فراست و بصیرت:
حضرت خواجہ نقشبند سے منقول ہے کہ جب میری عمر اٹھارہ سال یا کچھ کم و بیش ہوئی تو میرے جد امجد کو میرے نکاح کی فکر ہوئی۔ انہوں نے مجھے خواجہ محمد بابا قدس سرہ کے بلانے کے لیے قصر عارفاں میں بھیجاتا کہ ان کے قدم کی برکت سے یہ کام انجام کو پہنچ پائے۔ جب میں آپ کی زیارت سے مشرف ہوا تو پہلی کرامت جو دیکھنے میں آئی یہ تھی کہ اس رات آپ کی صحبت و برکت سے مجھ میں بڑا تضرع و نیاز پیدا ہوا۔
رات کے اخیر حصے میں اٹھ کر میں نے وضو کیا اور آپ کی مسجد مبارک میں جاکر دو رکعت نماز پڑھی۔ اور سر سجدے میں رکھ کر دعا و تضرع بہت کیا۔ اسی اثنا میں میری زبان سے نکلا ’’خدایا! مجھے بلا (آزمائش) کا بوجھ اٹھانے اور اپنی محبت کی محنت برداشت کرنے کی قوت عطا فرما‘‘۔ صبح کو جو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ازروئے فراست و بصیرت میری رات کی سرگزشت سے آگاہ ہوکر فرمایا۔ اے فرزند! دعا میں یوں کہنا چاہیے۔ ’’خدایا! اس بندہ ضعیف کو اپنے فضل و کرم سے اسی پر قائم رکھ جس میں تیری رضا ہے۔‘‘ پھر فرمایا کہ بے شک خدا عزوجل کی رضا تو اس میں ہے کہ بندہ بلا میں مبتلا نہ ہو۔ اگر وہ بنابر حکمت اپنے کسی دوست پر بلا بھیجتا ہے۔ تو اپنی عنایت سے اس دوست کو اس بلا کے برداشت کرنے کی قوت عطا فرماتا ہے اور اس کی حکمت اس پر ظاہر کردیتا ہے۔ اپنے اختیار سے بلا طلب کرنا دشوار ہے۔ گستاخی نہ کرنی چاہیے۔ بعد ازاں کھانا لایا گیا۔
جب کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے دستر خوان پر سے ایک روٹی مجھے دی۔ میں لینا نہ چاہتا تھا۔ آپ نے فرمایا۔ لے لو۔ کام آئے گی۔ میں نے وہ روٹی لے لی اور آپ کے ہمراہ قصرِ عارفاں کی طرف روانہ ہوا۔ اثنائے راہ میں میرے باطن میں جب کوئی خطرہ پیدا ہوتا تو آپ فرماتے کہ باطن کی حفاظت چاہیے۔ ان حالات کے مشاہدے سے حضرت کی نسبت میرا یقین و اعتقاد زیادہ ہوتا جاتا تھا۔ راستے میں ایک جگہ پہنچے جہاں حضرت کا ایک محبّ و مخلص تھا۔ وہ بڑی بشاشت اور عاجزی سے پیش آیا۔ جب آپ اس کے مکان میں اترے تو آپ نے اس کے اضطراب و بے قراری کو دیکھ کر فرمایا۔ کہ سچ بتاؤ۔ اس اضطراب کی سبب کیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ گھر میں دودھ کا پنیر تو حاضر ہے مگر روٹی موجود نہیں۔ حضرت خواجہ نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا وہ روٹی لاؤ۔ تم نے دیکھا کہ آخر کام آگئی۔ یہ پہلے حالات ہیں جو میں نے حضرت بابا سے مشاہدہ کیے۔
وصال مُبارک:
بعض رسائل میں آپ کا سنہ وصال ۱۰ جمادی الاخریٰ ۷۵۵ھ لکھا ہے۔ مزار مبارک موضع سماسی میں ہے۔ (رشحات۔ انیس الطالبین) ۔
( مشائخِ نقشبندیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-baba-samasi-bukhara
حضرت خواجہ نقشبند سے منقول ہے کہ جب میری عمر اٹھارہ سال یا کچھ کم و بیش ہوئی تو میرے جد امجد کو میرے نکاح کی فکر ہوئی۔ انہوں نے مجھے خواجہ محمد بابا قدس سرہ کے بلانے کے لیے قصر عارفاں میں بھیجاتا کہ ان کے قدم کی برکت سے یہ کام انجام کو پہنچ پائے۔ جب میں آپ کی زیارت سے مشرف ہوا تو پہلی کرامت جو دیکھنے میں آئی یہ تھی کہ اس رات آپ کی صحبت و برکت سے مجھ میں بڑا تضرع و نیاز پیدا ہوا۔
رات کے اخیر حصے میں اٹھ کر میں نے وضو کیا اور آپ کی مسجد مبارک میں جاکر دو رکعت نماز پڑھی۔ اور سر سجدے میں رکھ کر دعا و تضرع بہت کیا۔ اسی اثنا میں میری زبان سے نکلا ’’خدایا! مجھے بلا (آزمائش) کا بوجھ اٹھانے اور اپنی محبت کی محنت برداشت کرنے کی قوت عطا فرما‘‘۔ صبح کو جو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ازروئے فراست و بصیرت میری رات کی سرگزشت سے آگاہ ہوکر فرمایا۔ اے فرزند! دعا میں یوں کہنا چاہیے۔ ’’خدایا! اس بندہ ضعیف کو اپنے فضل و کرم سے اسی پر قائم رکھ جس میں تیری رضا ہے۔‘‘ پھر فرمایا کہ بے شک خدا عزوجل کی رضا تو اس میں ہے کہ بندہ بلا میں مبتلا نہ ہو۔ اگر وہ بنابر حکمت اپنے کسی دوست پر بلا بھیجتا ہے۔ تو اپنی عنایت سے اس دوست کو اس بلا کے برداشت کرنے کی قوت عطا فرماتا ہے اور اس کی حکمت اس پر ظاہر کردیتا ہے۔ اپنے اختیار سے بلا طلب کرنا دشوار ہے۔ گستاخی نہ کرنی چاہیے۔ بعد ازاں کھانا لایا گیا۔
جب کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے دستر خوان پر سے ایک روٹی مجھے دی۔ میں لینا نہ چاہتا تھا۔ آپ نے فرمایا۔ لے لو۔ کام آئے گی۔ میں نے وہ روٹی لے لی اور آپ کے ہمراہ قصرِ عارفاں کی طرف روانہ ہوا۔ اثنائے راہ میں میرے باطن میں جب کوئی خطرہ پیدا ہوتا تو آپ فرماتے کہ باطن کی حفاظت چاہیے۔ ان حالات کے مشاہدے سے حضرت کی نسبت میرا یقین و اعتقاد زیادہ ہوتا جاتا تھا۔ راستے میں ایک جگہ پہنچے جہاں حضرت کا ایک محبّ و مخلص تھا۔ وہ بڑی بشاشت اور عاجزی سے پیش آیا۔ جب آپ اس کے مکان میں اترے تو آپ نے اس کے اضطراب و بے قراری کو دیکھ کر فرمایا۔ کہ سچ بتاؤ۔ اس اضطراب کی سبب کیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ گھر میں دودھ کا پنیر تو حاضر ہے مگر روٹی موجود نہیں۔ حضرت خواجہ نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا وہ روٹی لاؤ۔ تم نے دیکھا کہ آخر کام آگئی۔ یہ پہلے حالات ہیں جو میں نے حضرت بابا سے مشاہدہ کیے۔
وصال مُبارک:
بعض رسائل میں آپ کا سنہ وصال ۱۰ جمادی الاخریٰ ۷۵۵ھ لکھا ہے۔ مزار مبارک موضع سماسی میں ہے۔ (رشحات۔ انیس الطالبین) ۔
( مشائخِ نقشبندیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-baba-samasi-bukhara
scholars.pk
Hazrat Khawaja Muhammad Baba Samasi Bukhara
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ حافظ محمد صدیق قادری بانیِ خانقاہ بھرچونڈی شریف رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی: حافظ محمدصدیق بھرچونڈی۔ لقب: خورشید ولایت۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ حافظ محمد صدیق قادری، بن میاں محمد ملوک (علیہماالرحمہ) آپ کے خاندان کے لوگ عرب سے کیچ مکران کے راستے سندھ میں داخل ہوئے، اور بھرچونڈی شریف سے تین میل دور ایک جگہ پر ڈیرہ لگایا اور پھری ہیں آباد ہوگئے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت تقریباً 1234 ہجری بمطابق 1818ءکو بھرچونڈی شریف ضلع گھوٹکی صوبہ سندھ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے گھر کے نزدیک مکتب میں حاصل کی ۔اس کے بعد موضع جندو ماڑی احمد پور شرقیہ کے ایک مدرسہ میں داخلہ لیا۔آپ کی عمر بارہ برس کی تھی کہ آپ کی والدہ ماجدہ آپ کو حضرت پیر سید حسن شاہ صاحب جیلانی علیہ الرحمہ کی خدمت میں بھرچونڈی شریف لے گئیں۔ آپ نے بڑی شفقت سے آپ کو قرأت و تجوید سے قرآن کریم حفظ کرایا۔ آپ کی قرأت پورے سندھ میں مشہورتھی۔
بیعت وخلافت:
آپ حضرت سید محمد حسن شاہ جیلانی قادری علیہ الرحمۃ بانی سوئی شریف کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سےمشرف ہوئے۔
سیرت وخصائص:
شیخ المشائخ،امام الصوفیاء،شیخ الاتقیاء، حضرت شیخ محمدصدیق قادری بانیِ خانقاہ بھرچونڈی شریف ۔آپ علیہ الرحمہ نےخانقاہ بھرچونڈی شریف کی اساس رکھی۔اس خانقاہ نےآگےچل کرملک وملت کی راہنمائی میں بڑا اہم کرداراداکیا۔ حضرت حافظ صاحب علیہ الرحمہ مادرزادولی تھے۔سلہ عالیہ اویسیہ کے روح رواں حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی علیہ الرحمہ کااحمدپور شرقیہ سے روزانہ گزر ہوتا۔ آپ وہاں تعلیم حاصل کرتےتھے۔تو وہ اپنے احباب سے فرماتے کہ اس مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء سے
کسی کامل کی خوشبو آرہی ہے۔ خادم نے عرض کیا ایک تھان کھدر (کپڑے)کالےکر طلباء میں تقسیم فرمائیں پتہ چل جائے گا۔
چنانچہ ایک ایک طالب علم کوخواجہ سیرانی نے بلاکر اپنے ہاتھوں سے کسی کو قمیض کا کپڑا کسی کو چادر کا کپڑا پیش کیا۔ اس دوران ہر ایک طالب علم ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن ایک بچہ دور ایک گوشے میں کھڑا ٹکٹکی باندھے حضور خواجہ سیرانی کو دیکھ رہا تھا۔ جب سب طلباء فارغ ہوگئے تو حضرت خواجہ سیرانی نے اس بچے کو بلاکر چادر پیش کرنا چاہی تو اس بچے نے عرض کیا۔ حضور!میں تو ایسی چادر چاہتا ہوں کہ جو نہ میلی ہو، نہ ہی چھوٹی ہو، اور نہ ہی پھٹے، حضرت خواجہ سیرانی نے چادر پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہی بچہ ہے۔ وہ چادر آج تک آستانہ عالیہ بھرچونڈی شریف میں موجود ہے۔
آپ نے اپنے وجود مبارک کو سنت ِمصطفیٰ ﷺمیں ڈھال رکھا تھا ۔بے نماز آدمی سے راہ ورسم لین دین کھانا پینا اچھا نہ سمجھتےتھے۔جس شادی میں ڈھول باجے نقارے بجائے جاتے، اس شادی میں اپنے مریدین کو شرکت سے منع فرماتے تھے۔ آپ نے اپنے سلسلہ طریقت کی بنیاد تین چیزوں پر رکھی۔ اول :تلاوت قرآن۔دوم:نماز۔سوم: ذکر خدا۔آپ نے بھر چونڈی شریف میں ایک عظیم الشان اور ایسی مسجد تعمیر کروائی جس کی مثال آپ کے زمانہ یا آپ کے زمانے کے بعد اب تک نہیں ملتی۔اینٹیں بنانے والے اور اینٹیں پکانے والے مزدور با وضو اور پھر مسجد کی تعمیر میں کام کرنے والے مزدور اور معمار باوضو۔ حالت یہ تھی کہ گارا بنانے والا اگر گارا بنارہا ہے تو زبان پر ذکر الٰہی جاری ہے۔ معمار اینٹ ہاتھوں سے لگا رہا ہےمگر زبان پر ذکر خدا جاری ہے۔ مسجد کی تعمیر میں پیر و مرید، امام اور مقتدی، فقراؤ خلفأ، خادم و مخدوم سب کے سب ہی گارا اینٹ اٹھانے میں لگے ہوئے ہیں لیکن ذکر الٰہی میں رطب اللسان ہیں۔بلا وضو ایک اینٹ بھی نہیں لگائی گئی۔
آپ کاہرکام اللہ جل شانہ اوراس کےحبیب ﷺرضاہوتاتھا۔کوئی دنیاوی منفعت اس میں نہ ہوتی ۔آپ کے زمانے میں ایک شخص مہمان ہوا۔ لنگر کی تقسیم عشاء کے بعد ہوتی تھی۔ مہمان نے عشاء سے قبل کھانا طلب کیا۔ فقیروں نے کہا کہ نماز کے بعد ہی دال دلیہ تقسیم ہوگا۔ چلو تم بھی نماز پڑھ لو اور پھر کھالینا۔ اس نے کہا میری چالیس برس کی عمر ہوگئی ہے۔ آج تک نما زنہیں پڑھی۔ اللہ تعالیٰ نے تو میری روٹی بند نہیں کی۔ آج تم ہو کہ بغیر نماز پڑھے روٹی نہیں دیتے۔ فقیروں نے یہ بات آپ کی خدمت میں عرض کی تو آپ نے اس کو طلب کیا اور فرمایا :کہ یار بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔وہ توشانِ بےنیازی کامالک ہے۔ ہم سے اگر یہ سوال ہوا کہ تم نے ایک بے نماز کو کیوں کھانا کھلایا۔ تو ہم کیا جواب دیں گے۔ آپ کے ان سیدھے سادھے لفظوں میں وہ مٹھاس اور کشش تھی کہ اس شخص پر رقت طاری ہوگئی اور چالیس سالہ گناہوں کا دفتر آنسوؤں سے دُھلنے لگا،اوروہ تائب ہوکراللہ جل شانہ کافرمانبرداربندہ بن گیا۔
وصال:
10 جمادی الثانی 1308ھ، مطابق 1890ء کو ہوا۔ مزار پُر انوار بھرچونڈی شریف میں مرجع خاص وعام ہے۔
ماخذ و مراجع:
انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام، ج:1۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-hafiz-muhammad-siddique-qadri
نام ونسب:
اسم گرامی: حافظ محمدصدیق بھرچونڈی۔ لقب: خورشید ولایت۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ حافظ محمد صدیق قادری، بن میاں محمد ملوک (علیہماالرحمہ) آپ کے خاندان کے لوگ عرب سے کیچ مکران کے راستے سندھ میں داخل ہوئے، اور بھرچونڈی شریف سے تین میل دور ایک جگہ پر ڈیرہ لگایا اور پھری ہیں آباد ہوگئے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت تقریباً 1234 ہجری بمطابق 1818ءکو بھرچونڈی شریف ضلع گھوٹکی صوبہ سندھ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے گھر کے نزدیک مکتب میں حاصل کی ۔اس کے بعد موضع جندو ماڑی احمد پور شرقیہ کے ایک مدرسہ میں داخلہ لیا۔آپ کی عمر بارہ برس کی تھی کہ آپ کی والدہ ماجدہ آپ کو حضرت پیر سید حسن شاہ صاحب جیلانی علیہ الرحمہ کی خدمت میں بھرچونڈی شریف لے گئیں۔ آپ نے بڑی شفقت سے آپ کو قرأت و تجوید سے قرآن کریم حفظ کرایا۔ آپ کی قرأت پورے سندھ میں مشہورتھی۔
بیعت وخلافت:
آپ حضرت سید محمد حسن شاہ جیلانی قادری علیہ الرحمۃ بانی سوئی شریف کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سےمشرف ہوئے۔
سیرت وخصائص:
شیخ المشائخ،امام الصوفیاء،شیخ الاتقیاء، حضرت شیخ محمدصدیق قادری بانیِ خانقاہ بھرچونڈی شریف ۔آپ علیہ الرحمہ نےخانقاہ بھرچونڈی شریف کی اساس رکھی۔اس خانقاہ نےآگےچل کرملک وملت کی راہنمائی میں بڑا اہم کرداراداکیا۔ حضرت حافظ صاحب علیہ الرحمہ مادرزادولی تھے۔سلہ عالیہ اویسیہ کے روح رواں حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی علیہ الرحمہ کااحمدپور شرقیہ سے روزانہ گزر ہوتا۔ آپ وہاں تعلیم حاصل کرتےتھے۔تو وہ اپنے احباب سے فرماتے کہ اس مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء سے
کسی کامل کی خوشبو آرہی ہے۔ خادم نے عرض کیا ایک تھان کھدر (کپڑے)کالےکر طلباء میں تقسیم فرمائیں پتہ چل جائے گا۔
چنانچہ ایک ایک طالب علم کوخواجہ سیرانی نے بلاکر اپنے ہاتھوں سے کسی کو قمیض کا کپڑا کسی کو چادر کا کپڑا پیش کیا۔ اس دوران ہر ایک طالب علم ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن ایک بچہ دور ایک گوشے میں کھڑا ٹکٹکی باندھے حضور خواجہ سیرانی کو دیکھ رہا تھا۔ جب سب طلباء فارغ ہوگئے تو حضرت خواجہ سیرانی نے اس بچے کو بلاکر چادر پیش کرنا چاہی تو اس بچے نے عرض کیا۔ حضور!میں تو ایسی چادر چاہتا ہوں کہ جو نہ میلی ہو، نہ ہی چھوٹی ہو، اور نہ ہی پھٹے، حضرت خواجہ سیرانی نے چادر پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہی بچہ ہے۔ وہ چادر آج تک آستانہ عالیہ بھرچونڈی شریف میں موجود ہے۔
آپ نے اپنے وجود مبارک کو سنت ِمصطفیٰ ﷺمیں ڈھال رکھا تھا ۔بے نماز آدمی سے راہ ورسم لین دین کھانا پینا اچھا نہ سمجھتےتھے۔جس شادی میں ڈھول باجے نقارے بجائے جاتے، اس شادی میں اپنے مریدین کو شرکت سے منع فرماتے تھے۔ آپ نے اپنے سلسلہ طریقت کی بنیاد تین چیزوں پر رکھی۔ اول :تلاوت قرآن۔دوم:نماز۔سوم: ذکر خدا۔آپ نے بھر چونڈی شریف میں ایک عظیم الشان اور ایسی مسجد تعمیر کروائی جس کی مثال آپ کے زمانہ یا آپ کے زمانے کے بعد اب تک نہیں ملتی۔اینٹیں بنانے والے اور اینٹیں پکانے والے مزدور با وضو اور پھر مسجد کی تعمیر میں کام کرنے والے مزدور اور معمار باوضو۔ حالت یہ تھی کہ گارا بنانے والا اگر گارا بنارہا ہے تو زبان پر ذکر الٰہی جاری ہے۔ معمار اینٹ ہاتھوں سے لگا رہا ہےمگر زبان پر ذکر خدا جاری ہے۔ مسجد کی تعمیر میں پیر و مرید، امام اور مقتدی، فقراؤ خلفأ، خادم و مخدوم سب کے سب ہی گارا اینٹ اٹھانے میں لگے ہوئے ہیں لیکن ذکر الٰہی میں رطب اللسان ہیں۔بلا وضو ایک اینٹ بھی نہیں لگائی گئی۔
آپ کاہرکام اللہ جل شانہ اوراس کےحبیب ﷺرضاہوتاتھا۔کوئی دنیاوی منفعت اس میں نہ ہوتی ۔آپ کے زمانے میں ایک شخص مہمان ہوا۔ لنگر کی تقسیم عشاء کے بعد ہوتی تھی۔ مہمان نے عشاء سے قبل کھانا طلب کیا۔ فقیروں نے کہا کہ نماز کے بعد ہی دال دلیہ تقسیم ہوگا۔ چلو تم بھی نماز پڑھ لو اور پھر کھالینا۔ اس نے کہا میری چالیس برس کی عمر ہوگئی ہے۔ آج تک نما زنہیں پڑھی۔ اللہ تعالیٰ نے تو میری روٹی بند نہیں کی۔ آج تم ہو کہ بغیر نماز پڑھے روٹی نہیں دیتے۔ فقیروں نے یہ بات آپ کی خدمت میں عرض کی تو آپ نے اس کو طلب کیا اور فرمایا :کہ یار بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔وہ توشانِ بےنیازی کامالک ہے۔ ہم سے اگر یہ سوال ہوا کہ تم نے ایک بے نماز کو کیوں کھانا کھلایا۔ تو ہم کیا جواب دیں گے۔ آپ کے ان سیدھے سادھے لفظوں میں وہ مٹھاس اور کشش تھی کہ اس شخص پر رقت طاری ہوگئی اور چالیس سالہ گناہوں کا دفتر آنسوؤں سے دُھلنے لگا،اوروہ تائب ہوکراللہ جل شانہ کافرمانبرداربندہ بن گیا۔
وصال:
10 جمادی الثانی 1308ھ، مطابق 1890ء کو ہوا۔ مزار پُر انوار بھرچونڈی شریف میں مرجع خاص وعام ہے۔
ماخذ و مراجع:
انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام، ج:1۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-hafiz-muhammad-siddique-qadri
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-06-1445 ᴴ | 23-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-06-1445 ᴴ | 24-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-06-1445 ᴴ | 24-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-06-1445 ᴴ | 24-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2