🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-06-1445 ᴴ | 26-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-06-1445 ᴴ | 26-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-06-1445 ᴴ | 26-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-06-1445 ᴴ | 26-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
حضرت خواجہ غلام حسن المعروف پیر سواگ نقشبندی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ غلام حسن ۔ لقب: پیرسواگ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ غلام حسن ا لمعروف پیر سواگ نقشبندی بن ملک لعل بن احمد یار بن یار محمد (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخ ولادت:
آپ کی ولادت تقریباً 1267ھ / مطابق 1850ء کو موضع " ڈگر سواگ " لعل عیسن کروڑ ، چاہ گاڑہ ، ضلع لیہ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ کر حضرت خواجہ محمد عثمان دامانی علیہ الرحمۃ کے خلیفہ مولانا غلام حسن پونگر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابتدائی تعلیم ان سے حاصل کی ۔ اور صَرف مولانا محمد علی شہاب ضلع جھنگ سے پڑھی اور کروڑ کے ایک خدا رسیدہ بزرگ مولانا جان محمد کے حلقہ درس میں شامل ہو گئے۔ اس کے بعد" سیواں "ضلع میانوالی تشریف لا کر مولانا غلام محمد کی خدامت میں رہ کر اکتساب علم کرنے لگے ۔ پھر آپ سیواں سے رخصت ہو کر "چکڑالہ" میں حضرت مولانا نور خان کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ مولانا نور خان حضرت خواجہ محمد عثمان دامانی علیہ الرحمۃ کے خلفاء میں سے تھے ۔ آپ نے بقیہ تمام تعلیم مولانا نور خان سے حاصل کی اور ظاہری و باطنی علوم میں کامل ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں حضرت خواجہ محمد عثمان دامانی نقشبندی علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت سے مشرف ہوئے اور نہی سے خرقۂ خلافت پا کر سرفراز و ممتاز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
خواجۂ خواجگان، حامیِ دینِ متین، جامع شریعت و طریقت، واقف اسرارِ رحمانی، وارثِ علومِ امامِ ربانی، حضرت خواجہ پیر غلام حسن سواگ رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کی تمام عمر دین اسلام اور شریعت مصطفیٰ ﷺ کے احکام کی اشاعت فرمانے میں گذری ۔ لاتعداد ہندو ، سیکھ ، عیسائی صرف آپ کے روئے تاباں کی زیارت سے مشرف ہو کر داخلِ اسلام ہوئے ۔
آپ کا معمول تھا کہ اگر کوئی ہندو یا غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہوتا تو آپ حسبِ ضرورت اس کی مالی معاونت و امداد کرنے کے لیے اپنا مال، جان، اولاد تک قربان کرنے سے دریغ نہ فرماتے ۔
آپ کا معمول تھا کہ جہاں کہیں بھی وعظ کے لیے تشریف لے جاتے تو لوگوں کو غیر شرعی رسومات چھوڑنے اور احکام شریعت پر عمل کرنے کی ترغیب فرماتے ۔ آپ کلمہ حق کہنے میں بھی بڑی دلیری اور بے باکی سے کام لیتے اور اس سلسلہ میں کسی بڑے سے بڑے آدمی کی بھی پرواہ نہ کرتے ۔
آپ اپنے وقت کےولیِ کامل تھے، ساری زندگی اسلام کی اشاعت و تبلیغ میں گزاری ۔ آپ اپنے احوال لوگوں سے پوشیدہ رکھتے تھے ۔ شریعت کی خاص پابندی تھی، رسول اللہ ﷺ کی ہر سنت پر عمل پیرا ہوتے تھے ۔ استحباب کا بھی خاص اہتمام تھا ۔ آپ نے حضرت خواجہ دامانی علیہ الرحمہ کی چالیس سال خدمت کی ہے، اور آپ کے خلیفۂ اعظم خواجہ محمد عبد اللہ بارو علیہ الرحمہ نے آپ کی ساٹھ سال تک خدمت فرمائی ہے ۔ آپ صاحبِ کرامات بزرگ تھے ۔ آپ کی کرامتیں زبانِ عام و خاص ہیں ۔
ایک دن ارشاد فرمایا:
کہ میں نے سات سال تک نماز با جماعت فوت نہیں ہونے دی ۔ اب اگر جنگل میں بھی جاؤں تو نماز جماعت سے حاصل ہو جاتی ہے ۔ اور بارہ سال تک کسی سے سوال نہیں کیا ۔ اس کی برکت یہ ہے کہ جنگل میں بھی جاؤں تو اللہ تعالیٰ لنگر کا سامان اسی جگہ عطا کر دیتا ہے اور ہوائی رزق آ جاتا ہے ۔
اکثر یہ رباعی پڑھتے تھے:
؏: پیر سکھائی ایہا ریت
بہہ وچ حجرے یا مسیت
پھٹا پرانا کپڑا پا، بیا پروتھا ،ٹکڑا، کھا
غیر دے در تے مول نہ جا
وصال باکمال:
آپ کا وصال 13 جمادی الآخر 1358ھ کو ہوا ۔ مزار پر انوار سواگ شریف تحصیل کروڑ ضلع لیہ میں مرجع خاص و عام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ghulam-hassan-peer-sewag
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ غلام حسن ۔ لقب: پیرسواگ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ غلام حسن ا لمعروف پیر سواگ نقشبندی بن ملک لعل بن احمد یار بن یار محمد (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخ ولادت:
آپ کی ولادت تقریباً 1267ھ / مطابق 1850ء کو موضع " ڈگر سواگ " لعل عیسن کروڑ ، چاہ گاڑہ ، ضلع لیہ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ کر حضرت خواجہ محمد عثمان دامانی علیہ الرحمۃ کے خلیفہ مولانا غلام حسن پونگر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابتدائی تعلیم ان سے حاصل کی ۔ اور صَرف مولانا محمد علی شہاب ضلع جھنگ سے پڑھی اور کروڑ کے ایک خدا رسیدہ بزرگ مولانا جان محمد کے حلقہ درس میں شامل ہو گئے۔ اس کے بعد" سیواں "ضلع میانوالی تشریف لا کر مولانا غلام محمد کی خدامت میں رہ کر اکتساب علم کرنے لگے ۔ پھر آپ سیواں سے رخصت ہو کر "چکڑالہ" میں حضرت مولانا نور خان کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ مولانا نور خان حضرت خواجہ محمد عثمان دامانی علیہ الرحمۃ کے خلفاء میں سے تھے ۔ آپ نے بقیہ تمام تعلیم مولانا نور خان سے حاصل کی اور ظاہری و باطنی علوم میں کامل ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں حضرت خواجہ محمد عثمان دامانی نقشبندی علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت سے مشرف ہوئے اور نہی سے خرقۂ خلافت پا کر سرفراز و ممتاز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
خواجۂ خواجگان، حامیِ دینِ متین، جامع شریعت و طریقت، واقف اسرارِ رحمانی، وارثِ علومِ امامِ ربانی، حضرت خواجہ پیر غلام حسن سواگ رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کی تمام عمر دین اسلام اور شریعت مصطفیٰ ﷺ کے احکام کی اشاعت فرمانے میں گذری ۔ لاتعداد ہندو ، سیکھ ، عیسائی صرف آپ کے روئے تاباں کی زیارت سے مشرف ہو کر داخلِ اسلام ہوئے ۔
آپ کا معمول تھا کہ اگر کوئی ہندو یا غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہوتا تو آپ حسبِ ضرورت اس کی مالی معاونت و امداد کرنے کے لیے اپنا مال، جان، اولاد تک قربان کرنے سے دریغ نہ فرماتے ۔
آپ کا معمول تھا کہ جہاں کہیں بھی وعظ کے لیے تشریف لے جاتے تو لوگوں کو غیر شرعی رسومات چھوڑنے اور احکام شریعت پر عمل کرنے کی ترغیب فرماتے ۔ آپ کلمہ حق کہنے میں بھی بڑی دلیری اور بے باکی سے کام لیتے اور اس سلسلہ میں کسی بڑے سے بڑے آدمی کی بھی پرواہ نہ کرتے ۔
آپ اپنے وقت کےولیِ کامل تھے، ساری زندگی اسلام کی اشاعت و تبلیغ میں گزاری ۔ آپ اپنے احوال لوگوں سے پوشیدہ رکھتے تھے ۔ شریعت کی خاص پابندی تھی، رسول اللہ ﷺ کی ہر سنت پر عمل پیرا ہوتے تھے ۔ استحباب کا بھی خاص اہتمام تھا ۔ آپ نے حضرت خواجہ دامانی علیہ الرحمہ کی چالیس سال خدمت کی ہے، اور آپ کے خلیفۂ اعظم خواجہ محمد عبد اللہ بارو علیہ الرحمہ نے آپ کی ساٹھ سال تک خدمت فرمائی ہے ۔ آپ صاحبِ کرامات بزرگ تھے ۔ آپ کی کرامتیں زبانِ عام و خاص ہیں ۔
ایک دن ارشاد فرمایا:
کہ میں نے سات سال تک نماز با جماعت فوت نہیں ہونے دی ۔ اب اگر جنگل میں بھی جاؤں تو نماز جماعت سے حاصل ہو جاتی ہے ۔ اور بارہ سال تک کسی سے سوال نہیں کیا ۔ اس کی برکت یہ ہے کہ جنگل میں بھی جاؤں تو اللہ تعالیٰ لنگر کا سامان اسی جگہ عطا کر دیتا ہے اور ہوائی رزق آ جاتا ہے ۔
اکثر یہ رباعی پڑھتے تھے:
؏: پیر سکھائی ایہا ریت
بہہ وچ حجرے یا مسیت
پھٹا پرانا کپڑا پا، بیا پروتھا ،ٹکڑا، کھا
غیر دے در تے مول نہ جا
وصال باکمال:
آپ کا وصال 13 جمادی الآخر 1358ھ کو ہوا ۔ مزار پر انوار سواگ شریف تحصیل کروڑ ضلع لیہ میں مرجع خاص و عام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ghulam-hassan-peer-sewag
❤1👍1
حضرت مخدوم شیخ رکن الدین سہروردی جونپوری علیہ الرحمہ
نام: رکن الدین ۔ لقب: مخدوم، شیخ ۔
نسب:
حضرت مخدوم شیخ رکن الدین رحمتہ اللہ علیہ حضرت خواجہ عبداللہ انصاری رحمتہ اللہ علیہ کے خاندان سے تھے ۔
ان کے والدِ بزرگ گوار مخدوم صدر الدین ہجرت کر کے ہندوستان آئے اور دہلی میں آباد ہو گئے ۔
ولادت:
مخدوم رکن الدین رحمۃ اللہ علیہ کی جائے پیدائش اور تاریخ پیدائش کا حوالہ کسی تذکرہ و تاریخ کی کتاب میں نہیں ملتا لیکن زیادہ قیاس یہی ہے کہ وہ دہلی میں پیدا ہوئے ـ مگر جب دہلی پر امیر تیمور کے حملے کی خبر عام ہوئی تو دہلی سے ہجرت کرکے جون پور چلے آئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ سہروردیہ میں حضرت بابو تاج الدین رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ تھے اور انہیں حضرت مخدوم جہانیاں رحمۃ اللہ علیہ سے بھی بڑا فیض حاصل تھا ۔
سیرت:
حضرت مخدوم شیخ رکن الدین رحمۃ اللہ علیہ ہر وقت عشق حقیقی میں جذب رہتے اور دنیا کی ہر چیز سے محترز رہتے ۔
تجلی نور کے مصنّف لکھتے ہیں کہ انہونے کئی بار اپنے گھر کا تمام سامان فقرا میں بانٹ دیا تھا ۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ چند قلندر ان کے ہاں آئے اور پوچھا کہ سنا ہے آج آپ نے اپنا سارا گھر فقرا میں لٹا دیا ہے، مگر ہمیں بھی تو کچھ عنایت فرمائیں ۔
جب گھر میں ان کے لیے کچھ نہ ملا تو انھوں نے اپنے بیٹے شیخ جلال ہی کو اٹھا کر اُن کے حوالے کر دیا اور کہا کہ اس کو فروخت کر کے اپنی ضروریات پوری کر لیں ۔
یہ خبر شرقی وزیرِ سلطنت عماد الملک قاضی خاں کو پہنچی تو وہ بھاگے ہوئے آئے اور قلندر کو پانچ سو تنگے (اُس وقت کی کرنسی) دے کر شیخ جلال کو واپس لے لیا اور گھر لے جا کر اپنی بیٹی کی نسبت ان سے ٹھہرا دی ۔
مخدوم مال و دولت سے بڑی نفرت کرتے تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز ان کے پاس فتوح و نذرانہ کے ایک لاکھ تنگے جمع ہو گئے ۔ انہوں نے وہ تمام رقم اسی وقت فقرا و مساکین میں بانٹ دی، یہاں تک کہ اگلے روز کی ضروریات کے لیے بھی کچھ نہ رکھا ۔
مخدوم بڑے صاحبِ کرامات بزرگ تھے:
ایک بار فاطمہ نام کی ایک عورت کا ایک بارہ سالہ بیٹا فتح خاں بہت بیمار ہو گیا اور اس کی جان کے لالے پڑ گئے ۔ وہ عورت بچے کو لے کر روتی پیٹتی ان کے پاس آئی ۔ انہونے اس لڑکے پر اسم پاک کا دم کیا اور اس کے لیے دعائے خیر کی اور وہ لڑکا اسی وقت تندرست ہو گیا ۔
مخدوم نے سیکڑوں کو راہِ حق پر گامزن کیا ۔ ان کے بے شمار خلفاء تھے جن میں سے مخدوم شیخ منکن رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ تاج رحمۃ اللہ علیہ، جو پٹنہ میں مدفون ہیں، بڑے عالی مرتبت بزرگ تھے ۔
وصال:
ان کا وصال ۱۳ جمادی الثانی ۸۷۴ھ میں ہوا اور ان کا مزار دریائے گومتی کے کنارے جونپور کے محلہ تاڑتلہ میں ہے ۔
ماخذ:
تذکرہ اولیائے جونپور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-makhdoom-shiekh-rukunuddin-soharwardi
نام: رکن الدین ۔ لقب: مخدوم، شیخ ۔
نسب:
حضرت مخدوم شیخ رکن الدین رحمتہ اللہ علیہ حضرت خواجہ عبداللہ انصاری رحمتہ اللہ علیہ کے خاندان سے تھے ۔
ان کے والدِ بزرگ گوار مخدوم صدر الدین ہجرت کر کے ہندوستان آئے اور دہلی میں آباد ہو گئے ۔
ولادت:
مخدوم رکن الدین رحمۃ اللہ علیہ کی جائے پیدائش اور تاریخ پیدائش کا حوالہ کسی تذکرہ و تاریخ کی کتاب میں نہیں ملتا لیکن زیادہ قیاس یہی ہے کہ وہ دہلی میں پیدا ہوئے ـ مگر جب دہلی پر امیر تیمور کے حملے کی خبر عام ہوئی تو دہلی سے ہجرت کرکے جون پور چلے آئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ سہروردیہ میں حضرت بابو تاج الدین رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ تھے اور انہیں حضرت مخدوم جہانیاں رحمۃ اللہ علیہ سے بھی بڑا فیض حاصل تھا ۔
سیرت:
حضرت مخدوم شیخ رکن الدین رحمۃ اللہ علیہ ہر وقت عشق حقیقی میں جذب رہتے اور دنیا کی ہر چیز سے محترز رہتے ۔
تجلی نور کے مصنّف لکھتے ہیں کہ انہونے کئی بار اپنے گھر کا تمام سامان فقرا میں بانٹ دیا تھا ۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ چند قلندر ان کے ہاں آئے اور پوچھا کہ سنا ہے آج آپ نے اپنا سارا گھر فقرا میں لٹا دیا ہے، مگر ہمیں بھی تو کچھ عنایت فرمائیں ۔
جب گھر میں ان کے لیے کچھ نہ ملا تو انھوں نے اپنے بیٹے شیخ جلال ہی کو اٹھا کر اُن کے حوالے کر دیا اور کہا کہ اس کو فروخت کر کے اپنی ضروریات پوری کر لیں ۔
یہ خبر شرقی وزیرِ سلطنت عماد الملک قاضی خاں کو پہنچی تو وہ بھاگے ہوئے آئے اور قلندر کو پانچ سو تنگے (اُس وقت کی کرنسی) دے کر شیخ جلال کو واپس لے لیا اور گھر لے جا کر اپنی بیٹی کی نسبت ان سے ٹھہرا دی ۔
مخدوم مال و دولت سے بڑی نفرت کرتے تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز ان کے پاس فتوح و نذرانہ کے ایک لاکھ تنگے جمع ہو گئے ۔ انہوں نے وہ تمام رقم اسی وقت فقرا و مساکین میں بانٹ دی، یہاں تک کہ اگلے روز کی ضروریات کے لیے بھی کچھ نہ رکھا ۔
مخدوم بڑے صاحبِ کرامات بزرگ تھے:
ایک بار فاطمہ نام کی ایک عورت کا ایک بارہ سالہ بیٹا فتح خاں بہت بیمار ہو گیا اور اس کی جان کے لالے پڑ گئے ۔ وہ عورت بچے کو لے کر روتی پیٹتی ان کے پاس آئی ۔ انہونے اس لڑکے پر اسم پاک کا دم کیا اور اس کے لیے دعائے خیر کی اور وہ لڑکا اسی وقت تندرست ہو گیا ۔
مخدوم نے سیکڑوں کو راہِ حق پر گامزن کیا ۔ ان کے بے شمار خلفاء تھے جن میں سے مخدوم شیخ منکن رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ تاج رحمۃ اللہ علیہ، جو پٹنہ میں مدفون ہیں، بڑے عالی مرتبت بزرگ تھے ۔
وصال:
ان کا وصال ۱۳ جمادی الثانی ۸۷۴ھ میں ہوا اور ان کا مزار دریائے گومتی کے کنارے جونپور کے محلہ تاڑتلہ میں ہے ۔
ماخذ:
تذکرہ اولیائے جونپور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-makhdoom-shiekh-rukunuddin-soharwardi
❤1
شیخ الاسلام محمد بن قاضی القضاۃ شمس الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نسب:
شیخ الاسلام محمد بن قاضی القضاۃ شمس الدین ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ دیری ـ
آپ اپنے باپ کی ہی کنیت و لقب یعنی ابی عبد اللہ و شمس الدین سے مشہور تھے ۔
ولادت:
قدس میں ماہ محرم ۷۷۰ھ میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
کل علوم و فنون میں عالم فاضل ہوکر تدریس و افتاء میں مشغول رہے ـ
وصال:
۱۳ جمادی الآخر ۸۴۱ھ میں وفات پائی ۔ ’’ قطب خلق ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-muhammad-bin-qazi-ul-qaza-shamsuddin
نسب:
شیخ الاسلام محمد بن قاضی القضاۃ شمس الدین ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ دیری ـ
آپ اپنے باپ کی ہی کنیت و لقب یعنی ابی عبد اللہ و شمس الدین سے مشہور تھے ۔
ولادت:
قدس میں ماہ محرم ۷۷۰ھ میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
کل علوم و فنون میں عالم فاضل ہوکر تدریس و افتاء میں مشغول رہے ـ
وصال:
۱۳ جمادی الآخر ۸۴۱ھ میں وفات پائی ۔ ’’ قطب خلق ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-muhammad-bin-qazi-ul-qaza-shamsuddin
❤1