🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.87K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.81K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

یہودیوں کی پلاننگ اور فلسطین کی تباہی

(1)پہلی جنگ عظیم (1914-1918)کے دوران فلسطین سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے قبضہ سے نکل گیا اور برطانیہ نے 1917 میں فلسطین کو اپنے قبضے میں لے لیا۔برطانیہ نے فلسطین کو یہودی ریاست بنانے کا اعلان کیا،پھر دنیا بھر سے یہودیوں کو لا کر فلسطین میں بسانا شروع کر دیا۔یہودی اسی وقت سے فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہیں،تاکہ کوئی فلسطینی مسلمان زندہ نہ رہے جو فلسطین کا دعویٰ کر سکے۔یہودیوں نے فلسطین کے باہر دیگر عرب ممالک میں آباد فلسطینی مسلمانوں پر بھی حملے کئے ہیں،تاکہ فلسطینوں کو ختم کر دیا جائے۔

اس طویل مدت میں یہودیوں نے بے شمار فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کیا.غزہ پٹی میں عام فلسطینی شہریوں پر بمباری کا مقصد بھی فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی ہے۔حماس پر حملے کا بہانہ کر کے اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔اسرائیل اس کوشش میں ہے کہ بہت سے فلسطینی مسلمان ہلاک ہو جائیں اور باقی ماندہ فلسطینی مسلمان غزہ پٹی چھوڑ کر دیگر مسلم ملکوں میں پناہ گزیں ہو جائیں۔امریکہ اور برطانیہ دونوں اسرائیل کے ساتھ ہیں۔امریکہ وبرطانیہ کے فوجی بھی اسرائیلی فوج کے ساتھ جنگ میں شریک ہیں۔جنگی ہتھیار اور ساز وسامان بھی امریکہ،برطانیہ ودیگر مغربی ممالک سے بھیجے جا رہے ہیں۔

امریکہ اور اس کے اتحادی یوکرین جنگ میں روس سے ہار چکے ہیں،لہذا فلسطین کو تباہ وویران کر کے اپنی فتح کا جھنڈا بلند کرنا چاہتے ہیں۔فلسطینی مجاہدین زمینی جنگ میں اسرائیل کو زبردست نقصان پہنچا رہے ہیں۔اسرائیلی فوجی کثیر تعداد میں مارے جا رہے ہیں۔اسرائیل کے ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ کی جا رہی ہیں۔یہودی فوج فلسطینی مجاہدین کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہے،لیکن اسرائیل فضائی حملوں کے ذریعہ کثیر تعداد میں فلسطینی شہریوں کو ہلاک کر رہا ہے اور قیام اسرائیل کے قبل سے ہی یہودیوں کا یہ منصوبہ ہے کہ فلسطینی مسلمانوں کا نام ونشان ختم کر دیا جائے،تاکہ کوئی فلسطین کا نام لیوا زندہ نہ رہے۔

(2)اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 1948 میں قیام اسرائیل کے بعد سے 2023 تک اسرائیل نے دس لاکھ فلسطینی مسلمانوں کو قید کیا۔

یہودی فوج پانچ چھ سال کے بچوں کو بھی قید کر لیتی ہے۔فلسطینی عورتوں اور لڑکیوں کو بھی قید میں ڈال دیتی ہے۔جیلوں میں فلسطینی لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی جاتی ہے۔فلسطینی بچوں کے ساتھ بھی بدکاری کی جاتی ہے۔جیلوں میں فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ان کو بھوکا پیاسا رکھا جاتا ہے۔سخت مار پیٹ کی جاتی ہے۔چھوٹے بچوں کے بھی ہاتھ پاؤں توڑ دیئے جاتے ہیں،تاکہ وہ ہمیشہ کے لئے اپاہج ہو جائیں۔بہت سے فلسطینیوں کو جیل ہی میں گولی مار دی جاتی ہے۔الغرض فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔

مختلف ممالک سے یہودیوں کو بلایا جاتا ہے اور وہ کسی بھی مسلمان کو اس کے گھر سے نکال کر اس پر قبضہ کر لیتے ہیں۔جب 1948 میں یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا،اس وقت سات لاکھ سے زائد مسلمانوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر گیا۔یہودیوں نے فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا تھا۔درحقیقت یہودیوں کے مسلسل مظالم کو چند لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

ویسٹ بینک کے علاقوں میں اسرائیل نے یہودیوں کی بہت سی بستیاں بسائی ہیں۔ان یہودیوں کو سیٹلرس کہا جاتا ہے۔ان یہودیوں کو یہی مشن دیا گیا ہے کہ فلسطینی مسلمانوں پر ظلم وستم کرتے رہیں۔فلسطینی مسلمانوں کا قتل،مارپیٹ،عصمت دری،ان کے مال و جائیداد کو چھین لینا،وغیرہ۔یہ لوگ مسلسل فلسطینی مسلمانوں پر ظلم ڈھاتے رہتے ہیں۔اگر یہ سیٹلرس کسی مسلمان کو قتل بھی کر دیں تو اسرائیلی کورٹ میں ان پر مقدمہ نہیں ہوتا ہے۔دراصل اسرائیلی حکومت نے ہی ان سیٹلرس یہودیوں کو اس کام پر لگایا ہے۔امریکہ نے حالیہ دنوں میں ایسے ہی یہودیوں کو ویزا دینے پر پابندی لگانے کا ذکر کیا ہے،لیکن امریکہ خود ہی دو منہ کا سانپ ہے۔

(3)یہودی ونصاری کے پروپیگنڈہ میڈیا نے چند دنوں سے یہ من گھڑت خبر پھیلانا شروع کیا ہے کہ سات اکتوبر کے حملہ کے وقت حماس کے مجاہدین نے اسرائیلی عورتوں سے بدکاری تھی،حالاں کہ حماس کے لیڈران کا کہنا ہے کہ حماس کے مجاہدین کی اکثریت حافظ قرآن ہیں اور اسلامی اصولوں کے مطابق ان کی تربیت کی جاتی ہے۔سات اکتوبر کو حماس نے صرف یہودیوں کے فوجی اڈوں پر حملہ کیا تھا اور آزاد رپورٹ سے یہ تصدیق ہو چکی ہے کہ سات اکتوبر کو حماس نے کسی اسرائیلی شہری کو ہلاک نہیں کیا ہے اور یہی اسلامی تعلیم ہے کہ عام لوگوں پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے۔

حماس نے فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے آزاد کرانے کے واسطے اسرائیلی شہریوں کو بندھک ضرور بنایا تھا،لیکن ان بندھکوں کو مہمانوں کی طرح رکھا۔حماس کی قید سے رہا ہونے والے قیدیوں نے بھی حماس کے حسن سلوک کا اعتراف کیا ہے۔
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
(4)غزہ پٹی میں مجاہدین کے ہاتھوں کثیر تعداد میں اسرائیلی فوجی ہلاک ہو رہے ہیں۔ان کے ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ کی جا رہی ہیں۔یہودی فوج مجاہدین سے مقابلہ کرنے میں بالکل ناکام ہے۔بہت سے فوجی اندھے ہو چکے ہیں۔بہت سے ہیضہ میں مبتلا ہو چکے ہیں۔اسرائیل میں کینسر پھیلتا جا رہا ہے۔حماس کے ترجمان جناب ابو عبیدہ سلمہ اللہ تعالی نے کل کے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے مجاہدین اسلام کی طرف سے ایسے فوجیوں کو جنگ کرتے دیکھا جنہیں ہم پہچانتے نہیں کہ وہ کون ہیں۔امید کہ یہ خداوندی مدد ہو:واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

خبر کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ کے بعض علاقوں سے واپس اسرائیل جا رہے ہیں اور اسرائیلی حکومت حماس کے لیڈروں سے جنگ بندی کی بات کر رہی ہے۔

یمن کے فوجی اور حزب اللہ کے سپاہی بھی اسرائیل پر حملے کر رہے ہیں۔ویسٹ بینک میں یہودی فوجیوں سے فلسطینی مسلمان مقابلہ آرائی کر رہے ہیں۔کہیں بھی یہودیوں کا قدم جم نہیں پا رہا ہے۔یہودی فضائی حملوں کے ذریعہ غزہ پٹی کے مسلمانوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔افسوس کہ حماس کے پاس فضائی حملہ روکنے کا کوئی ذریعہ نہیں۔یہودی حکومت غزہ کے مسلمانوں کو غزہ خالی کر کے مصر کے سرحدی علاقہ یعنی رفح بارڈر کی طرف جانے کو کہتی ہے اور بتاتی ہے کہ وہ علاقہ محفوظ ہے اور پھر اسرائیلی حکومت مصر کے سرحدی علاقوں میں بھی فلسطینی مسلمانوں پر بمباری کرتی ہے۔دراصل یہودی کائنات عالم کی سب سے بدترین قوم ہے۔یہودیوں کی کوئی بات قابل اعتبار نہیں۔

یہودی کا بچہ کوئی نہیں سچا

ایک نکلا وہ بھی حرامی کا بچہ

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:07:دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

مفادات کی حصول یابی اور مسلمانوں کی بربادی

(1)کل بروز جمعہ سلامتی کونسل میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے فلسطینی واسرائیل جنگ بندی کی قرار داد پیش کی گئی۔سلامتی کونسل کے پندرہ ممبران میں سے تیرہ نے جنگ بندی کی حمایت کی۔برطانیہ غیر حاضر رہا اور امریکہ نے ویٹو کر دیا۔امریکہ کا کہنا ہے کہ ہم مکمل امن ہونے تک جنگ بندی نہیں چاہتے ہیں۔

مکمل امن سے حماس کا خاتمہ مراد ہے اور حماس کے خاتمہ کا بہانہ بنا کر تمام فلسطینیوں کو ختم کرنا اصل مقصود ہے،تاکہ فلسطین کا کوئی نام لیوا زندہ نہ رہے۔یہود ونصاری کا یہ کوئی نیا منصوبہ نہیں ہے،بلکہ سو سال سے اسی منصوبہ پر عمل ہو رہا ہے۔

فلسطین میں فساد اس وجہ سے پیدا ہوا کہ 1917 میں برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کو لا کر بسا دیا اور فلسطین میں ایک یہودی ملک کے قیام کا اعلان کیا،پس فساد کی اصل وجہ یہودیوں کو فلسطین میں زبردستی بسانا اور فلسطین میں یہودی ملک کو قائم کرنا ہے۔آج تک دنیا کے بہت سے ممالک اسرائیل کو ملک نہیں مانتے ہیں۔ اسرائیل کو 1948 میں اقوام متحدہ نے ایک ملک قرار دیا تھا۔75:سال ہو گئے،لیکن آج بھی دنیا کے بہت سے ممالک اسرائیل کو ایک ملک تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

مسلسل ایک صدی سے یہودی قوم فلسطینی مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھا رہی ہے،پس دہشت گرد یہودی ہیں،نہ کہ حماس۔حماس نے اقدامی حملہ نہیں کیا ہے،بلکہ دفاعی عمل کیا ہے۔دنیا کے ہر فرد،ہر قوم اور ہر ملک کو دفاع کا حق حاصل ہے تو فلسطینیوں کو بھی دفاع کا حق حاصل ہے۔تحقیقات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ سات اکتوبر کے حملے میں حماس نے عام اسرائیلی شہریوں کو ہلاک نہیں کیا،بلکہ عام اسرائیلی شہری اسرائیلی فوج کے ہوائی حملے سے ہلاک ہوئے ہیں۔حماس نے صرف اسرائیل کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا۔

(2)امریکہ عرب دنیا سے پٹرول،گیس اور مختلف قسم کے فوائد بھی حاصل کرتا ہے اور امریکہ نے حالیہ تیس سال کی مدت میں قریبا ایک کروڑ مسلمانوں کو ہلاک کیا ہے اور کئی کروڑ مسلمانوں کو بے گھر کر دیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ افغانستان میں پچیس لاکھ،عراق میں بیس لاکھ،شام میں پندرہ لاکھ مسلمانوں کو ہلاک کیا۔لیبیا میں کئی لاکھ مسلمانوں کو ہلاک کیا۔مغربی قوتوں نے داعش کو وجود دیا۔داعش کے سبب لاکھوں مسلمان مارے گئے۔عراق کو ایران سے آٹھ سال تک لڑاتا رہا۔امریکہ شیعہ و سنی اختلاف کرا کے مسلمانوں کو تقسیم کر دیتا ہے اور ایک کو درموسرے سے لڑا دیتا ہے۔اسی طرح دنیا میں جو ملک بھی امریکہ کی غلامی سے انکار کرتا ہے،اس کو تباہ وبرباد کر دیتا ہے۔

امریکہ نے نیٹو(NATO)میں تیس ممالک کا فوجی اتحاد قائم کیا ہے۔اسی نیٹو کے بل پر کسی بھی ملک پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیتا ہے۔

(3)روس اور ایران جس جدید اتحاد کی کوشش کر رہے ہیں،وہ اتحاد ضرور قائم ہونا چاہئے۔ایران اس اتحاد میں مسلم ممالک کی نمائندگی کرے گا۔ایران کو چاہئے کہ اس اتحاد میں شیعہ و سنی اختلاف پر کنٹرول رکھے اور باہمی اختلاف کی نوبت نہ آنے دے۔اقوام متحدہ اور نیٹو یقینا امریکہ کے اشارہ پر ہی اپنے کام کرتا ہے۔ایسی صورت میں دنیا میں امن قائم ہونا مشکل ہے،کیوں کہ امریکہ امن نہیں چاہتا،بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ ساری دنیا میں ہماری سامراجیت قائم رہے۔

مسلم ممالک کو چاہئے کہ اپنا دفاعی نظام مستحکم کرے۔روس وچین بھی اپنے مفادات کے بغیر مسلم ممالک کی حمایت نہیں کر سکتے،لیکن امریکہ مسلم ممالک سے فوائد بھی حاصل کرتا ہے اور مسلمانوں کا قتل عام بھی کرتا ہے۔

(4) فلسطین واسرائیل جنگ کا حال یہ ہے کہ اسرائیل روزانہ جنگی جہازوں سے بمباری کر کے چار پانچ سو عام فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کرتا جا رہا ہے۔زمینی جنگ میں اسرائیل بالکل شکست کھا چکا ہے۔بہت سے یہودی کرنل،جنرل مارے جا چکے ہیں۔سابق اسرائیلی چیف کمانڈر کا بیٹا بھی ہلاک ہو چکا ہے۔اسرائیلی شہروں پر حماس کی طرف سے میزائل وراکٹ داغے جا رہے ہیں۔دو ماہ میں حماس نے اسرائیل کے قریبا پانچ سو ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ کی پیں۔کئی ہیلی کاپٹر اور ڈرون مار گرائے ہیں۔قریبا سات ہزار اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیل اپنے نقصان کو چھپاتا ہے۔حماس وحزب اللہ میزائلوں اور راکٹوں سے حملہ کر کے اسرائیلی فوجی اڈوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔سارے اسرائیلی فوجی ہلاک ہو جاتے ہیں،لیکن اسرائیل کہتا ہے کہ ہمارے دو فوجی زخمی ہوئے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ سارے فوجی مارے گئے اور صرف دو فوجی زندہ رہ سکے،وہ دونوں بھی زخمی ہیں۔

حزب اللہ کے حملے ابھی تک تیز نہیں ہوئے ہیں۔یمن کے حوثی فوجی بحر احمر پر اپنا مضبوط کنٹرول بنا چکے ہیں اور اسرائیلی جہازوں کو بحر احمر سے گزرنے نہیں دے رہے ہیں۔اسرائیل شام پر بھی ہوائی حملے کر رہا ہے،لیکن شام کے جوابی حملے بھی تیز نہیں ہیں۔شاید عرب ممالک کئی بار اسرائیل سے اسی لئے شکست کھا گئے کہ وہ دفاعی حملے بھی مضبوطی سے نہ کر سکے۔اسرائیل کے وجود کے بعد سے پہلی مرتبہ حماس نے اسرائیل سے سخت مقابلہ آرائی
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
کی ہے اور اسرائیل کی فوجی قوت کی حقیقت دنیا کے سامنے ظاہر ہو گئی،ورنہ آج تک اسرائیل خود کو مشرق وسطی کا سپر پاور سمجھ رہا تھا۔اسرائیلی فوج،اسرائیل کی خفیہ ایجنسی،اسرائیل کا آئرن ڈوم نظام سب ناکارہ ثابت ہوا۔

(5)غزہ پٹی میں بیس لاکھ مسلمان آباد ہیں۔امریکہ مسلم ممالک میں کروڑوں مسلمانوں کو ہلاک کر چکا ہے اور دنیا تماشا دیکھتی رہی۔اگر غزہ پٹی کے پیس لاکھ مسلمانوں کو بھی ہلاک کر دیا جائے تو اقوام متحدہ یا اہل عالم کچھ نہیں کریں گے،لہذا مسلم ممالک کو بیدار ہونا چاہئے۔بات چیت سے جنگ بندی نہیں ہو رہی ہے تو کوئی مناسب راہ اختیار کرنی چاہیے۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:09:دسمبر2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

جانشینان عزازیل کی سازش و کذب بیانی

(1)08:دسمبر کو امریکہ نے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرار داد کو ویٹو کر دیا،حالاں کہ پندرہ ممبران میں سے تیرہ ممبران جنگ بندی کے حق میں تھے اور برطانیہ ووٹنگ سے غیر حاضر تھا۔جنگ بندی کی قرار داد متحدہ عرب امارات نے پیش کی تھی۔

جنگ بندی کی قرار داد مسترد ہونے کے بعد یمن نے اعلان کیا تھا کہ بحر احمر سے کوئی جہاز اسرائیل کی طرف جانے نہیں دیں گے،خواہ وہ کسی ملک کا جہاز ہو۔اس کے بعد امریکہ نے سعودیہ عربیہ کو اکسایا کہ یمن سے وہ جنگ کرے۔سعودیہ نے انکار کر دیا۔اس کے بعد امریکہ نے متحدہ عرب امارات کو یمن سے جنگ کے لئے کہا،وہ بھی انکار کر گیا۔امریکہ کی بے حیائی دیکھیں کہ سلامتی کونسل میں متحدہ عرب امارات نے جنگ بندی کی قرار داد پیش کی تو امریکہ نے اسے نامنظور کر دیا اور اسی نامنظوری کے سبب یمن نے بحر احمر سے جہازوں کے گزرنے پر پابندی لگائی تو امریکہ اسی متحدہ عرب امارات کو یمن سے جنگ کے لئے اکسانے لگا۔یہود ونصاری اسی طرح مسلم ممالک کو ایک دوسرے سے لڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔

سلامتی کونسل میں امریکہ کے ویٹو کے بعد سعودی وزیر خارجہ ودیگر عربی ممالک کے وزرائے خارجہ امریکی وزیر خارجہ کے پاس جنگ بندی کے لئے گئے تھے،لیکن امریکہ کسی طرح بھی جنگ بندی کے لئے راضی نہیں ہوا،اور یمن کے اعلان کے بعد سعودی کو یمن سے جنگ کی ترغیب دینے لگا۔

حالیہ خبر کے مطابق امریکہ ایک بحری ٹاسک فورس بنائے گا،تاکہ یمن کے حملوں کا جواب دیا جا سکے اور اسرائیلی جہازوں کے گزرنے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔اس ٹاسک فورس میں متعدد مسلم ممالک کے جنگی جہاز ہوں گے۔ترکی،پاکستان،کویت،جارڈن،بحرین کے نام بتائے گئے ہیں۔

غزہ پٹی میں اٹھارہ ہزار مسلمان مارے جا چکے ہیں،لیکن مسلم ممالک آج تک اسرائیل سے تجارتی تعلقات بھی ختم نہ کر سکے،پھر یہ لوگ فلسطینی مسلمانوں کو بچانے کے لئے اسرائیل پر حملہ کیسے کر سکتے ہیں۔درحقیقت مسلمانوں کے دلوں سے اسلامی غیرت و حمیت بالکل ختم ہو چکی ہے۔ہمن اپنے طریقے پر فلسطینی مسلمانوں کی مدد کر رہا ہے تو مسلم ممالک یمن کو روکنے کے لئے امریکہ کی مدد کر رہے ہیں۔ابھی یہ ایک خبر ہے۔حقائق کی جانکاری کے لئے مزید چند دن انتظار کریں۔

(2)غزہ پٹی کے مسلمان بھوک سے موت کے شکار ہو رہے ہیں۔انسانی ضرورتوں کے ساز وسامان کا فقدان ہے۔دوائیں موجود نہیں۔اسپتال توڑ دیئے گئے۔زخمیوں کی تعداد پچاس ہزار سے زائد ہے۔غزہ میں پانی کا بھی معقول انتظام نہیں۔جنگ بندی کے بغیر باہر سے کوئی مدد غزہ پٹی پہنچانے کی کوئی صورت نہیں۔غزہ پٹی میں ہر طرف اسرائیلی طیارے بمباری کر رہے ہیں۔ہر دن چار پانچ سو عام فلسطینی مسلمان ہلاک ہو رہے ہیں۔

ان مشکل حالات کے پیش نظر آج دنیا بھر میں حقوق انسانی کی تنظیموں نے احتجاج کیا ہے۔امید ہے کہ کل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جنگ بندی سے متعلق قرار داد مصر کی جانب سے پیش کی جائے اور پھر دوبارہ سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد پیش کی جائے۔چند دن انتظار کریں۔

ان چند دنوں میں بھی نہ جانے کتنے عام فلسطینی مسلمان ہلاک کر دئیے جائیں گے،نیز دوبارہ قرار داد پیش ہونے پر امریکہ ویٹو کر دے تو اہل دنیا سے ساری امید ختم ہو جائے گی۔

(3) اسرائیل زمینی جنگ ہار چکا ہے۔بے شمار یہودی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔اس کے باوجود اسرائیل نے آج کہا ہے کہ حماس ہتھیار ڈال دے۔بدترین تاریخی شکست کھانے کے باوجود یہودیوں کا غرور ساتویں آسمان پر ہے۔


(4)سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس نے حملہ کیا تھا۔عام فلسطینی شہریوں نے حملہ نہیں کیا تھا تو اس کی سزا عام فلسطینی شہریوں کو نہیں دی جا سکتی ہے۔عورتوں،ںچوں اور نہتے لوگوں پر ظلم کرنے والی اسرائیلی فوج حماس سے مقابلہ کرنے میں بالکل ناکام ہے۔ہر دن قریبا سو یہودی فوجی ہلاک ہوتے ہیں اور بہت سے زخمی ہوتے ہیں،لیکن اسرائیل کہتا ہے کہ اس کے ایک/دو فوجی مارے گئے ہیں اور دو/تین زخمی ہوئے ہیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:11:دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

فلسطین کے سرنگ:شیاطین ہیں دنگ

(1)اسرائیلی میڈیا اور دنیا بھر کا پروپیگنڈہ میڈیا کئی ہفتوں سے شور مچا رہا ہے کہ حماس کے سرنگوں میں پانی بھر دیا جائے گا،پھر مجاہدین اسلام سرنگوں میں مر جائیں گے یا نکل کر بھاگ جائیں گے۔

اسرائیل وبرطانیہ کے جاسوسی طیارے آج تک ان سرنگوں کے راستوں کا پتہ نہ لگا سکے،نہ ہی اسرائیل کی خفیہ ایجنسی یہ پتہ لگا سکی کہ سرنگوں کا راستہ کدھر ہے۔سرنگوں میں پانی اسی وقت ڈالا جا سکتا ہے جب ان سرنگوں کا راستہ معلوم ہو سکے،نیز سرنگوں کے راستوں کو بند کرنے کا بھی انتظام ہے کہ پانی اندر داخل ہی نہیں ہو گا۔

امریکہ نے اسرائیل کو کثیر مقدار میں بنکر بسٹر بم دیا ہے کہ ان سرنگوں کو توڑ دیا جائے۔یہ بم زمین میں تیس میٹر اندر تک جاتا ہے اور غزہ پٹی کے سرنگ کم از کم ساٹھ میٹر نیچے ہیں،لہذا یہ بم بھی بیکار ہیں۔

جن سرنگوں تک اسرائیل کی رسائی ہے،وہ حملے کے لئے صرف استعمال ہوتے ہیں۔یہ وہ سرنگ نہیں جس میں حماس کے سارے ہتھیار اور مجاہدین کا ریزرو دستہ ہے۔محفوظ سرنگوں کے راستے مخفی ہیں۔

(2) اسرائیل بمباری کر کے ہر دن چار پانچ سو عام فلسطینی شہریوں کو ہلاک کر رہا ہے۔جنگ بندی کی کوششیں بھی ناکام ہو چکی ہیں اور عام شہریوں پر بمباری کو اقوام متحدہ بھی روک نہ سکا۔

جنگی جہازوں سے مسلسل عام شہریوں پر بمباری کی جا رہی ہے۔فلسطینی مجاہدین بھی اسرائیل کی راجدھانی تل ابیب اور دیگر مقامات پر میزائلوں اور راکٹوں سے حملے کر رہے ہیں۔مجاہدین کو اسرائیلی ایرپورٹ کو تباہ وبرباد کرنا چاہئے۔ایرپورٹ پر مسلسل بمباری کرنی چاہیے،تاکہ اسرائیلی جنگی طیارے پرواز نہ کر سکیں۔ایرپورٹ کی مرمت کا موقع بھی نہ دیا جائے۔مسلسل بمباری کی جائے۔ہیلی کاپٹر سے بھی کچھ بمباری ہو سکتی ہے۔اگر کوشش کی جائے تو ہیلی کاپٹر کو مار گرایا جا سکتا ہے،لیکن اس کے لئے ہر وقت مستعد رہنا ہو گا۔بہر حال ایرپورٹ کو تباہ کر کے اپنا نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ نے عراق،شام،لیبیا،افغانستان وغیرہ میں بمباری کے ذریعہ ہی تباہی مچائی ہے اور اسی طرح غزہ پٹی میں فضائی حملے کروا رہا ہے۔حالیہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی اسرائیل نے شام کے دمشق ایرپورٹ پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا تھا۔شاید اسے شام کی طرف سے ہوائی حملے ہونے کا خوف رہا ہو،حالاں کہ اس وقت ملک شام اس جنگ میں بالکل شریک نہیں تھا۔

(3) یہودیوں نے توریت میں تحریف کر دی ہے۔اسی طرح نصاری نے انجیل میں تحریف کر دی ہے۔شاید روئے زمین پر صرف یہودی ہی ایک قوم ہے جو براہ راست شیطان کی پوجا کرتے پیں،گرچہ دنیا بھر میں جو برائیاں اور کفر وشرک ہوتا ہے،اس میں شیطان کا کلیدی رول اور اہم کردار ہوتا ہے،لیکن یہودیوں کا ایک طبقہ براہ راست شیطان کی پوجا کرتا ہے۔

یہودیوں کی مشہور کتاب تلمود میں صرف یہودیوں کو انسانی رتبہ دیا گیا ہے۔یہودیوں کے علاوہ دیگر انسانوں کو حیوانوں سے بھی بدتر قرار دیا گیا ہے۔دیگر انسانوں کا قتل کو ثواب کا کام بتایا گیا ہے۔یہودی مذہب میں تلمود کی وہی حیثیت ہے جو برہمنوں کے یہاں منو اسمرتی کی حیثیت ہے۔منو اسمرتی میں بھی غیر برہمن یعنی غیر آرین انسانوں سے متعلق اسی طرح کے نظریات پیش کئے گئے ہیں۔

اگر بفضل خداوندی فلسطین فتح یاب ہو گیا تو بھارت کے متعصب ہنود بھی مثل یہود ذلیل وخوار اور غمزدہ ہوں گے۔بھارتی مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے بھی وہی طریقے اپنائے جا رہے ہیں جو یہودیوں نے فلسطین میں اختیار کیا ہے۔منوسمرتی وتلمود اور ہنود و یہود یکساں ہیں۔فلسطین جنگ سے متعلق بھارت کے گودی میڈیا کی خبریں،پروگرام،چینل،یوٹیوب،اخبار ومیگزین وغیرہ ہرگز نہ دیکھیں۔یہ لوگ انسانیت کے دشمن ہیں۔حالیہ دنوں میں یہودیوں کی وحشیانہ بمباری دیکھ کر بلا تفریق مذہب وملت ساری دنیا کے انسان فلسطین کے ساتھ ہیں۔بھارتی حکومت بھی فلسطین کے ساتھ ہے،لیکن گودی میڈیا فلسطینی مسلمانوں کے لئے زہر اگل رہا ہے۔

(4) مسلم تنظیمیں اسلام کے جنگی اصولوں کے مطابق یہودی عوام پر حملہ سے پرہیز کر رہی ہیں۔صرف فوجیوں پر حملے کر رہی ہیں اور یہودی عام فلسطینی شہریوں کو روزانہ ہلاک کر رہے ہیں۔اٹھارہ ہزار سے زائد عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔پچاس ہزار سے زائد زخمی ہیں۔قریبا آٹھ ہزار لوگ لاپتہ ہیں۔شاید وہ بمباری سے منہدم ہونے والی عمارتوں کے ملبے میں دب گئے ہوں گے۔یہودی قوم ظلم ودرندگی کا ریکارڈ توڑ رہی ہے۔جیسے ہٹلر نے یہودیوں کا قتل عام کیا تھا،اسی طرح نیتن یاہو مسلمانوں پر قہر ڈھا رہا ہے اور امریکہ بم،بارود اور جنگی ساز وسامان فراہم کر رہا ہے۔اسرائیل فاسفورس بم کا استعمال کر رہا ہے۔جس سے فلسطین میں وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں۔
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
(5)کل اسرائیل کی وزارت صحت نے اعتراف کیا ہے کہ سات اکتوبر سے آج تک یہودی فوج کے دس ہزار پانچ سو چوراسی زخمی اسرائیل لائے گئے ہیں۔ان میں 58:فی صد معذور ہو چکے ہیں۔بہت سے یہودی فوجی پاگل ہو چکے ہیں۔بہت سے اندھے ہو چکے ہیں۔بہت سے میدان جنگ سے بھاگ چکے ہیں۔بہت سے کرنل،جرنل اور اعلی کمانڈر مارے جا چکے ہیں۔بہت سے ہیضہ میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

(6)مذہب کے نام پر دو ملک تشکیل پائے تھے۔پاکستان اور اسرائیل۔اسرائیل مسلمانوں پر قہر ڈھا رہا ہے۔حماس کے سربراہ نے چند دنوں قبل پاکستان کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں پاکستان سے بہت امید ہے۔اگر پاکستان آواز اٹھائے تو انسانی ہلاکتیں بند ہو سکتی ہیں۔دوسری جانب پاکستان کا چیف کمانڈر کل امریکہ کی قدم بوسی کے لئے امریکہ حاضر ہوا ہے۔افسوس ہے ایسے چیف کمانڈر پر۔

(7)دنیا کا نظام اسی وقت درست ہو سکتا ہے جب امریکہ کی سامراجیت نیست ونابود ہو۔روس وچین وایران کو اپنا اتحادی فرنٹ جلد تشکیل دینا چاہئے اور انصاف پر مبنی نظام متعارف کرانا چاہئے۔اقوام متحدہ ایک اپاہج گروہ بن چکا ہے۔وہ مظلوموں پر ہونے والے مظالم کو روکنے میں بالکل ناکام ثابت ہوا ہے۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:12:دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

میدان جنگ میں متحد رہیں

(1)کل 12:دسمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین واسرائیل جنگ بندی سے متعلق مصر کی جانب سے پیش کردہ قرار داد پر ووٹنگ ہوئی۔اقوام متحدہ کے 193 ممبر ممالک میں سے 153:ممالک نے جنگ بندی کی حمایت کی۔امریکہ واسرائیل اور دیگر 8:ممالک یعنی کل 10:ممالک نے جنگ بندی کی مخالفت کی اور 23:ممالک ووٹنگ سے غیر حاضر رہے۔اس ووٹنگ میں صرف آٹھ ممالک نے امریکہ واسرائیل کی حمایت کی اور ساری دنیا امریکہ واسرائیل کے خلاف چلی گئی۔

رپورٹ کے مطابق جنرل اسمبلی میں شکست فاش کا سامنا کرنے کے بعد امریکی پالیسی میں کچھ تبدیلی آئی ہے اور امریکہ اسرائیلی وزیر اعظم کو برخاست کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ویسے امریکہ کی ڈبل پالیسی سے ساری دنیا واقف ہے۔اس کی کرنی اور کہنی میں بہت فرق ہوتا ہے۔امریکہ مسلسل اسرائیل کو جنگی ساز وسامان اور اپنے فوجیوں سے اسرائیل کی مدد کر رہا ہے۔

دراصل مشرق وسطی میں اسرائیل امریکی مفادات کا محافظ ہے۔امریکہ اسرائیل کے ذریعہ مشرق وسطی کو اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے۔حالیہ جنگ میں امریکہ کی جانب سے جنگی،اقتصادی،سیاسی وسفارتی مدد کے باوجود حماس،حزب اللہ اور یمن نے اسرائیل کو تہس نہس کر دیا۔اب معاملہ آگے بڑھتا جا رہا ہے۔اب امریکہ کو براہ راست میدان میں اترنا پڑے گا۔اگر امریکہ براہ راست میدان میں نہ اتر سکے تو اسرائیل کا نام ونشان مٹ جائے گا۔

فلسطین کے عام نہتے شہریوں،بچوں،عورتوں اور بزرگوں پر بمباری کر کے ان کو ہلاک کر دینے کے سبب دنیا اسرائیل کو فاتح نہیں مان سکتی ہے۔غزہ پٹی کی ایک انچ زمین پر اسرائیل قبضہ نہیں کر سکا۔روزانہ سو ڈیڑھ سو یہودی فوجی غزہ پٹی میں ہلاک ہو رہے ہیں۔روزانہ پچیس تیس اسرائیلی ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ ہو رہی ہیں۔بہت سے فوجی بھاگ گئے۔یہودی فوجی میڈیا کے سامنے بیان دے رہے ہیں کہ ہماری حکومت نے ہمیں جہنم میں دھکیل دیا ہے۔بہت سے یہودی فوجی پاگل ہو چکے ہیں۔دنیا کے لوگ سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔گرچہ اسرائیل اپنا نقصان حد درجہ کم بتا رہا ہے،لیکن دیگر ذرائع سے دنیا والوں کو حقائق معلوم ہوتے جا رہے ہیں۔

(2)حماس سنیوں کی تحریک ہے۔حزب اللہ،یمن کے حوثی وانصار اللہ،ملک شام کی حکومت اور ایران کی حکومت شیعہ ہے،لیکن میدان جنگ میں شیعہ و سنی سب متحد ہیں۔اسی طرح دشمنان اسلام کے مقابلے میں کلمہ گویان اسلام متحد رہیں۔دیگر اوقات میں ہر جماعت کے محض خاص نمائندگان باہم ربط میں رہیں اور مخالفین اسلام کی سازشوں پر گہری نظر رکھیں۔

عوامی سطح پر شیعہ وسنی اتحاد یا سنی وہابی اتحاد کی ضرورت نہیں،بلکہ ہر طبقہ کے نمائندگان بقدر حاجت اور بوقت حاجت ایک دوسرے سے رابطہ میں رہیں۔یہ روابط سفارتی تعلقات کی مانند ہوں۔ہر طبقہ کے تمام عوام وخواص یا تمام خواص باہم مربوط نہ ہوں،ورنہ داخلی فساد رونما ہو گا،نیز دیگر فرقوں سے محض علمی محاذ آرائی کی جائے،باہمی قتل وقتال سے پرہیز کیا جائے۔

(3)عالمی اصطلاح میں شیعہ کے علاوہ دیگر طبقات اسلام کو سنی کہا جاتا ہے،خواہ وہ وہابی ہو،یا دیوبندی۔ہماری جنگی تحریروں میں سنی سے دنیاوی اصطلاح مراد ہے۔شرعی اصطلاح مراد نہیں۔

(4)عراقی صدر صدام حسین اور افغانستان کا حکمران طبقہ یعنی طالبان سنی تھے۔جب امریکہ نے عراق وافغانستان پر حملہ کیا تھا تو دونوں ممالک کے شیعہ گروپ کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ملک شام کا صدر بشار الاسد شیعہ تھا۔جب امریکہ نے شام پر حملہ کیا تو سنی طبقہ کو اپنے ساتھ ملا کیا۔

امریکہ دو ملکوں میں شیعوں کے ساتھ رہا،ایک ملک میں سنیوں کے ساتھ ہو گیا۔اس پر غور کریں کہ امریکہ سنیوں کا خیر خواہ ہے یا سنیوں کا خیر خواہ ہے۔درحقیقت یہود ونصاری مسلمانوں کے دشمن ہیں۔یہود ونصاری اہل سلام کے جس طبقہ پر حملہ کرتے ہیں تو اہل اسلام کے دوسرے طبقہ کو اپنے ساتھ کر لیتے ہیں۔ایل دنیا کی یہ قدیم پالیسی ہے:پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو۔

امریکہ نے صدام حسین کی حکومت کو ختم کر کے عراق میں شیعہ حکومت قائم کر دی۔ایران نے عراقی حکومت سے روابط مضبوط کر کے عراقی حکومت کو اپنا حامی بنا لیا۔ملک شام کی حکومت بھی ایران کی طرف دار تھی اور ایران امریکہ کا مخالف اور روس کا قریبی ہے،لہذا امریکہ واسرائیل نے سنیوں کو ورغلا کر داعش(دولت اسلامیہ برائے عراق وشام)(ISIS)کو وجود دیا۔اسے ہتھیار دیئے گئے،تاکہ یہ تحریک شام وعراق پر قبضہ کر لے اور مشرق وسطی میں امریکہ واسرائیل کی گرفت مضبوط رہے،لیکن داعش بھی نیست ونابود ہو گیا۔حالیہ فلسطین واسرائیل جنگ کے دوران امریکہ نے داعش کے کچھ لوگوں کو دوبارہ میدان میں اتار دیا ہے۔یہ لوگ ملک شام کے فوجیوں پر حملہ کر رہے ہیں۔اسی طرح امریکہ نے ہمن کے ایک گروپ کو تیار کرنے کی کوشش کی،تاکہ وہ یمن کے حوثیوں اور انصار اللہ پر حملہ کریں،یعنی مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑانے کی سرتوڑ کوشش جاری ہے۔
👍1
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
حالیہ فلسطین واسرائیل جنگ کے ابتدائی عہد میں ایران و سعودی ایک دوسرے سے مل گئے،تاکہ یہود ونصاری کو اہل اسلام کے درمیان پھوٹ ڈالنے کا موقع نہ مل سکے۔ایران دنیا بھر میں شیعہ قوم کی نمائندگی کرتا ہے اور سعودی سنی طبقہ کا نمائندہ مانا جاتا ہے،یعنی غیر شیعہ طبقہ کا نمائندہ۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:13:دسمبر 2023