📙 *فیضان خلاصہ تراویح* 📙
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
📢 *دوسرا پارہ، سیقول*
🕋 دوسرا پارہ تحویل قبلہ ( یعنی قبلے کو بیت المقدس سے بیت اللہ کی طرف پھیرنے) کے ذکر سے شروع ہوتا ہے۔
مسجد الحرام شریف میں خانہ کعبہ ہے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کعبۃ اللہ سے محبت فرماتے تھے، اور جو صحابہ کرام شروع سے مکے شریف میں تھے ان کی عقیدت بھی خانہ کعبہ سے کچھ الگ انداز کی تھی، چونکہ ایک وقت تک بیت المقدس کو قبلہ قرار دیا گیا تھا اور یہودیوں کا قبلہ بھی بیت المقدس تھا تو جب مدینے شریف کو ہجرت ہوئی اور صحابہ کرام بظاہر خانہ کعبہ سے دور ہوگئے اور قبلہ بھی بیت المقدس کو بنا دیا گیا تھا تو ان کے لئے امتحان کا وقت تھا مگر چونکہ وہ اللہ پاک و رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اطاعت گزار اور ان کے احکامات کی پیروی کرنے والے تھے لہذا وہ اس امتحان میں کامیاب رہے، لیکن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی خواہش بھی یہ تھی کہ خانہ کعبہ ہی کو قبلہ مقرر کردیا جائے لہذا آپ اس کے لئے دعا فرماتے اور آسمان کی طرف نظر فرماتے تھے کہ قبلے کی تبدیلی کا حکم آجائے۔
اللہ پاک اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کو کس طرح پورا فرماتا ہے اس کا مشاہدہ دوسرے پارے کی تیسری اور سورہ بقرہ کی آیت 144 میں کیا جا سکتا ہے۔
اللہ پاک نے فرمایا:
قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِۚ-فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰهَا۪-فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ
ترجمہ: ہم تمہارے چہرے کا آسمان کی طرف باربار اٹھنا دیکھ رہے ہیں تو ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس میں تمہاری خوشی ہے تو ابھی اپناچہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر دو
🗂️ تحویل قبلہ کا معنی ہے قبلے سے پھیر دینا یعنی جس قبلے پر پہلے تھے اس سے پھیر دینا۔
تحویل قبلہ کے بعد یہودی مسلمانوں پر طعنہ کیا کرتے تھے، جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ تحویل قبلہ کے حکم خداوندی پر ناسمجھ اور بیوقوف لوگ ہی اعتراض کریں گے۔ اور ان کے دوسرے سوال کہ مسلمان بیت المقدس کو چھوڑ کر بیت اللہ کا رخ کیوں کرنے لگے؟ تو اس کا جواب دیا گیا کہ تمام جہان مشرق اور مغرب اللہ ہی کے ہیں وہ جس طرف چاہے رخ کرکے نماز پڑھنے کا حکم ارشاد فرمادے،بندے کو تو اعتراض کا حق ہی نہیں ہے۔اہمیت کسی سمت کی نہیں اللہ کے حکم کی ہے
اللہ تعالی نے فرمانبردار اور نا فرمان میں فرق کو ظاہر کرنے کے لئے تحویل قبلہ کا حکم دیا کہ کون اللہ تبارک وتعالی کے اس حکم کی فرمانبرداری کرکے فوراً حکم کو مان لیتا ہے اور کون نافرمان بن کر اعتراض شروع کردیتا ہے۔ تو جو مخلص مسلمان تھے وہ کامیاب ہوگئے اور کافر و منافق کھل کر سامنے آگئے۔
📝 آیت نمبر 151 میں حضرت ابرہیم اور حضرت اسماعیل علیھما السلام کی دعا کی قبولیت کا بیان ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے مبعوث فرمایا۔ ارشاد فرمایا کہ ان کا منصب یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ پاک کی آیتیں سنا سنا کر متوجہ کرتے ہیں پھر جو متوجہ ہوں انکا تزکیہ کرتے ہیں پھر انکی اصلاح کرتے ہیں اور انکے نفوس کو صاف کرتے ہیں۔
🌴 پچھلی امتوں کو اللہ پاک نے اپنی نعمتوں کو یاد کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر تم میری نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہو گے تو میں اور عطا فرماؤں گا، مگر آیت 152 میں اس امت محمدیہ پر اللہ پاک کے ایک ایسے کرم کا ذکر ہے جو اس امت ہی کا خاصہ ہے،
اللہ پاک فرماتا ہے:
*فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ*
ترجمہ کنز العرفان:تو تم مجھے یاد کرو ،میں تمہیں یاد کروں گا
گویا ذکر الہٰی مومن کی زندگی کا سب سے بڑا وظیفہ ہے ،احادیث مبارکہ میں اس کی تفسیر یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالی فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر فرماتا ہے
⚔️ پھر آیت نمبر 153 اور 154 میں اہل ایمان سے خطاب کی ابتدا ہوتی ہے اور انہیں بتایا جارہا ہے کہ ہجرت مدینہ کے بعد اب امتحان اور آزمائش کی نئی صورتیں سامنے آئیں گی،اب تم پر جنگی فرائض لازم کئے جائیں گے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہونگے وہ مردہ نہیں بلکہ ایسی شاندار زندگی پالیتے ہیں کہ جس کا تصور اس دنیا میں ممکن نہیں ہے۔
اللہ پاک نے فرمایا
*وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌؕ-بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ*
اور جواللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ۔
✈️ پھر اس کے بعد یہ بتایا گیا کہ حج و عمرہ کے موقع پر کئے جانے والے اعمال خصوصاً صفا و مروہ کی سعی،یہ شعائر اسلام میں سے ہے۔
🕌 اس کے بعد فرمایا گیا معبود حقیقی ایک ہی ہے، اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، اسکی رحمت تمام مخلوقات کے لئے عام ہے ،اور اہل ایمان کے لئے اسکی نعمت مکمل ہے۔
🌍 آسمان اور زمین کی تخلیق ، دن رات کی ترتیب، اور انسانی نفع کےلئے پانی میں چلنے والی کشتیاں ، بادل ، بارش ، ز
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
📢 *دوسرا پارہ، سیقول*
🕋 دوسرا پارہ تحویل قبلہ ( یعنی قبلے کو بیت المقدس سے بیت اللہ کی طرف پھیرنے) کے ذکر سے شروع ہوتا ہے۔
مسجد الحرام شریف میں خانہ کعبہ ہے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کعبۃ اللہ سے محبت فرماتے تھے، اور جو صحابہ کرام شروع سے مکے شریف میں تھے ان کی عقیدت بھی خانہ کعبہ سے کچھ الگ انداز کی تھی، چونکہ ایک وقت تک بیت المقدس کو قبلہ قرار دیا گیا تھا اور یہودیوں کا قبلہ بھی بیت المقدس تھا تو جب مدینے شریف کو ہجرت ہوئی اور صحابہ کرام بظاہر خانہ کعبہ سے دور ہوگئے اور قبلہ بھی بیت المقدس کو بنا دیا گیا تھا تو ان کے لئے امتحان کا وقت تھا مگر چونکہ وہ اللہ پاک و رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اطاعت گزار اور ان کے احکامات کی پیروی کرنے والے تھے لہذا وہ اس امتحان میں کامیاب رہے، لیکن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی خواہش بھی یہ تھی کہ خانہ کعبہ ہی کو قبلہ مقرر کردیا جائے لہذا آپ اس کے لئے دعا فرماتے اور آسمان کی طرف نظر فرماتے تھے کہ قبلے کی تبدیلی کا حکم آجائے۔
اللہ پاک اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کو کس طرح پورا فرماتا ہے اس کا مشاہدہ دوسرے پارے کی تیسری اور سورہ بقرہ کی آیت 144 میں کیا جا سکتا ہے۔
اللہ پاک نے فرمایا:
قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِۚ-فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰهَا۪-فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ
ترجمہ: ہم تمہارے چہرے کا آسمان کی طرف باربار اٹھنا دیکھ رہے ہیں تو ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس میں تمہاری خوشی ہے تو ابھی اپناچہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر دو
🗂️ تحویل قبلہ کا معنی ہے قبلے سے پھیر دینا یعنی جس قبلے پر پہلے تھے اس سے پھیر دینا۔
تحویل قبلہ کے بعد یہودی مسلمانوں پر طعنہ کیا کرتے تھے، جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ تحویل قبلہ کے حکم خداوندی پر ناسمجھ اور بیوقوف لوگ ہی اعتراض کریں گے۔ اور ان کے دوسرے سوال کہ مسلمان بیت المقدس کو چھوڑ کر بیت اللہ کا رخ کیوں کرنے لگے؟ تو اس کا جواب دیا گیا کہ تمام جہان مشرق اور مغرب اللہ ہی کے ہیں وہ جس طرف چاہے رخ کرکے نماز پڑھنے کا حکم ارشاد فرمادے،بندے کو تو اعتراض کا حق ہی نہیں ہے۔اہمیت کسی سمت کی نہیں اللہ کے حکم کی ہے
اللہ تعالی نے فرمانبردار اور نا فرمان میں فرق کو ظاہر کرنے کے لئے تحویل قبلہ کا حکم دیا کہ کون اللہ تبارک وتعالی کے اس حکم کی فرمانبرداری کرکے فوراً حکم کو مان لیتا ہے اور کون نافرمان بن کر اعتراض شروع کردیتا ہے۔ تو جو مخلص مسلمان تھے وہ کامیاب ہوگئے اور کافر و منافق کھل کر سامنے آگئے۔
📝 آیت نمبر 151 میں حضرت ابرہیم اور حضرت اسماعیل علیھما السلام کی دعا کی قبولیت کا بیان ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے مبعوث فرمایا۔ ارشاد فرمایا کہ ان کا منصب یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ پاک کی آیتیں سنا سنا کر متوجہ کرتے ہیں پھر جو متوجہ ہوں انکا تزکیہ کرتے ہیں پھر انکی اصلاح کرتے ہیں اور انکے نفوس کو صاف کرتے ہیں۔
🌴 پچھلی امتوں کو اللہ پاک نے اپنی نعمتوں کو یاد کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر تم میری نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہو گے تو میں اور عطا فرماؤں گا، مگر آیت 152 میں اس امت محمدیہ پر اللہ پاک کے ایک ایسے کرم کا ذکر ہے جو اس امت ہی کا خاصہ ہے،
اللہ پاک فرماتا ہے:
*فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ*
ترجمہ کنز العرفان:تو تم مجھے یاد کرو ،میں تمہیں یاد کروں گا
گویا ذکر الہٰی مومن کی زندگی کا سب سے بڑا وظیفہ ہے ،احادیث مبارکہ میں اس کی تفسیر یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالی فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر فرماتا ہے
⚔️ پھر آیت نمبر 153 اور 154 میں اہل ایمان سے خطاب کی ابتدا ہوتی ہے اور انہیں بتایا جارہا ہے کہ ہجرت مدینہ کے بعد اب امتحان اور آزمائش کی نئی صورتیں سامنے آئیں گی،اب تم پر جنگی فرائض لازم کئے جائیں گے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہونگے وہ مردہ نہیں بلکہ ایسی شاندار زندگی پالیتے ہیں کہ جس کا تصور اس دنیا میں ممکن نہیں ہے۔
اللہ پاک نے فرمایا
*وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌؕ-بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ*
اور جواللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ۔
✈️ پھر اس کے بعد یہ بتایا گیا کہ حج و عمرہ کے موقع پر کئے جانے والے اعمال خصوصاً صفا و مروہ کی سعی،یہ شعائر اسلام میں سے ہے۔
🕌 اس کے بعد فرمایا گیا معبود حقیقی ایک ہی ہے، اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، اسکی رحمت تمام مخلوقات کے لئے عام ہے ،اور اہل ایمان کے لئے اسکی نعمت مکمل ہے۔
🌍 آسمان اور زمین کی تخلیق ، دن رات کی ترتیب، اور انسانی نفع کےلئے پانی میں چلنے والی کشتیاں ، بادل ، بارش ، ز
مین سے نکلنے والے پھل اور سبزیاں اللہ تعالی کی وحدانیت کی دلیلیں ہیں جو اللہ پاک نے عقل والوں کے لئے بیان فرمائی ہیں۔ اور قرآن پاک میں مختلف مقامات پر ان باتوں پر غور کرنے اور اللہ پاک کی قدرت کی نشانیوں کا مشاہدہ کرنے کی ترغیب دلائی گئی۔
🍇🍎 آیت نمبر 172 اور 173 میں حکم ہوا کہ اللہ تعالی کی عطا کردہ پاک نعمتوں کو کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔
🚫 پھر چار ایسی چیزوں کو بیان فرمایا جو قطعی طور پر حرام ہیں
( ۱ ) مردار، ( ۲ ) خون، ( ۳ ) خنزیر کا گوشت، ( ۴ ) غیرُاللہ کے نام پر ذبح کیا جانے والا جانور۔ ان کی تفصیل یہ ہے :
❌ مردار : جو حلال جانور بغیر ذبح کئے مرجائے یا اس کو شرعی طریقے کے خلاف مارا گیا ہو مثلاً مسلمان اور کتابی کے علاوہ کسی نے ذبح کیا ہو یا جان بوجھ کر تکبیر پڑھے بغیر ذبح کیا گیا ہو یا گلا گھونٹ کر یا لاٹھی پتھر، ڈھیلے، غلیل کی گولی سے مار کر ہلاک کیا گیا ہو یاوہ بلندی سے گر کر مر گیا ہو یا کسی جانور نے اسے سینگ مارکر مار دیا ہو یا کسی درندے نے ہلاک کیا ہو اسے مردار کہتے ہیں اور اس کا کھانا حرام ہے البتہ مردار کا دباغت کیا ہوا چمڑا کام میں لانا اور اس کے بال سینگ ہڈی ، پٹھے سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ زندہ جانور کا وہ عضو جو کاٹ لیا گیا ہو وہ بھی مردار ہی ہے۔
❌ خون : خون ہر جانور کا حرام ہے جبکہ بہنے والا خون ہو ۔ ذبح کے بعد جو خون گوشت اور رگوں میں باقی رہ جاتا ہے وہ ناپاک نہیں۔
❌ خنزیر :(یعنی سور) نَجس العین ہے اس کا گوشت پوست بال ناخن وغیرہ تمام اجزاء نجس و حرام ہیں ، کسی کو کام میں لانا جائز نہیں چونکہ آیت میں اُوپر سے کھانے کا بیان ہورہا ہے اس لیے یہاں صرف گوشت کا ذکر ہوا۔
❌ غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ: اس کا معنی یہ ہے کہ جانور ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کا نام لیا جائے اور جس جانور کو غیراللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے وہ حرام و مردار ہے البتہ اگر ذبح فقط اللہ تعالیٰ کے نام پر کیا اور اس سے پہلے یا بعد میں غیر کا نام لیا مثلاً یہ کہا کہ عقیقہ کا بکرا، ولیمہ کا دنبہ یا جس کی طرف سے وہ ذبیحہ ہے اسی کا نام لیا مثلاً یہ کہا کہ اپنے ماں باپ کی طرف سے ذبح کررہا ہوں یا جن اولیاء کے لیے ایصال ثواب مقصود ہے ان کا نام لیا تو یہ جائز ہے، اس میں کچھ حرج نہیں اور ا س فعل کو حرام کہنا اور ایسے جانور کو مردار کہنا سراسر جہالت ہے۔
🔥 اگلی آیت میں ان علماء پر اللہ تعالی کے ناراضی کا بیان ہے جو اللہ تعالی کی کتاب کی تعلیمات کو چھپاتے ہیں اور تھوڑی سی قیمت کے عوض لوگوں کی خواہشات کے مطابق فتوے دے دیتے ہیں،یہ کام اس وقت کے یہودی کیا کرتے تھے۔اور یہ وہ بد نصیب ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے اور بخشش کے بدلے عذاب کو پسند کیا۔
🌸 اس کے بعد نیکی اور اسکی مختلف اقسام کو اللہ تعالی نے بیان کیا ہے۔
نیکی دراصل ایمان کی بنیاد پر سر انجام پانے والے اعمال ہیں،وہ عزیز و اقارب ، یتیم مساکین کے ساتھ مالی تعاون کرنا ، پھر نماز ، روزہ ، زکوٰۃ کا اہتمام کرنا ، وعدے کو پورا کرنا ، مشکلات میں حق پر صبر کرنا اور ثابت قدمی اختیار کرنا، ان نیکیوں کو کرنے والے لوگوں کو قرآن نے سچے اور متقی ہونے کا لقب عطا فرمایا ہے۔
⚒️ اس کے بعد قصاص و دیت کے قانون کو بیان کر کے بلا امتیاز اس پر عمل درآمد کی تلقین فرمائی ہے، قصاص حیات انسانی کے تحفظ کا ضامن ہے۔
وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(۱۷۹)
اوراے عقل مندو! خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے تاکہ تم بچو۔
جب قصاص لیا جائے گا تو لوگ قتل وغارت گری سے بچیں گے فتنے و فساد کرنے سے بچیں گے انکو معلوم ہے کہ اگر ہم نے کسی کو قتل کردیا تو بدلے میں ہمیں بھی قتل ہونا پڑے گا، یہ اگرچہ بظاہر سزا ہے لیکن اس میں انسانی نسل اور معاشرے کا تحفظ ہے۔
📝 پھر وصیت کی تلقین کرتے ہوئے کسی پر ظلم و ناانصافی نہ کرنے کی ہدایت کی گئی، لیکن سورہ نساء میں اس کے مزید احکام آئیں گے۔
🕖 پھر عاقل بالغ مسلمان پر روزے فرض ہیں اسکا بیان ہے،روزے اگر واقعی تمام آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے رکھے جائیں تو انسان میں تقوی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی احساسات کو بھی بہتر کرتے ہیں، روزے کا اصل مقصد تقوی ہے اس کو بیان کیا گیا۔ پھر فرمایا کہ جس مہینے میں روزے فرض ہیں اسے یہ خصوصیت اور فضیلت بھی حاصل ہے کہ اس میں قرآن عظیم نازل کیا گیا، اس کے بعد روزے کے مسائل پر روشنی ڈالی گئی کہ بیماری یا سفر کی حالت میں عارضی طور پر روزے کو چھوڑنے کی رخصت ہے جن کی بعد میں قضاء کی جائے گی ایسا نہیں کہ سرے سے روزہ رکھنے ہی نہیں ہیں یا فدیہ دینا ہے بلکہ مسافر اور جو سخت بیمار ہیں ان کے احکامات پھر فقہ کی کتابوں میں موجود ہیں،پھر اس بات کا بھی بیان ہے کہ ایسا بڑی عمر والا شخص جو روزہ رکھنے کی قدرت نہیں رکھتا نہ بعد میں کوئی قدرت آنے کی امید ہے تو اب وہ ایک مسکین کھانا فد
🍇🍎 آیت نمبر 172 اور 173 میں حکم ہوا کہ اللہ تعالی کی عطا کردہ پاک نعمتوں کو کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔
🚫 پھر چار ایسی چیزوں کو بیان فرمایا جو قطعی طور پر حرام ہیں
( ۱ ) مردار، ( ۲ ) خون، ( ۳ ) خنزیر کا گوشت، ( ۴ ) غیرُاللہ کے نام پر ذبح کیا جانے والا جانور۔ ان کی تفصیل یہ ہے :
❌ مردار : جو حلال جانور بغیر ذبح کئے مرجائے یا اس کو شرعی طریقے کے خلاف مارا گیا ہو مثلاً مسلمان اور کتابی کے علاوہ کسی نے ذبح کیا ہو یا جان بوجھ کر تکبیر پڑھے بغیر ذبح کیا گیا ہو یا گلا گھونٹ کر یا لاٹھی پتھر، ڈھیلے، غلیل کی گولی سے مار کر ہلاک کیا گیا ہو یاوہ بلندی سے گر کر مر گیا ہو یا کسی جانور نے اسے سینگ مارکر مار دیا ہو یا کسی درندے نے ہلاک کیا ہو اسے مردار کہتے ہیں اور اس کا کھانا حرام ہے البتہ مردار کا دباغت کیا ہوا چمڑا کام میں لانا اور اس کے بال سینگ ہڈی ، پٹھے سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ زندہ جانور کا وہ عضو جو کاٹ لیا گیا ہو وہ بھی مردار ہی ہے۔
❌ خون : خون ہر جانور کا حرام ہے جبکہ بہنے والا خون ہو ۔ ذبح کے بعد جو خون گوشت اور رگوں میں باقی رہ جاتا ہے وہ ناپاک نہیں۔
❌ خنزیر :(یعنی سور) نَجس العین ہے اس کا گوشت پوست بال ناخن وغیرہ تمام اجزاء نجس و حرام ہیں ، کسی کو کام میں لانا جائز نہیں چونکہ آیت میں اُوپر سے کھانے کا بیان ہورہا ہے اس لیے یہاں صرف گوشت کا ذکر ہوا۔
❌ غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ: اس کا معنی یہ ہے کہ جانور ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کا نام لیا جائے اور جس جانور کو غیراللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے وہ حرام و مردار ہے البتہ اگر ذبح فقط اللہ تعالیٰ کے نام پر کیا اور اس سے پہلے یا بعد میں غیر کا نام لیا مثلاً یہ کہا کہ عقیقہ کا بکرا، ولیمہ کا دنبہ یا جس کی طرف سے وہ ذبیحہ ہے اسی کا نام لیا مثلاً یہ کہا کہ اپنے ماں باپ کی طرف سے ذبح کررہا ہوں یا جن اولیاء کے لیے ایصال ثواب مقصود ہے ان کا نام لیا تو یہ جائز ہے، اس میں کچھ حرج نہیں اور ا س فعل کو حرام کہنا اور ایسے جانور کو مردار کہنا سراسر جہالت ہے۔
🔥 اگلی آیت میں ان علماء پر اللہ تعالی کے ناراضی کا بیان ہے جو اللہ تعالی کی کتاب کی تعلیمات کو چھپاتے ہیں اور تھوڑی سی قیمت کے عوض لوگوں کی خواہشات کے مطابق فتوے دے دیتے ہیں،یہ کام اس وقت کے یہودی کیا کرتے تھے۔اور یہ وہ بد نصیب ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے اور بخشش کے بدلے عذاب کو پسند کیا۔
🌸 اس کے بعد نیکی اور اسکی مختلف اقسام کو اللہ تعالی نے بیان کیا ہے۔
نیکی دراصل ایمان کی بنیاد پر سر انجام پانے والے اعمال ہیں،وہ عزیز و اقارب ، یتیم مساکین کے ساتھ مالی تعاون کرنا ، پھر نماز ، روزہ ، زکوٰۃ کا اہتمام کرنا ، وعدے کو پورا کرنا ، مشکلات میں حق پر صبر کرنا اور ثابت قدمی اختیار کرنا، ان نیکیوں کو کرنے والے لوگوں کو قرآن نے سچے اور متقی ہونے کا لقب عطا فرمایا ہے۔
⚒️ اس کے بعد قصاص و دیت کے قانون کو بیان کر کے بلا امتیاز اس پر عمل درآمد کی تلقین فرمائی ہے، قصاص حیات انسانی کے تحفظ کا ضامن ہے۔
وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(۱۷۹)
اوراے عقل مندو! خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے تاکہ تم بچو۔
جب قصاص لیا جائے گا تو لوگ قتل وغارت گری سے بچیں گے فتنے و فساد کرنے سے بچیں گے انکو معلوم ہے کہ اگر ہم نے کسی کو قتل کردیا تو بدلے میں ہمیں بھی قتل ہونا پڑے گا، یہ اگرچہ بظاہر سزا ہے لیکن اس میں انسانی نسل اور معاشرے کا تحفظ ہے۔
📝 پھر وصیت کی تلقین کرتے ہوئے کسی پر ظلم و ناانصافی نہ کرنے کی ہدایت کی گئی، لیکن سورہ نساء میں اس کے مزید احکام آئیں گے۔
🕖 پھر عاقل بالغ مسلمان پر روزے فرض ہیں اسکا بیان ہے،روزے اگر واقعی تمام آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے رکھے جائیں تو انسان میں تقوی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی احساسات کو بھی بہتر کرتے ہیں، روزے کا اصل مقصد تقوی ہے اس کو بیان کیا گیا۔ پھر فرمایا کہ جس مہینے میں روزے فرض ہیں اسے یہ خصوصیت اور فضیلت بھی حاصل ہے کہ اس میں قرآن عظیم نازل کیا گیا، اس کے بعد روزے کے مسائل پر روشنی ڈالی گئی کہ بیماری یا سفر کی حالت میں عارضی طور پر روزے کو چھوڑنے کی رخصت ہے جن کی بعد میں قضاء کی جائے گی ایسا نہیں کہ سرے سے روزہ رکھنے ہی نہیں ہیں یا فدیہ دینا ہے بلکہ مسافر اور جو سخت بیمار ہیں ان کے احکامات پھر فقہ کی کتابوں میں موجود ہیں،پھر اس بات کا بھی بیان ہے کہ ایسا بڑی عمر والا شخص جو روزہ رکھنے کی قدرت نہیں رکھتا نہ بعد میں کوئی قدرت آنے کی امید ہے تو اب وہ ایک مسکین کھانا فد
یہ دیگا۔ (اس کی تفصیل فیضان رمضان میں پڑھی جا سکتی ہے) ،پھر رمضان کی راتوں میں کھانے پینے اور بیویوں سے ملنے کی اجازت عطا فرمائی گئی، نیز اعتکاف کا بھی تذکرہ ہے، روزے کے ابتدائی اور انتہائی وقت کا بیان ہے، رکوع کے آخر میں دوسروں کا مال ناجائز طور پر کھانے اور لوگوں کو ناجائز مقدمات میں الجھانے سے باز رکھنے کی تلقین کی گئی۔
🌙 اس کے بعد قمری مہینوں میں چاند کے چھوٹا اور بڑا ہونے کی حکمت بیان کی گئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چاند کے چھوٹا بڑا ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ارشاد ہوا کہ
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرما دیجئے کہ یہ لوگوں کے لیے اوقات کار ہیں، حج وغیرہ اسلامی معاملات کی تاریخوں کے تعین کے لیے ایسا ہوتا ہے۔
🗡️ پورے مکی دور میں مسلمانوں کو کفار کے مقابلے میں لڑنے کا نہیں بلکہ صبر کا حکم دیا گیا یعنی ہر تشدد کےجواب میں ہاتھ نہ اٹھانے کا حکم تھا، اب اجازت دی گئی کہ اب کفار کو اینٹ کا جواب پھتر سے دیا جائے یعنی اب ظلم کے مقابلے میں جہاد کا حکم دیا گیا۔ حدودِ حرم کو مشرکین کی نجاست سے پاک ہونے اور اللہ کا دین غالب ہونے تک جہاد جاری رکھنے کا حکم دیا۔ دنیا میں جان و مال کا جہاد ہی تمہاری سلامتی و بقا کا ضامن ہے۔
🕋 آیت نمبر 196 سے حج و عمرہ کے احکام بیان کئے گئے، اس کے بعد آنے والی آیات میں یہ بیان ہے کہ اسلام بعض چیزوں کو قبول کرنے اور بعض پر عمل نہ کرنے کا نام نہیں، بلکہ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام کو من وعن قبول کیا جائے واضح ہدایت آجانے کے بعد پورے کے پورے اسلام پر عمل نہ کرنا شیطان کے پیچھے چلنے کی طرح ہے۔
آیت 208 میں ہے
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً۪-وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۲۰۸)
اے ایمان والو!اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
🌅 اس کے بعد بتایا گیا کہ جنت کا حقدار بننے کے لیے دعویٰ ایمان کافی نہیں ہے اس کے لئے راہ حق میں مشکلات کا استقامت کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے، جس طرح انبیاء علیھم السلام و اولیاء عظام اور ان کے سچے پیروکاروں کی روشن مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ کیسی کیسی تکالیف میں بھی ثابت قدم رہے اور اسلام کا پیغام پہنچاتے رہے،
❌ پھر شراب و جوئے کے بارے میں ابتدائی ذہن سازی کرتے ہوئے ان کے فوائد و نقصانات میں تقابل کی تلقین کی گئی، ابھی حرام قرار نہیں دیا گیا۔اس کا جو گناہ ہے وہ اس کے نفع سے بڑھ کر ہے ،اور جسمانی، عقلی، مالی ،اخلاقی اور معاشرتی نقصانات ہے کہ وہ منافع کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے اس کے حرام ہونے کا حکم سورہ مائدہ میں آئے گا، پھر یتیموں کی کفالت کی تعلیم ہے اور نکاح میں توحید پرست کو بت پرست پر ترجیح دینے کا حکم ہے کہ نکاح مسلمانوں سے کرو، پھر خواتین کے مخصوص مسائل درج ہیں کہ جس میں حالات حیض میں اپنی بیویوں سے دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ حیض کے خون میں ایسی نجاست و جراثیم پوشیدہ ہوتے ہیں جن سے شوہر اور بیوی کی صحت خطرے میں پڑ سکتی ہے البتہ آپس میں بوس و کنار اور اٹھنے بیٹھنے اور ساتھ کھانے پینے کی اجازت دی گئی ہے۔
🛡️ آگے جھوٹی قسم سے بچنے کی ترغیب ہے کہ بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم جس کو ایلا کہا جاتا ہے، بچوں کو دودھ پلانے کی مدت، دو سال ،مقرر کی گئی، اور زچہ و بچہ کی کفالت شوہر کے ذمے رکھی گئی ہے، اور غیر حاملہ کے شوہر کے انتقال کی عدت چار ماہ دس دن کو بیان کیا گیا،
آیت 229 میں ہے کہ اگر دو صریح طلاقیں دی ہوں چاہے ایک ساتھ یا الگ الگ، شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے، اور اگر تیسری بھی دے دی تو اب بیوی اس پر حرام ہو جائے گی، اب طریقہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر اپنی مرضی سے کسی اور مرد سے نکاح کرے اور دخول کے بعد وہ شخص اپنی مرضی سے اس کو طلاق دے، پھر عدت گزار کر سابقہ شوہر سے چاہے تو نکاح کر سکتی ہے۔اس کو حلالہ کہتے ہیں، اس میں خلع کا بھی بیان ہے کہ زوجین کو خطرہ ہو کہ اللہ کی حدود میں رہتے ہوئے ازدواجی تعلقات قائم نہیں رکھ سکیں گے اور عورت خلع چاہتی ہے تو اپنے مہر سے دستبرار ہوکر یا مالی بدل سے شوہر کی رضامندی سے خلع لے سکتی ہے، یہ بھی طلاق بائن کے حکم میں ہوتی ہے، نکاح کے بعد اگر بیوی سے خلع یا طلاق کی نوبت آجائےاور قربت نہ ہوئی ہو تو مہر متعین نہ ہونے کی صورت میں نصف مہر کی ادائیگی ہوگی۔
🗡️ پھر جہاد کی ترغیب دینے کے لئے بنی اسرائیل کی ایک قوم کا ذکر فرمایا کہ جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے اور بنی اسرائیل کے نبی حضرت حزقیل علیہ السلام کی دعا سے اللہ نے دوبارہ زندہ کر دیا ، پھر جہاد کا حکم، اللہ کے نام پر مال خرچ کرنے کی تلقین ہے۔ پھر آخر میں مسلمان حکمران طالوت اور کافر حکمران جالوت کے درمیان جو مقابلہ ہوا اس کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے اس پر مخالفین کے اعتراضات کا جواب دیتے
🌙 اس کے بعد قمری مہینوں میں چاند کے چھوٹا اور بڑا ہونے کی حکمت بیان کی گئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چاند کے چھوٹا بڑا ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ارشاد ہوا کہ
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرما دیجئے کہ یہ لوگوں کے لیے اوقات کار ہیں، حج وغیرہ اسلامی معاملات کی تاریخوں کے تعین کے لیے ایسا ہوتا ہے۔
🗡️ پورے مکی دور میں مسلمانوں کو کفار کے مقابلے میں لڑنے کا نہیں بلکہ صبر کا حکم دیا گیا یعنی ہر تشدد کےجواب میں ہاتھ نہ اٹھانے کا حکم تھا، اب اجازت دی گئی کہ اب کفار کو اینٹ کا جواب پھتر سے دیا جائے یعنی اب ظلم کے مقابلے میں جہاد کا حکم دیا گیا۔ حدودِ حرم کو مشرکین کی نجاست سے پاک ہونے اور اللہ کا دین غالب ہونے تک جہاد جاری رکھنے کا حکم دیا۔ دنیا میں جان و مال کا جہاد ہی تمہاری سلامتی و بقا کا ضامن ہے۔
🕋 آیت نمبر 196 سے حج و عمرہ کے احکام بیان کئے گئے، اس کے بعد آنے والی آیات میں یہ بیان ہے کہ اسلام بعض چیزوں کو قبول کرنے اور بعض پر عمل نہ کرنے کا نام نہیں، بلکہ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام کو من وعن قبول کیا جائے واضح ہدایت آجانے کے بعد پورے کے پورے اسلام پر عمل نہ کرنا شیطان کے پیچھے چلنے کی طرح ہے۔
آیت 208 میں ہے
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً۪-وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۲۰۸)
اے ایمان والو!اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
🌅 اس کے بعد بتایا گیا کہ جنت کا حقدار بننے کے لیے دعویٰ ایمان کافی نہیں ہے اس کے لئے راہ حق میں مشکلات کا استقامت کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے، جس طرح انبیاء علیھم السلام و اولیاء عظام اور ان کے سچے پیروکاروں کی روشن مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ کیسی کیسی تکالیف میں بھی ثابت قدم رہے اور اسلام کا پیغام پہنچاتے رہے،
❌ پھر شراب و جوئے کے بارے میں ابتدائی ذہن سازی کرتے ہوئے ان کے فوائد و نقصانات میں تقابل کی تلقین کی گئی، ابھی حرام قرار نہیں دیا گیا۔اس کا جو گناہ ہے وہ اس کے نفع سے بڑھ کر ہے ،اور جسمانی، عقلی، مالی ،اخلاقی اور معاشرتی نقصانات ہے کہ وہ منافع کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے اس کے حرام ہونے کا حکم سورہ مائدہ میں آئے گا، پھر یتیموں کی کفالت کی تعلیم ہے اور نکاح میں توحید پرست کو بت پرست پر ترجیح دینے کا حکم ہے کہ نکاح مسلمانوں سے کرو، پھر خواتین کے مخصوص مسائل درج ہیں کہ جس میں حالات حیض میں اپنی بیویوں سے دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ حیض کے خون میں ایسی نجاست و جراثیم پوشیدہ ہوتے ہیں جن سے شوہر اور بیوی کی صحت خطرے میں پڑ سکتی ہے البتہ آپس میں بوس و کنار اور اٹھنے بیٹھنے اور ساتھ کھانے پینے کی اجازت دی گئی ہے۔
🛡️ آگے جھوٹی قسم سے بچنے کی ترغیب ہے کہ بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم جس کو ایلا کہا جاتا ہے، بچوں کو دودھ پلانے کی مدت، دو سال ،مقرر کی گئی، اور زچہ و بچہ کی کفالت شوہر کے ذمے رکھی گئی ہے، اور غیر حاملہ کے شوہر کے انتقال کی عدت چار ماہ دس دن کو بیان کیا گیا،
آیت 229 میں ہے کہ اگر دو صریح طلاقیں دی ہوں چاہے ایک ساتھ یا الگ الگ، شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے، اور اگر تیسری بھی دے دی تو اب بیوی اس پر حرام ہو جائے گی، اب طریقہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر اپنی مرضی سے کسی اور مرد سے نکاح کرے اور دخول کے بعد وہ شخص اپنی مرضی سے اس کو طلاق دے، پھر عدت گزار کر سابقہ شوہر سے چاہے تو نکاح کر سکتی ہے۔اس کو حلالہ کہتے ہیں، اس میں خلع کا بھی بیان ہے کہ زوجین کو خطرہ ہو کہ اللہ کی حدود میں رہتے ہوئے ازدواجی تعلقات قائم نہیں رکھ سکیں گے اور عورت خلع چاہتی ہے تو اپنے مہر سے دستبرار ہوکر یا مالی بدل سے شوہر کی رضامندی سے خلع لے سکتی ہے، یہ بھی طلاق بائن کے حکم میں ہوتی ہے، نکاح کے بعد اگر بیوی سے خلع یا طلاق کی نوبت آجائےاور قربت نہ ہوئی ہو تو مہر متعین نہ ہونے کی صورت میں نصف مہر کی ادائیگی ہوگی۔
🗡️ پھر جہاد کی ترغیب دینے کے لئے بنی اسرائیل کی ایک قوم کا ذکر فرمایا کہ جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے اور بنی اسرائیل کے نبی حضرت حزقیل علیہ السلام کی دعا سے اللہ نے دوبارہ زندہ کر دیا ، پھر جہاد کا حکم، اللہ کے نام پر مال خرچ کرنے کی تلقین ہے۔ پھر آخر میں مسلمان حکمران طالوت اور کافر حکمران جالوت کے درمیان جو مقابلہ ہوا اس کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے اس پر مخالفین کے اعتراضات کا جواب دیتے
ہوئے بتایا گیا کہ ان کی اہلیت کا مدار جسمانی قوت اور جنگی علم ہے اور بادشاہت یہ اللہ پاک کی عطا ہے پھر شمویل علیہ السلام نے طالوت کی بادشاہت کی نشانی بتائی کہ تمہارے پاس ایک تابوت آئے گا جس سے فرشتے اٹھائے ہونگے یہ رب کی جانب سے اطمینان کا باعث ہوگا، بنی اسرائیل جنگوں کے موقع پر اس کو آگے رکھتے تھے اور اس کے ذریعہ فتح مانگتے اور انھیں فتح ملتی بھی تھی، اس تابوت میں تبرکات تھے انبیائے کرام علیہ السلام کی قدرتی تصاویر، حضرت موسی علیہ السلام کا عمامہ اور نعلین شریف تھا، قرآن پاک میں اس کو بابرکت فرمایا،
💦 پھر طالوت کے ساتھ لڑنے والے لشکر کو آزمائش کے ساتھ گزارا گیا کم لوگ اس آزمائش میں پورا اترے اہل ایمان کی قلیل جماعت دشمن کی کثیر جماعت پر غالب آگئی جب جالوت سے مقابلہ ہوا تو طالوت اور اہل حق نے یہ دعا پڑھی کہ " اے ہمارے رب ہم پر صبر انڈیل دے اور کافروں کی قوم کے خلاف صبر عطا فرما"، پھر حضرت داؤد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا کفار کو شکست ہوئی اور اللہ پاک نے حضرت داؤد علیہ السلام کو حکمت و سلطنت عطا فرمائی
یہ قصہ بنی اسرائیل کے بڑے بڑے لوگوں کو معلوم تھا باقی قوم اس سے بےخبر تھی مگر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے غیب کی خبر دیتے ہوئے یہ واقعہ بیان فرمایا۔
📲 *+92-321-2094919*
💦 پھر طالوت کے ساتھ لڑنے والے لشکر کو آزمائش کے ساتھ گزارا گیا کم لوگ اس آزمائش میں پورا اترے اہل ایمان کی قلیل جماعت دشمن کی کثیر جماعت پر غالب آگئی جب جالوت سے مقابلہ ہوا تو طالوت اور اہل حق نے یہ دعا پڑھی کہ " اے ہمارے رب ہم پر صبر انڈیل دے اور کافروں کی قوم کے خلاف صبر عطا فرما"، پھر حضرت داؤد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا کفار کو شکست ہوئی اور اللہ پاک نے حضرت داؤد علیہ السلام کو حکمت و سلطنت عطا فرمائی
یہ قصہ بنی اسرائیل کے بڑے بڑے لوگوں کو معلوم تھا باقی قوم اس سے بےخبر تھی مگر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے غیب کی خبر دیتے ہوئے یہ واقعہ بیان فرمایا۔
📲 *+92-321-2094919*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📘 *فیضان خلاصہ تراویح*📘
🌳 *تیسرا پارہ، تلك الرسل*
☁️ اس پارے کے شروع میں انبیاء کرام علیھم السلام کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے کہ تمام نبی علیھم السلام معزز اور مکرم ہیں اور نبی ہونے میں سب برابر ہیں، لیکن ان کے درجات و کمالات، خصائص و مراتب مختلف ہیں، اور سب سے اعلی ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس آیت میں بعض کو بعض سے افضل فرمایا گیا نہ کہ بعض بعض سے ادنی کہ یہ بے ادبی ہے، لہذا انبیاء کرام علیھم السلام کے فضائل بیان کرنے میں بھی احتیاط کرنی چاہیے۔
💰 اس کے بعد صدقہ اور خیرات کرکے اپنی آخرت کو سنوارنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی، ورنہ قیامت کے دن نہ مال کام آئے گا نہ رشتےدار، کفار کے لئے کوئی سفارش نہیں ہوگی۔
🌿 اس کے بعد وہ عظمت والی آیت ہے جس کو آیت الکرسی کہا جاتا ہے، یہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 155 ہے، اور اس کی عظمت کا راز یہ ہے کہ ذات باری کی جلالت اور اس کی قدرت کی وسعت کو بھرپور انداز میں بیان کیا گیا ہے، اور اس میں اللہ پاک کا نام 17 مرتبہ آیا ہے، کچھ مرتبہ صراحتا یعنی بالکل واضح طور پر جیسے *اللہ* اور باقی مرتبہ اشارتاً جس کو عربی میں ضمیر اور انگریزی میں pronoun کہتے ہیں، جیسے *وہ ذات* ، بڑی عظمت و برکت والی آیت ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جو سوتے وقت آیت الکرسی پڑھے تو صبح تک اللہ پاک اس کی حفاظت فرمائے گا اور شیطان اس کے قریب نہیں آسکے گا۔
📕 *(بخاری)*
🗝️ اگلی آیت میں یہ اصول بیان ہوا کہ ہدایت اور گمراہی کے واضح ہونے کے بعد دین میں داخل ہونے کے لیے کسی پر جبر نہیں ہے، جو باطل قوتوں سے بغاوت کرکے اللہ کا وفادار بن گیا تو اس نے ایسی مضبوط کڑی کو باندھ لیا جو ٹوٹنے والی نہیں ہے۔
⏳ اس کے بعد تین تاریخی واقعات بیان کیے گئے جو توحید پر دلالت کرتے ہیں اور مرنے کے بعد زندہ ہونے کے قرآنی عقیدے کو واضح کرتے ہیں۔
📜 پہلا واقعہ آیت 258 سے شروع ہوتا ہے، اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کا مکالمہ بیان کیا گیا ہے کہ نمرود جو کافر تھا اس کا دعویٰ تھا کہ میں بھی مردوں کو زندہ کر سکتا ہوں اور زندوں کو موت دے سکتا ہوں، لہذا میں اس کائنات کا رب ہوں معاذ اللہ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالی سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تم مغرب سے نکال کر دکھاؤ، اس پر وہ بالکل لاجواب ہوگیا اور کچھ بھی نہ کر سکا۔
🗓️ دوسرا واقعہ آیت نمبر 258 میں حضرت عزیر علیہ السلام کا ہے، جب بیت المقدس کو بخت نصر نے بالکل ویران کردیا تو اس اجڑے شہر کو دیکھ کر حضرت عزیر علیہ السلام نے کہا *اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَاۚ* یعنی اللہ انہیں ان کی موت کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟
تو اللہ تعالی نے عزیر علیہ السلام کی روح قبض فرما لی اور ان کی سواری (گدھا) بھی مرگیا، سو سال کے بعد اللہ پاک نے ان کو زندہ فرمایا اور سواری کی جو بوسیدہ ہڈیاں تھیں وہ آپ کے سامنے جمع ہوئیں ان پر گوشت چڑھا،اس میں روح پھونکی گئی اور وہ اٹھ کھڑا ہوا، اور ان کے ساتھ جو کھانا تھا یعنی انگور و کھجور وہ سو سال تک بالکل تروتازہ رہا، اس میں بو تک نہیں آئی، اس طرح اللہ پاک نے اپنی قدرت کا مشاہدہ کروایا۔
🗂️ تیسرا واقعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا آیت نمبر 260 میں ہے، جنہوں نے مرنے کے بعد زندہ ہونے کی کیفیت کا مشاہدہ کرنا چاہا اور دل کے اطمینان کے لئے اس کی عملی کیفیت کو دیکھنے کی خواہش کی کہ اللہ پاک ان کو کس طرح زندہ فرمائے گا؟
اللہ تعالی نے فرمایا
*اَوَ لَمْ تُؤْمِنْؕ*
کیا تم کو یقین نہیں
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جوابا عرض کی کہ:
*بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْؕ*
یقین کیوں نہیں مگر یہ (چاہتا ہوں) کہ میرے دل کو قرار آجائے۔
اللہ پاک نے ان کو حکم دیا کہ چار پرندوں کو لے کر انہیں مانوس کر لیں، پھر انہیں ذبح کریں، پھر قیمہ بنا کر ان کے ذرات آپس میں ملا دیں پھر اس کو مختلف پہاڑیوں پر رکھ کر ان پر پرندوں کا نام لے کر پکاریں تو وہ دوڑتے ہوئے آئیں گے،جب ابراہیم علیہ السلام نے ایسا کیا تو وہ اصلی شکل و صورت بن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے، جس سے اللہ کی زبردست حکمت و قوت کا عملی مشاہدہ ہو گیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لیا کہ اللہ تعالی مردوں کو کیسے زندہ فرمائے گا، ساتھ ہی غیر اللہ کو پکارنے کی دلیل بھی سامنے آگئی کہ یہ کوئی شرک نہیں ورنہ اللہ پاک اس کا حکم ارشاد نہ فرماتا۔
💸 صدقہ و خیرات کے بارے میں آیت 261 سے لے کر 276 تک 4 آیت بیان کی گئیں، دو مثالیں اخلاص کی اور دو ریاکاری کی بیان ہوئیں، اخلاص کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں مال خرچ کرنے کی مثال ایسے ہی ہے جیسے زمین میں ایک بیج ڈال کر دانے حاصل کرنا اور ریاکار کا صدقہ ایسا ہے جیسے سخت چٹان پر گلہ اگانے کی ناکام کوشش کرنا، اخلاص کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ سال میں دو دفعہ زمین پھل دیتی ہو اور ریاک
🌳 *تیسرا پارہ، تلك الرسل*
☁️ اس پارے کے شروع میں انبیاء کرام علیھم السلام کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے کہ تمام نبی علیھم السلام معزز اور مکرم ہیں اور نبی ہونے میں سب برابر ہیں، لیکن ان کے درجات و کمالات، خصائص و مراتب مختلف ہیں، اور سب سے اعلی ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس آیت میں بعض کو بعض سے افضل فرمایا گیا نہ کہ بعض بعض سے ادنی کہ یہ بے ادبی ہے، لہذا انبیاء کرام علیھم السلام کے فضائل بیان کرنے میں بھی احتیاط کرنی چاہیے۔
💰 اس کے بعد صدقہ اور خیرات کرکے اپنی آخرت کو سنوارنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی، ورنہ قیامت کے دن نہ مال کام آئے گا نہ رشتےدار، کفار کے لئے کوئی سفارش نہیں ہوگی۔
🌿 اس کے بعد وہ عظمت والی آیت ہے جس کو آیت الکرسی کہا جاتا ہے، یہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 155 ہے، اور اس کی عظمت کا راز یہ ہے کہ ذات باری کی جلالت اور اس کی قدرت کی وسعت کو بھرپور انداز میں بیان کیا گیا ہے، اور اس میں اللہ پاک کا نام 17 مرتبہ آیا ہے، کچھ مرتبہ صراحتا یعنی بالکل واضح طور پر جیسے *اللہ* اور باقی مرتبہ اشارتاً جس کو عربی میں ضمیر اور انگریزی میں pronoun کہتے ہیں، جیسے *وہ ذات* ، بڑی عظمت و برکت والی آیت ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جو سوتے وقت آیت الکرسی پڑھے تو صبح تک اللہ پاک اس کی حفاظت فرمائے گا اور شیطان اس کے قریب نہیں آسکے گا۔
📕 *(بخاری)*
🗝️ اگلی آیت میں یہ اصول بیان ہوا کہ ہدایت اور گمراہی کے واضح ہونے کے بعد دین میں داخل ہونے کے لیے کسی پر جبر نہیں ہے، جو باطل قوتوں سے بغاوت کرکے اللہ کا وفادار بن گیا تو اس نے ایسی مضبوط کڑی کو باندھ لیا جو ٹوٹنے والی نہیں ہے۔
⏳ اس کے بعد تین تاریخی واقعات بیان کیے گئے جو توحید پر دلالت کرتے ہیں اور مرنے کے بعد زندہ ہونے کے قرآنی عقیدے کو واضح کرتے ہیں۔
📜 پہلا واقعہ آیت 258 سے شروع ہوتا ہے، اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کا مکالمہ بیان کیا گیا ہے کہ نمرود جو کافر تھا اس کا دعویٰ تھا کہ میں بھی مردوں کو زندہ کر سکتا ہوں اور زندوں کو موت دے سکتا ہوں، لہذا میں اس کائنات کا رب ہوں معاذ اللہ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالی سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تم مغرب سے نکال کر دکھاؤ، اس پر وہ بالکل لاجواب ہوگیا اور کچھ بھی نہ کر سکا۔
🗓️ دوسرا واقعہ آیت نمبر 258 میں حضرت عزیر علیہ السلام کا ہے، جب بیت المقدس کو بخت نصر نے بالکل ویران کردیا تو اس اجڑے شہر کو دیکھ کر حضرت عزیر علیہ السلام نے کہا *اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَاۚ* یعنی اللہ انہیں ان کی موت کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟
تو اللہ تعالی نے عزیر علیہ السلام کی روح قبض فرما لی اور ان کی سواری (گدھا) بھی مرگیا، سو سال کے بعد اللہ پاک نے ان کو زندہ فرمایا اور سواری کی جو بوسیدہ ہڈیاں تھیں وہ آپ کے سامنے جمع ہوئیں ان پر گوشت چڑھا،اس میں روح پھونکی گئی اور وہ اٹھ کھڑا ہوا، اور ان کے ساتھ جو کھانا تھا یعنی انگور و کھجور وہ سو سال تک بالکل تروتازہ رہا، اس میں بو تک نہیں آئی، اس طرح اللہ پاک نے اپنی قدرت کا مشاہدہ کروایا۔
🗂️ تیسرا واقعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا آیت نمبر 260 میں ہے، جنہوں نے مرنے کے بعد زندہ ہونے کی کیفیت کا مشاہدہ کرنا چاہا اور دل کے اطمینان کے لئے اس کی عملی کیفیت کو دیکھنے کی خواہش کی کہ اللہ پاک ان کو کس طرح زندہ فرمائے گا؟
اللہ تعالی نے فرمایا
*اَوَ لَمْ تُؤْمِنْؕ*
کیا تم کو یقین نہیں
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جوابا عرض کی کہ:
*بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْؕ*
یقین کیوں نہیں مگر یہ (چاہتا ہوں) کہ میرے دل کو قرار آجائے۔
اللہ پاک نے ان کو حکم دیا کہ چار پرندوں کو لے کر انہیں مانوس کر لیں، پھر انہیں ذبح کریں، پھر قیمہ بنا کر ان کے ذرات آپس میں ملا دیں پھر اس کو مختلف پہاڑیوں پر رکھ کر ان پر پرندوں کا نام لے کر پکاریں تو وہ دوڑتے ہوئے آئیں گے،جب ابراہیم علیہ السلام نے ایسا کیا تو وہ اصلی شکل و صورت بن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے، جس سے اللہ کی زبردست حکمت و قوت کا عملی مشاہدہ ہو گیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لیا کہ اللہ تعالی مردوں کو کیسے زندہ فرمائے گا، ساتھ ہی غیر اللہ کو پکارنے کی دلیل بھی سامنے آگئی کہ یہ کوئی شرک نہیں ورنہ اللہ پاک اس کا حکم ارشاد نہ فرماتا۔
💸 صدقہ و خیرات کے بارے میں آیت 261 سے لے کر 276 تک 4 آیت بیان کی گئیں، دو مثالیں اخلاص کی اور دو ریاکاری کی بیان ہوئیں، اخلاص کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں مال خرچ کرنے کی مثال ایسے ہی ہے جیسے زمین میں ایک بیج ڈال کر دانے حاصل کرنا اور ریاکار کا صدقہ ایسا ہے جیسے سخت چٹان پر گلہ اگانے کی ناکام کوشش کرنا، اخلاص کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ سال میں دو دفعہ زمین پھل دیتی ہو اور ریاک
اری کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی مثال اس شخص کی ہے جو اپنی جوانی میں محنت کرکے بہترین فصل اگائے اور بڑھاپے میں جب یہ محتاج ہو اس فصل کی ضرورت ہو اور اس کی اولاد کو اس گلے کی ضرورت ہو تو وہ ناگہانی آفت سے تباہ و برباد ہو جائے، اسی طرح ریاکار کا اجر و ثواب آخرت میں ختم ہو جائے گا کہ دنیا میں محنت کر بھی لے آخرت میں اس کے کام کا کوئی اجر نہیں۔
💥 اس کے بعد قیامت کی یاد دہانی کرواتے ہوئے آیت 281 میں اللہ پاک فرماتا ہے، اس دن سے ڈرو جب تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر شخص کو نیک و بد اعمال کا پورا پورا حصہ دیا جائے گا، ظلم نہ کیا جائے گا اور ہر انسان کو اس کے کیے کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
📝 آیت نمبر 282 قرآن کریم کی سب سے بڑی آیت ہے اس کو آیت مدائنہ بھی کہتے ہیں، اس میں ادھار لین دین کا ضابطہ، ادائیگی کی مدت کا تعین اور تحریری دستاویز بنانے، اور گواہوں کی موجودگی کا بیان ہے۔ رہن کے احکام بھی موجود ہیں۔
☁️ سورت کے اختتام پر یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ اللہ تعالی کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا، آخر میں اللہ پاک نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھا دی کہ" اے اللہ اگر احکام کی تعمیل میں ہم سے کوئی غلطی ہو جایا کرے تو معاف فرما۔" جب تک مسلمان احکام الہیہ پر اپنی استطاعت کے مطابق عمل کر کے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں پر استغفار کرتے رہیں گے اللہ پاک انھیں معافی عطا فرمائے گا۔
🤲🏻 آیت 286 میں بہترین دعا ہے جو ہمیں مانگنی چاہیے،اس دعا کو زبانی یاد کرلینا چاہیے۔ سورہ ٔبقرہ کی اِن آخری دو آیتوں کی بڑی فضیلت ہے۔
حضرت جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" اللہ پاک نے سورہ ٔبقرہ کو ان دو آیتوں پر ختم فرمایا ہے جو مجھے اس کے عرش کے خزانہ سے عطا ہوئیں لہٰذا انہیں سیکھو اور اپنی عورتوں کو سکھاؤ کہ یہ نماز (یعنی نماز میں ان کی قراء ت کی جاتی ہے ) اور قرآن و دعا ہیں۔
📙 *(دارمی)*
🌷 *سورۂ اٰلِ عمران*
تیسرے پارے کے 8 رکوع سورہ بقرہ پر مشتمل ہیں،
نویں رکوع سے سورۃ ال عمران شروع ہوتی ہے، یہ بھی طویل سورتوں میں سے ہے۔
✏️ *تعارف*
سورۂ آلِ عمران مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی ہے۔اس میں 20رکوع اور 200 آیتیں ہیں۔
🔍 *وجہ*
آل کا ایک معنی ’’اولاد‘‘ ہے اور اس سورت کے چوتھے اور پانچویں رکوع میں آیت نمبر33 تا 54 میں حضرت مریم رضی اللہ عنھا کے والد عمران کی آل کی سیرت اور ان کے فضائل کا ذکر ہے ،اس مناسبت سے اس سورت کا نام’’سورۂ آلِ عمران‘‘ رکھا گیا ہے۔
🌴 *فضیلت*
اس سورت کے مختلف فضائل بیان کئے گئے ہیں،ایک عرض کرتا ہوں
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’جو شخص ر ات میں سورۂ آلِ عمر ان کی آخری آیتیں پڑھے گا تو اس کے لیے پوری رات عبادت کرنے کا ثواب لکھا جائے گا۔
📕 *(دارمی)*
سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کے مضامین میں حددرجہ مناسبت پائی جاتی ہے *نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم* نے ان دونوں صورتوں کو زہراوین(روشن نور) سورج اور چاند سے تعبیر کیا، سورہ بقرہ میں یہودیوں سے خطاب ہے جبکہ سورہ آل عمران میں عیسائیوں سے خطاب ہے۔یہ سورہ ایک واقعہ کے نتیجے میں نازل ہونا شروع ہوئی۔
📖 نجران کی ایک جماعت مدینے میں *نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم* سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئی، ان لوگوں نے حضرت عیسی علیہ السلام وسلم کو معاذاللہ کبھی رب، کبھی اللہ کا بیٹا تو کبھی تین خداؤں میں سے ایک کہنا شروع کیا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ "اللہ وہ ہے جو ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا اس پر کبھی موت طاری نہیں ہوگی جبکہ حضرت عیسی علیہ السلام کا وصال ہوگا، بیٹا اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے جب کہ وہ اللہ کی مشابہ نہیں ہوسکتے ،اللہ کچھ کھانے پینے سے پاک ہے جبکہ عیسی علیہ السلام کھاتے اور پیتے ہیں، اللہ کے پاس زمین وآسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے جبکہ حضرت عیسی کے پاس جو کچھ ہے اللہ کا عطا کردہ ہے اس پر وہ خاموش ہوگئے، ان کے پاس کوئی جواب نہ رہا۔
⚪ شروع میں اللہ پاک کی وحدانیت اور آسمانی کتابیں قرآن، توریت و انجیل کی حقانیت کا ذکر ہے۔اللہ کی آیات کے منکروں کو عذاب شدید سے ڈرایا گیا ہے، علم الہی کی وسعتوں کا ذکر ہے، اللہ کی قدرت کا بیان ہے کہ ماں کے پیٹ میں انسان کی پیدائش کے کیا مرحلے ہیں،قرآن میں بعض آیتوں کے معنی واضح ہیں اور بعض آیتوں کو متشابہات کہا جاتا ہے جیسے حرف مقطعات جن کے معنی اللہ جانتا ہے اور اللہ کے بتائے سے *حضور صلی اللہ علیہ وسلم* جانتے ہیں، ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ آیات اور ان کا جو معنی ہے وہ سب حق ہیں،
📚 اگلی آیات میں مسلسل اہل کتاب کی مذمت پر بیان ہے ،ان کے جرائم بیان ہوئے انہوں نے انبیاء کرام علیہم السلام کو ناحق شہید کیا، نیک لوگوں پر ظلم کیا اور مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو ہرگز دوست نہ بناؤ کیونکہ اسلام و کفر کے درمیان کوئی تعلق نہیں۔ کفار کبھی بھی مسل
💥 اس کے بعد قیامت کی یاد دہانی کرواتے ہوئے آیت 281 میں اللہ پاک فرماتا ہے، اس دن سے ڈرو جب تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر شخص کو نیک و بد اعمال کا پورا پورا حصہ دیا جائے گا، ظلم نہ کیا جائے گا اور ہر انسان کو اس کے کیے کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
📝 آیت نمبر 282 قرآن کریم کی سب سے بڑی آیت ہے اس کو آیت مدائنہ بھی کہتے ہیں، اس میں ادھار لین دین کا ضابطہ، ادائیگی کی مدت کا تعین اور تحریری دستاویز بنانے، اور گواہوں کی موجودگی کا بیان ہے۔ رہن کے احکام بھی موجود ہیں۔
☁️ سورت کے اختتام پر یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ اللہ تعالی کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا، آخر میں اللہ پاک نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھا دی کہ" اے اللہ اگر احکام کی تعمیل میں ہم سے کوئی غلطی ہو جایا کرے تو معاف فرما۔" جب تک مسلمان احکام الہیہ پر اپنی استطاعت کے مطابق عمل کر کے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں پر استغفار کرتے رہیں گے اللہ پاک انھیں معافی عطا فرمائے گا۔
🤲🏻 آیت 286 میں بہترین دعا ہے جو ہمیں مانگنی چاہیے،اس دعا کو زبانی یاد کرلینا چاہیے۔ سورہ ٔبقرہ کی اِن آخری دو آیتوں کی بڑی فضیلت ہے۔
حضرت جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" اللہ پاک نے سورہ ٔبقرہ کو ان دو آیتوں پر ختم فرمایا ہے جو مجھے اس کے عرش کے خزانہ سے عطا ہوئیں لہٰذا انہیں سیکھو اور اپنی عورتوں کو سکھاؤ کہ یہ نماز (یعنی نماز میں ان کی قراء ت کی جاتی ہے ) اور قرآن و دعا ہیں۔
📙 *(دارمی)*
🌷 *سورۂ اٰلِ عمران*
تیسرے پارے کے 8 رکوع سورہ بقرہ پر مشتمل ہیں،
نویں رکوع سے سورۃ ال عمران شروع ہوتی ہے، یہ بھی طویل سورتوں میں سے ہے۔
✏️ *تعارف*
سورۂ آلِ عمران مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی ہے۔اس میں 20رکوع اور 200 آیتیں ہیں۔
🔍 *وجہ*
آل کا ایک معنی ’’اولاد‘‘ ہے اور اس سورت کے چوتھے اور پانچویں رکوع میں آیت نمبر33 تا 54 میں حضرت مریم رضی اللہ عنھا کے والد عمران کی آل کی سیرت اور ان کے فضائل کا ذکر ہے ،اس مناسبت سے اس سورت کا نام’’سورۂ آلِ عمران‘‘ رکھا گیا ہے۔
🌴 *فضیلت*
اس سورت کے مختلف فضائل بیان کئے گئے ہیں،ایک عرض کرتا ہوں
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’جو شخص ر ات میں سورۂ آلِ عمر ان کی آخری آیتیں پڑھے گا تو اس کے لیے پوری رات عبادت کرنے کا ثواب لکھا جائے گا۔
📕 *(دارمی)*
سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کے مضامین میں حددرجہ مناسبت پائی جاتی ہے *نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم* نے ان دونوں صورتوں کو زہراوین(روشن نور) سورج اور چاند سے تعبیر کیا، سورہ بقرہ میں یہودیوں سے خطاب ہے جبکہ سورہ آل عمران میں عیسائیوں سے خطاب ہے۔یہ سورہ ایک واقعہ کے نتیجے میں نازل ہونا شروع ہوئی۔
📖 نجران کی ایک جماعت مدینے میں *نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم* سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئی، ان لوگوں نے حضرت عیسی علیہ السلام وسلم کو معاذاللہ کبھی رب، کبھی اللہ کا بیٹا تو کبھی تین خداؤں میں سے ایک کہنا شروع کیا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ "اللہ وہ ہے جو ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا اس پر کبھی موت طاری نہیں ہوگی جبکہ حضرت عیسی علیہ السلام کا وصال ہوگا، بیٹا اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے جب کہ وہ اللہ کی مشابہ نہیں ہوسکتے ،اللہ کچھ کھانے پینے سے پاک ہے جبکہ عیسی علیہ السلام کھاتے اور پیتے ہیں، اللہ کے پاس زمین وآسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے جبکہ حضرت عیسی کے پاس جو کچھ ہے اللہ کا عطا کردہ ہے اس پر وہ خاموش ہوگئے، ان کے پاس کوئی جواب نہ رہا۔
⚪ شروع میں اللہ پاک کی وحدانیت اور آسمانی کتابیں قرآن، توریت و انجیل کی حقانیت کا ذکر ہے۔اللہ کی آیات کے منکروں کو عذاب شدید سے ڈرایا گیا ہے، علم الہی کی وسعتوں کا ذکر ہے، اللہ کی قدرت کا بیان ہے کہ ماں کے پیٹ میں انسان کی پیدائش کے کیا مرحلے ہیں،قرآن میں بعض آیتوں کے معنی واضح ہیں اور بعض آیتوں کو متشابہات کہا جاتا ہے جیسے حرف مقطعات جن کے معنی اللہ جانتا ہے اور اللہ کے بتائے سے *حضور صلی اللہ علیہ وسلم* جانتے ہیں، ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ آیات اور ان کا جو معنی ہے وہ سب حق ہیں،
📚 اگلی آیات میں مسلسل اہل کتاب کی مذمت پر بیان ہے ،ان کے جرائم بیان ہوئے انہوں نے انبیاء کرام علیہم السلام کو ناحق شہید کیا، نیک لوگوں پر ظلم کیا اور مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو ہرگز دوست نہ بناؤ کیونکہ اسلام و کفر کے درمیان کوئی تعلق نہیں۔ کفار کبھی بھی مسل
مان کے ساتھ مخلص نہیں ہوسکتے۔
💳 آیت نمبر 14 میں ہے کہ انسان کو مال و دولت، رشتے، سواری ،سونا، چاندی، جانور کھیتیاں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں، مگر یہ دنیا میں ہیں اور اللہ کے پاس بہترین جزا ہے۔
متقی لوگوں کے لئے باغات ،نہریں، پاکیزہ بیویاں ہیں۔ اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے وہ بندے گناہوں پر استغفار اور جہنم سے حفاظت کے طلبگار ہیں۔ سچ بولنے والے ،صبر کرنے والے، فرمانبرداری کرنے والے، صدقہ و خیرات کرنے والے،تہجد کے وقت معافی مانگنے والوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
🔖 آیت 31 میں واضح طور پر بتایا گیا کہ بندہ اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس کی رضا کا طلبگار ہے تو ایک ہی راستہ ہے کہ *حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم* کی محبت و اتباع کی جائے، فرمایا اگر تم اللہ کی محبت پانا چاہتے ہو تو میرے *محبوب صلی اللہ علیہ وعلی وسلم* کی پیروی کرو اللہ تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا۔
💥 اس کے بعد والی آیات میں تین عبرت آموز واقعہ ذکر کیے گئے ہیں، ان تینوں قصوں میں اللہ کی عظیم قدرت کے دلائل ہیں، حضرت عمران کی صاحب کردار پاکیزہ اہلیہ حنا بنت فاقوذا جب حاملہ ہوئیں تو منت مانی کہ اپنے پیدا ہونے والے بچے کو اللہ کے لیے وقف کر دوں گی، مگر ان کے یہاں خلاف توقع لڑکی کی پیدائش ہوئی۔ لڑکی پیدا ہونے کے باوجود بھی اپنی منت پوری کی۔ان کا نام مریم رکھا اور حضرت زکریا علیہ السلام کی کفالت میں دے دیا اللہ نے حضرت مریم رضی اللہ عنھا کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمایا اور آپ بچپن سے لے کر جوانی تک عبادت میں مصروف رہیں،یہاں تک کہ بارگاہ الہی سے یہ کرامت بھی ظاہر ہوئی کہ آپ کے پاس بے موسم پھل آنے لگے اور اس کا ذکر قرآن پاک میں واضح طور پر ہے، حضرت زکریا علیہ السلام آپ کے خالو بھی تھے ، ایک دن آپ کے حجرے میں تشریف لائے جب آپ عبادت میں مصروف تھیں۔ اتنے پھل دیکھ کر آپ سے پوچھا کہ مریم یہ بے موسم پھل کہاں سے آتے ہیں کہا کہ اللہ کی طرف سے آتے ہیں اللہ جسے چاہتا ہے بلا حساب رزق عطا فرماتا ہے، حضرت زکریا علیہ السلام کی اب تک کوئی اولاد نہ تھی، اور ان کی زوجہ کی عمر بھی بڑی ہوچکی تھی تو زکریا علیہ السلام بی بی مریم رضی اللہ عنھا کے پاس بے موسم پھل دیکھ کر کی رحمت سے اور پرامید ہوگئے کہ جو بے موسم پھل مریم کو دے سکتا ہے تو مجھے بڑی عمر میں اولاد کیوں نہیں دے سکتا؟ تو دعا فرمائی کہ مجھے اپنی جانب سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، آپ کی دعا قبول ہوئی اور فرشتوں نے آکر کہا " اے زکریا آپ کو اللہ کی طرف سے نیک اور صالح بیٹے یحییٰ (علیہ السلام) کی بشارت ہے، حضرت زکریا علیہ السلام اس کے بعد تین دن مسلسل خاموش رہ کر عبادت میں مصروف ہوگئے۔
🌴 پھر فرشتوں نے بی بی مریم رضی اللہ عنھا کو پکار کر کہا کہ اللہ نے آپ کو بلند مرتبہ عطا کیا ہے اور آپ کو پاکیزگی و طہارت عطا کی ہے، تمام جہانوں کی عورتوں میں بلند مرتبہ دیا ہے، آپ اپنے رب کی بندگی کریں اور رکوع سجود کریں، پھر حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر ہے، بی بی مریم رضی اللہ عنھا کا دل بغیر شوہر کے بیٹے عطا ہونے پر پریشان تھا، یہ وہ بیٹے تھے جو کوڑھیوں کو شفا دیتے اور مادر زاد اندھوں کو بینا کرتے، جو بنی اسرائیل کھاتے اور چھپاتے اور جو بچاتے اس کی خبر دیتے تھے، آپ کے معجزات کو دیکھ کر آپ کی قوم نے آپ کو معاذاللہ اللہ کا بیٹا کہنا شروع کر دیا،اس پر اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ بے شک عیسی علیہ السلام کی مثال آدم علیہ السلام جیسی ہے جن کو بغیر باپ اور ماں کے پیدا کیا گیا، مٹی سے بنایا اور فرمایا *کن فیکون* یعنی ہوجا تو ہوگیا، جب آدم علیہ السلم کو خدا یا خدا کا بیٹا نہ کہا نہ مانا تو عیسی علیہ السلام کو کیوں مانتے ہو؟
نجران کا وفد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عیسی علیہ السلام کی ولادت کے معاملے میں بحث کرنے کے بعد لاجواب ہوگیا لیکن حقیقت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مباہلہ کا چیلنج کیا کہ تم حق کو تسلیم نہیں کرتے تو اپنے گھر والوں کو لے آؤ اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ چنانچہ *نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم* حضرت علی و فاطمہ حسن وحسین رضی اللہ تعالی عنہم کے ساتھ میدان مباہلہ میں پہنچے تو ان کے پادریوں نے چیلنج قبول کرنے سے انکارکردیا یہاں تک کہ ان کے بڑے نے کہا کہ اگر مباہلہ کو قبول کر لیتے تو قیامت تک کے لئے عیسائی دنیا سے ختم ہو جاتے۔
🟤 پھر اس سورت میں بتایا کہ کفار عیسیٰ علیہ السلام کی جان کے درپے تھے اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو بشارت دی کہ میں آپ کو زندہ آسمانوں کی طرف اٹھاؤنگا اور وہ آپ کا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے، اللہ پاک نے اپنے وعدے کو پورا فرمایا عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ اٹھا لیا اب عیسی علیہ السلام قیامت سے قبل دمشق کی جامع مسجد پر اتریں گے اور دجال کو قتل فرمائیں گے۔
🟢 آیت 69 سے اہل ایمان کو آگاہ کیا کہ اہل کتاب خود گمراہ ہیں، اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں، حق کو باطل سے ملاتے ہیں، جا
💳 آیت نمبر 14 میں ہے کہ انسان کو مال و دولت، رشتے، سواری ،سونا، چاندی، جانور کھیتیاں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں، مگر یہ دنیا میں ہیں اور اللہ کے پاس بہترین جزا ہے۔
متقی لوگوں کے لئے باغات ،نہریں، پاکیزہ بیویاں ہیں۔ اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے وہ بندے گناہوں پر استغفار اور جہنم سے حفاظت کے طلبگار ہیں۔ سچ بولنے والے ،صبر کرنے والے، فرمانبرداری کرنے والے، صدقہ و خیرات کرنے والے،تہجد کے وقت معافی مانگنے والوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
🔖 آیت 31 میں واضح طور پر بتایا گیا کہ بندہ اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس کی رضا کا طلبگار ہے تو ایک ہی راستہ ہے کہ *حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم* کی محبت و اتباع کی جائے، فرمایا اگر تم اللہ کی محبت پانا چاہتے ہو تو میرے *محبوب صلی اللہ علیہ وعلی وسلم* کی پیروی کرو اللہ تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا۔
💥 اس کے بعد والی آیات میں تین عبرت آموز واقعہ ذکر کیے گئے ہیں، ان تینوں قصوں میں اللہ کی عظیم قدرت کے دلائل ہیں، حضرت عمران کی صاحب کردار پاکیزہ اہلیہ حنا بنت فاقوذا جب حاملہ ہوئیں تو منت مانی کہ اپنے پیدا ہونے والے بچے کو اللہ کے لیے وقف کر دوں گی، مگر ان کے یہاں خلاف توقع لڑکی کی پیدائش ہوئی۔ لڑکی پیدا ہونے کے باوجود بھی اپنی منت پوری کی۔ان کا نام مریم رکھا اور حضرت زکریا علیہ السلام کی کفالت میں دے دیا اللہ نے حضرت مریم رضی اللہ عنھا کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمایا اور آپ بچپن سے لے کر جوانی تک عبادت میں مصروف رہیں،یہاں تک کہ بارگاہ الہی سے یہ کرامت بھی ظاہر ہوئی کہ آپ کے پاس بے موسم پھل آنے لگے اور اس کا ذکر قرآن پاک میں واضح طور پر ہے، حضرت زکریا علیہ السلام آپ کے خالو بھی تھے ، ایک دن آپ کے حجرے میں تشریف لائے جب آپ عبادت میں مصروف تھیں۔ اتنے پھل دیکھ کر آپ سے پوچھا کہ مریم یہ بے موسم پھل کہاں سے آتے ہیں کہا کہ اللہ کی طرف سے آتے ہیں اللہ جسے چاہتا ہے بلا حساب رزق عطا فرماتا ہے، حضرت زکریا علیہ السلام کی اب تک کوئی اولاد نہ تھی، اور ان کی زوجہ کی عمر بھی بڑی ہوچکی تھی تو زکریا علیہ السلام بی بی مریم رضی اللہ عنھا کے پاس بے موسم پھل دیکھ کر کی رحمت سے اور پرامید ہوگئے کہ جو بے موسم پھل مریم کو دے سکتا ہے تو مجھے بڑی عمر میں اولاد کیوں نہیں دے سکتا؟ تو دعا فرمائی کہ مجھے اپنی جانب سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، آپ کی دعا قبول ہوئی اور فرشتوں نے آکر کہا " اے زکریا آپ کو اللہ کی طرف سے نیک اور صالح بیٹے یحییٰ (علیہ السلام) کی بشارت ہے، حضرت زکریا علیہ السلام اس کے بعد تین دن مسلسل خاموش رہ کر عبادت میں مصروف ہوگئے۔
🌴 پھر فرشتوں نے بی بی مریم رضی اللہ عنھا کو پکار کر کہا کہ اللہ نے آپ کو بلند مرتبہ عطا کیا ہے اور آپ کو پاکیزگی و طہارت عطا کی ہے، تمام جہانوں کی عورتوں میں بلند مرتبہ دیا ہے، آپ اپنے رب کی بندگی کریں اور رکوع سجود کریں، پھر حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر ہے، بی بی مریم رضی اللہ عنھا کا دل بغیر شوہر کے بیٹے عطا ہونے پر پریشان تھا، یہ وہ بیٹے تھے جو کوڑھیوں کو شفا دیتے اور مادر زاد اندھوں کو بینا کرتے، جو بنی اسرائیل کھاتے اور چھپاتے اور جو بچاتے اس کی خبر دیتے تھے، آپ کے معجزات کو دیکھ کر آپ کی قوم نے آپ کو معاذاللہ اللہ کا بیٹا کہنا شروع کر دیا،اس پر اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ بے شک عیسی علیہ السلام کی مثال آدم علیہ السلام جیسی ہے جن کو بغیر باپ اور ماں کے پیدا کیا گیا، مٹی سے بنایا اور فرمایا *کن فیکون* یعنی ہوجا تو ہوگیا، جب آدم علیہ السلم کو خدا یا خدا کا بیٹا نہ کہا نہ مانا تو عیسی علیہ السلام کو کیوں مانتے ہو؟
نجران کا وفد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عیسی علیہ السلام کی ولادت کے معاملے میں بحث کرنے کے بعد لاجواب ہوگیا لیکن حقیقت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مباہلہ کا چیلنج کیا کہ تم حق کو تسلیم نہیں کرتے تو اپنے گھر والوں کو لے آؤ اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ چنانچہ *نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم* حضرت علی و فاطمہ حسن وحسین رضی اللہ تعالی عنہم کے ساتھ میدان مباہلہ میں پہنچے تو ان کے پادریوں نے چیلنج قبول کرنے سے انکارکردیا یہاں تک کہ ان کے بڑے نے کہا کہ اگر مباہلہ کو قبول کر لیتے تو قیامت تک کے لئے عیسائی دنیا سے ختم ہو جاتے۔
🟤 پھر اس سورت میں بتایا کہ کفار عیسیٰ علیہ السلام کی جان کے درپے تھے اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو بشارت دی کہ میں آپ کو زندہ آسمانوں کی طرف اٹھاؤنگا اور وہ آپ کا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے، اللہ پاک نے اپنے وعدے کو پورا فرمایا عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ اٹھا لیا اب عیسی علیہ السلام قیامت سے قبل دمشق کی جامع مسجد پر اتریں گے اور دجال کو قتل فرمائیں گے۔
🟢 آیت 69 سے اہل ایمان کو آگاہ کیا کہ اہل کتاب خود گمراہ ہیں، اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں، حق کو باطل سے ملاتے ہیں، جا
نتے بوجھتے حق کو چھپانے کے مرتکب ہوتے ہیں،
📈 آخری آیت میں دین اسلام کے تسلسل کا ذکر ہے کہ یہ مذہب حضرت آدم علیہ السلام سے چلا آرہا ہے اور اسلام کے سوا کوئی اور مذہب کو قبول نہیں کیا جائے گیا ایمان و کفر ایک دوسرے کے الٹ ہیں، کبھی جمع نہیں ہوسکتے اگر کوئی شخص اسلام کی جگہ کسی اور دین میں پناہ تلاش کرتا ہے اس کے لئے کوئی پناہ نہیں۔
📈 آخری آیت میں دین اسلام کے تسلسل کا ذکر ہے کہ یہ مذہب حضرت آدم علیہ السلام سے چلا آرہا ہے اور اسلام کے سوا کوئی اور مذہب کو قبول نہیں کیا جائے گیا ایمان و کفر ایک دوسرے کے الٹ ہیں، کبھی جمع نہیں ہوسکتے اگر کوئی شخص اسلام کی جگہ کسی اور دین میں پناہ تلاش کرتا ہے اس کے لئے کوئی پناہ نہیں۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📝 *فیضان خلاصہ تراویح*📝
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
☁️ *چوتھا پارہ،لَنْ تَنَالُوا*
💸 چوتھے پارے کی پہلی آیت مبارکہ میں بیان ہو رہا ہے کہ اگرچہ اللہ کی راہ میں خرچ کیے ہوئے ہر مال کا اس کے مطابق اجر ملے گا، لیکن نیکی کا مرتبہ کمال یہ ہے کہ اپنے پسندیدہ اور محبوب مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے، مطلوب تک پہنچنے کے لیے کبھی پسندیدہ چیز کو قربان کرنا پڑتا ہے، ساتھ یہ واضح فرمایا کہ اللہ تعالی کی راہ میں پیش کردہ ہر مال اور ہر قربانی کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہونا چاہیے اللہ تعالی ہمارے ہر فعل سے باخبر ہے، لہذا ریاکاری کر کے نیکی کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
🕋 آیت نمبر 95 تا 97 میں صاحب استطاعت پر حج کی فرضیت کا حکم بیان ہوا ہے، اور یہ کہ زمین پر اللہ تعالی کی عبادت کے لیے سب سے پہلا گھر مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ بنایا گیا، یہ گھر روحانی برکات کا حامل ہے، اس کے ذریعے لوگوں کے رزق کے وسیع ذرائع پیدا ہوئے اور روحانی اعتبار سے ایسی بڑی بڑی نیکیوں کے مواقع میسر آئے جن کا اجر بھی کئی گنا زیادہ ملنے کی خوشخبری سنائی گئی ہے، عام مساجد کے مقابلے میں یہاں کی 1 نیکی کا اجر ایک لاکھ گنا زیادہ ہے، یہ گھر تمام جہاں والوں کے لیے ہدایت یعنی زندگی کے رخ کی تبدیلی کا ذریعہ ہے،اس گھر میں اللہ تعالی کی معرفت کی کئی نشانیاں ہیں اور خاص طور پر مقام ابراہیم کے نام سے موسوم پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اس گھر کی دیواروں کو بلند کیا تھا، جو شخص بھی مال، صحت اور امن وامان اور دیگر شرائط کے اعتبار سے اس قابل ہو کہ خانہ کعبہ آسکے اس پر اس گھر کا حج لازم ہے،جس شخص نے باوجود استطاعت اس گھر کا حج نہ کیا تو ایسا کرنا حقیقتاً محرومی کا باعث ہے اور گویا کہ یہ اللہ تبارک و تعالی کی نعمت کی ناشکری ہے،حج اور دیگر عبادات بندوں ہی کےلیے باعث خیر ہیں اور بندے ہی کو اجر و ثواب دیا جاتا ہے، ورنہ اللہ تعالی کو بندوں کی عبادات کی قطعاً کوئی حاجت نہیں اور یہی اس آیت مبارکہ کے آخر میں فرمایا کہ "اللہ تبارک و تعالی تمام جہانوں سے بے پرواہ ہے۔"
🌫️ قیامت کے دن اہل ایمان کے چہرے روشن ہونگے اور اللہ اور اسکے رسول کے نافرمانوں کے چہرے کالے ہونگے،
پھر آگے امتِ مسلمہ کو بہترین امت قرار دے کر اسکی وجہ فضیلت بیان کی کہ تمہیں اس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے کہ نیکی کی دعوت دو اور برائی سے منع کرو۔
🔪 آیت نمبر 105 میں ہے کہ "جو لوگ امت مسلمہ میں اختلاف و انتشار پیدا کرنے کی کوشش کریں گے انکے لیے بہت بڑا عذاب ہوگا، روزِ قیامت انسانوں کے اعمال کا نتیجہ انکے چہروں پر ظاہر ہوگا، کالے کرتوتوں کی وجہ سے جن کے چہرے سیاہ ہونگے اللہ پاک ان پر نظر رحمت نہیں فرمائے گا اور نیک لوگوں کے چہرے روشن ہونگے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونگے۔"
🌼 آیت نمبر 110 ہمیں امتِ مسلمہ کے مقصد سے آگاہ کر رہی ہے امت مسلمہ کا دنیا میں کام یہی ہے کہ وہ نیکیوں کی دعوت دے برائیوں سے روکے اور اللہ پر پختہ ایمان رکھتے ہوئے ہر طرح کے شرک سے اجتناب کرے، اگر امت اپنا مقصد پورا نہیں کرتی تو پھر اندیشہ ہے کہ عذاب الہی سے دوچار ہوگی۔آیت کے آخر میں بتایا گیا کہ "یہ ذمےداری اس سے قبل اہل کتاب کی تھی یعنی نیکی کی دعوت دینا برائی سے منع کرنا، لیکن اکثریت نافرمان ہی رہی اور ذمہ داری سرانجام نہ دے سکی، اس موقع پر ہمیں بھی اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم نیکی کی دعوت دیتے ہیں برائی سے منع کرتے ہیں؟ یا ہمارے سامنے برائی ہورہی ہوتی ہے گناہ ہورہا ہوتا ہے لیکن ہم اسکو روکیں گے تو کیا بلکہ مزید اس کا حصہ بن جاتے ہیں، تو ہمیں چاہئے کہ ہم بھی نیکی کی دعوت دیں برائی سے منع کریں، ہر شخص پر اس کے منصب کے اعتبار سے نیکی کی دعوت دینا بہت ضروری ہے، اور آج کا زمانہ ویسے بھی ایسا ہے کہ نیکی کی دعوت دینے کی بہت زیادہ حاجت ہےتو جو برائی دیکھیں حسبِ حال اسکو روکنے کی کوشش کی جائے، اس مقصد کو اچھے انداز میں نبھانے کے لئے دعوت اسلامی کے ماحول سے وابستہ ہوجائیں، دعوت اسلامی عاشقان رسول کی واحد تحریک ہے جو اس وقت تک (1441) 104 سے زائد شعبوں میں نیکی کی دعوت کی دھومیں مچا رہی ہے۔
🔥 اگلی آگے آیات میں مسلمانوں کے ساتھ یہودیوں کی ہمیشہ کی دشمنی اور یہودیوں کے اندر مسلمانوں کے بغض کو بیان کیا ہے کہ اہل ایمان کو بھلائی نصیب ہوتو ان کے سینوں کی جلن بڑھ جاتی ہے، اور اگر اہل ایمان کو کوئی نقصان پہنچے تو خوشی میں وہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں، یہودی مسلمانوں کی خوشی نہیں دیکھ سکتے، مسلمانوں کو جب کوئی تکلیف پہنچے تو اس پر خوش ہوتے ہیں،لیکن اگر اہل ایمان حق پر استقامت کا مظاہرہ کرتے رہے اور اللہ پاک کی نافرمانی سے بچتے رہے تو اہل کتاب کی سازشیں مسلمانوں کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں۔
اس کے بعد منافقون کو اپنا رازدار بنانے، دلی دوستی کرنے سے منع کیا گیا۔
⛅ آیت نمبر 122 سے غزوہ بد
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
☁️ *چوتھا پارہ،لَنْ تَنَالُوا*
💸 چوتھے پارے کی پہلی آیت مبارکہ میں بیان ہو رہا ہے کہ اگرچہ اللہ کی راہ میں خرچ کیے ہوئے ہر مال کا اس کے مطابق اجر ملے گا، لیکن نیکی کا مرتبہ کمال یہ ہے کہ اپنے پسندیدہ اور محبوب مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے، مطلوب تک پہنچنے کے لیے کبھی پسندیدہ چیز کو قربان کرنا پڑتا ہے، ساتھ یہ واضح فرمایا کہ اللہ تعالی کی راہ میں پیش کردہ ہر مال اور ہر قربانی کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہونا چاہیے اللہ تعالی ہمارے ہر فعل سے باخبر ہے، لہذا ریاکاری کر کے نیکی کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
🕋 آیت نمبر 95 تا 97 میں صاحب استطاعت پر حج کی فرضیت کا حکم بیان ہوا ہے، اور یہ کہ زمین پر اللہ تعالی کی عبادت کے لیے سب سے پہلا گھر مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ بنایا گیا، یہ گھر روحانی برکات کا حامل ہے، اس کے ذریعے لوگوں کے رزق کے وسیع ذرائع پیدا ہوئے اور روحانی اعتبار سے ایسی بڑی بڑی نیکیوں کے مواقع میسر آئے جن کا اجر بھی کئی گنا زیادہ ملنے کی خوشخبری سنائی گئی ہے، عام مساجد کے مقابلے میں یہاں کی 1 نیکی کا اجر ایک لاکھ گنا زیادہ ہے، یہ گھر تمام جہاں والوں کے لیے ہدایت یعنی زندگی کے رخ کی تبدیلی کا ذریعہ ہے،اس گھر میں اللہ تعالی کی معرفت کی کئی نشانیاں ہیں اور خاص طور پر مقام ابراہیم کے نام سے موسوم پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اس گھر کی دیواروں کو بلند کیا تھا، جو شخص بھی مال، صحت اور امن وامان اور دیگر شرائط کے اعتبار سے اس قابل ہو کہ خانہ کعبہ آسکے اس پر اس گھر کا حج لازم ہے،جس شخص نے باوجود استطاعت اس گھر کا حج نہ کیا تو ایسا کرنا حقیقتاً محرومی کا باعث ہے اور گویا کہ یہ اللہ تبارک و تعالی کی نعمت کی ناشکری ہے،حج اور دیگر عبادات بندوں ہی کےلیے باعث خیر ہیں اور بندے ہی کو اجر و ثواب دیا جاتا ہے، ورنہ اللہ تعالی کو بندوں کی عبادات کی قطعاً کوئی حاجت نہیں اور یہی اس آیت مبارکہ کے آخر میں فرمایا کہ "اللہ تبارک و تعالی تمام جہانوں سے بے پرواہ ہے۔"
🌫️ قیامت کے دن اہل ایمان کے چہرے روشن ہونگے اور اللہ اور اسکے رسول کے نافرمانوں کے چہرے کالے ہونگے،
پھر آگے امتِ مسلمہ کو بہترین امت قرار دے کر اسکی وجہ فضیلت بیان کی کہ تمہیں اس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے کہ نیکی کی دعوت دو اور برائی سے منع کرو۔
🔪 آیت نمبر 105 میں ہے کہ "جو لوگ امت مسلمہ میں اختلاف و انتشار پیدا کرنے کی کوشش کریں گے انکے لیے بہت بڑا عذاب ہوگا، روزِ قیامت انسانوں کے اعمال کا نتیجہ انکے چہروں پر ظاہر ہوگا، کالے کرتوتوں کی وجہ سے جن کے چہرے سیاہ ہونگے اللہ پاک ان پر نظر رحمت نہیں فرمائے گا اور نیک لوگوں کے چہرے روشن ہونگے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونگے۔"
🌼 آیت نمبر 110 ہمیں امتِ مسلمہ کے مقصد سے آگاہ کر رہی ہے امت مسلمہ کا دنیا میں کام یہی ہے کہ وہ نیکیوں کی دعوت دے برائیوں سے روکے اور اللہ پر پختہ ایمان رکھتے ہوئے ہر طرح کے شرک سے اجتناب کرے، اگر امت اپنا مقصد پورا نہیں کرتی تو پھر اندیشہ ہے کہ عذاب الہی سے دوچار ہوگی۔آیت کے آخر میں بتایا گیا کہ "یہ ذمےداری اس سے قبل اہل کتاب کی تھی یعنی نیکی کی دعوت دینا برائی سے منع کرنا، لیکن اکثریت نافرمان ہی رہی اور ذمہ داری سرانجام نہ دے سکی، اس موقع پر ہمیں بھی اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم نیکی کی دعوت دیتے ہیں برائی سے منع کرتے ہیں؟ یا ہمارے سامنے برائی ہورہی ہوتی ہے گناہ ہورہا ہوتا ہے لیکن ہم اسکو روکیں گے تو کیا بلکہ مزید اس کا حصہ بن جاتے ہیں، تو ہمیں چاہئے کہ ہم بھی نیکی کی دعوت دیں برائی سے منع کریں، ہر شخص پر اس کے منصب کے اعتبار سے نیکی کی دعوت دینا بہت ضروری ہے، اور آج کا زمانہ ویسے بھی ایسا ہے کہ نیکی کی دعوت دینے کی بہت زیادہ حاجت ہےتو جو برائی دیکھیں حسبِ حال اسکو روکنے کی کوشش کی جائے، اس مقصد کو اچھے انداز میں نبھانے کے لئے دعوت اسلامی کے ماحول سے وابستہ ہوجائیں، دعوت اسلامی عاشقان رسول کی واحد تحریک ہے جو اس وقت تک (1441) 104 سے زائد شعبوں میں نیکی کی دعوت کی دھومیں مچا رہی ہے۔
🔥 اگلی آگے آیات میں مسلمانوں کے ساتھ یہودیوں کی ہمیشہ کی دشمنی اور یہودیوں کے اندر مسلمانوں کے بغض کو بیان کیا ہے کہ اہل ایمان کو بھلائی نصیب ہوتو ان کے سینوں کی جلن بڑھ جاتی ہے، اور اگر اہل ایمان کو کوئی نقصان پہنچے تو خوشی میں وہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں، یہودی مسلمانوں کی خوشی نہیں دیکھ سکتے، مسلمانوں کو جب کوئی تکلیف پہنچے تو اس پر خوش ہوتے ہیں،لیکن اگر اہل ایمان حق پر استقامت کا مظاہرہ کرتے رہے اور اللہ پاک کی نافرمانی سے بچتے رہے تو اہل کتاب کی سازشیں مسلمانوں کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں۔
اس کے بعد منافقون کو اپنا رازدار بنانے، دلی دوستی کرنے سے منع کیا گیا۔
⛅ آیت نمبر 122 سے غزوہ بد
ر کا ذکر ہے جسے تمام اسلامی غزوات کا تاج ہونے کا شرف حاصل ہے، اس غزوے کے شرکا نے جہاں خود جرأت اور بہادری کی انوکھی مثالیں قائم کیں وہیں انہوں نے اللہ تعالی کی قدرت اور غیبی مدد کے مظاہر اپنی آنکھوں سے دیکھے، مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی، اسلحہ بھی نہ ہونے کے برابر تھا، ایسے نازک حالات میں پروردگار عزوجل نے تین ہزار فرشتے انکی مدد کے لیے اتارے اور نصرتِ غیبی سے انہیں نوازا اور یہ بھی فرما دیا کہ مجاہدین کی مدد کے لیے فرشتوں کا نزول بس مومنوں کے اطمینانِ قلب اور دلجمعی کے لیے تھا، ورنہ اصل مدد تو اللہ تبارک و تعالی خود ہی فرمانے والا ہے اس غزوہ سے دو بڑے سبق مسلمانوں کو حاصل ہوئے:
🔷 جنگ میں فتح صرف اسلحہ کی کثرت اور افرادی قوت کی بِنا پر حاصل نہیں ہوسکتی بلکہ اسکی بنیاد شرطِ ایمان اور یقین اور اتباع اور استقامت ہے۔
♦️ جب تک مسلمان حق پر ثابت قدم رہیں گے اور اللہ کی رسی مضبوطی سے پکڑے رہیں گے انہیں اللہ کی مدد حاصل ہوتی رہے گی اور ہمیشہ غالب رہیں گے۔
💳 آیت 130 میں ایک بار پھر سود کی ممانعت کا حکم نازل ہوا، آیت نمبر 130 میں بھی سود کی ممانعت کا حکم ہے کہ سود حرام قطعی ہے، اور حرام طریقے سے مال کو بڑھانا یہ سب ناجائز و حرام ہے، سودخوری سے بچنے کے حکم کے ساتھ ہی تقوی اختیار کرنے اور جہنم سے بچنے کی تلقین ہے، اور اللہ کی رحمت سے لطف اندوز ہونے کے لیے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کی تاکید کی گئی ہے، ظاہر ہے کہ نعمتیں اور رحمتیں اسی وقت ہی حاصل ہوسکیں گی کہ جب اللہ اور اسکے رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی جائے۔
پھر بتایا گیا کہ جنت کے مستحقین متقّی ہوتے ہیں جو ہر حال میں اللہ کے نام پر خرچ کرتے ہیں،غصہ پینے والے ہوتے ہیں ،لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں، یہ اللہ کے محبوب ہیں اور اپنے گناہوں پر اصرار کے بجائے ندامت کے ساتھ توبہ کرنے والے ہوتے ہیں۔
🏝️ آگے چل کر یہاں غزوہ احد کا ذکر ہے جو تقریباً 55 آیات میں مکمل ہوتا ہے،
ان آیات میں افرادی قوت یعنی بندوں یا لوگوں کے اعتبار سے فوجی طاقت یا قوت اور اسباب میں کمی کے سبب دل چھوٹا کرنے والے مجاہدین کو تسلی دی گئی کہ ثابت قدم رہو آخر کار تم ہی کامیاب ہوگے، اگر وقتی طور پر تمہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے تو اہل حق کے ساتھ ایسا ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے، مگر وقت ایک جیسا نہیں رہتا، مسلمانوں کو جب کسی مصیبت میں مبتلا کیا جاتا ہے تو یہ ان کی درجات کی بلندی کا سبب بنتا ہے اور جنت کے حصول کے لیے مسلمانوں کو مشکلات سے گزرنا پڑتا ہےاور یہ بھی بتایا گیا کہ موت سے ڈرنا اہل اسلام کا شیوہ نہیں ہے،غزوہ احد میں پیش آنے والے بعض مناظر کی قلبی تصویر کشی کرتے ہوئے کافروں پر مسلمانوں کا رعب ڈال کر اہل ایمان کو مستقبل میں کامیابی کی خوشخبری سنائی گئی، جن اہل ایمان سے میدان احد میں کسی قسم کی کمزوری کا مظاہرہ ہوا تھا انہیں معاف کرنے کا اعلان کردیا گیا اور جن منافقین نے جہاد پر اعتراضات کر کے مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی تھی ان کی سخت گرفت فرمائی گئی۔
آیت نمبر 139 میں بڑی اہم حقیقت کی طرف رہنمائی کی گئی ہے کہ غزوہ احد کی وقتی شکست سے مسلمان ہر گز دلبرداشتہ نہ ہوں، غلبہ مسلمانوں کا ہی ہوگا جبکہ حقیقی ایمان سے اپنا رشتہ مضبوط کرلیں، یعنی انکے اندر ایمان کی چاشنی بھری ہوئی ہو، اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کی اطاعت کرتے ہوں۔
🕕 اس کے بعد یہ حقیت واضح کی گئی کہ ہر انسان کی موت کا وقت اللہ کی طرف سے طے شدہ ہے، موت تو اپنے طے شدہ وقت ہی پر آئے گی البتہ دنیا میں انسان کے پاس دو راستے ہیں چاہے تو وہ دنیا کی عارضی اور کم تر لذتوں کا طلبگار رہے یا آخرت کی ابدی اور اعلی نعمتوں کو مقصود بنائے، جو جس کی آرزو کرے گا اسے اسی میں سے دے دیا جائے گا البتہ آخرت کی نعمتوں کے حصول کے لیے محنت کرنے والے اللہ کے شکرگزار بندے ہیں اور اللہ ضرور انہیں بہترین اجر عطا فرمائے گا۔
اسکے بعد ایک غزوے کا تذکرہ ہے جو غزوہ احد کے فوراً بعد پیش آیا، کفار نے دوبارہ حملہ آور ہونے کا فیصلہ کیا تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان مجاھدین سے جو زخموں سے چور تھے، تھکے ہوئے تھے حکم ارشاد فرمایا کہ وہ کافروں کا تعاقب کریں اور انکے تعاقب میں نکلیں تو کافروں نے فرار اختیار کرنے میں ہی عافیت جانی اور فرار ہوگئے اور مسلمانوں کو اس مقام پر لگنے والے تجارتی بازار میں خرید و فروخت سے اتنا منافع ہوا کہ احد کی پریشانی اور نقصان کا اس میں تدارک ہوگیا۔
اس نازک موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہنے والوں کے ایمان اور ثابت قدمی کی قرآن کریم نے تعریف کی ہے کہ ابھی ایک جنگ سے لوٹے ہیں اور ابھی تھکے ہوئے ہیں، زخموں سے چور چور ہیں لیکن اتباعِ رسول کی ایسی بہترین مثال قائم کی کہ جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ اعلان فرمایا کہ ابھی ہم نے دوبارہ کافروں کا تعاقب کرنا ہے اور ایک اور غزوہ کی طرف روا
🔷 جنگ میں فتح صرف اسلحہ کی کثرت اور افرادی قوت کی بِنا پر حاصل نہیں ہوسکتی بلکہ اسکی بنیاد شرطِ ایمان اور یقین اور اتباع اور استقامت ہے۔
♦️ جب تک مسلمان حق پر ثابت قدم رہیں گے اور اللہ کی رسی مضبوطی سے پکڑے رہیں گے انہیں اللہ کی مدد حاصل ہوتی رہے گی اور ہمیشہ غالب رہیں گے۔
💳 آیت 130 میں ایک بار پھر سود کی ممانعت کا حکم نازل ہوا، آیت نمبر 130 میں بھی سود کی ممانعت کا حکم ہے کہ سود حرام قطعی ہے، اور حرام طریقے سے مال کو بڑھانا یہ سب ناجائز و حرام ہے، سودخوری سے بچنے کے حکم کے ساتھ ہی تقوی اختیار کرنے اور جہنم سے بچنے کی تلقین ہے، اور اللہ کی رحمت سے لطف اندوز ہونے کے لیے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کی تاکید کی گئی ہے، ظاہر ہے کہ نعمتیں اور رحمتیں اسی وقت ہی حاصل ہوسکیں گی کہ جب اللہ اور اسکے رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی جائے۔
پھر بتایا گیا کہ جنت کے مستحقین متقّی ہوتے ہیں جو ہر حال میں اللہ کے نام پر خرچ کرتے ہیں،غصہ پینے والے ہوتے ہیں ،لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں، یہ اللہ کے محبوب ہیں اور اپنے گناہوں پر اصرار کے بجائے ندامت کے ساتھ توبہ کرنے والے ہوتے ہیں۔
🏝️ آگے چل کر یہاں غزوہ احد کا ذکر ہے جو تقریباً 55 آیات میں مکمل ہوتا ہے،
ان آیات میں افرادی قوت یعنی بندوں یا لوگوں کے اعتبار سے فوجی طاقت یا قوت اور اسباب میں کمی کے سبب دل چھوٹا کرنے والے مجاہدین کو تسلی دی گئی کہ ثابت قدم رہو آخر کار تم ہی کامیاب ہوگے، اگر وقتی طور پر تمہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے تو اہل حق کے ساتھ ایسا ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے، مگر وقت ایک جیسا نہیں رہتا، مسلمانوں کو جب کسی مصیبت میں مبتلا کیا جاتا ہے تو یہ ان کی درجات کی بلندی کا سبب بنتا ہے اور جنت کے حصول کے لیے مسلمانوں کو مشکلات سے گزرنا پڑتا ہےاور یہ بھی بتایا گیا کہ موت سے ڈرنا اہل اسلام کا شیوہ نہیں ہے،غزوہ احد میں پیش آنے والے بعض مناظر کی قلبی تصویر کشی کرتے ہوئے کافروں پر مسلمانوں کا رعب ڈال کر اہل ایمان کو مستقبل میں کامیابی کی خوشخبری سنائی گئی، جن اہل ایمان سے میدان احد میں کسی قسم کی کمزوری کا مظاہرہ ہوا تھا انہیں معاف کرنے کا اعلان کردیا گیا اور جن منافقین نے جہاد پر اعتراضات کر کے مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی تھی ان کی سخت گرفت فرمائی گئی۔
آیت نمبر 139 میں بڑی اہم حقیقت کی طرف رہنمائی کی گئی ہے کہ غزوہ احد کی وقتی شکست سے مسلمان ہر گز دلبرداشتہ نہ ہوں، غلبہ مسلمانوں کا ہی ہوگا جبکہ حقیقی ایمان سے اپنا رشتہ مضبوط کرلیں، یعنی انکے اندر ایمان کی چاشنی بھری ہوئی ہو، اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کی اطاعت کرتے ہوں۔
🕕 اس کے بعد یہ حقیت واضح کی گئی کہ ہر انسان کی موت کا وقت اللہ کی طرف سے طے شدہ ہے، موت تو اپنے طے شدہ وقت ہی پر آئے گی البتہ دنیا میں انسان کے پاس دو راستے ہیں چاہے تو وہ دنیا کی عارضی اور کم تر لذتوں کا طلبگار رہے یا آخرت کی ابدی اور اعلی نعمتوں کو مقصود بنائے، جو جس کی آرزو کرے گا اسے اسی میں سے دے دیا جائے گا البتہ آخرت کی نعمتوں کے حصول کے لیے محنت کرنے والے اللہ کے شکرگزار بندے ہیں اور اللہ ضرور انہیں بہترین اجر عطا فرمائے گا۔
اسکے بعد ایک غزوے کا تذکرہ ہے جو غزوہ احد کے فوراً بعد پیش آیا، کفار نے دوبارہ حملہ آور ہونے کا فیصلہ کیا تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان مجاھدین سے جو زخموں سے چور تھے، تھکے ہوئے تھے حکم ارشاد فرمایا کہ وہ کافروں کا تعاقب کریں اور انکے تعاقب میں نکلیں تو کافروں نے فرار اختیار کرنے میں ہی عافیت جانی اور فرار ہوگئے اور مسلمانوں کو اس مقام پر لگنے والے تجارتی بازار میں خرید و فروخت سے اتنا منافع ہوا کہ احد کی پریشانی اور نقصان کا اس میں تدارک ہوگیا۔
اس نازک موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہنے والوں کے ایمان اور ثابت قدمی کی قرآن کریم نے تعریف کی ہے کہ ابھی ایک جنگ سے لوٹے ہیں اور ابھی تھکے ہوئے ہیں، زخموں سے چور چور ہیں لیکن اتباعِ رسول کی ایسی بہترین مثال قائم کی کہ جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ اعلان فرمایا کہ ابھی ہم نے دوبارہ کافروں کا تعاقب کرنا ہے اور ایک اور غزوہ کی طرف روا
نہ ہونا ہے تو صحابہ کرام علیہم الرضوان نے لبیک کہتے ہوئے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ چلنےکا ارادہ کرلیا اور اس غزوہ کی طرف روانہ ہوگئے تو اس چیز کی اللہ تبارک و تعالی نے تعریف فرمائی اور کافروں کی طاقت اور اسلحہ سے خوفزدہ ہونے والوں کو شیطان اور اسکے حمایتی قرار دیا کہ جو کافروں کی طاقت اور اسلحہ سے خوفزدہ ہوگئے تو گویا وہ شیطان اور اسکے حمایتی ہیں۔کافروں کی کامیابیوں سے متأثر ہونے والوں کو بتایا گیا کہ یہ اللہ کی طرف سے مہلت ہے ،ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار ہے۔
🌈 اہلِ عقل اور سمجھدار لوگوں کو اللہ تعالی کی مخلوقات، آسمان اور زمین اور دن رات میں غور و فکر کی دعوت دی گئی، اور اللہ کے نیک بندوں کی پانچ دعاؤں کا تذکرہ موجود ہے جنہیں شرفِ قبولیت حاصل ہے۔
🌹 مرد اور عورت کی تخلیق اور ان کی ذمےداریوں میں اختلاف کے باوجود انہیں اجر و ثواب میں برابری اور مساوات کی خوشخبری سنائی گئی کہ اگرچہ مرد اور عورت کے اندر تخلیق کے اعتبار سے، زمےداریوں کے اعتبار سے فرق ہے لیکن اجر و ثواب کے اعتبار سے کئی معاملات میں برابری ہے، انہیں خوشخبری سنائی گئی اور بتایا ہے کہ ہجرت اور جہاد جیسے عظیم الشان اعمال جو بھی کرے گا اس کے لیے گناہوں کی معافی ہے اللہ کے یہاں بہترین اجر و ثواب اور جنت کا وعدہ ہے۔
💶 پھر آگے بتایا گیا کہ کافروں کے پاس مالی وسائل کی فراوانی اور عیش و عشرت کو دیکھ کر دھوکے میں نہیں پڑ جانا یہ عارضی و معمولی فوائد ہیں،جیسے ہمارے یہاں بھی کسی کی نعمت کو دیکھ کر دل میں حسرت ہونے لگتی ہے کہ اسکے پاس بہت کچھ ہے میرے پاس کچھ بھی نہیں یہ عارضی و معمولی فوائد ہیں، آخرت میں انکا بدترین ٹھکانہ جہنم ہے،اگر کافروں کے مال کو دیکھا جائے تو اس اعتبار سے انکا ٹھکانہ جہنم ہےاور متقیوں کے لیے نہریں ہیں ،باغات ہیں اور اللہ کی یہاں ان کے لیے بہترین مہمانی ہے۔
⚖️ اہل کتاب میں بعض انصاف پسند بھی ہیں جو قرآن اور نبی علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے کی نعمت سے سرفراز ہیں انکا تذکرہ موجود ہے۔
اسکے بعد سورہ کی آخری آیات میں اہل ایمان کی اخروی فلاح یعنی کامیابی و ترقی کے حصول کے لیے چار ہدایات دی گئی:
🔨 اللہ کی راہ میں استقامت کے ساتھ قائم رہو،
📌 صبر و استقامت میں کفار سے بازی لے جاؤ
⛓️ آپس میں مربوط رہو اور نظم وضبط کی پابندی کرتے رہو،
⭕ اللہ کی نافرمانی کے ہر عمل سے بچو۔
یہاں پر سورہ آل عمران ختم ہوتی ہے اسکے بعد سورہ نساء کا بیان شروع ہوتا ہے۔
-------------------
🌹 *سورہ نساء*
📝 *تعارف*
سورۂ نساء مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔اس میں 24رکوع اور 176 آیتیں ہیں۔
🔍 *وجہ*
عربی میں عورتوں کو’’نساء‘‘ کہتے ہیں اوراس سورت میں بہ کثرت وہ احکام بیان کئے گئے ہیں جن کا تعلق عورتوں کے ساتھ ہے ا س لئے اسے ’’ سورۂ نساء‘‘ کہتے ہیں۔
یہ سورة بڑی اہم اور بڑی دور اندیش اصطلاحات پر مشتمل ہے جنہیں اگر دینِ اسلام کا طرہ امتیاز کہا جائے تو قطعاً یہ مبالغہ نہیں ہے۔
اس سورة میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ توجہ گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے پر دی گئی ہے۔
📊 معاشرتی اور قومی مسائل کے ساتھ ساتھ جو تشریعی مسائل ہیں ،ہجرت اور جہاد پر کافی کلام ہے، غیر مسلم قوموں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کا بیان ہے، میراث کے تفصیلی احکام ہیں، عقائد پر گفتگو کی گئی ہے، منافقین کا تذکرہ ہے اور یہود اور نصاری کے مکر و فریب کا بیان ہے۔
📜 تقوی اختیار کرنے کی تلقین کے ساتھ سورت کی ابتداء کی گئی ہے اور اللہ تعالی کی قدرت کا بیان ہے پھر یتیموں کی کفالت اور ان کے اعمال کی دیانت داری کے ساتھ حفاظت کا حکم دیا گیا ہے، چار تک بیویاں رکھنے کی اجازت اور ان میں عدل و انصاف قائم رکھنے کا بیان ہے ،مہر کی ادائیگی دل کی تنگی کے ساتھ نہ ہو، خواتین چاہیں تو اپنا مہر معاف بھی کرسکتی ہیں، معاشرے میں ناسمجھ افراد کی نگہداشت کس طرح کی جائے اور ان کی مالی سرپرستی کس طرح کی جائے، اسکا حکم دیا گیا ہے۔
💰 پھر وراثت کے موضوع پر تفصیلی گفتگو ہے اور تمام وارثین کے حصوں کو تقریباً متعین کر کے بتایا گیا ہے کہ وارثوں کے استحقاق کو اللہ تعالی تم سے بہتر جانتاہے، وراثت کی تقسیم سے پہلے میت کے قرض کی ادائیگی اور وصیت پر عمل درآمد کی تلقین ہے۔ مذکورہ آیات میں احکاماتِ خداوندی کو حدود اللہ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ جو ان حدود کی پاسداری کرے گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کی جنت کا حقدار ہوگا اور اس کے برعکس جو ان حدود کو توڑے گا تو جہنم کے ذلت آمیز عذاب سے دوچار ہوگا۔
🤲🏻 آیت نمبر 16 اور 17
میں اللہ تعالی نے قبولیتِ توبہ کا اصول بیان فرمایا ہے کہ جن لوگوں سے گناہ سرزد ہوجائے اور وہ غلطی کا احساس ہونے پر جلدی توبہ کرلیں تو انکی توبہ کی قبولیت اللہ تعالی کے ذمہ کرم پر ہے،
سچی توبہ کی شرائط یہ ہیں
❗گناہ پر ندامت
❗ گناہ کو عملاً ترک کردے
❗آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کیا جائے۔
کسی بندے کے ساتھ اگر زی
🌈 اہلِ عقل اور سمجھدار لوگوں کو اللہ تعالی کی مخلوقات، آسمان اور زمین اور دن رات میں غور و فکر کی دعوت دی گئی، اور اللہ کے نیک بندوں کی پانچ دعاؤں کا تذکرہ موجود ہے جنہیں شرفِ قبولیت حاصل ہے۔
🌹 مرد اور عورت کی تخلیق اور ان کی ذمےداریوں میں اختلاف کے باوجود انہیں اجر و ثواب میں برابری اور مساوات کی خوشخبری سنائی گئی کہ اگرچہ مرد اور عورت کے اندر تخلیق کے اعتبار سے، زمےداریوں کے اعتبار سے فرق ہے لیکن اجر و ثواب کے اعتبار سے کئی معاملات میں برابری ہے، انہیں خوشخبری سنائی گئی اور بتایا ہے کہ ہجرت اور جہاد جیسے عظیم الشان اعمال جو بھی کرے گا اس کے لیے گناہوں کی معافی ہے اللہ کے یہاں بہترین اجر و ثواب اور جنت کا وعدہ ہے۔
💶 پھر آگے بتایا گیا کہ کافروں کے پاس مالی وسائل کی فراوانی اور عیش و عشرت کو دیکھ کر دھوکے میں نہیں پڑ جانا یہ عارضی و معمولی فوائد ہیں،جیسے ہمارے یہاں بھی کسی کی نعمت کو دیکھ کر دل میں حسرت ہونے لگتی ہے کہ اسکے پاس بہت کچھ ہے میرے پاس کچھ بھی نہیں یہ عارضی و معمولی فوائد ہیں، آخرت میں انکا بدترین ٹھکانہ جہنم ہے،اگر کافروں کے مال کو دیکھا جائے تو اس اعتبار سے انکا ٹھکانہ جہنم ہےاور متقیوں کے لیے نہریں ہیں ،باغات ہیں اور اللہ کی یہاں ان کے لیے بہترین مہمانی ہے۔
⚖️ اہل کتاب میں بعض انصاف پسند بھی ہیں جو قرآن اور نبی علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے کی نعمت سے سرفراز ہیں انکا تذکرہ موجود ہے۔
اسکے بعد سورہ کی آخری آیات میں اہل ایمان کی اخروی فلاح یعنی کامیابی و ترقی کے حصول کے لیے چار ہدایات دی گئی:
🔨 اللہ کی راہ میں استقامت کے ساتھ قائم رہو،
📌 صبر و استقامت میں کفار سے بازی لے جاؤ
⛓️ آپس میں مربوط رہو اور نظم وضبط کی پابندی کرتے رہو،
⭕ اللہ کی نافرمانی کے ہر عمل سے بچو۔
یہاں پر سورہ آل عمران ختم ہوتی ہے اسکے بعد سورہ نساء کا بیان شروع ہوتا ہے۔
-------------------
🌹 *سورہ نساء*
📝 *تعارف*
سورۂ نساء مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔اس میں 24رکوع اور 176 آیتیں ہیں۔
🔍 *وجہ*
عربی میں عورتوں کو’’نساء‘‘ کہتے ہیں اوراس سورت میں بہ کثرت وہ احکام بیان کئے گئے ہیں جن کا تعلق عورتوں کے ساتھ ہے ا س لئے اسے ’’ سورۂ نساء‘‘ کہتے ہیں۔
یہ سورة بڑی اہم اور بڑی دور اندیش اصطلاحات پر مشتمل ہے جنہیں اگر دینِ اسلام کا طرہ امتیاز کہا جائے تو قطعاً یہ مبالغہ نہیں ہے۔
اس سورة میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ توجہ گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے پر دی گئی ہے۔
📊 معاشرتی اور قومی مسائل کے ساتھ ساتھ جو تشریعی مسائل ہیں ،ہجرت اور جہاد پر کافی کلام ہے، غیر مسلم قوموں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کا بیان ہے، میراث کے تفصیلی احکام ہیں، عقائد پر گفتگو کی گئی ہے، منافقین کا تذکرہ ہے اور یہود اور نصاری کے مکر و فریب کا بیان ہے۔
📜 تقوی اختیار کرنے کی تلقین کے ساتھ سورت کی ابتداء کی گئی ہے اور اللہ تعالی کی قدرت کا بیان ہے پھر یتیموں کی کفالت اور ان کے اعمال کی دیانت داری کے ساتھ حفاظت کا حکم دیا گیا ہے، چار تک بیویاں رکھنے کی اجازت اور ان میں عدل و انصاف قائم رکھنے کا بیان ہے ،مہر کی ادائیگی دل کی تنگی کے ساتھ نہ ہو، خواتین چاہیں تو اپنا مہر معاف بھی کرسکتی ہیں، معاشرے میں ناسمجھ افراد کی نگہداشت کس طرح کی جائے اور ان کی مالی سرپرستی کس طرح کی جائے، اسکا حکم دیا گیا ہے۔
💰 پھر وراثت کے موضوع پر تفصیلی گفتگو ہے اور تمام وارثین کے حصوں کو تقریباً متعین کر کے بتایا گیا ہے کہ وارثوں کے استحقاق کو اللہ تعالی تم سے بہتر جانتاہے، وراثت کی تقسیم سے پہلے میت کے قرض کی ادائیگی اور وصیت پر عمل درآمد کی تلقین ہے۔ مذکورہ آیات میں احکاماتِ خداوندی کو حدود اللہ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ جو ان حدود کی پاسداری کرے گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کی جنت کا حقدار ہوگا اور اس کے برعکس جو ان حدود کو توڑے گا تو جہنم کے ذلت آمیز عذاب سے دوچار ہوگا۔
🤲🏻 آیت نمبر 16 اور 17
میں اللہ تعالی نے قبولیتِ توبہ کا اصول بیان فرمایا ہے کہ جن لوگوں سے گناہ سرزد ہوجائے اور وہ غلطی کا احساس ہونے پر جلدی توبہ کرلیں تو انکی توبہ کی قبولیت اللہ تعالی کے ذمہ کرم پر ہے،
سچی توبہ کی شرائط یہ ہیں
❗گناہ پر ندامت
❗ گناہ کو عملاً ترک کردے
❗آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کیا جائے۔
کسی بندے کے ساتھ اگر زی
👍1
ادتی کی ہے اس کا مال وغیرہ لیا ہوا ہے تو وہ ادائیگی کرنی ہوگی ، جس میں تلافی ہے اس میں تلافی کرنی ہوتی ہے اور جو عبادات وغیرہ ہیں انکی قضا کرنی ہوگی، تب جا کر توبہ تام ہوگی
❎ آیت نمبر 22 میں فرمایا کہ سوتیلی ماں سے نکاح مت کرو یہ بڑی بےحیائی اور اللہ کو ناراض کرنے والا عمل ہے۔
❌پھر چوتھے پارے کی آخری آیت میں 12 ایسی خواتین کا ذکر ہے جو ابدی طور پر محرم ہیں یعنی کسی صورت میں ان سے نکاح نہیں ہوسکتا اور 2 ایسی عورتوں کا ذکر ہے جو عارضی طور پر محرم ہے یعنی ایک وقت تک تو ان سے نکاح نہیں ہوسکتا اگر وہ معاملہ ختم ہوجائے تو ان سے نکاح ہوسکتا ہے۔
💯❌ جو ابدی محرم ہیں جن سے کبھی بھی نکاح نہیں ہوسکتا ان میں ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی، رضاعی ماں، رضاعی بہن ، ساس، سوتیلی بیٹی(سوتیلی بیٹی اس وقت کہ اس کی والدہ سے تعلق قائم کیا جا چکا ہو) اور بہو ان سب عورتوں سے نکاح ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے
❎ دو عارضی محرم
پہلی تو بیوی کی بہن، ( دو بہنوں کو ایک وقت میں جمع نہیں کیا جا سکتا یہ حرام ہے)، ہاں اگر پہلی کو طلاق دے دی تو عدت کے بعد یا اس کا انتقال ہوگیا تو اب اس کی بہن سے نکاح ہو سکتا ہے، اسلئے یہاں پر اس کو عارضی محرم قرار دیا کہ جب تک اس کی بہن نکاح میں ہے اس وقت تک اس کو اپنے نکاح میں نہیں لاسکتا،
🖋️ اس کی تفصیل احادیث مبارکہ میں موجود ہے کہ بیوی کی بہن کے علاوہ بیوی کی پھوپھی، بھتیجی ،خالہ اور بھانجی کو بھی اس کے ساتھ نکاح میں جمع نہیں کیا جاسکتا اور ایک اصول قائم کردیا گیا کہ دو ایسی عورتیں کہ جن میں سے ایک کو مرد تصور کیا جائے تو دوسری اس پر حرام ہو، ایسی دو عورتوں کو نکاح میں جمع نہیں کیا جاسکتا۔
📲 *+92-321-2094919*
❎ آیت نمبر 22 میں فرمایا کہ سوتیلی ماں سے نکاح مت کرو یہ بڑی بےحیائی اور اللہ کو ناراض کرنے والا عمل ہے۔
❌پھر چوتھے پارے کی آخری آیت میں 12 ایسی خواتین کا ذکر ہے جو ابدی طور پر محرم ہیں یعنی کسی صورت میں ان سے نکاح نہیں ہوسکتا اور 2 ایسی عورتوں کا ذکر ہے جو عارضی طور پر محرم ہے یعنی ایک وقت تک تو ان سے نکاح نہیں ہوسکتا اگر وہ معاملہ ختم ہوجائے تو ان سے نکاح ہوسکتا ہے۔
💯❌ جو ابدی محرم ہیں جن سے کبھی بھی نکاح نہیں ہوسکتا ان میں ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی، رضاعی ماں، رضاعی بہن ، ساس، سوتیلی بیٹی(سوتیلی بیٹی اس وقت کہ اس کی والدہ سے تعلق قائم کیا جا چکا ہو) اور بہو ان سب عورتوں سے نکاح ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے
❎ دو عارضی محرم
پہلی تو بیوی کی بہن، ( دو بہنوں کو ایک وقت میں جمع نہیں کیا جا سکتا یہ حرام ہے)، ہاں اگر پہلی کو طلاق دے دی تو عدت کے بعد یا اس کا انتقال ہوگیا تو اب اس کی بہن سے نکاح ہو سکتا ہے، اسلئے یہاں پر اس کو عارضی محرم قرار دیا کہ جب تک اس کی بہن نکاح میں ہے اس وقت تک اس کو اپنے نکاح میں نہیں لاسکتا،
🖋️ اس کی تفصیل احادیث مبارکہ میں موجود ہے کہ بیوی کی بہن کے علاوہ بیوی کی پھوپھی، بھتیجی ،خالہ اور بھانجی کو بھی اس کے ساتھ نکاح میں جمع نہیں کیا جاسکتا اور ایک اصول قائم کردیا گیا کہ دو ایسی عورتیں کہ جن میں سے ایک کو مرد تصور کیا جائے تو دوسری اس پر حرام ہو، ایسی دو عورتوں کو نکاح میں جمع نہیں کیا جاسکتا۔
📲 *+92-321-2094919*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌼 *فیضان خلاصہ تراویح*🌼
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
🌐 *پانچواں پارہ،والمحصنت*
اس پارے میں بڑے اہم اور دلچسپ مضامین موجود ہیں۔
📢 ان عورتوں کا بیان جاری ہے جن سے نکاح حرام ہے، یہاں بتایا جا رہا ہے کہ وہ عورت جس کا شوہر ہو وہ دوسرے مرد پر اس وقت تک حرام ہے جب تک پہلے کے نکاح یا اس کی عدت میں ہو،
پھر اصول دے دیا گیا کہ جن عورتوں سے نکاح حرام ہے ان کے علاوہ تمام عورتوں سے نکاح حلال ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ مزید کچھ عورتیں ایسی ہیں کہ جن کا ذکر مذکورہ بالا آیات میں اگرچہ نہیں مگر ان سے نکاح حرام ہے جیسے چار عورتوں کے نکاح میں ہوتے ہوئے پانچویں سے نکاح، مُشرکہ عورت سے نکاح، تین طلاقیں دینے کے بعد حلالہ سے پہلے اسی عورت سے دوبارہ نکاح، اسی طرح پھوپھی بھتیجی، خالہ بھانجی کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا یونہی طلاق یا وفات کی عدت میں نکاح کرنا حرام ہے البتہ ان سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام نہیں ، نکاح میں جو رکاوٹ ہے وہ ختم ہونے کے بعد ان سے نکاح ہو سکتا ہے۔
عورت سے نکاح مہر کے بدلے کیا جائے اور اس نکاح سے مقصود محض لذت نفس اور شہوت پورا کرنا نہ ہو بلکہ اولاد کا حصول، نسل کی بقا اور اپنے نفس کو حرام سے بچانا مقصود ہو۔ یہاں زانی کو تنبیہ کی جا رہی ہے کیونکہ اس کے پیشِ نظر یہ باتیں نہیں ہوتیں بلکہ اس کا مقصود صرف نفسانی خواہش کی تکمیل ہوتا ہے
🌧️ آیت نمبر 26 سے اللہ تعالی کی رحمت کے دو مظاہر کو بیان کیا گیا ہے
⭐ اس نے ایسی شریعت عطا فرمائی جس پر عمل سے معاشرے کے ہر فرد کے مال جان اور آبرو کو تحفظ ملتا ہے۔
🌐 اللہ تعالی نے ماضی کے واقعات کے بیان سے انسان کو درمیان کی راہ پر چلنے کی ترغیب ارشاد فرمائی ہے اور اسکے اچھے انجام سے آگاہ فرمایا ہے کہ اگر وہ درمیانی اعتدال کی راہ پر چلے گا تو اسے کیا کیا انعام دیے جائے گے۔
💰 آیت نمبر 29 میں بتایا ہے کہ "باطل طریقوں سے ایک دوسرے کا مال کھانا حرام ہےاور باہمی رضامندی سے تجارت جائز ہےاور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی جائز ہے،اسی طرح تحفہ اور وراثت کے ذریعے جو مال ملے وہ بھی جائز ہے مگر جوا، غصب، چوری، ڈاکہ، خیانت، رشوت، جھوٹی قسم کھا کر اور جھوٹی گواہی کے ذریعے دوسروں کا مال حاصل کرنا حرام ہے، اور جو شخص ظلماً دوسروں کا مال کھائے گا وہ جہنم کا ایندھن بنے گا۔
📿 آیت نمبر 31 میں بتایا گیا کہ "انسان اگر بڑے بڑے گناہوں سے بچے گا تو اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے گناہ خود ہی معاف فرما دے گا اور بڑے عزت والے مقام میں داخل فرمائے گا۔
💥 اگلی آیت میں حسد کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ "اللہ تعالی نے اپنی حکمت سے کسی کو مال عزت یا مرتبے میں فضیلت دے رکھی ہے تو اسکے زائل ہونے کی تمنا نہ کرو کہ یہ حسد ہے اور حسد حرام ہے، کسی کے ساتھ حسد کرنے سے بہتر ہے کہ اللہ سے اس کا فضل مانگا جائے اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے وہ عطا فرمانے والا ہے۔
🖼️ آگے مردوں کو عورتوں پر فضیلت دینے کا بیان ہے، ارشاد فرمایا:
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ
مرد عورتوں پرنگہبان ہیں اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس وجہ سے کہ مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔
نیک بیویاں اپنے شوہروں کی تابعدار ہوتی ہیں اور اللہ کی حفاظت کے سہارے شوہر کے مال، اولاد، بستر، راز، عزت و آبرو کی حفاظت کرتی ہیں۔
اگلی آیات میں گھریلو نظام کو چلانے کے بہترین اصول بیان کئے گئے اور نافرمان عورت کی اصلاح کا بیان کیا ہے،
🌹 اسے پیار محبت سے سمجھایا جائے
🛏️ نہ سمجھے تو عارضی طور پر بستر کو علیحدہ کردیا جائے۔
🏸 پھر ادب سکھانے کے لیے ہلکی پھلکی اسکو مار ماری جائے، اور یہاں مار سے مراد ہاتھ یا مسواک جیسی چیز سے چہرے اور نازک اعضاء کے علاوہ دیگر بدن پر ایک دو ضربیں لگا دے۔ وہ مار مراد نہیں جو ہمارے ہاں جاہلوں میں رائج ہے کہ چہرے اور سارے بدن پر مارتے ہیں ، مُکّوں ، گھونسوں اور لاتوں سے پیٹتے ہیں ، ڈنڈا یا جو کچھ ہاتھ میں آئے اس سے مارتے اور لہو لہان کردیتے ہیں یہ سب حرام و ناجائز ، گناہ کبیرہ اور پرلے درجے کی جہالت ہے۔
📈 اگر ان مرحلوں سے ان کے معاملات بہتر ہوجاتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے اور اگر نہیں ہوتے تو پھر زوجین کے درمیان جو تنازعہ ہے اسکو دور کرنے کے لیے قرآن کریم نے ایک باہمی صلح کا جو طریقہ بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ شوہر اور بیوی، دونوں کے خاندانوں سے ایک ایک حَکَم جس کو مُنصِف کہتے ہیں یہ مل بیٹھیں اور اگر وہ اصلاح پسند ہونگے تو اللہ تعالی زوجین کے درمیان اتفاق پیدا فرما دے گا،
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے ازدواجی زندگی کو خوشگوار رکھنے اور اچھا رکھنے کو بڑی اہمیت دی ہے۔
❌ آیت نمبر 44 سے شراب کی حرمت کے حوالے سے ذہن سازی کرتے ہوئے فرمایا کہ نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جانا
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
🌐 *پانچواں پارہ،والمحصنت*
اس پارے میں بڑے اہم اور دلچسپ مضامین موجود ہیں۔
📢 ان عورتوں کا بیان جاری ہے جن سے نکاح حرام ہے، یہاں بتایا جا رہا ہے کہ وہ عورت جس کا شوہر ہو وہ دوسرے مرد پر اس وقت تک حرام ہے جب تک پہلے کے نکاح یا اس کی عدت میں ہو،
پھر اصول دے دیا گیا کہ جن عورتوں سے نکاح حرام ہے ان کے علاوہ تمام عورتوں سے نکاح حلال ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ مزید کچھ عورتیں ایسی ہیں کہ جن کا ذکر مذکورہ بالا آیات میں اگرچہ نہیں مگر ان سے نکاح حرام ہے جیسے چار عورتوں کے نکاح میں ہوتے ہوئے پانچویں سے نکاح، مُشرکہ عورت سے نکاح، تین طلاقیں دینے کے بعد حلالہ سے پہلے اسی عورت سے دوبارہ نکاح، اسی طرح پھوپھی بھتیجی، خالہ بھانجی کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا یونہی طلاق یا وفات کی عدت میں نکاح کرنا حرام ہے البتہ ان سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام نہیں ، نکاح میں جو رکاوٹ ہے وہ ختم ہونے کے بعد ان سے نکاح ہو سکتا ہے۔
عورت سے نکاح مہر کے بدلے کیا جائے اور اس نکاح سے مقصود محض لذت نفس اور شہوت پورا کرنا نہ ہو بلکہ اولاد کا حصول، نسل کی بقا اور اپنے نفس کو حرام سے بچانا مقصود ہو۔ یہاں زانی کو تنبیہ کی جا رہی ہے کیونکہ اس کے پیشِ نظر یہ باتیں نہیں ہوتیں بلکہ اس کا مقصود صرف نفسانی خواہش کی تکمیل ہوتا ہے
🌧️ آیت نمبر 26 سے اللہ تعالی کی رحمت کے دو مظاہر کو بیان کیا گیا ہے
⭐ اس نے ایسی شریعت عطا فرمائی جس پر عمل سے معاشرے کے ہر فرد کے مال جان اور آبرو کو تحفظ ملتا ہے۔
🌐 اللہ تعالی نے ماضی کے واقعات کے بیان سے انسان کو درمیان کی راہ پر چلنے کی ترغیب ارشاد فرمائی ہے اور اسکے اچھے انجام سے آگاہ فرمایا ہے کہ اگر وہ درمیانی اعتدال کی راہ پر چلے گا تو اسے کیا کیا انعام دیے جائے گے۔
💰 آیت نمبر 29 میں بتایا ہے کہ "باطل طریقوں سے ایک دوسرے کا مال کھانا حرام ہےاور باہمی رضامندی سے تجارت جائز ہےاور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی جائز ہے،اسی طرح تحفہ اور وراثت کے ذریعے جو مال ملے وہ بھی جائز ہے مگر جوا، غصب، چوری، ڈاکہ، خیانت، رشوت، جھوٹی قسم کھا کر اور جھوٹی گواہی کے ذریعے دوسروں کا مال حاصل کرنا حرام ہے، اور جو شخص ظلماً دوسروں کا مال کھائے گا وہ جہنم کا ایندھن بنے گا۔
📿 آیت نمبر 31 میں بتایا گیا کہ "انسان اگر بڑے بڑے گناہوں سے بچے گا تو اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے گناہ خود ہی معاف فرما دے گا اور بڑے عزت والے مقام میں داخل فرمائے گا۔
💥 اگلی آیت میں حسد کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ "اللہ تعالی نے اپنی حکمت سے کسی کو مال عزت یا مرتبے میں فضیلت دے رکھی ہے تو اسکے زائل ہونے کی تمنا نہ کرو کہ یہ حسد ہے اور حسد حرام ہے، کسی کے ساتھ حسد کرنے سے بہتر ہے کہ اللہ سے اس کا فضل مانگا جائے اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے وہ عطا فرمانے والا ہے۔
🖼️ آگے مردوں کو عورتوں پر فضیلت دینے کا بیان ہے، ارشاد فرمایا:
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ
مرد عورتوں پرنگہبان ہیں اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس وجہ سے کہ مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔
نیک بیویاں اپنے شوہروں کی تابعدار ہوتی ہیں اور اللہ کی حفاظت کے سہارے شوہر کے مال، اولاد، بستر، راز، عزت و آبرو کی حفاظت کرتی ہیں۔
اگلی آیات میں گھریلو نظام کو چلانے کے بہترین اصول بیان کئے گئے اور نافرمان عورت کی اصلاح کا بیان کیا ہے،
🌹 اسے پیار محبت سے سمجھایا جائے
🛏️ نہ سمجھے تو عارضی طور پر بستر کو علیحدہ کردیا جائے۔
🏸 پھر ادب سکھانے کے لیے ہلکی پھلکی اسکو مار ماری جائے، اور یہاں مار سے مراد ہاتھ یا مسواک جیسی چیز سے چہرے اور نازک اعضاء کے علاوہ دیگر بدن پر ایک دو ضربیں لگا دے۔ وہ مار مراد نہیں جو ہمارے ہاں جاہلوں میں رائج ہے کہ چہرے اور سارے بدن پر مارتے ہیں ، مُکّوں ، گھونسوں اور لاتوں سے پیٹتے ہیں ، ڈنڈا یا جو کچھ ہاتھ میں آئے اس سے مارتے اور لہو لہان کردیتے ہیں یہ سب حرام و ناجائز ، گناہ کبیرہ اور پرلے درجے کی جہالت ہے۔
📈 اگر ان مرحلوں سے ان کے معاملات بہتر ہوجاتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے اور اگر نہیں ہوتے تو پھر زوجین کے درمیان جو تنازعہ ہے اسکو دور کرنے کے لیے قرآن کریم نے ایک باہمی صلح کا جو طریقہ بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ شوہر اور بیوی، دونوں کے خاندانوں سے ایک ایک حَکَم جس کو مُنصِف کہتے ہیں یہ مل بیٹھیں اور اگر وہ اصلاح پسند ہونگے تو اللہ تعالی زوجین کے درمیان اتفاق پیدا فرما دے گا،
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے ازدواجی زندگی کو خوشگوار رکھنے اور اچھا رکھنے کو بڑی اہمیت دی ہے۔
❌ آیت نمبر 44 سے شراب کی حرمت کے حوالے سے ذہن سازی کرتے ہوئے فرمایا کہ نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جانا
، اب اس آیت کے اندر نماز سے پہلے شراب کی حرمت بیان کی گئی ہے آگے اس کو مکمل طور پر حرام کرنے کا حکم بیان کیا جائے گا، یہاں پر یہ ہے کہ نماز کے قریب ایسی حالت میں نہ جانا کہ تم مدہوشی میں ہو اور ایسا نہ ہو کہ کوئی غلط بات منہ سے نکل جائے۔
🚿 اس کے بعد ناپاکی اور تیمم کے بعض مسائل ذکر کیے گئے اور پھر یہودیوں کی جو ایک گندی ذہنیت ہے اسکا پردہ چاک کرتے ہوئے انکی بعض سازشوں اور خرابیوں کو بیان کیا گیا ہے۔
💰 امانت کو اس کے مستحقین تک پہنچانے کا حکم دیا گیا ،اللہ اور اس کے رسول اور اولی الامر کی اطاعت کی تلقین فرمائی گئی، اولی الامر میں علما، قاضی، حاکم،بادشاہ شامل ہیں۔
📃اسکے بعد ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے کہ
ایک منافق اور ایک یہودی میں اختلاف ہوا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دلائل کی روشنی میں فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا، منافق نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے انصاف مانگا انہوں نے منافق کی گردن اڑا دی کہ جو شخص رسول خدا کے فیصلے کو انصاف کے برخلاف خیال کرتا ہے تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اسے زندگی کی قید سے ہی آزاد کردیا جائے، اس پر قرآن کریم کی آیت نازل ہوئی کہ "تمھارے رب کی قسم وہ شخص ایمان سے خالی ہے جو اپنے اختلافات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کو تسلیم نہ کرے" تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک طور پر تائید فرمائی گئی کہ انہوں نے جو کیا وہ درست کیا۔
✉️اس کے بعد اہل ایمان کے لیے ایک ایمان افروز خوشخبری ہے اور یہ آیات اطاعت رسول کے موضوع پر انتہائی تاکیدی اسلوب رکھتی ہیں، اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ "ہم نے ہر رسول کو صرف اس لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن سے ان رسولوں کی اطاعت کی جائے اور جب یہ یعنی عام لوگ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تو اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کے پاس آجائیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور رسول بھی ان کے لیے دعائے مغفرت کریں تو یہ ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا بےحد رحم کرنے والا پائیں گے، یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے اللہ تبارک و تعالی سے استغفار کیا جائے تو اللہ اسے رد نہیں فرماتا۔
🎁آیت 69 سے بتایا گیا ہے کہ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرنے والے اللہ کے انعام یافتہ بندوں، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ جنت میں ہونگے، اور ایسے پاکیزہ لوگوں کا ساتھ میسر آنا ظاہر ہے اللہ تبارک و تعالی کا بڑا فضل ہے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کی فضیلت بیان کر کے ایک نیکی کا حکم دیا اور وہ غلبہ اسلام کے لیے اپنی جان اور مال لگا کر جہاد میں حصہ لینا ہے یعنی جہاد کے بارے میں بھی ترغیب ارشاد فرمائی گئی۔
🚷اگلی آیت میں بتایا گیا کہ تمھاری صفوں میں ایسے منافقین بھی موجود ہیں جو جہاد کے مخالف اور جنگ سے پیچھے رہنے والے ہیں ان بزدل لوگوں کو جب جہاد کی دعوت دی جاتی ہے تو جان جانے کے خوف سے انکے دل ڈر جاتے ہیں اور وہ زندگی کی مہلت چاہتے ہیں،
اللہ تعالی نے فرمایا "اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ دیجیے دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے اور اہل تقوی کے لیے اخرت ہی بہتر ہے۔
♻️ اس کے بعد قرآن کریم میں غور و خوض کی دعوت دیتے ہوئے اسکے حق و صداقت پر مبنی ہونے کے لیے دلیل یہ دی گئی کہ اس میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا، اور جتنا جتنا انسان کے اندر اترتا جاتا ہے اتنا ہی انسان کے باطن کو ایمان و یقین سے منور کردیتا ہے ،پھر معاشرے کا امن و سکون تباہ کردینے والی بدترین عامل یعنی افواہ جو ہم بسا اوقات پھیلادیتے ہیں اس کی مذمت کرتے ہوئے اس کے سدِ باب کا طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ
جو متعلقہ شخص ہے اس سے رابطہ کرکے تحقیق کرلی جائے تو افواہیں اپنی موت آپ مرجاتی ہیں کہ جس کا معاملہ ہے اس سے براہ راست تصدیق کروالی جائے۔
💬 آیت 86 میں معاشرتی آداب بتائے گئے جب تمھیں کسی لفظ سے کوئی سلام کرے تو اس سے بہتر الفاظ میں اسکو جواب دو یعنی
اگر السلام علیکم کوئی کہتا ہے تو وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہو
اگر السلام علیکم ورحمۃ اللہ تو وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہو
یعنی اس سے اچھا جواب دو یا پھر فرمایا گیا کہ کم از کم اتنا ہی جواب دے دو۔
⚔️پھر محاذ جنگ پہ موجود مصروف عمل مجاہد کی فضیلت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ مجاہدین اور قائدین برابر نہیں ہوسکتے، یعنی بیٹھنے والے اور جہاد کرنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔ جہاد سے پیچھے رہنے والے جہاد کرنے والوں کے برابر نہیں ہوسکتے۔ ہر مسلمان سے اللہ نے اجر و ثواب کا وعدہ کر رکھا ہے مگر مجاہدین کا مرتبہ اور مقام بہت بڑا ہے۔
🚍 یہ بشارت دی گئی ہے کہ اللہ کے نام پر ہجرت کرنے والوں کو اللہ تعالی بڑی وسعت عطا فرماتا ہے، ہجرت کے لیے گھر سے نکلنے کے ساتھ ہی انسان اللہ کی طرف سے اجر عظیم کا حقدار ہوجاتا ہے خواہ اسے راستے ہی میں موت کا سامنا کرنا پڑجائے۔
🕌مسلمان غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر جب ظہر کی نماز پڑھنے لگے تو کافروں نے کہا کہ اگر ہمیں
🚿 اس کے بعد ناپاکی اور تیمم کے بعض مسائل ذکر کیے گئے اور پھر یہودیوں کی جو ایک گندی ذہنیت ہے اسکا پردہ چاک کرتے ہوئے انکی بعض سازشوں اور خرابیوں کو بیان کیا گیا ہے۔
💰 امانت کو اس کے مستحقین تک پہنچانے کا حکم دیا گیا ،اللہ اور اس کے رسول اور اولی الامر کی اطاعت کی تلقین فرمائی گئی، اولی الامر میں علما، قاضی، حاکم،بادشاہ شامل ہیں۔
📃اسکے بعد ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے کہ
ایک منافق اور ایک یہودی میں اختلاف ہوا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دلائل کی روشنی میں فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا، منافق نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے انصاف مانگا انہوں نے منافق کی گردن اڑا دی کہ جو شخص رسول خدا کے فیصلے کو انصاف کے برخلاف خیال کرتا ہے تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اسے زندگی کی قید سے ہی آزاد کردیا جائے، اس پر قرآن کریم کی آیت نازل ہوئی کہ "تمھارے رب کی قسم وہ شخص ایمان سے خالی ہے جو اپنے اختلافات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کو تسلیم نہ کرے" تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک طور پر تائید فرمائی گئی کہ انہوں نے جو کیا وہ درست کیا۔
✉️اس کے بعد اہل ایمان کے لیے ایک ایمان افروز خوشخبری ہے اور یہ آیات اطاعت رسول کے موضوع پر انتہائی تاکیدی اسلوب رکھتی ہیں، اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ "ہم نے ہر رسول کو صرف اس لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن سے ان رسولوں کی اطاعت کی جائے اور جب یہ یعنی عام لوگ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تو اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کے پاس آجائیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور رسول بھی ان کے لیے دعائے مغفرت کریں تو یہ ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا بےحد رحم کرنے والا پائیں گے، یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے اللہ تبارک و تعالی سے استغفار کیا جائے تو اللہ اسے رد نہیں فرماتا۔
🎁آیت 69 سے بتایا گیا ہے کہ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرنے والے اللہ کے انعام یافتہ بندوں، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ جنت میں ہونگے، اور ایسے پاکیزہ لوگوں کا ساتھ میسر آنا ظاہر ہے اللہ تبارک و تعالی کا بڑا فضل ہے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کی فضیلت بیان کر کے ایک نیکی کا حکم دیا اور وہ غلبہ اسلام کے لیے اپنی جان اور مال لگا کر جہاد میں حصہ لینا ہے یعنی جہاد کے بارے میں بھی ترغیب ارشاد فرمائی گئی۔
🚷اگلی آیت میں بتایا گیا کہ تمھاری صفوں میں ایسے منافقین بھی موجود ہیں جو جہاد کے مخالف اور جنگ سے پیچھے رہنے والے ہیں ان بزدل لوگوں کو جب جہاد کی دعوت دی جاتی ہے تو جان جانے کے خوف سے انکے دل ڈر جاتے ہیں اور وہ زندگی کی مہلت چاہتے ہیں،
اللہ تعالی نے فرمایا "اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ دیجیے دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے اور اہل تقوی کے لیے اخرت ہی بہتر ہے۔
♻️ اس کے بعد قرآن کریم میں غور و خوض کی دعوت دیتے ہوئے اسکے حق و صداقت پر مبنی ہونے کے لیے دلیل یہ دی گئی کہ اس میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا، اور جتنا جتنا انسان کے اندر اترتا جاتا ہے اتنا ہی انسان کے باطن کو ایمان و یقین سے منور کردیتا ہے ،پھر معاشرے کا امن و سکون تباہ کردینے والی بدترین عامل یعنی افواہ جو ہم بسا اوقات پھیلادیتے ہیں اس کی مذمت کرتے ہوئے اس کے سدِ باب کا طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ
جو متعلقہ شخص ہے اس سے رابطہ کرکے تحقیق کرلی جائے تو افواہیں اپنی موت آپ مرجاتی ہیں کہ جس کا معاملہ ہے اس سے براہ راست تصدیق کروالی جائے۔
💬 آیت 86 میں معاشرتی آداب بتائے گئے جب تمھیں کسی لفظ سے کوئی سلام کرے تو اس سے بہتر الفاظ میں اسکو جواب دو یعنی
اگر السلام علیکم کوئی کہتا ہے تو وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہو
اگر السلام علیکم ورحمۃ اللہ تو وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہو
یعنی اس سے اچھا جواب دو یا پھر فرمایا گیا کہ کم از کم اتنا ہی جواب دے دو۔
⚔️پھر محاذ جنگ پہ موجود مصروف عمل مجاہد کی فضیلت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ مجاہدین اور قائدین برابر نہیں ہوسکتے، یعنی بیٹھنے والے اور جہاد کرنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔ جہاد سے پیچھے رہنے والے جہاد کرنے والوں کے برابر نہیں ہوسکتے۔ ہر مسلمان سے اللہ نے اجر و ثواب کا وعدہ کر رکھا ہے مگر مجاہدین کا مرتبہ اور مقام بہت بڑا ہے۔
🚍 یہ بشارت دی گئی ہے کہ اللہ کے نام پر ہجرت کرنے والوں کو اللہ تعالی بڑی وسعت عطا فرماتا ہے، ہجرت کے لیے گھر سے نکلنے کے ساتھ ہی انسان اللہ کی طرف سے اجر عظیم کا حقدار ہوجاتا ہے خواہ اسے راستے ہی میں موت کا سامنا کرنا پڑجائے۔
🕌مسلمان غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر جب ظہر کی نماز پڑھنے لگے تو کافروں نے کہا کہ اگر ہمیں
پہلے سے معلوم ہوتا تو اس حالت میں ایک دم حملہ آور ہوجاتے اور مسلمانوں کو نیست و نابود کردیتے، یہ بڑا آسان ہوجاتا ہمارے لیے، انہوں نے عصر کی نماز میں حملہ کرنے کی تدبیر کی، جس پر اللہ تبارک و تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کافروں کے اس منصوبے کی خبر دے دی اور اس کے سدباب کے لیے اللہ تبارک و تعالی نے صلوةالخوف کا طریقہ بیان فرمایا کہ اگر دشمن سے جان میں خطرہ ہو تو نماز کے لیے کس طرح صف بندی کی جائے اور نماز پڑھنے کا کیا طریقہ کار ہوگا، چنانچہ دشمنوں کی تدبیر دھری کی دھری رہ گئی اور نماز اور جہاد کی مشترکہ اہمیت بھی واضح ہوگئی کہ نماز جیسے عظیم الشان عمل کی وجہ سے جہاد کو مؤخر کرنے کی اجازت نہیں دی گئ اور جہاد جیسے اہم عمل کی بنا پر نماز میں غفلت اور کوتاہی کی اجازت بھی نہیں دی گئی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد دوران جہاد ذکر میں مشغولیت رہے، نماز کو وقت مقررہ پر ادا کرنا فرض ہے، ساری باتیں جو یہاں بیان کی گئی ہیں اس سے نماز کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ دشمن سامنے ہے لیکن اللہ تبارک و تعالی نے نماز کو معاف نہیں فرمایا بلکہ اس حالت نماز پڑھنے کا طریقہ ارشاد فرمایا۔
⚖️ اس کے بعد ہر حال میں عدل وانصاف کا مظاہرہ کرنے کی تلقین ہے یہ دراصل ایک مشہور واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ کسی گھر میں چوری ہوگئ تھی چور بڑا چالاک تھا اس نے کسی یہودی کو پھنسا کر اپنا دامن بچانے کی کوشش کی اور بعض لوگ اس چور سے متأثر تھے کیونکہ وہ چالاک تھا چرب لسان تھا تو اس لیے اس سے متاثر تھے اور اس کو بَری کروانا چاہتے تھے
قرآن کریم نے اس کے جرم کو بلکل واضح کرتے ہوئے یہ تاکید فرمائی کہ بلا تحقیق کسی خائن مجرم کی حمایت کرنے کی بجائے عدل و انصاف کے قانون کے مطابق فیصلہ کر کے مجرمین کو سزا دینی چاہیے۔
💫آیت نمبر 115 اجماعِ امت کے لیے دلیل قرآنی فراہم کر رہی ہے کہ شریعت کے ماخذ چار ہیں یعنی چار طرح سے شریعت کا حکم ثابت ہوتا ہے،
قرآن پاک، سنت رسول، اجماع امت اور قیاس تو اجماع امت ،تو اجماعِ امت کو اس آیت میں "سبیل المؤمنین" یعنی مومنوں کا راستہ کہا گیا ہے، فرمایا کہ جو کوئی مومنوں کے راستے کو چھوڑ کر یعنی مومنون کے متفقہ فیصلوں کو رد کر کے الگ روش اختیار کرے تو وہ دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں انتشار پیدا کرنے کا مجرم قرار دیا جائے گا۔
🚻آیت نمبر 127 سے ایک بار پھر خواتین کے مسائل اور حقوق بیان کیے جارہے ہیں کہ انکے ضعف اور کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انکے ساتھ ظلم اور ناانصافی کا معاملہ نہ کیا جائے ،میاں بیوی کے اختلافات کی صورت میں خلع کا ضابطہ بیان کیا گیا انکے لیے علحیدگی بہتر ہے اور اللہ ان میں ہر ایک کو اپنے فضل سے غنی کردے گا اسکا بیان کیا گیا ہے۔
⚖️اگلی آیت میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا کہ عدل کے قائم کرنے والے بن کر کھڑے ہوجاؤ، یہی اللہ کے شان عدل کی گواہی ہے عدل کرتے وقت یہ نہ دیکھو کہ اسکا نقصان کس کو پہنچ رہا ہے، کوئی قرابت دار ہو یا غیر پھر وہ غنی ہو یا فقیر، اللہ اس پر زیادہ رحم فرمانے والا ہے تو اسے فائدہ پہنچانے کے لیے عدل کے خلاف کوئی کام نہ کرو، اگر تم نے یہ حرکت کی تو پھر جان لو اللہ تمھارے ہر عمل سے باخبر ہے اس آیت کی رو سے معاشرے سے ظلم و زیادتی کو ختم کرنا اور ایک عادلانہ نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کرنا مسلمان پر لازم ہے۔
❌ آیت 140 میں اہل ایمان کو یہ ہدایت دی گئی کہ اگر کسی محفل میں اللہ کی آیات کا انکار کیا جارہا ہو یا معاذاللہ انکا مذاق اڑایا جارہا ہو تو غیرت ایمانی کا تقاضہ یہ ہے کہ اس محفل کا احتجاجاً بائیکاٹ کردیا جائے، نیز جس مجلس میں کوئی گناہ ہورہا ہو اسے روکنے کی کوشش کی جائے اگر روکنا ممکن نہ ہو تو پھر اظہار ناراضی کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ جانا چاہیے، جو ایسی مجلس میں بیٹھا رہے گا وہ بھی دراصل ان مجلس والوں کی طرح ہی شمار کیا جائے گا، پھر بتایا گیا کہ منافقین نماز میں سستی کرتے ہیں ، اللہ کے ذکر سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں، تذبذب کا شکار رہتے ہیں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ایسے گمراہوں کو ہدایت بھی نہیں ملا کرتی یہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ڈالے جائیں گے، مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں سے دوستی کی بلکل بھی اجازت نہیں ہے کافروں کو مسلمانوں پر کسی طرح بھی فوقیت نہیں دی جاسکتی یہ لوگ اگر تائب ہوکر اپنا طرز عمل درست کرلیں تو انکا شمار بھی مومنین کے ساتھ ہوسکتا ہے
اگر تم ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہو اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہو تو اللہ تمھیں عذاب دے کر کیا کرے گا یعنی یوں اسلوب اختیار کیا گیا آیت کریمہ کا اور اللہ تبارک و تعالی دلوں کے رازوں کا جاننے والا اور ایسے افراد کہ جو اچھا عمل کرنے والے ہیں انکے عمل کی قدر فرمانے والا ہے یہاں پر پارے کا اختتام ہوتا ہے۔
📲 *+92-321-2094919*
⚖️ اس کے بعد ہر حال میں عدل وانصاف کا مظاہرہ کرنے کی تلقین ہے یہ دراصل ایک مشہور واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ کسی گھر میں چوری ہوگئ تھی چور بڑا چالاک تھا اس نے کسی یہودی کو پھنسا کر اپنا دامن بچانے کی کوشش کی اور بعض لوگ اس چور سے متأثر تھے کیونکہ وہ چالاک تھا چرب لسان تھا تو اس لیے اس سے متاثر تھے اور اس کو بَری کروانا چاہتے تھے
قرآن کریم نے اس کے جرم کو بلکل واضح کرتے ہوئے یہ تاکید فرمائی کہ بلا تحقیق کسی خائن مجرم کی حمایت کرنے کی بجائے عدل و انصاف کے قانون کے مطابق فیصلہ کر کے مجرمین کو سزا دینی چاہیے۔
💫آیت نمبر 115 اجماعِ امت کے لیے دلیل قرآنی فراہم کر رہی ہے کہ شریعت کے ماخذ چار ہیں یعنی چار طرح سے شریعت کا حکم ثابت ہوتا ہے،
قرآن پاک، سنت رسول، اجماع امت اور قیاس تو اجماع امت ،تو اجماعِ امت کو اس آیت میں "سبیل المؤمنین" یعنی مومنوں کا راستہ کہا گیا ہے، فرمایا کہ جو کوئی مومنوں کے راستے کو چھوڑ کر یعنی مومنون کے متفقہ فیصلوں کو رد کر کے الگ روش اختیار کرے تو وہ دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں انتشار پیدا کرنے کا مجرم قرار دیا جائے گا۔
🚻آیت نمبر 127 سے ایک بار پھر خواتین کے مسائل اور حقوق بیان کیے جارہے ہیں کہ انکے ضعف اور کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انکے ساتھ ظلم اور ناانصافی کا معاملہ نہ کیا جائے ،میاں بیوی کے اختلافات کی صورت میں خلع کا ضابطہ بیان کیا گیا انکے لیے علحیدگی بہتر ہے اور اللہ ان میں ہر ایک کو اپنے فضل سے غنی کردے گا اسکا بیان کیا گیا ہے۔
⚖️اگلی آیت میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا کہ عدل کے قائم کرنے والے بن کر کھڑے ہوجاؤ، یہی اللہ کے شان عدل کی گواہی ہے عدل کرتے وقت یہ نہ دیکھو کہ اسکا نقصان کس کو پہنچ رہا ہے، کوئی قرابت دار ہو یا غیر پھر وہ غنی ہو یا فقیر، اللہ اس پر زیادہ رحم فرمانے والا ہے تو اسے فائدہ پہنچانے کے لیے عدل کے خلاف کوئی کام نہ کرو، اگر تم نے یہ حرکت کی تو پھر جان لو اللہ تمھارے ہر عمل سے باخبر ہے اس آیت کی رو سے معاشرے سے ظلم و زیادتی کو ختم کرنا اور ایک عادلانہ نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کرنا مسلمان پر لازم ہے۔
❌ آیت 140 میں اہل ایمان کو یہ ہدایت دی گئی کہ اگر کسی محفل میں اللہ کی آیات کا انکار کیا جارہا ہو یا معاذاللہ انکا مذاق اڑایا جارہا ہو تو غیرت ایمانی کا تقاضہ یہ ہے کہ اس محفل کا احتجاجاً بائیکاٹ کردیا جائے، نیز جس مجلس میں کوئی گناہ ہورہا ہو اسے روکنے کی کوشش کی جائے اگر روکنا ممکن نہ ہو تو پھر اظہار ناراضی کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ جانا چاہیے، جو ایسی مجلس میں بیٹھا رہے گا وہ بھی دراصل ان مجلس والوں کی طرح ہی شمار کیا جائے گا، پھر بتایا گیا کہ منافقین نماز میں سستی کرتے ہیں ، اللہ کے ذکر سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں، تذبذب کا شکار رہتے ہیں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ایسے گمراہوں کو ہدایت بھی نہیں ملا کرتی یہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ڈالے جائیں گے، مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں سے دوستی کی بلکل بھی اجازت نہیں ہے کافروں کو مسلمانوں پر کسی طرح بھی فوقیت نہیں دی جاسکتی یہ لوگ اگر تائب ہوکر اپنا طرز عمل درست کرلیں تو انکا شمار بھی مومنین کے ساتھ ہوسکتا ہے
اگر تم ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہو اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہو تو اللہ تمھیں عذاب دے کر کیا کرے گا یعنی یوں اسلوب اختیار کیا گیا آیت کریمہ کا اور اللہ تبارک و تعالی دلوں کے رازوں کا جاننے والا اور ایسے افراد کہ جو اچھا عمل کرنے والے ہیں انکے عمل کی قدر فرمانے والا ہے یہاں پر پارے کا اختتام ہوتا ہے۔
📲 *+92-321-2094919*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🗒️ *فیضان خلاصہ تراویح*🗒️
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
🔇 *چھٹا پارہ، لا یحب اللہ*
⭕ پانچویں پارے کے آخر میں منافقوں کی مذمت تھی اور سخت ترین عذاب کی وعید سنائی گئ تھی، اس لئے چھٹے پارے کے شروع میں یہ اہم اصول بتایا گیا کہ اسلام دوسروں کے عیوب کی پردہ پوشی کا حکم دیتا ہے اور کسی کے اندر کوئی بری بات پائی جاتی ہے تو لوگوں کےسامنےظاہر کردینے کو پسند نہیں فرماتا، مگر اسکے باوجود مظلوم کو انصاف کے حصول کے لیے ظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کی اجازت دی گئی، عنقریب مظلوم کی فریاد رسی ہوگی اور ظالم کو اپنے ظلم کی سزا مل کر رہے گی، البتہ اگر کوئی درگزر کر کے نیکی کرے پھر اس پر ثواب کی امید رکھے تو اللہ پاک اس کو اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔
📖 آیت 149 سے رسولوں پر ایمان لانے کے حوالے سے ایک بڑی زبردست گفتگو کی گئی ہے کہ جو لوگ اللہ کو مانیں اور رسولوں کا انکار کریں یا کچھ رسولوں کو مانیں اور کچھ کا انکار کریں وہ پکے کافر ہیں اور ان کو ہمیشہ کے عذاب میں رہنا پڑے گا اور جو لوگ اللہ اور اسکے تمام رسولوں کو تسلیم کریں، ان پر ایمان لائیں اور قیامت کے دن پر ایمان رکھیں تو انکو بہترین اجر و ثواب دیا جائے گا۔
❌ اگلی آیت میں یہودیوں کے سنگین جرم کا بیان ہے کہ یہودیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کردیا ہے اور عیسائیوں نے اس کی تصدیق کی تھی، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی تکذیب فرما دی۔ کیونکہ واقعہ یوں ہوا کہ جو منافق شخص یہودیوں کو حضرت عیسی علیہ السلام کا پتہ دینے کے لئے آپ علیہ السلام کے گھر میں داخل ہوا تھا وہ حضرت عیسی علیہ السلام کا ہم شکل ہوگیا اور آپ علیہ السلام آسمان پر تشریف لے گئے، یہودیوں نے اسی منافق کو عیسی علیہ السلام سمجھ کر سولی دی
اللہ پاک نے فرمایا:
وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْؕ-
انہوں نے نہ تو اسے قتل کیا اور نہ اسے سولی دی بلکہ یہودیوں کے لئے (عیسیٰ سے ) ملتا جلتا (ایک آدمی)بنادیا گیا۔
اور کچھ آگے چل کر بیان فرما دیا کہ کوئی کتابی ایسا نہیں جو عیسی علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے، لہذا پتا چلا کہ عیسی علیہ السلام کی وفات نہیں ہوئی، ابھی آپ زندہ ہیں، قیامت کے قریب تشریف لائیں گے اور یہود و نصاری آپ کے ہاتھ پر اسلام لے آئیں گے۔
🥥🍉 آیت 160 سے بتایا گیا کے یہودیوں کی ظالمانہ حرکتوں کی وجہ سے بعض چیزیں ان پر حرام کر دی گئیں۔منع کرنے کے باوجود سود کھانے ،لوگوں کا مال ناجائز طریقے پر ہڑپ کر جانے کی وجہ سے انکے لیے دردناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔لیکن ان میں ایسےاعتدال پسند، علم اور فضل والے بھی ہیں جو علم کی گہرائیوں تک رسائی رکھتے ہیں، یہ اس علم کی صداقت کا فیض ہے کہ وہ اللہ پر، اسکے نازل کردہ کلام پر اور آخرت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز اور زکوة کی پابندی کرتے ہیں، انکے لیے خوشخبری سنائی گئی کہ عنقریب اللہ پاک انہیں بے حساب انعامات سے نوازے گا۔
📜 پھر مختصرا انبیا کرام علیہم السلام کا تذکرہ فرمایا گیا کے ہم نے نوح ،ابراہیم،اسمعیل ،اسحاق ،یعقوب ،عیسی ،یونس، ہارون،سلیمان علیہم الصلوة و السلام کو نبی بنایا۔اور یونہی پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بیان کیا گیا کے اے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم انہی انبیاءکرام کی طرح آپکو بھی نبی بر حق بنایا گیا ہے۔یعنی حضور علیہ الصلوةوالسلام تو پہلے سے ہی نبی ہیں ۔بیان کرنے کا مقصد لوگوں پر ظاہر کرنا اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و عظمت کو بیان کرنا ہے۔اور یہ آپ صلی اللہ علیہ کی تسکین خاطر کے لئے کہ اگر آپ کی نبوت کی گواہی یہودی دینے کے لئے تیار نہیں ہیں تواس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،اللہ پاک اور فرشتوں کی گواہی کافی ہے۔
📢 اس کے بعد عیسائیوں سے خطاب ہوتا ہے، فرمایا گیا کے دین میں مبالغہ آمیزی نہ کیا کرو،حد سے نہ بڑھا کرو، ادب اور احترام کے جذبات کو اپنی حدود میں رکھنا چاہیے، عیسی علیہ الصلوة و السلام کو معاذاللہ، اللہ کہنا یا اللہ کا بیٹا کہنا ، یہ کوئی دین داری نہیں ہے، عیسی علیہ السلام یا اللہ کے مقرر فرشتوں نے اللہ کا بندہ کہلانے میں کبھی کسی قسم کی عار محسوس ہی نہیں کی، تو یہ عیسائی کیوں پھر عیسی علیہ الصلوة و السلام کو اللہ کا بندہ کہنے میں عار محسوس کرتے ہیں،معبود تو اللہ تبارک وتعالی ہی ہے، وہ اولاد سے پاک ہے اور اسکے ہاں قرب حاصل کرنے کا جو معیار نیک اعمال ہیں،جو ایمان اور اعمال صالحہ کرے گا اسے پورا پورا اجرو ثواب دیا جائے گا۔
📗 اسکے بعد آیت نمبر 174 سے ایک بار پھر انسانوں کو دعوت دی گئی کہ تمہارے پاس قرآن حکیم کی صورت میں حق کی دلیل اور ہدایت کی واضح روشنی آ چکی ہے،اب جو لوگ اللہ پر ایمان لائیں اور قرآن حکیم سے ایک لو لگا لیں تو اللہ انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا اور اپنے فضل سے مالا مال کر دے گا اور اپنی طرف سیدھے راہ کی ہدایت دے گا اور قرآن سے لو لگانے سے مراد صرف زب
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
🔇 *چھٹا پارہ، لا یحب اللہ*
⭕ پانچویں پارے کے آخر میں منافقوں کی مذمت تھی اور سخت ترین عذاب کی وعید سنائی گئ تھی، اس لئے چھٹے پارے کے شروع میں یہ اہم اصول بتایا گیا کہ اسلام دوسروں کے عیوب کی پردہ پوشی کا حکم دیتا ہے اور کسی کے اندر کوئی بری بات پائی جاتی ہے تو لوگوں کےسامنےظاہر کردینے کو پسند نہیں فرماتا، مگر اسکے باوجود مظلوم کو انصاف کے حصول کے لیے ظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کی اجازت دی گئی، عنقریب مظلوم کی فریاد رسی ہوگی اور ظالم کو اپنے ظلم کی سزا مل کر رہے گی، البتہ اگر کوئی درگزر کر کے نیکی کرے پھر اس پر ثواب کی امید رکھے تو اللہ پاک اس کو اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔
📖 آیت 149 سے رسولوں پر ایمان لانے کے حوالے سے ایک بڑی زبردست گفتگو کی گئی ہے کہ جو لوگ اللہ کو مانیں اور رسولوں کا انکار کریں یا کچھ رسولوں کو مانیں اور کچھ کا انکار کریں وہ پکے کافر ہیں اور ان کو ہمیشہ کے عذاب میں رہنا پڑے گا اور جو لوگ اللہ اور اسکے تمام رسولوں کو تسلیم کریں، ان پر ایمان لائیں اور قیامت کے دن پر ایمان رکھیں تو انکو بہترین اجر و ثواب دیا جائے گا۔
❌ اگلی آیت میں یہودیوں کے سنگین جرم کا بیان ہے کہ یہودیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کردیا ہے اور عیسائیوں نے اس کی تصدیق کی تھی، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی تکذیب فرما دی۔ کیونکہ واقعہ یوں ہوا کہ جو منافق شخص یہودیوں کو حضرت عیسی علیہ السلام کا پتہ دینے کے لئے آپ علیہ السلام کے گھر میں داخل ہوا تھا وہ حضرت عیسی علیہ السلام کا ہم شکل ہوگیا اور آپ علیہ السلام آسمان پر تشریف لے گئے، یہودیوں نے اسی منافق کو عیسی علیہ السلام سمجھ کر سولی دی
اللہ پاک نے فرمایا:
وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْؕ-
انہوں نے نہ تو اسے قتل کیا اور نہ اسے سولی دی بلکہ یہودیوں کے لئے (عیسیٰ سے ) ملتا جلتا (ایک آدمی)بنادیا گیا۔
اور کچھ آگے چل کر بیان فرما دیا کہ کوئی کتابی ایسا نہیں جو عیسی علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے، لہذا پتا چلا کہ عیسی علیہ السلام کی وفات نہیں ہوئی، ابھی آپ زندہ ہیں، قیامت کے قریب تشریف لائیں گے اور یہود و نصاری آپ کے ہاتھ پر اسلام لے آئیں گے۔
🥥🍉 آیت 160 سے بتایا گیا کے یہودیوں کی ظالمانہ حرکتوں کی وجہ سے بعض چیزیں ان پر حرام کر دی گئیں۔منع کرنے کے باوجود سود کھانے ،لوگوں کا مال ناجائز طریقے پر ہڑپ کر جانے کی وجہ سے انکے لیے دردناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔لیکن ان میں ایسےاعتدال پسند، علم اور فضل والے بھی ہیں جو علم کی گہرائیوں تک رسائی رکھتے ہیں، یہ اس علم کی صداقت کا فیض ہے کہ وہ اللہ پر، اسکے نازل کردہ کلام پر اور آخرت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز اور زکوة کی پابندی کرتے ہیں، انکے لیے خوشخبری سنائی گئی کہ عنقریب اللہ پاک انہیں بے حساب انعامات سے نوازے گا۔
📜 پھر مختصرا انبیا کرام علیہم السلام کا تذکرہ فرمایا گیا کے ہم نے نوح ،ابراہیم،اسمعیل ،اسحاق ،یعقوب ،عیسی ،یونس، ہارون،سلیمان علیہم الصلوة و السلام کو نبی بنایا۔اور یونہی پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بیان کیا گیا کے اے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم انہی انبیاءکرام کی طرح آپکو بھی نبی بر حق بنایا گیا ہے۔یعنی حضور علیہ الصلوةوالسلام تو پہلے سے ہی نبی ہیں ۔بیان کرنے کا مقصد لوگوں پر ظاہر کرنا اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و عظمت کو بیان کرنا ہے۔اور یہ آپ صلی اللہ علیہ کی تسکین خاطر کے لئے کہ اگر آپ کی نبوت کی گواہی یہودی دینے کے لئے تیار نہیں ہیں تواس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،اللہ پاک اور فرشتوں کی گواہی کافی ہے۔
📢 اس کے بعد عیسائیوں سے خطاب ہوتا ہے، فرمایا گیا کے دین میں مبالغہ آمیزی نہ کیا کرو،حد سے نہ بڑھا کرو، ادب اور احترام کے جذبات کو اپنی حدود میں رکھنا چاہیے، عیسی علیہ الصلوة و السلام کو معاذاللہ، اللہ کہنا یا اللہ کا بیٹا کہنا ، یہ کوئی دین داری نہیں ہے، عیسی علیہ السلام یا اللہ کے مقرر فرشتوں نے اللہ کا بندہ کہلانے میں کبھی کسی قسم کی عار محسوس ہی نہیں کی، تو یہ عیسائی کیوں پھر عیسی علیہ الصلوة و السلام کو اللہ کا بندہ کہنے میں عار محسوس کرتے ہیں،معبود تو اللہ تبارک وتعالی ہی ہے، وہ اولاد سے پاک ہے اور اسکے ہاں قرب حاصل کرنے کا جو معیار نیک اعمال ہیں،جو ایمان اور اعمال صالحہ کرے گا اسے پورا پورا اجرو ثواب دیا جائے گا۔
📗 اسکے بعد آیت نمبر 174 سے ایک بار پھر انسانوں کو دعوت دی گئی کہ تمہارے پاس قرآن حکیم کی صورت میں حق کی دلیل اور ہدایت کی واضح روشنی آ چکی ہے،اب جو لوگ اللہ پر ایمان لائیں اور قرآن حکیم سے ایک لو لگا لیں تو اللہ انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا اور اپنے فضل سے مالا مال کر دے گا اور اپنی طرف سیدھے راہ کی ہدایت دے گا اور قرآن سے لو لگانے سے مراد صرف زب
انی اقرار نہیں بلکہ دل سے یقین رکھنا کہ یہ اللہ کا کلام ہے اسکی باقاعدہ تلاوت کرنا اسے سمجھنا اسکے احکامات پر عمل کرنا اور جو اجتماعی احکامات ہیں انکے نفاذ کی کوشش کرنا۔
💰 سورہ نساء کی آخری آیت میں وراثت کا ایک مسئلہ بیان ہوا ہے، کہ اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اسکا باپ بھی نہ ہو اور کوئی اولاد بھی نہ ہو تو اسے شریعت کی اصطلاح میں کلالہ کہتے ہیں۔
👇🏻آیت میں جو مسائل بیان ہوئے ان کا خلاصہ و وضاحت یہ ہے:
💵 اگر کوئی شخص فوت ہو اور اس کے ورثاء میں باپ اور اولاد نہ ہو تو سگی اور باپ شریک بہن کو وراثت سے مال کا آدھا حصہ ملے گاجبکہ صرف ایک ہو اور اگر دو یا دو سے زیادہ ہوں تو دو تہائی حصہ ملے گا۔
💵 اور اگر بہن فوت ہوئی اور ورثاء میں نہ باپ ہو نہ اولاد تو بھائی اُس کے کل مال کا وارث ہوگا۔
💵 اگر فوت ہونے والے نے بہن بھائی دونوں چھوڑے تو بھائی کو بہن سے دگنا حصہ ملے گا۔
🍽️🍞 *سورۃ المائدہ*
سورہ مائدہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے،البتہ یہ آیت ’’اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ‘‘ حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ کے دن مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی،اس سورت میں 16 رکوع اور 120 آیتیں ہیں۔
*وجہ*
عربی میں دستر خوان کو ’’مائدہ ‘‘ کہتے ہیں اور اس سورت کی آیت نمبر 112 تا 115 میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آسمان سے مائدہ یعنی کھانے کے ایک دستر خوان کے نزول کا مطالبہ کیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے مائدہ کے نازل ہونے کی دعا کی، اس واقعے کی مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ مائدہ‘‘رکھا گیا۔
*فضائل*
🌸 اس سورت کی ایک آیت مبارکہ کے بارے میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ان سے کہا ’’اے امیر المؤمنین! رضی اللہ عنہ، آپ اپنی کتاب میں ایک آیت کی تلاوت کرتے ہیں ، اگر وہ آیت ہم یہودیوں کے گروہ پر نازل ہوئی ہوتی تو (جس دن یہ نازل ہوتی) ہم ا س دن کو عید بناتے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’وہ کون سی آیت ہے؟ اس یہود ی نے عرض کی (وہ یہ آیت ہے)
اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ( مائدہ: ۳)
ترجمہ: آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’ہم اس دن اور اس جگہ کو بھی جانتے ہیں جس میں نبی کریم صلی الله عليه وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی، (جب یہ آیت نازل ہوئی اس وقت) حضور صلی الله عليه وسلم جمعہ کے دن عرفات کے میدان میں مقیم تھے (اور جمعہ و عرفہ دونوں مسلمانوں کی عید کے دن ہیں۔
📘 (بخاری)
✅❌ اس سورت میں حلال وحرام کے بے شمار احکامات اور تین قصے بیان کئے گئے ہیں ۔
📈 سورت کی ابتدا میں ہر قسم کے وعدے کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے چاہے وہ عہد بندوں کا بندوں کے ساتھ ہو یا وہ عہد بندے کا اللہ کے ساتھ ہو۔
🚫 پھر اسکے بعد آگے چل کر کھانے پینے کی بہت ساری ایسی چیزوں کی حرمت یعنی حرام ہونے کا اعلان کیا گیا ہے جنہیں زمانہ جاہلیت میں حلال سمجھا جاتا تھا،کیونکہ ان چیزوں کے کھانے میں صحت اور جسم کا بھی نقصان ہے اور فکر و نظر اور دین واخلاق کا بھی بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔جو کھانے پینے کی چیزیں شریعت میں حرام قرار دی ہیں اس میں ایک بڑی حکمت یہ بھی ہے کہ ان چیزوں کے اثرات انسانی جسم پر منفی طور پر ثابت ہوتے ہیں جیسے کہ خنزیر، اسکے حرام ہونے کی ایک وجہ یہ بھی علماء نے بیان کی کہ یہ بے حیا جانور ہے، اگر معاذاللہ اسکو کوئی کھائے تو اس انسان کےاندر بھی بے حیائی پیدا ہوتی ہے، کھانے پینے کے معاملات میں بہت سی چیزیں ہیں کہ جس کے اندر ایک واضح پہلو یہ ہے کہ اسکا اثر بدن انسانی پر انسان کے اخلاق پر انسان کے اطوار پر اسکے نظر وفکر پر ہوتا ہے اسلئیے بہت ساری چیزوں کو حرام قرار دینے میں ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے۔بہر حال یہاں پر مثلا مردار، بہنے والا خون،خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جسے غیراللہ کے نام پر ذبح کیا گیا، گلا گھونٹ کر مارا ہو ا جانور،وہ جانور جو لاٹھی پتھر ،ڈھیلے، گولی چھرے یعنی بغیر دھار دار چیز سے مارا گیا ہو،جو گر کر مرا ہو خواہ پہاڑ سے یا کنوئیں وغیرہ میں،وہ جانور جسے دوسرے جانور نے سینگ مارا ہو اور وہ اس کے صدمے سے مر گیا ہو۔البتہ اضطرار کی صورت میں اجازت ہوتی ہے، اضطرار سے مراد یہ ہے کہ اسکے پاس کوئی حلال چیز موجود نہیں ہے اور اب اسکی جان پر بن آئی ہے اگر وہ کچھ نہیں کھائے گا تو مر جائے گا اور حرام کے علاوہ کچھ موجود نہیں تو ایسے موقع پر اسے اجازت دی گئی ہے کہ وہ ضرورتا وہ کھا لے بلکہ اس پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ کھا لے اور اپنی جان کی حفاظت کرے لیکن یہ اس موقع پر ہے کہ جب کچھ بھی
💰 سورہ نساء کی آخری آیت میں وراثت کا ایک مسئلہ بیان ہوا ہے، کہ اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اسکا باپ بھی نہ ہو اور کوئی اولاد بھی نہ ہو تو اسے شریعت کی اصطلاح میں کلالہ کہتے ہیں۔
👇🏻آیت میں جو مسائل بیان ہوئے ان کا خلاصہ و وضاحت یہ ہے:
💵 اگر کوئی شخص فوت ہو اور اس کے ورثاء میں باپ اور اولاد نہ ہو تو سگی اور باپ شریک بہن کو وراثت سے مال کا آدھا حصہ ملے گاجبکہ صرف ایک ہو اور اگر دو یا دو سے زیادہ ہوں تو دو تہائی حصہ ملے گا۔
💵 اور اگر بہن فوت ہوئی اور ورثاء میں نہ باپ ہو نہ اولاد تو بھائی اُس کے کل مال کا وارث ہوگا۔
💵 اگر فوت ہونے والے نے بہن بھائی دونوں چھوڑے تو بھائی کو بہن سے دگنا حصہ ملے گا۔
🍽️🍞 *سورۃ المائدہ*
سورہ مائدہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے،البتہ یہ آیت ’’اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ‘‘ حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ کے دن مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی،اس سورت میں 16 رکوع اور 120 آیتیں ہیں۔
*وجہ*
عربی میں دستر خوان کو ’’مائدہ ‘‘ کہتے ہیں اور اس سورت کی آیت نمبر 112 تا 115 میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آسمان سے مائدہ یعنی کھانے کے ایک دستر خوان کے نزول کا مطالبہ کیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے مائدہ کے نازل ہونے کی دعا کی، اس واقعے کی مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ مائدہ‘‘رکھا گیا۔
*فضائل*
🌸 اس سورت کی ایک آیت مبارکہ کے بارے میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ان سے کہا ’’اے امیر المؤمنین! رضی اللہ عنہ، آپ اپنی کتاب میں ایک آیت کی تلاوت کرتے ہیں ، اگر وہ آیت ہم یہودیوں کے گروہ پر نازل ہوئی ہوتی تو (جس دن یہ نازل ہوتی) ہم ا س دن کو عید بناتے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’وہ کون سی آیت ہے؟ اس یہود ی نے عرض کی (وہ یہ آیت ہے)
اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ( مائدہ: ۳)
ترجمہ: آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’ہم اس دن اور اس جگہ کو بھی جانتے ہیں جس میں نبی کریم صلی الله عليه وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی، (جب یہ آیت نازل ہوئی اس وقت) حضور صلی الله عليه وسلم جمعہ کے دن عرفات کے میدان میں مقیم تھے (اور جمعہ و عرفہ دونوں مسلمانوں کی عید کے دن ہیں۔
📘 (بخاری)
✅❌ اس سورت میں حلال وحرام کے بے شمار احکامات اور تین قصے بیان کئے گئے ہیں ۔
📈 سورت کی ابتدا میں ہر قسم کے وعدے کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے چاہے وہ عہد بندوں کا بندوں کے ساتھ ہو یا وہ عہد بندے کا اللہ کے ساتھ ہو۔
🚫 پھر اسکے بعد آگے چل کر کھانے پینے کی بہت ساری ایسی چیزوں کی حرمت یعنی حرام ہونے کا اعلان کیا گیا ہے جنہیں زمانہ جاہلیت میں حلال سمجھا جاتا تھا،کیونکہ ان چیزوں کے کھانے میں صحت اور جسم کا بھی نقصان ہے اور فکر و نظر اور دین واخلاق کا بھی بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔جو کھانے پینے کی چیزیں شریعت میں حرام قرار دی ہیں اس میں ایک بڑی حکمت یہ بھی ہے کہ ان چیزوں کے اثرات انسانی جسم پر منفی طور پر ثابت ہوتے ہیں جیسے کہ خنزیر، اسکے حرام ہونے کی ایک وجہ یہ بھی علماء نے بیان کی کہ یہ بے حیا جانور ہے، اگر معاذاللہ اسکو کوئی کھائے تو اس انسان کےاندر بھی بے حیائی پیدا ہوتی ہے، کھانے پینے کے معاملات میں بہت سی چیزیں ہیں کہ جس کے اندر ایک واضح پہلو یہ ہے کہ اسکا اثر بدن انسانی پر انسان کے اخلاق پر انسان کے اطوار پر اسکے نظر وفکر پر ہوتا ہے اسلئیے بہت ساری چیزوں کو حرام قرار دینے میں ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے۔بہر حال یہاں پر مثلا مردار، بہنے والا خون،خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جسے غیراللہ کے نام پر ذبح کیا گیا، گلا گھونٹ کر مارا ہو ا جانور،وہ جانور جو لاٹھی پتھر ،ڈھیلے، گولی چھرے یعنی بغیر دھار دار چیز سے مارا گیا ہو،جو گر کر مرا ہو خواہ پہاڑ سے یا کنوئیں وغیرہ میں،وہ جانور جسے دوسرے جانور نے سینگ مارا ہو اور وہ اس کے صدمے سے مر گیا ہو۔البتہ اضطرار کی صورت میں اجازت ہوتی ہے، اضطرار سے مراد یہ ہے کہ اسکے پاس کوئی حلال چیز موجود نہیں ہے اور اب اسکی جان پر بن آئی ہے اگر وہ کچھ نہیں کھائے گا تو مر جائے گا اور حرام کے علاوہ کچھ موجود نہیں تو ایسے موقع پر اسے اجازت دی گئی ہے کہ وہ ضرورتا وہ کھا لے بلکہ اس پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ کھا لے اور اپنی جان کی حفاظت کرے لیکن یہ اس موقع پر ہے کہ جب کچھ بھی