Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
اسرائیل سے عربوں کی شکست کا سبب
(1)فی الوقت اسرائیل مختلف اطراف سے حملوں کا شکار ہے،لبنان کی طرف سے حزب اللہ حملے کر رہا ہے۔بحر احمر میں یمن کے انصار اللہ نے ناکوں میں دم کر رکھا ہے۔غزہ پٹی میں حماس کے سخت حملے ہو رہے ہیں۔ویسٹ بینک میں اسرائیلی فوجیوں پر فلسطینی مسلمان حملے کر رہے ہیں۔جنگ بندی کے لئے اسرائیلی عوام کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔اسی طرح ساری دنیا کے عوام جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی 153 ممالک نے جنگ بندی کی تائید کی ہے۔اسرائیل کا نقصان بھی بہت ہو رہا ہے۔ان سب کے باوجود اسرائیل غزہ پٹی،لبنان اور شام پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فیصلہ ہو چکا ہے کہ گولان کی پہاڑیاں ملک شام کی ہیں،وہ ملک شام کو دی جائیں۔ان پہاڑی علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ غلط ہے۔ملک شام کی فوج گولان پہاڑیوں کے پاس موجود ہے۔اسرائیل مشکلات میں ہے،ایسے وقت میں بھی شامی فوج منہ تاک رہی ہے۔ملک شام اپنے زور بازو سے اپنے علاقوں پر بھی قبضہ کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہا ہے۔جب ایسی حالت میں بھی شامی فوج خاموش پڑی ہوئی ہے تو جب اسرائیل مشکلات سے آزاد ہو جائے گا تو اس وقت شامی فوج کیسے اپنے علاقوں پر قبضہ کر سکے گی۔
عہد ماضی میں اسرائیل سے عربوں کی شکست کی ایک وجہ یہ بھی سمجھ میں اتی ہے کہ عرب افواج اور عربی سالار وجنگی مشیر نا اہل تھے۔وہ دشمن پر سخت حملے نہیں کرتے تھے اور دشمن سخت حملے کرتا تھا اور یہ لوگ شکست کھا کر واپس لوٹ جاتے تھے۔
(2) اسرائیل کے کچھ لوگ حماس کی قید میں ہیں۔ان قیدیوں کو چھڑانے کے لئے اسرائیلی عوام اپنی حکومت پر دباؤ بنا رہے ہیں۔اسرائیلی حکومت چاہتی ہے کہ چند دن جنگ بندی کر کے ان یہودی قیدیوں کو آزاد کرا لیا جائے۔اس کے بعد پھر غزہ پٹی کے مسلمانوں پر بمباری کر کے ان کی نسل کشی کی جائے۔حماس مستقل جنگ بندی چاہتا ہے،لیکن اسرائیل مستقل جنگ بندی کے لئے راضی نہیں،لہذا جنگ بندی کی بات چیت ناکام ہو چکی ہے۔
(3) اسرائیل غزہ پٹی کی زمینی جنگ میں بالکل ناکام اور سخت ہزیمت ورسوائی سے دو چار ہے۔اس کے باوجود اسرائیل جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ گرچہ ہر دن اسرائیل کے سو ڈیڑھ سو فوجی ہلاک ہو رہے ہیں،لیکن اسرائیل ہر دن ہوائی حملے کر کے چار پانچ سو فلسطینی شہریوں کو ہلاک کر دیتا ہے اور اسرائیل کا مقصد فلسطینی شہریوں کی نسل کشی ہے،تاکہ ہلاکت کی کثرت کو دیکھ کر فلسطینی مسلمان غزہ پٹی اور ویسٹ بینک سے بھاگ جائیں۔
اسرائیل کا یہ پلان مخفی اور پوشیدہ نہیں،بلکہ اسرائیل اعلانیہ کہتا ہے کہ غزہ پٹی اور ویسٹ بینک پر قبضہ کر کے گریٹر اسرائیل کی تشکیل ہو گی۔یہودی کائنات عالم کی سب سے بدترین قوم ہے۔یہ لوگ جہاں بھی رہیں گے،وہاں فتنہ وفساد پھیلاتے رہیں گے۔
(4) فلسطین واسرائیل کی حالیہ جنگ کو دیکھ کر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حماس کی جنگی حکمت عملی انتہائی مستحکم اور نتیجہ خیز ہے۔زمینی جنگ میں اسرائیل کے ساتھ امریکہ،برطانیہ ودیگر مغربی ممالک کی فوجیں بھی ہیں،لیکن زمینی جنگ میں یہود ونصاری کی فوجیں بالکل ناکام ہیں۔
قابل تحسین اور بے مثال جنگی حکمت عملی اور شیروں کی طرح شجاعت و بہادری کے باوجود حماس نے عوام کو اسرائیل کی بمباری سے محفوظ رکھنے کا کوئی انتظام نہ کیا،نہ ہی اسرائیلی فضائیہ کو بمباری سے روک سکا۔جب حماس نے اس جنگ کی طویل تیاری کی تھی تو عوام کو بمباری سے محفوظ رکھنے کا بھی کوئی طریقہ اختیار کرنا تھا۔
اسرائیل نے اپنے بڑے شہروں میں جا بجا بنکر(سرنگ)بنا رکھا ہے۔جیسے ہی کوئی میزائل یا راکٹ اسرائیل کی طرف آتا ہے،ویسے ہی آئرن ڈوم سائرن بجانے لگتا ہے اور لوگ دوڑ کر بنکر میں گھس جاتے ہیں۔میزائل وراکٹ کسی بلڈنگ پر گرتے ہیں اور آگ لگ جاتی ہے۔آگ بجھانے کا بھی اسرائیل نے مستحکم انتظام کر رکھا ہے۔گرچہ بعض لوگ راکٹ ومیزائل سے زخمی ہو جاتے ہیں،یا ہلاک ہو جاتے ہیں،لیکن نقصان بہت کم ہوتا ہے۔ایران نے ایسا میزائل بنایا ہے کہ آئرن ڈوم اس کا جب پتہ لگائے،اس وقت وہ میزائل اپنے نشانہ پر پہنچ کر تباہی مچا دیتا ہے،لیکن حماس کے پاس ایسے میزائل نہیں۔
(5)آج اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دوبارہ جنگ بندی کے لئے قرار داد پیش ہونے والی تھی،لیکن امریکہ کی دخل اندازی کے سبب آج یہ قرار داد پیش نہ کی جا سکی۔ کل یہ قرار داد پیش کی جائے گی۔چند دنوں قبل ہی امریکہ نے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی مخالفت کی ہے۔اس مرتبہ کیا ہوتا ہے،وہ دیکھنا ہو گا۔
درحقیقت یمن نے بحر احمر میں اسرائیل کی جانب جانے والے سمندری جہازوں پر پابندی لگا رکھی ہے،جس سے ساری دنیا کی تجارت متاثر ہو رہی ہے اور امریکہ مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ عرب ممالک یمن پر حملہ کریں،لیکن عرب ممالک یمن پر حملہ کے لئے راضی نہیں،کیوں کہ یمن نے اعلان کر دیا ہے کہ عرب ممالک نے یمن پر حملہ کیا تو وہ عربوں کے تیل وگیس کی پائپ لائن پر حملہ کر کے ان کی
اسرائیل سے عربوں کی شکست کا سبب
(1)فی الوقت اسرائیل مختلف اطراف سے حملوں کا شکار ہے،لبنان کی طرف سے حزب اللہ حملے کر رہا ہے۔بحر احمر میں یمن کے انصار اللہ نے ناکوں میں دم کر رکھا ہے۔غزہ پٹی میں حماس کے سخت حملے ہو رہے ہیں۔ویسٹ بینک میں اسرائیلی فوجیوں پر فلسطینی مسلمان حملے کر رہے ہیں۔جنگ بندی کے لئے اسرائیلی عوام کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔اسی طرح ساری دنیا کے عوام جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی 153 ممالک نے جنگ بندی کی تائید کی ہے۔اسرائیل کا نقصان بھی بہت ہو رہا ہے۔ان سب کے باوجود اسرائیل غزہ پٹی،لبنان اور شام پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فیصلہ ہو چکا ہے کہ گولان کی پہاڑیاں ملک شام کی ہیں،وہ ملک شام کو دی جائیں۔ان پہاڑی علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ غلط ہے۔ملک شام کی فوج گولان پہاڑیوں کے پاس موجود ہے۔اسرائیل مشکلات میں ہے،ایسے وقت میں بھی شامی فوج منہ تاک رہی ہے۔ملک شام اپنے زور بازو سے اپنے علاقوں پر بھی قبضہ کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہا ہے۔جب ایسی حالت میں بھی شامی فوج خاموش پڑی ہوئی ہے تو جب اسرائیل مشکلات سے آزاد ہو جائے گا تو اس وقت شامی فوج کیسے اپنے علاقوں پر قبضہ کر سکے گی۔
عہد ماضی میں اسرائیل سے عربوں کی شکست کی ایک وجہ یہ بھی سمجھ میں اتی ہے کہ عرب افواج اور عربی سالار وجنگی مشیر نا اہل تھے۔وہ دشمن پر سخت حملے نہیں کرتے تھے اور دشمن سخت حملے کرتا تھا اور یہ لوگ شکست کھا کر واپس لوٹ جاتے تھے۔
(2) اسرائیل کے کچھ لوگ حماس کی قید میں ہیں۔ان قیدیوں کو چھڑانے کے لئے اسرائیلی عوام اپنی حکومت پر دباؤ بنا رہے ہیں۔اسرائیلی حکومت چاہتی ہے کہ چند دن جنگ بندی کر کے ان یہودی قیدیوں کو آزاد کرا لیا جائے۔اس کے بعد پھر غزہ پٹی کے مسلمانوں پر بمباری کر کے ان کی نسل کشی کی جائے۔حماس مستقل جنگ بندی چاہتا ہے،لیکن اسرائیل مستقل جنگ بندی کے لئے راضی نہیں،لہذا جنگ بندی کی بات چیت ناکام ہو چکی ہے۔
(3) اسرائیل غزہ پٹی کی زمینی جنگ میں بالکل ناکام اور سخت ہزیمت ورسوائی سے دو چار ہے۔اس کے باوجود اسرائیل جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ گرچہ ہر دن اسرائیل کے سو ڈیڑھ سو فوجی ہلاک ہو رہے ہیں،لیکن اسرائیل ہر دن ہوائی حملے کر کے چار پانچ سو فلسطینی شہریوں کو ہلاک کر دیتا ہے اور اسرائیل کا مقصد فلسطینی شہریوں کی نسل کشی ہے،تاکہ ہلاکت کی کثرت کو دیکھ کر فلسطینی مسلمان غزہ پٹی اور ویسٹ بینک سے بھاگ جائیں۔
اسرائیل کا یہ پلان مخفی اور پوشیدہ نہیں،بلکہ اسرائیل اعلانیہ کہتا ہے کہ غزہ پٹی اور ویسٹ بینک پر قبضہ کر کے گریٹر اسرائیل کی تشکیل ہو گی۔یہودی کائنات عالم کی سب سے بدترین قوم ہے۔یہ لوگ جہاں بھی رہیں گے،وہاں فتنہ وفساد پھیلاتے رہیں گے۔
(4) فلسطین واسرائیل کی حالیہ جنگ کو دیکھ کر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حماس کی جنگی حکمت عملی انتہائی مستحکم اور نتیجہ خیز ہے۔زمینی جنگ میں اسرائیل کے ساتھ امریکہ،برطانیہ ودیگر مغربی ممالک کی فوجیں بھی ہیں،لیکن زمینی جنگ میں یہود ونصاری کی فوجیں بالکل ناکام ہیں۔
قابل تحسین اور بے مثال جنگی حکمت عملی اور شیروں کی طرح شجاعت و بہادری کے باوجود حماس نے عوام کو اسرائیل کی بمباری سے محفوظ رکھنے کا کوئی انتظام نہ کیا،نہ ہی اسرائیلی فضائیہ کو بمباری سے روک سکا۔جب حماس نے اس جنگ کی طویل تیاری کی تھی تو عوام کو بمباری سے محفوظ رکھنے کا بھی کوئی طریقہ اختیار کرنا تھا۔
اسرائیل نے اپنے بڑے شہروں میں جا بجا بنکر(سرنگ)بنا رکھا ہے۔جیسے ہی کوئی میزائل یا راکٹ اسرائیل کی طرف آتا ہے،ویسے ہی آئرن ڈوم سائرن بجانے لگتا ہے اور لوگ دوڑ کر بنکر میں گھس جاتے ہیں۔میزائل وراکٹ کسی بلڈنگ پر گرتے ہیں اور آگ لگ جاتی ہے۔آگ بجھانے کا بھی اسرائیل نے مستحکم انتظام کر رکھا ہے۔گرچہ بعض لوگ راکٹ ومیزائل سے زخمی ہو جاتے ہیں،یا ہلاک ہو جاتے ہیں،لیکن نقصان بہت کم ہوتا ہے۔ایران نے ایسا میزائل بنایا ہے کہ آئرن ڈوم اس کا جب پتہ لگائے،اس وقت وہ میزائل اپنے نشانہ پر پہنچ کر تباہی مچا دیتا ہے،لیکن حماس کے پاس ایسے میزائل نہیں۔
(5)آج اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دوبارہ جنگ بندی کے لئے قرار داد پیش ہونے والی تھی،لیکن امریکہ کی دخل اندازی کے سبب آج یہ قرار داد پیش نہ کی جا سکی۔ کل یہ قرار داد پیش کی جائے گی۔چند دنوں قبل ہی امریکہ نے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی مخالفت کی ہے۔اس مرتبہ کیا ہوتا ہے،وہ دیکھنا ہو گا۔
درحقیقت یمن نے بحر احمر میں اسرائیل کی جانب جانے والے سمندری جہازوں پر پابندی لگا رکھی ہے،جس سے ساری دنیا کی تجارت متاثر ہو رہی ہے اور امریکہ مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ عرب ممالک یمن پر حملہ کریں،لیکن عرب ممالک یمن پر حملہ کے لئے راضی نہیں،کیوں کہ یمن نے اعلان کر دیا ہے کہ عرب ممالک نے یمن پر حملہ کیا تو وہ عربوں کے تیل وگیس کی پائپ لائن پر حملہ کر کے ان کی
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
تجارت کو تباہ کر دے گا۔
امریکہ نے دنیا بھر کے ممالک سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ یمن کے ساتھ جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیں،لیکن کوئی ملک خوش دلی کے ساتھ امریکہ کا ساتھ دینے راضی نہیں اور خود امریکہ ومغربی ممالک میں فلسطین واسرائیل جنگ بندی کے لئے سخت مظاہرے ہو رہے ہیں۔ایسی صورت میں امریکہ تنہا یمن کے ساتھ جنگ کے لئے آگے بڑھنا نہیں چاہتا۔کل سلامتی کونسل کی میٹنگ کو دیکھ لیا جائے کہ کیا فیصلہ ہوتا ہے۔اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو جنگ خطرناک مرحلے میں داخل ہو جائے گی اور بہت تباہی وبربادی ہو گی۔
(6)دنیا کے اکثر ممالک فلسطین کو ایک آزاد ملک بنانے کی وکالت کر رہے ہیں،لیکن اسرائیل اس کے لئے بالکل راضی نہیں ہے۔بظاہر امریکہ بھی دو ملکی نظریہ کا قائل ہے،لیکن اس کا ظاہر وباطن یکساں نہیں ہوتا،نیز امریکہ کی خارجہ پالیسی مسلم مخالف ہے۔امریکہ میں کوئی پارٹی بھی برسر اقتدار ہو،وہ مسلمانوں کی خیر خواہ نہیں ہو سکتی۔جنگ بندی کے بعد فلسطین کو آزادی ملتی ہے یا نہیں؟ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔فلسطین کے مظلوم مسلمان 1948 سے اپنے لئے ایک آزاد ملک کی تمنا کر رہے ہیں۔اسی آزادی کی تمنا میں ان کی کئی نسلیں گزر چکیں اور آزادی کی خواہش میں فلسطینی مسلمان جان ومال کی قربانی دے رہے ہیں۔
(7)ماہ اکتوبر میں فلسطین واسرائیل جنگ شروع ہونے کے وقت کسی خاتون نے خواب دیکھا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بیت المقدس میں جلوہ گر ہیں اور بہت بڑا مجمع ہے۔حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلسطینی مسلمانوں کے قتل وغارت گری سے میں بہت رنجیدہ ہوں۔حاضرین میں سے کسی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم! مسلمانوں کی کامیابی کب ہو گی؟ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:شہادت حقیقی کامیابی ہے۔پھر دوبارہ عرض کیا گیا کہ مسلمانوں کی کامیابی کب ہو گی؟ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دو بارہ ارشاد فرمایا کہ شہادت حقیقی کامیابی ہے۔اس کے بعد پھر دریافت کیا گیا کہ مسلمانوں کو اس مصیبت سے نجات کیسے ملے گی؟ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک بڑے لشکر کی اشارہ فرمایا اور خوش خبری سنائی کہ یہ لشکر یہودیوں کو قتل کرے گا۔
یہ لشکر کون سا ہے،معلوم نہیں۔ممکن ہے کہ حضرت امام مہدی رضی اللہ تعالی عنہ کا لشکر ہو،یا امام مہدی رضی اللہ تعالی عنہ کے ظہور سے قبل کوئی لشکر نمودار ہو:واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:19:دسمبر2023
امریکہ نے دنیا بھر کے ممالک سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ یمن کے ساتھ جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیں،لیکن کوئی ملک خوش دلی کے ساتھ امریکہ کا ساتھ دینے راضی نہیں اور خود امریکہ ومغربی ممالک میں فلسطین واسرائیل جنگ بندی کے لئے سخت مظاہرے ہو رہے ہیں۔ایسی صورت میں امریکہ تنہا یمن کے ساتھ جنگ کے لئے آگے بڑھنا نہیں چاہتا۔کل سلامتی کونسل کی میٹنگ کو دیکھ لیا جائے کہ کیا فیصلہ ہوتا ہے۔اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو جنگ خطرناک مرحلے میں داخل ہو جائے گی اور بہت تباہی وبربادی ہو گی۔
(6)دنیا کے اکثر ممالک فلسطین کو ایک آزاد ملک بنانے کی وکالت کر رہے ہیں،لیکن اسرائیل اس کے لئے بالکل راضی نہیں ہے۔بظاہر امریکہ بھی دو ملکی نظریہ کا قائل ہے،لیکن اس کا ظاہر وباطن یکساں نہیں ہوتا،نیز امریکہ کی خارجہ پالیسی مسلم مخالف ہے۔امریکہ میں کوئی پارٹی بھی برسر اقتدار ہو،وہ مسلمانوں کی خیر خواہ نہیں ہو سکتی۔جنگ بندی کے بعد فلسطین کو آزادی ملتی ہے یا نہیں؟ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔فلسطین کے مظلوم مسلمان 1948 سے اپنے لئے ایک آزاد ملک کی تمنا کر رہے ہیں۔اسی آزادی کی تمنا میں ان کی کئی نسلیں گزر چکیں اور آزادی کی خواہش میں فلسطینی مسلمان جان ومال کی قربانی دے رہے ہیں۔
(7)ماہ اکتوبر میں فلسطین واسرائیل جنگ شروع ہونے کے وقت کسی خاتون نے خواب دیکھا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بیت المقدس میں جلوہ گر ہیں اور بہت بڑا مجمع ہے۔حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلسطینی مسلمانوں کے قتل وغارت گری سے میں بہت رنجیدہ ہوں۔حاضرین میں سے کسی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم! مسلمانوں کی کامیابی کب ہو گی؟ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:شہادت حقیقی کامیابی ہے۔پھر دوبارہ عرض کیا گیا کہ مسلمانوں کی کامیابی کب ہو گی؟ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دو بارہ ارشاد فرمایا کہ شہادت حقیقی کامیابی ہے۔اس کے بعد پھر دریافت کیا گیا کہ مسلمانوں کو اس مصیبت سے نجات کیسے ملے گی؟ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک بڑے لشکر کی اشارہ فرمایا اور خوش خبری سنائی کہ یہ لشکر یہودیوں کو قتل کرے گا۔
یہ لشکر کون سا ہے،معلوم نہیں۔ممکن ہے کہ حضرت امام مہدی رضی اللہ تعالی عنہ کا لشکر ہو،یا امام مہدی رضی اللہ تعالی عنہ کے ظہور سے قبل کوئی لشکر نمودار ہو:واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:19:دسمبر2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
جنگ بندی کے شرائط پر اختلاف برقرار
(1)یہودی حکومت چاہتی ہے کہ سات دن کی جنگ بندی ہو،اور حماس چالیس یہودی قیدیوں کو چھوڑ دے۔سات دن کے بعد یہودی حکومت پھر بمباری کر کے عام شہریوں کا قتل عام کرے گی۔درمیان میں ایک بار سات دنوں کی جنگ بندی ہو چکی ہے۔اس کے بعد یہودیوں نے غزہ پٹی کے عام شہریوں پر بمباری کر کے دوبارہ قتل عام اور نسل کشی شروع کر دی ہے۔
دراصل یہودی حکومت پر ان یہودیوں کا دباؤ ہے جن کے لوگ حماس کی قید میں ہیں۔یہ لوگ اسرائیل میں سخت مظاہرے کر رہے ہیں،لہذا یہودی حکومت چاہتی ہے کہ یہودی قیدیوں کو حماس کی قید سے آزاد کرا لیا جائے،اس کے بعد فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام جاری رکھیں۔یہودیوں کا مقصد فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام اور فلسطینی علاقوں پر قبضہ ہے۔
مصر میں حماس کے لیڈر اسماعیل ہانیہ اور یہودی حکومت کے نمائندوں کے درمیان عارضی طور پر سات روزہ جنگ بندی کی بات چیت ہو رہی تھی۔خبر کے مطابق حماس نے عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کیا ہے۔فلسطینی مجاہدین مستقل جنگ بندی چاہتے ہیں،ورنہ سات دن کے بعد یہودی حکومت پھر قتل عام مچائے گی اور جنگ بندی کی مدت میں بھی یہودی فوج فلسطینی شہریوں کو قتل کرتی رہے گی،جیسا کہ چند دنوں قبل پہلی جنگ بندی کی مدت میں یہودی فوج عام شہریوں کو قتل کر رہی تھی۔جنگ بندی کی مدت میں صرف بمباری بند ہوئی تھی۔
(2) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی جنگ بندی کی قرار داد پیش کی گئی ہے۔19:دسمبر کو ووٹنگ ہونے والی تھی،لیکن امریکہ کی ہٹ دھرمی کے سبب تین دنوں سے ووٹنگ ملتوی ہو رہی ہے۔امریکہ جنگ بندی نہیں چاہتا ہے۔اس کا اعتراض ہے کہ اسرائیل کو حق دفاع حاصل ہے۔
حالاں کہ حق دفاع کے سبب عام شہریوں کو ہلاک نہیں کیا جاتا ہے۔حماس کے مجاہدین سرنگوں میں رہتے ہیں اور سرنگوں میں داخل ہوتے ہی یہودیوں کو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔سرنگوں کو تباہ کرنے کے لئے امریکہ نے بنکر بسٹر بم اسرائیل کو دیا تھا،لیکن یہ بم سرنگوں کو تباہ کرنے کے قابل نہیں۔سرنگوں میں پانی بھی نہیں ڈالا جا سکا اور جن سرنگوں میں مجاہدین کے ٹھکانے ہیں،یہود ونصاری کو ان سرنگوں کے راستوں کا بھی پتہ نہیں۔مخالف فوج پر حملہ کے لئے جو سرنگ بنائے گئے ہیں،ان میں سے صرف چند سرنگوں کی جانکاری یہودیوں کے پاس ہیں۔
امریکہ نے صرف مسلم ممالک(عراق،شام،لیبیا،افغانستان)میں قریبا ایک کروڑ انسانوں کو ہلاک کیا ہے۔غزہ پٹی میں صرف 23:لاکھ مسلمان رہتے ہیں۔ان تمام فلسطینیوں کو ہلاک کرنا کون سا مشکل کام ہے۔امریکہ حالیہ جنگ کے دوران یہ بھی کہہ چکا ہے کہ جنگوں میں عام لوگوں کی بھی ہلاکت ہوتی ہے۔اس طرح امریکہ عام شہریوں کی ہلاکت کے لئے راستہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔
یہودیوں نے فلسطینی مسلمانوں کی زمین پر قبضہ کر کے ایک ملک بنا لیا ہے اور مسلمانوں کو ان کی سرزمین سے نکال دیا ہے۔اقوام متحدہ نے فلسطینیوں کو جو زمین دی تھی،اس پر بھی اسرائیل نے قبضہ کر لیا ہے اور باہر سے آنے والے غاصب یہودی ایک صدی سے مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھا رہے ہیں تو فلسطینی مسلمانوں کو بھی حق دفاع حاصل ہونا چاہیے۔وہ بھی اگر اپنی زمین سے یہودیوں کو بھگانے کے لئے کوئی اقدام کرتے ہیں تو اس اقدام کو صحیح قرار دینا چاہئے،حالاں کہ امریکہ حماس کو دہشت گرد گروپ اور حماس کی کاروائیوں کو دہشت گردی قرار دیتا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ امریکہ واسرائیل ہی دہشت گرد ہیں۔اب تو دنیا بھر میں امریکہ کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔امریکہ نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔
(3)غزہ پٹی میں مختلف ممالک کے یہود ونصاری اسرائیل کی طرف سے جنگ لڑ رہے ہیں اور امریکہ،برطانیہ،جرمنی ودیگر ممالک کی فوجیں بھی جنگ لڑ رہی ہیں۔حماس کے مجاہدین مخالف فوج کے بہت سے سپاہیوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔
مہلوکین میں مختلف ممالک کی فوجی شامل ہیں۔جب اسرائیل اپنے فوجیوں کی ہلاکت کی صحیح تعداد نہیں بتاتا ہے تو دیگر ممالک کے فوجیوں کی ہلاکت کی تعداد کیسے بتا سکتا ہے۔
(4)بتایا جاتا ہے کہ حماس کے مجاہدین کی تعداد چالیس ہزار ہے اور اسرائیل نے غزہ پٹی کے پینتالیس ہزار عمارتوں پر بمباری کی ہے۔اسرائیل کہتا ہے کہ ہمارے جہاز انہیں عمارتوں پر بمباری کرتے پیں،جن میں حماس کے مجاہدین رہتے ہیں۔جب پینتالیس ہزار عمارتوں پر حملے ہو چکے ہیں تو حماس کے سارے مجاہدین ختم ہو چکے ہوں گے،کیوں کہ مجاہدین کی تعداد صرف چالیس ہزار ہے اور پینتالیس ہزار عمارتوں پر بمباری ہو چکی ہے۔
جب اسرائیل کو آج تک یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہودی قیدی کہاں ہیں تو اسرائیلی حکومت کو یہ کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ حماس کے مجاہدین کن عمارتوں میں ہیں۔یہ بات تو ساری دنیا میں مشہور ہے کہ حماس کے مجاہدین سرنگوں میں رہتے ہیں،پھر عام شہریوں کی عمارتوں پر بمباری کرنا اور عام شہریوں کو ہلاک کرنا یقینا بین الاقوامی جرم ہے۔اس سخت جرم پر اسرائیلی حکومت پر قتل عام اور نسل کشی کا مقدمہ ضرور ہونا چاہئے۔
طارق انور مصباحی
جنگ بندی کے شرائط پر اختلاف برقرار
(1)یہودی حکومت چاہتی ہے کہ سات دن کی جنگ بندی ہو،اور حماس چالیس یہودی قیدیوں کو چھوڑ دے۔سات دن کے بعد یہودی حکومت پھر بمباری کر کے عام شہریوں کا قتل عام کرے گی۔درمیان میں ایک بار سات دنوں کی جنگ بندی ہو چکی ہے۔اس کے بعد یہودیوں نے غزہ پٹی کے عام شہریوں پر بمباری کر کے دوبارہ قتل عام اور نسل کشی شروع کر دی ہے۔
دراصل یہودی حکومت پر ان یہودیوں کا دباؤ ہے جن کے لوگ حماس کی قید میں ہیں۔یہ لوگ اسرائیل میں سخت مظاہرے کر رہے ہیں،لہذا یہودی حکومت چاہتی ہے کہ یہودی قیدیوں کو حماس کی قید سے آزاد کرا لیا جائے،اس کے بعد فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام جاری رکھیں۔یہودیوں کا مقصد فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام اور فلسطینی علاقوں پر قبضہ ہے۔
مصر میں حماس کے لیڈر اسماعیل ہانیہ اور یہودی حکومت کے نمائندوں کے درمیان عارضی طور پر سات روزہ جنگ بندی کی بات چیت ہو رہی تھی۔خبر کے مطابق حماس نے عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کیا ہے۔فلسطینی مجاہدین مستقل جنگ بندی چاہتے ہیں،ورنہ سات دن کے بعد یہودی حکومت پھر قتل عام مچائے گی اور جنگ بندی کی مدت میں بھی یہودی فوج فلسطینی شہریوں کو قتل کرتی رہے گی،جیسا کہ چند دنوں قبل پہلی جنگ بندی کی مدت میں یہودی فوج عام شہریوں کو قتل کر رہی تھی۔جنگ بندی کی مدت میں صرف بمباری بند ہوئی تھی۔
(2) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی جنگ بندی کی قرار داد پیش کی گئی ہے۔19:دسمبر کو ووٹنگ ہونے والی تھی،لیکن امریکہ کی ہٹ دھرمی کے سبب تین دنوں سے ووٹنگ ملتوی ہو رہی ہے۔امریکہ جنگ بندی نہیں چاہتا ہے۔اس کا اعتراض ہے کہ اسرائیل کو حق دفاع حاصل ہے۔
حالاں کہ حق دفاع کے سبب عام شہریوں کو ہلاک نہیں کیا جاتا ہے۔حماس کے مجاہدین سرنگوں میں رہتے ہیں اور سرنگوں میں داخل ہوتے ہی یہودیوں کو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔سرنگوں کو تباہ کرنے کے لئے امریکہ نے بنکر بسٹر بم اسرائیل کو دیا تھا،لیکن یہ بم سرنگوں کو تباہ کرنے کے قابل نہیں۔سرنگوں میں پانی بھی نہیں ڈالا جا سکا اور جن سرنگوں میں مجاہدین کے ٹھکانے ہیں،یہود ونصاری کو ان سرنگوں کے راستوں کا بھی پتہ نہیں۔مخالف فوج پر حملہ کے لئے جو سرنگ بنائے گئے ہیں،ان میں سے صرف چند سرنگوں کی جانکاری یہودیوں کے پاس ہیں۔
امریکہ نے صرف مسلم ممالک(عراق،شام،لیبیا،افغانستان)میں قریبا ایک کروڑ انسانوں کو ہلاک کیا ہے۔غزہ پٹی میں صرف 23:لاکھ مسلمان رہتے ہیں۔ان تمام فلسطینیوں کو ہلاک کرنا کون سا مشکل کام ہے۔امریکہ حالیہ جنگ کے دوران یہ بھی کہہ چکا ہے کہ جنگوں میں عام لوگوں کی بھی ہلاکت ہوتی ہے۔اس طرح امریکہ عام شہریوں کی ہلاکت کے لئے راستہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔
یہودیوں نے فلسطینی مسلمانوں کی زمین پر قبضہ کر کے ایک ملک بنا لیا ہے اور مسلمانوں کو ان کی سرزمین سے نکال دیا ہے۔اقوام متحدہ نے فلسطینیوں کو جو زمین دی تھی،اس پر بھی اسرائیل نے قبضہ کر لیا ہے اور باہر سے آنے والے غاصب یہودی ایک صدی سے مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھا رہے ہیں تو فلسطینی مسلمانوں کو بھی حق دفاع حاصل ہونا چاہیے۔وہ بھی اگر اپنی زمین سے یہودیوں کو بھگانے کے لئے کوئی اقدام کرتے ہیں تو اس اقدام کو صحیح قرار دینا چاہئے،حالاں کہ امریکہ حماس کو دہشت گرد گروپ اور حماس کی کاروائیوں کو دہشت گردی قرار دیتا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ امریکہ واسرائیل ہی دہشت گرد ہیں۔اب تو دنیا بھر میں امریکہ کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔امریکہ نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔
(3)غزہ پٹی میں مختلف ممالک کے یہود ونصاری اسرائیل کی طرف سے جنگ لڑ رہے ہیں اور امریکہ،برطانیہ،جرمنی ودیگر ممالک کی فوجیں بھی جنگ لڑ رہی ہیں۔حماس کے مجاہدین مخالف فوج کے بہت سے سپاہیوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔
مہلوکین میں مختلف ممالک کی فوجی شامل ہیں۔جب اسرائیل اپنے فوجیوں کی ہلاکت کی صحیح تعداد نہیں بتاتا ہے تو دیگر ممالک کے فوجیوں کی ہلاکت کی تعداد کیسے بتا سکتا ہے۔
(4)بتایا جاتا ہے کہ حماس کے مجاہدین کی تعداد چالیس ہزار ہے اور اسرائیل نے غزہ پٹی کے پینتالیس ہزار عمارتوں پر بمباری کی ہے۔اسرائیل کہتا ہے کہ ہمارے جہاز انہیں عمارتوں پر بمباری کرتے پیں،جن میں حماس کے مجاہدین رہتے ہیں۔جب پینتالیس ہزار عمارتوں پر حملے ہو چکے ہیں تو حماس کے سارے مجاہدین ختم ہو چکے ہوں گے،کیوں کہ مجاہدین کی تعداد صرف چالیس ہزار ہے اور پینتالیس ہزار عمارتوں پر بمباری ہو چکی ہے۔
جب اسرائیل کو آج تک یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہودی قیدی کہاں ہیں تو اسرائیلی حکومت کو یہ کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ حماس کے مجاہدین کن عمارتوں میں ہیں۔یہ بات تو ساری دنیا میں مشہور ہے کہ حماس کے مجاہدین سرنگوں میں رہتے ہیں،پھر عام شہریوں کی عمارتوں پر بمباری کرنا اور عام شہریوں کو ہلاک کرنا یقینا بین الاقوامی جرم ہے۔اس سخت جرم پر اسرائیلی حکومت پر قتل عام اور نسل کشی کا مقدمہ ضرور ہونا چاہئے۔
طارق انور مصباحی
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
جاری کردہ:21:دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
عربوں کی خموشی اور فلسطینیوں کی تباہی
(1) فلسطین میں ڈھائی ماہ سے اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے باوجود عرب ممالک آج تک اسرائیل سے سیاسی وتجارتی تعلقات ختم نہ کر سکے۔بہت سے عرب ممالک میں بادشاہت ہے۔ان بادشاہوں کو خطرہ ہے کہ اگر ہم نے اسرائیل سے تعلقات منقطع کر لیا تو امریکہ ہماری بادشاہت کو ختم کر کے جمہوریت لانے کی کوشش کرے گا اور ہمارے عوام کو ہمارے خلاف کر کے نیٹو کی فوج لے کر اتر پڑے گا۔ایسی صورت میں ہماری بادشاہت ختم ہو جائے گی۔خلاصہ یہ کہ عربی ممالک کے سلاطین محض اپنی بادشاہت کی حفاظت کے لئے اسرائیل سے دوستانہ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں اور بادشاہت ختم ہونے کا خطرہ ہمیشہ برقرار رہے گا،لہذا یہ ممالک ہمیشہ کے لئے بیکار ہیں۔
جن عرب ومسلم ممالک میں جمہوریت ہے،ان کے ذمہ داروں کو خطرہ ہے کہ اگر ہم نے اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی کی تو امریکی خفیہ ایجنسی ہمارے یہاں فتنہ سامانیوں کے ذریعہ ہماری حکومت کو ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔یعنی جمہوری ممالک کے ذمہ داران بھی اپنی حکومت بچانے کے لئے اسرائیل کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔الغرض جمہوری ممالک بھی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم وستم کو روکنے سے قاصر ہیں۔
کل ملک شام کی طرف سے گولان ہائٹس پر سخت حملہ کیا گیا اور اسرائیلی فوجیوں کو پیچھے ہٹنا پڑا اور آج ہی ملک شام میں شامی صدر بشار الاسد کو ہٹانے کے لئے اس کے مخالفین سخت مظاہرے کر رہے ہیں۔بشار الاسد شیعہ ہے اور یہ مخالفین سنی ہیں۔یہ عالمی اصطلاح کے اعتبار سے سنی ہیں۔در حقیقت یہ وہابی لوگ ہوں گے۔برطانیہ کے جاسوس مسٹر ہمفرے نے وہابی مذہب کی بنیاد رکھی تھی،تاکہ سلطنت عثمانیہ ترکیہ کو تباہ کیا جائے۔انجام کار عربوں کی غداری کے سبب سلطنت عثمانیہ ترکیہ کا خاتمہ ہو گیا،لیکن یہ وہابیہ آج تک اسلام ومسلمانوں کی تباہی کے لئے برسر پیکار ہیں۔
بعض مسلم ممالک جو امریکہ کے خلاف ہیں،مثلا ایران وشام ویمن وغیرہ۔یہ ممالک کچھ کر سکتے ہیں،لیکن وہ بھی اپنی مصلحتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی کوئی قدم اٹھا سکتے ہیں۔یمن نے قدم بڑھایا تو امریکہ نے ساری دنیا سے اپیل کی کہ یمن کے خلاف میدان میں اتریں اور قریبا چوالیس ممالک امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں۔الغرض مسلمانوں پر ظلم وجبر اسی وقت کم ہو سکتا ہے،جب مسلم ممالک متحد ہوں اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے مقابلہ آرائی کے قابل ہوں۔
(2)زمینی جنگ میں حماس کا پلہ بھاری ہے،لیکن امریکہ واسرائیل کا پلان ہے کہ عام فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کیا جائے اور انسانی ضرورتوں کے سامان بھی فلسطین نہ پہنچنے دیا جائے،تاکہ بہت سے عام شہری بھوک وپیاس سے مر جائیں۔اسپتالوں کو تباہ وبرباد کر دیا جائے،تاکہ زخمیوں اور دیگر مریضوں کا علاج نہ ہو سکے اور وہ علاج ودوا نہ ملنے کے سبب ہلاک ہو جائیں اور ان سب مشکلات کو دیکھ کر حماس ہتھیار ڈال دیے اور پھر فلسطین میں ایک کٹھ پُتلی حکومت قائم کی جائے جو امریکہ واسرائیل کی غلامی کرتی رہے۔اسرائیل فلسطینی مسلمانوں پر مسلسل ظلم ڈھاتا رہتا ہے۔جب کٹھ پتلی حکومت ہو گی تو وہ یہودی مظالم پر خاموش رہے گی۔
(3) اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی قرار داد پیش کی گئی ہے،لیکن امریکہ کی مخالفت کے سبب اس قرار داد پر ووٹنگ نہیں ہو پا رہی ہے۔19:دسمبر کو ووٹنگ ہونے والی تھی،لیکن روزانہ تاریخ آگے بڑھا دی جا رہی ہے۔اگر امریکہ جنگ بندی کے لئے راضی ہوتا تو بحر احمر میں یمن سے مقابلہ کے لئے تیاری نہیں کرتا۔
ایسی صورت میں حماس کو اپنی جنگی حکمت عملی میں تبدیلی لانی ہو گی اور زمینی جنگ میں یہودیوں سے سخت مقابلہ آرائی کرنی ہو گی۔اسرائیلی شہروں پر راکٹ ومیزائل برسانے سے اسرائیل کا بہت کم نقصان ہوتا ہے۔اسرائیلی آئرن ڈوم بہت سے میزائل وراکٹ کو تباہ کر دیتا ہے،نیز آئرن ڈوم کا سائرن بجتے ہی یہودی بنکروں میں گھس جاتے ہیں۔میزائل وراکٹ سے چند عمارتوں کو نقصان ہوتا ہے اور بہت کم لوگ ہلاک وزخمی ہوتے ہیں۔خبر ہے کہ حزب اللہ نے اسرائیل کے دو آئرن ڈوم کو بھی تباہ کر دیا ہے،لیکن دوسرے آئرن ڈوم کام کر رہے ہیں۔حماس کو چاہئے کہ یہودی فوجیوں کو کثیر تعداد میں ہلاک کرے،تاکہ یہودی فوجی بھاگ کھڑے ہوں۔اسرائیل کا سب سے مضبوط فوجی دستہ گولانی بریگیڈ غزہ پٹی سے واپس جا چکا ہے۔اس بریگیڈ پر حماس کے سخت حملے ہو رہے تھے۔یہ اسرائیل کا سب سے مضبوط فوجی دستہ ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:22:دسمبر2023
عربوں کی خموشی اور فلسطینیوں کی تباہی
(1) فلسطین میں ڈھائی ماہ سے اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے باوجود عرب ممالک آج تک اسرائیل سے سیاسی وتجارتی تعلقات ختم نہ کر سکے۔بہت سے عرب ممالک میں بادشاہت ہے۔ان بادشاہوں کو خطرہ ہے کہ اگر ہم نے اسرائیل سے تعلقات منقطع کر لیا تو امریکہ ہماری بادشاہت کو ختم کر کے جمہوریت لانے کی کوشش کرے گا اور ہمارے عوام کو ہمارے خلاف کر کے نیٹو کی فوج لے کر اتر پڑے گا۔ایسی صورت میں ہماری بادشاہت ختم ہو جائے گی۔خلاصہ یہ کہ عربی ممالک کے سلاطین محض اپنی بادشاہت کی حفاظت کے لئے اسرائیل سے دوستانہ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں اور بادشاہت ختم ہونے کا خطرہ ہمیشہ برقرار رہے گا،لہذا یہ ممالک ہمیشہ کے لئے بیکار ہیں۔
جن عرب ومسلم ممالک میں جمہوریت ہے،ان کے ذمہ داروں کو خطرہ ہے کہ اگر ہم نے اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی کی تو امریکی خفیہ ایجنسی ہمارے یہاں فتنہ سامانیوں کے ذریعہ ہماری حکومت کو ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔یعنی جمہوری ممالک کے ذمہ داران بھی اپنی حکومت بچانے کے لئے اسرائیل کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔الغرض جمہوری ممالک بھی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم وستم کو روکنے سے قاصر ہیں۔
کل ملک شام کی طرف سے گولان ہائٹس پر سخت حملہ کیا گیا اور اسرائیلی فوجیوں کو پیچھے ہٹنا پڑا اور آج ہی ملک شام میں شامی صدر بشار الاسد کو ہٹانے کے لئے اس کے مخالفین سخت مظاہرے کر رہے ہیں۔بشار الاسد شیعہ ہے اور یہ مخالفین سنی ہیں۔یہ عالمی اصطلاح کے اعتبار سے سنی ہیں۔در حقیقت یہ وہابی لوگ ہوں گے۔برطانیہ کے جاسوس مسٹر ہمفرے نے وہابی مذہب کی بنیاد رکھی تھی،تاکہ سلطنت عثمانیہ ترکیہ کو تباہ کیا جائے۔انجام کار عربوں کی غداری کے سبب سلطنت عثمانیہ ترکیہ کا خاتمہ ہو گیا،لیکن یہ وہابیہ آج تک اسلام ومسلمانوں کی تباہی کے لئے برسر پیکار ہیں۔
بعض مسلم ممالک جو امریکہ کے خلاف ہیں،مثلا ایران وشام ویمن وغیرہ۔یہ ممالک کچھ کر سکتے ہیں،لیکن وہ بھی اپنی مصلحتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی کوئی قدم اٹھا سکتے ہیں۔یمن نے قدم بڑھایا تو امریکہ نے ساری دنیا سے اپیل کی کہ یمن کے خلاف میدان میں اتریں اور قریبا چوالیس ممالک امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں۔الغرض مسلمانوں پر ظلم وجبر اسی وقت کم ہو سکتا ہے،جب مسلم ممالک متحد ہوں اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے مقابلہ آرائی کے قابل ہوں۔
(2)زمینی جنگ میں حماس کا پلہ بھاری ہے،لیکن امریکہ واسرائیل کا پلان ہے کہ عام فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کیا جائے اور انسانی ضرورتوں کے سامان بھی فلسطین نہ پہنچنے دیا جائے،تاکہ بہت سے عام شہری بھوک وپیاس سے مر جائیں۔اسپتالوں کو تباہ وبرباد کر دیا جائے،تاکہ زخمیوں اور دیگر مریضوں کا علاج نہ ہو سکے اور وہ علاج ودوا نہ ملنے کے سبب ہلاک ہو جائیں اور ان سب مشکلات کو دیکھ کر حماس ہتھیار ڈال دیے اور پھر فلسطین میں ایک کٹھ پُتلی حکومت قائم کی جائے جو امریکہ واسرائیل کی غلامی کرتی رہے۔اسرائیل فلسطینی مسلمانوں پر مسلسل ظلم ڈھاتا رہتا ہے۔جب کٹھ پتلی حکومت ہو گی تو وہ یہودی مظالم پر خاموش رہے گی۔
(3) اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی قرار داد پیش کی گئی ہے،لیکن امریکہ کی مخالفت کے سبب اس قرار داد پر ووٹنگ نہیں ہو پا رہی ہے۔19:دسمبر کو ووٹنگ ہونے والی تھی،لیکن روزانہ تاریخ آگے بڑھا دی جا رہی ہے۔اگر امریکہ جنگ بندی کے لئے راضی ہوتا تو بحر احمر میں یمن سے مقابلہ کے لئے تیاری نہیں کرتا۔
ایسی صورت میں حماس کو اپنی جنگی حکمت عملی میں تبدیلی لانی ہو گی اور زمینی جنگ میں یہودیوں سے سخت مقابلہ آرائی کرنی ہو گی۔اسرائیلی شہروں پر راکٹ ومیزائل برسانے سے اسرائیل کا بہت کم نقصان ہوتا ہے۔اسرائیلی آئرن ڈوم بہت سے میزائل وراکٹ کو تباہ کر دیتا ہے،نیز آئرن ڈوم کا سائرن بجتے ہی یہودی بنکروں میں گھس جاتے ہیں۔میزائل وراکٹ سے چند عمارتوں کو نقصان ہوتا ہے اور بہت کم لوگ ہلاک وزخمی ہوتے ہیں۔خبر ہے کہ حزب اللہ نے اسرائیل کے دو آئرن ڈوم کو بھی تباہ کر دیا ہے،لیکن دوسرے آئرن ڈوم کام کر رہے ہیں۔حماس کو چاہئے کہ یہودی فوجیوں کو کثیر تعداد میں ہلاک کرے،تاکہ یہودی فوجی بھاگ کھڑے ہوں۔اسرائیل کا سب سے مضبوط فوجی دستہ گولانی بریگیڈ غزہ پٹی سے واپس جا چکا ہے۔اس بریگیڈ پر حماس کے سخت حملے ہو رہے تھے۔یہ اسرائیل کا سب سے مضبوط فوجی دستہ ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:22:دسمبر2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
جنگ بندی کی قرار داد پر امریکہ کا ویٹو
(1)کل 22:دسمبر کو فلسطین واسرائیل جنگ بندی کی قرار داد پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ووٹنگ ہوئی۔امریکہ نے جنگ بندی کو ویٹو کر دیا۔جنگ عظیم دوم(1939-1945)سے آج تک انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دہشت گرد امریکہ ہے۔دنیا کا جو ملک یا جو جماعت یا جو شخص امریکہ کے سامنے سجدہ ریز نہ ہوا،اس کو امریکہ نے تباہ وبرباد کر دیا۔بہت سے ممالک میں امریکہ شکست کھایا اور کتے کی طرح دم دبا کر بھاگا بھی ہے،مثلا ویتنام،افغانستان،شام وغیرہ،لیکن پھر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا۔
غزہ پٹی میں جنگ نہیں ہو رہی ہے،بلکہ عام شہریوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔امریکی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ پٹی میں دس کیلو کے بم گرائے ہیں اور آج تک دنیا میں کہیں بھی اتنے بڑے بم نہیں گرائے گئے ہیں اور یہ خطرناک بم امریکہ نے کثیر تعداد میں اسرائیل کو بھیجا تھا۔اسی طرح غزہ پٹی میں سفید فاسفورس کے بم بھی برسائے گئے ہیں،حالاں کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق سفید فاسفورس کے بم کا استعمال ممنوع ہے۔اس سے جسم اور ہڈیاں گلنے لگتی ہیں۔
(2)حزب اللہ بھی لبنانی سرحدوں سے اسرائیل پر حملے کر رہا ہے،لیکن اس کے حملے زیادہ سخت نہیں۔اگر حزب اللہ یا ملک شام کی طرف سے اسرائیل پر زور دار حملے ہوں تو امریکہ نیٹو کی فوج لے کر اتر پڑے گا اور لبنان وشام پر سخت حملے کرنے لگے گا،جیسا کہ یمن کے خلاف امریکہ اپنے حامیوں کے ساتھ بحر احمر میں اتر پڑا ہے۔
(3)اگر عراق ویمن سے اسرائیل پر میزائل وراکٹ کے حملے ہوتے ہیں تو عرب ممالک(سعودیہ،جارڈن،متحدہ عرب امارت وغیرہ)ان میزائل وراکٹ کو تباہ کر دیتے ہیں۔یہ عرب ممالک اسرائیل کی حفاظت کے لئے بیدار ہیں،لیکن فلسطین پر بم برسائے جا رہے ہیں تو فلسطینی مسلمانوں کی حفاظت کے لئے کچھ کرنے کو تیار نہیں۔
(4) امریکہ واسرائیل چاہتے ہیں کہ فلسطین میں اس قدر قتل عام کیا جائے کہ یہ لوگ فلسطین چھوڑ کر دیگر عرب ممالک میں چلے جائیں اور فلسطین کا معاملہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے۔ابھی تو فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے۔آگے کیا ہوتا ہے،وہ دیکھنا ہو گا۔
(5)حالیہ جنگ کے سبب اسرائیل کو جو مالی نقصان ہو گا،امریکہ ومغربی ممالک اس کمی کو پوری کر دیں گے،لیکن جو فلسطینی مسلمان اس ظلم وستم کے سبب ہلاک ہو جائیں گے،وہ واپس نہیں آ سکتے۔غزہ پٹی کے حالات اتنے بدتر ہیں کہ سن کر انسانوں کے دل دہل جاتے ہیں اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں،لیکن یہود ونصاری ایسے خونخوار درندے ہیں کہ وہ انسانوں کا خون پی کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:23:دسمبر2023
جنگ بندی کی قرار داد پر امریکہ کا ویٹو
(1)کل 22:دسمبر کو فلسطین واسرائیل جنگ بندی کی قرار داد پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ووٹنگ ہوئی۔امریکہ نے جنگ بندی کو ویٹو کر دیا۔جنگ عظیم دوم(1939-1945)سے آج تک انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دہشت گرد امریکہ ہے۔دنیا کا جو ملک یا جو جماعت یا جو شخص امریکہ کے سامنے سجدہ ریز نہ ہوا،اس کو امریکہ نے تباہ وبرباد کر دیا۔بہت سے ممالک میں امریکہ شکست کھایا اور کتے کی طرح دم دبا کر بھاگا بھی ہے،مثلا ویتنام،افغانستان،شام وغیرہ،لیکن پھر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا۔
غزہ پٹی میں جنگ نہیں ہو رہی ہے،بلکہ عام شہریوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔امریکی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ پٹی میں دس کیلو کے بم گرائے ہیں اور آج تک دنیا میں کہیں بھی اتنے بڑے بم نہیں گرائے گئے ہیں اور یہ خطرناک بم امریکہ نے کثیر تعداد میں اسرائیل کو بھیجا تھا۔اسی طرح غزہ پٹی میں سفید فاسفورس کے بم بھی برسائے گئے ہیں،حالاں کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق سفید فاسفورس کے بم کا استعمال ممنوع ہے۔اس سے جسم اور ہڈیاں گلنے لگتی ہیں۔
(2)حزب اللہ بھی لبنانی سرحدوں سے اسرائیل پر حملے کر رہا ہے،لیکن اس کے حملے زیادہ سخت نہیں۔اگر حزب اللہ یا ملک شام کی طرف سے اسرائیل پر زور دار حملے ہوں تو امریکہ نیٹو کی فوج لے کر اتر پڑے گا اور لبنان وشام پر سخت حملے کرنے لگے گا،جیسا کہ یمن کے خلاف امریکہ اپنے حامیوں کے ساتھ بحر احمر میں اتر پڑا ہے۔
(3)اگر عراق ویمن سے اسرائیل پر میزائل وراکٹ کے حملے ہوتے ہیں تو عرب ممالک(سعودیہ،جارڈن،متحدہ عرب امارت وغیرہ)ان میزائل وراکٹ کو تباہ کر دیتے ہیں۔یہ عرب ممالک اسرائیل کی حفاظت کے لئے بیدار ہیں،لیکن فلسطین پر بم برسائے جا رہے ہیں تو فلسطینی مسلمانوں کی حفاظت کے لئے کچھ کرنے کو تیار نہیں۔
(4) امریکہ واسرائیل چاہتے ہیں کہ فلسطین میں اس قدر قتل عام کیا جائے کہ یہ لوگ فلسطین چھوڑ کر دیگر عرب ممالک میں چلے جائیں اور فلسطین کا معاملہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے۔ابھی تو فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے۔آگے کیا ہوتا ہے،وہ دیکھنا ہو گا۔
(5)حالیہ جنگ کے سبب اسرائیل کو جو مالی نقصان ہو گا،امریکہ ومغربی ممالک اس کمی کو پوری کر دیں گے،لیکن جو فلسطینی مسلمان اس ظلم وستم کے سبب ہلاک ہو جائیں گے،وہ واپس نہیں آ سکتے۔غزہ پٹی کے حالات اتنے بدتر ہیں کہ سن کر انسانوں کے دل دہل جاتے ہیں اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں،لیکن یہود ونصاری ایسے خونخوار درندے ہیں کہ وہ انسانوں کا خون پی کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:23:دسمبر2023
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت خواجہ محمد بابا سماسی (بخارا) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ خواجہ علی رامتینی ملقب بہ عزیزاں علی رحمۃ اللہ علیہ کے اجل خلفاء میں سے ہیں جن کو حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی رحلت کے وقت خلافت و نیابت کے تمام مناصب سے سرفراز فرمایا اور تمام اصحاب کو آپ کی متابعت و ملازمت کا حکم دیا ۔
آپ کی ولادت باسعادت ۲۵ رجب ۵۹۱ھ بمطابق ۱۱۹۵ء کو قصبہ سماس میں ہوئی جو رامتین سے تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے ۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق سماس مضافاتِ طوس (مشہد) سے ہے ۔ سنوسیِ ہند حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث دلی پوری قدس سرہ کے خلیفۂ اجل پیر خیر شاہ امر تسری رحمۃ اللہ علیہ اپنی تصانیف حنیف ’’برکاتِ علی پور شریف‘‘ میں تحقیق لکھتے ہیں کہ قصبہ سماس بخارا اور رامتین ہر دو سے نو نو میل کے فاصلہ پر واقع ہے ۔ بہر حال حضرت بابا کو سماس کی نسبت سے سماسی کہا جاتا ہے ۔
آپ عرصۂ دراز تک حضرت خواجہ علی رامتینی عرف حضرت عزیزاں علی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہے اور فیوضاتِ ظاہری و باطنی سے خوب مالا مال ہوئے ۔ آپ کی محویت اور استغراق کا یہ عالم تھا کہ آپ اپنے چھوٹے سے باغ میں کبھی کبھی تشریف لے جاتے اور انگوروں کی شاخوں کو اپنے دستِ مبارک سے تراشتے ۔ جب ایک شاخ کو کاٹتے تو غلبۂ حال و استغراق کی وجہ سے آری آپ کے دستِ مبارک سے گر پڑتی اور آپ بے خود ہوجاتے، یہ بے خودی اور غیبت (غلبہ) دیر تک رہتی جب ہوش میں آتے تو پھر شاخ کو کاٹنا شروع کردیتے اور پھر بے ہوش ہو جاتے ۔ اس طرح اس کام میں بہت دیر ہو جاتی ۔
آپ خواجہ علی رامتینی ملقب بہ عزیزاں علی رحمۃ اللہ علیہ کے اجل خلفاء میں سے ہیں جن کو حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی رحلت کے وقت خلافت و نیابت کے تمام مناصب سے سرفراز فرمایا اور تمام اصحاب کو آپ کی متابعت و ملازمت کا حکم دیا ۔
آپ کی ولادت باسعادت ۲۵ رجب ۵۹۱ھ بمطابق ۱۱۹۵ء کو قصبہ سماس میں ہوئی جو رامتین سے تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے ۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق سماس مضافاتِ طوس (مشہد) سے ہے ۔ سنوسیِ ہند حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث دلی پوری قدس سرہ کے خلیفۂ اجل پیر خیر شاہ امر تسری رحمۃ اللہ علیہ اپنی تصانیف حنیف ’’برکاتِ علی پور شریف‘‘ میں تحقیق لکھتے ہیں کہ قصبہ سماس بخارا اور رامتین ہر دو سے نو نو میل کے فاصلہ پر واقع ہے ۔ بہر حال حضرت بابا کو سماس کی نسبت سے سماسی کہا جاتا ہے ۔
آپ عرصۂ دراز تک حضرت خواجہ علی رامتینی عرف حضرت عزیزاں علی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہے اور فیوضاتِ ظاہری و باطنی سے خوب مالا مال ہوئے ۔ آپ کی محویت اور استغراق کا یہ عالم تھا کہ آپ اپنے چھوٹے سے باغ میں کبھی کبھی تشریف لے جاتے اور انگوروں کی شاخوں کو اپنے دستِ مبارک سے تراشتے ۔ جب ایک شاخ کو کاٹتے تو غلبۂ حال و استغراق کی وجہ سے آری آپ کے دستِ مبارک سے گر پڑتی اور آپ بے خود ہوجاتے، یہ بے خودی اور غیبت (غلبہ) دیر تک رہتی جب ہوش میں آتے تو پھر شاخ کو کاٹنا شروع کردیتے اور پھر بے ہوش ہو جاتے ۔ اس طرح اس کام میں بہت دیر ہو جاتی ۔
❤1
کرامات:
۱۔ آپ نے خواجۂ خواجگان حضرت بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی فرزندی میں قبول فرمایا تھا جس کی تفصیل یوں ہے کہ حضرت شاہِ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت با سعادت سے پہلے آپ بارہا کو شکِ ہندواں سے گزرتے اور فرماتے:
ازیں خاک بوئے مردے مے آید زود باشد کہ کو شکِ ہند واں قصرِ عارفاں شود۔
اس زمین سے ایک مرد کی خوشبو آتی ہے جلدی ایسا ہوگا کہ شکِ ہندواں قصرِ عارفاں بن جائےگا ۔
ایک روز آپ اپنے خلیفۂ اعظم حضرت سیّد امیر کلال رحمۃ اللہ علیہ کے مکان سے قصرِ عارفاں کی طرف متوجہ ہوئے اور پھر وہاں پہنچ کر فرمایا کہ وہ خوشبو اب زیادہ ہو گئی ہے، بلا شک و شبہ وہ مرد پیدا ہو گیا ہے اُس وقت حضرت نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت مبارک کو تین روز ہو چکے تھے ۔ اُن کے جد امجد اُن کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ ہمارا فرزند ہے ۔ ہم نے اس کو اپنی فرزندی میں قبول کیا ۔ پھر اپنے اصحاب سے فرمایا کہ یہ مردِ خدا ہے جس کی خوشبو ہم نے سونگھی تھی، یہ لڑکا عنقریب اپنے وقت کا مقتدا ہوگا ۔ بعد ازاں سید امیر کلال رحمۃ اللہ علیہ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ تم میرے فرزند بہاء الدین کے حق میں شفقت و تربیت سے ہرگز ہرگز دریغ اور کوتاہی نہ کرنا۔ اگر تم اُس میں کوتاہی کروگے تو میں تمہیں معاف نہیں کروںگا ۔ حضرت سید امیر کلال رحمۃ اللہ علیہ نے کھڑے ہوکر ادب و احترام سے ہاتھ سینے پر رکھ کر عرض کیا کہ اگر کوتاہی کروں تو میں مرد نہیں‘‘۔
۲۔ حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ بیان فرماتے ہیئں کہ جب میری عمر اٹھارہ سال (یا کچھ کم و بیش) ہوئی تو میرے جدِّ امجد کو میرے نکاح کی فکر ہوئی۔ انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں قصر عارفاں جاکر حضرت بابا محمد سماسی رحمۃ اللہ علیہ کو تشریف لانے کی دعوت دوں تاکہ اُن کے قدومِ میمنت لزوم فرمانے سے یہ کام انجام پذیر ہوجائے۔ جب میں زیارت سے مشرف ہوا تو سب سے پہلی کرامت دیکھنے میں یہ آئی کہ اُس رات آپ کی صحبت کی برکت سے مجھ میں بڑا تضرع و نیاز (گریہ زاری اور عاجزی و انکساری) پیدا ہوا ۔
رات کے آخری حصے میں اُٹھ کر میں نے وضو کیا اور آپ کی مسجد مبارک میں جاکر دو رکعت نماز پڑھی اور سر سجدے میں رکھ کر دعا اور گریہ زاری بہت کی۔ اسی اثنا میں میری زبان سے نکلا ۔ ’’خدایا! مجھے (دکھ، تکلیف) کا بوجھ اٹھانے اور اپنی محبت کی محنت و مشقت کرنے کی قوت عطا فرما ۔ صبح میں جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ازروئے فراست و بصیرت میری رات کی سرگزشت سے آگاہ ہوکر فرمایا ’’اے فرزند! دعا میں یوں کہنا چاہیے‘‘، خدایا اس بندہ ضعیف کو اپنے فضل و کرم سے اُسی پر قائم رکھ جس میں تیری رضا ہے‘‘ پھر ارشاد فرمایا کہ ’’بے شک اللہ تعالیٰ کی رضا تو ا س میں ہے کہ بندہ مصیبت میں مبتلا نہ ہو لیکن اگر وہ کسی حکمت کی وجہ سے اپنے کسی دوست پر مصیبت اور آزمائش کرنے کی قوت عطا فرماتا ہے اور اس کی حکمت اُس پر ظاہر کردیتا ہے۔ خود اپنی مرضی و اختیار سے مصیبت و تکلیف، دکھ اور درد اور رنج و بلا طلب کرنا دشوار ہے، گستاخی نہ کرنی چاہیے ۔
بعد ازاں کھانا لایا گیا ۔ جب کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے دستر خوان پر سے ایک روٹی اٹھا کر مجھے عنایت فرمائی، میں لینا نہ چاہتا تھا، آپ نے فرمایا: ’’لے لو، کام آئے گی‘‘۔ میں نے وہ روٹی لے لی اور آپ کے ہمراہ قصر عارفاں کی طرف روانہ ہوا۔ اثنائے راہ میں جب بھی کوئی خطرہ پیدا ہوتا تو آپ فرماتے کہ باطن کی حفاظت کرنی چاہیے۔ ان حالات و واقعات کے مشاہدے سے آپ کی نسبت میر ایقین و اعتقاد بڑھتا گیا، راستے میں ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں آپ کا ایک محب و مخلص تھا، وہ بڑی بشاشت اور عاجزی سے پیش آیا، جب آپ اُس کے مکان میں جلوہ گر ہوئے تو آپ نے اُس کے اضطراب و بے قراری کو دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ ’’سچ سچ بتا، تمہارے اضطراب کا سبب کیا ہے؟ اُس نے عرض کیا کہ گھر میں دودھ کا پنیر تو حاضر ہے مگر روٹی موجود نہیں، آپ نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ ’’وہ روٹی لاؤ، تم نے دیکھا کہ آخر کام آ ہی گئی‘‘۔
خلفاء:
آپ کے چار خلفاء کامل و اکمل اور مشہور و معروف ہوئے ۔
۱۔ خواجہ محمد صوفی رحمۃ اللہ علیہ جن کا مزار مقدس قصبہ سُو خار میں ہے ۔
۲۔ خواجہ محمود سماسی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ آپ کے فرزندِ ارجمند تھے ۔
۳۔ خواجہ دانشمند رحمۃ اللہ علیہ
۴۔ خواجہ سیّد میر کلال رحمۃ اللہ علیہ
وصال:
آپ کی رحلت ۱۰ جمادی الآخر ۷۵۵ھ مطابق ۱۳۵۴ء کو ہوئی اور مرقد مقدس موضع سماس میں بنا ۔
( تاریخِ مشائخ نقشبند )
۱۔ آپ نے خواجۂ خواجگان حضرت بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی فرزندی میں قبول فرمایا تھا جس کی تفصیل یوں ہے کہ حضرت شاہِ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت با سعادت سے پہلے آپ بارہا کو شکِ ہندواں سے گزرتے اور فرماتے:
ازیں خاک بوئے مردے مے آید زود باشد کہ کو شکِ ہند واں قصرِ عارفاں شود۔
اس زمین سے ایک مرد کی خوشبو آتی ہے جلدی ایسا ہوگا کہ شکِ ہندواں قصرِ عارفاں بن جائےگا ۔
ایک روز آپ اپنے خلیفۂ اعظم حضرت سیّد امیر کلال رحمۃ اللہ علیہ کے مکان سے قصرِ عارفاں کی طرف متوجہ ہوئے اور پھر وہاں پہنچ کر فرمایا کہ وہ خوشبو اب زیادہ ہو گئی ہے، بلا شک و شبہ وہ مرد پیدا ہو گیا ہے اُس وقت حضرت نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت مبارک کو تین روز ہو چکے تھے ۔ اُن کے جد امجد اُن کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ ہمارا فرزند ہے ۔ ہم نے اس کو اپنی فرزندی میں قبول کیا ۔ پھر اپنے اصحاب سے فرمایا کہ یہ مردِ خدا ہے جس کی خوشبو ہم نے سونگھی تھی، یہ لڑکا عنقریب اپنے وقت کا مقتدا ہوگا ۔ بعد ازاں سید امیر کلال رحمۃ اللہ علیہ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ تم میرے فرزند بہاء الدین کے حق میں شفقت و تربیت سے ہرگز ہرگز دریغ اور کوتاہی نہ کرنا۔ اگر تم اُس میں کوتاہی کروگے تو میں تمہیں معاف نہیں کروںگا ۔ حضرت سید امیر کلال رحمۃ اللہ علیہ نے کھڑے ہوکر ادب و احترام سے ہاتھ سینے پر رکھ کر عرض کیا کہ اگر کوتاہی کروں تو میں مرد نہیں‘‘۔
۲۔ حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ بیان فرماتے ہیئں کہ جب میری عمر اٹھارہ سال (یا کچھ کم و بیش) ہوئی تو میرے جدِّ امجد کو میرے نکاح کی فکر ہوئی۔ انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں قصر عارفاں جاکر حضرت بابا محمد سماسی رحمۃ اللہ علیہ کو تشریف لانے کی دعوت دوں تاکہ اُن کے قدومِ میمنت لزوم فرمانے سے یہ کام انجام پذیر ہوجائے۔ جب میں زیارت سے مشرف ہوا تو سب سے پہلی کرامت دیکھنے میں یہ آئی کہ اُس رات آپ کی صحبت کی برکت سے مجھ میں بڑا تضرع و نیاز (گریہ زاری اور عاجزی و انکساری) پیدا ہوا ۔
رات کے آخری حصے میں اُٹھ کر میں نے وضو کیا اور آپ کی مسجد مبارک میں جاکر دو رکعت نماز پڑھی اور سر سجدے میں رکھ کر دعا اور گریہ زاری بہت کی۔ اسی اثنا میں میری زبان سے نکلا ۔ ’’خدایا! مجھے (دکھ، تکلیف) کا بوجھ اٹھانے اور اپنی محبت کی محنت و مشقت کرنے کی قوت عطا فرما ۔ صبح میں جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ازروئے فراست و بصیرت میری رات کی سرگزشت سے آگاہ ہوکر فرمایا ’’اے فرزند! دعا میں یوں کہنا چاہیے‘‘، خدایا اس بندہ ضعیف کو اپنے فضل و کرم سے اُسی پر قائم رکھ جس میں تیری رضا ہے‘‘ پھر ارشاد فرمایا کہ ’’بے شک اللہ تعالیٰ کی رضا تو ا س میں ہے کہ بندہ مصیبت میں مبتلا نہ ہو لیکن اگر وہ کسی حکمت کی وجہ سے اپنے کسی دوست پر مصیبت اور آزمائش کرنے کی قوت عطا فرماتا ہے اور اس کی حکمت اُس پر ظاہر کردیتا ہے۔ خود اپنی مرضی و اختیار سے مصیبت و تکلیف، دکھ اور درد اور رنج و بلا طلب کرنا دشوار ہے، گستاخی نہ کرنی چاہیے ۔
بعد ازاں کھانا لایا گیا ۔ جب کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے دستر خوان پر سے ایک روٹی اٹھا کر مجھے عنایت فرمائی، میں لینا نہ چاہتا تھا، آپ نے فرمایا: ’’لے لو، کام آئے گی‘‘۔ میں نے وہ روٹی لے لی اور آپ کے ہمراہ قصر عارفاں کی طرف روانہ ہوا۔ اثنائے راہ میں جب بھی کوئی خطرہ پیدا ہوتا تو آپ فرماتے کہ باطن کی حفاظت کرنی چاہیے۔ ان حالات و واقعات کے مشاہدے سے آپ کی نسبت میر ایقین و اعتقاد بڑھتا گیا، راستے میں ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں آپ کا ایک محب و مخلص تھا، وہ بڑی بشاشت اور عاجزی سے پیش آیا، جب آپ اُس کے مکان میں جلوہ گر ہوئے تو آپ نے اُس کے اضطراب و بے قراری کو دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ ’’سچ سچ بتا، تمہارے اضطراب کا سبب کیا ہے؟ اُس نے عرض کیا کہ گھر میں دودھ کا پنیر تو حاضر ہے مگر روٹی موجود نہیں، آپ نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ ’’وہ روٹی لاؤ، تم نے دیکھا کہ آخر کام آ ہی گئی‘‘۔
خلفاء:
آپ کے چار خلفاء کامل و اکمل اور مشہور و معروف ہوئے ۔
۱۔ خواجہ محمد صوفی رحمۃ اللہ علیہ جن کا مزار مقدس قصبہ سُو خار میں ہے ۔
۲۔ خواجہ محمود سماسی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ آپ کے فرزندِ ارجمند تھے ۔
۳۔ خواجہ دانشمند رحمۃ اللہ علیہ
۴۔ خواجہ سیّد میر کلال رحمۃ اللہ علیہ
وصال:
آپ کی رحلت ۱۰ جمادی الآخر ۷۵۵ھ مطابق ۱۳۵۴ء کو ہوئی اور مرقد مقدس موضع سماس میں بنا ۔
( تاریخِ مشائخ نقشبند )
❤1
خواجہ محمد بابا سماسی قدس سرہ
جائے ولادت:
طریقت میں آپ کا انتساب حضرت عزیزاں سے ہے۔ آپ کا مولد سماسی ہے جو بقول صاحب رشحات دیہات رامتین میں سے ہے۔ اور رامتین سے ایک فرسنگ کے فاصلہ پر واقع ہے۔ خواجہ محمد بابا کو اس کی طرف نسبت کر کے سماسی کہتے ہیں۔
جب حضرت عزیزاں کی وفات کا وقت نزدیک آیا تو آپ نے اپنے اصحاب میں سے خواجہ محمد بابا کو اپنی خلافت و نیابت کے لیے انتخاب کیا۔ اور تمام اصحاب کو ان کی متابعت و ملازمت کا حکم دیا۔
استغراق کی کیفیت:
آپ کی محویت و استغراق کا یہ عالم تھا کہ موضع سماسی میں آپ کا چھوٹا سا باغ تھا جہاں آپ کبھی کبھی تشریف لے جاتے اور وہاں کے انگوروں کی شاخوں کو اپنے دست مبارک سے تراشتے۔ مگر اس کام میں بہت دیر لگ جاتی۔ کیونکہ جب آپ انگور کی ایک شاخ کوکاٹتے تو غلبہ حال و استغراق کی وجہ سے آری آپ کے دست مبارک سے گرپڑتی۔ اور آپ بے خود ہوجاتے۔ یہ بے خودی دیر تک رہتی۔ جب ہوش میں آتے تو پھر شاخ انگور کو کاٹنے لگتے۔ پھر وہی کیفیت طاری ہوجاتی۔
مرد کامل کی خبر:
آپ خواجہ بہاء الدین نقشبند کو اپنی فرزندی میں قبول کیا۔ جس کی کیفیت اس طرح ہے کہ حضرت شاہ نقشبند کی ولادت سے پہلے آپ بار ہا ‘‘کوشک ہندواں’’ سے گزرتے اور فرماتے۔
ازیں خاک بوے مردے مے آید۔
زود باشد کہ کوشک ہندواں قصر
اس زمین سے ایک مرد کی خوشبو آتی ہے۔ جلدی ایسا ہوگا کہ کوشک ہندواں قصر عارفاں بن جائے گا۔
حضرت نقشبند کی ولاد ت کی خبر:
ایک روز آپ اپنے خلیفہ سید امیر کلال کے مکان سے قصر عارفاں کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور وہاں پہنچ کر فرمایا کہ وہ خوشبو اب زیادہ ہوگئی ہے۔ اور بے شک وہ مرد پیدا ہوگیا ہے۔ اس وقت حضرت نقشبند کی ولادت کو تین روز ہوچکے تھے۔ آپ کے جدِ امجد آپ کو لے کر خواجہ محمد بابا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت خواجہ نے فرمایا کہ یہ ہمارا فرزند ہے۔ ہم نے اس کو اپنی فرزندی میں قبول کیا۔ پھر اپنے اصحاب سے فرمایا کہ یہ وہی مرد خدا ہے جس کی خوشبو ہم نے سونگھی تھی۔ یہ لڑکا عنقریب اپنے وقت کا مقتدا ہوگا۔ بعد ازاں سید امیر کلال کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ تم میرے فرزند بہاء الدین کے حق میں شفقت و تربیت سے دریغ نہ کرنا۔ اگر تم اس میں کوتاہی کرو گے۔ تو میں تمہیں معاف نہ کروں گا۔ امیر موصوف نے کھڑے ہوکر اور ادب سے ہاتھ سینے پر رکھ کر عرض کیا کہ اگر کوتاہی کروں تو میں مرد نہیں ۔
جائے ولادت:
طریقت میں آپ کا انتساب حضرت عزیزاں سے ہے۔ آپ کا مولد سماسی ہے جو بقول صاحب رشحات دیہات رامتین میں سے ہے۔ اور رامتین سے ایک فرسنگ کے فاصلہ پر واقع ہے۔ خواجہ محمد بابا کو اس کی طرف نسبت کر کے سماسی کہتے ہیں۔
جب حضرت عزیزاں کی وفات کا وقت نزدیک آیا تو آپ نے اپنے اصحاب میں سے خواجہ محمد بابا کو اپنی خلافت و نیابت کے لیے انتخاب کیا۔ اور تمام اصحاب کو ان کی متابعت و ملازمت کا حکم دیا۔
استغراق کی کیفیت:
آپ کی محویت و استغراق کا یہ عالم تھا کہ موضع سماسی میں آپ کا چھوٹا سا باغ تھا جہاں آپ کبھی کبھی تشریف لے جاتے اور وہاں کے انگوروں کی شاخوں کو اپنے دست مبارک سے تراشتے۔ مگر اس کام میں بہت دیر لگ جاتی۔ کیونکہ جب آپ انگور کی ایک شاخ کوکاٹتے تو غلبہ حال و استغراق کی وجہ سے آری آپ کے دست مبارک سے گرپڑتی۔ اور آپ بے خود ہوجاتے۔ یہ بے خودی دیر تک رہتی۔ جب ہوش میں آتے تو پھر شاخ انگور کو کاٹنے لگتے۔ پھر وہی کیفیت طاری ہوجاتی۔
مرد کامل کی خبر:
آپ خواجہ بہاء الدین نقشبند کو اپنی فرزندی میں قبول کیا۔ جس کی کیفیت اس طرح ہے کہ حضرت شاہ نقشبند کی ولادت سے پہلے آپ بار ہا ‘‘کوشک ہندواں’’ سے گزرتے اور فرماتے۔
ازیں خاک بوے مردے مے آید۔
زود باشد کہ کوشک ہندواں قصر
اس زمین سے ایک مرد کی خوشبو آتی ہے۔ جلدی ایسا ہوگا کہ کوشک ہندواں قصر عارفاں بن جائے گا۔
حضرت نقشبند کی ولاد ت کی خبر:
ایک روز آپ اپنے خلیفہ سید امیر کلال کے مکان سے قصر عارفاں کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور وہاں پہنچ کر فرمایا کہ وہ خوشبو اب زیادہ ہوگئی ہے۔ اور بے شک وہ مرد پیدا ہوگیا ہے۔ اس وقت حضرت نقشبند کی ولادت کو تین روز ہوچکے تھے۔ آپ کے جدِ امجد آپ کو لے کر خواجہ محمد بابا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت خواجہ نے فرمایا کہ یہ ہمارا فرزند ہے۔ ہم نے اس کو اپنی فرزندی میں قبول کیا۔ پھر اپنے اصحاب سے فرمایا کہ یہ وہی مرد خدا ہے جس کی خوشبو ہم نے سونگھی تھی۔ یہ لڑکا عنقریب اپنے وقت کا مقتدا ہوگا۔ بعد ازاں سید امیر کلال کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ تم میرے فرزند بہاء الدین کے حق میں شفقت و تربیت سے دریغ نہ کرنا۔ اگر تم اس میں کوتاہی کرو گے۔ تو میں تمہیں معاف نہ کروں گا۔ امیر موصوف نے کھڑے ہوکر اور ادب سے ہاتھ سینے پر رکھ کر عرض کیا کہ اگر کوتاہی کروں تو میں مرد نہیں ۔
❤1
فراست و بصیرت:
حضرت خواجہ نقشبند سے منقول ہے کہ جب میری عمر اٹھارہ سال یا کچھ کم و بیش ہوئی تو میرے جد امجد کو میرے نکاح کی فکر ہوئی۔ انہوں نے مجھے خواجہ محمد بابا قدس سرہ کے بلانے کے لیے قصر عارفاں میں بھیجاتا کہ ان کے قدم کی برکت سے یہ کام انجام کو پہنچ پائے۔ جب میں آپ کی زیارت سے مشرف ہوا تو پہلی کرامت جو دیکھنے میں آئی یہ تھی کہ اس رات آپ کی صحبت و برکت سے مجھ میں بڑا تضرع و نیاز پیدا ہوا۔
رات کے اخیر حصے میں اٹھ کر میں نے وضو کیا اور آپ کی مسجد مبارک میں جاکر دو رکعت نماز پڑھی۔ اور سر سجدے میں رکھ کر دعا و تضرع بہت کیا۔ اسی اثنا میں میری زبان سے نکلا ’’خدایا! مجھے بلا (آزمائش) کا بوجھ اٹھانے اور اپنی محبت کی محنت برداشت کرنے کی قوت عطا فرما‘‘۔ صبح کو جو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ازروئے فراست و بصیرت میری رات کی سرگزشت سے آگاہ ہوکر فرمایا۔ اے فرزند! دعا میں یوں کہنا چاہیے۔ ’’خدایا! اس بندہ ضعیف کو اپنے فضل و کرم سے اسی پر قائم رکھ جس میں تیری رضا ہے۔‘‘ پھر فرمایا کہ بے شک خدا عزوجل کی رضا تو اس میں ہے کہ بندہ بلا میں مبتلا نہ ہو۔ اگر وہ بنابر حکمت اپنے کسی دوست پر بلا بھیجتا ہے۔ تو اپنی عنایت سے اس دوست کو اس بلا کے برداشت کرنے کی قوت عطا فرماتا ہے اور اس کی حکمت اس پر ظاہر کردیتا ہے۔ اپنے اختیار سے بلا طلب کرنا دشوار ہے۔ گستاخی نہ کرنی چاہیے۔ بعد ازاں کھانا لایا گیا۔
جب کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے دستر خوان پر سے ایک روٹی مجھے دی۔ میں لینا نہ چاہتا تھا۔ آپ نے فرمایا۔ لے لو۔ کام آئے گی۔ میں نے وہ روٹی لے لی اور آپ کے ہمراہ قصرِ عارفاں کی طرف روانہ ہوا۔ اثنائے راہ میں میرے باطن میں جب کوئی خطرہ پیدا ہوتا تو آپ فرماتے کہ باطن کی حفاظت چاہیے۔ ان حالات کے مشاہدے سے حضرت کی نسبت میرا یقین و اعتقاد زیادہ ہوتا جاتا تھا۔ راستے میں ایک جگہ پہنچے جہاں حضرت کا ایک محبّ و مخلص تھا۔ وہ بڑی بشاشت اور عاجزی سے پیش آیا۔ جب آپ اس کے مکان میں اترے تو آپ نے اس کے اضطراب و بے قراری کو دیکھ کر فرمایا۔ کہ سچ بتاؤ۔ اس اضطراب کی سبب کیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ گھر میں دودھ کا پنیر تو حاضر ہے مگر روٹی موجود نہیں۔ حضرت خواجہ نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا وہ روٹی لاؤ۔ تم نے دیکھا کہ آخر کام آگئی۔ یہ پہلے حالات ہیں جو میں نے حضرت بابا سے مشاہدہ کیے۔
وصال مُبارک:
بعض رسائل میں آپ کا سنہ وصال ۱۰ جمادی الاخریٰ ۷۵۵ھ لکھا ہے۔ مزار مبارک موضع سماسی میں ہے۔ (رشحات۔ انیس الطالبین) ۔
( مشائخِ نقشبندیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-baba-samasi-bukhara
حضرت خواجہ نقشبند سے منقول ہے کہ جب میری عمر اٹھارہ سال یا کچھ کم و بیش ہوئی تو میرے جد امجد کو میرے نکاح کی فکر ہوئی۔ انہوں نے مجھے خواجہ محمد بابا قدس سرہ کے بلانے کے لیے قصر عارفاں میں بھیجاتا کہ ان کے قدم کی برکت سے یہ کام انجام کو پہنچ پائے۔ جب میں آپ کی زیارت سے مشرف ہوا تو پہلی کرامت جو دیکھنے میں آئی یہ تھی کہ اس رات آپ کی صحبت و برکت سے مجھ میں بڑا تضرع و نیاز پیدا ہوا۔
رات کے اخیر حصے میں اٹھ کر میں نے وضو کیا اور آپ کی مسجد مبارک میں جاکر دو رکعت نماز پڑھی۔ اور سر سجدے میں رکھ کر دعا و تضرع بہت کیا۔ اسی اثنا میں میری زبان سے نکلا ’’خدایا! مجھے بلا (آزمائش) کا بوجھ اٹھانے اور اپنی محبت کی محنت برداشت کرنے کی قوت عطا فرما‘‘۔ صبح کو جو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ازروئے فراست و بصیرت میری رات کی سرگزشت سے آگاہ ہوکر فرمایا۔ اے فرزند! دعا میں یوں کہنا چاہیے۔ ’’خدایا! اس بندہ ضعیف کو اپنے فضل و کرم سے اسی پر قائم رکھ جس میں تیری رضا ہے۔‘‘ پھر فرمایا کہ بے شک خدا عزوجل کی رضا تو اس میں ہے کہ بندہ بلا میں مبتلا نہ ہو۔ اگر وہ بنابر حکمت اپنے کسی دوست پر بلا بھیجتا ہے۔ تو اپنی عنایت سے اس دوست کو اس بلا کے برداشت کرنے کی قوت عطا فرماتا ہے اور اس کی حکمت اس پر ظاہر کردیتا ہے۔ اپنے اختیار سے بلا طلب کرنا دشوار ہے۔ گستاخی نہ کرنی چاہیے۔ بعد ازاں کھانا لایا گیا۔
جب کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے دستر خوان پر سے ایک روٹی مجھے دی۔ میں لینا نہ چاہتا تھا۔ آپ نے فرمایا۔ لے لو۔ کام آئے گی۔ میں نے وہ روٹی لے لی اور آپ کے ہمراہ قصرِ عارفاں کی طرف روانہ ہوا۔ اثنائے راہ میں میرے باطن میں جب کوئی خطرہ پیدا ہوتا تو آپ فرماتے کہ باطن کی حفاظت چاہیے۔ ان حالات کے مشاہدے سے حضرت کی نسبت میرا یقین و اعتقاد زیادہ ہوتا جاتا تھا۔ راستے میں ایک جگہ پہنچے جہاں حضرت کا ایک محبّ و مخلص تھا۔ وہ بڑی بشاشت اور عاجزی سے پیش آیا۔ جب آپ اس کے مکان میں اترے تو آپ نے اس کے اضطراب و بے قراری کو دیکھ کر فرمایا۔ کہ سچ بتاؤ۔ اس اضطراب کی سبب کیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ گھر میں دودھ کا پنیر تو حاضر ہے مگر روٹی موجود نہیں۔ حضرت خواجہ نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا وہ روٹی لاؤ۔ تم نے دیکھا کہ آخر کام آگئی۔ یہ پہلے حالات ہیں جو میں نے حضرت بابا سے مشاہدہ کیے۔
وصال مُبارک:
بعض رسائل میں آپ کا سنہ وصال ۱۰ جمادی الاخریٰ ۷۵۵ھ لکھا ہے۔ مزار مبارک موضع سماسی میں ہے۔ (رشحات۔ انیس الطالبین) ۔
( مشائخِ نقشبندیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-baba-samasi-bukhara
scholars.pk
Hazrat Khawaja Muhammad Baba Samasi Bukhara
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ حافظ محمد صدیق قادری بانیِ خانقاہ بھرچونڈی شریف رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی: حافظ محمدصدیق بھرچونڈی۔ لقب: خورشید ولایت۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ حافظ محمد صدیق قادری، بن میاں محمد ملوک (علیہماالرحمہ) آپ کے خاندان کے لوگ عرب سے کیچ مکران کے راستے سندھ میں داخل ہوئے، اور بھرچونڈی شریف سے تین میل دور ایک جگہ پر ڈیرہ لگایا اور پھری ہیں آباد ہوگئے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت تقریباً 1234 ہجری بمطابق 1818ءکو بھرچونڈی شریف ضلع گھوٹکی صوبہ سندھ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے گھر کے نزدیک مکتب میں حاصل کی ۔اس کے بعد موضع جندو ماڑی احمد پور شرقیہ کے ایک مدرسہ میں داخلہ لیا۔آپ کی عمر بارہ برس کی تھی کہ آپ کی والدہ ماجدہ آپ کو حضرت پیر سید حسن شاہ صاحب جیلانی علیہ الرحمہ کی خدمت میں بھرچونڈی شریف لے گئیں۔ آپ نے بڑی شفقت سے آپ کو قرأت و تجوید سے قرآن کریم حفظ کرایا۔ آپ کی قرأت پورے سندھ میں مشہورتھی۔
بیعت وخلافت:
آپ حضرت سید محمد حسن شاہ جیلانی قادری علیہ الرحمۃ بانی سوئی شریف کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سےمشرف ہوئے۔
سیرت وخصائص:
شیخ المشائخ،امام الصوفیاء،شیخ الاتقیاء، حضرت شیخ محمدصدیق قادری بانیِ خانقاہ بھرچونڈی شریف ۔آپ علیہ الرحمہ نےخانقاہ بھرچونڈی شریف کی اساس رکھی۔اس خانقاہ نےآگےچل کرملک وملت کی راہنمائی میں بڑا اہم کرداراداکیا۔ حضرت حافظ صاحب علیہ الرحمہ مادرزادولی تھے۔سلہ عالیہ اویسیہ کے روح رواں حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی علیہ الرحمہ کااحمدپور شرقیہ سے روزانہ گزر ہوتا۔ آپ وہاں تعلیم حاصل کرتےتھے۔تو وہ اپنے احباب سے فرماتے کہ اس مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء سے
کسی کامل کی خوشبو آرہی ہے۔ خادم نے عرض کیا ایک تھان کھدر (کپڑے)کالےکر طلباء میں تقسیم فرمائیں پتہ چل جائے گا۔
چنانچہ ایک ایک طالب علم کوخواجہ سیرانی نے بلاکر اپنے ہاتھوں سے کسی کو قمیض کا کپڑا کسی کو چادر کا کپڑا پیش کیا۔ اس دوران ہر ایک طالب علم ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن ایک بچہ دور ایک گوشے میں کھڑا ٹکٹکی باندھے حضور خواجہ سیرانی کو دیکھ رہا تھا۔ جب سب طلباء فارغ ہوگئے تو حضرت خواجہ سیرانی نے اس بچے کو بلاکر چادر پیش کرنا چاہی تو اس بچے نے عرض کیا۔ حضور!میں تو ایسی چادر چاہتا ہوں کہ جو نہ میلی ہو، نہ ہی چھوٹی ہو، اور نہ ہی پھٹے، حضرت خواجہ سیرانی نے چادر پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہی بچہ ہے۔ وہ چادر آج تک آستانہ عالیہ بھرچونڈی شریف میں موجود ہے۔
آپ نے اپنے وجود مبارک کو سنت ِمصطفیٰ ﷺمیں ڈھال رکھا تھا ۔بے نماز آدمی سے راہ ورسم لین دین کھانا پینا اچھا نہ سمجھتےتھے۔جس شادی میں ڈھول باجے نقارے بجائے جاتے، اس شادی میں اپنے مریدین کو شرکت سے منع فرماتے تھے۔ آپ نے اپنے سلسلہ طریقت کی بنیاد تین چیزوں پر رکھی۔ اول :تلاوت قرآن۔دوم:نماز۔سوم: ذکر خدا۔آپ نے بھر چونڈی شریف میں ایک عظیم الشان اور ایسی مسجد تعمیر کروائی جس کی مثال آپ کے زمانہ یا آپ کے زمانے کے بعد اب تک نہیں ملتی۔اینٹیں بنانے والے اور اینٹیں پکانے والے مزدور با وضو اور پھر مسجد کی تعمیر میں کام کرنے والے مزدور اور معمار باوضو۔ حالت یہ تھی کہ گارا بنانے والا اگر گارا بنارہا ہے تو زبان پر ذکر الٰہی جاری ہے۔ معمار اینٹ ہاتھوں سے لگا رہا ہےمگر زبان پر ذکر خدا جاری ہے۔ مسجد کی تعمیر میں پیر و مرید، امام اور مقتدی، فقراؤ خلفأ، خادم و مخدوم سب کے سب ہی گارا اینٹ اٹھانے میں لگے ہوئے ہیں لیکن ذکر الٰہی میں رطب اللسان ہیں۔بلا وضو ایک اینٹ بھی نہیں لگائی گئی۔
آپ کاہرکام اللہ جل شانہ اوراس کےحبیب ﷺرضاہوتاتھا۔کوئی دنیاوی منفعت اس میں نہ ہوتی ۔آپ کے زمانے میں ایک شخص مہمان ہوا۔ لنگر کی تقسیم عشاء کے بعد ہوتی تھی۔ مہمان نے عشاء سے قبل کھانا طلب کیا۔ فقیروں نے کہا کہ نماز کے بعد ہی دال دلیہ تقسیم ہوگا۔ چلو تم بھی نماز پڑھ لو اور پھر کھالینا۔ اس نے کہا میری چالیس برس کی عمر ہوگئی ہے۔ آج تک نما زنہیں پڑھی۔ اللہ تعالیٰ نے تو میری روٹی بند نہیں کی۔ آج تم ہو کہ بغیر نماز پڑھے روٹی نہیں دیتے۔ فقیروں نے یہ بات آپ کی خدمت میں عرض کی تو آپ نے اس کو طلب کیا اور فرمایا :کہ یار بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔وہ توشانِ بےنیازی کامالک ہے۔ ہم سے اگر یہ سوال ہوا کہ تم نے ایک بے نماز کو کیوں کھانا کھلایا۔ تو ہم کیا جواب دیں گے۔ آپ کے ان سیدھے سادھے لفظوں میں وہ مٹھاس اور کشش تھی کہ اس شخص پر رقت طاری ہوگئی اور چالیس سالہ گناہوں کا دفتر آنسوؤں سے دُھلنے لگا،اوروہ تائب ہوکراللہ جل شانہ کافرمانبرداربندہ بن گیا۔
وصال:
10 جمادی الثانی 1308ھ، مطابق 1890ء کو ہوا۔ مزار پُر انوار بھرچونڈی شریف میں مرجع خاص وعام ہے۔
ماخذ و مراجع:
انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام، ج:1۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-hafiz-muhammad-siddique-qadri
نام ونسب:
اسم گرامی: حافظ محمدصدیق بھرچونڈی۔ لقب: خورشید ولایت۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ حافظ محمد صدیق قادری، بن میاں محمد ملوک (علیہماالرحمہ) آپ کے خاندان کے لوگ عرب سے کیچ مکران کے راستے سندھ میں داخل ہوئے، اور بھرچونڈی شریف سے تین میل دور ایک جگہ پر ڈیرہ لگایا اور پھری ہیں آباد ہوگئے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت تقریباً 1234 ہجری بمطابق 1818ءکو بھرچونڈی شریف ضلع گھوٹکی صوبہ سندھ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے گھر کے نزدیک مکتب میں حاصل کی ۔اس کے بعد موضع جندو ماڑی احمد پور شرقیہ کے ایک مدرسہ میں داخلہ لیا۔آپ کی عمر بارہ برس کی تھی کہ آپ کی والدہ ماجدہ آپ کو حضرت پیر سید حسن شاہ صاحب جیلانی علیہ الرحمہ کی خدمت میں بھرچونڈی شریف لے گئیں۔ آپ نے بڑی شفقت سے آپ کو قرأت و تجوید سے قرآن کریم حفظ کرایا۔ آپ کی قرأت پورے سندھ میں مشہورتھی۔
بیعت وخلافت:
آپ حضرت سید محمد حسن شاہ جیلانی قادری علیہ الرحمۃ بانی سوئی شریف کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سےمشرف ہوئے۔
سیرت وخصائص:
شیخ المشائخ،امام الصوفیاء،شیخ الاتقیاء، حضرت شیخ محمدصدیق قادری بانیِ خانقاہ بھرچونڈی شریف ۔آپ علیہ الرحمہ نےخانقاہ بھرچونڈی شریف کی اساس رکھی۔اس خانقاہ نےآگےچل کرملک وملت کی راہنمائی میں بڑا اہم کرداراداکیا۔ حضرت حافظ صاحب علیہ الرحمہ مادرزادولی تھے۔سلہ عالیہ اویسیہ کے روح رواں حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی علیہ الرحمہ کااحمدپور شرقیہ سے روزانہ گزر ہوتا۔ آپ وہاں تعلیم حاصل کرتےتھے۔تو وہ اپنے احباب سے فرماتے کہ اس مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء سے
کسی کامل کی خوشبو آرہی ہے۔ خادم نے عرض کیا ایک تھان کھدر (کپڑے)کالےکر طلباء میں تقسیم فرمائیں پتہ چل جائے گا۔
چنانچہ ایک ایک طالب علم کوخواجہ سیرانی نے بلاکر اپنے ہاتھوں سے کسی کو قمیض کا کپڑا کسی کو چادر کا کپڑا پیش کیا۔ اس دوران ہر ایک طالب علم ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن ایک بچہ دور ایک گوشے میں کھڑا ٹکٹکی باندھے حضور خواجہ سیرانی کو دیکھ رہا تھا۔ جب سب طلباء فارغ ہوگئے تو حضرت خواجہ سیرانی نے اس بچے کو بلاکر چادر پیش کرنا چاہی تو اس بچے نے عرض کیا۔ حضور!میں تو ایسی چادر چاہتا ہوں کہ جو نہ میلی ہو، نہ ہی چھوٹی ہو، اور نہ ہی پھٹے، حضرت خواجہ سیرانی نے چادر پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہی بچہ ہے۔ وہ چادر آج تک آستانہ عالیہ بھرچونڈی شریف میں موجود ہے۔
آپ نے اپنے وجود مبارک کو سنت ِمصطفیٰ ﷺمیں ڈھال رکھا تھا ۔بے نماز آدمی سے راہ ورسم لین دین کھانا پینا اچھا نہ سمجھتےتھے۔جس شادی میں ڈھول باجے نقارے بجائے جاتے، اس شادی میں اپنے مریدین کو شرکت سے منع فرماتے تھے۔ آپ نے اپنے سلسلہ طریقت کی بنیاد تین چیزوں پر رکھی۔ اول :تلاوت قرآن۔دوم:نماز۔سوم: ذکر خدا۔آپ نے بھر چونڈی شریف میں ایک عظیم الشان اور ایسی مسجد تعمیر کروائی جس کی مثال آپ کے زمانہ یا آپ کے زمانے کے بعد اب تک نہیں ملتی۔اینٹیں بنانے والے اور اینٹیں پکانے والے مزدور با وضو اور پھر مسجد کی تعمیر میں کام کرنے والے مزدور اور معمار باوضو۔ حالت یہ تھی کہ گارا بنانے والا اگر گارا بنارہا ہے تو زبان پر ذکر الٰہی جاری ہے۔ معمار اینٹ ہاتھوں سے لگا رہا ہےمگر زبان پر ذکر خدا جاری ہے۔ مسجد کی تعمیر میں پیر و مرید، امام اور مقتدی، فقراؤ خلفأ، خادم و مخدوم سب کے سب ہی گارا اینٹ اٹھانے میں لگے ہوئے ہیں لیکن ذکر الٰہی میں رطب اللسان ہیں۔بلا وضو ایک اینٹ بھی نہیں لگائی گئی۔
آپ کاہرکام اللہ جل شانہ اوراس کےحبیب ﷺرضاہوتاتھا۔کوئی دنیاوی منفعت اس میں نہ ہوتی ۔آپ کے زمانے میں ایک شخص مہمان ہوا۔ لنگر کی تقسیم عشاء کے بعد ہوتی تھی۔ مہمان نے عشاء سے قبل کھانا طلب کیا۔ فقیروں نے کہا کہ نماز کے بعد ہی دال دلیہ تقسیم ہوگا۔ چلو تم بھی نماز پڑھ لو اور پھر کھالینا۔ اس نے کہا میری چالیس برس کی عمر ہوگئی ہے۔ آج تک نما زنہیں پڑھی۔ اللہ تعالیٰ نے تو میری روٹی بند نہیں کی۔ آج تم ہو کہ بغیر نماز پڑھے روٹی نہیں دیتے۔ فقیروں نے یہ بات آپ کی خدمت میں عرض کی تو آپ نے اس کو طلب کیا اور فرمایا :کہ یار بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔وہ توشانِ بےنیازی کامالک ہے۔ ہم سے اگر یہ سوال ہوا کہ تم نے ایک بے نماز کو کیوں کھانا کھلایا۔ تو ہم کیا جواب دیں گے۔ آپ کے ان سیدھے سادھے لفظوں میں وہ مٹھاس اور کشش تھی کہ اس شخص پر رقت طاری ہوگئی اور چالیس سالہ گناہوں کا دفتر آنسوؤں سے دُھلنے لگا،اوروہ تائب ہوکراللہ جل شانہ کافرمانبرداربندہ بن گیا۔
وصال:
10 جمادی الثانی 1308ھ، مطابق 1890ء کو ہوا۔ مزار پُر انوار بھرچونڈی شریف میں مرجع خاص وعام ہے۔
ماخذ و مراجع:
انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام، ج:1۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-hafiz-muhammad-siddique-qadri
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-06-1445 ᴴ | 23-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-06-1445 ᴴ | 24-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2