کا ذبیحہ حلال ہے اور نہ عورتیں۔

🔗  *اہلِ کتاب سے نکاح کے چند اہم مسائل*

📍اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح حلال ہے لیکن اس میں بھی یہ شرط ہے کہ وہ واقعی اہلِ کتاب ہوں ،دہریہ نہ ہوں جیسے آج کل بہت سے ایسے بھی ہیں۔

📍یہ اجازت بھی دارالاسلام میں رہنے والی ذِمِّیَہ اہل کتاب عورت کے ساتھ ہے۔ موجودہ زمانے میں جو اہلِ کتاب ہیں یہ حربی ہیں اور حربیہ اہلِ کتاب کے ساتھ نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے۔

📍ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ یہ اجازت صرف مسلمان مردوں کو ہے مسلمان عورت کا نکاح کتابی مرد سے قطعی حرام ہے۔

🚿 پھر طہارت حاصل کرنے کے لیے وضو اور تیمم کا طریقہ پھر اللہ تبارک و تعالی کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

⚔️ حدیبیہ کے موقع پر کافروں نے حملہ آور ہونے کا پروگرام بنایا، لیکن اللہ تعالی نے انہیں مرعوب کردیا اور وہ حملہ نہ کر سکے، اس انعام خداوندی کا شکر ادا کرنے اور توکل کا اہتمام کرنے کی بندوں کو تلقین کی گئی ہے۔

⛓️ پھر اللہ تبارک و تعالی نے موسی علیہ السلام کا تذکرہ فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم کو جہاد کے لیے تیار کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالی نے تمہیں ایک منصب عطا فرمایا ہے اور تمہارے خاندان میں تمہاری نسل میں انبیا اور رسولوں کو پیدا فرمایا۔تمہیں چاہیے کہ اب عمالقہ قوم سے بیت المقدس سے پاک کردو، تو اللہ تبارک وتعالی تمہیں فتح اور کامرانی سے ہمکنار فرمائے گا ،مگر وہ لوگ اپنی بزدلی اور اپنی طبیعت کی خباثت کے پیش نظر جہاد سے پیچھے ہٹ گئے اور معاذاللہ یہاں تک بھی انہوں نے کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑیں ہم تو یہیں پر بیٹھے ہیں ۔ معاذاللہ

💥 پھر اللہ تبارک و تعالی نے آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کے باہمی اختلاف اور انکی قربانی کا تذکرہ فرمایا ہے، ان میں سے ایک تو صالح تھے مومن تھے اور دوسرا بدبخت ، ایک کا نام قابیل تھا ایک کا نام ہابیل تھا ۔اب اسکو یاد رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ قابیل ق سے آتا ہے اور قاتل بھی ق سے آتا ہے تو یہ قابیل جو ہے سمجھ لیں وہ صحیح نہیں تھا اور جوہابیل تھے وہ شہید ہوئے تھے ۔تو ہابیل میں بھی ہ آتا ہے اور شہید میں بھی ہ آتا ہے تو اسطرح یاد رکھا جا سکتا ہے۔
بہرحال قابیل دنیائے انسانی کا پہلا قاتل ہے جس نے اپنی ضد اور بغض کی خاطر اپنے بھائی ہابیل کو حسد کی وجہ سے شہید کردیا۔دنیا میں قیامت تک جتنے قتل ہوں گے انکا گناہ قاتل کے ساتھ ساتھ اس قابیل کو بھی ملتا رہے گا، ہابیل نے قابیل کو قتل ناحق جیسے بد ترین جرم سے روکنے کے لیے عمدہ وعظ اور نصحیت کرتے ہوئے فرمایا کہ تم مجھے قتل کرنے کی کوشش کرو گے تومیں ہر گز ردعمل کے طور پر تمہیں قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھاوں گا۔میں اللہ سے ڈرتا ہوں سوچ لو میرے ناحق قتل کرنے سے تم خود گناہ گار ہو گے،قابیل پر اس نصیحت کا کچھ اثر نہ ہوا اور اس نے ہابیل کو شہید کر کے خسارے کا سودا مول لے لیا ۔اللہ تبارک وتعالی نے کوّے کے ذریعے سکھایا کہ کیسے زمین کو کھود کر بھائی کی لاش اس میں دفن کرنی ہے، جسے دیکھ کر قابیل کو بڑی ندامت ہوئی کہ ہائے افسوس میں تو اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا۔

🔗 آگے اہل ایمان کو تقوی پر کاربند رہنے، اللہ کا قرب حاصل کرنے، نیک اعمال کو وسیلہ بنانے اور جہاد فی سبیل اللہ میں مصروف ہوکر فلاح و کامرانی حاصل کرنے کی دعوت دی ہے ۔


🩸 پھر آیت نمبر 45 میں ایک قانون بیان کیا گیا ہے کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ،کان کے بدلے کان ،دانت کے بدلے دانت ہوگا ،لیکن اگر کوئی فریق درگزر کردے اور معافی کا فیصلہ کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالی اسکے لیے گناہوں کی معافی کا وعدہ فرمارہا ہے۔

❤️🤝🏻 اس کے بعد مسلمانوں کو یہودو نصاری کے ساتھ قلبی دوستی لگانے سے منع کیا گیا  کیونکہ وہ امت مسلمہ کے سخت ترین دشمن ہیں۔قرآن کی صداقت کا معجزہ ہم اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ سکتے ہیں کہ آپس میں انکا شدید اختلاف کیوں ہی نہ ہو شدید مذہبی اور سیاسی اختلافات کے باوجود بھی یہود ونصاری مسلمانوں کے مقابلے میں متحد ہو جاتے ہیں بلکہ سارے کے سارے کفار مسلمانوں کے مقابلے میں ایک ہو جاتے ہیں ۔اور یہ ایک مقولہ بھی ہے
کہ
الکفر ملۃ واحدۃ
کفار سارے کے سارے ایک قوم کی طرح ہی ہیں


 🌼 پھر اللہ
تبارک وتعالی کے محبوب بندوں کی چار صفات بیان کی گئی ہیں ایک یہ کہ اللہ ان سے محبت فرماتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں، دوسری یہ کہ اہل ایمان کے حق میں انتہائی نرم اور کافروں کے حوالے سے انتہائی سخت ہوتے ہیں،تیسرا یہ کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور چوتھا یہ کہ اللہ کی راہ میں جہاد کے حوالے سے کسی بھی ملامت کرنے والے کی ملامت کو خاطر میں نہیں لاتے،کوئی انکو تنگ کرے کوئی انکا مذاق اڑائے تو انکے مذاق کا خیال نہیں کرتے۔

📲 +92-321-2094919
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📃 *فیضان خلاصہ تراویح*📃

✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*

👂🏻 *ساتواں پارہ،واذا سمعوا*

💧 عیسائیوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو قرآن کریم سن کر اپنے آنسووں پر قابو نہیں رکھ پاتے اور بےاختیار انکی آنکھوں سے آنسو نکل جاتے ہیں۔

📢 واقعہ اصل میں یہ تھا کہ کفار مکہ کے مظالم سے تنگ آ کر مسلمانوں کا ایک قافلہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے ہجرت کر کے ملک حبشہ گیا اور حبشہ عیسائیوں کا ملک تھا۔مشرکین مکہ ان کے پیچھے گئے اور حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے سامنے غلط بیانی کر کے مسلمانوں کے خلاف ایک سازش کرنے کی کوشش کی۔
نجاشی نے مسلمانوں کو طلب کر کے سوالات کیے،حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے نجاشی کو سورہ مریم پڑھ کر سنانا شروع کی تو نجاشی اور اسکے ساتھیوں پر قرآن کریم سن کر ایسی رقت طاری ہوگئی کی انکی ہچکیاں بندھ گئیں انکی داڑھیاں آنسووں سے تر ہو گئیں۔آخر کار کلام الہی سے متاثر ہو کر انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور مسلمانوں کو وہاں پر مہمان کے طور پر اپنے ملک میں ٹھرانے کا اعلان کر دیا اور مشرکین مکہ رسوا ہوئے۔

⚖️ اس کے بعد آیت نمبر 87 سے حلال اور حرام کے حوالے سے کچھ گفتگو اور انتہا پسندی کی مذمت کی گئی کہ اسلام انسانوں کو میانہ روی کا درس دیتا ہے اعتدال کا درس دیتا ہے۔

📖 پھر آیت نمبر 89 میں قسم کے احکام ہیں۔
صحابۂ کرام  رضی اللہ عنھم کی ایک جماعت نے کھانے پینے کی چند حلال چیزیں اور کچھ لباس اپنے اوپر حرام کر لئے اور دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی، مزید یہ کہ اس پر انہوں نے قسمیں بھی کھا لیں۔جب اللہ پاک نے انہیں اس چیز سے منع کیا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اب ہم اپنی قسموں کا کیا کریں ؟ اس پر اللہ پاک نے یہ آیت نازل فرمائی جس میں قسم کے احکام بیان کئے گئے۔
*قسم کی تین قسمیں ہیں*
    
یمینِ لَغْو یعنی غلط فہمی کی قسم، یہ وہ قسم ہے کہ آدمی کسی واقعہ کو اپنے خیال میں صحیح جان کر قسم کھالے اور حقیقت میں وہ ایسا نہ ہو، ایسی قسم پر کفارہ نہیں۔ 
         
یمینِ غَموس یعنی جھوٹی قسم ،کسی گزشتہ واقعے کے متعلق جان بوجھ کرجھوٹی قسم کھانا، یہ حرام ہے۔          

🔳 یمینِ مُنعقدہ، جو کسی آئندہ کے معاملے پر اسے پورا کرنے یا پورا نہ کرنے کیلئے کھائی جائے، کسی صحیح معاملے پر کھائی گئی ایسی قسم توڑنا منع بھی ہے اور اس پر کفارہ بھی لازم ہے۔ قسم کی تیسری صورت پر ہی کفارہ لازم آتا ہے۔
                    
📝 یہاں آیت مبارکہ میں قسم کا کفارہ بھی بیان کیا گیا ہے اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ اگر کوئی قسم توڑے تو ایک غلام آزاد کرے یا دس مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر درمیانے درجے کا کھانا کھلائے یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنائے ۔ ان تینوں میں سے کوئی بھی طریقہ اختیار کرنے کی اجازت ہے اور اگر تینوں میں سے کسی کی بھی طاقت نہ ہو تو مسلسل تین روزے رکھنا کفارہ ہے۔مزید احکام کتب فقہ میں دیکھے جا سکتے ہیں یا اسی آیت کے تحت صراط الجنان سے مطالعہ کیے جا سکتے ہیں۔ 

پھر آیت نمبر 90 سے 92 میں شراب اور جوئے کی حرمت کا حتمی فیصلہ بیان کر دیا گیا ہے، سورہ بقرہ کے اندر اسکے نقصانات کو بیان کیا پھر آگے چل کر بیان کیا کہ جب تم نماز کے قریب جانے لگو تو اس سے پہلے نشہ وغیرہ نہ کرو اور اب اسکو بالکل حرام قرار دے دیا گیا اور اسکے بعد کبھی بھی شراب حلال نہیں ہوئی ہے، اللہ پاک نے اسکو قطعی طور پر حرام قرار دے دیا اور فرما دیا کہ شیطان اسکے ذریعے اسلامی معاشرے کے افراد میں نفرتیں پیدا کرنا چاہتا ہے۔شراب کے نشے میں آکر یا جوئے میں مسلسل ہار کر انسان دوسروں کے خلاف ایسی حرکات کرتا ہے کہ جس سے باہمی نفرت اور دشمنی جنم لیتی ہے ، مزید یہ کہ انسان اس سے اللہ کے ذکر اور بالخصوص نماز پڑھنے سے محروم ہو جاتا ہے۔
جوئے کے ذریعے حرام کمائی کا حصول انسان  کو ذکر کی لذت اور حلاوت اور نماز کی چاشنی سے محروم کر دیتا ہے ۔پھر بڑے سخت الفاظ میں تنبیح کی گئی کہ تم شراب اور جوئے سے باز آتے ہو یا نہیں۔

اسکے بعد حالت احرام میں شکار کی ممانعت اور اسکی جزا کا بیان ہے ہاں مچھلی کے شکار کی اجازت دی گئی ہے۔

اسکے بعد اللہ پاک کی قدرت کے دو مظاہر کا ذکر ہے کہ وہ شدید عذاب دینے والا بھی ہے اور بہت بخشش کرنے والا مہربان بھی ہے۔اب یہ بندے کے اوپر ہے کہ وہ کس طرح کا عمل کرتا ہے اور اپنے آپ کو کس چیز کا مستحق بناتا
ہے  سزا کا مستحق بناتا ہے یا رحمت کا مستحق بناتا ہے۔

پھر آیت نمبر 101 میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر ضروری سوالات کرنے سے منع فرمایا گیا کہ اگر بہت سی باتیں تم پر ظاہر ہو جائیں تو تمہیں ناگوار لگیں ۔یہاں پر یہود کی مثال دی گئی کہ وہ اللہ کا حکم آنے پر غیر ضروری سوالات کرتے تھے اور اللہ پاک کی طرف سے جوابات آنے پر مزید پابندیوں کا سامنا کرنے پر مجبور ہو جاتے،اب ان پابندیوں کو وہ پورا نہ کر پاتے۔

🔥 اس کے بعد قیامت کے دن کی منظر کشی کی گئی اور اس ہولناک دن کے حساب کتاب کو یاد دلایا گیا ہے ۔جب تمام رسولوں کو جمع کر کے ان سے سوال کیا جائے گا کہ جب تم نے میرا پیغام میرے بندوں تک پہنچایا تو تمہیں کیا جواب دیا گیا تو وہ اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ یا اللہ پاک تو ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے تو سمیع و بصیر ہے تو جانتا ہے کہ تیرے بندوں نے کیا جواب دیا۔

🌹 یہاں پر حضرت عیسی علیہ السلام کا خاص طور پر تفصیلی ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے انہیں بڑی نعمتوں سے نوازا ہے ۔فرمایا کہ ہم نے تم پر اور تمہاری والدہ پر انعام کیا اسکو یاد کرو۔

🤲🏻 پھر آیت نمبر 112 میں بتایا گیا کہ عیسی علیہ السلام کے حواریوں یعنی آپ کے ساتھیوں نے عرض کی کہ اللہ پاک سے دعا کیجئے کہ آسمان سے کوئی دستر خوان بطور نعمت اتار دے اس میں سے ہم کھائیں گے اور ایک قلبی اطمینان پائیں گے ۔
عیسی علیہ السلام نے غسل کیا،موٹا لباس پہنا، دو رکعت نماز ادا کی اور سر کو جھکا کر اللہ پاک سے دعا کی:

*اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَۚ-وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(۱۱۴)*
اے اللہ ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اُتار دے جو ہمارے لئے اور ہمارے بعد میں آنے والوں کے لئے عید اور تیری طرف سے ایک نشانی ہوجائے اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔

اس دعا کے بعد اللہ پاک نے فرمایا کہ میں یہ نعمت نازل فرماؤں گا مگر پھر جو شخص اس نعمت کو دیکھنے کے بعد کفر کرے گا تو اسے ایسا عذاب دوں گا جو اس سے پہلےجہاں والوں میں سےکسی کو بھی نہیں دیا ہو گا۔

🔎 اس سے معلوم ہوا کہ نعمت الہی کے نزول کے دن کو عید کہا جا سکتا ہے ۔یہاں پر عیسی علیہ الصلوةوالسلام نے عید ہی فرمایا اور اسی لیے اہل اسلام میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دن کو عید سے تعبیر کرتے ہیں۔

قیامت کے دن کی ہولناک منظر کشی اور اللہ تبارک وتعالی کی بادشاہت کے تذکرے پر سورہ مائدہ کا اختتام ہوتا ہے ۔


🐑🐐 *سورہ انعام*

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما   فرماتے ہیں کہ پوری سورۂ اَنعام ایک ہی رات میں مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی،اور انہی سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ سورۂ اَنعام کی6 آیتیں مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں اور باقی سورت ایک ہی مرتبہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔
اس میں20رکوع   اور   165 آیتیں ہیں۔

*وجہ*
عربی میں مویشیوں کو ’’اَنعام‘‘ کہتے ہیں اور اس سورت کا نام ’’اَنعام‘‘ اس مناسبت سے رکھا گیا کہ اس سورت کی آیت نمبر 136 اور138 میں ان مشرکین کا رد کیا گیا ہے جو اپنے مویشیوں میں بتوں کو حصہ دار ٹھہراتے تھے اور خود ہی چند جانوروں کو اپنے لئے حلال اور چند جانوروں کو اپنے اوپر حرام سمجھنے لگے تھے۔  

*فضیلت*

حضرت انس بن مالک   رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے، رسولِ کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا ’’ سورۂ اَنعام نازل ہوئی اور اس کے ساتھ بلند آواز سے تسبیح کرتی ہوئی فرشتوں کی ایک جماعت تھی جس سے زمین و آسمان کے کنارے بھر گئے، زمین ان فرشتوں کی وجہ سے ہلنے لگی اور   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے تین مرتبہ ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمْ   ‘‘ کہا۔

🔛 سورت کے آغاز میں اللہ پاک کی قدرت کا بیان ہے کہ اس نے آسمان و زمین و ظلمت و نور کو پیدا کیا اس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا پھر اسکے لیے ایک مدت حیات اور قیامت کا وقت مقرر فرمایا لیکن کافر پھر بھی اپنے رب کے ساتھ شریک ٹھراتے ہیں اور اسکی قدرت کے بارے میں شک میں مبتلا  ہوتے ہیں حالانکہ اللہ پاک ظاہر و باطن ہر عمل کو جاننے والا ہے۔

📖 پھر آیت نمبر7 میں فرمایا کہ کافروں کا حال تو یہ ہے کہ اگر لکھی ہوئی کتاب انکے پاس اتار دی جائے تو جسے وہ اپنے ہاتھوں سے چھو کر دیکھ لیں پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے بلکہ اسے جادو ہی قرار دیں گے۔
اللہ پاک نے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ہر دور کے کفار معاذاللہ اپنے نبیوں کے ساتھ استہزاء کرتے آئے ہیں،آپ زمین میں مشاہدہ کر لیں گزشتہ امتوں کے تباہ شدہ آثار انکے عبرت ناک انجام کا پتہ دیتے ہیں،
یہ لوگ آپکی بات سنتے ہیں مگر انکی بد عملی کی وجہ سے انکے دلوں پر پردہ چڑھا ہوا ہے۔

🖤 پھر یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ لوگ آپکی بات سنتے ہیں آپکا کلام سنتے ہیں م
گر انکے دلوں پر ایسا پردہ چڑھ گیا ہے ، انکے کانوں کے اندر ایسی روئی پڑی ہوئی ہے جسکی وجہ سے یہ قرآن کی باتوں کا اثر قبول نہیں کرتے۔

آیت نمبر 31 میں اللہ پاک نے فرمایا کہ انہوں نے اللہ کے حضور پیش ہونے کی حقیقت کو جھٹلایا ، وہ اپنی بد اعمالیوں کا بوجھ اپنی پشت پر اٹھائے ہوئے ہیں اور جب قیامت آئے گی تو اپنی کوتاہی پر پھر وہ افسوس کرتے رہیں گے۔

💨🌊 آیت نمبر 64 میں فرمایا کہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے تمہارے پاؤں کے نیچے سے تم پر عذاب بھیج دے ۔مفسرین نے فرمایا کہ اوپر کے عذاب کی صورتیں ایک تو تباہ کن آندھیاں اور طوفانی بارشیں ہیں اور نیچے کے عذاب کی ایک صورت سیلاب، زلزلے اور قحط سالی ہے، اوپر کے عذاب کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ظالم حکمرانوں کا مسلط ہونا اور جو ماتحت لوگ ہیں وہ نافرمان ہو جائیں اور اس امت کے مختلف گروہوں کا ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہو جانا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہے۔

☀️🌟 آیت نمبر 74 سے 79 میں وہ واقع بیان کیا گیا ہے جس کے ذریعے ابراہیم علیہ السلام نے ستارہ پرستوں، چاند پرستوں اور سورج پرستوں کے خلاف دلیل قائم کر دی۔ یہ مسئلہ یقینی ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام  ہرحال میں معصوم ہوتے ہیں اور وہ شروع ہی سے ہر   وقت معرفت الٰہی سے شناسا ہوتے ہیں۔ اس عقیدہ کو ذہن نشین رکھتے ہوئے اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ سمجھنے کیلئے قرآن پاک میں بیان کردہ واقعے کو ذرا تفصیل سے بیان کر رہا ہوں۔

💫 حضرت ابراہیم   علیہ السلام  نے ابتدا ہی سے توحید کی حمایت اور کفریہ عقائد کارد کرنا شروع فرما دیا اور پھر جب ایک سوراخ سے رات کے وقت آپ   علیہ السلام  نے زہرہ یا مشتری ستارہ کو دیکھا تو لوگوں کے سامنے توحید باری تعالیٰ کی دلیل بیان کرنا شروع کردی کیونکہ اس زمانہ کے لوگ بت اور ستاروں کی پرستش کرتے تھے تو آپ علیہ السلام  نے ایک نہایت نفیس اور دل نشیں پیرایہ میں انہیں غوروفکر کی طرف رہنمائی کی جس سے وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ تمام جہان عدم سے وجود میں آنے والا ہے اور پھر ختم ہونے والا ہے تو یہ معبود نہیں ہوسکتا بلکہ تمام جہان بذات خود کسی وجود میں لانے والی ذات کا محتاج ہے جس کے قدرت وا ختیار سے اس میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔
چنانچہ پہلے آپ علیہ السلام  نے ستارے کو دیکھا تو فرمایا کہ’’ کیا اسے میرا رب کہتے ہو ؟ پھر جب وہ ڈوب گیا تو فرمایا کہ’’ میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔یعنی جس میں ایسے تغیرات ہورہے ہیں وہ خدا نہیں ہوسکتا۔
🌕 پھر اس کے بعد آپ علیہ السلام  نے چاند کو چمکتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : کیا اسے میرا رب کہتے ہو؟ پھر جب وہ ڈوب گیا تو فرمایا: اگر مجھے میرے رب  کریم  نے ہدایت نہ دی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں سے ہوجاتا۔ اس میں اُس قوم کو تنبیہ ہے کہ جو چاند کومعبود مانتے تھے، انہیں آپ علیہ السلام  نے گمراہ قرار دیا اور خود کو ہدایت پر۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ آپ  علیہ السلام   کی یہ باتیں ان کا رد کرنے کیلئے ہی تھیں۔ چاند کے معبود نہ ہونے پر بھی آپ  علیہ السلام  نے یہی دلیل بیان فرمائی کہ اس کا ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہونا قابل فنا ہونے کی دلیل ہے۔
☀️ پھر اس کے بعد آپ علیہ  السلام  نے سورج کو جگمگاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ’’ کیا اسے میرا رب کہتے ہو ؟یہ تو ان سب سے بڑا ہے، پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو فرمایا: اے میری قوم! میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم   اللہ پاک  کاشریک ٹھہراتے ہو۔ یوں حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے ثابت کردیا کہ ستاروں میں چھوٹے سے بڑے تک کوئی بھی رب ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ،ان کا معبود ہونا باطل ہے اور قوم جس شرک میں مبتلا ہے آپ  علیہ السلام  نے اس سے بیزاری کا اظہار کردیا اور اس کے بعد دینِ حق کا بیان فرمایا جو اگلی آیتوں میں آرہا ہے۔حضرت ابراہیم   علیہ السلام  کے   ستارے، چاند اور سورج کے بارے میں فرامین لوگوں کو سمجھانے کیلئے تھے اور معاذاللہ  ، اپنے   بارے میں نہ تھے اس کی بہت واضح دلیل یہ بھی ہے کہ جب آپ   علیہ السلام نے ستارے، چاند اور سورج کے بارے یہ فرمایا تو کیا آپ علیہ السلام نے اس سے پہلے دن رات کے فرق کو اور سورج چاند   کے   غروب ہونے کو کبھی نہیں دیکھا تھا، ایسا تو ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ تو معلوم ہوا کہ سورج چاند ستارے کے حوالے سے آپ کا کلام صرف     قوم کو سمجھانے کیلئے تھا

🕋 حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے جھوٹے معبودوں سے    بیزاری ظاہر کرنے کے بعد اپنا عقیدہ اور دین حق کا اعلان فرما دیا چنانچہ فرمایا کہ’’ میں نے ہر باطل سے جدا ہو کر اپنا منہ اس اللہ پاک کی بارگاہ کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یعنی اسلام کے    سوا باقی تمام ادیان سے جدا رہ کرمیں    اللہ پاک کے سامنے جھکنے والا ہوں۔   

🌐 حضرت ابراہیم علیہ السلام کو انکی قوم کے لوگوں نے ڈرایا کہ تم نے ہمارے معبودوں کا انکا کیا ہے لہذا تم پر اب
کوئی آفت آئے گی تو خلیل اللہ نے فرمایا کہ جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ کسی سے نہیں ڈرتا اور جو اللہ سے نہیں ڈرتا تو پھر وہ ہر ایک سے ڈرتا ہے۔

🌳 پھر کمال اختصار کے ساتھ تین لائنوں میں 18 انبیا اور رسل کا تذکرہ اور تعریف بیان کی گئی ہے ۔پھر قدرت خداوندی کی ایک کائناتی حقائق میں مشاہدہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے کہ اللہ نے دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر درخت اور پودے پیدا کیے۔زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کو نکالا،
اور سورج اور چاند کو حساب کے لیے مقرر کیا گیا۔

⛴️ خشکی اور تری میں راستہ متعین کرنے کے لیے ستارے اسی نے بنائے ہیں۔
آسمان سے پانی برسا کر کھتیاں اور باغات پیدا کیے ہیں جن کے اندر سبزیاں پھل کجھوریں اور انگور بنائے جو گچھے والے بھی ہیں اور بغیر گچھے کے پیدا ہونے والے بھی ہیں۔پھلوں کے موسم میں دیکھو کیسے خوشنما اور بھلے لگتے ہیں، علم سمجھ بوجھ اور ایمان رکھنے والوں کے لیے قدرت الہی اور وحدانیت کے اسکے اندر واضح دلائل موجود ہیں

پھر آخر میں توحید کا بیان اور شرک کی نفی کی گئی کہ مشرکین جنات کو معاذاللہ اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں ۔فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں معاذاللہ ۔فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے اللہ مخلوق پر نگہبانی فرمانے والا ہے ۔وہ سب کو دیکھنے والا ہے اور کوئی نگاہ اسکا احاطہ نہیں کر سکتی ۔اللہ تبارک وتعالی نے حق کو بالکل واضح کر دیا ہے ۔انسان کو اختیار ہے کہ چاہے وہ حق سے نظریں چرالے یا حق کی روشنی میں کائنات کے اصل حقائق کو دیکھ لے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں گر پڑے ۔
📲 *+92-321-2094919*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM