Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
یہودیوں کی پلاننگ اور فلسطین کی تباہی
(1)پہلی جنگ عظیم (1914-1918)کے دوران فلسطین سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے قبضہ سے نکل گیا اور برطانیہ نے 1917 میں فلسطین کو اپنے قبضے میں لے لیا۔برطانیہ نے فلسطین کو یہودی ریاست بنانے کا اعلان کیا،پھر دنیا بھر سے یہودیوں کو لا کر فلسطین میں بسانا شروع کر دیا۔یہودی اسی وقت سے فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہیں،تاکہ کوئی فلسطینی مسلمان زندہ نہ رہے جو فلسطین کا دعویٰ کر سکے۔یہودیوں نے فلسطین کے باہر دیگر عرب ممالک میں آباد فلسطینی مسلمانوں پر بھی حملے کئے ہیں،تاکہ فلسطینوں کو ختم کر دیا جائے۔
اس طویل مدت میں یہودیوں نے بے شمار فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کیا.غزہ پٹی میں عام فلسطینی شہریوں پر بمباری کا مقصد بھی فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی ہے۔حماس پر حملے کا بہانہ کر کے اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔اسرائیل اس کوشش میں ہے کہ بہت سے فلسطینی مسلمان ہلاک ہو جائیں اور باقی ماندہ فلسطینی مسلمان غزہ پٹی چھوڑ کر دیگر مسلم ملکوں میں پناہ گزیں ہو جائیں۔امریکہ اور برطانیہ دونوں اسرائیل کے ساتھ ہیں۔امریکہ وبرطانیہ کے فوجی بھی اسرائیلی فوج کے ساتھ جنگ میں شریک ہیں۔جنگی ہتھیار اور ساز وسامان بھی امریکہ،برطانیہ ودیگر مغربی ممالک سے بھیجے جا رہے ہیں۔
امریکہ اور اس کے اتحادی یوکرین جنگ میں روس سے ہار چکے ہیں،لہذا فلسطین کو تباہ وویران کر کے اپنی فتح کا جھنڈا بلند کرنا چاہتے ہیں۔فلسطینی مجاہدین زمینی جنگ میں اسرائیل کو زبردست نقصان پہنچا رہے ہیں۔اسرائیلی فوجی کثیر تعداد میں مارے جا رہے ہیں۔اسرائیل کے ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ کی جا رہی ہیں۔یہودی فوج فلسطینی مجاہدین کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہے،لیکن اسرائیل فضائی حملوں کے ذریعہ کثیر تعداد میں فلسطینی شہریوں کو ہلاک کر رہا ہے اور قیام اسرائیل کے قبل سے ہی یہودیوں کا یہ منصوبہ ہے کہ فلسطینی مسلمانوں کا نام ونشان ختم کر دیا جائے،تاکہ کوئی فلسطین کا نام لیوا زندہ نہ رہے۔
(2)اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 1948 میں قیام اسرائیل کے بعد سے 2023 تک اسرائیل نے دس لاکھ فلسطینی مسلمانوں کو قید کیا۔
یہودی فوج پانچ چھ سال کے بچوں کو بھی قید کر لیتی ہے۔فلسطینی عورتوں اور لڑکیوں کو بھی قید میں ڈال دیتی ہے۔جیلوں میں فلسطینی لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی جاتی ہے۔فلسطینی بچوں کے ساتھ بھی بدکاری کی جاتی ہے۔جیلوں میں فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ان کو بھوکا پیاسا رکھا جاتا ہے۔سخت مار پیٹ کی جاتی ہے۔چھوٹے بچوں کے بھی ہاتھ پاؤں توڑ دیئے جاتے ہیں،تاکہ وہ ہمیشہ کے لئے اپاہج ہو جائیں۔بہت سے فلسطینیوں کو جیل ہی میں گولی مار دی جاتی ہے۔الغرض فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔
مختلف ممالک سے یہودیوں کو بلایا جاتا ہے اور وہ کسی بھی مسلمان کو اس کے گھر سے نکال کر اس پر قبضہ کر لیتے ہیں۔جب 1948 میں یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا،اس وقت سات لاکھ سے زائد مسلمانوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر گیا۔یہودیوں نے فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا تھا۔درحقیقت یہودیوں کے مسلسل مظالم کو چند لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
ویسٹ بینک کے علاقوں میں اسرائیل نے یہودیوں کی بہت سی بستیاں بسائی ہیں۔ان یہودیوں کو سیٹلرس کہا جاتا ہے۔ان یہودیوں کو یہی مشن دیا گیا ہے کہ فلسطینی مسلمانوں پر ظلم وستم کرتے رہیں۔فلسطینی مسلمانوں کا قتل،مارپیٹ،عصمت دری،ان کے مال و جائیداد کو چھین لینا،وغیرہ۔یہ لوگ مسلسل فلسطینی مسلمانوں پر ظلم ڈھاتے رہتے ہیں۔اگر یہ سیٹلرس کسی مسلمان کو قتل بھی کر دیں تو اسرائیلی کورٹ میں ان پر مقدمہ نہیں ہوتا ہے۔دراصل اسرائیلی حکومت نے ہی ان سیٹلرس یہودیوں کو اس کام پر لگایا ہے۔امریکہ نے حالیہ دنوں میں ایسے ہی یہودیوں کو ویزا دینے پر پابندی لگانے کا ذکر کیا ہے،لیکن امریکہ خود ہی دو منہ کا سانپ ہے۔
(3)یہودی ونصاری کے پروپیگنڈہ میڈیا نے چند دنوں سے یہ من گھڑت خبر پھیلانا شروع کیا ہے کہ سات اکتوبر کے حملہ کے وقت حماس کے مجاہدین نے اسرائیلی عورتوں سے بدکاری تھی،حالاں کہ حماس کے لیڈران کا کہنا ہے کہ حماس کے مجاہدین کی اکثریت حافظ قرآن ہیں اور اسلامی اصولوں کے مطابق ان کی تربیت کی جاتی ہے۔سات اکتوبر کو حماس نے صرف یہودیوں کے فوجی اڈوں پر حملہ کیا تھا اور آزاد رپورٹ سے یہ تصدیق ہو چکی ہے کہ سات اکتوبر کو حماس نے کسی اسرائیلی شہری کو ہلاک نہیں کیا ہے اور یہی اسلامی تعلیم ہے کہ عام لوگوں پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے۔
حماس نے فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے آزاد کرانے کے واسطے اسرائیلی شہریوں کو بندھک ضرور بنایا تھا،لیکن ان بندھکوں کو مہمانوں کی طرح رکھا۔حماس کی قید سے رہا ہونے والے قیدیوں نے بھی حماس کے حسن سلوک کا اعتراف کیا ہے۔
یہودیوں کی پلاننگ اور فلسطین کی تباہی
(1)پہلی جنگ عظیم (1914-1918)کے دوران فلسطین سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے قبضہ سے نکل گیا اور برطانیہ نے 1917 میں فلسطین کو اپنے قبضے میں لے لیا۔برطانیہ نے فلسطین کو یہودی ریاست بنانے کا اعلان کیا،پھر دنیا بھر سے یہودیوں کو لا کر فلسطین میں بسانا شروع کر دیا۔یہودی اسی وقت سے فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہیں،تاکہ کوئی فلسطینی مسلمان زندہ نہ رہے جو فلسطین کا دعویٰ کر سکے۔یہودیوں نے فلسطین کے باہر دیگر عرب ممالک میں آباد فلسطینی مسلمانوں پر بھی حملے کئے ہیں،تاکہ فلسطینوں کو ختم کر دیا جائے۔
اس طویل مدت میں یہودیوں نے بے شمار فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کیا.غزہ پٹی میں عام فلسطینی شہریوں پر بمباری کا مقصد بھی فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی ہے۔حماس پر حملے کا بہانہ کر کے اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔اسرائیل اس کوشش میں ہے کہ بہت سے فلسطینی مسلمان ہلاک ہو جائیں اور باقی ماندہ فلسطینی مسلمان غزہ پٹی چھوڑ کر دیگر مسلم ملکوں میں پناہ گزیں ہو جائیں۔امریکہ اور برطانیہ دونوں اسرائیل کے ساتھ ہیں۔امریکہ وبرطانیہ کے فوجی بھی اسرائیلی فوج کے ساتھ جنگ میں شریک ہیں۔جنگی ہتھیار اور ساز وسامان بھی امریکہ،برطانیہ ودیگر مغربی ممالک سے بھیجے جا رہے ہیں۔
امریکہ اور اس کے اتحادی یوکرین جنگ میں روس سے ہار چکے ہیں،لہذا فلسطین کو تباہ وویران کر کے اپنی فتح کا جھنڈا بلند کرنا چاہتے ہیں۔فلسطینی مجاہدین زمینی جنگ میں اسرائیل کو زبردست نقصان پہنچا رہے ہیں۔اسرائیلی فوجی کثیر تعداد میں مارے جا رہے ہیں۔اسرائیل کے ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ کی جا رہی ہیں۔یہودی فوج فلسطینی مجاہدین کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہے،لیکن اسرائیل فضائی حملوں کے ذریعہ کثیر تعداد میں فلسطینی شہریوں کو ہلاک کر رہا ہے اور قیام اسرائیل کے قبل سے ہی یہودیوں کا یہ منصوبہ ہے کہ فلسطینی مسلمانوں کا نام ونشان ختم کر دیا جائے،تاکہ کوئی فلسطین کا نام لیوا زندہ نہ رہے۔
(2)اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 1948 میں قیام اسرائیل کے بعد سے 2023 تک اسرائیل نے دس لاکھ فلسطینی مسلمانوں کو قید کیا۔
یہودی فوج پانچ چھ سال کے بچوں کو بھی قید کر لیتی ہے۔فلسطینی عورتوں اور لڑکیوں کو بھی قید میں ڈال دیتی ہے۔جیلوں میں فلسطینی لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی جاتی ہے۔فلسطینی بچوں کے ساتھ بھی بدکاری کی جاتی ہے۔جیلوں میں فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ان کو بھوکا پیاسا رکھا جاتا ہے۔سخت مار پیٹ کی جاتی ہے۔چھوٹے بچوں کے بھی ہاتھ پاؤں توڑ دیئے جاتے ہیں،تاکہ وہ ہمیشہ کے لئے اپاہج ہو جائیں۔بہت سے فلسطینیوں کو جیل ہی میں گولی مار دی جاتی ہے۔الغرض فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔
مختلف ممالک سے یہودیوں کو بلایا جاتا ہے اور وہ کسی بھی مسلمان کو اس کے گھر سے نکال کر اس پر قبضہ کر لیتے ہیں۔جب 1948 میں یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا،اس وقت سات لاکھ سے زائد مسلمانوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر گیا۔یہودیوں نے فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا تھا۔درحقیقت یہودیوں کے مسلسل مظالم کو چند لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
ویسٹ بینک کے علاقوں میں اسرائیل نے یہودیوں کی بہت سی بستیاں بسائی ہیں۔ان یہودیوں کو سیٹلرس کہا جاتا ہے۔ان یہودیوں کو یہی مشن دیا گیا ہے کہ فلسطینی مسلمانوں پر ظلم وستم کرتے رہیں۔فلسطینی مسلمانوں کا قتل،مارپیٹ،عصمت دری،ان کے مال و جائیداد کو چھین لینا،وغیرہ۔یہ لوگ مسلسل فلسطینی مسلمانوں پر ظلم ڈھاتے رہتے ہیں۔اگر یہ سیٹلرس کسی مسلمان کو قتل بھی کر دیں تو اسرائیلی کورٹ میں ان پر مقدمہ نہیں ہوتا ہے۔دراصل اسرائیلی حکومت نے ہی ان سیٹلرس یہودیوں کو اس کام پر لگایا ہے۔امریکہ نے حالیہ دنوں میں ایسے ہی یہودیوں کو ویزا دینے پر پابندی لگانے کا ذکر کیا ہے،لیکن امریکہ خود ہی دو منہ کا سانپ ہے۔
(3)یہودی ونصاری کے پروپیگنڈہ میڈیا نے چند دنوں سے یہ من گھڑت خبر پھیلانا شروع کیا ہے کہ سات اکتوبر کے حملہ کے وقت حماس کے مجاہدین نے اسرائیلی عورتوں سے بدکاری تھی،حالاں کہ حماس کے لیڈران کا کہنا ہے کہ حماس کے مجاہدین کی اکثریت حافظ قرآن ہیں اور اسلامی اصولوں کے مطابق ان کی تربیت کی جاتی ہے۔سات اکتوبر کو حماس نے صرف یہودیوں کے فوجی اڈوں پر حملہ کیا تھا اور آزاد رپورٹ سے یہ تصدیق ہو چکی ہے کہ سات اکتوبر کو حماس نے کسی اسرائیلی شہری کو ہلاک نہیں کیا ہے اور یہی اسلامی تعلیم ہے کہ عام لوگوں پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے۔
حماس نے فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے آزاد کرانے کے واسطے اسرائیلی شہریوں کو بندھک ضرور بنایا تھا،لیکن ان بندھکوں کو مہمانوں کی طرح رکھا۔حماس کی قید سے رہا ہونے والے قیدیوں نے بھی حماس کے حسن سلوک کا اعتراف کیا ہے۔
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
(4)غزہ پٹی میں مجاہدین کے ہاتھوں کثیر تعداد میں اسرائیلی فوجی ہلاک ہو رہے ہیں۔ان کے ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ کی جا رہی ہیں۔یہودی فوج مجاہدین سے مقابلہ کرنے میں بالکل ناکام ہے۔بہت سے فوجی اندھے ہو چکے ہیں۔بہت سے ہیضہ میں مبتلا ہو چکے ہیں۔اسرائیل میں کینسر پھیلتا جا رہا ہے۔حماس کے ترجمان جناب ابو عبیدہ سلمہ اللہ تعالی نے کل کے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے مجاہدین اسلام کی طرف سے ایسے فوجیوں کو جنگ کرتے دیکھا جنہیں ہم پہچانتے نہیں کہ وہ کون ہیں۔امید کہ یہ خداوندی مدد ہو:واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
خبر کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ کے بعض علاقوں سے واپس اسرائیل جا رہے ہیں اور اسرائیلی حکومت حماس کے لیڈروں سے جنگ بندی کی بات کر رہی ہے۔
یمن کے فوجی اور حزب اللہ کے سپاہی بھی اسرائیل پر حملے کر رہے ہیں۔ویسٹ بینک میں یہودی فوجیوں سے فلسطینی مسلمان مقابلہ آرائی کر رہے ہیں۔کہیں بھی یہودیوں کا قدم جم نہیں پا رہا ہے۔یہودی فضائی حملوں کے ذریعہ غزہ پٹی کے مسلمانوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔افسوس کہ حماس کے پاس فضائی حملہ روکنے کا کوئی ذریعہ نہیں۔یہودی حکومت غزہ کے مسلمانوں کو غزہ خالی کر کے مصر کے سرحدی علاقہ یعنی رفح بارڈر کی طرف جانے کو کہتی ہے اور بتاتی ہے کہ وہ علاقہ محفوظ ہے اور پھر اسرائیلی حکومت مصر کے سرحدی علاقوں میں بھی فلسطینی مسلمانوں پر بمباری کرتی ہے۔دراصل یہودی کائنات عالم کی سب سے بدترین قوم ہے۔یہودیوں کی کوئی بات قابل اعتبار نہیں۔
یہودی کا بچہ کوئی نہیں سچا
ایک نکلا وہ بھی حرامی کا بچہ
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:07:دسمبر 2023
خبر کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ کے بعض علاقوں سے واپس اسرائیل جا رہے ہیں اور اسرائیلی حکومت حماس کے لیڈروں سے جنگ بندی کی بات کر رہی ہے۔
یمن کے فوجی اور حزب اللہ کے سپاہی بھی اسرائیل پر حملے کر رہے ہیں۔ویسٹ بینک میں یہودی فوجیوں سے فلسطینی مسلمان مقابلہ آرائی کر رہے ہیں۔کہیں بھی یہودیوں کا قدم جم نہیں پا رہا ہے۔یہودی فضائی حملوں کے ذریعہ غزہ پٹی کے مسلمانوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔افسوس کہ حماس کے پاس فضائی حملہ روکنے کا کوئی ذریعہ نہیں۔یہودی حکومت غزہ کے مسلمانوں کو غزہ خالی کر کے مصر کے سرحدی علاقہ یعنی رفح بارڈر کی طرف جانے کو کہتی ہے اور بتاتی ہے کہ وہ علاقہ محفوظ ہے اور پھر اسرائیلی حکومت مصر کے سرحدی علاقوں میں بھی فلسطینی مسلمانوں پر بمباری کرتی ہے۔دراصل یہودی کائنات عالم کی سب سے بدترین قوم ہے۔یہودیوں کی کوئی بات قابل اعتبار نہیں۔
یہودی کا بچہ کوئی نہیں سچا
ایک نکلا وہ بھی حرامی کا بچہ
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:07:دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
مفادات کی حصول یابی اور مسلمانوں کی بربادی
(1)کل بروز جمعہ سلامتی کونسل میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے فلسطینی واسرائیل جنگ بندی کی قرار داد پیش کی گئی۔سلامتی کونسل کے پندرہ ممبران میں سے تیرہ نے جنگ بندی کی حمایت کی۔برطانیہ غیر حاضر رہا اور امریکہ نے ویٹو کر دیا۔امریکہ کا کہنا ہے کہ ہم مکمل امن ہونے تک جنگ بندی نہیں چاہتے ہیں۔
مکمل امن سے حماس کا خاتمہ مراد ہے اور حماس کے خاتمہ کا بہانہ بنا کر تمام فلسطینیوں کو ختم کرنا اصل مقصود ہے،تاکہ فلسطین کا کوئی نام لیوا زندہ نہ رہے۔یہود ونصاری کا یہ کوئی نیا منصوبہ نہیں ہے،بلکہ سو سال سے اسی منصوبہ پر عمل ہو رہا ہے۔
فلسطین میں فساد اس وجہ سے پیدا ہوا کہ 1917 میں برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کو لا کر بسا دیا اور فلسطین میں ایک یہودی ملک کے قیام کا اعلان کیا،پس فساد کی اصل وجہ یہودیوں کو فلسطین میں زبردستی بسانا اور فلسطین میں یہودی ملک کو قائم کرنا ہے۔آج تک دنیا کے بہت سے ممالک اسرائیل کو ملک نہیں مانتے ہیں۔ اسرائیل کو 1948 میں اقوام متحدہ نے ایک ملک قرار دیا تھا۔75:سال ہو گئے،لیکن آج بھی دنیا کے بہت سے ممالک اسرائیل کو ایک ملک تسلیم نہیں کرتے ہیں۔
مسلسل ایک صدی سے یہودی قوم فلسطینی مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھا رہی ہے،پس دہشت گرد یہودی ہیں،نہ کہ حماس۔حماس نے اقدامی حملہ نہیں کیا ہے،بلکہ دفاعی عمل کیا ہے۔دنیا کے ہر فرد،ہر قوم اور ہر ملک کو دفاع کا حق حاصل ہے تو فلسطینیوں کو بھی دفاع کا حق حاصل ہے۔تحقیقات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ سات اکتوبر کے حملے میں حماس نے عام اسرائیلی شہریوں کو ہلاک نہیں کیا،بلکہ عام اسرائیلی شہری اسرائیلی فوج کے ہوائی حملے سے ہلاک ہوئے ہیں۔حماس نے صرف اسرائیل کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا۔
(2)امریکہ عرب دنیا سے پٹرول،گیس اور مختلف قسم کے فوائد بھی حاصل کرتا ہے اور امریکہ نے حالیہ تیس سال کی مدت میں قریبا ایک کروڑ مسلمانوں کو ہلاک کیا ہے اور کئی کروڑ مسلمانوں کو بے گھر کر دیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ افغانستان میں پچیس لاکھ،عراق میں بیس لاکھ،شام میں پندرہ لاکھ مسلمانوں کو ہلاک کیا۔لیبیا میں کئی لاکھ مسلمانوں کو ہلاک کیا۔مغربی قوتوں نے داعش کو وجود دیا۔داعش کے سبب لاکھوں مسلمان مارے گئے۔عراق کو ایران سے آٹھ سال تک لڑاتا رہا۔امریکہ شیعہ و سنی اختلاف کرا کے مسلمانوں کو تقسیم کر دیتا ہے اور ایک کو درموسرے سے لڑا دیتا ہے۔اسی طرح دنیا میں جو ملک بھی امریکہ کی غلامی سے انکار کرتا ہے،اس کو تباہ وبرباد کر دیتا ہے۔
امریکہ نے نیٹو(NATO)میں تیس ممالک کا فوجی اتحاد قائم کیا ہے۔اسی نیٹو کے بل پر کسی بھی ملک پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیتا ہے۔
(3)روس اور ایران جس جدید اتحاد کی کوشش کر رہے ہیں،وہ اتحاد ضرور قائم ہونا چاہئے۔ایران اس اتحاد میں مسلم ممالک کی نمائندگی کرے گا۔ایران کو چاہئے کہ اس اتحاد میں شیعہ و سنی اختلاف پر کنٹرول رکھے اور باہمی اختلاف کی نوبت نہ آنے دے۔اقوام متحدہ اور نیٹو یقینا امریکہ کے اشارہ پر ہی اپنے کام کرتا ہے۔ایسی صورت میں دنیا میں امن قائم ہونا مشکل ہے،کیوں کہ امریکہ امن نہیں چاہتا،بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ ساری دنیا میں ہماری سامراجیت قائم رہے۔
مسلم ممالک کو چاہئے کہ اپنا دفاعی نظام مستحکم کرے۔روس وچین بھی اپنے مفادات کے بغیر مسلم ممالک کی حمایت نہیں کر سکتے،لیکن امریکہ مسلم ممالک سے فوائد بھی حاصل کرتا ہے اور مسلمانوں کا قتل عام بھی کرتا ہے۔
(4) فلسطین واسرائیل جنگ کا حال یہ ہے کہ اسرائیل روزانہ جنگی جہازوں سے بمباری کر کے چار پانچ سو عام فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کرتا جا رہا ہے۔زمینی جنگ میں اسرائیل بالکل شکست کھا چکا ہے۔بہت سے یہودی کرنل،جنرل مارے جا چکے ہیں۔سابق اسرائیلی چیف کمانڈر کا بیٹا بھی ہلاک ہو چکا ہے۔اسرائیلی شہروں پر حماس کی طرف سے میزائل وراکٹ داغے جا رہے ہیں۔دو ماہ میں حماس نے اسرائیل کے قریبا پانچ سو ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ کی پیں۔کئی ہیلی کاپٹر اور ڈرون مار گرائے ہیں۔قریبا سات ہزار اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیل اپنے نقصان کو چھپاتا ہے۔حماس وحزب اللہ میزائلوں اور راکٹوں سے حملہ کر کے اسرائیلی فوجی اڈوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔سارے اسرائیلی فوجی ہلاک ہو جاتے ہیں،لیکن اسرائیل کہتا ہے کہ ہمارے دو فوجی زخمی ہوئے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ سارے فوجی مارے گئے اور صرف دو فوجی زندہ رہ سکے،وہ دونوں بھی زخمی ہیں۔
حزب اللہ کے حملے ابھی تک تیز نہیں ہوئے ہیں۔یمن کے حوثی فوجی بحر احمر پر اپنا مضبوط کنٹرول بنا چکے ہیں اور اسرائیلی جہازوں کو بحر احمر سے گزرنے نہیں دے رہے ہیں۔اسرائیل شام پر بھی ہوائی حملے کر رہا ہے،لیکن شام کے جوابی حملے بھی تیز نہیں ہیں۔شاید عرب ممالک کئی بار اسرائیل سے اسی لئے شکست کھا گئے کہ وہ دفاعی حملے بھی مضبوطی سے نہ کر سکے۔اسرائیل کے وجود کے بعد سے پہلی مرتبہ حماس نے اسرائیل سے سخت مقابلہ آرائی
مفادات کی حصول یابی اور مسلمانوں کی بربادی
(1)کل بروز جمعہ سلامتی کونسل میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے فلسطینی واسرائیل جنگ بندی کی قرار داد پیش کی گئی۔سلامتی کونسل کے پندرہ ممبران میں سے تیرہ نے جنگ بندی کی حمایت کی۔برطانیہ غیر حاضر رہا اور امریکہ نے ویٹو کر دیا۔امریکہ کا کہنا ہے کہ ہم مکمل امن ہونے تک جنگ بندی نہیں چاہتے ہیں۔
مکمل امن سے حماس کا خاتمہ مراد ہے اور حماس کے خاتمہ کا بہانہ بنا کر تمام فلسطینیوں کو ختم کرنا اصل مقصود ہے،تاکہ فلسطین کا کوئی نام لیوا زندہ نہ رہے۔یہود ونصاری کا یہ کوئی نیا منصوبہ نہیں ہے،بلکہ سو سال سے اسی منصوبہ پر عمل ہو رہا ہے۔
فلسطین میں فساد اس وجہ سے پیدا ہوا کہ 1917 میں برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کو لا کر بسا دیا اور فلسطین میں ایک یہودی ملک کے قیام کا اعلان کیا،پس فساد کی اصل وجہ یہودیوں کو فلسطین میں زبردستی بسانا اور فلسطین میں یہودی ملک کو قائم کرنا ہے۔آج تک دنیا کے بہت سے ممالک اسرائیل کو ملک نہیں مانتے ہیں۔ اسرائیل کو 1948 میں اقوام متحدہ نے ایک ملک قرار دیا تھا۔75:سال ہو گئے،لیکن آج بھی دنیا کے بہت سے ممالک اسرائیل کو ایک ملک تسلیم نہیں کرتے ہیں۔
مسلسل ایک صدی سے یہودی قوم فلسطینی مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھا رہی ہے،پس دہشت گرد یہودی ہیں،نہ کہ حماس۔حماس نے اقدامی حملہ نہیں کیا ہے،بلکہ دفاعی عمل کیا ہے۔دنیا کے ہر فرد،ہر قوم اور ہر ملک کو دفاع کا حق حاصل ہے تو فلسطینیوں کو بھی دفاع کا حق حاصل ہے۔تحقیقات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ سات اکتوبر کے حملے میں حماس نے عام اسرائیلی شہریوں کو ہلاک نہیں کیا،بلکہ عام اسرائیلی شہری اسرائیلی فوج کے ہوائی حملے سے ہلاک ہوئے ہیں۔حماس نے صرف اسرائیل کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا۔
(2)امریکہ عرب دنیا سے پٹرول،گیس اور مختلف قسم کے فوائد بھی حاصل کرتا ہے اور امریکہ نے حالیہ تیس سال کی مدت میں قریبا ایک کروڑ مسلمانوں کو ہلاک کیا ہے اور کئی کروڑ مسلمانوں کو بے گھر کر دیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ افغانستان میں پچیس لاکھ،عراق میں بیس لاکھ،شام میں پندرہ لاکھ مسلمانوں کو ہلاک کیا۔لیبیا میں کئی لاکھ مسلمانوں کو ہلاک کیا۔مغربی قوتوں نے داعش کو وجود دیا۔داعش کے سبب لاکھوں مسلمان مارے گئے۔عراق کو ایران سے آٹھ سال تک لڑاتا رہا۔امریکہ شیعہ و سنی اختلاف کرا کے مسلمانوں کو تقسیم کر دیتا ہے اور ایک کو درموسرے سے لڑا دیتا ہے۔اسی طرح دنیا میں جو ملک بھی امریکہ کی غلامی سے انکار کرتا ہے،اس کو تباہ وبرباد کر دیتا ہے۔
امریکہ نے نیٹو(NATO)میں تیس ممالک کا فوجی اتحاد قائم کیا ہے۔اسی نیٹو کے بل پر کسی بھی ملک پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیتا ہے۔
(3)روس اور ایران جس جدید اتحاد کی کوشش کر رہے ہیں،وہ اتحاد ضرور قائم ہونا چاہئے۔ایران اس اتحاد میں مسلم ممالک کی نمائندگی کرے گا۔ایران کو چاہئے کہ اس اتحاد میں شیعہ و سنی اختلاف پر کنٹرول رکھے اور باہمی اختلاف کی نوبت نہ آنے دے۔اقوام متحدہ اور نیٹو یقینا امریکہ کے اشارہ پر ہی اپنے کام کرتا ہے۔ایسی صورت میں دنیا میں امن قائم ہونا مشکل ہے،کیوں کہ امریکہ امن نہیں چاہتا،بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ ساری دنیا میں ہماری سامراجیت قائم رہے۔
مسلم ممالک کو چاہئے کہ اپنا دفاعی نظام مستحکم کرے۔روس وچین بھی اپنے مفادات کے بغیر مسلم ممالک کی حمایت نہیں کر سکتے،لیکن امریکہ مسلم ممالک سے فوائد بھی حاصل کرتا ہے اور مسلمانوں کا قتل عام بھی کرتا ہے۔
(4) فلسطین واسرائیل جنگ کا حال یہ ہے کہ اسرائیل روزانہ جنگی جہازوں سے بمباری کر کے چار پانچ سو عام فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کرتا جا رہا ہے۔زمینی جنگ میں اسرائیل بالکل شکست کھا چکا ہے۔بہت سے یہودی کرنل،جنرل مارے جا چکے ہیں۔سابق اسرائیلی چیف کمانڈر کا بیٹا بھی ہلاک ہو چکا ہے۔اسرائیلی شہروں پر حماس کی طرف سے میزائل وراکٹ داغے جا رہے ہیں۔دو ماہ میں حماس نے اسرائیل کے قریبا پانچ سو ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ کی پیں۔کئی ہیلی کاپٹر اور ڈرون مار گرائے ہیں۔قریبا سات ہزار اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیل اپنے نقصان کو چھپاتا ہے۔حماس وحزب اللہ میزائلوں اور راکٹوں سے حملہ کر کے اسرائیلی فوجی اڈوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔سارے اسرائیلی فوجی ہلاک ہو جاتے ہیں،لیکن اسرائیل کہتا ہے کہ ہمارے دو فوجی زخمی ہوئے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ سارے فوجی مارے گئے اور صرف دو فوجی زندہ رہ سکے،وہ دونوں بھی زخمی ہیں۔
حزب اللہ کے حملے ابھی تک تیز نہیں ہوئے ہیں۔یمن کے حوثی فوجی بحر احمر پر اپنا مضبوط کنٹرول بنا چکے ہیں اور اسرائیلی جہازوں کو بحر احمر سے گزرنے نہیں دے رہے ہیں۔اسرائیل شام پر بھی ہوائی حملے کر رہا ہے،لیکن شام کے جوابی حملے بھی تیز نہیں ہیں۔شاید عرب ممالک کئی بار اسرائیل سے اسی لئے شکست کھا گئے کہ وہ دفاعی حملے بھی مضبوطی سے نہ کر سکے۔اسرائیل کے وجود کے بعد سے پہلی مرتبہ حماس نے اسرائیل سے سخت مقابلہ آرائی
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
کی ہے اور اسرائیل کی فوجی قوت کی حقیقت دنیا کے سامنے ظاہر ہو گئی،ورنہ آج تک اسرائیل خود کو مشرق وسطی کا سپر پاور سمجھ رہا تھا۔اسرائیلی فوج،اسرائیل کی خفیہ ایجنسی،اسرائیل کا آئرن ڈوم نظام سب ناکارہ ثابت ہوا۔
(5)غزہ پٹی میں بیس لاکھ مسلمان آباد ہیں۔امریکہ مسلم ممالک میں کروڑوں مسلمانوں کو ہلاک کر چکا ہے اور دنیا تماشا دیکھتی رہی۔اگر غزہ پٹی کے پیس لاکھ مسلمانوں کو بھی ہلاک کر دیا جائے تو اقوام متحدہ یا اہل عالم کچھ نہیں کریں گے،لہذا مسلم ممالک کو بیدار ہونا چاہئے۔بات چیت سے جنگ بندی نہیں ہو رہی ہے تو کوئی مناسب راہ اختیار کرنی چاہیے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:09:دسمبر2023
(5)غزہ پٹی میں بیس لاکھ مسلمان آباد ہیں۔امریکہ مسلم ممالک میں کروڑوں مسلمانوں کو ہلاک کر چکا ہے اور دنیا تماشا دیکھتی رہی۔اگر غزہ پٹی کے پیس لاکھ مسلمانوں کو بھی ہلاک کر دیا جائے تو اقوام متحدہ یا اہل عالم کچھ نہیں کریں گے،لہذا مسلم ممالک کو بیدار ہونا چاہئے۔بات چیت سے جنگ بندی نہیں ہو رہی ہے تو کوئی مناسب راہ اختیار کرنی چاہیے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:09:دسمبر2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
جانشینان عزازیل کی سازش و کذب بیانی
(1)08:دسمبر کو امریکہ نے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرار داد کو ویٹو کر دیا،حالاں کہ پندرہ ممبران میں سے تیرہ ممبران جنگ بندی کے حق میں تھے اور برطانیہ ووٹنگ سے غیر حاضر تھا۔جنگ بندی کی قرار داد متحدہ عرب امارات نے پیش کی تھی۔
جنگ بندی کی قرار داد مسترد ہونے کے بعد یمن نے اعلان کیا تھا کہ بحر احمر سے کوئی جہاز اسرائیل کی طرف جانے نہیں دیں گے،خواہ وہ کسی ملک کا جہاز ہو۔اس کے بعد امریکہ نے سعودیہ عربیہ کو اکسایا کہ یمن سے وہ جنگ کرے۔سعودیہ نے انکار کر دیا۔اس کے بعد امریکہ نے متحدہ عرب امارات کو یمن سے جنگ کے لئے کہا،وہ بھی انکار کر گیا۔امریکہ کی بے حیائی دیکھیں کہ سلامتی کونسل میں متحدہ عرب امارات نے جنگ بندی کی قرار داد پیش کی تو امریکہ نے اسے نامنظور کر دیا اور اسی نامنظوری کے سبب یمن نے بحر احمر سے جہازوں کے گزرنے پر پابندی لگائی تو امریکہ اسی متحدہ عرب امارات کو یمن سے جنگ کے لئے اکسانے لگا۔یہود ونصاری اسی طرح مسلم ممالک کو ایک دوسرے سے لڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔
سلامتی کونسل میں امریکہ کے ویٹو کے بعد سعودی وزیر خارجہ ودیگر عربی ممالک کے وزرائے خارجہ امریکی وزیر خارجہ کے پاس جنگ بندی کے لئے گئے تھے،لیکن امریکہ کسی طرح بھی جنگ بندی کے لئے راضی نہیں ہوا،اور یمن کے اعلان کے بعد سعودی کو یمن سے جنگ کی ترغیب دینے لگا۔
حالیہ خبر کے مطابق امریکہ ایک بحری ٹاسک فورس بنائے گا،تاکہ یمن کے حملوں کا جواب دیا جا سکے اور اسرائیلی جہازوں کے گزرنے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔اس ٹاسک فورس میں متعدد مسلم ممالک کے جنگی جہاز ہوں گے۔ترکی،پاکستان،کویت،جارڈن،بحرین کے نام بتائے گئے ہیں۔
غزہ پٹی میں اٹھارہ ہزار مسلمان مارے جا چکے ہیں،لیکن مسلم ممالک آج تک اسرائیل سے تجارتی تعلقات بھی ختم نہ کر سکے،پھر یہ لوگ فلسطینی مسلمانوں کو بچانے کے لئے اسرائیل پر حملہ کیسے کر سکتے ہیں۔درحقیقت مسلمانوں کے دلوں سے اسلامی غیرت و حمیت بالکل ختم ہو چکی ہے۔ہمن اپنے طریقے پر فلسطینی مسلمانوں کی مدد کر رہا ہے تو مسلم ممالک یمن کو روکنے کے لئے امریکہ کی مدد کر رہے ہیں۔ابھی یہ ایک خبر ہے۔حقائق کی جانکاری کے لئے مزید چند دن انتظار کریں۔
(2)غزہ پٹی کے مسلمان بھوک سے موت کے شکار ہو رہے ہیں۔انسانی ضرورتوں کے ساز وسامان کا فقدان ہے۔دوائیں موجود نہیں۔اسپتال توڑ دیئے گئے۔زخمیوں کی تعداد پچاس ہزار سے زائد ہے۔غزہ میں پانی کا بھی معقول انتظام نہیں۔جنگ بندی کے بغیر باہر سے کوئی مدد غزہ پٹی پہنچانے کی کوئی صورت نہیں۔غزہ پٹی میں ہر طرف اسرائیلی طیارے بمباری کر رہے ہیں۔ہر دن چار پانچ سو عام فلسطینی مسلمان ہلاک ہو رہے ہیں۔
ان مشکل حالات کے پیش نظر آج دنیا بھر میں حقوق انسانی کی تنظیموں نے احتجاج کیا ہے۔امید ہے کہ کل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جنگ بندی سے متعلق قرار داد مصر کی جانب سے پیش کی جائے اور پھر دوبارہ سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد پیش کی جائے۔چند دن انتظار کریں۔
ان چند دنوں میں بھی نہ جانے کتنے عام فلسطینی مسلمان ہلاک کر دئیے جائیں گے،نیز دوبارہ قرار داد پیش ہونے پر امریکہ ویٹو کر دے تو اہل دنیا سے ساری امید ختم ہو جائے گی۔
(3) اسرائیل زمینی جنگ ہار چکا ہے۔بے شمار یہودی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔اس کے باوجود اسرائیل نے آج کہا ہے کہ حماس ہتھیار ڈال دے۔بدترین تاریخی شکست کھانے کے باوجود یہودیوں کا غرور ساتویں آسمان پر ہے۔
(4)سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس نے حملہ کیا تھا۔عام فلسطینی شہریوں نے حملہ نہیں کیا تھا تو اس کی سزا عام فلسطینی شہریوں کو نہیں دی جا سکتی ہے۔عورتوں،ںچوں اور نہتے لوگوں پر ظلم کرنے والی اسرائیلی فوج حماس سے مقابلہ کرنے میں بالکل ناکام ہے۔ہر دن قریبا سو یہودی فوجی ہلاک ہوتے ہیں اور بہت سے زخمی ہوتے ہیں،لیکن اسرائیل کہتا ہے کہ اس کے ایک/دو فوجی مارے گئے ہیں اور دو/تین زخمی ہوئے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:11:دسمبر 2023
جانشینان عزازیل کی سازش و کذب بیانی
(1)08:دسمبر کو امریکہ نے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرار داد کو ویٹو کر دیا،حالاں کہ پندرہ ممبران میں سے تیرہ ممبران جنگ بندی کے حق میں تھے اور برطانیہ ووٹنگ سے غیر حاضر تھا۔جنگ بندی کی قرار داد متحدہ عرب امارات نے پیش کی تھی۔
جنگ بندی کی قرار داد مسترد ہونے کے بعد یمن نے اعلان کیا تھا کہ بحر احمر سے کوئی جہاز اسرائیل کی طرف جانے نہیں دیں گے،خواہ وہ کسی ملک کا جہاز ہو۔اس کے بعد امریکہ نے سعودیہ عربیہ کو اکسایا کہ یمن سے وہ جنگ کرے۔سعودیہ نے انکار کر دیا۔اس کے بعد امریکہ نے متحدہ عرب امارات کو یمن سے جنگ کے لئے کہا،وہ بھی انکار کر گیا۔امریکہ کی بے حیائی دیکھیں کہ سلامتی کونسل میں متحدہ عرب امارات نے جنگ بندی کی قرار داد پیش کی تو امریکہ نے اسے نامنظور کر دیا اور اسی نامنظوری کے سبب یمن نے بحر احمر سے جہازوں کے گزرنے پر پابندی لگائی تو امریکہ اسی متحدہ عرب امارات کو یمن سے جنگ کے لئے اکسانے لگا۔یہود ونصاری اسی طرح مسلم ممالک کو ایک دوسرے سے لڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔
سلامتی کونسل میں امریکہ کے ویٹو کے بعد سعودی وزیر خارجہ ودیگر عربی ممالک کے وزرائے خارجہ امریکی وزیر خارجہ کے پاس جنگ بندی کے لئے گئے تھے،لیکن امریکہ کسی طرح بھی جنگ بندی کے لئے راضی نہیں ہوا،اور یمن کے اعلان کے بعد سعودی کو یمن سے جنگ کی ترغیب دینے لگا۔
حالیہ خبر کے مطابق امریکہ ایک بحری ٹاسک فورس بنائے گا،تاکہ یمن کے حملوں کا جواب دیا جا سکے اور اسرائیلی جہازوں کے گزرنے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔اس ٹاسک فورس میں متعدد مسلم ممالک کے جنگی جہاز ہوں گے۔ترکی،پاکستان،کویت،جارڈن،بحرین کے نام بتائے گئے ہیں۔
غزہ پٹی میں اٹھارہ ہزار مسلمان مارے جا چکے ہیں،لیکن مسلم ممالک آج تک اسرائیل سے تجارتی تعلقات بھی ختم نہ کر سکے،پھر یہ لوگ فلسطینی مسلمانوں کو بچانے کے لئے اسرائیل پر حملہ کیسے کر سکتے ہیں۔درحقیقت مسلمانوں کے دلوں سے اسلامی غیرت و حمیت بالکل ختم ہو چکی ہے۔ہمن اپنے طریقے پر فلسطینی مسلمانوں کی مدد کر رہا ہے تو مسلم ممالک یمن کو روکنے کے لئے امریکہ کی مدد کر رہے ہیں۔ابھی یہ ایک خبر ہے۔حقائق کی جانکاری کے لئے مزید چند دن انتظار کریں۔
(2)غزہ پٹی کے مسلمان بھوک سے موت کے شکار ہو رہے ہیں۔انسانی ضرورتوں کے ساز وسامان کا فقدان ہے۔دوائیں موجود نہیں۔اسپتال توڑ دیئے گئے۔زخمیوں کی تعداد پچاس ہزار سے زائد ہے۔غزہ میں پانی کا بھی معقول انتظام نہیں۔جنگ بندی کے بغیر باہر سے کوئی مدد غزہ پٹی پہنچانے کی کوئی صورت نہیں۔غزہ پٹی میں ہر طرف اسرائیلی طیارے بمباری کر رہے ہیں۔ہر دن چار پانچ سو عام فلسطینی مسلمان ہلاک ہو رہے ہیں۔
ان مشکل حالات کے پیش نظر آج دنیا بھر میں حقوق انسانی کی تنظیموں نے احتجاج کیا ہے۔امید ہے کہ کل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جنگ بندی سے متعلق قرار داد مصر کی جانب سے پیش کی جائے اور پھر دوبارہ سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد پیش کی جائے۔چند دن انتظار کریں۔
ان چند دنوں میں بھی نہ جانے کتنے عام فلسطینی مسلمان ہلاک کر دئیے جائیں گے،نیز دوبارہ قرار داد پیش ہونے پر امریکہ ویٹو کر دے تو اہل دنیا سے ساری امید ختم ہو جائے گی۔
(3) اسرائیل زمینی جنگ ہار چکا ہے۔بے شمار یہودی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔اس کے باوجود اسرائیل نے آج کہا ہے کہ حماس ہتھیار ڈال دے۔بدترین تاریخی شکست کھانے کے باوجود یہودیوں کا غرور ساتویں آسمان پر ہے۔
(4)سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس نے حملہ کیا تھا۔عام فلسطینی شہریوں نے حملہ نہیں کیا تھا تو اس کی سزا عام فلسطینی شہریوں کو نہیں دی جا سکتی ہے۔عورتوں،ںچوں اور نہتے لوگوں پر ظلم کرنے والی اسرائیلی فوج حماس سے مقابلہ کرنے میں بالکل ناکام ہے۔ہر دن قریبا سو یہودی فوجی ہلاک ہوتے ہیں اور بہت سے زخمی ہوتے ہیں،لیکن اسرائیل کہتا ہے کہ اس کے ایک/دو فوجی مارے گئے ہیں اور دو/تین زخمی ہوئے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:11:دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
فلسطین کے سرنگ:شیاطین ہیں دنگ
(1)اسرائیلی میڈیا اور دنیا بھر کا پروپیگنڈہ میڈیا کئی ہفتوں سے شور مچا رہا ہے کہ حماس کے سرنگوں میں پانی بھر دیا جائے گا،پھر مجاہدین اسلام سرنگوں میں مر جائیں گے یا نکل کر بھاگ جائیں گے۔
اسرائیل وبرطانیہ کے جاسوسی طیارے آج تک ان سرنگوں کے راستوں کا پتہ نہ لگا سکے،نہ ہی اسرائیل کی خفیہ ایجنسی یہ پتہ لگا سکی کہ سرنگوں کا راستہ کدھر ہے۔سرنگوں میں پانی اسی وقت ڈالا جا سکتا ہے جب ان سرنگوں کا راستہ معلوم ہو سکے،نیز سرنگوں کے راستوں کو بند کرنے کا بھی انتظام ہے کہ پانی اندر داخل ہی نہیں ہو گا۔
امریکہ نے اسرائیل کو کثیر مقدار میں بنکر بسٹر بم دیا ہے کہ ان سرنگوں کو توڑ دیا جائے۔یہ بم زمین میں تیس میٹر اندر تک جاتا ہے اور غزہ پٹی کے سرنگ کم از کم ساٹھ میٹر نیچے ہیں،لہذا یہ بم بھی بیکار ہیں۔
جن سرنگوں تک اسرائیل کی رسائی ہے،وہ حملے کے لئے صرف استعمال ہوتے ہیں۔یہ وہ سرنگ نہیں جس میں حماس کے سارے ہتھیار اور مجاہدین کا ریزرو دستہ ہے۔محفوظ سرنگوں کے راستے مخفی ہیں۔
(2) اسرائیل بمباری کر کے ہر دن چار پانچ سو عام فلسطینی شہریوں کو ہلاک کر رہا ہے۔جنگ بندی کی کوششیں بھی ناکام ہو چکی ہیں اور عام شہریوں پر بمباری کو اقوام متحدہ بھی روک نہ سکا۔
جنگی جہازوں سے مسلسل عام شہریوں پر بمباری کی جا رہی ہے۔فلسطینی مجاہدین بھی اسرائیل کی راجدھانی تل ابیب اور دیگر مقامات پر میزائلوں اور راکٹوں سے حملے کر رہے ہیں۔مجاہدین کو اسرائیلی ایرپورٹ کو تباہ وبرباد کرنا چاہئے۔ایرپورٹ پر مسلسل بمباری کرنی چاہیے،تاکہ اسرائیلی جنگی طیارے پرواز نہ کر سکیں۔ایرپورٹ کی مرمت کا موقع بھی نہ دیا جائے۔مسلسل بمباری کی جائے۔ہیلی کاپٹر سے بھی کچھ بمباری ہو سکتی ہے۔اگر کوشش کی جائے تو ہیلی کاپٹر کو مار گرایا جا سکتا ہے،لیکن اس کے لئے ہر وقت مستعد رہنا ہو گا۔بہر حال ایرپورٹ کو تباہ کر کے اپنا نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔
امریکہ نے عراق،شام،لیبیا،افغانستان وغیرہ میں بمباری کے ذریعہ ہی تباہی مچائی ہے اور اسی طرح غزہ پٹی میں فضائی حملے کروا رہا ہے۔حالیہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی اسرائیل نے شام کے دمشق ایرپورٹ پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا تھا۔شاید اسے شام کی طرف سے ہوائی حملے ہونے کا خوف رہا ہو،حالاں کہ اس وقت ملک شام اس جنگ میں بالکل شریک نہیں تھا۔
(3) یہودیوں نے توریت میں تحریف کر دی ہے۔اسی طرح نصاری نے انجیل میں تحریف کر دی ہے۔شاید روئے زمین پر صرف یہودی ہی ایک قوم ہے جو براہ راست شیطان کی پوجا کرتے پیں،گرچہ دنیا بھر میں جو برائیاں اور کفر وشرک ہوتا ہے،اس میں شیطان کا کلیدی رول اور اہم کردار ہوتا ہے،لیکن یہودیوں کا ایک طبقہ براہ راست شیطان کی پوجا کرتا ہے۔
یہودیوں کی مشہور کتاب تلمود میں صرف یہودیوں کو انسانی رتبہ دیا گیا ہے۔یہودیوں کے علاوہ دیگر انسانوں کو حیوانوں سے بھی بدتر قرار دیا گیا ہے۔دیگر انسانوں کا قتل کو ثواب کا کام بتایا گیا ہے۔یہودی مذہب میں تلمود کی وہی حیثیت ہے جو برہمنوں کے یہاں منو اسمرتی کی حیثیت ہے۔منو اسمرتی میں بھی غیر برہمن یعنی غیر آرین انسانوں سے متعلق اسی طرح کے نظریات پیش کئے گئے ہیں۔
اگر بفضل خداوندی فلسطین فتح یاب ہو گیا تو بھارت کے متعصب ہنود بھی مثل یہود ذلیل وخوار اور غمزدہ ہوں گے۔بھارتی مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے بھی وہی طریقے اپنائے جا رہے ہیں جو یہودیوں نے فلسطین میں اختیار کیا ہے۔منوسمرتی وتلمود اور ہنود و یہود یکساں ہیں۔فلسطین جنگ سے متعلق بھارت کے گودی میڈیا کی خبریں،پروگرام،چینل،یوٹیوب،اخبار ومیگزین وغیرہ ہرگز نہ دیکھیں۔یہ لوگ انسانیت کے دشمن ہیں۔حالیہ دنوں میں یہودیوں کی وحشیانہ بمباری دیکھ کر بلا تفریق مذہب وملت ساری دنیا کے انسان فلسطین کے ساتھ ہیں۔بھارتی حکومت بھی فلسطین کے ساتھ ہے،لیکن گودی میڈیا فلسطینی مسلمانوں کے لئے زہر اگل رہا ہے۔
(4) مسلم تنظیمیں اسلام کے جنگی اصولوں کے مطابق یہودی عوام پر حملہ سے پرہیز کر رہی ہیں۔صرف فوجیوں پر حملے کر رہی ہیں اور یہودی عام فلسطینی شہریوں کو روزانہ ہلاک کر رہے ہیں۔اٹھارہ ہزار سے زائد عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔پچاس ہزار سے زائد زخمی ہیں۔قریبا آٹھ ہزار لوگ لاپتہ ہیں۔شاید وہ بمباری سے منہدم ہونے والی عمارتوں کے ملبے میں دب گئے ہوں گے۔یہودی قوم ظلم ودرندگی کا ریکارڈ توڑ رہی ہے۔جیسے ہٹلر نے یہودیوں کا قتل عام کیا تھا،اسی طرح نیتن یاہو مسلمانوں پر قہر ڈھا رہا ہے اور امریکہ بم،بارود اور جنگی ساز وسامان فراہم کر رہا ہے۔اسرائیل فاسفورس بم کا استعمال کر رہا ہے۔جس سے فلسطین میں وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں۔
فلسطین کے سرنگ:شیاطین ہیں دنگ
(1)اسرائیلی میڈیا اور دنیا بھر کا پروپیگنڈہ میڈیا کئی ہفتوں سے شور مچا رہا ہے کہ حماس کے سرنگوں میں پانی بھر دیا جائے گا،پھر مجاہدین اسلام سرنگوں میں مر جائیں گے یا نکل کر بھاگ جائیں گے۔
اسرائیل وبرطانیہ کے جاسوسی طیارے آج تک ان سرنگوں کے راستوں کا پتہ نہ لگا سکے،نہ ہی اسرائیل کی خفیہ ایجنسی یہ پتہ لگا سکی کہ سرنگوں کا راستہ کدھر ہے۔سرنگوں میں پانی اسی وقت ڈالا جا سکتا ہے جب ان سرنگوں کا راستہ معلوم ہو سکے،نیز سرنگوں کے راستوں کو بند کرنے کا بھی انتظام ہے کہ پانی اندر داخل ہی نہیں ہو گا۔
امریکہ نے اسرائیل کو کثیر مقدار میں بنکر بسٹر بم دیا ہے کہ ان سرنگوں کو توڑ دیا جائے۔یہ بم زمین میں تیس میٹر اندر تک جاتا ہے اور غزہ پٹی کے سرنگ کم از کم ساٹھ میٹر نیچے ہیں،لہذا یہ بم بھی بیکار ہیں۔
جن سرنگوں تک اسرائیل کی رسائی ہے،وہ حملے کے لئے صرف استعمال ہوتے ہیں۔یہ وہ سرنگ نہیں جس میں حماس کے سارے ہتھیار اور مجاہدین کا ریزرو دستہ ہے۔محفوظ سرنگوں کے راستے مخفی ہیں۔
(2) اسرائیل بمباری کر کے ہر دن چار پانچ سو عام فلسطینی شہریوں کو ہلاک کر رہا ہے۔جنگ بندی کی کوششیں بھی ناکام ہو چکی ہیں اور عام شہریوں پر بمباری کو اقوام متحدہ بھی روک نہ سکا۔
جنگی جہازوں سے مسلسل عام شہریوں پر بمباری کی جا رہی ہے۔فلسطینی مجاہدین بھی اسرائیل کی راجدھانی تل ابیب اور دیگر مقامات پر میزائلوں اور راکٹوں سے حملے کر رہے ہیں۔مجاہدین کو اسرائیلی ایرپورٹ کو تباہ وبرباد کرنا چاہئے۔ایرپورٹ پر مسلسل بمباری کرنی چاہیے،تاکہ اسرائیلی جنگی طیارے پرواز نہ کر سکیں۔ایرپورٹ کی مرمت کا موقع بھی نہ دیا جائے۔مسلسل بمباری کی جائے۔ہیلی کاپٹر سے بھی کچھ بمباری ہو سکتی ہے۔اگر کوشش کی جائے تو ہیلی کاپٹر کو مار گرایا جا سکتا ہے،لیکن اس کے لئے ہر وقت مستعد رہنا ہو گا۔بہر حال ایرپورٹ کو تباہ کر کے اپنا نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔
امریکہ نے عراق،شام،لیبیا،افغانستان وغیرہ میں بمباری کے ذریعہ ہی تباہی مچائی ہے اور اسی طرح غزہ پٹی میں فضائی حملے کروا رہا ہے۔حالیہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی اسرائیل نے شام کے دمشق ایرپورٹ پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا تھا۔شاید اسے شام کی طرف سے ہوائی حملے ہونے کا خوف رہا ہو،حالاں کہ اس وقت ملک شام اس جنگ میں بالکل شریک نہیں تھا۔
(3) یہودیوں نے توریت میں تحریف کر دی ہے۔اسی طرح نصاری نے انجیل میں تحریف کر دی ہے۔شاید روئے زمین پر صرف یہودی ہی ایک قوم ہے جو براہ راست شیطان کی پوجا کرتے پیں،گرچہ دنیا بھر میں جو برائیاں اور کفر وشرک ہوتا ہے،اس میں شیطان کا کلیدی رول اور اہم کردار ہوتا ہے،لیکن یہودیوں کا ایک طبقہ براہ راست شیطان کی پوجا کرتا ہے۔
یہودیوں کی مشہور کتاب تلمود میں صرف یہودیوں کو انسانی رتبہ دیا گیا ہے۔یہودیوں کے علاوہ دیگر انسانوں کو حیوانوں سے بھی بدتر قرار دیا گیا ہے۔دیگر انسانوں کا قتل کو ثواب کا کام بتایا گیا ہے۔یہودی مذہب میں تلمود کی وہی حیثیت ہے جو برہمنوں کے یہاں منو اسمرتی کی حیثیت ہے۔منو اسمرتی میں بھی غیر برہمن یعنی غیر آرین انسانوں سے متعلق اسی طرح کے نظریات پیش کئے گئے ہیں۔
اگر بفضل خداوندی فلسطین فتح یاب ہو گیا تو بھارت کے متعصب ہنود بھی مثل یہود ذلیل وخوار اور غمزدہ ہوں گے۔بھارتی مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے بھی وہی طریقے اپنائے جا رہے ہیں جو یہودیوں نے فلسطین میں اختیار کیا ہے۔منوسمرتی وتلمود اور ہنود و یہود یکساں ہیں۔فلسطین جنگ سے متعلق بھارت کے گودی میڈیا کی خبریں،پروگرام،چینل،یوٹیوب،اخبار ومیگزین وغیرہ ہرگز نہ دیکھیں۔یہ لوگ انسانیت کے دشمن ہیں۔حالیہ دنوں میں یہودیوں کی وحشیانہ بمباری دیکھ کر بلا تفریق مذہب وملت ساری دنیا کے انسان فلسطین کے ساتھ ہیں۔بھارتی حکومت بھی فلسطین کے ساتھ ہے،لیکن گودی میڈیا فلسطینی مسلمانوں کے لئے زہر اگل رہا ہے۔
(4) مسلم تنظیمیں اسلام کے جنگی اصولوں کے مطابق یہودی عوام پر حملہ سے پرہیز کر رہی ہیں۔صرف فوجیوں پر حملے کر رہی ہیں اور یہودی عام فلسطینی شہریوں کو روزانہ ہلاک کر رہے ہیں۔اٹھارہ ہزار سے زائد عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔پچاس ہزار سے زائد زخمی ہیں۔قریبا آٹھ ہزار لوگ لاپتہ ہیں۔شاید وہ بمباری سے منہدم ہونے والی عمارتوں کے ملبے میں دب گئے ہوں گے۔یہودی قوم ظلم ودرندگی کا ریکارڈ توڑ رہی ہے۔جیسے ہٹلر نے یہودیوں کا قتل عام کیا تھا،اسی طرح نیتن یاہو مسلمانوں پر قہر ڈھا رہا ہے اور امریکہ بم،بارود اور جنگی ساز وسامان فراہم کر رہا ہے۔اسرائیل فاسفورس بم کا استعمال کر رہا ہے۔جس سے فلسطین میں وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں۔
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
(5)کل اسرائیل کی وزارت صحت نے اعتراف کیا ہے کہ سات اکتوبر سے آج تک یہودی فوج کے دس ہزار پانچ سو چوراسی زخمی اسرائیل لائے گئے ہیں۔ان میں 58:فی صد معذور ہو چکے ہیں۔بہت سے یہودی فوجی پاگل ہو چکے ہیں۔بہت سے اندھے ہو چکے ہیں۔بہت سے میدان جنگ سے بھاگ چکے ہیں۔بہت سے کرنل،جرنل اور اعلی کمانڈر مارے جا چکے ہیں۔بہت سے ہیضہ میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
(6)مذہب کے نام پر دو ملک تشکیل پائے تھے۔پاکستان اور اسرائیل۔اسرائیل مسلمانوں پر قہر ڈھا رہا ہے۔حماس کے سربراہ نے چند دنوں قبل پاکستان کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں پاکستان سے بہت امید ہے۔اگر پاکستان آواز اٹھائے تو انسانی ہلاکتیں بند ہو سکتی ہیں۔دوسری جانب پاکستان کا چیف کمانڈر کل امریکہ کی قدم بوسی کے لئے امریکہ حاضر ہوا ہے۔افسوس ہے ایسے چیف کمانڈر پر۔
(7)دنیا کا نظام اسی وقت درست ہو سکتا ہے جب امریکہ کی سامراجیت نیست ونابود ہو۔روس وچین وایران کو اپنا اتحادی فرنٹ جلد تشکیل دینا چاہئے اور انصاف پر مبنی نظام متعارف کرانا چاہئے۔اقوام متحدہ ایک اپاہج گروہ بن چکا ہے۔وہ مظلوموں پر ہونے والے مظالم کو روکنے میں بالکل ناکام ثابت ہوا ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:12:دسمبر 2023
(6)مذہب کے نام پر دو ملک تشکیل پائے تھے۔پاکستان اور اسرائیل۔اسرائیل مسلمانوں پر قہر ڈھا رہا ہے۔حماس کے سربراہ نے چند دنوں قبل پاکستان کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں پاکستان سے بہت امید ہے۔اگر پاکستان آواز اٹھائے تو انسانی ہلاکتیں بند ہو سکتی ہیں۔دوسری جانب پاکستان کا چیف کمانڈر کل امریکہ کی قدم بوسی کے لئے امریکہ حاضر ہوا ہے۔افسوس ہے ایسے چیف کمانڈر پر۔
(7)دنیا کا نظام اسی وقت درست ہو سکتا ہے جب امریکہ کی سامراجیت نیست ونابود ہو۔روس وچین وایران کو اپنا اتحادی فرنٹ جلد تشکیل دینا چاہئے اور انصاف پر مبنی نظام متعارف کرانا چاہئے۔اقوام متحدہ ایک اپاہج گروہ بن چکا ہے۔وہ مظلوموں پر ہونے والے مظالم کو روکنے میں بالکل ناکام ثابت ہوا ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:12:دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
میدان جنگ میں متحد رہیں
(1)کل 12:دسمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین واسرائیل جنگ بندی سے متعلق مصر کی جانب سے پیش کردہ قرار داد پر ووٹنگ ہوئی۔اقوام متحدہ کے 193 ممبر ممالک میں سے 153:ممالک نے جنگ بندی کی حمایت کی۔امریکہ واسرائیل اور دیگر 8:ممالک یعنی کل 10:ممالک نے جنگ بندی کی مخالفت کی اور 23:ممالک ووٹنگ سے غیر حاضر رہے۔اس ووٹنگ میں صرف آٹھ ممالک نے امریکہ واسرائیل کی حمایت کی اور ساری دنیا امریکہ واسرائیل کے خلاف چلی گئی۔
رپورٹ کے مطابق جنرل اسمبلی میں شکست فاش کا سامنا کرنے کے بعد امریکی پالیسی میں کچھ تبدیلی آئی ہے اور امریکہ اسرائیلی وزیر اعظم کو برخاست کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ویسے امریکہ کی ڈبل پالیسی سے ساری دنیا واقف ہے۔اس کی کرنی اور کہنی میں بہت فرق ہوتا ہے۔امریکہ مسلسل اسرائیل کو جنگی ساز وسامان اور اپنے فوجیوں سے اسرائیل کی مدد کر رہا ہے۔
دراصل مشرق وسطی میں اسرائیل امریکی مفادات کا محافظ ہے۔امریکہ اسرائیل کے ذریعہ مشرق وسطی کو اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے۔حالیہ جنگ میں امریکہ کی جانب سے جنگی،اقتصادی،سیاسی وسفارتی مدد کے باوجود حماس،حزب اللہ اور یمن نے اسرائیل کو تہس نہس کر دیا۔اب معاملہ آگے بڑھتا جا رہا ہے۔اب امریکہ کو براہ راست میدان میں اترنا پڑے گا۔اگر امریکہ براہ راست میدان میں نہ اتر سکے تو اسرائیل کا نام ونشان مٹ جائے گا۔
فلسطین کے عام نہتے شہریوں،بچوں،عورتوں اور بزرگوں پر بمباری کر کے ان کو ہلاک کر دینے کے سبب دنیا اسرائیل کو فاتح نہیں مان سکتی ہے۔غزہ پٹی کی ایک انچ زمین پر اسرائیل قبضہ نہیں کر سکا۔روزانہ سو ڈیڑھ سو یہودی فوجی غزہ پٹی میں ہلاک ہو رہے ہیں۔روزانہ پچیس تیس اسرائیلی ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ ہو رہی ہیں۔بہت سے فوجی بھاگ گئے۔یہودی فوجی میڈیا کے سامنے بیان دے رہے ہیں کہ ہماری حکومت نے ہمیں جہنم میں دھکیل دیا ہے۔بہت سے یہودی فوجی پاگل ہو چکے ہیں۔دنیا کے لوگ سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔گرچہ اسرائیل اپنا نقصان حد درجہ کم بتا رہا ہے،لیکن دیگر ذرائع سے دنیا والوں کو حقائق معلوم ہوتے جا رہے ہیں۔
(2)حماس سنیوں کی تحریک ہے۔حزب اللہ،یمن کے حوثی وانصار اللہ،ملک شام کی حکومت اور ایران کی حکومت شیعہ ہے،لیکن میدان جنگ میں شیعہ و سنی سب متحد ہیں۔اسی طرح دشمنان اسلام کے مقابلے میں کلمہ گویان اسلام متحد رہیں۔دیگر اوقات میں ہر جماعت کے محض خاص نمائندگان باہم ربط میں رہیں اور مخالفین اسلام کی سازشوں پر گہری نظر رکھیں۔
عوامی سطح پر شیعہ وسنی اتحاد یا سنی وہابی اتحاد کی ضرورت نہیں،بلکہ ہر طبقہ کے نمائندگان بقدر حاجت اور بوقت حاجت ایک دوسرے سے رابطہ میں رہیں۔یہ روابط سفارتی تعلقات کی مانند ہوں۔ہر طبقہ کے تمام عوام وخواص یا تمام خواص باہم مربوط نہ ہوں،ورنہ داخلی فساد رونما ہو گا،نیز دیگر فرقوں سے محض علمی محاذ آرائی کی جائے،باہمی قتل وقتال سے پرہیز کیا جائے۔
(3)عالمی اصطلاح میں شیعہ کے علاوہ دیگر طبقات اسلام کو سنی کہا جاتا ہے،خواہ وہ وہابی ہو،یا دیوبندی۔ہماری جنگی تحریروں میں سنی سے دنیاوی اصطلاح مراد ہے۔شرعی اصطلاح مراد نہیں۔
(4)عراقی صدر صدام حسین اور افغانستان کا حکمران طبقہ یعنی طالبان سنی تھے۔جب امریکہ نے عراق وافغانستان پر حملہ کیا تھا تو دونوں ممالک کے شیعہ گروپ کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ملک شام کا صدر بشار الاسد شیعہ تھا۔جب امریکہ نے شام پر حملہ کیا تو سنی طبقہ کو اپنے ساتھ ملا کیا۔
امریکہ دو ملکوں میں شیعوں کے ساتھ رہا،ایک ملک میں سنیوں کے ساتھ ہو گیا۔اس پر غور کریں کہ امریکہ سنیوں کا خیر خواہ ہے یا سنیوں کا خیر خواہ ہے۔درحقیقت یہود ونصاری مسلمانوں کے دشمن ہیں۔یہود ونصاری اہل سلام کے جس طبقہ پر حملہ کرتے ہیں تو اہل اسلام کے دوسرے طبقہ کو اپنے ساتھ کر لیتے ہیں۔ایل دنیا کی یہ قدیم پالیسی ہے:پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو۔
امریکہ نے صدام حسین کی حکومت کو ختم کر کے عراق میں شیعہ حکومت قائم کر دی۔ایران نے عراقی حکومت سے روابط مضبوط کر کے عراقی حکومت کو اپنا حامی بنا لیا۔ملک شام کی حکومت بھی ایران کی طرف دار تھی اور ایران امریکہ کا مخالف اور روس کا قریبی ہے،لہذا امریکہ واسرائیل نے سنیوں کو ورغلا کر داعش(دولت اسلامیہ برائے عراق وشام)(ISIS)کو وجود دیا۔اسے ہتھیار دیئے گئے،تاکہ یہ تحریک شام وعراق پر قبضہ کر لے اور مشرق وسطی میں امریکہ واسرائیل کی گرفت مضبوط رہے،لیکن داعش بھی نیست ونابود ہو گیا۔حالیہ فلسطین واسرائیل جنگ کے دوران امریکہ نے داعش کے کچھ لوگوں کو دوبارہ میدان میں اتار دیا ہے۔یہ لوگ ملک شام کے فوجیوں پر حملہ کر رہے ہیں۔اسی طرح امریکہ نے ہمن کے ایک گروپ کو تیار کرنے کی کوشش کی،تاکہ وہ یمن کے حوثیوں اور انصار اللہ پر حملہ کریں،یعنی مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑانے کی سرتوڑ کوشش جاری ہے۔
میدان جنگ میں متحد رہیں
(1)کل 12:دسمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین واسرائیل جنگ بندی سے متعلق مصر کی جانب سے پیش کردہ قرار داد پر ووٹنگ ہوئی۔اقوام متحدہ کے 193 ممبر ممالک میں سے 153:ممالک نے جنگ بندی کی حمایت کی۔امریکہ واسرائیل اور دیگر 8:ممالک یعنی کل 10:ممالک نے جنگ بندی کی مخالفت کی اور 23:ممالک ووٹنگ سے غیر حاضر رہے۔اس ووٹنگ میں صرف آٹھ ممالک نے امریکہ واسرائیل کی حمایت کی اور ساری دنیا امریکہ واسرائیل کے خلاف چلی گئی۔
رپورٹ کے مطابق جنرل اسمبلی میں شکست فاش کا سامنا کرنے کے بعد امریکی پالیسی میں کچھ تبدیلی آئی ہے اور امریکہ اسرائیلی وزیر اعظم کو برخاست کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ویسے امریکہ کی ڈبل پالیسی سے ساری دنیا واقف ہے۔اس کی کرنی اور کہنی میں بہت فرق ہوتا ہے۔امریکہ مسلسل اسرائیل کو جنگی ساز وسامان اور اپنے فوجیوں سے اسرائیل کی مدد کر رہا ہے۔
دراصل مشرق وسطی میں اسرائیل امریکی مفادات کا محافظ ہے۔امریکہ اسرائیل کے ذریعہ مشرق وسطی کو اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے۔حالیہ جنگ میں امریکہ کی جانب سے جنگی،اقتصادی،سیاسی وسفارتی مدد کے باوجود حماس،حزب اللہ اور یمن نے اسرائیل کو تہس نہس کر دیا۔اب معاملہ آگے بڑھتا جا رہا ہے۔اب امریکہ کو براہ راست میدان میں اترنا پڑے گا۔اگر امریکہ براہ راست میدان میں نہ اتر سکے تو اسرائیل کا نام ونشان مٹ جائے گا۔
فلسطین کے عام نہتے شہریوں،بچوں،عورتوں اور بزرگوں پر بمباری کر کے ان کو ہلاک کر دینے کے سبب دنیا اسرائیل کو فاتح نہیں مان سکتی ہے۔غزہ پٹی کی ایک انچ زمین پر اسرائیل قبضہ نہیں کر سکا۔روزانہ سو ڈیڑھ سو یہودی فوجی غزہ پٹی میں ہلاک ہو رہے ہیں۔روزانہ پچیس تیس اسرائیلی ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ ہو رہی ہیں۔بہت سے فوجی بھاگ گئے۔یہودی فوجی میڈیا کے سامنے بیان دے رہے ہیں کہ ہماری حکومت نے ہمیں جہنم میں دھکیل دیا ہے۔بہت سے یہودی فوجی پاگل ہو چکے ہیں۔دنیا کے لوگ سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔گرچہ اسرائیل اپنا نقصان حد درجہ کم بتا رہا ہے،لیکن دیگر ذرائع سے دنیا والوں کو حقائق معلوم ہوتے جا رہے ہیں۔
(2)حماس سنیوں کی تحریک ہے۔حزب اللہ،یمن کے حوثی وانصار اللہ،ملک شام کی حکومت اور ایران کی حکومت شیعہ ہے،لیکن میدان جنگ میں شیعہ و سنی سب متحد ہیں۔اسی طرح دشمنان اسلام کے مقابلے میں کلمہ گویان اسلام متحد رہیں۔دیگر اوقات میں ہر جماعت کے محض خاص نمائندگان باہم ربط میں رہیں اور مخالفین اسلام کی سازشوں پر گہری نظر رکھیں۔
عوامی سطح پر شیعہ وسنی اتحاد یا سنی وہابی اتحاد کی ضرورت نہیں،بلکہ ہر طبقہ کے نمائندگان بقدر حاجت اور بوقت حاجت ایک دوسرے سے رابطہ میں رہیں۔یہ روابط سفارتی تعلقات کی مانند ہوں۔ہر طبقہ کے تمام عوام وخواص یا تمام خواص باہم مربوط نہ ہوں،ورنہ داخلی فساد رونما ہو گا،نیز دیگر فرقوں سے محض علمی محاذ آرائی کی جائے،باہمی قتل وقتال سے پرہیز کیا جائے۔
(3)عالمی اصطلاح میں شیعہ کے علاوہ دیگر طبقات اسلام کو سنی کہا جاتا ہے،خواہ وہ وہابی ہو،یا دیوبندی۔ہماری جنگی تحریروں میں سنی سے دنیاوی اصطلاح مراد ہے۔شرعی اصطلاح مراد نہیں۔
(4)عراقی صدر صدام حسین اور افغانستان کا حکمران طبقہ یعنی طالبان سنی تھے۔جب امریکہ نے عراق وافغانستان پر حملہ کیا تھا تو دونوں ممالک کے شیعہ گروپ کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ملک شام کا صدر بشار الاسد شیعہ تھا۔جب امریکہ نے شام پر حملہ کیا تو سنی طبقہ کو اپنے ساتھ ملا کیا۔
امریکہ دو ملکوں میں شیعوں کے ساتھ رہا،ایک ملک میں سنیوں کے ساتھ ہو گیا۔اس پر غور کریں کہ امریکہ سنیوں کا خیر خواہ ہے یا سنیوں کا خیر خواہ ہے۔درحقیقت یہود ونصاری مسلمانوں کے دشمن ہیں۔یہود ونصاری اہل سلام کے جس طبقہ پر حملہ کرتے ہیں تو اہل اسلام کے دوسرے طبقہ کو اپنے ساتھ کر لیتے ہیں۔ایل دنیا کی یہ قدیم پالیسی ہے:پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو۔
امریکہ نے صدام حسین کی حکومت کو ختم کر کے عراق میں شیعہ حکومت قائم کر دی۔ایران نے عراقی حکومت سے روابط مضبوط کر کے عراقی حکومت کو اپنا حامی بنا لیا۔ملک شام کی حکومت بھی ایران کی طرف دار تھی اور ایران امریکہ کا مخالف اور روس کا قریبی ہے،لہذا امریکہ واسرائیل نے سنیوں کو ورغلا کر داعش(دولت اسلامیہ برائے عراق وشام)(ISIS)کو وجود دیا۔اسے ہتھیار دیئے گئے،تاکہ یہ تحریک شام وعراق پر قبضہ کر لے اور مشرق وسطی میں امریکہ واسرائیل کی گرفت مضبوط رہے،لیکن داعش بھی نیست ونابود ہو گیا۔حالیہ فلسطین واسرائیل جنگ کے دوران امریکہ نے داعش کے کچھ لوگوں کو دوبارہ میدان میں اتار دیا ہے۔یہ لوگ ملک شام کے فوجیوں پر حملہ کر رہے ہیں۔اسی طرح امریکہ نے ہمن کے ایک گروپ کو تیار کرنے کی کوشش کی،تاکہ وہ یمن کے حوثیوں اور انصار اللہ پر حملہ کریں،یعنی مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑانے کی سرتوڑ کوشش جاری ہے۔
👍1
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
حالیہ فلسطین واسرائیل جنگ کے ابتدائی عہد میں ایران و سعودی ایک دوسرے سے مل گئے،تاکہ یہود ونصاری کو اہل اسلام کے درمیان پھوٹ ڈالنے کا موقع نہ مل سکے۔ایران دنیا بھر میں شیعہ قوم کی نمائندگی کرتا ہے اور سعودی سنی طبقہ کا نمائندہ مانا جاتا ہے،یعنی غیر شیعہ طبقہ کا نمائندہ۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:13:دسمبر 2023
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:13:دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
کمزوروں کے سامنے شیر
شیروں کے سامنے ڈھیر
(1)یہودی ایک طویل مدت سے شور مچا رہے تھے کہ اسرائیلی فوج بہت طاقتور ہے۔ایک ماہ قبل بھارت کا گودی میڈیا بھی گلا پھاڑ کر چلا رہا تھا کہ اسرائیل کے پاس ایسی فوج ہے کہ اس کے سپاہی پچاس کو مارتے ہیں اور ان کی ہلاکت خیزی سے دہشت زدہ ہو کر ایک ہزار لوگ خود کشی کر لیتے ہیں،لیکن ہم تو دو ماہ سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ فلسطینی مجاہدین اسرائیلی فوج کو گولیوں اور بموں سے ایسے ہلاک کر رہے ہیں جیسے گاؤں کے بچے پاگل کتوں کو ڈھیلوں سے مار کر ہلاک کر دیتے ہیں۔جس طرح بچوں کے خوف سے پاگل کتے گلی کوچوں میں بھاگے بھاگے پھرتے ہیں۔ویسے ہی یہودی درندے مجاہدین کے خوف سے غزہ پٹی میں بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں۔کل یہودی کمانڈر کی ہلاکت کے بعد جبالیہ کیمپ سے دو ہزار یہودی فوجی بھاگے تھے اور اس طویل مدت میں بہت سے فوجی میدان جنگ سے بھاگ چکے ہیں اور اسرائیلی کورٹ میں ان بھگوڑے فوجیوں پر مقدمہ چل رہا ہے۔بہت سے یہودی فوجی مجاہدین کی دہشت سے پاگل ہو چکے ہیں۔
(2)یہودی میڈیا جھوٹ پھیلانے میں بہت ماہر ہے،بلکہ انڈیا میں مسلمانوں سے متعلق جھوٹی باتیں اور نفرت پھیلانے میں اسرائیلی میڈیا کمپنیوں کا ہاتھ ہے۔یہودی میڈیا اور اس کے زیر اثر مغربی میڈیا اور بھارت کا گودی میڈیا اسرائیل کا نقصان اور یہودی فوجیوں کی ہلاکت بہت کم کر کے بیان کرتا ہے،حالاں کہ عربی چینلوں پر لمحہ بہ لمحہ یہودیوں کی ہلاکت کی خبریں نشر ہوتی رہتی ہیں۔
اردو میں غلام نبی مدنی(Gulam Nabi Madani)کے یو ٹیوب چینلس اور آر پی پروڈکشن(RP Production)یو ٹیوب چینل پر حوالوں اور تحقیقات کے ساتھ خبریں نشر کی جاتی ہیں۔
یوٹیوب،فیس بک،انسٹاگرام وغیرہ میں اسرائیل کے نقصان اور یہودیوں کی ہلاکت کی صحیح رپورٹنگ کی اجازت نہیں۔یوٹیوب وغیرہ میں اسرائیل کا اتنا ہی نقصان بیان کیا جا سکتا ہے،جتنا اسرائیل خود بیان کرے۔سات ہزار سے زائد یہودی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں،لیکن اسرائیلی حکومت مہلوک فوجیوں کی تعداد ایک سو پانچ بتاتی ہے۔
دراصل یہ میڈیائی جنگ ہے۔میڈیائی جنگ میں یہود ونصاری کو شکست دینے کے لئے فلسطینی مجاہدین کے دو ترجمان(ابو عبیدہ اور ابو حمزہ) مسلسل اپنی کارکردگی کو بیان کرتے رہتے ہیں اور یہودیوں کے مظالم کو بھی بیان کرتے ہیں۔ویڈیو بھی شیئر کرتے ہیں۔
(3)ہم نے عراق،افغانستان،شام،لیبیا کی جنگ کو دیکھا ہے اور آج کل غزہ کی جنگ کو دیکھ رہے ہیں۔امریکہ واسرائیل کا یہ طریق کار بالکل غلط ہے کہ جنگی جہازوں سے بمباری کر کے کثیر تعداد میں عام شہریوں کو ہلاک کر دیا جاتا ہے،تاکہ اس ملک کا حکم راں طبقہ مجبور ہو کر حکومت سے دستبردار ہو جائے۔عام شہریوں کو ہلاک کرنا عالمی قانون کے اعتبار سے بھی غلط ہے۔اسی قانون کے سبب انٹر نیشنل کورٹ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو جنگی مجرم قرار دیا ہے۔اس پر یوکرین جنگ میں عام شہریوں کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔
اسرائیل بھی غزہ پٹی میں عام شہریوں کو مسلسل ہلاک کرتا جا رہا ہے اور حماس کو ہتھیار ڈالنے کی ترغیب دے رہا ہے۔اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کو بتا رہا ہے کہ حماس کی وجہ سے تم پر یہ آفت آئی ہے۔اس طرح فلسطینی شہریوں کو حماس کے خلاف بغاوت پر آمادہ کر رہا ہے،لیکن یہودیوں کی یہ سازش بفضلہ تعالٰی آج تک ناکام رہی ہے۔فلسطینی عوام اپنے مجاہدین کے ساتھ ہی ہیں۔
یہودیوں سے سوال ہے کہ یہودی درندے 1920 سے ہی فلسطینی مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔حماس کا وجود تو 1987 میں ہوا ہے۔حماس کے وجود سے پہلے یہودی کیوں مسلمانوں پر ظلم کرتے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ یہودی درندوں نے فلسطین میں مسلمانوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔آئے دن فلسطینی مسلمانوں کی قتل وغارت گری،بے قصور مسلمانوں کی گرفتاری،مسلم مستورات کی عصمت دری،مسلمانوں کے گھر چھین کر ان پر قبضہ جمانا،کچھ بہانہ بنا کر مسلمانوں کو زد وکوب کرنا اور مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز وحشیانہ سلوک کرنا ساری دنیا کے لئے ناقابل برداشت ہے،لہذا اقوام متحدہ میں بھی ہمیشہ بھاری اکثریت فلسطینی مظلوموں کو حاصل ہوتی ہے،گرچہ امریکہ کے ویٹو کے سبب کوئی قانون پاس نہیں ہو پاتا ہے۔
(4)ساری دنیا میں یہ ڈھنڈورا پیٹا گیا تھا کہ یہودی بہت تعلیم یافتہ اور بہت عقل مند قوم ہے۔حماس نے یہ بھرم بھی تہس نہس کر دیا۔فلسطینی مجاہدین خود ہی ہتھیار بناتے ہیں،حالاں کہ ان کے پاس مکمل سہولیات بھی موجود نہیں۔انہی خود ساختہ ہتھیاروں سے وہ اسرائیل کے مشہور عالم مرکاوا ٹینک کو ایسے تباہ وبرباد کر رہے ہیں جیسے بچے ڈھیلا مار کر مٹی کی ہانڈی توڑ دیتے ہیں۔حماس کے خود ساختہ میزائلوں اور راکٹوں کو روکنےمیں یہودیوں کا آئرن ڈوم نظام ناکام ثابت ہوا،حالاں کہ یہودیوں نے یہ وہم پھیلا دیا تھا کہ اسرائیل کا آئرن ڈوم سسٹم بہت مستحکم ہے۔اسرائیل کی خفیہ ایجنسی آج تک حماس کے سرنگوں کا پتہ نہ لگا سکی۔یہودیوں نے یہ مشہور کر رکھا تھا کہ یہودی انٹلی جنس یعنی موساد دنیا کی قابل
کمزوروں کے سامنے شیر
شیروں کے سامنے ڈھیر
(1)یہودی ایک طویل مدت سے شور مچا رہے تھے کہ اسرائیلی فوج بہت طاقتور ہے۔ایک ماہ قبل بھارت کا گودی میڈیا بھی گلا پھاڑ کر چلا رہا تھا کہ اسرائیل کے پاس ایسی فوج ہے کہ اس کے سپاہی پچاس کو مارتے ہیں اور ان کی ہلاکت خیزی سے دہشت زدہ ہو کر ایک ہزار لوگ خود کشی کر لیتے ہیں،لیکن ہم تو دو ماہ سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ فلسطینی مجاہدین اسرائیلی فوج کو گولیوں اور بموں سے ایسے ہلاک کر رہے ہیں جیسے گاؤں کے بچے پاگل کتوں کو ڈھیلوں سے مار کر ہلاک کر دیتے ہیں۔جس طرح بچوں کے خوف سے پاگل کتے گلی کوچوں میں بھاگے بھاگے پھرتے ہیں۔ویسے ہی یہودی درندے مجاہدین کے خوف سے غزہ پٹی میں بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں۔کل یہودی کمانڈر کی ہلاکت کے بعد جبالیہ کیمپ سے دو ہزار یہودی فوجی بھاگے تھے اور اس طویل مدت میں بہت سے فوجی میدان جنگ سے بھاگ چکے ہیں اور اسرائیلی کورٹ میں ان بھگوڑے فوجیوں پر مقدمہ چل رہا ہے۔بہت سے یہودی فوجی مجاہدین کی دہشت سے پاگل ہو چکے ہیں۔
(2)یہودی میڈیا جھوٹ پھیلانے میں بہت ماہر ہے،بلکہ انڈیا میں مسلمانوں سے متعلق جھوٹی باتیں اور نفرت پھیلانے میں اسرائیلی میڈیا کمپنیوں کا ہاتھ ہے۔یہودی میڈیا اور اس کے زیر اثر مغربی میڈیا اور بھارت کا گودی میڈیا اسرائیل کا نقصان اور یہودی فوجیوں کی ہلاکت بہت کم کر کے بیان کرتا ہے،حالاں کہ عربی چینلوں پر لمحہ بہ لمحہ یہودیوں کی ہلاکت کی خبریں نشر ہوتی رہتی ہیں۔
اردو میں غلام نبی مدنی(Gulam Nabi Madani)کے یو ٹیوب چینلس اور آر پی پروڈکشن(RP Production)یو ٹیوب چینل پر حوالوں اور تحقیقات کے ساتھ خبریں نشر کی جاتی ہیں۔
یوٹیوب،فیس بک،انسٹاگرام وغیرہ میں اسرائیل کے نقصان اور یہودیوں کی ہلاکت کی صحیح رپورٹنگ کی اجازت نہیں۔یوٹیوب وغیرہ میں اسرائیل کا اتنا ہی نقصان بیان کیا جا سکتا ہے،جتنا اسرائیل خود بیان کرے۔سات ہزار سے زائد یہودی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں،لیکن اسرائیلی حکومت مہلوک فوجیوں کی تعداد ایک سو پانچ بتاتی ہے۔
دراصل یہ میڈیائی جنگ ہے۔میڈیائی جنگ میں یہود ونصاری کو شکست دینے کے لئے فلسطینی مجاہدین کے دو ترجمان(ابو عبیدہ اور ابو حمزہ) مسلسل اپنی کارکردگی کو بیان کرتے رہتے ہیں اور یہودیوں کے مظالم کو بھی بیان کرتے ہیں۔ویڈیو بھی شیئر کرتے ہیں۔
(3)ہم نے عراق،افغانستان،شام،لیبیا کی جنگ کو دیکھا ہے اور آج کل غزہ کی جنگ کو دیکھ رہے ہیں۔امریکہ واسرائیل کا یہ طریق کار بالکل غلط ہے کہ جنگی جہازوں سے بمباری کر کے کثیر تعداد میں عام شہریوں کو ہلاک کر دیا جاتا ہے،تاکہ اس ملک کا حکم راں طبقہ مجبور ہو کر حکومت سے دستبردار ہو جائے۔عام شہریوں کو ہلاک کرنا عالمی قانون کے اعتبار سے بھی غلط ہے۔اسی قانون کے سبب انٹر نیشنل کورٹ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو جنگی مجرم قرار دیا ہے۔اس پر یوکرین جنگ میں عام شہریوں کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔
اسرائیل بھی غزہ پٹی میں عام شہریوں کو مسلسل ہلاک کرتا جا رہا ہے اور حماس کو ہتھیار ڈالنے کی ترغیب دے رہا ہے۔اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کو بتا رہا ہے کہ حماس کی وجہ سے تم پر یہ آفت آئی ہے۔اس طرح فلسطینی شہریوں کو حماس کے خلاف بغاوت پر آمادہ کر رہا ہے،لیکن یہودیوں کی یہ سازش بفضلہ تعالٰی آج تک ناکام رہی ہے۔فلسطینی عوام اپنے مجاہدین کے ساتھ ہی ہیں۔
یہودیوں سے سوال ہے کہ یہودی درندے 1920 سے ہی فلسطینی مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔حماس کا وجود تو 1987 میں ہوا ہے۔حماس کے وجود سے پہلے یہودی کیوں مسلمانوں پر ظلم کرتے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ یہودی درندوں نے فلسطین میں مسلمانوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔آئے دن فلسطینی مسلمانوں کی قتل وغارت گری،بے قصور مسلمانوں کی گرفتاری،مسلم مستورات کی عصمت دری،مسلمانوں کے گھر چھین کر ان پر قبضہ جمانا،کچھ بہانہ بنا کر مسلمانوں کو زد وکوب کرنا اور مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز وحشیانہ سلوک کرنا ساری دنیا کے لئے ناقابل برداشت ہے،لہذا اقوام متحدہ میں بھی ہمیشہ بھاری اکثریت فلسطینی مظلوموں کو حاصل ہوتی ہے،گرچہ امریکہ کے ویٹو کے سبب کوئی قانون پاس نہیں ہو پاتا ہے۔
(4)ساری دنیا میں یہ ڈھنڈورا پیٹا گیا تھا کہ یہودی بہت تعلیم یافتہ اور بہت عقل مند قوم ہے۔حماس نے یہ بھرم بھی تہس نہس کر دیا۔فلسطینی مجاہدین خود ہی ہتھیار بناتے ہیں،حالاں کہ ان کے پاس مکمل سہولیات بھی موجود نہیں۔انہی خود ساختہ ہتھیاروں سے وہ اسرائیل کے مشہور عالم مرکاوا ٹینک کو ایسے تباہ وبرباد کر رہے ہیں جیسے بچے ڈھیلا مار کر مٹی کی ہانڈی توڑ دیتے ہیں۔حماس کے خود ساختہ میزائلوں اور راکٹوں کو روکنےمیں یہودیوں کا آئرن ڈوم نظام ناکام ثابت ہوا،حالاں کہ یہودیوں نے یہ وہم پھیلا دیا تھا کہ اسرائیل کا آئرن ڈوم سسٹم بہت مستحکم ہے۔اسرائیل کی خفیہ ایجنسی آج تک حماس کے سرنگوں کا پتہ نہ لگا سکی۔یہودیوں نے یہ مشہور کر رکھا تھا کہ یہودی انٹلی جنس یعنی موساد دنیا کی قابل
👍1
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
ترین خفیہ ایجنسی ہے۔
(5) فلسطینی مجاہدین نے یہودیوں سے مقابلہ کے لئے بہت سے انتظامات کئے اور زمینی جنگ میں یہودیوں پر اپنی دہشت طاری کر دی،یہاں تک کہ یہودی فوجی پیمپرس اور ڈائپرس پہن کر میدان میں آتے ہیں۔مجاہدین کے خوف سے یہودی فوجی بول وبراز میں لت پت ہو جاتے ہیں۔ان کی فوجی وردی خراب ہو جاتی ہے اور ان کے پینٹ شرٹ سے بدبو اور تعفن پھوٹتا رہتا ہے۔
اے کاش! مجاہدین اسلام اسرائیل کے فوجی ایرپورٹ کو میزائلوں اور راکٹوں سے تباہ کر دیتے اور انہیں مرمت کاری کا موقع نہ دیتے،بلکہ وقفہ بہ وقفہ ایر پورٹ پر بمباری کرتے رہتے تو یہودیوں کے جنگی طیارے نہ پرواز کر پاتے،نہ ہی جنگی جہازوں سے بمباری ہو پاتی۔بہر حال میں کوئی جنگی مبصر تو نہیں۔محض اپنا ایک خیال پیش کیا:واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:13:دسمبر2023
(5) فلسطینی مجاہدین نے یہودیوں سے مقابلہ کے لئے بہت سے انتظامات کئے اور زمینی جنگ میں یہودیوں پر اپنی دہشت طاری کر دی،یہاں تک کہ یہودی فوجی پیمپرس اور ڈائپرس پہن کر میدان میں آتے ہیں۔مجاہدین کے خوف سے یہودی فوجی بول وبراز میں لت پت ہو جاتے ہیں۔ان کی فوجی وردی خراب ہو جاتی ہے اور ان کے پینٹ شرٹ سے بدبو اور تعفن پھوٹتا رہتا ہے۔
اے کاش! مجاہدین اسلام اسرائیل کے فوجی ایرپورٹ کو میزائلوں اور راکٹوں سے تباہ کر دیتے اور انہیں مرمت کاری کا موقع نہ دیتے،بلکہ وقفہ بہ وقفہ ایر پورٹ پر بمباری کرتے رہتے تو یہودیوں کے جنگی طیارے نہ پرواز کر پاتے،نہ ہی جنگی جہازوں سے بمباری ہو پاتی۔بہر حال میں کوئی جنگی مبصر تو نہیں۔محض اپنا ایک خیال پیش کیا:واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:13:دسمبر2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
سپر پاور فورس یا ڈائپر فورس
Super Power Force Or Diaper Force
(1)کل دوپہر ہی کو حماس کے ترجمان ابو عبیدہ نے بتایا کہ آج ایک ہی دن میں ہم نے 134:یہودی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے اور کچھ لوگ قیدی بھی بنائے گئے۔یہ خبر الجزیرہ عربی پر نشر ہوئی ہے۔رات تک مزید یہودیوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔کل ایک اسکول میں پچاس یہودی فوجی چھپے ہوئے تھے۔صرف تین مجاہدین نے ان پچاس یہودیوں پر حملہ کر دیا۔اکثر یہودی ہلاک ہو گئے اور بعض سخت زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی حکومت آج تک اپنے مہلوک فوجیوں کی تعداد ایک سو دس سے بھی کم بتا رہی ہے،حالاں کہ ایک ہی دن میں سو ڈیڑھ سو یہودی فوجی ہلاک ہو رہے ہیں۔در حقیقت اسرائیلی فوج بچوں،عورتوں اور نہتوں سے لڑنے والی فوج ہے۔ان بزدلوں کو مجاہدین اسلام کے مقابلے میں اتار دیا گیا ہے۔یہودی فوجی خود میڈیا کے سامنے بیان دے رہے ہیں کہ ہماری حکومت نے ہمیں جہنم میں دھکیل دیا ہے۔اسرائیل ماتم کا ماحول ہے۔
(2)غزہ پٹی میں یہودی فوج کہتی ہے کہ مجاہدین ہمیں نظر ہی نہیں آتے ہیں اور پھر اچانک ہم پر حملہ ہو جاتا ہے اور یہودی فوجی ہلاک ہو جاتے ہیں۔یہودی فوج غزہ پٹی میں عام شہریوں کے گھروں میں تلاشی لینے کے نام پر داخل ہوتی ہے،عام شہریوں پر ظلم کرتی ہے،ان کے گھروں کے سامان برباد کرتی ہے اور بہت سے سامان چوری کر لیتی ہے۔حماس کے مجاہدوں تک یہودی فوج کی رسائی نہیں ہے۔
(3)اسرائیلی حکومت روزانہ عام شہریوں کے گھروں پر بمباری کرتی ہے اور چار پانچ سو عام شہریوں کو ہلاک کر دیتی ہے۔یہ جنگ نہیں ہے،بلکہ جنگ کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔مہلوکین میں کثیر تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے۔اس سے قبل بھی کئی بار اسرائیلی حکومت بمباری کر کے غزہ پٹی کے مسلمانوں کو ہلاک کر چکی ہے،لیکن عہد ماضی میں سوشل میڈیا کا وجود نہیں تھا اور چند سالوں قبل آج کی طرح سوشل میڈیا متحرک نہیں تھا۔ڈیجیٹل موبائل بھی کم ہی لوگ رکھتے تھے اور الیکٹرانک میڈیا وپرنٹ میڈیا پر یہود ونصاریٰ کا قبضہ تھا۔وہ لوگ جو خبر نشر کرتے،دنیا اسی کو صحیح مان لیتی تھی،لیکن اس مرتبہ دنیا حقائق سے واقف ہو گئی اور دنیا بھر میں یہودیوں کے خلاف سخت احتجاج ومظاہرے ہونے لگے اور مسلسل مظاہرے ہوتے رہے اور آج بھی ہو رہے ہیں۔
امریکہ نے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی مخالفت کی تو سلامتی کونسل کے دیگر چودہ ممبران میں سے کسی نے بھی امریکہ کی موافقت نہیں کی۔جنرل اسمبلی میں 193 ممالک ہیں۔ان میں سے صرف آٹھ ممالک نے امریکہ واسرائیل کی حمایت کی۔اس سے بالکل واضح ہو چکا ہے کہ دنیا امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ہو چکی ہے۔
(4)غزہ پٹی کے مختلف مقامات سے یہودی فوج بھاگ چکی ہے اور مختلف مقامات میں مجاہدین کے محاصرے میں ہے۔وہ آگے جاتے ہیں تو ان پر حملہ ہوتا ہے اور پیچھے ہٹیں تو ان پر حملہ ہوتا ہے اور روزانہ ان کی ہلاکت ہو رہی ہے۔
(5)اقوام متحدہ اسرائیل پر کوئی پابندی نہیں لگا سکا۔ساری دنیا اسرائیل کو لگام ڈالنے میں ناکام رہی،لیکن ساری دنیا جو کام نہیں کر سکی،وہ کام تنہا یمن نے کر دکھایا۔اس نے اسرائیلی بندرگاہوں کی طرف کسی بھی سمندری جہاز کو جانے سے روک دیا۔امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک بھی یمن کے سامنے بے بس اور مجبور نظر آنے لگے ہیں اور ان شاء اللہ تعالی مخالفین بے بس ہی رہ جائیں گے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:14:دسمبر 2023
سپر پاور فورس یا ڈائپر فورس
Super Power Force Or Diaper Force
(1)کل دوپہر ہی کو حماس کے ترجمان ابو عبیدہ نے بتایا کہ آج ایک ہی دن میں ہم نے 134:یہودی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے اور کچھ لوگ قیدی بھی بنائے گئے۔یہ خبر الجزیرہ عربی پر نشر ہوئی ہے۔رات تک مزید یہودیوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔کل ایک اسکول میں پچاس یہودی فوجی چھپے ہوئے تھے۔صرف تین مجاہدین نے ان پچاس یہودیوں پر حملہ کر دیا۔اکثر یہودی ہلاک ہو گئے اور بعض سخت زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی حکومت آج تک اپنے مہلوک فوجیوں کی تعداد ایک سو دس سے بھی کم بتا رہی ہے،حالاں کہ ایک ہی دن میں سو ڈیڑھ سو یہودی فوجی ہلاک ہو رہے ہیں۔در حقیقت اسرائیلی فوج بچوں،عورتوں اور نہتوں سے لڑنے والی فوج ہے۔ان بزدلوں کو مجاہدین اسلام کے مقابلے میں اتار دیا گیا ہے۔یہودی فوجی خود میڈیا کے سامنے بیان دے رہے ہیں کہ ہماری حکومت نے ہمیں جہنم میں دھکیل دیا ہے۔اسرائیل ماتم کا ماحول ہے۔
(2)غزہ پٹی میں یہودی فوج کہتی ہے کہ مجاہدین ہمیں نظر ہی نہیں آتے ہیں اور پھر اچانک ہم پر حملہ ہو جاتا ہے اور یہودی فوجی ہلاک ہو جاتے ہیں۔یہودی فوج غزہ پٹی میں عام شہریوں کے گھروں میں تلاشی لینے کے نام پر داخل ہوتی ہے،عام شہریوں پر ظلم کرتی ہے،ان کے گھروں کے سامان برباد کرتی ہے اور بہت سے سامان چوری کر لیتی ہے۔حماس کے مجاہدوں تک یہودی فوج کی رسائی نہیں ہے۔
(3)اسرائیلی حکومت روزانہ عام شہریوں کے گھروں پر بمباری کرتی ہے اور چار پانچ سو عام شہریوں کو ہلاک کر دیتی ہے۔یہ جنگ نہیں ہے،بلکہ جنگ کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔مہلوکین میں کثیر تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے۔اس سے قبل بھی کئی بار اسرائیلی حکومت بمباری کر کے غزہ پٹی کے مسلمانوں کو ہلاک کر چکی ہے،لیکن عہد ماضی میں سوشل میڈیا کا وجود نہیں تھا اور چند سالوں قبل آج کی طرح سوشل میڈیا متحرک نہیں تھا۔ڈیجیٹل موبائل بھی کم ہی لوگ رکھتے تھے اور الیکٹرانک میڈیا وپرنٹ میڈیا پر یہود ونصاریٰ کا قبضہ تھا۔وہ لوگ جو خبر نشر کرتے،دنیا اسی کو صحیح مان لیتی تھی،لیکن اس مرتبہ دنیا حقائق سے واقف ہو گئی اور دنیا بھر میں یہودیوں کے خلاف سخت احتجاج ومظاہرے ہونے لگے اور مسلسل مظاہرے ہوتے رہے اور آج بھی ہو رہے ہیں۔
امریکہ نے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی مخالفت کی تو سلامتی کونسل کے دیگر چودہ ممبران میں سے کسی نے بھی امریکہ کی موافقت نہیں کی۔جنرل اسمبلی میں 193 ممالک ہیں۔ان میں سے صرف آٹھ ممالک نے امریکہ واسرائیل کی حمایت کی۔اس سے بالکل واضح ہو چکا ہے کہ دنیا امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ہو چکی ہے۔
(4)غزہ پٹی کے مختلف مقامات سے یہودی فوج بھاگ چکی ہے اور مختلف مقامات میں مجاہدین کے محاصرے میں ہے۔وہ آگے جاتے ہیں تو ان پر حملہ ہوتا ہے اور پیچھے ہٹیں تو ان پر حملہ ہوتا ہے اور روزانہ ان کی ہلاکت ہو رہی ہے۔
(5)اقوام متحدہ اسرائیل پر کوئی پابندی نہیں لگا سکا۔ساری دنیا اسرائیل کو لگام ڈالنے میں ناکام رہی،لیکن ساری دنیا جو کام نہیں کر سکی،وہ کام تنہا یمن نے کر دکھایا۔اس نے اسرائیلی بندرگاہوں کی طرف کسی بھی سمندری جہاز کو جانے سے روک دیا۔امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک بھی یمن کے سامنے بے بس اور مجبور نظر آنے لگے ہیں اور ان شاء اللہ تعالی مخالفین بے بس ہی رہ جائیں گے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:14:دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
دجال وعزازیل اور امریکہ واسرائیل
(1)یہودی قوم دجال کو اپنا مسیحا مانتی ہے اور اس کے انتظار میں ہے اور دجال کے خروج سے قبل یہودیوں نے امریکہ کو اپنا مسیحا بنا لیا ہے,یعنی امریکہ کو دجال کا درجہ دیا گیا ہے۔حالیہ دنوں میں اسرائیل سے متعلق امریکہ کے متضاد نظریات میڈیا پر گشت کر رہے ہیں،لیکن حقیقت یہی ہے کہ امریکہ اندرونی طور پر اسرائیل کے ساتھ ہے۔عوامی دباؤ کے سبب امریکی حکام کچھ باتیں اسرائیل کے خلاف میڈیا میں بول دیتے ہیں،تاکہ دنیا والوں کا دباؤ اور اہل عالم کی تنقید کچھ کم ہو جائے۔
(2)اس میں کوئی شک نہیں کہ فلسطینی مجاہدین روزانہ سو ڈیڑھ سو یہودی فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کر رہے ہیں۔اسرائیل کے اسپتال زخمی یہودی فوجیوں سے بھر چکے ہیں۔ساری دنیا یہودی فوج کی شکست سے واقف ہو چکی ہے۔
دوسری جانب غزہ میں قیامت برپا ہے۔غزہ ایک جیل کی طرح ہے۔تین اطراف سے اسرائیل نے گھیر رکھا ہے۔ایک جانب مصر کی سرحد ہے۔یہ سرحد بھی مکمل طور پر بند ہے۔اسرائیلی جنگی طیارے فضاؤں سے بم اور میزائل برسا رہے ہیں اور غزہ کی رہائشی آبادیوں میں گھس کر یہودی فوج عام شہریوں پر ظلم وجبر کر رہی ہے۔کچھ الزام لگا کر عام شہریوں کو یہودی فوج قتل کر رہی ہے۔عورتوں کی عصمت دری کر رہی ہے۔عام شہریوں کے گھروں کے سامان برباد کر رہی ہے۔گھروں سے قیمتی سامان لوٹ رہی ہے۔یہودی فوجی عام شہریوں کو ان کے گھروں سے نکال کر باہر کر دیتی ہے،پھر ہیلی کاپٹر کے ذریعہ ان نہتے مسلمانوں پر بمباری کر دی جاتی ہے۔
لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔پینے کا صحیح پانی میسر نہیں۔کہیں باہر سے خورد ونوش کے سامان بھی نہیں آ سکتے ہیں۔اکاون ہزار زخمی ہیں۔علاج اور دوا کا کوئی انتظام نہیں۔یہودیوں نے اسپتالوں کو مسمار کر دیا ہے اور بہت سے ڈاکٹروں کو بھی ہلاک کر دیا ہے۔بعض لوگ اپنی زندگی بچانے کے لئے گدھوں کو ذبح کر کے کھا رہے ہیں۔اتنی زیادہ بمباری ہونے سے غزہ پٹی کی فضا مسموم ہو چکی ہے۔لوگ مختلف قسم کے وبائی امراض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔الغرض غزہ پٹی ایک جہنم بن چکا ہے۔
انیس ہزار عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔نو ہزار عمارتوں کے ملبے تلے دب کر ہلاک ہو چکے ہیں،یعنی قریبا اٹھائیس ہزار شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔بہت سے عام شہریوں کو اغوا کر لیا گیا ہے۔در حقیقت غزہ کے مکمل حالات سے اہل جہاں واقف نہیں۔
(3)یہودیوں کے بارے میں سورہ بقرہ(ایت74)میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہودیوں کے دل پتھر کی طرح سخت ہو چکے ہیں،بلکہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو چکے ہیں،کیوں کہ بعض پتھر ایسے ہوتے ہیں کہ اس سے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ یہودیوں کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہیں۔بہت سے وڈیوز ہیں جن میں یہودی غزہ پٹی میں مسلمانوں کے قتل عام پر خوشی منا رہے ہیں۔یہ ایسی بدترین قوم ہے کہ عہد ماضی میں کئی بار ان کا قتل عام ہوا ہے۔بخت نصر سے لے کر ہٹلر تک یہودیوں کے قتل عام ایک طویل تاریخ ہے۔حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے نزول کے بعد بھی یہودی ایمان نہیں لائیں گے،بلکہ ان کا قتل عام ہو گا اور قتل عام کے ذریعہ ہی دنیا سے یہودیوں کا خاتمہ ہو گا۔
(4)غزہ پٹی اور ویسٹ بینک میں یہودی فوجیوں نے پیپر تقسیم کیا ہے۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ حماس کے لوگ شیعہ ہو گئے۔اب یہ لوگ سنی نہیں رہے،لہذا عرب کی عدالت میں ان کا معاملہ پیش کیا جائے۔درحقیقت یہود ونصاری ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان شیعہ سنی اختلاف پیدا کر کے پھوٹ ڈالتے رہے ہیں۔اس مرتبہ امریکہ واسرائیل اور مغربی قوتیں اس فریب بازی میں سخت ناکام رہی ہیں۔
(5)غزہ پٹی میں یہودی فوجی اپنی گاڑیوں میں چند مسلمانوں کو بٹھا کر گشت لگاتے ہیں،تاکہ مجاہدین ان کی گاڑیوں پر حملہ نہ کریں۔ٹینکوں کے ارد گرد بھی مسلمانوں کو ساتھ لے کر چلتے ہیں،تاکہ مجاہدین حملے نہ کریں۔سرنگوں میں رسی باندھ کر اور کیمرہ لگا کر مسلمانوں کو اندر بھیج رہے ہیں،تاکہ سرنگوں کے اندرونی حالات معلوم ہو سکیں۔الغرض فلسطینی مسلمانوں کو یہودی فوج اپنا ڈھال بنا رہی ہے اور متعدد سرنگوں میں بھی پانی ڈال رہی ہے۔اس کے باوجود یہودی فوج کی ہلاکت بڑھتی جا رہی ہے۔یہودیوں کے بہت سے کمانڈر،کرنل وجرنل ہلاک ہو چکے ہیں،حالاں کہ حماس نے اپنا خصوصی دستہ ابھی تک میدان جنگ میں نہیں اتارا ہے۔وہ اپنی باری کے منتظر ہیں۔
(6)امریکہ ومغربی ممالک میں یہودیوں کو سب سے افضل قوم مانا جاتا تھا۔یہودیوں کے خلاف تنقید کو جرم سمجھا جاتا تھا،لیکن حالیہ جنگ کو دیکھ کر امریکہ ومغربی ممالک کے میڈیا میں بھی یہودیوں کے مظالم بیان کئے جا رہے ہیں اور یہودیوں پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔
(7)اسرائیلی حکومت کا منصوبہ یہ ہے کہ فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کیا جائے،تاکہ پھر کوئی فلسطینی سر اٹھانے کی ہمت نہ کرے۔گرچہ ہر دن یہودی فوجی بھی کثیر تعداد میں ہلاک ہو رہے ہوں،لیکن حکمرانوں کو اپنے فوجیوں کی ہلاکت پر زیادہ افسوس نہیں ہوتا ہے۔وہ اپنے مشن کی تکمیل اور اپنی کرسی کی فکر کرتے ہیں۔نتن
دجال وعزازیل اور امریکہ واسرائیل
(1)یہودی قوم دجال کو اپنا مسیحا مانتی ہے اور اس کے انتظار میں ہے اور دجال کے خروج سے قبل یہودیوں نے امریکہ کو اپنا مسیحا بنا لیا ہے,یعنی امریکہ کو دجال کا درجہ دیا گیا ہے۔حالیہ دنوں میں اسرائیل سے متعلق امریکہ کے متضاد نظریات میڈیا پر گشت کر رہے ہیں،لیکن حقیقت یہی ہے کہ امریکہ اندرونی طور پر اسرائیل کے ساتھ ہے۔عوامی دباؤ کے سبب امریکی حکام کچھ باتیں اسرائیل کے خلاف میڈیا میں بول دیتے ہیں،تاکہ دنیا والوں کا دباؤ اور اہل عالم کی تنقید کچھ کم ہو جائے۔
(2)اس میں کوئی شک نہیں کہ فلسطینی مجاہدین روزانہ سو ڈیڑھ سو یہودی فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کر رہے ہیں۔اسرائیل کے اسپتال زخمی یہودی فوجیوں سے بھر چکے ہیں۔ساری دنیا یہودی فوج کی شکست سے واقف ہو چکی ہے۔
دوسری جانب غزہ میں قیامت برپا ہے۔غزہ ایک جیل کی طرح ہے۔تین اطراف سے اسرائیل نے گھیر رکھا ہے۔ایک جانب مصر کی سرحد ہے۔یہ سرحد بھی مکمل طور پر بند ہے۔اسرائیلی جنگی طیارے فضاؤں سے بم اور میزائل برسا رہے ہیں اور غزہ کی رہائشی آبادیوں میں گھس کر یہودی فوج عام شہریوں پر ظلم وجبر کر رہی ہے۔کچھ الزام لگا کر عام شہریوں کو یہودی فوج قتل کر رہی ہے۔عورتوں کی عصمت دری کر رہی ہے۔عام شہریوں کے گھروں کے سامان برباد کر رہی ہے۔گھروں سے قیمتی سامان لوٹ رہی ہے۔یہودی فوجی عام شہریوں کو ان کے گھروں سے نکال کر باہر کر دیتی ہے،پھر ہیلی کاپٹر کے ذریعہ ان نہتے مسلمانوں پر بمباری کر دی جاتی ہے۔
لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔پینے کا صحیح پانی میسر نہیں۔کہیں باہر سے خورد ونوش کے سامان بھی نہیں آ سکتے ہیں۔اکاون ہزار زخمی ہیں۔علاج اور دوا کا کوئی انتظام نہیں۔یہودیوں نے اسپتالوں کو مسمار کر دیا ہے اور بہت سے ڈاکٹروں کو بھی ہلاک کر دیا ہے۔بعض لوگ اپنی زندگی بچانے کے لئے گدھوں کو ذبح کر کے کھا رہے ہیں۔اتنی زیادہ بمباری ہونے سے غزہ پٹی کی فضا مسموم ہو چکی ہے۔لوگ مختلف قسم کے وبائی امراض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔الغرض غزہ پٹی ایک جہنم بن چکا ہے۔
انیس ہزار عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔نو ہزار عمارتوں کے ملبے تلے دب کر ہلاک ہو چکے ہیں،یعنی قریبا اٹھائیس ہزار شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔بہت سے عام شہریوں کو اغوا کر لیا گیا ہے۔در حقیقت غزہ کے مکمل حالات سے اہل جہاں واقف نہیں۔
(3)یہودیوں کے بارے میں سورہ بقرہ(ایت74)میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہودیوں کے دل پتھر کی طرح سخت ہو چکے ہیں،بلکہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو چکے ہیں،کیوں کہ بعض پتھر ایسے ہوتے ہیں کہ اس سے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ یہودیوں کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہیں۔بہت سے وڈیوز ہیں جن میں یہودی غزہ پٹی میں مسلمانوں کے قتل عام پر خوشی منا رہے ہیں۔یہ ایسی بدترین قوم ہے کہ عہد ماضی میں کئی بار ان کا قتل عام ہوا ہے۔بخت نصر سے لے کر ہٹلر تک یہودیوں کے قتل عام ایک طویل تاریخ ہے۔حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے نزول کے بعد بھی یہودی ایمان نہیں لائیں گے،بلکہ ان کا قتل عام ہو گا اور قتل عام کے ذریعہ ہی دنیا سے یہودیوں کا خاتمہ ہو گا۔
(4)غزہ پٹی اور ویسٹ بینک میں یہودی فوجیوں نے پیپر تقسیم کیا ہے۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ حماس کے لوگ شیعہ ہو گئے۔اب یہ لوگ سنی نہیں رہے،لہذا عرب کی عدالت میں ان کا معاملہ پیش کیا جائے۔درحقیقت یہود ونصاری ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان شیعہ سنی اختلاف پیدا کر کے پھوٹ ڈالتے رہے ہیں۔اس مرتبہ امریکہ واسرائیل اور مغربی قوتیں اس فریب بازی میں سخت ناکام رہی ہیں۔
(5)غزہ پٹی میں یہودی فوجی اپنی گاڑیوں میں چند مسلمانوں کو بٹھا کر گشت لگاتے ہیں،تاکہ مجاہدین ان کی گاڑیوں پر حملہ نہ کریں۔ٹینکوں کے ارد گرد بھی مسلمانوں کو ساتھ لے کر چلتے ہیں،تاکہ مجاہدین حملے نہ کریں۔سرنگوں میں رسی باندھ کر اور کیمرہ لگا کر مسلمانوں کو اندر بھیج رہے ہیں،تاکہ سرنگوں کے اندرونی حالات معلوم ہو سکیں۔الغرض فلسطینی مسلمانوں کو یہودی فوج اپنا ڈھال بنا رہی ہے اور متعدد سرنگوں میں بھی پانی ڈال رہی ہے۔اس کے باوجود یہودی فوج کی ہلاکت بڑھتی جا رہی ہے۔یہودیوں کے بہت سے کمانڈر،کرنل وجرنل ہلاک ہو چکے ہیں،حالاں کہ حماس نے اپنا خصوصی دستہ ابھی تک میدان جنگ میں نہیں اتارا ہے۔وہ اپنی باری کے منتظر ہیں۔
(6)امریکہ ومغربی ممالک میں یہودیوں کو سب سے افضل قوم مانا جاتا تھا۔یہودیوں کے خلاف تنقید کو جرم سمجھا جاتا تھا،لیکن حالیہ جنگ کو دیکھ کر امریکہ ومغربی ممالک کے میڈیا میں بھی یہودیوں کے مظالم بیان کئے جا رہے ہیں اور یہودیوں پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔
(7)اسرائیلی حکومت کا منصوبہ یہ ہے کہ فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کیا جائے،تاکہ پھر کوئی فلسطینی سر اٹھانے کی ہمت نہ کرے۔گرچہ ہر دن یہودی فوجی بھی کثیر تعداد میں ہلاک ہو رہے ہوں،لیکن حکمرانوں کو اپنے فوجیوں کی ہلاکت پر زیادہ افسوس نہیں ہوتا ہے۔وہ اپنے مشن کی تکمیل اور اپنی کرسی کی فکر کرتے ہیں۔نتن
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
یاہو پر بھی اسرائیلی کورٹ میں مقدمات چل رہے ہیں۔جنگ بندی ہونے پر اسے جیل جانے کی نوبت آ چکی ہے،لہذا اسرائیل کے چیف کمانڈر اور وزیر دفاع کی مخالفت کے باوجود نتن یاہو جنگ بندی کے لئے تیار نہیں ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:15:دسمبر 2023
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:15:دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
مظلوموں کے نعرے اور خوشی کے آنسو
(1)سال 1917میں برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کر لیا اور فلسطین میں ایک یہودی ریاست بنانے کا اعلان کیا اور مختلف ممالک کے یہودیوں کو فلسطین میں بسایا جانے لگا۔اسی وقت سے یہودی فلسطینی مسلمانوں پر ظلم ڈھانے لگے۔کل غزہ پٹی کے مجاہدین کے متعدد میزائل مسجد اقصی کے اوپر سے گزرتے ہوئے یہودی بستیوں پر جا گرے۔میزائل کو آتا دیکھ کر دیوار گریہ کے پاس کھڑے ہوئے یہودی مرد وعورت چینخیں مارتے ہوئے بھاگنے لگے اور مسجد اقصی کے صحن میں موجود فلسطینی مسلمان خوشی سے اللہ اکبر کے نعرے لگانے لگے۔ایک صدی کے بعد ان مظلوموں کو خوشی کا یہ لمحہ میسر ہوا کہ ان کے جیالے ظالم وغاصب یہودیوں پر میزائل برسا رہے ہیں۔ظالم یہودی فوجیوں پر قہر خداوندی بن کر ٹوٹ پڑے ہیں۔ان کے ٹینکوں کو نیست ونابود کر رہے ہیں۔ظالموں کی آبادیوں میں ان کے راکٹ ومیزائل برق خداوندی بن کر سب کچھ جلا کر راکھ کر رہے ہیں۔ظالم یہودیوں کے ہیلی کاپٹروں کو زمین پر گرا رہے ہیں،گرچہ ان مظلوموں کے بیٹے،بھائی،بچے اور احباب واقارب بھی ظالم یہودیوں کی بمباری سے ہلاک ہو رہے ہیں۔فلسطینی مسلمان دانے دانے کو ترس رہے ہیں،لیکن ظالم وغاصب یہودیوں کی ہلاکت اور تباہی وبربادی دیکھ کر ان کے دل خوشی سے جھوم رہے ہیں۔
اسرائیلی حکومت نے فلسطینیوں کو ورغلانے کے لئے بار بار اعلان کیا کہ تم لوگوں پر یہ مصیبت حماس کی وجہ سے آئی ہے۔تم لوگ حماس کا ساتھ چھوڑ دو،لیکن نتیجہ برعکس نکلا۔حماس کی مقبولیت میں غیر متوقع حد تک اضافہ ہوتا گیا۔اب ویسٹ بینک کے عام شہریوں نے بھی ہتھیار اٹھا لئے کہ جب مرنا ہی ہے تو دشمن سے مقابلہ کرتے ہوئے مریں گے۔
(2) اسرائیلی حکومت نے حالیہ جنگ کے دوران غزہ پٹی ودیگر مقامات پر 80:سے زائد صحافیوں اور رپورٹرز کو ہلاک کیا۔ان کے گھروں پر بمباری کی،تاکہ یہودیوں کا نقصان دنیا والوں کو معلوم نہ ہو سکے،لیکن دنیا والے حقائق سے واقف ہوتے گئے اور یہودیوں کی پھیلائی ہوئی جھوٹی خبروں کو غلط سمجھنے لگے۔اب تو اسرائیلی میڈیا بھی کچھ حقائق اور یہودیوں کے نقصان بیان کرنے لگا ہے۔
(3)یمن کے انصار اللہ نے بحر احمر میں عجب کہرام مچا رکھا ہے۔آج تک کسی کو اس سے الجھنے کی ہمت نہ ہو سکی،حالاں کہ اکتوبر میں جنگ شروع ہونے کے چند دن بعد ہی امریکہ اپنی پن ڈبی بحر عرب میں لے آیا تھا،تاکہ سمندر کی طرف سے کوئی اسرائیل پر حملہ نہ کر سکے اور سارے لوگ دہشت میں مبتلا ہو جائیں،لیکن یمن کے انصار اللہ کی دھمکیوں کو دیکھ کر سارے مخالفین دہشت میں مبتلا ہو گئے اور آج تک کوئی مقابلہ کے لئے میدان میں نہ اتر سکا۔خبر آئی ہے کہ امریکہ نے بھی اپنا بحری جہاز پیچھے ہٹا لیا ہے۔یمن کے انصار اللہ نے بہت سے بحری جہازوں پر قبضہ کر لیا ہے اور بہت سے جہازوں کو سمندر میں غرق کر دیا ہے۔
(4)امریکہ نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ لبنان کے جو علاقے اسرائیل نے قبضہ کر لیا ہے،وہ تمام علاقے لبنان کو دے دئیے جائیں،تاکہ حزب اللہ کے حملے بند ہو جائیں،لیکن حزب اللہ نے یہ تجویز مسترد کر دی ہے۔حزب اللہ نے لبنان کے ان علاقوں پر حملے کر کے قبضہ کر لیا ہے جن پر اسرائیل نے عہد ماضی میں قبضہ کر لیا تھا۔اب چند ہی علاقے باقی بچے ہیں،نیز حزب اللہ کے فولادی حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسرائیلی علاقوں پر بھی قبضہ جمانا چاہتا ہے۔
اولا اسرائیل کے پاس اتنی قوت نہیں کہ وہ حزب اللہ سے تنہا مقابلہ کر سکے۔ثانیا امریکہ واسرائیل یہ چاہتے ہیں کہ پہلے وہ آرام سے غزہ پٹی اور ویسٹ بینک پر قبضہ جما لیں،تاکہ فلسطین کا نام ونشان مٹ جائے،لیکن اسرائیل پر ہر چہار جانب سے حملے شروع ہو گئے۔سمندر میں یمن کے انصار اللہ نے پریشان کر رکھا ہے۔لبنان کی سرحد سے حزب اللہ نے حملہ کر رہا ہے۔گولان کی پہاڑیوں پر ملک شام کی طرف سے حملے ہو رہے ہیں۔غزہ پٹی میں حماس نے ناک میں دم کر رکھا ہے۔اب یہودی ریاست کے خاتمے کی صورت نظر آنے لگی ہے۔عراق وشام میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر بھی سو سے زائد حملے ہو چکے ہیں۔امریکہ بھی خاموش پڑا ہے۔اسرائیل مسلسل امریکہ کو حملہ کرنے کے لئے اکسا رہا ہے،لیکن امریک اور اس کے اتحادی یوکرین میں روس سے جنگ ہار چکے ہیں،لہذا امریکہ بھی حملے برداشت کر رہا ہے اور دم سادھے خاموش پڑا ہے۔
ع/ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
(5) اسرائیلی حکومت غزہ پٹی کے سرنگوں میں پانی ڈال رہی ہے۔غزہ پٹی کے علاقوں میں چھاپا ماری کر رہی ہے۔کہیں حماس کے مجاہدین نہیں مل رہے ہیں۔گھروں میں تلاشی لی جا رہی ہے۔ کہیں کوئی ہتھیار نہیں مل رہا ہے۔جاسوسی طیارے غزہ پٹی کی فضا میں پرواز کرتے رہتے ہیں،ان سب کے باوجود مجاہدین کے میزائل اور راکٹ اسرائیلی شہروں میں عذاب خداوندی بن کر گرتے ہیں اور ان علاقوں کو خاکستر بنا دیتے ہیں۔یہ خداوندی مدد اور غیبی نصرت ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:16:دسمبر 2023
مظلوموں کے نعرے اور خوشی کے آنسو
(1)سال 1917میں برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کر لیا اور فلسطین میں ایک یہودی ریاست بنانے کا اعلان کیا اور مختلف ممالک کے یہودیوں کو فلسطین میں بسایا جانے لگا۔اسی وقت سے یہودی فلسطینی مسلمانوں پر ظلم ڈھانے لگے۔کل غزہ پٹی کے مجاہدین کے متعدد میزائل مسجد اقصی کے اوپر سے گزرتے ہوئے یہودی بستیوں پر جا گرے۔میزائل کو آتا دیکھ کر دیوار گریہ کے پاس کھڑے ہوئے یہودی مرد وعورت چینخیں مارتے ہوئے بھاگنے لگے اور مسجد اقصی کے صحن میں موجود فلسطینی مسلمان خوشی سے اللہ اکبر کے نعرے لگانے لگے۔ایک صدی کے بعد ان مظلوموں کو خوشی کا یہ لمحہ میسر ہوا کہ ان کے جیالے ظالم وغاصب یہودیوں پر میزائل برسا رہے ہیں۔ظالم یہودی فوجیوں پر قہر خداوندی بن کر ٹوٹ پڑے ہیں۔ان کے ٹینکوں کو نیست ونابود کر رہے ہیں۔ظالموں کی آبادیوں میں ان کے راکٹ ومیزائل برق خداوندی بن کر سب کچھ جلا کر راکھ کر رہے ہیں۔ظالم یہودیوں کے ہیلی کاپٹروں کو زمین پر گرا رہے ہیں،گرچہ ان مظلوموں کے بیٹے،بھائی،بچے اور احباب واقارب بھی ظالم یہودیوں کی بمباری سے ہلاک ہو رہے ہیں۔فلسطینی مسلمان دانے دانے کو ترس رہے ہیں،لیکن ظالم وغاصب یہودیوں کی ہلاکت اور تباہی وبربادی دیکھ کر ان کے دل خوشی سے جھوم رہے ہیں۔
اسرائیلی حکومت نے فلسطینیوں کو ورغلانے کے لئے بار بار اعلان کیا کہ تم لوگوں پر یہ مصیبت حماس کی وجہ سے آئی ہے۔تم لوگ حماس کا ساتھ چھوڑ دو،لیکن نتیجہ برعکس نکلا۔حماس کی مقبولیت میں غیر متوقع حد تک اضافہ ہوتا گیا۔اب ویسٹ بینک کے عام شہریوں نے بھی ہتھیار اٹھا لئے کہ جب مرنا ہی ہے تو دشمن سے مقابلہ کرتے ہوئے مریں گے۔
(2) اسرائیلی حکومت نے حالیہ جنگ کے دوران غزہ پٹی ودیگر مقامات پر 80:سے زائد صحافیوں اور رپورٹرز کو ہلاک کیا۔ان کے گھروں پر بمباری کی،تاکہ یہودیوں کا نقصان دنیا والوں کو معلوم نہ ہو سکے،لیکن دنیا والے حقائق سے واقف ہوتے گئے اور یہودیوں کی پھیلائی ہوئی جھوٹی خبروں کو غلط سمجھنے لگے۔اب تو اسرائیلی میڈیا بھی کچھ حقائق اور یہودیوں کے نقصان بیان کرنے لگا ہے۔
(3)یمن کے انصار اللہ نے بحر احمر میں عجب کہرام مچا رکھا ہے۔آج تک کسی کو اس سے الجھنے کی ہمت نہ ہو سکی،حالاں کہ اکتوبر میں جنگ شروع ہونے کے چند دن بعد ہی امریکہ اپنی پن ڈبی بحر عرب میں لے آیا تھا،تاکہ سمندر کی طرف سے کوئی اسرائیل پر حملہ نہ کر سکے اور سارے لوگ دہشت میں مبتلا ہو جائیں،لیکن یمن کے انصار اللہ کی دھمکیوں کو دیکھ کر سارے مخالفین دہشت میں مبتلا ہو گئے اور آج تک کوئی مقابلہ کے لئے میدان میں نہ اتر سکا۔خبر آئی ہے کہ امریکہ نے بھی اپنا بحری جہاز پیچھے ہٹا لیا ہے۔یمن کے انصار اللہ نے بہت سے بحری جہازوں پر قبضہ کر لیا ہے اور بہت سے جہازوں کو سمندر میں غرق کر دیا ہے۔
(4)امریکہ نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ لبنان کے جو علاقے اسرائیل نے قبضہ کر لیا ہے،وہ تمام علاقے لبنان کو دے دئیے جائیں،تاکہ حزب اللہ کے حملے بند ہو جائیں،لیکن حزب اللہ نے یہ تجویز مسترد کر دی ہے۔حزب اللہ نے لبنان کے ان علاقوں پر حملے کر کے قبضہ کر لیا ہے جن پر اسرائیل نے عہد ماضی میں قبضہ کر لیا تھا۔اب چند ہی علاقے باقی بچے ہیں،نیز حزب اللہ کے فولادی حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسرائیلی علاقوں پر بھی قبضہ جمانا چاہتا ہے۔
اولا اسرائیل کے پاس اتنی قوت نہیں کہ وہ حزب اللہ سے تنہا مقابلہ کر سکے۔ثانیا امریکہ واسرائیل یہ چاہتے ہیں کہ پہلے وہ آرام سے غزہ پٹی اور ویسٹ بینک پر قبضہ جما لیں،تاکہ فلسطین کا نام ونشان مٹ جائے،لیکن اسرائیل پر ہر چہار جانب سے حملے شروع ہو گئے۔سمندر میں یمن کے انصار اللہ نے پریشان کر رکھا ہے۔لبنان کی سرحد سے حزب اللہ نے حملہ کر رہا ہے۔گولان کی پہاڑیوں پر ملک شام کی طرف سے حملے ہو رہے ہیں۔غزہ پٹی میں حماس نے ناک میں دم کر رکھا ہے۔اب یہودی ریاست کے خاتمے کی صورت نظر آنے لگی ہے۔عراق وشام میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر بھی سو سے زائد حملے ہو چکے ہیں۔امریکہ بھی خاموش پڑا ہے۔اسرائیل مسلسل امریکہ کو حملہ کرنے کے لئے اکسا رہا ہے،لیکن امریک اور اس کے اتحادی یوکرین میں روس سے جنگ ہار چکے ہیں،لہذا امریکہ بھی حملے برداشت کر رہا ہے اور دم سادھے خاموش پڑا ہے۔
ع/ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
(5) اسرائیلی حکومت غزہ پٹی کے سرنگوں میں پانی ڈال رہی ہے۔غزہ پٹی کے علاقوں میں چھاپا ماری کر رہی ہے۔کہیں حماس کے مجاہدین نہیں مل رہے ہیں۔گھروں میں تلاشی لی جا رہی ہے۔ کہیں کوئی ہتھیار نہیں مل رہا ہے۔جاسوسی طیارے غزہ پٹی کی فضا میں پرواز کرتے رہتے ہیں،ان سب کے باوجود مجاہدین کے میزائل اور راکٹ اسرائیلی شہروں میں عذاب خداوندی بن کر گرتے ہیں اور ان علاقوں کو خاکستر بنا دیتے ہیں۔یہ خداوندی مدد اور غیبی نصرت ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:16:دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
شکست فاش کے باوجود جنگ بندی کیوں نہیں؟
زمینی جنگ میں اسرائیل کی تاریخی شکست کے باوجود امریکہ واسرائیل جنگ بندی کی طرف راغب کیوں نہیں ہیں،حالاں کہ جنگ بندی کے لئے دنیا بھر کے دباؤ کے ساتھ امریکی واسرائیلی عوام کا دباؤ بھی بہت سخت ہے۔جنگ بندی نہ کرنے کا دو سبب بالکل واضح ہے۔
(1) اسرائیل کا اصل مقصد فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی ہے،تاکہ کوئی فلسطین کا نام لیوا زندہ نہ رہے اور اسرائیل اس مقصد میں کامیاب ہے۔وہ ہر دن چار پانچ سو فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کرتا جا رہا ہے۔جنگ جتنی طویل ہو گی،اسی قدر عام فلسطینی شہریوں کی ہلاکت ہو گی۔تیس ہزار فلسطینی شہریوں کی ہلاکت ہو چکی ہے۔قریبا ساٹھ ہزار فلسطینی زخمی ہیں۔ان میں سے بہت سے موت کے شکار ہو جائیں گے اور بہت سے معذور ہو جائیں گے اور اپنے گھر والوں کے لئے بوجھ اور اذیت کا سبب بنیں گے۔
(2)حماس کی طرف سے حزب اللہ،یمن اور شام میدان میں ہے۔امریکہ واسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں عرب دنیا میں ان جماعتوں کو ورغلا رہی ہیں جو ملک شام،یمن اور حزب اللہ کے خلاف ہیں۔داعش کو حزب اللہ اور شام کے خلاف ورغلا دیا گیا ہے۔اسی طرح شام کے حریت پسندوں کو بھی حزب اللہ اور شام کے خلاف ورغلا دیا گیا ہے۔یمن میں بھی ایک جماعت انصار اللہ کے خلاف ہے۔اس کو یمن کے انصار اللہ کے خلاف ورغلایا جا رہا ہے۔
حزب اللہ اور شام ویمن کے جو لوگ فلسطین کے ساتھ ہیں،وہ شیعہ ہیں،لہذا ان کے خلاف سنی جماعتوں کو ورغلایا جا رہا ہے،نیز میڈیا میں کچھ ایسے لوگ بھی اتار دیئے گئے ہیں جو شیعہ وسنی اختلافات کو ابھارنے کی کوشش کریں اور عہد ماضی میں شامی فوج وحزب اللہ وانصار اللہ کے سنیوں پر مظالم کو بیان کریں،تاکہ اہل اسلام میں باہمی خانہ جنگی ہو۔
بہت پہلے ایک مجلس میں شامی صدر بشار الاسد نے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو سے ہاتھ نہیں ملایا اور کہا تھا کہ تمہارے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگین ہیں۔اس کے بعد ملک شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف تحریک چلائی گئی۔چوں کہ بشار الاسد شیعہ ہے،لہذا اس کے خلاف سنیوں کو ورغلایا گیا۔شیعہ وسنی میں مسلح جھڑپیں ہونے لگیں،پھر سنی باغیوں کی طرف سے امریکہ نیٹو کی فوج اتار دیا۔رپورٹ کے مطابق اس ہنگامہ آرائی میں پندرہ لاکھ شیعہ وسنی ہلاک ہوئے۔
اس ہنگامہ آرائی کے سبب کئی لاکھ لوگ ملک شام چھوڑ کر مختلف ممالک کے پناہ گزیں کیمپوں میں چلے گئے۔عیسائیوں کی تحریک ریڈ کراس ایسے لوگوں کی مدد کرتی ہے اور انہیں عیسائیت کی طرف راغب کرتی ہے۔ملک شام کے ان پناہ گزیں افراد میں سے بھی بہت سے لوگ عیسائی ہو گئے۔اب وہ نہ سنی ہیں اور نہ شیعہ۔
ملک شام کی ہنگامہ آرائی میں حماس سنیوں کی طرف سے تھا اور حزب اللہ شیعوں کی طرف سے اور دونوں میں باہمی محاذ آرائی بھی ہوئی ہے،لیکن شاید اب کچھ سمجھ داری آئی ہے کہ دونوں متفق ہیں اور اہل اسلام بھی سمجھ رہے ہیں کہ شیعہ وسنی اختلافات پیدا کر کے باہمی قتل وقتال کرانا یہود ونصاری کی قدیم سازش ہے۔
فلسطین واسرائیل جنگ کے دوران ہی ایران وسعودیہ کے تعلقات مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔یہ صورت حال بھی یہود ونصاری کے لئے ناقابل برداشت ہے،کیوں کہ عالمی تناظر میں یہ شیعہ وسنی اتحاد ہے۔
وضاحت:جنگی مضامین میں شیعہ وسنی کا استعمال عالمی اصطلاح کے مطابق ہے۔شرعی اصطلاح کے مطابق نہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:17:دسمبر 2023
شکست فاش کے باوجود جنگ بندی کیوں نہیں؟
زمینی جنگ میں اسرائیل کی تاریخی شکست کے باوجود امریکہ واسرائیل جنگ بندی کی طرف راغب کیوں نہیں ہیں،حالاں کہ جنگ بندی کے لئے دنیا بھر کے دباؤ کے ساتھ امریکی واسرائیلی عوام کا دباؤ بھی بہت سخت ہے۔جنگ بندی نہ کرنے کا دو سبب بالکل واضح ہے۔
(1) اسرائیل کا اصل مقصد فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی ہے،تاکہ کوئی فلسطین کا نام لیوا زندہ نہ رہے اور اسرائیل اس مقصد میں کامیاب ہے۔وہ ہر دن چار پانچ سو فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کرتا جا رہا ہے۔جنگ جتنی طویل ہو گی،اسی قدر عام فلسطینی شہریوں کی ہلاکت ہو گی۔تیس ہزار فلسطینی شہریوں کی ہلاکت ہو چکی ہے۔قریبا ساٹھ ہزار فلسطینی زخمی ہیں۔ان میں سے بہت سے موت کے شکار ہو جائیں گے اور بہت سے معذور ہو جائیں گے اور اپنے گھر والوں کے لئے بوجھ اور اذیت کا سبب بنیں گے۔
(2)حماس کی طرف سے حزب اللہ،یمن اور شام میدان میں ہے۔امریکہ واسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں عرب دنیا میں ان جماعتوں کو ورغلا رہی ہیں جو ملک شام،یمن اور حزب اللہ کے خلاف ہیں۔داعش کو حزب اللہ اور شام کے خلاف ورغلا دیا گیا ہے۔اسی طرح شام کے حریت پسندوں کو بھی حزب اللہ اور شام کے خلاف ورغلا دیا گیا ہے۔یمن میں بھی ایک جماعت انصار اللہ کے خلاف ہے۔اس کو یمن کے انصار اللہ کے خلاف ورغلایا جا رہا ہے۔
حزب اللہ اور شام ویمن کے جو لوگ فلسطین کے ساتھ ہیں،وہ شیعہ ہیں،لہذا ان کے خلاف سنی جماعتوں کو ورغلایا جا رہا ہے،نیز میڈیا میں کچھ ایسے لوگ بھی اتار دیئے گئے ہیں جو شیعہ وسنی اختلافات کو ابھارنے کی کوشش کریں اور عہد ماضی میں شامی فوج وحزب اللہ وانصار اللہ کے سنیوں پر مظالم کو بیان کریں،تاکہ اہل اسلام میں باہمی خانہ جنگی ہو۔
بہت پہلے ایک مجلس میں شامی صدر بشار الاسد نے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو سے ہاتھ نہیں ملایا اور کہا تھا کہ تمہارے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگین ہیں۔اس کے بعد ملک شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف تحریک چلائی گئی۔چوں کہ بشار الاسد شیعہ ہے،لہذا اس کے خلاف سنیوں کو ورغلایا گیا۔شیعہ وسنی میں مسلح جھڑپیں ہونے لگیں،پھر سنی باغیوں کی طرف سے امریکہ نیٹو کی فوج اتار دیا۔رپورٹ کے مطابق اس ہنگامہ آرائی میں پندرہ لاکھ شیعہ وسنی ہلاک ہوئے۔
اس ہنگامہ آرائی کے سبب کئی لاکھ لوگ ملک شام چھوڑ کر مختلف ممالک کے پناہ گزیں کیمپوں میں چلے گئے۔عیسائیوں کی تحریک ریڈ کراس ایسے لوگوں کی مدد کرتی ہے اور انہیں عیسائیت کی طرف راغب کرتی ہے۔ملک شام کے ان پناہ گزیں افراد میں سے بھی بہت سے لوگ عیسائی ہو گئے۔اب وہ نہ سنی ہیں اور نہ شیعہ۔
ملک شام کی ہنگامہ آرائی میں حماس سنیوں کی طرف سے تھا اور حزب اللہ شیعوں کی طرف سے اور دونوں میں باہمی محاذ آرائی بھی ہوئی ہے،لیکن شاید اب کچھ سمجھ داری آئی ہے کہ دونوں متفق ہیں اور اہل اسلام بھی سمجھ رہے ہیں کہ شیعہ وسنی اختلافات پیدا کر کے باہمی قتل وقتال کرانا یہود ونصاری کی قدیم سازش ہے۔
فلسطین واسرائیل جنگ کے دوران ہی ایران وسعودیہ کے تعلقات مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔یہ صورت حال بھی یہود ونصاری کے لئے ناقابل برداشت ہے،کیوں کہ عالمی تناظر میں یہ شیعہ وسنی اتحاد ہے۔
وضاحت:جنگی مضامین میں شیعہ وسنی کا استعمال عالمی اصطلاح کے مطابق ہے۔شرعی اصطلاح کے مطابق نہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:17:دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
دنیا کی بدترین قوم کے جنگی جرائم
(1)غزہ پٹی میں یہودی فوج اسپتالوں اور عمارتوں کو مسمار کر رہی ہے اور زخمیوں ومریضوں پر بلڈوزر سے مٹی ڈال کر انہیں زندہ دفن کر رہی ہے۔یہودی فوجی عام شہریوں پر خطرناک کتے دوڑاتے ہیں۔یہ کتے انسانوں کے جسم نوچ ڈالتے ہیں۔بلا کسی جرم کے عام شہریوں پر فائرنگ کر کے انہیں ہلاک کر دیا جاتا ہے۔
حماس کے مجاہدین تک یہودیوں کی رسائی نہیں،نہ ہی بزدل یہودی فوجی حماس سے مقابلہ آرائی کی ہمت رکھتے ہیں۔حماس کے مجاہدین سرنگوں میں رہتے ہیں۔اسرائیلی حکومت عام شہریوں کے گھروں پر بمباری کر کے عورتوں،بچوں،بزرگوں کا قتل عام کر رہی ہے۔یہ کوئی جنگ نہیں۔جنگ مخالف فوج سے لڑی جاتی ہے۔جنگ میں عام شہریوں پر حملہ نہیں کیا جاتا ہے،لیکن اسرائیلی حکومت روز اول سے عام شہریوں پر بم برسا رہی ہے۔
(2)اکیسویں صدی کا دجال نتن یاہو بن یامین کہتا ہے کہ ہم جنگ جاری رکھیں گے،یعنی فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام جاری رکھیں گے۔ہٹلر نے ساٹھ لاکھ یہودیوں کا قتل عام کرنے کے بعد کچھ یہودیوں کو کشتی میں بٹھا کر چھوڑ دیا تھا اور کہا تھا کہ ان یہودیوں کے انسانی جرائم دیکھ کر کے دنیا کو خود ہی معلوم ہو جائے گا کہ ہم نے کیوں یہودیوں کا قتل عام کیا ہے۔مغربی ممالک نے ان یہودیوں کو فلسطین کو آباد کر دیا۔اب ان یہودیوں کے وحشیانہ جرائم دیکھ کر ان کے قتل عام کا سبب بھی ظاہر ہو رہا ہے۔
(3) اسرائیل میں اگر کوئی سویلین یہودی عام دنوں میں بھی کسی فلسطینی مسلمان کو قتل کر دیتا ہے تو اسے انعام دیا جاتا ہے۔یہود کے طریق کار کو ہنود نے اختیار کیا ہے کہ ماب لنچنگ کے ذریعہ مسلمانوں کو ہلاک کرنے والوں کی عزت افزائی کی جاتی ہے۔اس مجرم کو پھول کے ہار پہنائے جاتے ہیں۔بھارتی ہنود نے بابری مسجد توڑ کر رام مندر بنایا ہے۔اسی طرح اسرائیلی یہود بیت المقدس توڑ کر ہیکل سلیمانی بنانا چاہتے ہیں۔
(4) اسرائیلی حکومت بیرون ممالک میں بسنے والے یہودیوں کو اسرائیل بلاتی ہے۔نو وارد یہودی اسرائیل آ کر کسی بھی فلسطینی مسلمان کے گھر پر قبضہ جما لیتے ہیں اور پھر اس فلسطینی مسلمان کو کسی کیمپ میں پناہ لینی پڑتی ہے۔
بھارت میں سی اے اے(CAA) اور این آر سی(NRC)کے ذریعہ اسی طریق کار پر عمل ہونا ہے کہ بھارتی مسلمانوں کو غیر بھارتی بتا دیا جائے اور پھر ان کے گھروں میں باہر سے آنے والے ہنود کو بسا دیا جائے۔
(4)یمن نے بحر احمر سے کسی جہاز کو اسرائیل جانے سے روک دیا ہے،تاکہ یہودیوں تک خورد ونوش کے سامان نہ پہنچ سکیں،کیوں کہ یہودیوں نے غزہ پٹی تک سامان خورد ونوش کی آمد پر پابندی لگا رکھی ہے۔خبر آئی ہے کہ سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اور جارڈن نے اسرائیل کے لئے خورد ونوش کے سامان بھیجے ہیں۔یہود وسعود ناقابل اعتبار وناقابل اعتماد ہیں۔
(6)امریکہ کہتا ہے کہ یمن کا بحر احمر میں اسرائیل جانے والے جہازوں پر پابندی لگانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔امریکہ خود بتائے کہ غزہ پٹی میں عام شہریوں پر بمباری کرنا،بچوں،عورتوں،بزرگوں کو ہلاک کرنا،عام شہریوں پر گولی چلانا،ان کے گھروں سے سامان لوٹنا،عام شہریوں پر خطرناک کتے چھوڑنا،مریضوں اور زخمیوں کو زندہ دفن کرنا،خورد ونوش کے سامان کی آمد پر روک لگانا،عام شہریوں پر سفید فاسفورس کے بم برسانا اور اسی قسم وحشیانہ جرائم بین الاقوامی قانون کے خلاف ہیں یا نہیں؟ اور امریکہ کا ایسے مجرموں کو بم بارود اور جنگی ساز و سامان دینا،اپنے فوجی بھیجنا،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی میں جنگ بندی کی مخالفت کر کے نسل کشی کی تائید کرنا بین الاقوامی قانون کی مخالفت ہے یا نہیں؟
(7) فلسطینی مسلمان دنیا بھر کے مظلوموں کی جنگ لڑ رہے ہیں۔فلسطینی مسلمانوں کی فتح خاص کر بھارتی مسلمانوں کی فتح ہے۔بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے اسرائیلی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے اور اسرائیلی حکومت اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی اس میں شریک ہے۔اس کے متعدد شواہد میڈیا پر نشر کئے جا چکے ہیں۔
یہود ونصاری مسلمانوں کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کے لئے ہر سال اربوں روپے خرچ کرتے ہیں۔اسی طرح بھارت میں مسلمانوں کو بدنام کرنے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے کروڑوں روپے میڈیا پر خرچ کئے جاتے ہیں اور بھارت میں جھوٹے پروپگنڈے بہت حد تک کامیاب ہوئے۔ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف سخت نفرت پائی جاتی ہے۔قوم ہنود کے دل مسلمانوں کی نفرت سے بھر دی گئی ہے اور یہی سب کچھ اسرائیل میں پچھتر سالوں سے ہو رہا ہے۔ہنود ویہود وسعود کی سازشوں سے بچتے رہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:18:دسمبر 2023
دنیا کی بدترین قوم کے جنگی جرائم
(1)غزہ پٹی میں یہودی فوج اسپتالوں اور عمارتوں کو مسمار کر رہی ہے اور زخمیوں ومریضوں پر بلڈوزر سے مٹی ڈال کر انہیں زندہ دفن کر رہی ہے۔یہودی فوجی عام شہریوں پر خطرناک کتے دوڑاتے ہیں۔یہ کتے انسانوں کے جسم نوچ ڈالتے ہیں۔بلا کسی جرم کے عام شہریوں پر فائرنگ کر کے انہیں ہلاک کر دیا جاتا ہے۔
حماس کے مجاہدین تک یہودیوں کی رسائی نہیں،نہ ہی بزدل یہودی فوجی حماس سے مقابلہ آرائی کی ہمت رکھتے ہیں۔حماس کے مجاہدین سرنگوں میں رہتے ہیں۔اسرائیلی حکومت عام شہریوں کے گھروں پر بمباری کر کے عورتوں،بچوں،بزرگوں کا قتل عام کر رہی ہے۔یہ کوئی جنگ نہیں۔جنگ مخالف فوج سے لڑی جاتی ہے۔جنگ میں عام شہریوں پر حملہ نہیں کیا جاتا ہے،لیکن اسرائیلی حکومت روز اول سے عام شہریوں پر بم برسا رہی ہے۔
(2)اکیسویں صدی کا دجال نتن یاہو بن یامین کہتا ہے کہ ہم جنگ جاری رکھیں گے،یعنی فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام جاری رکھیں گے۔ہٹلر نے ساٹھ لاکھ یہودیوں کا قتل عام کرنے کے بعد کچھ یہودیوں کو کشتی میں بٹھا کر چھوڑ دیا تھا اور کہا تھا کہ ان یہودیوں کے انسانی جرائم دیکھ کر کے دنیا کو خود ہی معلوم ہو جائے گا کہ ہم نے کیوں یہودیوں کا قتل عام کیا ہے۔مغربی ممالک نے ان یہودیوں کو فلسطین کو آباد کر دیا۔اب ان یہودیوں کے وحشیانہ جرائم دیکھ کر ان کے قتل عام کا سبب بھی ظاہر ہو رہا ہے۔
(3) اسرائیل میں اگر کوئی سویلین یہودی عام دنوں میں بھی کسی فلسطینی مسلمان کو قتل کر دیتا ہے تو اسے انعام دیا جاتا ہے۔یہود کے طریق کار کو ہنود نے اختیار کیا ہے کہ ماب لنچنگ کے ذریعہ مسلمانوں کو ہلاک کرنے والوں کی عزت افزائی کی جاتی ہے۔اس مجرم کو پھول کے ہار پہنائے جاتے ہیں۔بھارتی ہنود نے بابری مسجد توڑ کر رام مندر بنایا ہے۔اسی طرح اسرائیلی یہود بیت المقدس توڑ کر ہیکل سلیمانی بنانا چاہتے ہیں۔
(4) اسرائیلی حکومت بیرون ممالک میں بسنے والے یہودیوں کو اسرائیل بلاتی ہے۔نو وارد یہودی اسرائیل آ کر کسی بھی فلسطینی مسلمان کے گھر پر قبضہ جما لیتے ہیں اور پھر اس فلسطینی مسلمان کو کسی کیمپ میں پناہ لینی پڑتی ہے۔
بھارت میں سی اے اے(CAA) اور این آر سی(NRC)کے ذریعہ اسی طریق کار پر عمل ہونا ہے کہ بھارتی مسلمانوں کو غیر بھارتی بتا دیا جائے اور پھر ان کے گھروں میں باہر سے آنے والے ہنود کو بسا دیا جائے۔
(4)یمن نے بحر احمر سے کسی جہاز کو اسرائیل جانے سے روک دیا ہے،تاکہ یہودیوں تک خورد ونوش کے سامان نہ پہنچ سکیں،کیوں کہ یہودیوں نے غزہ پٹی تک سامان خورد ونوش کی آمد پر پابندی لگا رکھی ہے۔خبر آئی ہے کہ سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اور جارڈن نے اسرائیل کے لئے خورد ونوش کے سامان بھیجے ہیں۔یہود وسعود ناقابل اعتبار وناقابل اعتماد ہیں۔
(6)امریکہ کہتا ہے کہ یمن کا بحر احمر میں اسرائیل جانے والے جہازوں پر پابندی لگانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔امریکہ خود بتائے کہ غزہ پٹی میں عام شہریوں پر بمباری کرنا،بچوں،عورتوں،بزرگوں کو ہلاک کرنا،عام شہریوں پر گولی چلانا،ان کے گھروں سے سامان لوٹنا،عام شہریوں پر خطرناک کتے چھوڑنا،مریضوں اور زخمیوں کو زندہ دفن کرنا،خورد ونوش کے سامان کی آمد پر روک لگانا،عام شہریوں پر سفید فاسفورس کے بم برسانا اور اسی قسم وحشیانہ جرائم بین الاقوامی قانون کے خلاف ہیں یا نہیں؟ اور امریکہ کا ایسے مجرموں کو بم بارود اور جنگی ساز و سامان دینا،اپنے فوجی بھیجنا،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی میں جنگ بندی کی مخالفت کر کے نسل کشی کی تائید کرنا بین الاقوامی قانون کی مخالفت ہے یا نہیں؟
(7) فلسطینی مسلمان دنیا بھر کے مظلوموں کی جنگ لڑ رہے ہیں۔فلسطینی مسلمانوں کی فتح خاص کر بھارتی مسلمانوں کی فتح ہے۔بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے اسرائیلی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے اور اسرائیلی حکومت اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی اس میں شریک ہے۔اس کے متعدد شواہد میڈیا پر نشر کئے جا چکے ہیں۔
یہود ونصاری مسلمانوں کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کے لئے ہر سال اربوں روپے خرچ کرتے ہیں۔اسی طرح بھارت میں مسلمانوں کو بدنام کرنے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے کروڑوں روپے میڈیا پر خرچ کئے جاتے ہیں اور بھارت میں جھوٹے پروپگنڈے بہت حد تک کامیاب ہوئے۔ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف سخت نفرت پائی جاتی ہے۔قوم ہنود کے دل مسلمانوں کی نفرت سے بھر دی گئی ہے اور یہی سب کچھ اسرائیل میں پچھتر سالوں سے ہو رہا ہے۔ہنود ویہود وسعود کی سازشوں سے بچتے رہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:18:دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
اسرائیل سے عربوں کی شکست کا سبب
(1)فی الوقت اسرائیل مختلف اطراف سے حملوں کا شکار ہے،لبنان کی طرف سے حزب اللہ حملے کر رہا ہے۔بحر احمر میں یمن کے انصار اللہ نے ناکوں میں دم کر رکھا ہے۔غزہ پٹی میں حماس کے سخت حملے ہو رہے ہیں۔ویسٹ بینک میں اسرائیلی فوجیوں پر فلسطینی مسلمان حملے کر رہے ہیں۔جنگ بندی کے لئے اسرائیلی عوام کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔اسی طرح ساری دنیا کے عوام جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی 153 ممالک نے جنگ بندی کی تائید کی ہے۔اسرائیل کا نقصان بھی بہت ہو رہا ہے۔ان سب کے باوجود اسرائیل غزہ پٹی،لبنان اور شام پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فیصلہ ہو چکا ہے کہ گولان کی پہاڑیاں ملک شام کی ہیں،وہ ملک شام کو دی جائیں۔ان پہاڑی علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ غلط ہے۔ملک شام کی فوج گولان پہاڑیوں کے پاس موجود ہے۔اسرائیل مشکلات میں ہے،ایسے وقت میں بھی شامی فوج منہ تاک رہی ہے۔ملک شام اپنے زور بازو سے اپنے علاقوں پر بھی قبضہ کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہا ہے۔جب ایسی حالت میں بھی شامی فوج خاموش پڑی ہوئی ہے تو جب اسرائیل مشکلات سے آزاد ہو جائے گا تو اس وقت شامی فوج کیسے اپنے علاقوں پر قبضہ کر سکے گی۔
عہد ماضی میں اسرائیل سے عربوں کی شکست کی ایک وجہ یہ بھی سمجھ میں اتی ہے کہ عرب افواج اور عربی سالار وجنگی مشیر نا اہل تھے۔وہ دشمن پر سخت حملے نہیں کرتے تھے اور دشمن سخت حملے کرتا تھا اور یہ لوگ شکست کھا کر واپس لوٹ جاتے تھے۔
(2) اسرائیل کے کچھ لوگ حماس کی قید میں ہیں۔ان قیدیوں کو چھڑانے کے لئے اسرائیلی عوام اپنی حکومت پر دباؤ بنا رہے ہیں۔اسرائیلی حکومت چاہتی ہے کہ چند دن جنگ بندی کر کے ان یہودی قیدیوں کو آزاد کرا لیا جائے۔اس کے بعد پھر غزہ پٹی کے مسلمانوں پر بمباری کر کے ان کی نسل کشی کی جائے۔حماس مستقل جنگ بندی چاہتا ہے،لیکن اسرائیل مستقل جنگ بندی کے لئے راضی نہیں،لہذا جنگ بندی کی بات چیت ناکام ہو چکی ہے۔
(3) اسرائیل غزہ پٹی کی زمینی جنگ میں بالکل ناکام اور سخت ہزیمت ورسوائی سے دو چار ہے۔اس کے باوجود اسرائیل جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ گرچہ ہر دن اسرائیل کے سو ڈیڑھ سو فوجی ہلاک ہو رہے ہیں،لیکن اسرائیل ہر دن ہوائی حملے کر کے چار پانچ سو فلسطینی شہریوں کو ہلاک کر دیتا ہے اور اسرائیل کا مقصد فلسطینی شہریوں کی نسل کشی ہے،تاکہ ہلاکت کی کثرت کو دیکھ کر فلسطینی مسلمان غزہ پٹی اور ویسٹ بینک سے بھاگ جائیں۔
اسرائیل کا یہ پلان مخفی اور پوشیدہ نہیں،بلکہ اسرائیل اعلانیہ کہتا ہے کہ غزہ پٹی اور ویسٹ بینک پر قبضہ کر کے گریٹر اسرائیل کی تشکیل ہو گی۔یہودی کائنات عالم کی سب سے بدترین قوم ہے۔یہ لوگ جہاں بھی رہیں گے،وہاں فتنہ وفساد پھیلاتے رہیں گے۔
(4) فلسطین واسرائیل کی حالیہ جنگ کو دیکھ کر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حماس کی جنگی حکمت عملی انتہائی مستحکم اور نتیجہ خیز ہے۔زمینی جنگ میں اسرائیل کے ساتھ امریکہ،برطانیہ ودیگر مغربی ممالک کی فوجیں بھی ہیں،لیکن زمینی جنگ میں یہود ونصاری کی فوجیں بالکل ناکام ہیں۔
قابل تحسین اور بے مثال جنگی حکمت عملی اور شیروں کی طرح شجاعت و بہادری کے باوجود حماس نے عوام کو اسرائیل کی بمباری سے محفوظ رکھنے کا کوئی انتظام نہ کیا،نہ ہی اسرائیلی فضائیہ کو بمباری سے روک سکا۔جب حماس نے اس جنگ کی طویل تیاری کی تھی تو عوام کو بمباری سے محفوظ رکھنے کا بھی کوئی طریقہ اختیار کرنا تھا۔
اسرائیل نے اپنے بڑے شہروں میں جا بجا بنکر(سرنگ)بنا رکھا ہے۔جیسے ہی کوئی میزائل یا راکٹ اسرائیل کی طرف آتا ہے،ویسے ہی آئرن ڈوم سائرن بجانے لگتا ہے اور لوگ دوڑ کر بنکر میں گھس جاتے ہیں۔میزائل وراکٹ کسی بلڈنگ پر گرتے ہیں اور آگ لگ جاتی ہے۔آگ بجھانے کا بھی اسرائیل نے مستحکم انتظام کر رکھا ہے۔گرچہ بعض لوگ راکٹ ومیزائل سے زخمی ہو جاتے ہیں،یا ہلاک ہو جاتے ہیں،لیکن نقصان بہت کم ہوتا ہے۔ایران نے ایسا میزائل بنایا ہے کہ آئرن ڈوم اس کا جب پتہ لگائے،اس وقت وہ میزائل اپنے نشانہ پر پہنچ کر تباہی مچا دیتا ہے،لیکن حماس کے پاس ایسے میزائل نہیں۔
(5)آج اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دوبارہ جنگ بندی کے لئے قرار داد پیش ہونے والی تھی،لیکن امریکہ کی دخل اندازی کے سبب آج یہ قرار داد پیش نہ کی جا سکی۔ کل یہ قرار داد پیش کی جائے گی۔چند دنوں قبل ہی امریکہ نے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی مخالفت کی ہے۔اس مرتبہ کیا ہوتا ہے،وہ دیکھنا ہو گا۔
درحقیقت یمن نے بحر احمر میں اسرائیل کی جانب جانے والے سمندری جہازوں پر پابندی لگا رکھی ہے،جس سے ساری دنیا کی تجارت متاثر ہو رہی ہے اور امریکہ مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ عرب ممالک یمن پر حملہ کریں،لیکن عرب ممالک یمن پر حملہ کے لئے راضی نہیں،کیوں کہ یمن نے اعلان کر دیا ہے کہ عرب ممالک نے یمن پر حملہ کیا تو وہ عربوں کے تیل وگیس کی پائپ لائن پر حملہ کر کے ان کی
اسرائیل سے عربوں کی شکست کا سبب
(1)فی الوقت اسرائیل مختلف اطراف سے حملوں کا شکار ہے،لبنان کی طرف سے حزب اللہ حملے کر رہا ہے۔بحر احمر میں یمن کے انصار اللہ نے ناکوں میں دم کر رکھا ہے۔غزہ پٹی میں حماس کے سخت حملے ہو رہے ہیں۔ویسٹ بینک میں اسرائیلی فوجیوں پر فلسطینی مسلمان حملے کر رہے ہیں۔جنگ بندی کے لئے اسرائیلی عوام کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔اسی طرح ساری دنیا کے عوام جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی 153 ممالک نے جنگ بندی کی تائید کی ہے۔اسرائیل کا نقصان بھی بہت ہو رہا ہے۔ان سب کے باوجود اسرائیل غزہ پٹی،لبنان اور شام پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فیصلہ ہو چکا ہے کہ گولان کی پہاڑیاں ملک شام کی ہیں،وہ ملک شام کو دی جائیں۔ان پہاڑی علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ غلط ہے۔ملک شام کی فوج گولان پہاڑیوں کے پاس موجود ہے۔اسرائیل مشکلات میں ہے،ایسے وقت میں بھی شامی فوج منہ تاک رہی ہے۔ملک شام اپنے زور بازو سے اپنے علاقوں پر بھی قبضہ کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہا ہے۔جب ایسی حالت میں بھی شامی فوج خاموش پڑی ہوئی ہے تو جب اسرائیل مشکلات سے آزاد ہو جائے گا تو اس وقت شامی فوج کیسے اپنے علاقوں پر قبضہ کر سکے گی۔
عہد ماضی میں اسرائیل سے عربوں کی شکست کی ایک وجہ یہ بھی سمجھ میں اتی ہے کہ عرب افواج اور عربی سالار وجنگی مشیر نا اہل تھے۔وہ دشمن پر سخت حملے نہیں کرتے تھے اور دشمن سخت حملے کرتا تھا اور یہ لوگ شکست کھا کر واپس لوٹ جاتے تھے۔
(2) اسرائیل کے کچھ لوگ حماس کی قید میں ہیں۔ان قیدیوں کو چھڑانے کے لئے اسرائیلی عوام اپنی حکومت پر دباؤ بنا رہے ہیں۔اسرائیلی حکومت چاہتی ہے کہ چند دن جنگ بندی کر کے ان یہودی قیدیوں کو آزاد کرا لیا جائے۔اس کے بعد پھر غزہ پٹی کے مسلمانوں پر بمباری کر کے ان کی نسل کشی کی جائے۔حماس مستقل جنگ بندی چاہتا ہے،لیکن اسرائیل مستقل جنگ بندی کے لئے راضی نہیں،لہذا جنگ بندی کی بات چیت ناکام ہو چکی ہے۔
(3) اسرائیل غزہ پٹی کی زمینی جنگ میں بالکل ناکام اور سخت ہزیمت ورسوائی سے دو چار ہے۔اس کے باوجود اسرائیل جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ گرچہ ہر دن اسرائیل کے سو ڈیڑھ سو فوجی ہلاک ہو رہے ہیں،لیکن اسرائیل ہر دن ہوائی حملے کر کے چار پانچ سو فلسطینی شہریوں کو ہلاک کر دیتا ہے اور اسرائیل کا مقصد فلسطینی شہریوں کی نسل کشی ہے،تاکہ ہلاکت کی کثرت کو دیکھ کر فلسطینی مسلمان غزہ پٹی اور ویسٹ بینک سے بھاگ جائیں۔
اسرائیل کا یہ پلان مخفی اور پوشیدہ نہیں،بلکہ اسرائیل اعلانیہ کہتا ہے کہ غزہ پٹی اور ویسٹ بینک پر قبضہ کر کے گریٹر اسرائیل کی تشکیل ہو گی۔یہودی کائنات عالم کی سب سے بدترین قوم ہے۔یہ لوگ جہاں بھی رہیں گے،وہاں فتنہ وفساد پھیلاتے رہیں گے۔
(4) فلسطین واسرائیل کی حالیہ جنگ کو دیکھ کر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حماس کی جنگی حکمت عملی انتہائی مستحکم اور نتیجہ خیز ہے۔زمینی جنگ میں اسرائیل کے ساتھ امریکہ،برطانیہ ودیگر مغربی ممالک کی فوجیں بھی ہیں،لیکن زمینی جنگ میں یہود ونصاری کی فوجیں بالکل ناکام ہیں۔
قابل تحسین اور بے مثال جنگی حکمت عملی اور شیروں کی طرح شجاعت و بہادری کے باوجود حماس نے عوام کو اسرائیل کی بمباری سے محفوظ رکھنے کا کوئی انتظام نہ کیا،نہ ہی اسرائیلی فضائیہ کو بمباری سے روک سکا۔جب حماس نے اس جنگ کی طویل تیاری کی تھی تو عوام کو بمباری سے محفوظ رکھنے کا بھی کوئی طریقہ اختیار کرنا تھا۔
اسرائیل نے اپنے بڑے شہروں میں جا بجا بنکر(سرنگ)بنا رکھا ہے۔جیسے ہی کوئی میزائل یا راکٹ اسرائیل کی طرف آتا ہے،ویسے ہی آئرن ڈوم سائرن بجانے لگتا ہے اور لوگ دوڑ کر بنکر میں گھس جاتے ہیں۔میزائل وراکٹ کسی بلڈنگ پر گرتے ہیں اور آگ لگ جاتی ہے۔آگ بجھانے کا بھی اسرائیل نے مستحکم انتظام کر رکھا ہے۔گرچہ بعض لوگ راکٹ ومیزائل سے زخمی ہو جاتے ہیں،یا ہلاک ہو جاتے ہیں،لیکن نقصان بہت کم ہوتا ہے۔ایران نے ایسا میزائل بنایا ہے کہ آئرن ڈوم اس کا جب پتہ لگائے،اس وقت وہ میزائل اپنے نشانہ پر پہنچ کر تباہی مچا دیتا ہے،لیکن حماس کے پاس ایسے میزائل نہیں۔
(5)آج اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دوبارہ جنگ بندی کے لئے قرار داد پیش ہونے والی تھی،لیکن امریکہ کی دخل اندازی کے سبب آج یہ قرار داد پیش نہ کی جا سکی۔ کل یہ قرار داد پیش کی جائے گی۔چند دنوں قبل ہی امریکہ نے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی مخالفت کی ہے۔اس مرتبہ کیا ہوتا ہے،وہ دیکھنا ہو گا۔
درحقیقت یمن نے بحر احمر میں اسرائیل کی جانب جانے والے سمندری جہازوں پر پابندی لگا رکھی ہے،جس سے ساری دنیا کی تجارت متاثر ہو رہی ہے اور امریکہ مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ عرب ممالک یمن پر حملہ کریں،لیکن عرب ممالک یمن پر حملہ کے لئے راضی نہیں،کیوں کہ یمن نے اعلان کر دیا ہے کہ عرب ممالک نے یمن پر حملہ کیا تو وہ عربوں کے تیل وگیس کی پائپ لائن پر حملہ کر کے ان کی
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
تجارت کو تباہ کر دے گا۔
امریکہ نے دنیا بھر کے ممالک سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ یمن کے ساتھ جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیں،لیکن کوئی ملک خوش دلی کے ساتھ امریکہ کا ساتھ دینے راضی نہیں اور خود امریکہ ومغربی ممالک میں فلسطین واسرائیل جنگ بندی کے لئے سخت مظاہرے ہو رہے ہیں۔ایسی صورت میں امریکہ تنہا یمن کے ساتھ جنگ کے لئے آگے بڑھنا نہیں چاہتا۔کل سلامتی کونسل کی میٹنگ کو دیکھ لیا جائے کہ کیا فیصلہ ہوتا ہے۔اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو جنگ خطرناک مرحلے میں داخل ہو جائے گی اور بہت تباہی وبربادی ہو گی۔
(6)دنیا کے اکثر ممالک فلسطین کو ایک آزاد ملک بنانے کی وکالت کر رہے ہیں،لیکن اسرائیل اس کے لئے بالکل راضی نہیں ہے۔بظاہر امریکہ بھی دو ملکی نظریہ کا قائل ہے،لیکن اس کا ظاہر وباطن یکساں نہیں ہوتا،نیز امریکہ کی خارجہ پالیسی مسلم مخالف ہے۔امریکہ میں کوئی پارٹی بھی برسر اقتدار ہو،وہ مسلمانوں کی خیر خواہ نہیں ہو سکتی۔جنگ بندی کے بعد فلسطین کو آزادی ملتی ہے یا نہیں؟ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔فلسطین کے مظلوم مسلمان 1948 سے اپنے لئے ایک آزاد ملک کی تمنا کر رہے ہیں۔اسی آزادی کی تمنا میں ان کی کئی نسلیں گزر چکیں اور آزادی کی خواہش میں فلسطینی مسلمان جان ومال کی قربانی دے رہے ہیں۔
(7)ماہ اکتوبر میں فلسطین واسرائیل جنگ شروع ہونے کے وقت کسی خاتون نے خواب دیکھا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بیت المقدس میں جلوہ گر ہیں اور بہت بڑا مجمع ہے۔حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلسطینی مسلمانوں کے قتل وغارت گری سے میں بہت رنجیدہ ہوں۔حاضرین میں سے کسی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم! مسلمانوں کی کامیابی کب ہو گی؟ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:شہادت حقیقی کامیابی ہے۔پھر دوبارہ عرض کیا گیا کہ مسلمانوں کی کامیابی کب ہو گی؟ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دو بارہ ارشاد فرمایا کہ شہادت حقیقی کامیابی ہے۔اس کے بعد پھر دریافت کیا گیا کہ مسلمانوں کو اس مصیبت سے نجات کیسے ملے گی؟ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک بڑے لشکر کی اشارہ فرمایا اور خوش خبری سنائی کہ یہ لشکر یہودیوں کو قتل کرے گا۔
یہ لشکر کون سا ہے،معلوم نہیں۔ممکن ہے کہ حضرت امام مہدی رضی اللہ تعالی عنہ کا لشکر ہو،یا امام مہدی رضی اللہ تعالی عنہ کے ظہور سے قبل کوئی لشکر نمودار ہو:واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:19:دسمبر2023
امریکہ نے دنیا بھر کے ممالک سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ یمن کے ساتھ جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیں،لیکن کوئی ملک خوش دلی کے ساتھ امریکہ کا ساتھ دینے راضی نہیں اور خود امریکہ ومغربی ممالک میں فلسطین واسرائیل جنگ بندی کے لئے سخت مظاہرے ہو رہے ہیں۔ایسی صورت میں امریکہ تنہا یمن کے ساتھ جنگ کے لئے آگے بڑھنا نہیں چاہتا۔کل سلامتی کونسل کی میٹنگ کو دیکھ لیا جائے کہ کیا فیصلہ ہوتا ہے۔اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو جنگ خطرناک مرحلے میں داخل ہو جائے گی اور بہت تباہی وبربادی ہو گی۔
(6)دنیا کے اکثر ممالک فلسطین کو ایک آزاد ملک بنانے کی وکالت کر رہے ہیں،لیکن اسرائیل اس کے لئے بالکل راضی نہیں ہے۔بظاہر امریکہ بھی دو ملکی نظریہ کا قائل ہے،لیکن اس کا ظاہر وباطن یکساں نہیں ہوتا،نیز امریکہ کی خارجہ پالیسی مسلم مخالف ہے۔امریکہ میں کوئی پارٹی بھی برسر اقتدار ہو،وہ مسلمانوں کی خیر خواہ نہیں ہو سکتی۔جنگ بندی کے بعد فلسطین کو آزادی ملتی ہے یا نہیں؟ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔فلسطین کے مظلوم مسلمان 1948 سے اپنے لئے ایک آزاد ملک کی تمنا کر رہے ہیں۔اسی آزادی کی تمنا میں ان کی کئی نسلیں گزر چکیں اور آزادی کی خواہش میں فلسطینی مسلمان جان ومال کی قربانی دے رہے ہیں۔
(7)ماہ اکتوبر میں فلسطین واسرائیل جنگ شروع ہونے کے وقت کسی خاتون نے خواب دیکھا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بیت المقدس میں جلوہ گر ہیں اور بہت بڑا مجمع ہے۔حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلسطینی مسلمانوں کے قتل وغارت گری سے میں بہت رنجیدہ ہوں۔حاضرین میں سے کسی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم! مسلمانوں کی کامیابی کب ہو گی؟ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:شہادت حقیقی کامیابی ہے۔پھر دوبارہ عرض کیا گیا کہ مسلمانوں کی کامیابی کب ہو گی؟ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دو بارہ ارشاد فرمایا کہ شہادت حقیقی کامیابی ہے۔اس کے بعد پھر دریافت کیا گیا کہ مسلمانوں کو اس مصیبت سے نجات کیسے ملے گی؟ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک بڑے لشکر کی اشارہ فرمایا اور خوش خبری سنائی کہ یہ لشکر یہودیوں کو قتل کرے گا۔
یہ لشکر کون سا ہے،معلوم نہیں۔ممکن ہے کہ حضرت امام مہدی رضی اللہ تعالی عنہ کا لشکر ہو،یا امام مہدی رضی اللہ تعالی عنہ کے ظہور سے قبل کوئی لشکر نمودار ہو:واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:19:دسمبر2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
جنگ بندی کے شرائط پر اختلاف برقرار
(1)یہودی حکومت چاہتی ہے کہ سات دن کی جنگ بندی ہو،اور حماس چالیس یہودی قیدیوں کو چھوڑ دے۔سات دن کے بعد یہودی حکومت پھر بمباری کر کے عام شہریوں کا قتل عام کرے گی۔درمیان میں ایک بار سات دنوں کی جنگ بندی ہو چکی ہے۔اس کے بعد یہودیوں نے غزہ پٹی کے عام شہریوں پر بمباری کر کے دوبارہ قتل عام اور نسل کشی شروع کر دی ہے۔
دراصل یہودی حکومت پر ان یہودیوں کا دباؤ ہے جن کے لوگ حماس کی قید میں ہیں۔یہ لوگ اسرائیل میں سخت مظاہرے کر رہے ہیں،لہذا یہودی حکومت چاہتی ہے کہ یہودی قیدیوں کو حماس کی قید سے آزاد کرا لیا جائے،اس کے بعد فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام جاری رکھیں۔یہودیوں کا مقصد فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام اور فلسطینی علاقوں پر قبضہ ہے۔
مصر میں حماس کے لیڈر اسماعیل ہانیہ اور یہودی حکومت کے نمائندوں کے درمیان عارضی طور پر سات روزہ جنگ بندی کی بات چیت ہو رہی تھی۔خبر کے مطابق حماس نے عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کیا ہے۔فلسطینی مجاہدین مستقل جنگ بندی چاہتے ہیں،ورنہ سات دن کے بعد یہودی حکومت پھر قتل عام مچائے گی اور جنگ بندی کی مدت میں بھی یہودی فوج فلسطینی شہریوں کو قتل کرتی رہے گی،جیسا کہ چند دنوں قبل پہلی جنگ بندی کی مدت میں یہودی فوج عام شہریوں کو قتل کر رہی تھی۔جنگ بندی کی مدت میں صرف بمباری بند ہوئی تھی۔
(2) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی جنگ بندی کی قرار داد پیش کی گئی ہے۔19:دسمبر کو ووٹنگ ہونے والی تھی،لیکن امریکہ کی ہٹ دھرمی کے سبب تین دنوں سے ووٹنگ ملتوی ہو رہی ہے۔امریکہ جنگ بندی نہیں چاہتا ہے۔اس کا اعتراض ہے کہ اسرائیل کو حق دفاع حاصل ہے۔
حالاں کہ حق دفاع کے سبب عام شہریوں کو ہلاک نہیں کیا جاتا ہے۔حماس کے مجاہدین سرنگوں میں رہتے ہیں اور سرنگوں میں داخل ہوتے ہی یہودیوں کو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔سرنگوں کو تباہ کرنے کے لئے امریکہ نے بنکر بسٹر بم اسرائیل کو دیا تھا،لیکن یہ بم سرنگوں کو تباہ کرنے کے قابل نہیں۔سرنگوں میں پانی بھی نہیں ڈالا جا سکا اور جن سرنگوں میں مجاہدین کے ٹھکانے ہیں،یہود ونصاری کو ان سرنگوں کے راستوں کا بھی پتہ نہیں۔مخالف فوج پر حملہ کے لئے جو سرنگ بنائے گئے ہیں،ان میں سے صرف چند سرنگوں کی جانکاری یہودیوں کے پاس ہیں۔
امریکہ نے صرف مسلم ممالک(عراق،شام،لیبیا،افغانستان)میں قریبا ایک کروڑ انسانوں کو ہلاک کیا ہے۔غزہ پٹی میں صرف 23:لاکھ مسلمان رہتے ہیں۔ان تمام فلسطینیوں کو ہلاک کرنا کون سا مشکل کام ہے۔امریکہ حالیہ جنگ کے دوران یہ بھی کہہ چکا ہے کہ جنگوں میں عام لوگوں کی بھی ہلاکت ہوتی ہے۔اس طرح امریکہ عام شہریوں کی ہلاکت کے لئے راستہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔
یہودیوں نے فلسطینی مسلمانوں کی زمین پر قبضہ کر کے ایک ملک بنا لیا ہے اور مسلمانوں کو ان کی سرزمین سے نکال دیا ہے۔اقوام متحدہ نے فلسطینیوں کو جو زمین دی تھی،اس پر بھی اسرائیل نے قبضہ کر لیا ہے اور باہر سے آنے والے غاصب یہودی ایک صدی سے مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھا رہے ہیں تو فلسطینی مسلمانوں کو بھی حق دفاع حاصل ہونا چاہیے۔وہ بھی اگر اپنی زمین سے یہودیوں کو بھگانے کے لئے کوئی اقدام کرتے ہیں تو اس اقدام کو صحیح قرار دینا چاہئے،حالاں کہ امریکہ حماس کو دہشت گرد گروپ اور حماس کی کاروائیوں کو دہشت گردی قرار دیتا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ امریکہ واسرائیل ہی دہشت گرد ہیں۔اب تو دنیا بھر میں امریکہ کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔امریکہ نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔
(3)غزہ پٹی میں مختلف ممالک کے یہود ونصاری اسرائیل کی طرف سے جنگ لڑ رہے ہیں اور امریکہ،برطانیہ،جرمنی ودیگر ممالک کی فوجیں بھی جنگ لڑ رہی ہیں۔حماس کے مجاہدین مخالف فوج کے بہت سے سپاہیوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔
مہلوکین میں مختلف ممالک کی فوجی شامل ہیں۔جب اسرائیل اپنے فوجیوں کی ہلاکت کی صحیح تعداد نہیں بتاتا ہے تو دیگر ممالک کے فوجیوں کی ہلاکت کی تعداد کیسے بتا سکتا ہے۔
(4)بتایا جاتا ہے کہ حماس کے مجاہدین کی تعداد چالیس ہزار ہے اور اسرائیل نے غزہ پٹی کے پینتالیس ہزار عمارتوں پر بمباری کی ہے۔اسرائیل کہتا ہے کہ ہمارے جہاز انہیں عمارتوں پر بمباری کرتے پیں،جن میں حماس کے مجاہدین رہتے ہیں۔جب پینتالیس ہزار عمارتوں پر حملے ہو چکے ہیں تو حماس کے سارے مجاہدین ختم ہو چکے ہوں گے،کیوں کہ مجاہدین کی تعداد صرف چالیس ہزار ہے اور پینتالیس ہزار عمارتوں پر بمباری ہو چکی ہے۔
جب اسرائیل کو آج تک یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہودی قیدی کہاں ہیں تو اسرائیلی حکومت کو یہ کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ حماس کے مجاہدین کن عمارتوں میں ہیں۔یہ بات تو ساری دنیا میں مشہور ہے کہ حماس کے مجاہدین سرنگوں میں رہتے ہیں،پھر عام شہریوں کی عمارتوں پر بمباری کرنا اور عام شہریوں کو ہلاک کرنا یقینا بین الاقوامی جرم ہے۔اس سخت جرم پر اسرائیلی حکومت پر قتل عام اور نسل کشی کا مقدمہ ضرور ہونا چاہئے۔
طارق انور مصباحی
جنگ بندی کے شرائط پر اختلاف برقرار
(1)یہودی حکومت چاہتی ہے کہ سات دن کی جنگ بندی ہو،اور حماس چالیس یہودی قیدیوں کو چھوڑ دے۔سات دن کے بعد یہودی حکومت پھر بمباری کر کے عام شہریوں کا قتل عام کرے گی۔درمیان میں ایک بار سات دنوں کی جنگ بندی ہو چکی ہے۔اس کے بعد یہودیوں نے غزہ پٹی کے عام شہریوں پر بمباری کر کے دوبارہ قتل عام اور نسل کشی شروع کر دی ہے۔
دراصل یہودی حکومت پر ان یہودیوں کا دباؤ ہے جن کے لوگ حماس کی قید میں ہیں۔یہ لوگ اسرائیل میں سخت مظاہرے کر رہے ہیں،لہذا یہودی حکومت چاہتی ہے کہ یہودی قیدیوں کو حماس کی قید سے آزاد کرا لیا جائے،اس کے بعد فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام جاری رکھیں۔یہودیوں کا مقصد فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام اور فلسطینی علاقوں پر قبضہ ہے۔
مصر میں حماس کے لیڈر اسماعیل ہانیہ اور یہودی حکومت کے نمائندوں کے درمیان عارضی طور پر سات روزہ جنگ بندی کی بات چیت ہو رہی تھی۔خبر کے مطابق حماس نے عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کیا ہے۔فلسطینی مجاہدین مستقل جنگ بندی چاہتے ہیں،ورنہ سات دن کے بعد یہودی حکومت پھر قتل عام مچائے گی اور جنگ بندی کی مدت میں بھی یہودی فوج فلسطینی شہریوں کو قتل کرتی رہے گی،جیسا کہ چند دنوں قبل پہلی جنگ بندی کی مدت میں یہودی فوج عام شہریوں کو قتل کر رہی تھی۔جنگ بندی کی مدت میں صرف بمباری بند ہوئی تھی۔
(2) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی جنگ بندی کی قرار داد پیش کی گئی ہے۔19:دسمبر کو ووٹنگ ہونے والی تھی،لیکن امریکہ کی ہٹ دھرمی کے سبب تین دنوں سے ووٹنگ ملتوی ہو رہی ہے۔امریکہ جنگ بندی نہیں چاہتا ہے۔اس کا اعتراض ہے کہ اسرائیل کو حق دفاع حاصل ہے۔
حالاں کہ حق دفاع کے سبب عام شہریوں کو ہلاک نہیں کیا جاتا ہے۔حماس کے مجاہدین سرنگوں میں رہتے ہیں اور سرنگوں میں داخل ہوتے ہی یہودیوں کو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔سرنگوں کو تباہ کرنے کے لئے امریکہ نے بنکر بسٹر بم اسرائیل کو دیا تھا،لیکن یہ بم سرنگوں کو تباہ کرنے کے قابل نہیں۔سرنگوں میں پانی بھی نہیں ڈالا جا سکا اور جن سرنگوں میں مجاہدین کے ٹھکانے ہیں،یہود ونصاری کو ان سرنگوں کے راستوں کا بھی پتہ نہیں۔مخالف فوج پر حملہ کے لئے جو سرنگ بنائے گئے ہیں،ان میں سے صرف چند سرنگوں کی جانکاری یہودیوں کے پاس ہیں۔
امریکہ نے صرف مسلم ممالک(عراق،شام،لیبیا،افغانستان)میں قریبا ایک کروڑ انسانوں کو ہلاک کیا ہے۔غزہ پٹی میں صرف 23:لاکھ مسلمان رہتے ہیں۔ان تمام فلسطینیوں کو ہلاک کرنا کون سا مشکل کام ہے۔امریکہ حالیہ جنگ کے دوران یہ بھی کہہ چکا ہے کہ جنگوں میں عام لوگوں کی بھی ہلاکت ہوتی ہے۔اس طرح امریکہ عام شہریوں کی ہلاکت کے لئے راستہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔
یہودیوں نے فلسطینی مسلمانوں کی زمین پر قبضہ کر کے ایک ملک بنا لیا ہے اور مسلمانوں کو ان کی سرزمین سے نکال دیا ہے۔اقوام متحدہ نے فلسطینیوں کو جو زمین دی تھی،اس پر بھی اسرائیل نے قبضہ کر لیا ہے اور باہر سے آنے والے غاصب یہودی ایک صدی سے مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھا رہے ہیں تو فلسطینی مسلمانوں کو بھی حق دفاع حاصل ہونا چاہیے۔وہ بھی اگر اپنی زمین سے یہودیوں کو بھگانے کے لئے کوئی اقدام کرتے ہیں تو اس اقدام کو صحیح قرار دینا چاہئے،حالاں کہ امریکہ حماس کو دہشت گرد گروپ اور حماس کی کاروائیوں کو دہشت گردی قرار دیتا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ امریکہ واسرائیل ہی دہشت گرد ہیں۔اب تو دنیا بھر میں امریکہ کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔امریکہ نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔
(3)غزہ پٹی میں مختلف ممالک کے یہود ونصاری اسرائیل کی طرف سے جنگ لڑ رہے ہیں اور امریکہ،برطانیہ،جرمنی ودیگر ممالک کی فوجیں بھی جنگ لڑ رہی ہیں۔حماس کے مجاہدین مخالف فوج کے بہت سے سپاہیوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔
مہلوکین میں مختلف ممالک کی فوجی شامل ہیں۔جب اسرائیل اپنے فوجیوں کی ہلاکت کی صحیح تعداد نہیں بتاتا ہے تو دیگر ممالک کے فوجیوں کی ہلاکت کی تعداد کیسے بتا سکتا ہے۔
(4)بتایا جاتا ہے کہ حماس کے مجاہدین کی تعداد چالیس ہزار ہے اور اسرائیل نے غزہ پٹی کے پینتالیس ہزار عمارتوں پر بمباری کی ہے۔اسرائیل کہتا ہے کہ ہمارے جہاز انہیں عمارتوں پر بمباری کرتے پیں،جن میں حماس کے مجاہدین رہتے ہیں۔جب پینتالیس ہزار عمارتوں پر حملے ہو چکے ہیں تو حماس کے سارے مجاہدین ختم ہو چکے ہوں گے،کیوں کہ مجاہدین کی تعداد صرف چالیس ہزار ہے اور پینتالیس ہزار عمارتوں پر بمباری ہو چکی ہے۔
جب اسرائیل کو آج تک یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہودی قیدی کہاں ہیں تو اسرائیلی حکومت کو یہ کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ حماس کے مجاہدین کن عمارتوں میں ہیں۔یہ بات تو ساری دنیا میں مشہور ہے کہ حماس کے مجاہدین سرنگوں میں رہتے ہیں،پھر عام شہریوں کی عمارتوں پر بمباری کرنا اور عام شہریوں کو ہلاک کرنا یقینا بین الاقوامی جرم ہے۔اس سخت جرم پر اسرائیلی حکومت پر قتل عام اور نسل کشی کا مقدمہ ضرور ہونا چاہئے۔
طارق انور مصباحی