🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-06-1445 ᴴ | 25-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-06-1445 ᴴ | 25-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
इस्लामी साल का पाँचवां और छठा महीना
जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा
लुग़त के एअ़्तिबार से इन दोनों महीनों के दुरुस्त नाम और तलफ़्फ़ुज़ येह हैं: जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा।
मशहूर नह़वी इमाम फ़रा कहते हैं: کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکِّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ यअ़्नी तमाम महीनों के नाम मुज़क्कर (Male) हैं सिवाए दो जुमादी महीनों (या'नी जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा या जुमादल आख़िरह) के, इन दोनों के नाम मुअन्नस (Female) हैं।
[الشماریخ فی علم التاریخ، ص:۱۳]
जब लफ़्ज़े "जुमादा" मुअन्नस है तो इसकी स़िफ़त भी मुअन्नस ही ही ज़िक्र की जाएगी - इसी लिए इसे "जुमादल अव्वल" और "जुमादल आख़िर" न कहा जाए। क्योंकि "अल अव्वल" और "अल आख़िर" मुज़क्कर हैं, बल्कि "जुमादल ऊला" और "जुमादल उख़रा" या "जुमादल आख़िरह" कहना चाहिए।
ऐसे ही छठे महीने को "जुमादस्सानी" भी न कहा जाए, क्योंकि सानी वहाँ आता है जहां उसके बा'द सालिस (यानी तीसरा) भी हो, जबकि यहाँ तीसरा नहीं।
[غیاث اللغات، باب الجیم، ص:194]
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा
लुग़त के एअ़्तिबार से इन दोनों महीनों के दुरुस्त नाम और तलफ़्फ़ुज़ येह हैं: जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा।
मशहूर नह़वी इमाम फ़रा कहते हैं: کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکِّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ यअ़्नी तमाम महीनों के नाम मुज़क्कर (Male) हैं सिवाए दो जुमादी महीनों (या'नी जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा या जुमादल आख़िरह) के, इन दोनों के नाम मुअन्नस (Female) हैं।
[الشماریخ فی علم التاریخ، ص:۱۳]
जब लफ़्ज़े "जुमादा" मुअन्नस है तो इसकी स़िफ़त भी मुअन्नस ही ही ज़िक्र की जाएगी - इसी लिए इसे "जुमादल अव्वल" और "जुमादल आख़िर" न कहा जाए। क्योंकि "अल अव्वल" और "अल आख़िर" मुज़क्कर हैं, बल्कि "जुमादल ऊला" और "जुमादल उख़रा" या "जुमादल आख़िरह" कहना चाहिए।
ऐसे ही छठे महीने को "जुमादस्सानी" भी न कहा जाए, क्योंकि सानी वहाँ आता है जहां उसके बा'द सालिस (यानी तीसरा) भी हो, जबकि यहाँ तीसरा नहीं।
[غیاث اللغات، باب الجیم، ص:194]
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
❤2
اسلامی سال کا پانچواں اور چھٹا مہینہ
جمادی الاولی اور جمادی الاخری
لغت کے اعتبار سے ان دونوں مہینوں کے درست نام اور تلفظ یہ ہیں: جُمَادَی الاٗوۡلٰی اور جُمَادَی الاُخۡرٰی یا جُمَادَی الاٰخِرَہۡ ـ
مشہور نحوی امام فَراء کہتے ہیں: کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکِّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ یعنی تمام مہینوں کے نام مذکر ہیں سوائے دو جمادی مہینوں (یعنی جُمَادَی الاٗوۡلٰی اور جُمَادَی الاُخۡرٰی یا جُمَادَی الاٰخِرَہۡ) کے ان دونوں کے نام مؤنث ہیں ـ [الشماریخ فی علم التاریخ، ص:۱۳]
جب لفظِ ”جمادی“ مؤنث ہے تو اس کی صفت بھی مؤنث ہی ذکر کی جائےگی ـ اسی لیے ”جمادی الاول“ اور ”جمادی الآخِر“ نہ کہا جائے کیونکہ ”الاول“ اور ”الاٰخر“ مذکر ہیں بلکہ ”جُمَادَی الاُوۡلٰی“ اور ”جُمَادَی الاُخۡرٰی“ یا ”جُمَادَی الاٰخِرَہۡ“ کہنا چاہیے ـ
ایسے ہی چھٹے مہینے کو ”جمادی الثانی“ بھی نہ کہا جائے، کیونکہ ثانی وہاں آتا ہے جہاں اس کے بعد ثالث (یعنی تیسرا) بھی ہو جبکہ یہاں تیسرا نہیں ـ [غیاث اللغات، باب الجیم، ص:194]
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
جمادی الاولی اور جمادی الاخری
لغت کے اعتبار سے ان دونوں مہینوں کے درست نام اور تلفظ یہ ہیں: جُمَادَی الاٗوۡلٰی اور جُمَادَی الاُخۡرٰی یا جُمَادَی الاٰخِرَہۡ ـ
مشہور نحوی امام فَراء کہتے ہیں: کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکِّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ یعنی تمام مہینوں کے نام مذکر ہیں سوائے دو جمادی مہینوں (یعنی جُمَادَی الاٗوۡلٰی اور جُمَادَی الاُخۡرٰی یا جُمَادَی الاٰخِرَہۡ) کے ان دونوں کے نام مؤنث ہیں ـ [الشماریخ فی علم التاریخ، ص:۱۳]
جب لفظِ ”جمادی“ مؤنث ہے تو اس کی صفت بھی مؤنث ہی ذکر کی جائےگی ـ اسی لیے ”جمادی الاول“ اور ”جمادی الآخِر“ نہ کہا جائے کیونکہ ”الاول“ اور ”الاٰخر“ مذکر ہیں بلکہ ”جُمَادَی الاُوۡلٰی“ اور ”جُمَادَی الاُخۡرٰی“ یا ”جُمَادَی الاٰخِرَہۡ“ کہنا چاہیے ـ
ایسے ہی چھٹے مہینے کو ”جمادی الثانی“ بھی نہ کہا جائے، کیونکہ ثانی وہاں آتا ہے جہاں اس کے بعد ثالث (یعنی تیسرا) بھی ہو جبکہ یہاں تیسرا نہیں ـ [غیاث اللغات، باب الجیم، ص:194]
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
❤2
اسلامی سال کا پانچواں اور چھٹا مہینہ
جمادی الاولی اور جمادی الاخری
لغت کے اعتبار سے ان دونوں مہینوں کے درست نام اور تلفظ یہ ہیں: جُمَادَی الاٗوۡلٰی اور جُمَادَی الاُخۡرٰی یا جُمَادَی الاٰخِرَہۡ ـ
इस्लामी साल का पाँचवां और छठा महीना
जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा
लुग़त के एअ़्तिबार से इन दोनों महीनों के दुरुस्त नाम और तलफ़्फ़ुज़ येह हैं: जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा या जुमादल आख़िरह ـ
مشہور نحوی امام فَراء کہتے ہیں: کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکِّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ یعنی تمام مہینوں کے نام مذکر ہیں سوائے دو جمادی مہینوں (یعنی جُمَادَی الاٗوۡلٰی اور جُمَادَی الاُخۡرٰی یا جُمَادَی الاٰخِرَہۡ) کے ان دونوں کے نام مؤنث ہیں ـ [الشماریخ فی علم التاریخ، ص:۱۳]
मशहूर नह़वी इमाम फ़रा कहते हैं: کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکِّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ यअ़्नी तमाम महीनों के नाम मुज़क्कर (Male) हैं सिवाए दो जुमादी महीनों (या'नी जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा या जुमादल आख़िरह) के, इन दोनों के नाम मुअन्नस (Female) हैं।
[الشماریخ فی علم التاریخ، ص:۱۳]
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
جمادی الاولی اور جمادی الاخری
لغت کے اعتبار سے ان دونوں مہینوں کے درست نام اور تلفظ یہ ہیں: جُمَادَی الاٗوۡلٰی اور جُمَادَی الاُخۡرٰی یا جُمَادَی الاٰخِرَہۡ ـ
इस्लामी साल का पाँचवां और छठा महीना
जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा
लुग़त के एअ़्तिबार से इन दोनों महीनों के दुरुस्त नाम और तलफ़्फ़ुज़ येह हैं: जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा या जुमादल आख़िरह ـ
مشہور نحوی امام فَراء کہتے ہیں: کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکِّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ یعنی تمام مہینوں کے نام مذکر ہیں سوائے دو جمادی مہینوں (یعنی جُمَادَی الاٗوۡلٰی اور جُمَادَی الاُخۡرٰی یا جُمَادَی الاٰخِرَہۡ) کے ان دونوں کے نام مؤنث ہیں ـ [الشماریخ فی علم التاریخ، ص:۱۳]
मशहूर नह़वी इमाम फ़रा कहते हैं: کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکِّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ यअ़्नी तमाम महीनों के नाम मुज़क्कर (Male) हैं सिवाए दो जुमादी महीनों (या'नी जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा या जुमादल आख़िरह) के, इन दोनों के नाम मुअन्नस (Female) हैं।
[الشماریخ فی علم التاریخ، ص:۱۳]
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
❤2
حسانِ پاکستان، حضرت مولانا ضیاء القادری بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت مولانا کا تاریخی نام: محمد فضل الرحمٰن ـ عرفی نام: محمد یعقوب حسین ـ قلمی نام: ضیاء القادری ـ تخلص: ضیاء ـ اور خطابات: لسان الحسان، شاعر اہل سنت، حسانِ پاکستان اور مورخ اہل سنت ملے ہوئے تھے ۔
ولادت:
۲۶ رجب المرجب شب معراج نبوی ۱۳۰۰ھ بمطابق ۲ جون ۱۸۸۳ء کو بعد نماز عشاء مدینۃ العلم بدایوں (بھارت) میں تولد ہوئے ۔
آپ کے مورث اعلی مولانا خواجہ عبد اللہ چشتی بدایون کے مایہ ناز عالم اور مشہور محدث و مفسر تھے ۔ چار سال کی عمر میں والدین کا سایہ عاطف سر سے اُٹھ گیا اس لئے تربیت کا انتظام غالب و مومن کے شاگرد مولانا علی احمد خان نے کیا ۔
تعلیم و تربیت:
جب مولانا کی عمر سات سال ہوئی تو انہیں افاضل اساتذہ نے پڑھانا شروع کیا ۔ پہلے قرآن مجید پڑھایا پھر فقہ، تفسیر اور حدیث کی کتابیں پڑھائیں ۔ تقریباً چودہ سال کی عمر میں آپ نے عالمانہ استعداد حاصل کر لی ۔
سفر حرمین شریفین:
آپ ہندوستان سے پاکستان مستقل منتقل ہوئے اور ۱۳۲ھ؍ ۱۹۴۸ء میں آپ کو حج و زیارتِ روضۂ رسول ﷺ کی سعادت حاصل ہوئی اور آپ کو یہ امتیازی کے مزار پر انوار (بغداد شریف) پر حاضری بھی نصیب ہوئی ۔
عادات و خصائل:
مولانا ضیاء القادری نہایت خلیق اور سراپا درد بزرگ تھے ، ایثار و خلوص کی جیتی جاگتی تصویر تھے ، انکسار پسند ، اور شگفتہ مزاج تھے ، ظاہری شان و شوکت سے آپ کو کوئی لگاوٗ نہ تھا ، تقویٰ و پرہیز گاری میں سلف صالحین کا بہتری نمونہ تھے ۔
۱۹۱۷ء سے ایک عرصہ تک آپ کے زیرِ اہتمام بدایوں میں رجبی شریف کے عظیم الشان جلسے منعقد ہوتے رہے ۔ تقریباً ۳۵ سال تک سرکاری ملازمت سے وابستہ رہے اس کے باوجود علم و ادب کی وہ گراں قدر خدمات انجام دیں جنہیں تاریخ فراموش نہیں کر سکتی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نظم و نثر پر یکساں قدرت عطا فرمائی تھی ۔
تلامذہ:
پاک و ہند کے مشہور شعرائے کرام مثلاً شکیل بدایونی، اختر الحامدی، مضطر صابری، ماہر القادری، طالب انصاری، محشر بدایونی، سحر اکبر آبادی، تابش قصوری، صابر براری اور رضا قریشی آپ کے ممتاز شاگرد ہیں ۔
شاعری:
دہلی میں حضرت شاہ کلیم اللہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ کے دربار سے شائع ہونے والے مشہو ر مجلہ ماہنامہ ’’ آستانہ ‘‘ کے آپ شاعر خصوصی تھے ۔ آپ کلام طویل عرصہ تک آستانہ دہلی میں ’’ شاعر آستانہ ‘‘ کے نام سے شائع ہوتا رہا ہے ۔
خواجہ حسن نظامی آپ کے کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ مولانا ضیاء القادری کے کلام میں ایسی مذہبی زندگی ہے جو ایک دفعہ کے لئے ان مردہ دِلوں کو بھی گرما دےگی جو مذہبی تاثرات کے معاملہ میں بِالکل ٹھنڈے ہو چکے ہیں ‘‘۔
ناصر اسلام خطیب اہل سنت مولانا پیر سید عبد السلام قادری باندوی علیہ الرحمہ (سنِ وصال ۱۹۶۸ء) آپ کی شاعری و شخصیت پر یوں تبصرہ فرماتے ہیں ‘‘۔
’’ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذوقِ شعر و ادب قدرت نے کمسنی ہی سے آپ کی فطرت میں ودیعت فرمایا تھا ۔ دس سال کی عمر میں آپ بے ساختہ شعر کہنے لگے تھے چونکہ ہوش سنبھالتے ہی حضرت زبدۃ العرفاء مولانا علی احمد خان صاحب اسیر قادری نقشبندی بدایونی شہید مدینہ علیہ الرحمہ کی تعلیمی برکات نے آپ کو اعلی حضرت، قطب ربانی محب یزدانی، تاج العلماء، سراج الاولیاء، تاج الفحول، محب الرسول، مظہر حق، مولانا عبد القادر الثانی العثمانی فقیر نواز فقیر قادری بدایونی جیسے خدا رسیدہ قطبِ وقت کی خدمت میں پیش کر کے ان کی مقبول دعاؤں کا مستحق بنا دیا تھا ۔ اس لئے آپ کی طبع رسانے کسی وقت بھی مجازی شاعری کی طرف رغبت نہ کی اور نعت و مناقب ہی کے لئے آپ کی زندگی وقف ہو گئی ۔
حضرت محسن کاکوری ، حضرت امیر مینائی ، حضرت حافظ پیلی بھیتی ، حضرت حسن بریلوی ، حضرت رضوان مراد آبادی کے بعد ہندوستان میں آپ کو جو انفرادیت اور مقبولیت حاصل ہوئی اس سے تمام علماء و مشائخ اور دنیائے شعر و ادب واقف ہے ۔ لسان الحسان ، شاعر اعظم اہل سنت ، حسان پاکستان آپ کے وہ خطابات ہیں جو اکابر علماء و مشائخ نے آپ کو عظیم الشان اجتماعات میں دِیئے ہیں ۔ آپ کا مشغلہ حیات مستقل طور پر تبلیغ و ترویج محبت و عظمت حضور خاتم المرسلین و رحمۃ للعالمین ﷺ ہے ۔ آپ کے مضامین نظم و نثر نصف صدی پیشتر سے اخبارات و رسائل میں شائع ہو رہے ہیں ۔ بکثرت تصانیف آپ کی منظر عام پر آ چُکی ہیں آج بھی رسالہ آستانہ دہلی آپ کے رشحات قلم سے سیراب ہو رہا ہے ۔ مشاہیر اساتذہ اہل سخن کو آپ سے شرف تلمذ حاصل ہے ۔ ’’ مرقع شہادت ‘‘ آپ کے مخزن تصانیف کا وہ پیش بہا سرمایہ ہے جو دس سال پیشتر چھپ کر اپنی مقبولیت عامہ کے باعث بالکل نایاب ہو چکا تھا ۔
حضرت مولانا کا تاریخی نام: محمد فضل الرحمٰن ـ عرفی نام: محمد یعقوب حسین ـ قلمی نام: ضیاء القادری ـ تخلص: ضیاء ـ اور خطابات: لسان الحسان، شاعر اہل سنت، حسانِ پاکستان اور مورخ اہل سنت ملے ہوئے تھے ۔
ولادت:
۲۶ رجب المرجب شب معراج نبوی ۱۳۰۰ھ بمطابق ۲ جون ۱۸۸۳ء کو بعد نماز عشاء مدینۃ العلم بدایوں (بھارت) میں تولد ہوئے ۔
آپ کے مورث اعلی مولانا خواجہ عبد اللہ چشتی بدایون کے مایہ ناز عالم اور مشہور محدث و مفسر تھے ۔ چار سال کی عمر میں والدین کا سایہ عاطف سر سے اُٹھ گیا اس لئے تربیت کا انتظام غالب و مومن کے شاگرد مولانا علی احمد خان نے کیا ۔
تعلیم و تربیت:
جب مولانا کی عمر سات سال ہوئی تو انہیں افاضل اساتذہ نے پڑھانا شروع کیا ۔ پہلے قرآن مجید پڑھایا پھر فقہ، تفسیر اور حدیث کی کتابیں پڑھائیں ۔ تقریباً چودہ سال کی عمر میں آپ نے عالمانہ استعداد حاصل کر لی ۔
سفر حرمین شریفین:
آپ ہندوستان سے پاکستان مستقل منتقل ہوئے اور ۱۳۲ھ؍ ۱۹۴۸ء میں آپ کو حج و زیارتِ روضۂ رسول ﷺ کی سعادت حاصل ہوئی اور آپ کو یہ امتیازی کے مزار پر انوار (بغداد شریف) پر حاضری بھی نصیب ہوئی ۔
عادات و خصائل:
مولانا ضیاء القادری نہایت خلیق اور سراپا درد بزرگ تھے ، ایثار و خلوص کی جیتی جاگتی تصویر تھے ، انکسار پسند ، اور شگفتہ مزاج تھے ، ظاہری شان و شوکت سے آپ کو کوئی لگاوٗ نہ تھا ، تقویٰ و پرہیز گاری میں سلف صالحین کا بہتری نمونہ تھے ۔
۱۹۱۷ء سے ایک عرصہ تک آپ کے زیرِ اہتمام بدایوں میں رجبی شریف کے عظیم الشان جلسے منعقد ہوتے رہے ۔ تقریباً ۳۵ سال تک سرکاری ملازمت سے وابستہ رہے اس کے باوجود علم و ادب کی وہ گراں قدر خدمات انجام دیں جنہیں تاریخ فراموش نہیں کر سکتی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نظم و نثر پر یکساں قدرت عطا فرمائی تھی ۔
تلامذہ:
پاک و ہند کے مشہور شعرائے کرام مثلاً شکیل بدایونی، اختر الحامدی، مضطر صابری، ماہر القادری، طالب انصاری، محشر بدایونی، سحر اکبر آبادی، تابش قصوری، صابر براری اور رضا قریشی آپ کے ممتاز شاگرد ہیں ۔
شاعری:
دہلی میں حضرت شاہ کلیم اللہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ کے دربار سے شائع ہونے والے مشہو ر مجلہ ماہنامہ ’’ آستانہ ‘‘ کے آپ شاعر خصوصی تھے ۔ آپ کلام طویل عرصہ تک آستانہ دہلی میں ’’ شاعر آستانہ ‘‘ کے نام سے شائع ہوتا رہا ہے ۔
خواجہ حسن نظامی آپ کے کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ مولانا ضیاء القادری کے کلام میں ایسی مذہبی زندگی ہے جو ایک دفعہ کے لئے ان مردہ دِلوں کو بھی گرما دےگی جو مذہبی تاثرات کے معاملہ میں بِالکل ٹھنڈے ہو چکے ہیں ‘‘۔
ناصر اسلام خطیب اہل سنت مولانا پیر سید عبد السلام قادری باندوی علیہ الرحمہ (سنِ وصال ۱۹۶۸ء) آپ کی شاعری و شخصیت پر یوں تبصرہ فرماتے ہیں ‘‘۔
’’ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذوقِ شعر و ادب قدرت نے کمسنی ہی سے آپ کی فطرت میں ودیعت فرمایا تھا ۔ دس سال کی عمر میں آپ بے ساختہ شعر کہنے لگے تھے چونکہ ہوش سنبھالتے ہی حضرت زبدۃ العرفاء مولانا علی احمد خان صاحب اسیر قادری نقشبندی بدایونی شہید مدینہ علیہ الرحمہ کی تعلیمی برکات نے آپ کو اعلی حضرت، قطب ربانی محب یزدانی، تاج العلماء، سراج الاولیاء، تاج الفحول، محب الرسول، مظہر حق، مولانا عبد القادر الثانی العثمانی فقیر نواز فقیر قادری بدایونی جیسے خدا رسیدہ قطبِ وقت کی خدمت میں پیش کر کے ان کی مقبول دعاؤں کا مستحق بنا دیا تھا ۔ اس لئے آپ کی طبع رسانے کسی وقت بھی مجازی شاعری کی طرف رغبت نہ کی اور نعت و مناقب ہی کے لئے آپ کی زندگی وقف ہو گئی ۔
حضرت محسن کاکوری ، حضرت امیر مینائی ، حضرت حافظ پیلی بھیتی ، حضرت حسن بریلوی ، حضرت رضوان مراد آبادی کے بعد ہندوستان میں آپ کو جو انفرادیت اور مقبولیت حاصل ہوئی اس سے تمام علماء و مشائخ اور دنیائے شعر و ادب واقف ہے ۔ لسان الحسان ، شاعر اعظم اہل سنت ، حسان پاکستان آپ کے وہ خطابات ہیں جو اکابر علماء و مشائخ نے آپ کو عظیم الشان اجتماعات میں دِیئے ہیں ۔ آپ کا مشغلہ حیات مستقل طور پر تبلیغ و ترویج محبت و عظمت حضور خاتم المرسلین و رحمۃ للعالمین ﷺ ہے ۔ آپ کے مضامین نظم و نثر نصف صدی پیشتر سے اخبارات و رسائل میں شائع ہو رہے ہیں ۔ بکثرت تصانیف آپ کی منظر عام پر آ چُکی ہیں آج بھی رسالہ آستانہ دہلی آپ کے رشحات قلم سے سیراب ہو رہا ہے ۔ مشاہیر اساتذہ اہل سخن کو آپ سے شرف تلمذ حاصل ہے ۔ ’’ مرقع شہادت ‘‘ آپ کے مخزن تصانیف کا وہ پیش بہا سرمایہ ہے جو دس سال پیشتر چھپ کر اپنی مقبولیت عامہ کے باعث بالکل نایاب ہو چکا تھا ۔
❤1
آج ارباب نظر کے سامنے میں فخر و مباہات کے ساتھ ’’ مرقع شہادت ‘‘ پیش کرنے کی عزت حاصل کر رہا ہوں ، علماء اہل سنت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ نظم میں مرقع شہادت تمام اصناف سخن اور صحت واقعات کے اعتبار سے بے مثل کتاب ہے اور ہر گھر میں اس کتاب کا ہونا چاہئے ۔
اس کو دربار رسالت ﷺ کا عطیہ کہیں کہ حضرت مولانا ضیاء القادری مد ظلہم کو باوجود ان کمالات عظیمیہ کے شہرت نام و نمود سے ہمیشہ اجتناب ہی نہیں بلکہ قطعاً بے تعلقی رہی، یہی وجہ ہے کہ آپ کے سات دیوان موجود ہوتے ہوئے صرف دو دیوان تاج مضامین منقبت میں ’’ تجلیات نعت ‘‘ نعت شریف میں مطبوع ہو کر مفقود ہو گئے ہیں ۔ باقی منظومات کا دفتر ہنوز غیر مطبوعہ موجود ہے ۔
( مرقع شہادت ، طبع دوئم، انجمن امانت الا سلام )
علامہ عبد الحامد بدایونی علیہ الرحمۃ رقمطراز ہیں: علماء و مشائخین ارباب علم و ادب یکساں طور پر ضیاء کی نظموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ مولانا ضیاء القادر محض ایک کامیاب شاعر ہی نہیں بلکہ علم و اد ب اور ’’ فن تاریخ ‘‘ میں بھی خاص ادراک اور مہارت رکھتے ہیں اور کثیر تصانیف ملک کے سامنے پیش فرما چکے ہیں‘‘ (مرقع شہادت ، تقریظ)
تصنیف و تالیف:
مولانا نے نظم و نثر میں تصانیف کا گراں قدر ذخیرہ یادگار چھوڑا ہے آپ کی چند تصانیف کے نام یہ ہیں:
٭ اکمل التاریخ (۲ جلدیں) حضرت مولانا فضل رسول قادری علیہ الرحمہ کا مفصل خاندانی تذکرہ مطبوعہ نظامی پریس بدایوں ۱۹۱۵ء
٭ تاریخ اولیائے بدایوں مطبوعہ کراچی ۱۳۷۷ء
٭ تجلیات نعت ۔ تاج مضامین (مناقت) ستارہ چشت ۔ دیار نبی ۔ جوار غوث الوریٰ ـ
٭ ہفت احمد ۔ قصائد صبح نورانی ۔ مجموعہ سلام ۔ کلام ضیائی ۔ خزینۂ بہشت ۔ نغمہ ربانی ۔ بہار چشت ۔ چراغ صبح جمال
٭ مرقع شہادت (نظم) طبع اول بدایوں ۱۳۶۰ھ ؍ ۱۹۴۱ء ، طبع دوم انجمن امانت الا سلام کراچی ۱۹۵۱ء
٭ قصائد نورانی ـ
٭ ماہنامہ نعت لاہور نے جولائی ۱۹۸۹ء کے خصوصی شمارہ میں ’’ کلام ضیاء ‘‘ شائع کیا ۔
حضرت مولانا ضیاء القادری نے الحاج علی حسین آباد (سابق استاد کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ) کی کتاب ’’ مصباح الآخرت ‘‘ پر تقریظ میں لکھتے ہیں:
غیر منقسم ہندوستان میں ایک ہزار سال تک اسلامی سلطنت قائم رہی ۔ تمام اِسلامیانِ ہند کا ایک ہی مذہب و مسلک رہا ۔ انگریز کے قدم آنے سے قبل مسلمانان ہند واعتصموا بحبل اللہ جمیعا الا تفرقوا پر پورے استحکام کے ساتھ عامل تھے ۔ عاملین برطانیہ نے اپنے جبلی فریب سیاست سے سواد الاعظم اسلام میں اخنہ اندازی شروع کی اور نئے نئے مذاہب جاری کرا کے ان کو پروان چڑھایا اور اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے والوں میں تفرقہ اندازی کی داغ بیل ڈالی ۔
دورِ آخر میں مسلمانوں کی شیرازہ بندی اور سیاسی و ملکی حقوق کے حصول کیلئے مسلم لیگ ایک نصب العین لے کر میدان عمل میں آئی ۔ دنیانے دیکھ لیا کہ انگریز کے بنائے مذاہب اور فرنگی کے مرغان دست پرور نے مسلم لیگ اور ان کے نصب العین پاکستان کی شدید مخالفت کی مگر سواد الاعظم اسلام یعنی مذہب اہل سنت والجماعت اور اس کے علماء و مشائخ نے سر دھڑ کی بازی لگا کر پاکستان حاصل کر لیا ‘‘۔
( مصباح الآخرت مطبوعہ کراچی ۱۹۵۴ء )
بیعت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت مولانا عبد الرسول محب احمد قادری سے دستِ بیعت تھے اور حضرت علامہ عبد المقتدد بدایونی قادری کے خلیفہ مجاز تھے ۔ (بزرگانِ قادریہ ص ۲۲۹) ـ
شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس سے نرینہ اولاد میں سے محمد یوسف قادری تولد ہوئے لیکن آج وہ بھی ہم میں موجود نہیں ہے ۔
وصال:
مولانا ضیاء القادری نے ۱۲ جمادی الآخر ۱۳۹۰ھ بمطابق ۱۵ اگست ۱۹۷۰ء بروز ہفتہ ۸۷ سال کی عمر میں وصال فرمایا ۔ مزار شریف فیدرل بی ایریا کے قبرستان (کراچی) میں واقع ہے ۔
( تذکرہ اکابر اہل سنت مطبوعہ لاہور )
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-zia-ul-qadri-badayuni
اس کو دربار رسالت ﷺ کا عطیہ کہیں کہ حضرت مولانا ضیاء القادری مد ظلہم کو باوجود ان کمالات عظیمیہ کے شہرت نام و نمود سے ہمیشہ اجتناب ہی نہیں بلکہ قطعاً بے تعلقی رہی، یہی وجہ ہے کہ آپ کے سات دیوان موجود ہوتے ہوئے صرف دو دیوان تاج مضامین منقبت میں ’’ تجلیات نعت ‘‘ نعت شریف میں مطبوع ہو کر مفقود ہو گئے ہیں ۔ باقی منظومات کا دفتر ہنوز غیر مطبوعہ موجود ہے ۔
( مرقع شہادت ، طبع دوئم، انجمن امانت الا سلام )
علامہ عبد الحامد بدایونی علیہ الرحمۃ رقمطراز ہیں: علماء و مشائخین ارباب علم و ادب یکساں طور پر ضیاء کی نظموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ مولانا ضیاء القادر محض ایک کامیاب شاعر ہی نہیں بلکہ علم و اد ب اور ’’ فن تاریخ ‘‘ میں بھی خاص ادراک اور مہارت رکھتے ہیں اور کثیر تصانیف ملک کے سامنے پیش فرما چکے ہیں‘‘ (مرقع شہادت ، تقریظ)
تصنیف و تالیف:
مولانا نے نظم و نثر میں تصانیف کا گراں قدر ذخیرہ یادگار چھوڑا ہے آپ کی چند تصانیف کے نام یہ ہیں:
٭ اکمل التاریخ (۲ جلدیں) حضرت مولانا فضل رسول قادری علیہ الرحمہ کا مفصل خاندانی تذکرہ مطبوعہ نظامی پریس بدایوں ۱۹۱۵ء
٭ تاریخ اولیائے بدایوں مطبوعہ کراچی ۱۳۷۷ء
٭ تجلیات نعت ۔ تاج مضامین (مناقت) ستارہ چشت ۔ دیار نبی ۔ جوار غوث الوریٰ ـ
٭ ہفت احمد ۔ قصائد صبح نورانی ۔ مجموعہ سلام ۔ کلام ضیائی ۔ خزینۂ بہشت ۔ نغمہ ربانی ۔ بہار چشت ۔ چراغ صبح جمال
٭ مرقع شہادت (نظم) طبع اول بدایوں ۱۳۶۰ھ ؍ ۱۹۴۱ء ، طبع دوم انجمن امانت الا سلام کراچی ۱۹۵۱ء
٭ قصائد نورانی ـ
٭ ماہنامہ نعت لاہور نے جولائی ۱۹۸۹ء کے خصوصی شمارہ میں ’’ کلام ضیاء ‘‘ شائع کیا ۔
حضرت مولانا ضیاء القادری نے الحاج علی حسین آباد (سابق استاد کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ) کی کتاب ’’ مصباح الآخرت ‘‘ پر تقریظ میں لکھتے ہیں:
غیر منقسم ہندوستان میں ایک ہزار سال تک اسلامی سلطنت قائم رہی ۔ تمام اِسلامیانِ ہند کا ایک ہی مذہب و مسلک رہا ۔ انگریز کے قدم آنے سے قبل مسلمانان ہند واعتصموا بحبل اللہ جمیعا الا تفرقوا پر پورے استحکام کے ساتھ عامل تھے ۔ عاملین برطانیہ نے اپنے جبلی فریب سیاست سے سواد الاعظم اسلام میں اخنہ اندازی شروع کی اور نئے نئے مذاہب جاری کرا کے ان کو پروان چڑھایا اور اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے والوں میں تفرقہ اندازی کی داغ بیل ڈالی ۔
دورِ آخر میں مسلمانوں کی شیرازہ بندی اور سیاسی و ملکی حقوق کے حصول کیلئے مسلم لیگ ایک نصب العین لے کر میدان عمل میں آئی ۔ دنیانے دیکھ لیا کہ انگریز کے بنائے مذاہب اور فرنگی کے مرغان دست پرور نے مسلم لیگ اور ان کے نصب العین پاکستان کی شدید مخالفت کی مگر سواد الاعظم اسلام یعنی مذہب اہل سنت والجماعت اور اس کے علماء و مشائخ نے سر دھڑ کی بازی لگا کر پاکستان حاصل کر لیا ‘‘۔
( مصباح الآخرت مطبوعہ کراچی ۱۹۵۴ء )
بیعت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت مولانا عبد الرسول محب احمد قادری سے دستِ بیعت تھے اور حضرت علامہ عبد المقتدد بدایونی قادری کے خلیفہ مجاز تھے ۔ (بزرگانِ قادریہ ص ۲۲۹) ـ
شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس سے نرینہ اولاد میں سے محمد یوسف قادری تولد ہوئے لیکن آج وہ بھی ہم میں موجود نہیں ہے ۔
وصال:
مولانا ضیاء القادری نے ۱۲ جمادی الآخر ۱۳۹۰ھ بمطابق ۱۵ اگست ۱۹۷۰ء بروز ہفتہ ۸۷ سال کی عمر میں وصال فرمایا ۔ مزار شریف فیدرل بی ایریا کے قبرستان (کراچی) میں واقع ہے ۔
( تذکرہ اکابر اہل سنت مطبوعہ لاہور )
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-zia-ul-qadri-badayuni
❤1
حضرت مولانا سید جلال الدین چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا سید جلال الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ ۔ والد کا اسم گرامی: حضرت صوفی سید عبد الشکور علیہ الرحمہ ـ
خاندانی حالات:
آپ کے والد ماجد حضرت صوفی سید عبد الشکور علیہ الرحمہ ایک عابد و زاہد شخص تھے ۔ شریعتِ مطہرہ کے پابند تھے، انہوں نے اپنے خاندان کی ایک نہایت متقی پرہیزگار و نیک سیرت خاتون حضرت برکت فاطمہ سے نکاح کیا ۔ آپ کا خاندان ہندوستان میں ورود کے بعد ضلع بجنور میں سکونت پذیر ہوا ۔ آپ کے خاندان میں کافی علماء و مشائخ گزرے ہیں ۔
نانا جان اور ماموں جان:
آپ کے نانا جان حضرت مولانا سید فرید الدین اور ماموں جان حضرت مولانا سید اصغر علی کا شمار وقت کے جید علماء و مشائخ میں ہوتا تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1328ھ / مطابق 1910ء کو بوقتِ صبح ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
حضرت مولانا جلال الدین علیہ الرحمہ نے قریبی مدرسہ میں 8 سال کی عمر میں کلام پاک ناظرہ ختم کیا ہی تھا کہ والد مکرم کا سایہ شفقت سر سے اُٹھ گیا اور مسئلہ فکر معاش پیدا ہو گیا ۔ آپ کی والدہ ماجدہ کو آپ کی تعلیم کی فکر تھی جب کہ اعزہ کا مشورہ تھا کہ کسی کام کاج پر لگا دِیا جائے ۔
بِالآخر آپ کی والدہ نے جمع شدہ پونجی دے کر چپکے سے حصول علم کے لئے آگرہ روانہ کر دیا ۔ آگرہ اس وقت دینی علوم کا مرکز تھا ۔ 12 سال کی عمر میں آپ نے آگرہ میں کلام پاک حفظ کر لیا ۔ وقت کے جید علماء سے تعلیم حاصل کی " مدرسہ شعیب محمدیہ " آگرہ سے بیس سال کی عمر میں رمضان المبارک 1353ھ 1938ء میں فارغ التحصیل ہوئے ۔
آپ کے اساتذہ کرام میں نامور علمی شخصیت حضرت مولانا روشن الدین کی تھی ۔ جن سے آپ نے خصوصی طور پر استفادہ کیا تھا ۔ ان کا سلسلہ اساتذہ چند واسطوں سے حضرت شیخ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہٗ کے نامور فرزند عارفِ کامل، عاشق خیر الوریٰ حضرت علامہ شیخ عبد العزیز محدث دہلوی قدس سرہ سے جا کر ملتا ہے ۔
بیعت و خلافت:
اپنے وقت کے ولیِ کامل حضرت حاجی سید آل حسن چشتی صابری المعروف کامل شاہ علیہ الرحمہ (متوفی 1962ء مدفون پاپوش نگر قبرستان) کی خدمت میں پہنچے تو بہت متاثر ہوئے اور انہیں کے ہاتھ پر سلسلۂ چشتیہ صابریہ میں بیعت ہوئے، اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
عالم و عارف، پیرِ طریقت، عاملِ سنت، صاحبِ تقویٰ و عبادت، حضرت علامہ مولانا سید جلال الدین چشتی صابری رحمۃاللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ کا شمار اپنے وقت کے کاملین میں ہوتا تھا ۔ عبادت و ریاضت کثرت سے کرتے تھے ۔ آپ خوش الحان قاریِ قرآن اور واعظِ شیریں بیان تھے ۔ آپ نے دورانِ تعلیم بڑی صعوبتیں اٹھائیں، گزر اوقات کے لئے کئی جگہ پر ملازمت اختیار کی لیکن والدہ محترمہ نے جس مقصد کے لئے بھیجا تھا اسے ادھورا نہ چھوڑا ۔ اپنے تعلیمی دور کے بارے میں بتاتے تھے کہ ہمارے دور میں مدرسوں میں اس قدر آسانیاں نہیں ہوتی تھیں، جِتنی آج ہیں طلباء کو بہت سے کام خود کرنے پڑتے تھے ۔ باری باری جنگل سے دو طالب علموں کو روزانہ لکڑیاں کاٹ کر لانی پڑتی تھیں جس سے مدرسہ کے طلباء کا کھانا پکایا جاتا تھا ۔ اسی طرح کے دیگر کام خود کرنے پڑتے تھے ۔
ریاضت:
رمضان المبارک میں ہر ترویحہ (چار رکعت تراویح) میں جس قدر کلام پاک سنایا کرتے اس کا ترجمہ مقتدیوں کو سناتے لوگ کمال توجہ سے سنتے ذرا نہ اُکتاتے تھے ۔ شب زندہ داری معمول تھی، اکثر عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھاتے ۔ ایک مرتبہ شبینہ میں ایک رکعت میں 29 پارے سنائے اور باقی ایک پارہ بقیہ رکعت میں پورا کیا ۔
مستجاب الدعوات:
خشک سالی میں لوگ دور دور سے دعائے باران (بارش) کے لئے حاضر ہوتے ۔ آپ ان سے فرماتے جو کہوں گا وہ کرو گے؟ لوگ اقرار کرتے آپ فرماتے: "خوب روؤ پھر خود بھی خوب روتے ہوئے بارگاہ الٰہی میں بصدر عجز و انکسار دعا کرتے پھر یہ ہوتا کہ آسمان پر بادل چھا جاتے اور بارش برسنا شروع ہو جاتے ۔"
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا سید جلال الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ ۔ والد کا اسم گرامی: حضرت صوفی سید عبد الشکور علیہ الرحمہ ـ
خاندانی حالات:
آپ کے والد ماجد حضرت صوفی سید عبد الشکور علیہ الرحمہ ایک عابد و زاہد شخص تھے ۔ شریعتِ مطہرہ کے پابند تھے، انہوں نے اپنے خاندان کی ایک نہایت متقی پرہیزگار و نیک سیرت خاتون حضرت برکت فاطمہ سے نکاح کیا ۔ آپ کا خاندان ہندوستان میں ورود کے بعد ضلع بجنور میں سکونت پذیر ہوا ۔ آپ کے خاندان میں کافی علماء و مشائخ گزرے ہیں ۔
نانا جان اور ماموں جان:
آپ کے نانا جان حضرت مولانا سید فرید الدین اور ماموں جان حضرت مولانا سید اصغر علی کا شمار وقت کے جید علماء و مشائخ میں ہوتا تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1328ھ / مطابق 1910ء کو بوقتِ صبح ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
حضرت مولانا جلال الدین علیہ الرحمہ نے قریبی مدرسہ میں 8 سال کی عمر میں کلام پاک ناظرہ ختم کیا ہی تھا کہ والد مکرم کا سایہ شفقت سر سے اُٹھ گیا اور مسئلہ فکر معاش پیدا ہو گیا ۔ آپ کی والدہ ماجدہ کو آپ کی تعلیم کی فکر تھی جب کہ اعزہ کا مشورہ تھا کہ کسی کام کاج پر لگا دِیا جائے ۔
بِالآخر آپ کی والدہ نے جمع شدہ پونجی دے کر چپکے سے حصول علم کے لئے آگرہ روانہ کر دیا ۔ آگرہ اس وقت دینی علوم کا مرکز تھا ۔ 12 سال کی عمر میں آپ نے آگرہ میں کلام پاک حفظ کر لیا ۔ وقت کے جید علماء سے تعلیم حاصل کی " مدرسہ شعیب محمدیہ " آگرہ سے بیس سال کی عمر میں رمضان المبارک 1353ھ 1938ء میں فارغ التحصیل ہوئے ۔
آپ کے اساتذہ کرام میں نامور علمی شخصیت حضرت مولانا روشن الدین کی تھی ۔ جن سے آپ نے خصوصی طور پر استفادہ کیا تھا ۔ ان کا سلسلہ اساتذہ چند واسطوں سے حضرت شیخ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہٗ کے نامور فرزند عارفِ کامل، عاشق خیر الوریٰ حضرت علامہ شیخ عبد العزیز محدث دہلوی قدس سرہ سے جا کر ملتا ہے ۔
بیعت و خلافت:
اپنے وقت کے ولیِ کامل حضرت حاجی سید آل حسن چشتی صابری المعروف کامل شاہ علیہ الرحمہ (متوفی 1962ء مدفون پاپوش نگر قبرستان) کی خدمت میں پہنچے تو بہت متاثر ہوئے اور انہیں کے ہاتھ پر سلسلۂ چشتیہ صابریہ میں بیعت ہوئے، اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
عالم و عارف، پیرِ طریقت، عاملِ سنت، صاحبِ تقویٰ و عبادت، حضرت علامہ مولانا سید جلال الدین چشتی صابری رحمۃاللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ کا شمار اپنے وقت کے کاملین میں ہوتا تھا ۔ عبادت و ریاضت کثرت سے کرتے تھے ۔ آپ خوش الحان قاریِ قرآن اور واعظِ شیریں بیان تھے ۔ آپ نے دورانِ تعلیم بڑی صعوبتیں اٹھائیں، گزر اوقات کے لئے کئی جگہ پر ملازمت اختیار کی لیکن والدہ محترمہ نے جس مقصد کے لئے بھیجا تھا اسے ادھورا نہ چھوڑا ۔ اپنے تعلیمی دور کے بارے میں بتاتے تھے کہ ہمارے دور میں مدرسوں میں اس قدر آسانیاں نہیں ہوتی تھیں، جِتنی آج ہیں طلباء کو بہت سے کام خود کرنے پڑتے تھے ۔ باری باری جنگل سے دو طالب علموں کو روزانہ لکڑیاں کاٹ کر لانی پڑتی تھیں جس سے مدرسہ کے طلباء کا کھانا پکایا جاتا تھا ۔ اسی طرح کے دیگر کام خود کرنے پڑتے تھے ۔
ریاضت:
رمضان المبارک میں ہر ترویحہ (چار رکعت تراویح) میں جس قدر کلام پاک سنایا کرتے اس کا ترجمہ مقتدیوں کو سناتے لوگ کمال توجہ سے سنتے ذرا نہ اُکتاتے تھے ۔ شب زندہ داری معمول تھی، اکثر عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھاتے ۔ ایک مرتبہ شبینہ میں ایک رکعت میں 29 پارے سنائے اور باقی ایک پارہ بقیہ رکعت میں پورا کیا ۔
مستجاب الدعوات:
خشک سالی میں لوگ دور دور سے دعائے باران (بارش) کے لئے حاضر ہوتے ۔ آپ ان سے فرماتے جو کہوں گا وہ کرو گے؟ لوگ اقرار کرتے آپ فرماتے: "خوب روؤ پھر خود بھی خوب روتے ہوئے بارگاہ الٰہی میں بصدر عجز و انکسار دعا کرتے پھر یہ ہوتا کہ آسمان پر بادل چھا جاتے اور بارش برسنا شروع ہو جاتے ۔"
❤1
خطابت:
فارغ التحصیل ہونے کے بعد آگرہ (انڈیا) کی عید گاہ مسجد میں امامت اختیار کی ۔ آگرہ میں آپ کے وعظ کی دھوم مچی ہوئی تھی دور دراز سے لوگ وعظ سننے آپ کی مسجد میں آتے تھے ۔ ایک بار انبالہ شہر میں ایسا ہوا کہ کچھ طوائفیں آپ کے پاس حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ ہمارے ہاں بھی وعظ فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا: وعظ کی فیس لیتا ہوں ۔ وہ بولیں ہم دے دیں گے ۔ آپ حسبِ وعدہ ان کے ہاں وعظ کے لئے تشریف لے گئے اور ایسا مدلل بلیغ اور پُر اثر وعظ کیا کہ سامعین مع طوائفیں رونے لگیں ۔ وعظ کے اختتام پر فرمایا: میری فیس دو ۔ طوائفیں بولیں: آپ کیا فیس لیتے ہیں ۔ آ پ نے فرمایا: میری فیس روپیہ پیسہ نہیں ہے وہ کچھ اور ہے ۔ وہ بولیں آپ کو کیا چاہئے؟ آپ نے فرمایا: میری فیس یہ ہے کہ تم اس بُرے پیشہ سے توبہ کرو اور آئندہ نیک زندگی بسر کرو ۔ تمام طوائفوں نے اسی وقت اس پیشۂ بَد سے ہمیشہ کے لئے توبہ کی ۔ آپ نے بستی والوں سے فرمایا: تمہارے جوان آگے آئیں اور ان سے نکاح کریں انہیں بیوی بنا کر عزت دیں تاکہ یہ اپنی آئندہ زندگی شرافت و نیکی پر گذار سکیں ۔"
مو لانا سید جلال الدین کو قرآن حکیم کی قراءت میں کمال حاصل تھا، صبح مسجد شریف میں قراءت فرماتے تو راستہ میں چلتے ہوئے لوگ رُک جاتے اور سُننے میں محو ہو جاتے ۔ عورتوں کو یہ احساس تک نہ ہوتا تھا کہ ان کے سر پر پانی سے بھرا ہوا گھڑا ہے یا نہیں ۔ آپ نے ہند میں ہندوؤں پنڈتوں اور عیسائی پادریوں سے مناظرے بھی کئے اور بعض اسلام کی دولت سے مالا مال ہوئے ۔
قیام پاکستان کے بعد انڈیا سے پاکستان کے بین الاقوامی شہر کراچی تشریف لائے اور کھارادر میں باغ زہرہ اسٹریٹ پر واقع او کھائی میمن مسجد میں امام و خطیب مقرر ہوئے ۔ کراچی میں تقریباً 34 سال کا عرصہ تبلیغِ دین، ترویجِ مسلک اہل سنت میں گذارا ۔ بعد نماز عشاء درس قر آن مسلسل دیتے تھے ۔ آپ کے مرشد کریم بھی ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور لیاقت آباد کراچی میں سکونت اختیار کی ۔ آپ کی عقیدت و محبت کا یہ عالم تھا کہ ٹاور سے پیدل لیاقت آباد مرشد کریم کی زیارت کو جانا آپ کا معمول تھا اگر دروازہ بند ہوتا تو مرشد کریم کے دروازہ پر دستک دینا خلاف ادب سمجھتے اس لئے گلی میں بیٹھ کر انتظار کرتے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 12 جمادی الآخرہ 1402ھ / مطابق 8 اپریل 1982ء شب جمعرات کو 72 سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ بروز جمعرات نماز جنازہ حضرت مولانا قاری محمد مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ نے پڑھائی ۔ آپ کا مزار پر انوار کراچی کے پاپوش نگر قبرستان میں " احاطہ کامل شاہ " میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-jalaluddin-chishti-qadri
فارغ التحصیل ہونے کے بعد آگرہ (انڈیا) کی عید گاہ مسجد میں امامت اختیار کی ۔ آگرہ میں آپ کے وعظ کی دھوم مچی ہوئی تھی دور دراز سے لوگ وعظ سننے آپ کی مسجد میں آتے تھے ۔ ایک بار انبالہ شہر میں ایسا ہوا کہ کچھ طوائفیں آپ کے پاس حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ ہمارے ہاں بھی وعظ فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا: وعظ کی فیس لیتا ہوں ۔ وہ بولیں ہم دے دیں گے ۔ آپ حسبِ وعدہ ان کے ہاں وعظ کے لئے تشریف لے گئے اور ایسا مدلل بلیغ اور پُر اثر وعظ کیا کہ سامعین مع طوائفیں رونے لگیں ۔ وعظ کے اختتام پر فرمایا: میری فیس دو ۔ طوائفیں بولیں: آپ کیا فیس لیتے ہیں ۔ آ پ نے فرمایا: میری فیس روپیہ پیسہ نہیں ہے وہ کچھ اور ہے ۔ وہ بولیں آپ کو کیا چاہئے؟ آپ نے فرمایا: میری فیس یہ ہے کہ تم اس بُرے پیشہ سے توبہ کرو اور آئندہ نیک زندگی بسر کرو ۔ تمام طوائفوں نے اسی وقت اس پیشۂ بَد سے ہمیشہ کے لئے توبہ کی ۔ آپ نے بستی والوں سے فرمایا: تمہارے جوان آگے آئیں اور ان سے نکاح کریں انہیں بیوی بنا کر عزت دیں تاکہ یہ اپنی آئندہ زندگی شرافت و نیکی پر گذار سکیں ۔"
مو لانا سید جلال الدین کو قرآن حکیم کی قراءت میں کمال حاصل تھا، صبح مسجد شریف میں قراءت فرماتے تو راستہ میں چلتے ہوئے لوگ رُک جاتے اور سُننے میں محو ہو جاتے ۔ عورتوں کو یہ احساس تک نہ ہوتا تھا کہ ان کے سر پر پانی سے بھرا ہوا گھڑا ہے یا نہیں ۔ آپ نے ہند میں ہندوؤں پنڈتوں اور عیسائی پادریوں سے مناظرے بھی کئے اور بعض اسلام کی دولت سے مالا مال ہوئے ۔
قیام پاکستان کے بعد انڈیا سے پاکستان کے بین الاقوامی شہر کراچی تشریف لائے اور کھارادر میں باغ زہرہ اسٹریٹ پر واقع او کھائی میمن مسجد میں امام و خطیب مقرر ہوئے ۔ کراچی میں تقریباً 34 سال کا عرصہ تبلیغِ دین، ترویجِ مسلک اہل سنت میں گذارا ۔ بعد نماز عشاء درس قر آن مسلسل دیتے تھے ۔ آپ کے مرشد کریم بھی ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور لیاقت آباد کراچی میں سکونت اختیار کی ۔ آپ کی عقیدت و محبت کا یہ عالم تھا کہ ٹاور سے پیدل لیاقت آباد مرشد کریم کی زیارت کو جانا آپ کا معمول تھا اگر دروازہ بند ہوتا تو مرشد کریم کے دروازہ پر دستک دینا خلاف ادب سمجھتے اس لئے گلی میں بیٹھ کر انتظار کرتے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 12 جمادی الآخرہ 1402ھ / مطابق 8 اپریل 1982ء شب جمعرات کو 72 سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ بروز جمعرات نماز جنازہ حضرت مولانا قاری محمد مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ نے پڑھائی ۔ آپ کا مزار پر انوار کراچی کے پاپوش نگر قبرستان میں " احاطہ کامل شاہ " میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-jalaluddin-chishti-qadri
❤2
مولانا مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم ِگرامی: مفتی سید غلام معین الدین نعیمی ۔ لقب: نعیمی ۔ والد کا اسم گرامی: سید صابر اللہ شاہ چشتی صابری اشرفی نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا خاندانی تعلق خاندانِ اہل بیت سے ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 10 ربیع الثانی / 1342ھ، مطابق 19 نومبر 1923ء کو مرادآباد (انڈیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
مراد آباد کی مشہور دینی درس گاہ جامعہ نعیمیہ میں تاج العلماء حضرت مولانا مفتی محمد عمر نعیمی اور صدر الافاضل مولانا مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ سے علوم دینیہ کی تحصیل و تکمیل کی ۔ دینی تعلیم کے حصول کے زمانہ ہی میں فن طب حاصل کیا اور 1943ء میں وہاجیہ طبیہ کالج لکھنؤ سے " الحکیم الفاضل " کی سند حاصل کی ۔ 1945ء میں آپ تحصیل علوم سے فارغ ہو گئے ۔ صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی کی قیادت میں تحریک پاکستان کے لئے سرگرمی سے کام کیا ایک عرصہ تک آل انڈیا سنی کانفرنس کے منتظم رہے ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت صدر الافاضل بدر المماثل سید مفتی محمد نعیم الدین مرادبادی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول، فاضلِ اکمل، عالمِ متبحر، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، مفتیِ اہلسنت، حضرت علامہ مولانا مفتی سید غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
آپ علیہ الرحمہ حضرت صدر الافاضل بدر المماثل حضرت علامہ مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ کے شاگردِ رشید تھے ۔ تحریکِ پاکستان میں حضرت صدر الافاضل کے شانہ بشانہ کام کیا ۔ بالآخر تخلیقِ پاکستان کی صورت میں اکابر کی محنت رنگ لائی ۔ دینِ متین کی خدمت اور مسلکِ حق کا درد حضرت صدر الافاضل کی تربیتِ فیض اثر سے ملا تھا ۔ یہی وجہ ہےکہ ساری زندگی درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں گزاردی ۔
حضرت شرفِ ملت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "آپ 1950ء میں پاکستان تشریف لائے ، غازیِ کشمیر حضرت مولانا ابو الحسنات قادری علیہ الرحمہ نے آپ کو جمیعت علماء پاکستان کا نائب ناظم مقرر کیا ۔ ایک مدت تک جمیعت کا ترجمان " جمعیت " نکالتے رہے، اور پوری تند ہی سے کام کیا ، بعد ازاں حضرت صدر الافاضل کی یاد میں " ہفت روزہ سواد اعظم " نکالا اور بڑی محنت اور ہمت سے تاحیات جاری رکھا ۔ اس جریدے کی خصوصیت یہ تھی کہ مسلک اہل سنت و جماعت کے تحفظ کے لئے حتی الامکان کوشِش کرتے رہے اور اسی کے ذریعے مسلک کے مخالفین کی فتنہ سامانیوں کا سختی سے نوٹس لیا جاتا رہا، انکی حق گوئی بے باکی ہمارے لئے قابل فخر اور مشعل راہ ہے ۔
مفتی صاحب نے نا قدری کے اس دور میں تقریباً پچاس کے قریب کتابوں کے ترجمے کئے جن میں سے شفاء شریف، مدارج النبوت، خصائص الکبریٰ اور کشف المحجوب وغیرہ کے ترجمے خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ اس کے علاوہ بے سرو سامانی کے عالم میں مسلک اہل سنت کی بہت سی کتابوں کی اشاعت کی ۔ " (تذکرہ اکابرِ اہلسنت، ص:361) ـ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 12 جمادی الاخریٰ 1391ھ، مطابق 4 اگست 1971ء بروز بدھ کو ہوا ۔ میانی صاحب قبرستان (لاہور) میں مولانا غلام محمد ترنم کے مزار کے قریب آرام فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-moinuddin-naeemi-lahori
نام و نسب:
اسم ِگرامی: مفتی سید غلام معین الدین نعیمی ۔ لقب: نعیمی ۔ والد کا اسم گرامی: سید صابر اللہ شاہ چشتی صابری اشرفی نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا خاندانی تعلق خاندانِ اہل بیت سے ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 10 ربیع الثانی / 1342ھ، مطابق 19 نومبر 1923ء کو مرادآباد (انڈیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
مراد آباد کی مشہور دینی درس گاہ جامعہ نعیمیہ میں تاج العلماء حضرت مولانا مفتی محمد عمر نعیمی اور صدر الافاضل مولانا مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ سے علوم دینیہ کی تحصیل و تکمیل کی ۔ دینی تعلیم کے حصول کے زمانہ ہی میں فن طب حاصل کیا اور 1943ء میں وہاجیہ طبیہ کالج لکھنؤ سے " الحکیم الفاضل " کی سند حاصل کی ۔ 1945ء میں آپ تحصیل علوم سے فارغ ہو گئے ۔ صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی کی قیادت میں تحریک پاکستان کے لئے سرگرمی سے کام کیا ایک عرصہ تک آل انڈیا سنی کانفرنس کے منتظم رہے ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت صدر الافاضل بدر المماثل سید مفتی محمد نعیم الدین مرادبادی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول، فاضلِ اکمل، عالمِ متبحر، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، مفتیِ اہلسنت، حضرت علامہ مولانا مفتی سید غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
آپ علیہ الرحمہ حضرت صدر الافاضل بدر المماثل حضرت علامہ مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ کے شاگردِ رشید تھے ۔ تحریکِ پاکستان میں حضرت صدر الافاضل کے شانہ بشانہ کام کیا ۔ بالآخر تخلیقِ پاکستان کی صورت میں اکابر کی محنت رنگ لائی ۔ دینِ متین کی خدمت اور مسلکِ حق کا درد حضرت صدر الافاضل کی تربیتِ فیض اثر سے ملا تھا ۔ یہی وجہ ہےکہ ساری زندگی درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں گزاردی ۔
حضرت شرفِ ملت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "آپ 1950ء میں پاکستان تشریف لائے ، غازیِ کشمیر حضرت مولانا ابو الحسنات قادری علیہ الرحمہ نے آپ کو جمیعت علماء پاکستان کا نائب ناظم مقرر کیا ۔ ایک مدت تک جمیعت کا ترجمان " جمعیت " نکالتے رہے، اور پوری تند ہی سے کام کیا ، بعد ازاں حضرت صدر الافاضل کی یاد میں " ہفت روزہ سواد اعظم " نکالا اور بڑی محنت اور ہمت سے تاحیات جاری رکھا ۔ اس جریدے کی خصوصیت یہ تھی کہ مسلک اہل سنت و جماعت کے تحفظ کے لئے حتی الامکان کوشِش کرتے رہے اور اسی کے ذریعے مسلک کے مخالفین کی فتنہ سامانیوں کا سختی سے نوٹس لیا جاتا رہا، انکی حق گوئی بے باکی ہمارے لئے قابل فخر اور مشعل راہ ہے ۔
مفتی صاحب نے نا قدری کے اس دور میں تقریباً پچاس کے قریب کتابوں کے ترجمے کئے جن میں سے شفاء شریف، مدارج النبوت، خصائص الکبریٰ اور کشف المحجوب وغیرہ کے ترجمے خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ اس کے علاوہ بے سرو سامانی کے عالم میں مسلک اہل سنت کی بہت سی کتابوں کی اشاعت کی ۔ " (تذکرہ اکابرِ اہلسنت، ص:361) ـ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 12 جمادی الاخریٰ 1391ھ، مطابق 4 اگست 1971ء بروز بدھ کو ہوا ۔ میانی صاحب قبرستان (لاہور) میں مولانا غلام محمد ترنم کے مزار کے قریب آرام فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-moinuddin-naeemi-lahori
scholars.pk
Hazrat Molana Mufti Moinuddin Naeemi Lahori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2