🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-06-1445 ᴴ | 25-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-06-1445 ᴴ | 25-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-06-1445 ᴴ | 25-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-06-1445 ᴴ | 25-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
इस्लामी साल का पाँचवां और छठा महीना
जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा
लुग़त के एअ़्तिबार से इन दोनों महीनों के दुरुस्त नाम और तलफ़्फ़ुज़ येह हैं: जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा।
मशहूर नह़वी इमाम फ़रा कहते हैं: کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکِّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ यअ़्नी तमाम महीनों के नाम मुज़क्कर (Male) हैं सिवाए दो जुमादी महीनों (या'नी जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा या जुमादल आख़िरह) के, इन दोनों के नाम मुअन्नस (Female) हैं।
[الشماریخ فی علم التاریخ، ص:۱۳]
जब लफ़्ज़े "जुमादा" मुअन्नस है तो इसकी स़िफ़त भी मुअन्नस ही ही ज़िक्र की जाएगी - इसी लिए इसे "जुमादल अव्वल" और "जुमादल आख़िर" न कहा जाए। क्योंकि "अल अव्वल" और "अल आख़िर" मुज़क्कर हैं, बल्कि "जुमादल ऊला" और "जुमादल उख़रा" या "जुमादल आख़िरह" कहना चाहिए।
ऐसे ही छठे महीने को "जुमादस्सानी" भी न कहा जाए, क्योंकि सानी वहाँ आता है जहां उसके बा'द सालिस (यानी तीसरा) भी हो, जबकि यहाँ तीसरा नहीं।
[غیاث اللغات، باب الجیم، ص:194]
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा
लुग़त के एअ़्तिबार से इन दोनों महीनों के दुरुस्त नाम और तलफ़्फ़ुज़ येह हैं: जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा।
मशहूर नह़वी इमाम फ़रा कहते हैं: کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکِّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ यअ़्नी तमाम महीनों के नाम मुज़क्कर (Male) हैं सिवाए दो जुमादी महीनों (या'नी जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा या जुमादल आख़िरह) के, इन दोनों के नाम मुअन्नस (Female) हैं।
[الشماریخ فی علم التاریخ، ص:۱۳]
जब लफ़्ज़े "जुमादा" मुअन्नस है तो इसकी स़िफ़त भी मुअन्नस ही ही ज़िक्र की जाएगी - इसी लिए इसे "जुमादल अव्वल" और "जुमादल आख़िर" न कहा जाए। क्योंकि "अल अव्वल" और "अल आख़िर" मुज़क्कर हैं, बल्कि "जुमादल ऊला" और "जुमादल उख़रा" या "जुमादल आख़िरह" कहना चाहिए।
ऐसे ही छठे महीने को "जुमादस्सानी" भी न कहा जाए, क्योंकि सानी वहाँ आता है जहां उसके बा'द सालिस (यानी तीसरा) भी हो, जबकि यहाँ तीसरा नहीं।
[غیاث اللغات، باب الجیم، ص:194]
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
❤2
اسلامی سال کا پانچواں اور چھٹا مہینہ
جمادی الاولی اور جمادی الاخری
لغت کے اعتبار سے ان دونوں مہینوں کے درست نام اور تلفظ یہ ہیں: جُمَادَی الاٗوۡلٰی اور جُمَادَی الاُخۡرٰی یا جُمَادَی الاٰخِرَہۡ ـ
مشہور نحوی امام فَراء کہتے ہیں: کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکِّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ یعنی تمام مہینوں کے نام مذکر ہیں سوائے دو جمادی مہینوں (یعنی جُمَادَی الاٗوۡلٰی اور جُمَادَی الاُخۡرٰی یا جُمَادَی الاٰخِرَہۡ) کے ان دونوں کے نام مؤنث ہیں ـ [الشماریخ فی علم التاریخ، ص:۱۳]
جب لفظِ ”جمادی“ مؤنث ہے تو اس کی صفت بھی مؤنث ہی ذکر کی جائےگی ـ اسی لیے ”جمادی الاول“ اور ”جمادی الآخِر“ نہ کہا جائے کیونکہ ”الاول“ اور ”الاٰخر“ مذکر ہیں بلکہ ”جُمَادَی الاُوۡلٰی“ اور ”جُمَادَی الاُخۡرٰی“ یا ”جُمَادَی الاٰخِرَہۡ“ کہنا چاہیے ـ
ایسے ہی چھٹے مہینے کو ”جمادی الثانی“ بھی نہ کہا جائے، کیونکہ ثانی وہاں آتا ہے جہاں اس کے بعد ثالث (یعنی تیسرا) بھی ہو جبکہ یہاں تیسرا نہیں ـ [غیاث اللغات، باب الجیم، ص:194]
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
جمادی الاولی اور جمادی الاخری
لغت کے اعتبار سے ان دونوں مہینوں کے درست نام اور تلفظ یہ ہیں: جُمَادَی الاٗوۡلٰی اور جُمَادَی الاُخۡرٰی یا جُمَادَی الاٰخِرَہۡ ـ
مشہور نحوی امام فَراء کہتے ہیں: کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکِّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ یعنی تمام مہینوں کے نام مذکر ہیں سوائے دو جمادی مہینوں (یعنی جُمَادَی الاٗوۡلٰی اور جُمَادَی الاُخۡرٰی یا جُمَادَی الاٰخِرَہۡ) کے ان دونوں کے نام مؤنث ہیں ـ [الشماریخ فی علم التاریخ، ص:۱۳]
جب لفظِ ”جمادی“ مؤنث ہے تو اس کی صفت بھی مؤنث ہی ذکر کی جائےگی ـ اسی لیے ”جمادی الاول“ اور ”جمادی الآخِر“ نہ کہا جائے کیونکہ ”الاول“ اور ”الاٰخر“ مذکر ہیں بلکہ ”جُمَادَی الاُوۡلٰی“ اور ”جُمَادَی الاُخۡرٰی“ یا ”جُمَادَی الاٰخِرَہۡ“ کہنا چاہیے ـ
ایسے ہی چھٹے مہینے کو ”جمادی الثانی“ بھی نہ کہا جائے، کیونکہ ثانی وہاں آتا ہے جہاں اس کے بعد ثالث (یعنی تیسرا) بھی ہو جبکہ یہاں تیسرا نہیں ـ [غیاث اللغات، باب الجیم، ص:194]
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
❤2
اسلامی سال کا پانچواں اور چھٹا مہینہ
جمادی الاولی اور جمادی الاخری
لغت کے اعتبار سے ان دونوں مہینوں کے درست نام اور تلفظ یہ ہیں: جُمَادَی الاٗوۡلٰی اور جُمَادَی الاُخۡرٰی یا جُمَادَی الاٰخِرَہۡ ـ
इस्लामी साल का पाँचवां और छठा महीना
जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा
लुग़त के एअ़्तिबार से इन दोनों महीनों के दुरुस्त नाम और तलफ़्फ़ुज़ येह हैं: जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा या जुमादल आख़िरह ـ
مشہور نحوی امام فَراء کہتے ہیں: کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکِّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ یعنی تمام مہینوں کے نام مذکر ہیں سوائے دو جمادی مہینوں (یعنی جُمَادَی الاٗوۡلٰی اور جُمَادَی الاُخۡرٰی یا جُمَادَی الاٰخِرَہۡ) کے ان دونوں کے نام مؤنث ہیں ـ [الشماریخ فی علم التاریخ، ص:۱۳]
मशहूर नह़वी इमाम फ़रा कहते हैं: کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکِّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ यअ़्नी तमाम महीनों के नाम मुज़क्कर (Male) हैं सिवाए दो जुमादी महीनों (या'नी जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा या जुमादल आख़िरह) के, इन दोनों के नाम मुअन्नस (Female) हैं।
[الشماریخ فی علم التاریخ، ص:۱۳]
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
جمادی الاولی اور جمادی الاخری
لغت کے اعتبار سے ان دونوں مہینوں کے درست نام اور تلفظ یہ ہیں: جُمَادَی الاٗوۡلٰی اور جُمَادَی الاُخۡرٰی یا جُمَادَی الاٰخِرَہۡ ـ
इस्लामी साल का पाँचवां और छठा महीना
जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा
लुग़त के एअ़्तिबार से इन दोनों महीनों के दुरुस्त नाम और तलफ़्फ़ुज़ येह हैं: जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा या जुमादल आख़िरह ـ
مشہور نحوی امام فَراء کہتے ہیں: کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکِّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ یعنی تمام مہینوں کے نام مذکر ہیں سوائے دو جمادی مہینوں (یعنی جُمَادَی الاٗوۡلٰی اور جُمَادَی الاُخۡرٰی یا جُمَادَی الاٰخِرَہۡ) کے ان دونوں کے نام مؤنث ہیں ـ [الشماریخ فی علم التاریخ، ص:۱۳]
मशहूर नह़वी इमाम फ़रा कहते हैं: کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکِّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ यअ़्नी तमाम महीनों के नाम मुज़क्कर (Male) हैं सिवाए दो जुमादी महीनों (या'नी जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा या जुमादल आख़िरह) के, इन दोनों के नाम मुअन्नस (Female) हैं।
[الشماریخ فی علم التاریخ، ص:۱۳]
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
❤2
حسانِ پاکستان، حضرت مولانا ضیاء القادری بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت مولانا کا تاریخی نام: محمد فضل الرحمٰن ـ عرفی نام: محمد یعقوب حسین ـ قلمی نام: ضیاء القادری ـ تخلص: ضیاء ـ اور خطابات: لسان الحسان، شاعر اہل سنت، حسانِ پاکستان اور مورخ اہل سنت ملے ہوئے تھے ۔
ولادت:
۲۶ رجب المرجب شب معراج نبوی ۱۳۰۰ھ بمطابق ۲ جون ۱۸۸۳ء کو بعد نماز عشاء مدینۃ العلم بدایوں (بھارت) میں تولد ہوئے ۔
آپ کے مورث اعلی مولانا خواجہ عبد اللہ چشتی بدایون کے مایہ ناز عالم اور مشہور محدث و مفسر تھے ۔ چار سال کی عمر میں والدین کا سایہ عاطف سر سے اُٹھ گیا اس لئے تربیت کا انتظام غالب و مومن کے شاگرد مولانا علی احمد خان نے کیا ۔
تعلیم و تربیت:
جب مولانا کی عمر سات سال ہوئی تو انہیں افاضل اساتذہ نے پڑھانا شروع کیا ۔ پہلے قرآن مجید پڑھایا پھر فقہ، تفسیر اور حدیث کی کتابیں پڑھائیں ۔ تقریباً چودہ سال کی عمر میں آپ نے عالمانہ استعداد حاصل کر لی ۔
سفر حرمین شریفین:
آپ ہندوستان سے پاکستان مستقل منتقل ہوئے اور ۱۳۲ھ؍ ۱۹۴۸ء میں آپ کو حج و زیارتِ روضۂ رسول ﷺ کی سعادت حاصل ہوئی اور آپ کو یہ امتیازی کے مزار پر انوار (بغداد شریف) پر حاضری بھی نصیب ہوئی ۔
عادات و خصائل:
مولانا ضیاء القادری نہایت خلیق اور سراپا درد بزرگ تھے ، ایثار و خلوص کی جیتی جاگتی تصویر تھے ، انکسار پسند ، اور شگفتہ مزاج تھے ، ظاہری شان و شوکت سے آپ کو کوئی لگاوٗ نہ تھا ، تقویٰ و پرہیز گاری میں سلف صالحین کا بہتری نمونہ تھے ۔
۱۹۱۷ء سے ایک عرصہ تک آپ کے زیرِ اہتمام بدایوں میں رجبی شریف کے عظیم الشان جلسے منعقد ہوتے رہے ۔ تقریباً ۳۵ سال تک سرکاری ملازمت سے وابستہ رہے اس کے باوجود علم و ادب کی وہ گراں قدر خدمات انجام دیں جنہیں تاریخ فراموش نہیں کر سکتی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نظم و نثر پر یکساں قدرت عطا فرمائی تھی ۔
تلامذہ:
پاک و ہند کے مشہور شعرائے کرام مثلاً شکیل بدایونی، اختر الحامدی، مضطر صابری، ماہر القادری، طالب انصاری، محشر بدایونی، سحر اکبر آبادی، تابش قصوری، صابر براری اور رضا قریشی آپ کے ممتاز شاگرد ہیں ۔
شاعری:
دہلی میں حضرت شاہ کلیم اللہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ کے دربار سے شائع ہونے والے مشہو ر مجلہ ماہنامہ ’’ آستانہ ‘‘ کے آپ شاعر خصوصی تھے ۔ آپ کلام طویل عرصہ تک آستانہ دہلی میں ’’ شاعر آستانہ ‘‘ کے نام سے شائع ہوتا رہا ہے ۔
خواجہ حسن نظامی آپ کے کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ مولانا ضیاء القادری کے کلام میں ایسی مذہبی زندگی ہے جو ایک دفعہ کے لئے ان مردہ دِلوں کو بھی گرما دےگی جو مذہبی تاثرات کے معاملہ میں بِالکل ٹھنڈے ہو چکے ہیں ‘‘۔
ناصر اسلام خطیب اہل سنت مولانا پیر سید عبد السلام قادری باندوی علیہ الرحمہ (سنِ وصال ۱۹۶۸ء) آپ کی شاعری و شخصیت پر یوں تبصرہ فرماتے ہیں ‘‘۔
’’ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذوقِ شعر و ادب قدرت نے کمسنی ہی سے آپ کی فطرت میں ودیعت فرمایا تھا ۔ دس سال کی عمر میں آپ بے ساختہ شعر کہنے لگے تھے چونکہ ہوش سنبھالتے ہی حضرت زبدۃ العرفاء مولانا علی احمد خان صاحب اسیر قادری نقشبندی بدایونی شہید مدینہ علیہ الرحمہ کی تعلیمی برکات نے آپ کو اعلی حضرت، قطب ربانی محب یزدانی، تاج العلماء، سراج الاولیاء، تاج الفحول، محب الرسول، مظہر حق، مولانا عبد القادر الثانی العثمانی فقیر نواز فقیر قادری بدایونی جیسے خدا رسیدہ قطبِ وقت کی خدمت میں پیش کر کے ان کی مقبول دعاؤں کا مستحق بنا دیا تھا ۔ اس لئے آپ کی طبع رسانے کسی وقت بھی مجازی شاعری کی طرف رغبت نہ کی اور نعت و مناقب ہی کے لئے آپ کی زندگی وقف ہو گئی ۔
حضرت محسن کاکوری ، حضرت امیر مینائی ، حضرت حافظ پیلی بھیتی ، حضرت حسن بریلوی ، حضرت رضوان مراد آبادی کے بعد ہندوستان میں آپ کو جو انفرادیت اور مقبولیت حاصل ہوئی اس سے تمام علماء و مشائخ اور دنیائے شعر و ادب واقف ہے ۔ لسان الحسان ، شاعر اعظم اہل سنت ، حسان پاکستان آپ کے وہ خطابات ہیں جو اکابر علماء و مشائخ نے آپ کو عظیم الشان اجتماعات میں دِیئے ہیں ۔ آپ کا مشغلہ حیات مستقل طور پر تبلیغ و ترویج محبت و عظمت حضور خاتم المرسلین و رحمۃ للعالمین ﷺ ہے ۔ آپ کے مضامین نظم و نثر نصف صدی پیشتر سے اخبارات و رسائل میں شائع ہو رہے ہیں ۔ بکثرت تصانیف آپ کی منظر عام پر آ چُکی ہیں آج بھی رسالہ آستانہ دہلی آپ کے رشحات قلم سے سیراب ہو رہا ہے ۔ مشاہیر اساتذہ اہل سخن کو آپ سے شرف تلمذ حاصل ہے ۔ ’’ مرقع شہادت ‘‘ آپ کے مخزن تصانیف کا وہ پیش بہا سرمایہ ہے جو دس سال پیشتر چھپ کر اپنی مقبولیت عامہ کے باعث بالکل نایاب ہو چکا تھا ۔
حضرت مولانا کا تاریخی نام: محمد فضل الرحمٰن ـ عرفی نام: محمد یعقوب حسین ـ قلمی نام: ضیاء القادری ـ تخلص: ضیاء ـ اور خطابات: لسان الحسان، شاعر اہل سنت، حسانِ پاکستان اور مورخ اہل سنت ملے ہوئے تھے ۔
ولادت:
۲۶ رجب المرجب شب معراج نبوی ۱۳۰۰ھ بمطابق ۲ جون ۱۸۸۳ء کو بعد نماز عشاء مدینۃ العلم بدایوں (بھارت) میں تولد ہوئے ۔
آپ کے مورث اعلی مولانا خواجہ عبد اللہ چشتی بدایون کے مایہ ناز عالم اور مشہور محدث و مفسر تھے ۔ چار سال کی عمر میں والدین کا سایہ عاطف سر سے اُٹھ گیا اس لئے تربیت کا انتظام غالب و مومن کے شاگرد مولانا علی احمد خان نے کیا ۔
تعلیم و تربیت:
جب مولانا کی عمر سات سال ہوئی تو انہیں افاضل اساتذہ نے پڑھانا شروع کیا ۔ پہلے قرآن مجید پڑھایا پھر فقہ، تفسیر اور حدیث کی کتابیں پڑھائیں ۔ تقریباً چودہ سال کی عمر میں آپ نے عالمانہ استعداد حاصل کر لی ۔
سفر حرمین شریفین:
آپ ہندوستان سے پاکستان مستقل منتقل ہوئے اور ۱۳۲ھ؍ ۱۹۴۸ء میں آپ کو حج و زیارتِ روضۂ رسول ﷺ کی سعادت حاصل ہوئی اور آپ کو یہ امتیازی کے مزار پر انوار (بغداد شریف) پر حاضری بھی نصیب ہوئی ۔
عادات و خصائل:
مولانا ضیاء القادری نہایت خلیق اور سراپا درد بزرگ تھے ، ایثار و خلوص کی جیتی جاگتی تصویر تھے ، انکسار پسند ، اور شگفتہ مزاج تھے ، ظاہری شان و شوکت سے آپ کو کوئی لگاوٗ نہ تھا ، تقویٰ و پرہیز گاری میں سلف صالحین کا بہتری نمونہ تھے ۔
۱۹۱۷ء سے ایک عرصہ تک آپ کے زیرِ اہتمام بدایوں میں رجبی شریف کے عظیم الشان جلسے منعقد ہوتے رہے ۔ تقریباً ۳۵ سال تک سرکاری ملازمت سے وابستہ رہے اس کے باوجود علم و ادب کی وہ گراں قدر خدمات انجام دیں جنہیں تاریخ فراموش نہیں کر سکتی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نظم و نثر پر یکساں قدرت عطا فرمائی تھی ۔
تلامذہ:
پاک و ہند کے مشہور شعرائے کرام مثلاً شکیل بدایونی، اختر الحامدی، مضطر صابری، ماہر القادری، طالب انصاری، محشر بدایونی، سحر اکبر آبادی، تابش قصوری، صابر براری اور رضا قریشی آپ کے ممتاز شاگرد ہیں ۔
شاعری:
دہلی میں حضرت شاہ کلیم اللہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ کے دربار سے شائع ہونے والے مشہو ر مجلہ ماہنامہ ’’ آستانہ ‘‘ کے آپ شاعر خصوصی تھے ۔ آپ کلام طویل عرصہ تک آستانہ دہلی میں ’’ شاعر آستانہ ‘‘ کے نام سے شائع ہوتا رہا ہے ۔
خواجہ حسن نظامی آپ کے کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ مولانا ضیاء القادری کے کلام میں ایسی مذہبی زندگی ہے جو ایک دفعہ کے لئے ان مردہ دِلوں کو بھی گرما دےگی جو مذہبی تاثرات کے معاملہ میں بِالکل ٹھنڈے ہو چکے ہیں ‘‘۔
ناصر اسلام خطیب اہل سنت مولانا پیر سید عبد السلام قادری باندوی علیہ الرحمہ (سنِ وصال ۱۹۶۸ء) آپ کی شاعری و شخصیت پر یوں تبصرہ فرماتے ہیں ‘‘۔
’’ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذوقِ شعر و ادب قدرت نے کمسنی ہی سے آپ کی فطرت میں ودیعت فرمایا تھا ۔ دس سال کی عمر میں آپ بے ساختہ شعر کہنے لگے تھے چونکہ ہوش سنبھالتے ہی حضرت زبدۃ العرفاء مولانا علی احمد خان صاحب اسیر قادری نقشبندی بدایونی شہید مدینہ علیہ الرحمہ کی تعلیمی برکات نے آپ کو اعلی حضرت، قطب ربانی محب یزدانی، تاج العلماء، سراج الاولیاء، تاج الفحول، محب الرسول، مظہر حق، مولانا عبد القادر الثانی العثمانی فقیر نواز فقیر قادری بدایونی جیسے خدا رسیدہ قطبِ وقت کی خدمت میں پیش کر کے ان کی مقبول دعاؤں کا مستحق بنا دیا تھا ۔ اس لئے آپ کی طبع رسانے کسی وقت بھی مجازی شاعری کی طرف رغبت نہ کی اور نعت و مناقب ہی کے لئے آپ کی زندگی وقف ہو گئی ۔
حضرت محسن کاکوری ، حضرت امیر مینائی ، حضرت حافظ پیلی بھیتی ، حضرت حسن بریلوی ، حضرت رضوان مراد آبادی کے بعد ہندوستان میں آپ کو جو انفرادیت اور مقبولیت حاصل ہوئی اس سے تمام علماء و مشائخ اور دنیائے شعر و ادب واقف ہے ۔ لسان الحسان ، شاعر اعظم اہل سنت ، حسان پاکستان آپ کے وہ خطابات ہیں جو اکابر علماء و مشائخ نے آپ کو عظیم الشان اجتماعات میں دِیئے ہیں ۔ آپ کا مشغلہ حیات مستقل طور پر تبلیغ و ترویج محبت و عظمت حضور خاتم المرسلین و رحمۃ للعالمین ﷺ ہے ۔ آپ کے مضامین نظم و نثر نصف صدی پیشتر سے اخبارات و رسائل میں شائع ہو رہے ہیں ۔ بکثرت تصانیف آپ کی منظر عام پر آ چُکی ہیں آج بھی رسالہ آستانہ دہلی آپ کے رشحات قلم سے سیراب ہو رہا ہے ۔ مشاہیر اساتذہ اہل سخن کو آپ سے شرف تلمذ حاصل ہے ۔ ’’ مرقع شہادت ‘‘ آپ کے مخزن تصانیف کا وہ پیش بہا سرمایہ ہے جو دس سال پیشتر چھپ کر اپنی مقبولیت عامہ کے باعث بالکل نایاب ہو چکا تھا ۔
❤1
آج ارباب نظر کے سامنے میں فخر و مباہات کے ساتھ ’’ مرقع شہادت ‘‘ پیش کرنے کی عزت حاصل کر رہا ہوں ، علماء اہل سنت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ نظم میں مرقع شہادت تمام اصناف سخن اور صحت واقعات کے اعتبار سے بے مثل کتاب ہے اور ہر گھر میں اس کتاب کا ہونا چاہئے ۔
اس کو دربار رسالت ﷺ کا عطیہ کہیں کہ حضرت مولانا ضیاء القادری مد ظلہم کو باوجود ان کمالات عظیمیہ کے شہرت نام و نمود سے ہمیشہ اجتناب ہی نہیں بلکہ قطعاً بے تعلقی رہی، یہی وجہ ہے کہ آپ کے سات دیوان موجود ہوتے ہوئے صرف دو دیوان تاج مضامین منقبت میں ’’ تجلیات نعت ‘‘ نعت شریف میں مطبوع ہو کر مفقود ہو گئے ہیں ۔ باقی منظومات کا دفتر ہنوز غیر مطبوعہ موجود ہے ۔
( مرقع شہادت ، طبع دوئم، انجمن امانت الا سلام )
علامہ عبد الحامد بدایونی علیہ الرحمۃ رقمطراز ہیں: علماء و مشائخین ارباب علم و ادب یکساں طور پر ضیاء کی نظموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ مولانا ضیاء القادر محض ایک کامیاب شاعر ہی نہیں بلکہ علم و اد ب اور ’’ فن تاریخ ‘‘ میں بھی خاص ادراک اور مہارت رکھتے ہیں اور کثیر تصانیف ملک کے سامنے پیش فرما چکے ہیں‘‘ (مرقع شہادت ، تقریظ)
تصنیف و تالیف:
مولانا نے نظم و نثر میں تصانیف کا گراں قدر ذخیرہ یادگار چھوڑا ہے آپ کی چند تصانیف کے نام یہ ہیں:
٭ اکمل التاریخ (۲ جلدیں) حضرت مولانا فضل رسول قادری علیہ الرحمہ کا مفصل خاندانی تذکرہ مطبوعہ نظامی پریس بدایوں ۱۹۱۵ء
٭ تاریخ اولیائے بدایوں مطبوعہ کراچی ۱۳۷۷ء
٭ تجلیات نعت ۔ تاج مضامین (مناقت) ستارہ چشت ۔ دیار نبی ۔ جوار غوث الوریٰ ـ
٭ ہفت احمد ۔ قصائد صبح نورانی ۔ مجموعہ سلام ۔ کلام ضیائی ۔ خزینۂ بہشت ۔ نغمہ ربانی ۔ بہار چشت ۔ چراغ صبح جمال
٭ مرقع شہادت (نظم) طبع اول بدایوں ۱۳۶۰ھ ؍ ۱۹۴۱ء ، طبع دوم انجمن امانت الا سلام کراچی ۱۹۵۱ء
٭ قصائد نورانی ـ
٭ ماہنامہ نعت لاہور نے جولائی ۱۹۸۹ء کے خصوصی شمارہ میں ’’ کلام ضیاء ‘‘ شائع کیا ۔
حضرت مولانا ضیاء القادری نے الحاج علی حسین آباد (سابق استاد کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ) کی کتاب ’’ مصباح الآخرت ‘‘ پر تقریظ میں لکھتے ہیں:
غیر منقسم ہندوستان میں ایک ہزار سال تک اسلامی سلطنت قائم رہی ۔ تمام اِسلامیانِ ہند کا ایک ہی مذہب و مسلک رہا ۔ انگریز کے قدم آنے سے قبل مسلمانان ہند واعتصموا بحبل اللہ جمیعا الا تفرقوا پر پورے استحکام کے ساتھ عامل تھے ۔ عاملین برطانیہ نے اپنے جبلی فریب سیاست سے سواد الاعظم اسلام میں اخنہ اندازی شروع کی اور نئے نئے مذاہب جاری کرا کے ان کو پروان چڑھایا اور اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے والوں میں تفرقہ اندازی کی داغ بیل ڈالی ۔
دورِ آخر میں مسلمانوں کی شیرازہ بندی اور سیاسی و ملکی حقوق کے حصول کیلئے مسلم لیگ ایک نصب العین لے کر میدان عمل میں آئی ۔ دنیانے دیکھ لیا کہ انگریز کے بنائے مذاہب اور فرنگی کے مرغان دست پرور نے مسلم لیگ اور ان کے نصب العین پاکستان کی شدید مخالفت کی مگر سواد الاعظم اسلام یعنی مذہب اہل سنت والجماعت اور اس کے علماء و مشائخ نے سر دھڑ کی بازی لگا کر پاکستان حاصل کر لیا ‘‘۔
( مصباح الآخرت مطبوعہ کراچی ۱۹۵۴ء )
بیعت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت مولانا عبد الرسول محب احمد قادری سے دستِ بیعت تھے اور حضرت علامہ عبد المقتدد بدایونی قادری کے خلیفہ مجاز تھے ۔ (بزرگانِ قادریہ ص ۲۲۹) ـ
شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس سے نرینہ اولاد میں سے محمد یوسف قادری تولد ہوئے لیکن آج وہ بھی ہم میں موجود نہیں ہے ۔
وصال:
مولانا ضیاء القادری نے ۱۲ جمادی الآخر ۱۳۹۰ھ بمطابق ۱۵ اگست ۱۹۷۰ء بروز ہفتہ ۸۷ سال کی عمر میں وصال فرمایا ۔ مزار شریف فیدرل بی ایریا کے قبرستان (کراچی) میں واقع ہے ۔
( تذکرہ اکابر اہل سنت مطبوعہ لاہور )
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-zia-ul-qadri-badayuni
اس کو دربار رسالت ﷺ کا عطیہ کہیں کہ حضرت مولانا ضیاء القادری مد ظلہم کو باوجود ان کمالات عظیمیہ کے شہرت نام و نمود سے ہمیشہ اجتناب ہی نہیں بلکہ قطعاً بے تعلقی رہی، یہی وجہ ہے کہ آپ کے سات دیوان موجود ہوتے ہوئے صرف دو دیوان تاج مضامین منقبت میں ’’ تجلیات نعت ‘‘ نعت شریف میں مطبوع ہو کر مفقود ہو گئے ہیں ۔ باقی منظومات کا دفتر ہنوز غیر مطبوعہ موجود ہے ۔
( مرقع شہادت ، طبع دوئم، انجمن امانت الا سلام )
علامہ عبد الحامد بدایونی علیہ الرحمۃ رقمطراز ہیں: علماء و مشائخین ارباب علم و ادب یکساں طور پر ضیاء کی نظموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ مولانا ضیاء القادر محض ایک کامیاب شاعر ہی نہیں بلکہ علم و اد ب اور ’’ فن تاریخ ‘‘ میں بھی خاص ادراک اور مہارت رکھتے ہیں اور کثیر تصانیف ملک کے سامنے پیش فرما چکے ہیں‘‘ (مرقع شہادت ، تقریظ)
تصنیف و تالیف:
مولانا نے نظم و نثر میں تصانیف کا گراں قدر ذخیرہ یادگار چھوڑا ہے آپ کی چند تصانیف کے نام یہ ہیں:
٭ اکمل التاریخ (۲ جلدیں) حضرت مولانا فضل رسول قادری علیہ الرحمہ کا مفصل خاندانی تذکرہ مطبوعہ نظامی پریس بدایوں ۱۹۱۵ء
٭ تاریخ اولیائے بدایوں مطبوعہ کراچی ۱۳۷۷ء
٭ تجلیات نعت ۔ تاج مضامین (مناقت) ستارہ چشت ۔ دیار نبی ۔ جوار غوث الوریٰ ـ
٭ ہفت احمد ۔ قصائد صبح نورانی ۔ مجموعہ سلام ۔ کلام ضیائی ۔ خزینۂ بہشت ۔ نغمہ ربانی ۔ بہار چشت ۔ چراغ صبح جمال
٭ مرقع شہادت (نظم) طبع اول بدایوں ۱۳۶۰ھ ؍ ۱۹۴۱ء ، طبع دوم انجمن امانت الا سلام کراچی ۱۹۵۱ء
٭ قصائد نورانی ـ
٭ ماہنامہ نعت لاہور نے جولائی ۱۹۸۹ء کے خصوصی شمارہ میں ’’ کلام ضیاء ‘‘ شائع کیا ۔
حضرت مولانا ضیاء القادری نے الحاج علی حسین آباد (سابق استاد کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ) کی کتاب ’’ مصباح الآخرت ‘‘ پر تقریظ میں لکھتے ہیں:
غیر منقسم ہندوستان میں ایک ہزار سال تک اسلامی سلطنت قائم رہی ۔ تمام اِسلامیانِ ہند کا ایک ہی مذہب و مسلک رہا ۔ انگریز کے قدم آنے سے قبل مسلمانان ہند واعتصموا بحبل اللہ جمیعا الا تفرقوا پر پورے استحکام کے ساتھ عامل تھے ۔ عاملین برطانیہ نے اپنے جبلی فریب سیاست سے سواد الاعظم اسلام میں اخنہ اندازی شروع کی اور نئے نئے مذاہب جاری کرا کے ان کو پروان چڑھایا اور اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے والوں میں تفرقہ اندازی کی داغ بیل ڈالی ۔
دورِ آخر میں مسلمانوں کی شیرازہ بندی اور سیاسی و ملکی حقوق کے حصول کیلئے مسلم لیگ ایک نصب العین لے کر میدان عمل میں آئی ۔ دنیانے دیکھ لیا کہ انگریز کے بنائے مذاہب اور فرنگی کے مرغان دست پرور نے مسلم لیگ اور ان کے نصب العین پاکستان کی شدید مخالفت کی مگر سواد الاعظم اسلام یعنی مذہب اہل سنت والجماعت اور اس کے علماء و مشائخ نے سر دھڑ کی بازی لگا کر پاکستان حاصل کر لیا ‘‘۔
( مصباح الآخرت مطبوعہ کراچی ۱۹۵۴ء )
بیعت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت مولانا عبد الرسول محب احمد قادری سے دستِ بیعت تھے اور حضرت علامہ عبد المقتدد بدایونی قادری کے خلیفہ مجاز تھے ۔ (بزرگانِ قادریہ ص ۲۲۹) ـ
شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس سے نرینہ اولاد میں سے محمد یوسف قادری تولد ہوئے لیکن آج وہ بھی ہم میں موجود نہیں ہے ۔
وصال:
مولانا ضیاء القادری نے ۱۲ جمادی الآخر ۱۳۹۰ھ بمطابق ۱۵ اگست ۱۹۷۰ء بروز ہفتہ ۸۷ سال کی عمر میں وصال فرمایا ۔ مزار شریف فیدرل بی ایریا کے قبرستان (کراچی) میں واقع ہے ۔
( تذکرہ اکابر اہل سنت مطبوعہ لاہور )
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-zia-ul-qadri-badayuni
❤1