🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.87K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.81K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا سید جلال الدین چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
حضرت مولانا سید جلال الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ ۔ والد کا اسم گرامی: حضرت صوفی سید عبد الشکور علیہ الرحمہ ـ

خاندانی حالات:
آپ کے والد ماجد حضرت صوفی سید عبد الشکور علیہ الرحمہ ایک عابد و زاہد شخص تھے ۔ شریعتِ مطہرہ کے پابند تھے، انہوں نے اپنے خاندان کی ایک نہایت متقی پرہیزگار و نیک سیرت خاتون حضرت برکت فاطمہ سے نکاح کیا ۔ آپ کا خاندان ہندوستان میں ورود کے بعد ضلع بجنور میں سکونت پذیر ہوا ۔ آپ کے خاندان میں کافی علماء و مشائخ گزرے ہیں ۔

نانا جان اور ماموں جان:
آپ کے نانا جان حضرت مولانا سید فرید الدین اور ماموں جان حضرت مولانا سید اصغر علی کا شمار وقت کے جید علماء و مشائخ میں ہوتا تھا ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1328ھ / مطابق 1910ء کو بوقتِ صبح ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
حضرت مولانا جلال الدین علیہ الرحمہ نے قریبی مدرسہ میں 8 سال کی عمر میں کلام پاک ناظرہ ختم کیا ہی تھا کہ والد مکرم کا سایہ شفقت سر سے اُٹھ گیا اور مسئلہ فکر معاش پیدا ہو گیا ۔ آپ کی والدہ ماجدہ کو آپ کی تعلیم کی فکر تھی جب کہ اعزہ کا مشورہ تھا کہ کسی کام کاج پر لگا دِیا جائے ۔

بِالآخر آپ کی والدہ نے جمع شدہ پونجی دے کر چپکے سے حصول علم کے لئے آگرہ روانہ کر دیا ۔ آگرہ اس وقت دینی علوم کا مرکز تھا ۔ 12 سال کی عمر میں آپ نے آگرہ میں کلام پاک حفظ کر لیا ۔ وقت کے جید علماء سے تعلیم حاصل کی " مدرسہ شعیب محمدیہ " آگرہ سے بیس سال کی عمر میں رمضان المبارک 1353ھ 1938ء میں فارغ التحصیل ہوئے ۔

آپ کے اساتذہ کرام میں نامور علمی شخصیت حضرت مولانا روشن الدین کی تھی ۔ جن سے آپ نے خصوصی طور پر استفادہ کیا تھا ۔ ان کا سلسلہ اساتذہ چند واسطوں سے حضرت شیخ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہٗ کے نامور فرزند عارفِ کامل، عاشق خیر الوریٰ حضرت علامہ شیخ عبد العزیز محدث دہلوی قدس سرہ سے جا کر ملتا ہے ۔

بیعت و خلافت:
اپنے وقت کے ولیِ کامل حضرت حاجی سید آل حسن چشتی صابری المعروف کامل شاہ علیہ الرحمہ (متوفی 1962ء مدفون پاپوش نگر قبرستان) کی خدمت میں پہنچے تو بہت متاثر ہوئے اور انہیں کے ہاتھ پر سلسلۂ چشتیہ صابریہ میں بیعت ہوئے، اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
عالم و عارف، پیرِ طریقت، عاملِ سنت، صاحبِ تقویٰ و عبادت، حضرت علامہ مولانا سید جلال الدین چشتی صابری رحمۃاللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ کا شمار اپنے وقت کے کاملین میں ہوتا تھا ۔ عبادت و ریاضت کثرت سے کرتے تھے ۔ آپ خوش الحان قاریِ قرآن اور واعظِ شیریں بیان تھے ۔ آپ نے دورانِ تعلیم بڑی صعوبتیں اٹھائیں، گزر اوقات کے لئے کئی جگہ پر ملازمت اختیار کی لیکن والدہ محترمہ نے جس مقصد کے لئے بھیجا تھا اسے ادھورا نہ چھوڑا ۔ اپنے تعلیمی دور کے بارے میں بتاتے تھے کہ ہمارے دور میں مدرسوں میں اس قدر آسانیاں نہیں ہوتی تھیں، جِتنی آج ہیں طلباء کو بہت سے کام خود کرنے پڑتے تھے ۔ باری باری جنگل سے دو طالب علموں کو روزانہ لکڑیاں کاٹ کر لانی پڑتی تھیں جس سے مدرسہ کے طلباء کا کھانا پکایا جاتا تھا ۔ اسی طرح کے دیگر کام خود کرنے پڑتے تھے ۔

ریاضت:
رمضان المبارک میں ہر ترویحہ (چار رکعت تراویح) میں جس قدر کلام پاک سنایا کرتے اس کا ترجمہ مقتدیوں کو سناتے لوگ کمال توجہ سے سنتے ذرا نہ اُکتاتے تھے ۔ شب زندہ داری معمول تھی، اکثر عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھاتے ۔ ایک مرتبہ شبینہ میں ایک رکعت میں 29 پارے سنائے اور باقی ایک پارہ بقیہ رکعت میں پورا کیا ۔

مستجاب الدعوات:
خشک سالی میں لوگ دور دور سے دعائے باران (بارش) کے لئے حاضر ہوتے ۔ آپ ان سے فرماتے جو کہوں گا وہ کرو گے؟ لوگ اقرار کرتے آپ فرماتے: "خوب روؤ پھر خود بھی خوب روتے ہوئے بارگاہ الٰہی میں بصدر عجز و انکسار دعا کرتے پھر یہ ہوتا کہ آسمان پر بادل چھا جاتے اور بارش برسنا شروع ہو جاتے ۔"
1
خطابت:
فارغ التحصیل ہونے کے بعد آگرہ (انڈیا) کی عید گاہ مسجد میں امامت اختیار کی ۔ آگرہ میں آپ کے وعظ کی دھوم مچی ہوئی تھی دور دراز سے لوگ وعظ سننے آپ کی مسجد میں آتے تھے ۔ ایک بار انبالہ شہر میں ایسا ہوا کہ کچھ طوائفیں آپ کے پاس حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ ہمارے ہاں بھی وعظ فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا: وعظ کی فیس لیتا ہوں ۔ وہ بولیں ہم دے دیں گے ۔ آپ حسبِ وعدہ ان کے ہاں وعظ کے لئے تشریف لے گئے اور ایسا مدلل بلیغ اور پُر اثر وعظ کیا کہ سامعین مع طوائفیں رونے لگیں ۔ وعظ کے اختتام پر فرمایا: میری فیس دو ۔ طوائفیں بولیں: آپ کیا فیس لیتے ہیں ۔ آ پ نے فرمایا: میری فیس روپیہ پیسہ نہیں ہے وہ کچھ اور ہے ۔ وہ بولیں آپ کو کیا چاہئے؟ آپ نے فرمایا: میری فیس یہ ہے کہ تم اس بُرے پیشہ سے توبہ کرو اور آئندہ نیک زندگی بسر کرو ۔ تمام طوائفوں نے اسی وقت اس پیشۂ بَد سے ہمیشہ کے لئے توبہ کی ۔ آپ نے بستی والوں سے فرمایا: تمہارے جوان آگے آئیں اور ان سے نکاح کریں انہیں بیوی بنا کر عزت دیں تاکہ یہ اپنی آئندہ زندگی شرافت و نیکی پر گذار سکیں ۔"

مو لانا سید جلال الدین کو قرآن حکیم کی قراءت میں کمال حاصل تھا، صبح مسجد شریف میں قراءت فرماتے تو راستہ میں چلتے ہوئے لوگ رُک جاتے اور سُننے میں محو ہو جاتے ۔ عورتوں کو یہ احساس تک نہ ہوتا تھا کہ ان کے سر پر پانی سے بھرا ہوا گھڑا ہے یا نہیں ۔ آپ نے ہند میں ہندوؤں پنڈتوں اور عیسائی پادریوں سے مناظرے بھی کئے اور بعض اسلام کی دولت سے مالا مال ہوئے ۔

قیام پاکستان کے بعد انڈیا سے پاکستان کے بین الاقوامی شہر کراچی تشریف لائے اور کھارادر میں باغ زہرہ اسٹریٹ پر واقع او کھائی میمن مسجد میں امام و خطیب مقرر ہوئے ۔ کراچی میں تقریباً 34 سال کا عرصہ تبلیغِ دین، ترویجِ مسلک اہل سنت میں گذارا ۔ بعد نماز عشاء درس قر آن مسلسل دیتے تھے ۔ آپ کے مرشد کریم بھی ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور لیاقت آباد کراچی میں سکونت اختیار کی ۔ آپ کی عقیدت و محبت کا یہ عالم تھا کہ ٹاور سے پیدل لیاقت آباد مرشد کریم کی زیارت کو جانا آپ کا معمول تھا اگر دروازہ بند ہوتا تو مرشد کریم کے دروازہ پر دستک دینا خلاف ادب سمجھتے اس لئے گلی میں بیٹھ کر انتظار کرتے ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 12 جمادی الآخرہ 1402ھ / مطابق 8 اپریل 1982ء شب جمعرات کو 72 سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ بروز جمعرات نماز جنازہ حضرت مولانا قاری محمد مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ نے پڑھائی ۔ آپ کا مزار پر انوار کراچی کے پاپوش نگر قبرستان میں " احاطہ کامل شاہ " میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-jalaluddin-chishti-qadri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مولانا مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم ِگرامی:
مفتی سید غلام معین الدین نعیمی ۔ لقب: نعیمی ۔ والد کا اسم گرامی: سید صابر اللہ شاہ چشتی صابری اشرفی نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ کا خاندانی تعلق خاندانِ اہل بیت سے ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 10 ربیع الثانی / 1342ھ، مطابق 19 نومبر 1923ء کو مرادآباد (انڈیا) میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
مراد آباد کی مشہور دینی درس گاہ جامعہ نعیمیہ میں تاج العلماء حضرت مولانا مفتی محمد عمر نعیمی اور صدر الافاضل مولانا مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ سے علوم دینیہ کی تحصیل و تکمیل کی ۔ دینی تعلیم کے حصول کے زمانہ ہی میں فن طب حاصل کیا اور 1943ء میں وہاجیہ طبیہ کالج لکھنؤ سے " الحکیم الفاضل " کی سند حاصل کی ۔ 1945ء میں آپ تحصیل علوم سے فارغ ہو گئے ۔ صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی کی قیادت میں تحریک پاکستان کے لئے سرگرمی سے کام کیا ایک عرصہ تک آل انڈیا سنی کانفرنس کے منتظم رہے ۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت صدر الافاضل بدر المماثل سید مفتی محمد نعیم الدین مرادبادی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔

سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول، فاضلِ اکمل، عالمِ متبحر، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، مفتیِ اہلسنت، حضرت علامہ مولانا مفتی سید غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ

آپ علیہ الرحمہ حضرت صدر الافاضل بدر المماثل حضرت علامہ مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ کے شاگردِ رشید تھے ۔ تحریکِ پاکستان میں حضرت صدر الافاضل کے شانہ بشانہ کام کیا ۔ بالآخر تخلیقِ پاکستان کی صورت میں اکابر کی محنت رنگ لائی ۔ دینِ متین کی خدمت اور مسلکِ حق کا درد حضرت صدر الافاضل کی تربیتِ فیض اثر سے ملا تھا ۔ یہی وجہ ہےکہ ساری زندگی درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں گزاردی ۔

حضرت شرفِ ملت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "آپ 1950ء میں پاکستان تشریف لائے ، غازیِ کشمیر حضرت مولانا ابو الحسنات قادری علیہ الرحمہ نے آپ کو جمیعت علماء پاکستان کا نائب ناظم مقرر کیا ۔ ایک مدت تک جمیعت کا ترجمان " جمعیت " نکالتے رہے، اور پوری تند ہی سے کام کیا ، بعد ازاں حضرت صدر الافاضل کی یاد میں " ہفت روزہ سواد اعظم " نکالا اور بڑی محنت اور ہمت سے تاحیات جاری رکھا ۔ اس جریدے کی خصوصیت یہ تھی کہ مسلک اہل سنت و جماعت کے تحفظ کے لئے حتی الامکان کوشِش کرتے رہے اور اسی کے ذریعے مسلک کے مخالفین کی فتنہ سامانیوں کا سختی سے نوٹس لیا جاتا رہا، انکی حق گوئی بے باکی ہمارے لئے قابل فخر اور مشعل راہ ہے ۔

مفتی صاحب نے نا قدری کے اس دور میں تقریباً پچاس کے قریب کتابوں کے ترجمے کئے جن میں سے شفاء شریف، مدارج النبوت، خصائص الکبریٰ اور کشف المحجوب وغیرہ کے ترجمے خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ اس کے علاوہ بے سرو سامانی کے عالم میں مسلک اہل سنت کی بہت سی کتابوں کی اشاعت کی ۔ " (تذکرہ اکابرِ اہلسنت، ص:361) ـ

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 12 جمادی الاخریٰ 1391ھ، مطابق 4 اگست 1971ء بروز بدھ کو ہوا ۔ میانی صاحب قبرستان (لاہور) میں مولانا غلام محمد ترنم کے مزار کے قریب آرام فرما ہیں ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-moinuddin-naeemi-lahori
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
مولانا مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ نام و نسب: اسم ِگرامی: مفتی سید غلام معین الدین نعیمی ۔ لقب: نعیمی ۔ والد کا اسم گرامی: سید صابر اللہ شاہ چشتی صابری اشرفی نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ کا خاندانی تعلق خاندانِ اہل بیت سے ہے ۔ تاریخِ ولادت:…
تصانیف و تراجم:
خلیفۂ حضور صدر الافاضل حضرت علامہ مفتی سید معین الدین نعیمی مرادآبادی ثم لاہوری علیہ الرحمہ نے انتہائی مشکل حالات میں گھریلو امور کو بھی مکمل طور پر نبھاتے ہوئے تنظیمی و تحریکی اُمور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، ہفتہ وار اخبار بھی نکالتے رہے اور اس کے ساتھ ساتھ تقریباً پچاس کے قریب کتب کے تراجم کیے اور متعدد مقالات بھی تحریر کیے جو کہ اہل علم کے تمام حلقوں میں بے حد مقبول ہوئے اور آج بھی متعدد اہل سنت کے ادارے آپ کے تراجم کو شائع کر رہے ہیں ۔ [ مفتی سید غلام معین الدین نعیمی ـ حیات و خدمات صفحہ⁸⁶ تحقیق و تالیف ثاقب رضا قادری ]
https://t.me/islaamic_Knowledge/43088
تصنیفات:
مفتی صاحب نے نا قدری کے اس دور میں تقریباً پچاس کے قریب کتابوں کے ترجمے کئے جن میں سے شفاء شریف، مدارج النبوت، خصائص الکبریٰ اور کشف المحجوب وغیرہ کے ترجمے خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ اس کے علاوہ بے سرو سامانی کے عالم میں مسلک اہل سنت کی بہت سی کتابوں کی اشاعت کی ۔ " (تذکرہ اکابرِ اہلسنت، ص:361) [ ضیاء طیبہ ]
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
بانیِ سلسلۂ سہروردیہ شیخ عبد القاہر ابو نجیب سہروردی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
شیخ عبد القاہر ۔ کنیت: ابو نجیب ۔ لقب: بانیِ سلسلہ عالیہ سہروردیہ ۔ ضیاء الدین سہروردی ۔ پورا نام اس طرح ہے: عبد القاہر ابو نجیب ضیاء الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ـ

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ ابو نجیب عبد القاہر بن عبد اللہ بن محمد بن محمد عمویہ عبد اللہ بن سعد بن حسین بن قاسم بن نضربن قاسم بن سعد بن نضربن عبد الرحمٰن بن قاسم بن محمد بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہم ۔

شیخ الشیوخ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ آپ کے بھتیجے اور خلیفۂ اعظم ہیں ۔ (یادگارِ سہروردیہ، ص:110) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز پیر 17 محرم الحرام 487ھ / مطابق 5 فروری 1094ء کو بمقام " سہرورد " عراق عجم میں ہوئی ۔ (ایضاً)

تحصیلِ علم:
عفوانِ شباب میں ہی سہرورد سے تشریف لا کر بغداد میں سکونت اختیار کر لی تھی ۔ علوم ظاہری جامعہ نظامیہ بغداد شریف میں تحصیل فرمائے ۔ امام اسعد یمنی رحمۃ اللہ علیہ سے فقہ و اصول فقہ و علم کلام پڑھا ۔ علامہ ابو الحسن رحمۃ اللہ علیہ سے نحو و ادب کی تعلیم حاصل کی ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ اور خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اور امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ سے حدیث شریف سنی ۔ صاحب " نفحات الانس" کے مطابق افریقہ کا سفر کیا ۔ اسکندریہ میں شیخُ الحدیث سے بخاری شریف سنی امام واحد ی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر آپ کو زبانی یاد تھی ۔ مزید بر آں جامع بغداد میں محدث عراق شیخ ابو علی محمد بن سعید بن سیقان، اور ابو محمد عبد الخالق بن طاہر الشافعی المتوفیٰ 541 ہجری سے بھی علم حدیث حاصل کیا ۔

بیعت و خلافت:
حضرت امام احمد غزالی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت ملی ۔ اپنے چچا حضرت شیخ وجیہ الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی خلافت سے سرفراز فرمایا ۔

علامہ جامی علیہ الرحمہ کے بقول حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی علیہ الرحمہ سے بھی آپ کو خرقۂ خلافت حاصل تھا ۔ (نفحات الانس:367) بانیِ سلسلہ عالیہ قادریہ حضرت غوث الاعظم شیخ عبد القادرجیلانی رضی اللہ عنہ کی صحبت بھی حاصل ہوئی ۔ (یاگارِ سہروردیہ ص:108) ـ

سیرت و خصائص:
بانیِ سلسلۂ عالیہ سہروردیہ، عارفِ حقائق صمدانیہ، صاحبِ فیوضاتِ کثیرہ، حضرت شیخ عبد القاہر ابو نجیب ضیاء الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ سلسلۂ عالیہ سہروردیہ کے بانی ہیں جسے آپ کے بھتیجے اور خلیفۂ اعظم حضرت شیخ الشیوخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ نے آسمانِ شہرت تک پہنچایا ۔ حضرت شیخ الاسلام شیخ الشیوخ نے اس سلسلہ کی ترویج و ترقی اور نشاہِ ثانیہ میں اہم کردار ادا کیا ۔ اس لئے وہی بانیِ سلسلۂ سہروردیہ معروف ہیں ۔

ابتداً درس و تدریس میں مصروف رہتے تھے ۔ پھر علومِ باطنی کی طرف متوجہ ہو گئے، اور درس و تدریس کا سلسلہ ترک کر کے فقراء کی صحبت اختیار کی ۔ سخت چِلِّے اور مجاہدے کئے سخت ریاضتیں کیں ۔

آپ کا شمار اپنے وقت کے جید مشائخ اور کاملین میں ہوتا تھا ۔ علم و عمل میں بے مثال تھے ۔ جب سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: "میرا قدم ہر ولی اللہ کی گردن پر ہے " تو اس وقت آپ حضرت غوث الاعظم کی مجلس وعظ میں موجود تھے ۔ آپ کے علاوہ اس وقت اس مجلس میں پچاس نامور مشائخ بھی موجود تھے ۔ سب نے اپنی گردنیں جُھکا لیں، اور حضرت محبوب سبحانی کے قدم مبارک کو بوسہ دیا، اور اپنے سروں پر رکھ دیا ۔ جن حضرات نے ایسا کیا ان کا نام آج تک روشن ہے ۔ (ایضاً)

جامعہ نظامیہ بغداد:
یہ جامعہ اُس وقت پوری دنیا کی عظیم اور شہرہ آفاق اور دنیا کی واحد یونیورسٹی تھی ۔ اس یونیورسٹی سے بڑے بڑے فضلاء پیدا ہوئے ۔

حضرت امام غزالی علیہ الرحمہ، اور ان کے بعد حضرت غوث الاعظم اس کے استاد و منتظم اعلیٰ تھے ۔ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے بعد خلیفۂ بغداد نے حضرت ابو نجیب سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کو اس یونیورسٹی کا پرنسپل مقرر کیا ۔ اس سے معلوم یہ ہوا کہ ہمارے مشائخ تمام علوم کے جامع ہوتے تھے ۔ (اخبار الصالحین:166) ـ
1
ایک دن آپ حرم شریف میں مراقبہ کئے بیٹھے تھے آپ کے بھتیجے اور خلیفہٗ اعظم شیخ الشیوخ حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ کے پاس حاضر تھے تو اسی اثنا میں حضرت خضر علیہ السلام تشریف لائے مگر شیخ نےکچھ توجہ نہ فرمائی اور مراقب رہے ۔

حضرت خضر علیہ السلام کچھ دیر کھڑے رہے اور پھر چلے گئے ۔ جب آپ مراقبہ سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: "اے بیٹا تجھے کیا معلوم اس وقت میں اپنے خالق سے مشغول تھا اگر وہ وقت فوت ہو جاتا تو پھر مجھے کہاں ملتا ۔ خواجہ تو پھر مل جائیں‌گے ۔ یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ حضرت خضر علیہ السلام پھر تشریف لے آئے ۔ شیخ نے کھڑے ہو کر استقبال کیا اور اپنے پاس بِٹھایا ۔ اسی طرح کئی بار آپ حضرت خضر علیہ السلام کا شرف نیاز حاصل کر کے رموز باطن اور علوم طریقت سے بہرہ مند ہوئے ۔ ( تذکرہ غوث العالمین ) ـ

کرامت:
حضرت شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ ایک دن تین یہودی اور تین عیسائی حضرت شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ شیخ نے ان کو اسلام کی دعوت دی لیکن انہوں نے اِنکار کر دیا آپ نے ان میں سے ہر ایک کو ایک لقمہ دیا ۔ ابھی لقمہ ان کے پیٹ میں نہیں پہنچا تھا کہ وہ سب ایمان لے آئے اور کہنے لگے کہ جونہی لقمہ ہمارے حلق کے اندر گیا سوائے اسلام کے ہر دین کی محبت ہمارے دل سے جاتی رہی ۔ (یادگار سہروردیہ ص:112) ـ

حضرت شیخ اپنے مریدین کو بد عقیدہ، بد عمل دوستوں کی صحبت سے دور رہنے کی تلقین کرتے تھے ۔ اسی طرح سالکین کو شیطان کے مکائد و فسادات سے پہلے ہی مطلع فرما دیتے تھے ۔ آپ کا اثر علماء ظاہر اور درویشوں تک ہی محدود نہ تھا ۔ بلکہ خلیفۂ وقت اور سلاطین بھی احترام کرتے اور بات مانتے ۔

جب الراشد باللہ ابو جعفر منصور خلیفہ ہوا تو آپ نے اسے وعظ و نصیحت فرمائی اور عدل و انصاف اور خدا ترسی کی ترغیب دلائی ۔ آپ کی کتاب " آداب المریدین " مسائلِ طریقت پر ایک جامع و نافع کتاب ہے ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 12 جمادی الثانی 563ھ / مطابق مارچ 1163ء کو بغداد میں ہوا ۔

ماخذ و مراجع:
نفحات الانس ۔ یادگار سہروردیہ ۔ اخبار الصالحین ۔ تذکرۂ غوث العالمین ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-najeeb-abdul-qahir-soharwardi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-06-1445 ᴴ | 25-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-06-1445 ᴴ | 26-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2