🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 via @toolkitbot
ْ ام المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہَا کا مختصر تعارف ! ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یومِ وِصال 🌹 10 رمضان المبارک ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ کنیت : ام القاسم = لقب : الکبریٰ والد : خویلد 🌹 والدہ : فاطمہ اولادِ اطہار : سوائے حضرت ابراہیم…
🌹 ام المومنین حـضرت سیدتنا
خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰهُ تَبَارَڪَ
وَ تَعَالیٰ عَنۡہَا کا مختصر تعارف !
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ وِصال 🌹 10 رمضان المبارک
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کنیت : ام القاسم = لقب : الکبریٰ
والد : خویلد 🌹 والدہ : فاطمہ
اولادِ اطہار : سوائے حضرت ابراہیم
کے تمام اولادِ اطہار انہیں سـے ہوئی
ولادت : عام الفیل سـے ¹⁵ سال پہلـے
عمر : 65 سال = پَینسٹھ سال
وصال-نبوت کے ¹⁰ویں سال ¹⁰رمضان
تدفین : مکہ مکرمہ میں واقع حجون
کے مقام پر جنت المعلیٰ میں کیا گیا-
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰهُ تَبَارَڪَ
وَ تَعَالیٰ عَنۡہَا کا مختصر تعارف !
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ وِصال 🌹 10 رمضان المبارک
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کنیت : ام القاسم = لقب : الکبریٰ
والد : خویلد 🌹 والدہ : فاطمہ
اولادِ اطہار : سوائے حضرت ابراہیم
کے تمام اولادِ اطہار انہیں سـے ہوئی
ولادت : عام الفیل سـے ¹⁵ سال پہلـے
عمر : 65 سال = پَینسٹھ سال
وصال-نبوت کے ¹⁰ویں سال ¹⁰رمضان
تدفین : مکہ مکرمہ میں واقع حجون
کے مقام پر جنت المعلیٰ میں کیا گیا-
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 via @toolkitbot
ْ ام المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَـ وَ تَعَالیٰ عَنۡہَا : تاریخِ وِصال تدفین ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یومِ وِصال 🌹 10 رمضان المبارک ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ وصال : آپ کی وفات ¹⁰رمضان المبارک 10 نبوی ، 65 برس کی عمر میں - مکۃ المکرمہ میں ہوئی ،…
ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡـہَا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت عام الفیل سے¹⁵سال قبل
یومِ وصال ¹⁰رمضان المبارک ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡـہَا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت عام الفیل سے¹⁵سال قبل
یومِ وصال ¹⁰رمضان المبارک ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📖 *فیضان خلاصہ تراویح* 📖
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*
🌹 الحمد للہ رمضان المبارک کے مہینے میں مسلمانوں کے اندر تلاوت قرآن کا ذوق بڑھ جاتا ہے اور ہر طرف قراءت قرآن کی بہاریں ہوتی ہیں،اور روحانیت میں مزید اضافہ اس وقت ہوجاتا ہے جب تراویح کے بعد خلاصہ تراویح کے نام سے مساجد میں بیانات ہوتے ہیں، کچھ سالوں سے اس میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور لوگ تقریبا ایک گھنٹہ تراویح پڑھنے کے بعد مزید کچھ دیر خلاصہ سننے کے لئے بھی بیٹھتے ہیں، اسی سے لوگوں کی اس میں دلچسپی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، بس اسی شوق کو دیکھ کر میں نے بھی نیت کی اس پر کچھ کام کیا جائے، الحمد للہ پچھلے سال اس سلسلے میں آڈیو کے صورت میں کورس کروایا اور اب ان تمام بیانات کو تحریر میں لا رہا ہوں تاکہ فارغ اوقات میں اس کو موبائل میں پڑھا جا سکے اور یہ نیت بھی ہے کہ مرد حضرات تراویح کے لئے جانے سے پہلے اس کو پڑھ لیں تو لطف دوبالا ہوجائے گا، ساتھ ہی ساتھ بیان فرمانے والے حضرات بھی اس سے مدد لے سکیں گے، اللہ پاک ہمیں قرآن پاک کی مزید برکتیں عطا فرمائے، یاد رہے یہ تفسیر نہیں بلکہ جو کچھ آیات میں بیان ہوا اس کا اردو خلاصہ ہے۔
🌼 *پہلا پارہ* 🌼
☘️ *سورہ بقرہ*
🌸 *سورہ بقرہ* قرآن کریم کی سب سے بڑی سورت ہے اس میں 286 آیات ہیں۔
آگے چلنے سے پہلے ایک نکتہ عرض کروں کہ یہ تو آپ کو پتا ہوگا کہ قرآن کریم کی بعض سورتیں مکی ہیں اور بعض مدنی، اگر یہ یاد رکھنا ہو کہ کتنی مکی ہیں اور کتنی مدنی تو سورہ بقرہ کی ٹوٹل آیات یاد رکھ لی جائیں یعنی 286،اب اس میں سے پہلے دو نمبر یعنی 28 (اٹھائیس) کو الگ کرلیں تو یہ مدنی سورتوں کی تعداد ہے اور بعد والے دو نمبر یعنی 86 (چھیاسی) کو الگ کرلیں تو یہ مکی سورتوں کی تعداد ہے تو یہ ہوگئیں 114۔
⚪ قرآن مجید کی تمام سورتوں کے نام توقیفی ہیں، توقیفی کا مطلب یہ کہ جو بات قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہو۔
قرآن پاک کی سورتوں کے نام اس انداز پر رکھے گئے ہیں جس نام سے سورت ہے اس کا ذکر اس سورت میں ہوتا ہے یا اس کے متعلق کوئی واقعہ بیان کیا گیا ہوتا ہے تو اسی مناسبت سے اس سورت کا نام رکھ دیا گیا، لیکن دوبارہ عرض کردوں یہ نام توقیفی ہیں ہماری عقلوں کو اس میں کوئی دخل نہیں۔
📝 *وجہ:*
عربی میں گائے کو بَقَرَۃٌ کہتے ہیں اور اس سورت کے آٹھویں اور نویں رکوع کی آیت نمبر 67 تا 73 میں بنی اسرائیل کی ایک گائے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، اس کی مناسبت سے اسے سورۂ بقرہ کہتے ہیں۔
📙 *فضیلت:*
اس سورت کی بہت ساری فضیلتیں بھی احادیث میں آئی ہیں، چند آپ کے سامنے عرض کرتا ہوں۔
1- نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص رات کو سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لے گا تو وہ اسے (ناگہانی مصائب سے) کافی ہوں گی۔
📗 *(بخاری)*
2- حضرت سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ (یعنی اپنے گھروں میں عبادت کیا کرو) اور شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں ’’سورۂ بقرہ‘‘ کی تلاوت کی جاتی ہے۔"
📘 *(مسلم)*
✉️ پوری سورت کا خاکہ یہ ہے کہ عقائد اسلام کی بنیاد ایمان بالغیب پر ہے، یعنی بغیر دیکھے ایمان لانا، ہم نے اللہ پاک کو نہیں دیکھا لیکن ہم اللہ پاک پر ایمان لائے اور اللہ پاک کو وحدہ لا شریک مانا، اسی طرح بغیر دیکھے اللہ کے تمام رسولوں پر ایمان لانا، تمام آسمانی کتابوں کو ماننا اور جزاء اور سزا کا اقرار کرنا کہ آخرت میں قیامت کے دن حساب کتاب ہوگا اور اس کے بعد جنت کی نعمتیں ملیں گی یا معاذ اللہ دوزخ ٹھکانہ ہوگا۔
🕌 ساتھ ہی عبادات کو ذکر کیا گیا ہے، جیسے نماز قائم کرنا زکوۃ دینا۔
پھر آگے چل کر اس سورت میں شریعت اسلامیہ کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور عبادات و معاملات کی تفصیل بیان کی گئی ہے
جیسے تحویل قبلہ، ماہ رمضان کے روزے ،بیت اللہ کا حج ، جہاد فی سبیل اللہ ، والدین اور رشتے داروں کے حقوق ، زکوٰۃ اور صدقات کے مصارف، یتیموں کی کفالت ،
نکاح، طلاق ، رضاعت ، اور ایلاء کو بیان کیا گیا ہے،(ایلاء ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے کہ شوہر نے یہ قسم کھائی کہ عورت سے قربت نہ کریگا یا چار مہینے قربت نہ کریگا)،
قسم کھانے کا شرعی حکم، جادو کا حرام ہونا ، قتل ناحق کی ممانعت ، قاتل پر قصاص کو واجب کرنا ، ناجائز طریقوں سے لوگوں کا مال کھانے کی ممانعت پھر شراب ، جوئے ، اور سود کی حرمت ، ایام حیض میں صحبت کی ممانعت وغیرہ۔
🔺 یہ تھا اجمالی خاکہ اب سورت کے شروع میں دیکھیں تو دوسری آیت میں اللہ پاک نے ایسے کامیاب بندوں کا ذکر فرمایا ہے جن میں پانچ خوبیاں پائی جاتی ہیں۔
🟢 غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔
🔵 نماز قائم کرتے ہیں۔
🟣 اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں۔
🟤 قرآن پاک کے ساتھ دوسری آسمانی کتابوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔
🟠 آخرت کے حساب پر پورا یقین رکھتے ہیں۔
🔘 مکہ کے کفار ومشرکین قرآن کے کلام ال
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*
🌹 الحمد للہ رمضان المبارک کے مہینے میں مسلمانوں کے اندر تلاوت قرآن کا ذوق بڑھ جاتا ہے اور ہر طرف قراءت قرآن کی بہاریں ہوتی ہیں،اور روحانیت میں مزید اضافہ اس وقت ہوجاتا ہے جب تراویح کے بعد خلاصہ تراویح کے نام سے مساجد میں بیانات ہوتے ہیں، کچھ سالوں سے اس میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور لوگ تقریبا ایک گھنٹہ تراویح پڑھنے کے بعد مزید کچھ دیر خلاصہ سننے کے لئے بھی بیٹھتے ہیں، اسی سے لوگوں کی اس میں دلچسپی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، بس اسی شوق کو دیکھ کر میں نے بھی نیت کی اس پر کچھ کام کیا جائے، الحمد للہ پچھلے سال اس سلسلے میں آڈیو کے صورت میں کورس کروایا اور اب ان تمام بیانات کو تحریر میں لا رہا ہوں تاکہ فارغ اوقات میں اس کو موبائل میں پڑھا جا سکے اور یہ نیت بھی ہے کہ مرد حضرات تراویح کے لئے جانے سے پہلے اس کو پڑھ لیں تو لطف دوبالا ہوجائے گا، ساتھ ہی ساتھ بیان فرمانے والے حضرات بھی اس سے مدد لے سکیں گے، اللہ پاک ہمیں قرآن پاک کی مزید برکتیں عطا فرمائے، یاد رہے یہ تفسیر نہیں بلکہ جو کچھ آیات میں بیان ہوا اس کا اردو خلاصہ ہے۔
🌼 *پہلا پارہ* 🌼
☘️ *سورہ بقرہ*
🌸 *سورہ بقرہ* قرآن کریم کی سب سے بڑی سورت ہے اس میں 286 آیات ہیں۔
آگے چلنے سے پہلے ایک نکتہ عرض کروں کہ یہ تو آپ کو پتا ہوگا کہ قرآن کریم کی بعض سورتیں مکی ہیں اور بعض مدنی، اگر یہ یاد رکھنا ہو کہ کتنی مکی ہیں اور کتنی مدنی تو سورہ بقرہ کی ٹوٹل آیات یاد رکھ لی جائیں یعنی 286،اب اس میں سے پہلے دو نمبر یعنی 28 (اٹھائیس) کو الگ کرلیں تو یہ مدنی سورتوں کی تعداد ہے اور بعد والے دو نمبر یعنی 86 (چھیاسی) کو الگ کرلیں تو یہ مکی سورتوں کی تعداد ہے تو یہ ہوگئیں 114۔
⚪ قرآن مجید کی تمام سورتوں کے نام توقیفی ہیں، توقیفی کا مطلب یہ کہ جو بات قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہو۔
قرآن پاک کی سورتوں کے نام اس انداز پر رکھے گئے ہیں جس نام سے سورت ہے اس کا ذکر اس سورت میں ہوتا ہے یا اس کے متعلق کوئی واقعہ بیان کیا گیا ہوتا ہے تو اسی مناسبت سے اس سورت کا نام رکھ دیا گیا، لیکن دوبارہ عرض کردوں یہ نام توقیفی ہیں ہماری عقلوں کو اس میں کوئی دخل نہیں۔
📝 *وجہ:*
عربی میں گائے کو بَقَرَۃٌ کہتے ہیں اور اس سورت کے آٹھویں اور نویں رکوع کی آیت نمبر 67 تا 73 میں بنی اسرائیل کی ایک گائے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، اس کی مناسبت سے اسے سورۂ بقرہ کہتے ہیں۔
📙 *فضیلت:*
اس سورت کی بہت ساری فضیلتیں بھی احادیث میں آئی ہیں، چند آپ کے سامنے عرض کرتا ہوں۔
1- نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص رات کو سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لے گا تو وہ اسے (ناگہانی مصائب سے) کافی ہوں گی۔
📗 *(بخاری)*
2- حضرت سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ (یعنی اپنے گھروں میں عبادت کیا کرو) اور شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں ’’سورۂ بقرہ‘‘ کی تلاوت کی جاتی ہے۔"
📘 *(مسلم)*
✉️ پوری سورت کا خاکہ یہ ہے کہ عقائد اسلام کی بنیاد ایمان بالغیب پر ہے، یعنی بغیر دیکھے ایمان لانا، ہم نے اللہ پاک کو نہیں دیکھا لیکن ہم اللہ پاک پر ایمان لائے اور اللہ پاک کو وحدہ لا شریک مانا، اسی طرح بغیر دیکھے اللہ کے تمام رسولوں پر ایمان لانا، تمام آسمانی کتابوں کو ماننا اور جزاء اور سزا کا اقرار کرنا کہ آخرت میں قیامت کے دن حساب کتاب ہوگا اور اس کے بعد جنت کی نعمتیں ملیں گی یا معاذ اللہ دوزخ ٹھکانہ ہوگا۔
🕌 ساتھ ہی عبادات کو ذکر کیا گیا ہے، جیسے نماز قائم کرنا زکوۃ دینا۔
پھر آگے چل کر اس سورت میں شریعت اسلامیہ کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور عبادات و معاملات کی تفصیل بیان کی گئی ہے
جیسے تحویل قبلہ، ماہ رمضان کے روزے ،بیت اللہ کا حج ، جہاد فی سبیل اللہ ، والدین اور رشتے داروں کے حقوق ، زکوٰۃ اور صدقات کے مصارف، یتیموں کی کفالت ،
نکاح، طلاق ، رضاعت ، اور ایلاء کو بیان کیا گیا ہے،(ایلاء ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے کہ شوہر نے یہ قسم کھائی کہ عورت سے قربت نہ کریگا یا چار مہینے قربت نہ کریگا)،
قسم کھانے کا شرعی حکم، جادو کا حرام ہونا ، قتل ناحق کی ممانعت ، قاتل پر قصاص کو واجب کرنا ، ناجائز طریقوں سے لوگوں کا مال کھانے کی ممانعت پھر شراب ، جوئے ، اور سود کی حرمت ، ایام حیض میں صحبت کی ممانعت وغیرہ۔
🔺 یہ تھا اجمالی خاکہ اب سورت کے شروع میں دیکھیں تو دوسری آیت میں اللہ پاک نے ایسے کامیاب بندوں کا ذکر فرمایا ہے جن میں پانچ خوبیاں پائی جاتی ہیں۔
🟢 غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔
🔵 نماز قائم کرتے ہیں۔
🟣 اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں۔
🟤 قرآن پاک کے ساتھ دوسری آسمانی کتابوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔
🟠 آخرت کے حساب پر پورا یقین رکھتے ہیں۔
🔘 مکہ کے کفار ومشرکین قرآن کے کلام ال
لہ ہونے کا انکار کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ معاذ اللہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا بنایا ہوا کلام ہے،
📣 چنانچہ سورہ بقرہ کی آیت 22 اور 23 میں ایسے تمام لوگوں کو چیلنج دیا گیا کہ اگر تمہیں قرآن پاک کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے۔
اور تمہیں اپنی فصاحت اور بلاغت پر بڑا ناز ہے تو سب مل کر اس جیسا کلام بنا کر لے آؤ، مگر کس کی مجال تھی کہ کوئی ایک لفظ بھی بنا کر لاتا، پہلے ایک سورت کا کہا گیا، پھر دس آیات کا کہا گیا، پھر ایک آیت کا کہا گیا، مگر وہ ایک آیت کی مثل بھی نہ لا سکے، شروع کی بیس آیتوں میں اللہ پاک نے انسان کی تین قسمیں بیان کی ہیں۔
مومن، کافر اور منافق۔
اہل ایمان کی نمایاں 5 صفات کو بیان کیا ہے،
کافر کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ قرآنی نظام کے مطابق تبدیلی کیلئے بالکل تیار نہیں ہیں۔
اور منافق یہ وہ لوگ ہیں جو دل میں اسلام کی دشمنی رکھتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں،
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اللہ پاک نے اہل ایمان کا تذکرہ چار آیات میں کفار کا دو آیات میں اور منافقوں کا تیرہ آیات میں فرمایا، منافقوں کی بارہ بری عادتوں کو بیان کیا گیا، جھوٹ، دھوکہ، عدم شعور ،قلبی بیماریاں، (حسد،تکبر،حرص وغیرہ)مکر و فریب، جہالت ،احکام الہی کا مذاق اڑانا معاذاللہ، زمین میں فتنہ و فساد پھیلانا ، ایمان میں تذبذب کا شکار ہونا اور اہل ایمان کا مذاق اڑانا۔
ہمیں بھی اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کی جھوٹ، دھوکا، حسد اور تکبر جیسی بیماریاں ہمارے اندر تو نہیں پائی جاتیں؟
🌷 آیات نمبر 21 کے بعد انسانوں سے اولین خطاب کیا گیا اور اس رب کی عبادت کا حکم دیا گیا جس کے سوا کوئی معبود نہیں، توحید باری تعالیٰ پر کائناتی شواہد بیان کیے گئے، ہم زمین و آسمان میں جو چیزیں دیکھتے ہیں ان کو بطور دلیل پیش کیا گیا جس میں انسان کو عدم سے وجود بخشنا اور زندگی کے گزر بسر کے لیے آسمان و زمین کی تخلیق اور بارش اور سبزیوں اور پھلوں کی پیدائش کا تذکرہ فرمایا گیا،
اس کے بعد قرآنی نظام کے منکرین کے لئے جہنم کا بدترین عذاب اور اطاعت کرنے والوں کے لیے جنت کی بہترین نعمتوں اور پھلوں کے انعام کا تذکرہ موجود ہے،
☁️ آیت 30 سے 39 تک یہ ذکر ہے کہ اللہ پاک نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں آدم (علیہ السلام) کو زمین میں اپنا خلیفہ بنا رہا ہوں، فرشتوں نے اپنی فہم و سمجھ کے مطابق اللہ پاک کی بارگاہ میں یہ عرض کیا کہ بنی آدم تو زمین میں فساد اور خون ریزی کریں گے جبکہ ہم تو ہر وقت تیری تسبیح وتقدیس میں مشغول رہتے ہیں، اللہ پاک نے فرمایا *میں جن اسرار اور حکمتوں کو جانتا ہوں تم انہیں نہیں جانتے*، پھر نعمت الہی کے ذریعے آدم علیہ السلام کی فضیلت اور برتری کو فرشتوں پر ثابت کیا اور فرشتوں کو حکم ہوا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں، مگر ابلیس جو جنوں میں سے تھا اس نے سجدہ نہ کیا، اس کے بعد آدم علیہ السلام و حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا کو جنت میں داخل کرنے اور وہاں ان کے لئے اللہ تعالی کی تمام نعمتوں سے فائدہ حاصل کرنے کی اجازت کے ساتھ ساتھ ایک درخت سےدور رہنے کے حکم کا تذکرہ موجود ہے، یہ واقعہ آدم علیہ السلام کی عظمت و شان کو بیان کرتا ہے کہ اللہ پاک نے انہیں زمین کی خلافت عطا فرمائی، ایسے علم سے نوازا جو فرشتوں کے پاس نہیں تھا، آگے چل کر بہت ساری آیات میں بنی اسرائیل پر کیے گئے انعامات کو ذکر کیا گیا اور پہلا پارہ تقریبا پورا ہی انہیں کے ذکر پر مشتمل ہے
🌳 *اسرائیل* یہ یعقوب علیہ السلام کا لقب ہے اور یعقوب علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے ہیں، اسرائیل کے معنی ہیں عبداللہ یعنی اللہ کا بندہ، اور یعقوب علیہ السلام کی اولاد بنی اسرائیل کہلاتی ہیں یعنی اولاد یعقوب، بنی اسرائیل میں ہزاروں انبیاء و مرسلین علیھم السلام تشریف لائے ، مگر بنی اسرائیل کے لیے امتحان یہ تھا کہ آخری نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسماعیل میں سے ہیں اور بنی اسماعیل سے مراد ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد، یہ بات یہودیوں اور عیسائیوں کو بری لگتی تھی کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں وہ بنی اسماعیل سے ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ بنی اسرائیل دنیا کی منتخب قوم تھی انبیاء کی اولاد میں سے تھی اللہ پاک نے انہیں اس دور کی سیاسی اور مذہبی قیادت اور سرداری سے نوازا تھا ، مگر انھوں نے اپنے منصب کے خلاف حرکات کیں جس کی وجہ سے اللہ پاک نے انھیں معزول فرمادیا اور یہ منصب ہمارے حصے میں یوں آیا کہ جو امت محمدیہ ہے وہ اب نیکی کی دعوت اور برائی سے روکنے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے، بنی اسرائیل کو دینی و دنیاوی نعمت عطا فرمائی یعنی کثرت سے انبیاء کرام کی پیدائش، دنیا کی خوشحالی، عقیدہ توحید اور ایمان کی نعمت، فرعون کے مظالم سے نجات، انھیں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب پر ایمان لانے میں سبقت لے ج
📣 چنانچہ سورہ بقرہ کی آیت 22 اور 23 میں ایسے تمام لوگوں کو چیلنج دیا گیا کہ اگر تمہیں قرآن پاک کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے۔
اور تمہیں اپنی فصاحت اور بلاغت پر بڑا ناز ہے تو سب مل کر اس جیسا کلام بنا کر لے آؤ، مگر کس کی مجال تھی کہ کوئی ایک لفظ بھی بنا کر لاتا، پہلے ایک سورت کا کہا گیا، پھر دس آیات کا کہا گیا، پھر ایک آیت کا کہا گیا، مگر وہ ایک آیت کی مثل بھی نہ لا سکے، شروع کی بیس آیتوں میں اللہ پاک نے انسان کی تین قسمیں بیان کی ہیں۔
مومن، کافر اور منافق۔
اہل ایمان کی نمایاں 5 صفات کو بیان کیا ہے،
کافر کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ قرآنی نظام کے مطابق تبدیلی کیلئے بالکل تیار نہیں ہیں۔
اور منافق یہ وہ لوگ ہیں جو دل میں اسلام کی دشمنی رکھتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں،
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اللہ پاک نے اہل ایمان کا تذکرہ چار آیات میں کفار کا دو آیات میں اور منافقوں کا تیرہ آیات میں فرمایا، منافقوں کی بارہ بری عادتوں کو بیان کیا گیا، جھوٹ، دھوکہ، عدم شعور ،قلبی بیماریاں، (حسد،تکبر،حرص وغیرہ)مکر و فریب، جہالت ،احکام الہی کا مذاق اڑانا معاذاللہ، زمین میں فتنہ و فساد پھیلانا ، ایمان میں تذبذب کا شکار ہونا اور اہل ایمان کا مذاق اڑانا۔
ہمیں بھی اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کی جھوٹ، دھوکا، حسد اور تکبر جیسی بیماریاں ہمارے اندر تو نہیں پائی جاتیں؟
🌷 آیات نمبر 21 کے بعد انسانوں سے اولین خطاب کیا گیا اور اس رب کی عبادت کا حکم دیا گیا جس کے سوا کوئی معبود نہیں، توحید باری تعالیٰ پر کائناتی شواہد بیان کیے گئے، ہم زمین و آسمان میں جو چیزیں دیکھتے ہیں ان کو بطور دلیل پیش کیا گیا جس میں انسان کو عدم سے وجود بخشنا اور زندگی کے گزر بسر کے لیے آسمان و زمین کی تخلیق اور بارش اور سبزیوں اور پھلوں کی پیدائش کا تذکرہ فرمایا گیا،
اس کے بعد قرآنی نظام کے منکرین کے لئے جہنم کا بدترین عذاب اور اطاعت کرنے والوں کے لیے جنت کی بہترین نعمتوں اور پھلوں کے انعام کا تذکرہ موجود ہے،
☁️ آیت 30 سے 39 تک یہ ذکر ہے کہ اللہ پاک نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں آدم (علیہ السلام) کو زمین میں اپنا خلیفہ بنا رہا ہوں، فرشتوں نے اپنی فہم و سمجھ کے مطابق اللہ پاک کی بارگاہ میں یہ عرض کیا کہ بنی آدم تو زمین میں فساد اور خون ریزی کریں گے جبکہ ہم تو ہر وقت تیری تسبیح وتقدیس میں مشغول رہتے ہیں، اللہ پاک نے فرمایا *میں جن اسرار اور حکمتوں کو جانتا ہوں تم انہیں نہیں جانتے*، پھر نعمت الہی کے ذریعے آدم علیہ السلام کی فضیلت اور برتری کو فرشتوں پر ثابت کیا اور فرشتوں کو حکم ہوا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں، مگر ابلیس جو جنوں میں سے تھا اس نے سجدہ نہ کیا، اس کے بعد آدم علیہ السلام و حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا کو جنت میں داخل کرنے اور وہاں ان کے لئے اللہ تعالی کی تمام نعمتوں سے فائدہ حاصل کرنے کی اجازت کے ساتھ ساتھ ایک درخت سےدور رہنے کے حکم کا تذکرہ موجود ہے، یہ واقعہ آدم علیہ السلام کی عظمت و شان کو بیان کرتا ہے کہ اللہ پاک نے انہیں زمین کی خلافت عطا فرمائی، ایسے علم سے نوازا جو فرشتوں کے پاس نہیں تھا، آگے چل کر بہت ساری آیات میں بنی اسرائیل پر کیے گئے انعامات کو ذکر کیا گیا اور پہلا پارہ تقریبا پورا ہی انہیں کے ذکر پر مشتمل ہے
🌳 *اسرائیل* یہ یعقوب علیہ السلام کا لقب ہے اور یعقوب علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے ہیں، اسرائیل کے معنی ہیں عبداللہ یعنی اللہ کا بندہ، اور یعقوب علیہ السلام کی اولاد بنی اسرائیل کہلاتی ہیں یعنی اولاد یعقوب، بنی اسرائیل میں ہزاروں انبیاء و مرسلین علیھم السلام تشریف لائے ، مگر بنی اسرائیل کے لیے امتحان یہ تھا کہ آخری نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسماعیل میں سے ہیں اور بنی اسماعیل سے مراد ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد، یہ بات یہودیوں اور عیسائیوں کو بری لگتی تھی کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں وہ بنی اسماعیل سے ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ بنی اسرائیل دنیا کی منتخب قوم تھی انبیاء کی اولاد میں سے تھی اللہ پاک نے انہیں اس دور کی سیاسی اور مذہبی قیادت اور سرداری سے نوازا تھا ، مگر انھوں نے اپنے منصب کے خلاف حرکات کیں جس کی وجہ سے اللہ پاک نے انھیں معزول فرمادیا اور یہ منصب ہمارے حصے میں یوں آیا کہ جو امت محمدیہ ہے وہ اب نیکی کی دعوت اور برائی سے روکنے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے، بنی اسرائیل کو دینی و دنیاوی نعمت عطا فرمائی یعنی کثرت سے انبیاء کرام کی پیدائش، دنیا کی خوشحالی، عقیدہ توحید اور ایمان کی نعمت، فرعون کے مظالم سے نجات، انھیں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب پر ایمان لانے میں سبقت لے ج
انے کی دعوت دی گئی مگر بنی اسرائیل ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے قاصر رہے اور زمین میں فساد پھیلانے سے باز نہ آئے اور اللہ کی عظیم الشان نعمتوں کے مقابلے میں لہسن پیاز اور دالوں کا مطالبہ کرکے اپنی ذہنی پستی کا مظاہرہ کیا اور اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا، بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو من و سلویٰ (کھانے) عطا فرمائے اس کی انہوں نے قدر نہ کی بلکہ اس کی ناشکری کی،
⚖️ اسی طرح آگے چل کر ایک واقعے کو بیان کیا گیا کہ بنی اسرائیل کے ایک مالدار شخص کو اس کے بھتیجے نے مال وراثت کے لئے قتل کر دیا اور رات کی تاریکی میں اس کی لاش دروازے پر ڈال دی، پھر اس کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا جب موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں یہ معاملہ پہنچا تو وحی کے ذریعے موسی علیہ الصلاۃ والسلام نے ان کو بتایا کہ گائے ذبح کریں اور اس کےگوشت کا کچھ حصہ اس مقتول کے جسم پر لگائیں گے، تو وہ خود اپنے قاتل کا نام بیان کر دے گا، مگر بنی اسرائیل نے اس گائے کے بارے میں سوالات کرنا شروع کردیے اور اپنے لئے راستہ تنگ کرتے چلے گئے کہ ہم کونسی گائے لائیں؟ کس رنگ کی ہو؟ کیا کرتی ہو؟ جس کی وجہ سے ان کے معاملات مشکل ہوتے چلے گئے اور یہ وہی مقام ہے جس کی وجہ سے اس سورت کا نام "بقرہ" رکھا گیا ہے۔
💡اگلی آیت میں اللہ پاک نے بنی اسرائیل کو اپنے قرب اور رضا کا ایک معیار بیان فرمایا،وہ کہا کرتے تھے ہم کو عذاب دیا بھی گیا تو فقط چالیس دن،ورنہ ہم تو اللہ کے محبوب ہیں، تو فرمایا گیا کہ اگر تم واقعی اللہ کے محبوب ہو اور آخرت میں تمہیں اعزاز و اکرام سے نوازا جائیگا تو موت کی تمنا کرو کہ جلد اپنے محبوب یعنی خالق حقیقی سے جا ملو، لیکن ظاہر ہے وہ تو ڈرتے تھے۔
⛏️ یہودیوں کی بری عادات میں سے جادوگروں کی اطاعت بھی تھی،تو اس کی مذمت بیان کی گئی، اسی طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں یہودیوں کا جو غلط رویہ رہتا تھا، آیت نمبر 104 میں واضح طور پر ارشاد ہوا کہ اے اہل ایمان جب تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات سمجھ نہ سکو تو "راعنا"(ہماری رعایت کیجئے) نہ کہو بلکہ *انظرنا* (ہم پر نظر رحمت فرمائیے) کہا کرو، کہ اگرچہ لفظ راعنا میں ویسے کوئی قباحت نہیں مگر یہودی اپنی بدباطنی کی وجہ سے اس کو بگاڑ کر کہتے ہیں تو معنی کچھ اور بن جاتا ہے، اس لئے ایسا لفظ ہی استعمال نہ کرو جو دوسروں کی خبث باطنی میں مددگار ثابت ہو۔ اللہ پاک نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ کے آداب سکھاتے ہوئے صحابہ کرام کو یہ حکم ارشاد فرمایا اور قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو یہ سبق عطا فرمایا کہ نبی کی بارگاہ میں بات کرنے کے آداب کیا ہیں۔
🕌 آگے چل کر فرمایا مسجدیں اللہ کا گھر ہیں ان میں اللہ کی بات کرنے سے روکنا بدترین ظلم ہے، اور پھر آیت 122 پر پہنچ کر بنی اسرائیل سے کلام کا اختتام ہو رہا ہے، ان آیات میں ایک بار پھر اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کی یاد دہانی کرائی جارہی ہے، اس کے بعد ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی امتحان کی داستان بیان کی گئی،انھیں جو منصب امامت ملا اس کا تذکرہ ہے، اور ان کو آزمائش میں مبتلا کرنے اور امتحان میں ان کی کامیابی کو بیان فرمایا۔
پھر ابراہیم علیہ السلام کے بیت اللہ کو تعمیر کرنے کا ذکر ہے، اور اس بات کا بیان ہے کہ انھوں نے تعمیر بیت اللہ کے بعد اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا کی کہ " اے ہمارے رب ان اہل مکہ میں ان میں سے عظمت والے رسول کو مبعوث فرما جو ان لوگوں پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کی جانوں کا تزکیہ کرے"۔
پھر بتایا گیا کہ اہل ایمان سب انبیاء علیھم السلام پر ایمان لاتے ییں، ایمان لانے میں کوئی فرق نہیں کرتے، اور پھر انبیاء علیہ السلام کے نام بھی ذکر کیے گئے ہیں اسی پر پارے کا اختتام ہوتا ہے۔
📲 *+92-321-2094919*
⚖️ اسی طرح آگے چل کر ایک واقعے کو بیان کیا گیا کہ بنی اسرائیل کے ایک مالدار شخص کو اس کے بھتیجے نے مال وراثت کے لئے قتل کر دیا اور رات کی تاریکی میں اس کی لاش دروازے پر ڈال دی، پھر اس کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا جب موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں یہ معاملہ پہنچا تو وحی کے ذریعے موسی علیہ الصلاۃ والسلام نے ان کو بتایا کہ گائے ذبح کریں اور اس کےگوشت کا کچھ حصہ اس مقتول کے جسم پر لگائیں گے، تو وہ خود اپنے قاتل کا نام بیان کر دے گا، مگر بنی اسرائیل نے اس گائے کے بارے میں سوالات کرنا شروع کردیے اور اپنے لئے راستہ تنگ کرتے چلے گئے کہ ہم کونسی گائے لائیں؟ کس رنگ کی ہو؟ کیا کرتی ہو؟ جس کی وجہ سے ان کے معاملات مشکل ہوتے چلے گئے اور یہ وہی مقام ہے جس کی وجہ سے اس سورت کا نام "بقرہ" رکھا گیا ہے۔
💡اگلی آیت میں اللہ پاک نے بنی اسرائیل کو اپنے قرب اور رضا کا ایک معیار بیان فرمایا،وہ کہا کرتے تھے ہم کو عذاب دیا بھی گیا تو فقط چالیس دن،ورنہ ہم تو اللہ کے محبوب ہیں، تو فرمایا گیا کہ اگر تم واقعی اللہ کے محبوب ہو اور آخرت میں تمہیں اعزاز و اکرام سے نوازا جائیگا تو موت کی تمنا کرو کہ جلد اپنے محبوب یعنی خالق حقیقی سے جا ملو، لیکن ظاہر ہے وہ تو ڈرتے تھے۔
⛏️ یہودیوں کی بری عادات میں سے جادوگروں کی اطاعت بھی تھی،تو اس کی مذمت بیان کی گئی، اسی طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں یہودیوں کا جو غلط رویہ رہتا تھا، آیت نمبر 104 میں واضح طور پر ارشاد ہوا کہ اے اہل ایمان جب تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات سمجھ نہ سکو تو "راعنا"(ہماری رعایت کیجئے) نہ کہو بلکہ *انظرنا* (ہم پر نظر رحمت فرمائیے) کہا کرو، کہ اگرچہ لفظ راعنا میں ویسے کوئی قباحت نہیں مگر یہودی اپنی بدباطنی کی وجہ سے اس کو بگاڑ کر کہتے ہیں تو معنی کچھ اور بن جاتا ہے، اس لئے ایسا لفظ ہی استعمال نہ کرو جو دوسروں کی خبث باطنی میں مددگار ثابت ہو۔ اللہ پاک نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ کے آداب سکھاتے ہوئے صحابہ کرام کو یہ حکم ارشاد فرمایا اور قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو یہ سبق عطا فرمایا کہ نبی کی بارگاہ میں بات کرنے کے آداب کیا ہیں۔
🕌 آگے چل کر فرمایا مسجدیں اللہ کا گھر ہیں ان میں اللہ کی بات کرنے سے روکنا بدترین ظلم ہے، اور پھر آیت 122 پر پہنچ کر بنی اسرائیل سے کلام کا اختتام ہو رہا ہے، ان آیات میں ایک بار پھر اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کی یاد دہانی کرائی جارہی ہے، اس کے بعد ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی امتحان کی داستان بیان کی گئی،انھیں جو منصب امامت ملا اس کا تذکرہ ہے، اور ان کو آزمائش میں مبتلا کرنے اور امتحان میں ان کی کامیابی کو بیان فرمایا۔
پھر ابراہیم علیہ السلام کے بیت اللہ کو تعمیر کرنے کا ذکر ہے، اور اس بات کا بیان ہے کہ انھوں نے تعمیر بیت اللہ کے بعد اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا کی کہ " اے ہمارے رب ان اہل مکہ میں ان میں سے عظمت والے رسول کو مبعوث فرما جو ان لوگوں پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کی جانوں کا تزکیہ کرے"۔
پھر بتایا گیا کہ اہل ایمان سب انبیاء علیھم السلام پر ایمان لاتے ییں، ایمان لانے میں کوئی فرق نہیں کرتے، اور پھر انبیاء علیہ السلام کے نام بھی ذکر کیے گئے ہیں اسی پر پارے کا اختتام ہوتا ہے۔
📲 *+92-321-2094919*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📙 *فیضان خلاصہ تراویح* 📙
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
📢 *دوسرا پارہ، سیقول*
🕋 دوسرا پارہ تحویل قبلہ ( یعنی قبلے کو بیت المقدس سے بیت اللہ کی طرف پھیرنے) کے ذکر سے شروع ہوتا ہے۔
مسجد الحرام شریف میں خانہ کعبہ ہے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کعبۃ اللہ سے محبت فرماتے تھے، اور جو صحابہ کرام شروع سے مکے شریف میں تھے ان کی عقیدت بھی خانہ کعبہ سے کچھ الگ انداز کی تھی، چونکہ ایک وقت تک بیت المقدس کو قبلہ قرار دیا گیا تھا اور یہودیوں کا قبلہ بھی بیت المقدس تھا تو جب مدینے شریف کو ہجرت ہوئی اور صحابہ کرام بظاہر خانہ کعبہ سے دور ہوگئے اور قبلہ بھی بیت المقدس کو بنا دیا گیا تھا تو ان کے لئے امتحان کا وقت تھا مگر چونکہ وہ اللہ پاک و رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اطاعت گزار اور ان کے احکامات کی پیروی کرنے والے تھے لہذا وہ اس امتحان میں کامیاب رہے، لیکن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی خواہش بھی یہ تھی کہ خانہ کعبہ ہی کو قبلہ مقرر کردیا جائے لہذا آپ اس کے لئے دعا فرماتے اور آسمان کی طرف نظر فرماتے تھے کہ قبلے کی تبدیلی کا حکم آجائے۔
اللہ پاک اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کو کس طرح پورا فرماتا ہے اس کا مشاہدہ دوسرے پارے کی تیسری اور سورہ بقرہ کی آیت 144 میں کیا جا سکتا ہے۔
اللہ پاک نے فرمایا:
قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِۚ-فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰهَا۪-فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ
ترجمہ: ہم تمہارے چہرے کا آسمان کی طرف باربار اٹھنا دیکھ رہے ہیں تو ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس میں تمہاری خوشی ہے تو ابھی اپناچہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر دو
🗂️ تحویل قبلہ کا معنی ہے قبلے سے پھیر دینا یعنی جس قبلے پر پہلے تھے اس سے پھیر دینا۔
تحویل قبلہ کے بعد یہودی مسلمانوں پر طعنہ کیا کرتے تھے، جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ تحویل قبلہ کے حکم خداوندی پر ناسمجھ اور بیوقوف لوگ ہی اعتراض کریں گے۔ اور ان کے دوسرے سوال کہ مسلمان بیت المقدس کو چھوڑ کر بیت اللہ کا رخ کیوں کرنے لگے؟ تو اس کا جواب دیا گیا کہ تمام جہان مشرق اور مغرب اللہ ہی کے ہیں وہ جس طرف چاہے رخ کرکے نماز پڑھنے کا حکم ارشاد فرمادے،بندے کو تو اعتراض کا حق ہی نہیں ہے۔اہمیت کسی سمت کی نہیں اللہ کے حکم کی ہے
اللہ تعالی نے فرمانبردار اور نا فرمان میں فرق کو ظاہر کرنے کے لئے تحویل قبلہ کا حکم دیا کہ کون اللہ تبارک وتعالی کے اس حکم کی فرمانبرداری کرکے فوراً حکم کو مان لیتا ہے اور کون نافرمان بن کر اعتراض شروع کردیتا ہے۔ تو جو مخلص مسلمان تھے وہ کامیاب ہوگئے اور کافر و منافق کھل کر سامنے آگئے۔
📝 آیت نمبر 151 میں حضرت ابرہیم اور حضرت اسماعیل علیھما السلام کی دعا کی قبولیت کا بیان ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے مبعوث فرمایا۔ ارشاد فرمایا کہ ان کا منصب یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ پاک کی آیتیں سنا سنا کر متوجہ کرتے ہیں پھر جو متوجہ ہوں انکا تزکیہ کرتے ہیں پھر انکی اصلاح کرتے ہیں اور انکے نفوس کو صاف کرتے ہیں۔
🌴 پچھلی امتوں کو اللہ پاک نے اپنی نعمتوں کو یاد کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر تم میری نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہو گے تو میں اور عطا فرماؤں گا، مگر آیت 152 میں اس امت محمدیہ پر اللہ پاک کے ایک ایسے کرم کا ذکر ہے جو اس امت ہی کا خاصہ ہے،
اللہ پاک فرماتا ہے:
*فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ*
ترجمہ کنز العرفان:تو تم مجھے یاد کرو ،میں تمہیں یاد کروں گا
گویا ذکر الہٰی مومن کی زندگی کا سب سے بڑا وظیفہ ہے ،احادیث مبارکہ میں اس کی تفسیر یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالی فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر فرماتا ہے
⚔️ پھر آیت نمبر 153 اور 154 میں اہل ایمان سے خطاب کی ابتدا ہوتی ہے اور انہیں بتایا جارہا ہے کہ ہجرت مدینہ کے بعد اب امتحان اور آزمائش کی نئی صورتیں سامنے آئیں گی،اب تم پر جنگی فرائض لازم کئے جائیں گے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہونگے وہ مردہ نہیں بلکہ ایسی شاندار زندگی پالیتے ہیں کہ جس کا تصور اس دنیا میں ممکن نہیں ہے۔
اللہ پاک نے فرمایا
*وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌؕ-بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ*
اور جواللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ۔
✈️ پھر اس کے بعد یہ بتایا گیا کہ حج و عمرہ کے موقع پر کئے جانے والے اعمال خصوصاً صفا و مروہ کی سعی،یہ شعائر اسلام میں سے ہے۔
🕌 اس کے بعد فرمایا گیا معبود حقیقی ایک ہی ہے، اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، اسکی رحمت تمام مخلوقات کے لئے عام ہے ،اور اہل ایمان کے لئے اسکی نعمت مکمل ہے۔
🌍 آسمان اور زمین کی تخلیق ، دن رات کی ترتیب، اور انسانی نفع کےلئے پانی میں چلنے والی کشتیاں ، بادل ، بارش ، ز
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
📢 *دوسرا پارہ، سیقول*
🕋 دوسرا پارہ تحویل قبلہ ( یعنی قبلے کو بیت المقدس سے بیت اللہ کی طرف پھیرنے) کے ذکر سے شروع ہوتا ہے۔
مسجد الحرام شریف میں خانہ کعبہ ہے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کعبۃ اللہ سے محبت فرماتے تھے، اور جو صحابہ کرام شروع سے مکے شریف میں تھے ان کی عقیدت بھی خانہ کعبہ سے کچھ الگ انداز کی تھی، چونکہ ایک وقت تک بیت المقدس کو قبلہ قرار دیا گیا تھا اور یہودیوں کا قبلہ بھی بیت المقدس تھا تو جب مدینے شریف کو ہجرت ہوئی اور صحابہ کرام بظاہر خانہ کعبہ سے دور ہوگئے اور قبلہ بھی بیت المقدس کو بنا دیا گیا تھا تو ان کے لئے امتحان کا وقت تھا مگر چونکہ وہ اللہ پاک و رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اطاعت گزار اور ان کے احکامات کی پیروی کرنے والے تھے لہذا وہ اس امتحان میں کامیاب رہے، لیکن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی خواہش بھی یہ تھی کہ خانہ کعبہ ہی کو قبلہ مقرر کردیا جائے لہذا آپ اس کے لئے دعا فرماتے اور آسمان کی طرف نظر فرماتے تھے کہ قبلے کی تبدیلی کا حکم آجائے۔
اللہ پاک اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کو کس طرح پورا فرماتا ہے اس کا مشاہدہ دوسرے پارے کی تیسری اور سورہ بقرہ کی آیت 144 میں کیا جا سکتا ہے۔
اللہ پاک نے فرمایا:
قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِۚ-فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰهَا۪-فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ
ترجمہ: ہم تمہارے چہرے کا آسمان کی طرف باربار اٹھنا دیکھ رہے ہیں تو ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس میں تمہاری خوشی ہے تو ابھی اپناچہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر دو
🗂️ تحویل قبلہ کا معنی ہے قبلے سے پھیر دینا یعنی جس قبلے پر پہلے تھے اس سے پھیر دینا۔
تحویل قبلہ کے بعد یہودی مسلمانوں پر طعنہ کیا کرتے تھے، جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ تحویل قبلہ کے حکم خداوندی پر ناسمجھ اور بیوقوف لوگ ہی اعتراض کریں گے۔ اور ان کے دوسرے سوال کہ مسلمان بیت المقدس کو چھوڑ کر بیت اللہ کا رخ کیوں کرنے لگے؟ تو اس کا جواب دیا گیا کہ تمام جہان مشرق اور مغرب اللہ ہی کے ہیں وہ جس طرف چاہے رخ کرکے نماز پڑھنے کا حکم ارشاد فرمادے،بندے کو تو اعتراض کا حق ہی نہیں ہے۔اہمیت کسی سمت کی نہیں اللہ کے حکم کی ہے
اللہ تعالی نے فرمانبردار اور نا فرمان میں فرق کو ظاہر کرنے کے لئے تحویل قبلہ کا حکم دیا کہ کون اللہ تبارک وتعالی کے اس حکم کی فرمانبرداری کرکے فوراً حکم کو مان لیتا ہے اور کون نافرمان بن کر اعتراض شروع کردیتا ہے۔ تو جو مخلص مسلمان تھے وہ کامیاب ہوگئے اور کافر و منافق کھل کر سامنے آگئے۔
📝 آیت نمبر 151 میں حضرت ابرہیم اور حضرت اسماعیل علیھما السلام کی دعا کی قبولیت کا بیان ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے مبعوث فرمایا۔ ارشاد فرمایا کہ ان کا منصب یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ پاک کی آیتیں سنا سنا کر متوجہ کرتے ہیں پھر جو متوجہ ہوں انکا تزکیہ کرتے ہیں پھر انکی اصلاح کرتے ہیں اور انکے نفوس کو صاف کرتے ہیں۔
🌴 پچھلی امتوں کو اللہ پاک نے اپنی نعمتوں کو یاد کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر تم میری نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہو گے تو میں اور عطا فرماؤں گا، مگر آیت 152 میں اس امت محمدیہ پر اللہ پاک کے ایک ایسے کرم کا ذکر ہے جو اس امت ہی کا خاصہ ہے،
اللہ پاک فرماتا ہے:
*فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ*
ترجمہ کنز العرفان:تو تم مجھے یاد کرو ،میں تمہیں یاد کروں گا
گویا ذکر الہٰی مومن کی زندگی کا سب سے بڑا وظیفہ ہے ،احادیث مبارکہ میں اس کی تفسیر یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالی فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر فرماتا ہے
⚔️ پھر آیت نمبر 153 اور 154 میں اہل ایمان سے خطاب کی ابتدا ہوتی ہے اور انہیں بتایا جارہا ہے کہ ہجرت مدینہ کے بعد اب امتحان اور آزمائش کی نئی صورتیں سامنے آئیں گی،اب تم پر جنگی فرائض لازم کئے جائیں گے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہونگے وہ مردہ نہیں بلکہ ایسی شاندار زندگی پالیتے ہیں کہ جس کا تصور اس دنیا میں ممکن نہیں ہے۔
اللہ پاک نے فرمایا
*وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌؕ-بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ*
اور جواللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ۔
✈️ پھر اس کے بعد یہ بتایا گیا کہ حج و عمرہ کے موقع پر کئے جانے والے اعمال خصوصاً صفا و مروہ کی سعی،یہ شعائر اسلام میں سے ہے۔
🕌 اس کے بعد فرمایا گیا معبود حقیقی ایک ہی ہے، اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، اسکی رحمت تمام مخلوقات کے لئے عام ہے ،اور اہل ایمان کے لئے اسکی نعمت مکمل ہے۔
🌍 آسمان اور زمین کی تخلیق ، دن رات کی ترتیب، اور انسانی نفع کےلئے پانی میں چلنے والی کشتیاں ، بادل ، بارش ، ز
مین سے نکلنے والے پھل اور سبزیاں اللہ تعالی کی وحدانیت کی دلیلیں ہیں جو اللہ پاک نے عقل والوں کے لئے بیان فرمائی ہیں۔ اور قرآن پاک میں مختلف مقامات پر ان باتوں پر غور کرنے اور اللہ پاک کی قدرت کی نشانیوں کا مشاہدہ کرنے کی ترغیب دلائی گئی۔
🍇🍎 آیت نمبر 172 اور 173 میں حکم ہوا کہ اللہ تعالی کی عطا کردہ پاک نعمتوں کو کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔
🚫 پھر چار ایسی چیزوں کو بیان فرمایا جو قطعی طور پر حرام ہیں
( ۱ ) مردار، ( ۲ ) خون، ( ۳ ) خنزیر کا گوشت، ( ۴ ) غیرُاللہ کے نام پر ذبح کیا جانے والا جانور۔ ان کی تفصیل یہ ہے :
❌ مردار : جو حلال جانور بغیر ذبح کئے مرجائے یا اس کو شرعی طریقے کے خلاف مارا گیا ہو مثلاً مسلمان اور کتابی کے علاوہ کسی نے ذبح کیا ہو یا جان بوجھ کر تکبیر پڑھے بغیر ذبح کیا گیا ہو یا گلا گھونٹ کر یا لاٹھی پتھر، ڈھیلے، غلیل کی گولی سے مار کر ہلاک کیا گیا ہو یاوہ بلندی سے گر کر مر گیا ہو یا کسی جانور نے اسے سینگ مارکر مار دیا ہو یا کسی درندے نے ہلاک کیا ہو اسے مردار کہتے ہیں اور اس کا کھانا حرام ہے البتہ مردار کا دباغت کیا ہوا چمڑا کام میں لانا اور اس کے بال سینگ ہڈی ، پٹھے سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ زندہ جانور کا وہ عضو جو کاٹ لیا گیا ہو وہ بھی مردار ہی ہے۔
❌ خون : خون ہر جانور کا حرام ہے جبکہ بہنے والا خون ہو ۔ ذبح کے بعد جو خون گوشت اور رگوں میں باقی رہ جاتا ہے وہ ناپاک نہیں۔
❌ خنزیر :(یعنی سور) نَجس العین ہے اس کا گوشت پوست بال ناخن وغیرہ تمام اجزاء نجس و حرام ہیں ، کسی کو کام میں لانا جائز نہیں چونکہ آیت میں اُوپر سے کھانے کا بیان ہورہا ہے اس لیے یہاں صرف گوشت کا ذکر ہوا۔
❌ غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ: اس کا معنی یہ ہے کہ جانور ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کا نام لیا جائے اور جس جانور کو غیراللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے وہ حرام و مردار ہے البتہ اگر ذبح فقط اللہ تعالیٰ کے نام پر کیا اور اس سے پہلے یا بعد میں غیر کا نام لیا مثلاً یہ کہا کہ عقیقہ کا بکرا، ولیمہ کا دنبہ یا جس کی طرف سے وہ ذبیحہ ہے اسی کا نام لیا مثلاً یہ کہا کہ اپنے ماں باپ کی طرف سے ذبح کررہا ہوں یا جن اولیاء کے لیے ایصال ثواب مقصود ہے ان کا نام لیا تو یہ جائز ہے، اس میں کچھ حرج نہیں اور ا س فعل کو حرام کہنا اور ایسے جانور کو مردار کہنا سراسر جہالت ہے۔
🔥 اگلی آیت میں ان علماء پر اللہ تعالی کے ناراضی کا بیان ہے جو اللہ تعالی کی کتاب کی تعلیمات کو چھپاتے ہیں اور تھوڑی سی قیمت کے عوض لوگوں کی خواہشات کے مطابق فتوے دے دیتے ہیں،یہ کام اس وقت کے یہودی کیا کرتے تھے۔اور یہ وہ بد نصیب ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے اور بخشش کے بدلے عذاب کو پسند کیا۔
🌸 اس کے بعد نیکی اور اسکی مختلف اقسام کو اللہ تعالی نے بیان کیا ہے۔
نیکی دراصل ایمان کی بنیاد پر سر انجام پانے والے اعمال ہیں،وہ عزیز و اقارب ، یتیم مساکین کے ساتھ مالی تعاون کرنا ، پھر نماز ، روزہ ، زکوٰۃ کا اہتمام کرنا ، وعدے کو پورا کرنا ، مشکلات میں حق پر صبر کرنا اور ثابت قدمی اختیار کرنا، ان نیکیوں کو کرنے والے لوگوں کو قرآن نے سچے اور متقی ہونے کا لقب عطا فرمایا ہے۔
⚒️ اس کے بعد قصاص و دیت کے قانون کو بیان کر کے بلا امتیاز اس پر عمل درآمد کی تلقین فرمائی ہے، قصاص حیات انسانی کے تحفظ کا ضامن ہے۔
وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(۱۷۹)
اوراے عقل مندو! خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے تاکہ تم بچو۔
جب قصاص لیا جائے گا تو لوگ قتل وغارت گری سے بچیں گے فتنے و فساد کرنے سے بچیں گے انکو معلوم ہے کہ اگر ہم نے کسی کو قتل کردیا تو بدلے میں ہمیں بھی قتل ہونا پڑے گا، یہ اگرچہ بظاہر سزا ہے لیکن اس میں انسانی نسل اور معاشرے کا تحفظ ہے۔
📝 پھر وصیت کی تلقین کرتے ہوئے کسی پر ظلم و ناانصافی نہ کرنے کی ہدایت کی گئی، لیکن سورہ نساء میں اس کے مزید احکام آئیں گے۔
🕖 پھر عاقل بالغ مسلمان پر روزے فرض ہیں اسکا بیان ہے،روزے اگر واقعی تمام آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے رکھے جائیں تو انسان میں تقوی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی احساسات کو بھی بہتر کرتے ہیں، روزے کا اصل مقصد تقوی ہے اس کو بیان کیا گیا۔ پھر فرمایا کہ جس مہینے میں روزے فرض ہیں اسے یہ خصوصیت اور فضیلت بھی حاصل ہے کہ اس میں قرآن عظیم نازل کیا گیا، اس کے بعد روزے کے مسائل پر روشنی ڈالی گئی کہ بیماری یا سفر کی حالت میں عارضی طور پر روزے کو چھوڑنے کی رخصت ہے جن کی بعد میں قضاء کی جائے گی ایسا نہیں کہ سرے سے روزہ رکھنے ہی نہیں ہیں یا فدیہ دینا ہے بلکہ مسافر اور جو سخت بیمار ہیں ان کے احکامات پھر فقہ کی کتابوں میں موجود ہیں،پھر اس بات کا بھی بیان ہے کہ ایسا بڑی عمر والا شخص جو روزہ رکھنے کی قدرت نہیں رکھتا نہ بعد میں کوئی قدرت آنے کی امید ہے تو اب وہ ایک مسکین کھانا فد
🍇🍎 آیت نمبر 172 اور 173 میں حکم ہوا کہ اللہ تعالی کی عطا کردہ پاک نعمتوں کو کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔
🚫 پھر چار ایسی چیزوں کو بیان فرمایا جو قطعی طور پر حرام ہیں
( ۱ ) مردار، ( ۲ ) خون، ( ۳ ) خنزیر کا گوشت، ( ۴ ) غیرُاللہ کے نام پر ذبح کیا جانے والا جانور۔ ان کی تفصیل یہ ہے :
❌ مردار : جو حلال جانور بغیر ذبح کئے مرجائے یا اس کو شرعی طریقے کے خلاف مارا گیا ہو مثلاً مسلمان اور کتابی کے علاوہ کسی نے ذبح کیا ہو یا جان بوجھ کر تکبیر پڑھے بغیر ذبح کیا گیا ہو یا گلا گھونٹ کر یا لاٹھی پتھر، ڈھیلے، غلیل کی گولی سے مار کر ہلاک کیا گیا ہو یاوہ بلندی سے گر کر مر گیا ہو یا کسی جانور نے اسے سینگ مارکر مار دیا ہو یا کسی درندے نے ہلاک کیا ہو اسے مردار کہتے ہیں اور اس کا کھانا حرام ہے البتہ مردار کا دباغت کیا ہوا چمڑا کام میں لانا اور اس کے بال سینگ ہڈی ، پٹھے سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ زندہ جانور کا وہ عضو جو کاٹ لیا گیا ہو وہ بھی مردار ہی ہے۔
❌ خون : خون ہر جانور کا حرام ہے جبکہ بہنے والا خون ہو ۔ ذبح کے بعد جو خون گوشت اور رگوں میں باقی رہ جاتا ہے وہ ناپاک نہیں۔
❌ خنزیر :(یعنی سور) نَجس العین ہے اس کا گوشت پوست بال ناخن وغیرہ تمام اجزاء نجس و حرام ہیں ، کسی کو کام میں لانا جائز نہیں چونکہ آیت میں اُوپر سے کھانے کا بیان ہورہا ہے اس لیے یہاں صرف گوشت کا ذکر ہوا۔
❌ غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ: اس کا معنی یہ ہے کہ جانور ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کا نام لیا جائے اور جس جانور کو غیراللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے وہ حرام و مردار ہے البتہ اگر ذبح فقط اللہ تعالیٰ کے نام پر کیا اور اس سے پہلے یا بعد میں غیر کا نام لیا مثلاً یہ کہا کہ عقیقہ کا بکرا، ولیمہ کا دنبہ یا جس کی طرف سے وہ ذبیحہ ہے اسی کا نام لیا مثلاً یہ کہا کہ اپنے ماں باپ کی طرف سے ذبح کررہا ہوں یا جن اولیاء کے لیے ایصال ثواب مقصود ہے ان کا نام لیا تو یہ جائز ہے، اس میں کچھ حرج نہیں اور ا س فعل کو حرام کہنا اور ایسے جانور کو مردار کہنا سراسر جہالت ہے۔
🔥 اگلی آیت میں ان علماء پر اللہ تعالی کے ناراضی کا بیان ہے جو اللہ تعالی کی کتاب کی تعلیمات کو چھپاتے ہیں اور تھوڑی سی قیمت کے عوض لوگوں کی خواہشات کے مطابق فتوے دے دیتے ہیں،یہ کام اس وقت کے یہودی کیا کرتے تھے۔اور یہ وہ بد نصیب ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے اور بخشش کے بدلے عذاب کو پسند کیا۔
🌸 اس کے بعد نیکی اور اسکی مختلف اقسام کو اللہ تعالی نے بیان کیا ہے۔
نیکی دراصل ایمان کی بنیاد پر سر انجام پانے والے اعمال ہیں،وہ عزیز و اقارب ، یتیم مساکین کے ساتھ مالی تعاون کرنا ، پھر نماز ، روزہ ، زکوٰۃ کا اہتمام کرنا ، وعدے کو پورا کرنا ، مشکلات میں حق پر صبر کرنا اور ثابت قدمی اختیار کرنا، ان نیکیوں کو کرنے والے لوگوں کو قرآن نے سچے اور متقی ہونے کا لقب عطا فرمایا ہے۔
⚒️ اس کے بعد قصاص و دیت کے قانون کو بیان کر کے بلا امتیاز اس پر عمل درآمد کی تلقین فرمائی ہے، قصاص حیات انسانی کے تحفظ کا ضامن ہے۔
وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(۱۷۹)
اوراے عقل مندو! خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے تاکہ تم بچو۔
جب قصاص لیا جائے گا تو لوگ قتل وغارت گری سے بچیں گے فتنے و فساد کرنے سے بچیں گے انکو معلوم ہے کہ اگر ہم نے کسی کو قتل کردیا تو بدلے میں ہمیں بھی قتل ہونا پڑے گا، یہ اگرچہ بظاہر سزا ہے لیکن اس میں انسانی نسل اور معاشرے کا تحفظ ہے۔
📝 پھر وصیت کی تلقین کرتے ہوئے کسی پر ظلم و ناانصافی نہ کرنے کی ہدایت کی گئی، لیکن سورہ نساء میں اس کے مزید احکام آئیں گے۔
🕖 پھر عاقل بالغ مسلمان پر روزے فرض ہیں اسکا بیان ہے،روزے اگر واقعی تمام آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے رکھے جائیں تو انسان میں تقوی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی احساسات کو بھی بہتر کرتے ہیں، روزے کا اصل مقصد تقوی ہے اس کو بیان کیا گیا۔ پھر فرمایا کہ جس مہینے میں روزے فرض ہیں اسے یہ خصوصیت اور فضیلت بھی حاصل ہے کہ اس میں قرآن عظیم نازل کیا گیا، اس کے بعد روزے کے مسائل پر روشنی ڈالی گئی کہ بیماری یا سفر کی حالت میں عارضی طور پر روزے کو چھوڑنے کی رخصت ہے جن کی بعد میں قضاء کی جائے گی ایسا نہیں کہ سرے سے روزہ رکھنے ہی نہیں ہیں یا فدیہ دینا ہے بلکہ مسافر اور جو سخت بیمار ہیں ان کے احکامات پھر فقہ کی کتابوں میں موجود ہیں،پھر اس بات کا بھی بیان ہے کہ ایسا بڑی عمر والا شخص جو روزہ رکھنے کی قدرت نہیں رکھتا نہ بعد میں کوئی قدرت آنے کی امید ہے تو اب وہ ایک مسکین کھانا فد
یہ دیگا۔ (اس کی تفصیل فیضان رمضان میں پڑھی جا سکتی ہے) ،پھر رمضان کی راتوں میں کھانے پینے اور بیویوں سے ملنے کی اجازت عطا فرمائی گئی، نیز اعتکاف کا بھی تذکرہ ہے، روزے کے ابتدائی اور انتہائی وقت کا بیان ہے، رکوع کے آخر میں دوسروں کا مال ناجائز طور پر کھانے اور لوگوں کو ناجائز مقدمات میں الجھانے سے باز رکھنے کی تلقین کی گئی۔
🌙 اس کے بعد قمری مہینوں میں چاند کے چھوٹا اور بڑا ہونے کی حکمت بیان کی گئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چاند کے چھوٹا بڑا ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ارشاد ہوا کہ
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرما دیجئے کہ یہ لوگوں کے لیے اوقات کار ہیں، حج وغیرہ اسلامی معاملات کی تاریخوں کے تعین کے لیے ایسا ہوتا ہے۔
🗡️ پورے مکی دور میں مسلمانوں کو کفار کے مقابلے میں لڑنے کا نہیں بلکہ صبر کا حکم دیا گیا یعنی ہر تشدد کےجواب میں ہاتھ نہ اٹھانے کا حکم تھا، اب اجازت دی گئی کہ اب کفار کو اینٹ کا جواب پھتر سے دیا جائے یعنی اب ظلم کے مقابلے میں جہاد کا حکم دیا گیا۔ حدودِ حرم کو مشرکین کی نجاست سے پاک ہونے اور اللہ کا دین غالب ہونے تک جہاد جاری رکھنے کا حکم دیا۔ دنیا میں جان و مال کا جہاد ہی تمہاری سلامتی و بقا کا ضامن ہے۔
🕋 آیت نمبر 196 سے حج و عمرہ کے احکام بیان کئے گئے، اس کے بعد آنے والی آیات میں یہ بیان ہے کہ اسلام بعض چیزوں کو قبول کرنے اور بعض پر عمل نہ کرنے کا نام نہیں، بلکہ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام کو من وعن قبول کیا جائے واضح ہدایت آجانے کے بعد پورے کے پورے اسلام پر عمل نہ کرنا شیطان کے پیچھے چلنے کی طرح ہے۔
آیت 208 میں ہے
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً۪-وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۲۰۸)
اے ایمان والو!اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
🌅 اس کے بعد بتایا گیا کہ جنت کا حقدار بننے کے لیے دعویٰ ایمان کافی نہیں ہے اس کے لئے راہ حق میں مشکلات کا استقامت کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے، جس طرح انبیاء علیھم السلام و اولیاء عظام اور ان کے سچے پیروکاروں کی روشن مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ کیسی کیسی تکالیف میں بھی ثابت قدم رہے اور اسلام کا پیغام پہنچاتے رہے،
❌ پھر شراب و جوئے کے بارے میں ابتدائی ذہن سازی کرتے ہوئے ان کے فوائد و نقصانات میں تقابل کی تلقین کی گئی، ابھی حرام قرار نہیں دیا گیا۔اس کا جو گناہ ہے وہ اس کے نفع سے بڑھ کر ہے ،اور جسمانی، عقلی، مالی ،اخلاقی اور معاشرتی نقصانات ہے کہ وہ منافع کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے اس کے حرام ہونے کا حکم سورہ مائدہ میں آئے گا، پھر یتیموں کی کفالت کی تعلیم ہے اور نکاح میں توحید پرست کو بت پرست پر ترجیح دینے کا حکم ہے کہ نکاح مسلمانوں سے کرو، پھر خواتین کے مخصوص مسائل درج ہیں کہ جس میں حالات حیض میں اپنی بیویوں سے دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ حیض کے خون میں ایسی نجاست و جراثیم پوشیدہ ہوتے ہیں جن سے شوہر اور بیوی کی صحت خطرے میں پڑ سکتی ہے البتہ آپس میں بوس و کنار اور اٹھنے بیٹھنے اور ساتھ کھانے پینے کی اجازت دی گئی ہے۔
🛡️ آگے جھوٹی قسم سے بچنے کی ترغیب ہے کہ بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم جس کو ایلا کہا جاتا ہے، بچوں کو دودھ پلانے کی مدت، دو سال ،مقرر کی گئی، اور زچہ و بچہ کی کفالت شوہر کے ذمے رکھی گئی ہے، اور غیر حاملہ کے شوہر کے انتقال کی عدت چار ماہ دس دن کو بیان کیا گیا،
آیت 229 میں ہے کہ اگر دو صریح طلاقیں دی ہوں چاہے ایک ساتھ یا الگ الگ، شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے، اور اگر تیسری بھی دے دی تو اب بیوی اس پر حرام ہو جائے گی، اب طریقہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر اپنی مرضی سے کسی اور مرد سے نکاح کرے اور دخول کے بعد وہ شخص اپنی مرضی سے اس کو طلاق دے، پھر عدت گزار کر سابقہ شوہر سے چاہے تو نکاح کر سکتی ہے۔اس کو حلالہ کہتے ہیں، اس میں خلع کا بھی بیان ہے کہ زوجین کو خطرہ ہو کہ اللہ کی حدود میں رہتے ہوئے ازدواجی تعلقات قائم نہیں رکھ سکیں گے اور عورت خلع چاہتی ہے تو اپنے مہر سے دستبرار ہوکر یا مالی بدل سے شوہر کی رضامندی سے خلع لے سکتی ہے، یہ بھی طلاق بائن کے حکم میں ہوتی ہے، نکاح کے بعد اگر بیوی سے خلع یا طلاق کی نوبت آجائےاور قربت نہ ہوئی ہو تو مہر متعین نہ ہونے کی صورت میں نصف مہر کی ادائیگی ہوگی۔
🗡️ پھر جہاد کی ترغیب دینے کے لئے بنی اسرائیل کی ایک قوم کا ذکر فرمایا کہ جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے اور بنی اسرائیل کے نبی حضرت حزقیل علیہ السلام کی دعا سے اللہ نے دوبارہ زندہ کر دیا ، پھر جہاد کا حکم، اللہ کے نام پر مال خرچ کرنے کی تلقین ہے۔ پھر آخر میں مسلمان حکمران طالوت اور کافر حکمران جالوت کے درمیان جو مقابلہ ہوا اس کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے اس پر مخالفین کے اعتراضات کا جواب دیتے
🌙 اس کے بعد قمری مہینوں میں چاند کے چھوٹا اور بڑا ہونے کی حکمت بیان کی گئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چاند کے چھوٹا بڑا ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ارشاد ہوا کہ
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرما دیجئے کہ یہ لوگوں کے لیے اوقات کار ہیں، حج وغیرہ اسلامی معاملات کی تاریخوں کے تعین کے لیے ایسا ہوتا ہے۔
🗡️ پورے مکی دور میں مسلمانوں کو کفار کے مقابلے میں لڑنے کا نہیں بلکہ صبر کا حکم دیا گیا یعنی ہر تشدد کےجواب میں ہاتھ نہ اٹھانے کا حکم تھا، اب اجازت دی گئی کہ اب کفار کو اینٹ کا جواب پھتر سے دیا جائے یعنی اب ظلم کے مقابلے میں جہاد کا حکم دیا گیا۔ حدودِ حرم کو مشرکین کی نجاست سے پاک ہونے اور اللہ کا دین غالب ہونے تک جہاد جاری رکھنے کا حکم دیا۔ دنیا میں جان و مال کا جہاد ہی تمہاری سلامتی و بقا کا ضامن ہے۔
🕋 آیت نمبر 196 سے حج و عمرہ کے احکام بیان کئے گئے، اس کے بعد آنے والی آیات میں یہ بیان ہے کہ اسلام بعض چیزوں کو قبول کرنے اور بعض پر عمل نہ کرنے کا نام نہیں، بلکہ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام کو من وعن قبول کیا جائے واضح ہدایت آجانے کے بعد پورے کے پورے اسلام پر عمل نہ کرنا شیطان کے پیچھے چلنے کی طرح ہے۔
آیت 208 میں ہے
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً۪-وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۲۰۸)
اے ایمان والو!اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
🌅 اس کے بعد بتایا گیا کہ جنت کا حقدار بننے کے لیے دعویٰ ایمان کافی نہیں ہے اس کے لئے راہ حق میں مشکلات کا استقامت کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے، جس طرح انبیاء علیھم السلام و اولیاء عظام اور ان کے سچے پیروکاروں کی روشن مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ کیسی کیسی تکالیف میں بھی ثابت قدم رہے اور اسلام کا پیغام پہنچاتے رہے،
❌ پھر شراب و جوئے کے بارے میں ابتدائی ذہن سازی کرتے ہوئے ان کے فوائد و نقصانات میں تقابل کی تلقین کی گئی، ابھی حرام قرار نہیں دیا گیا۔اس کا جو گناہ ہے وہ اس کے نفع سے بڑھ کر ہے ،اور جسمانی، عقلی، مالی ،اخلاقی اور معاشرتی نقصانات ہے کہ وہ منافع کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے اس کے حرام ہونے کا حکم سورہ مائدہ میں آئے گا، پھر یتیموں کی کفالت کی تعلیم ہے اور نکاح میں توحید پرست کو بت پرست پر ترجیح دینے کا حکم ہے کہ نکاح مسلمانوں سے کرو، پھر خواتین کے مخصوص مسائل درج ہیں کہ جس میں حالات حیض میں اپنی بیویوں سے دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ حیض کے خون میں ایسی نجاست و جراثیم پوشیدہ ہوتے ہیں جن سے شوہر اور بیوی کی صحت خطرے میں پڑ سکتی ہے البتہ آپس میں بوس و کنار اور اٹھنے بیٹھنے اور ساتھ کھانے پینے کی اجازت دی گئی ہے۔
🛡️ آگے جھوٹی قسم سے بچنے کی ترغیب ہے کہ بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم جس کو ایلا کہا جاتا ہے، بچوں کو دودھ پلانے کی مدت، دو سال ،مقرر کی گئی، اور زچہ و بچہ کی کفالت شوہر کے ذمے رکھی گئی ہے، اور غیر حاملہ کے شوہر کے انتقال کی عدت چار ماہ دس دن کو بیان کیا گیا،
آیت 229 میں ہے کہ اگر دو صریح طلاقیں دی ہوں چاہے ایک ساتھ یا الگ الگ، شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے، اور اگر تیسری بھی دے دی تو اب بیوی اس پر حرام ہو جائے گی، اب طریقہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر اپنی مرضی سے کسی اور مرد سے نکاح کرے اور دخول کے بعد وہ شخص اپنی مرضی سے اس کو طلاق دے، پھر عدت گزار کر سابقہ شوہر سے چاہے تو نکاح کر سکتی ہے۔اس کو حلالہ کہتے ہیں، اس میں خلع کا بھی بیان ہے کہ زوجین کو خطرہ ہو کہ اللہ کی حدود میں رہتے ہوئے ازدواجی تعلقات قائم نہیں رکھ سکیں گے اور عورت خلع چاہتی ہے تو اپنے مہر سے دستبرار ہوکر یا مالی بدل سے شوہر کی رضامندی سے خلع لے سکتی ہے، یہ بھی طلاق بائن کے حکم میں ہوتی ہے، نکاح کے بعد اگر بیوی سے خلع یا طلاق کی نوبت آجائےاور قربت نہ ہوئی ہو تو مہر متعین نہ ہونے کی صورت میں نصف مہر کی ادائیگی ہوگی۔
🗡️ پھر جہاد کی ترغیب دینے کے لئے بنی اسرائیل کی ایک قوم کا ذکر فرمایا کہ جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے اور بنی اسرائیل کے نبی حضرت حزقیل علیہ السلام کی دعا سے اللہ نے دوبارہ زندہ کر دیا ، پھر جہاد کا حکم، اللہ کے نام پر مال خرچ کرنے کی تلقین ہے۔ پھر آخر میں مسلمان حکمران طالوت اور کافر حکمران جالوت کے درمیان جو مقابلہ ہوا اس کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے اس پر مخالفین کے اعتراضات کا جواب دیتے
ہوئے بتایا گیا کہ ان کی اہلیت کا مدار جسمانی قوت اور جنگی علم ہے اور بادشاہت یہ اللہ پاک کی عطا ہے پھر شمویل علیہ السلام نے طالوت کی بادشاہت کی نشانی بتائی کہ تمہارے پاس ایک تابوت آئے گا جس سے فرشتے اٹھائے ہونگے یہ رب کی جانب سے اطمینان کا باعث ہوگا، بنی اسرائیل جنگوں کے موقع پر اس کو آگے رکھتے تھے اور اس کے ذریعہ فتح مانگتے اور انھیں فتح ملتی بھی تھی، اس تابوت میں تبرکات تھے انبیائے کرام علیہ السلام کی قدرتی تصاویر، حضرت موسی علیہ السلام کا عمامہ اور نعلین شریف تھا، قرآن پاک میں اس کو بابرکت فرمایا،
💦 پھر طالوت کے ساتھ لڑنے والے لشکر کو آزمائش کے ساتھ گزارا گیا کم لوگ اس آزمائش میں پورا اترے اہل ایمان کی قلیل جماعت دشمن کی کثیر جماعت پر غالب آگئی جب جالوت سے مقابلہ ہوا تو طالوت اور اہل حق نے یہ دعا پڑھی کہ " اے ہمارے رب ہم پر صبر انڈیل دے اور کافروں کی قوم کے خلاف صبر عطا فرما"، پھر حضرت داؤد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا کفار کو شکست ہوئی اور اللہ پاک نے حضرت داؤد علیہ السلام کو حکمت و سلطنت عطا فرمائی
یہ قصہ بنی اسرائیل کے بڑے بڑے لوگوں کو معلوم تھا باقی قوم اس سے بےخبر تھی مگر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے غیب کی خبر دیتے ہوئے یہ واقعہ بیان فرمایا۔
📲 *+92-321-2094919*
💦 پھر طالوت کے ساتھ لڑنے والے لشکر کو آزمائش کے ساتھ گزارا گیا کم لوگ اس آزمائش میں پورا اترے اہل ایمان کی قلیل جماعت دشمن کی کثیر جماعت پر غالب آگئی جب جالوت سے مقابلہ ہوا تو طالوت اور اہل حق نے یہ دعا پڑھی کہ " اے ہمارے رب ہم پر صبر انڈیل دے اور کافروں کی قوم کے خلاف صبر عطا فرما"، پھر حضرت داؤد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا کفار کو شکست ہوئی اور اللہ پاک نے حضرت داؤد علیہ السلام کو حکمت و سلطنت عطا فرمائی
یہ قصہ بنی اسرائیل کے بڑے بڑے لوگوں کو معلوم تھا باقی قوم اس سے بےخبر تھی مگر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے غیب کی خبر دیتے ہوئے یہ واقعہ بیان فرمایا۔
📲 *+92-321-2094919*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📘 *فیضان خلاصہ تراویح*📘
🌳 *تیسرا پارہ، تلك الرسل*
☁️ اس پارے کے شروع میں انبیاء کرام علیھم السلام کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے کہ تمام نبی علیھم السلام معزز اور مکرم ہیں اور نبی ہونے میں سب برابر ہیں، لیکن ان کے درجات و کمالات، خصائص و مراتب مختلف ہیں، اور سب سے اعلی ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس آیت میں بعض کو بعض سے افضل فرمایا گیا نہ کہ بعض بعض سے ادنی کہ یہ بے ادبی ہے، لہذا انبیاء کرام علیھم السلام کے فضائل بیان کرنے میں بھی احتیاط کرنی چاہیے۔
💰 اس کے بعد صدقہ اور خیرات کرکے اپنی آخرت کو سنوارنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی، ورنہ قیامت کے دن نہ مال کام آئے گا نہ رشتےدار، کفار کے لئے کوئی سفارش نہیں ہوگی۔
🌿 اس کے بعد وہ عظمت والی آیت ہے جس کو آیت الکرسی کہا جاتا ہے، یہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 155 ہے، اور اس کی عظمت کا راز یہ ہے کہ ذات باری کی جلالت اور اس کی قدرت کی وسعت کو بھرپور انداز میں بیان کیا گیا ہے، اور اس میں اللہ پاک کا نام 17 مرتبہ آیا ہے، کچھ مرتبہ صراحتا یعنی بالکل واضح طور پر جیسے *اللہ* اور باقی مرتبہ اشارتاً جس کو عربی میں ضمیر اور انگریزی میں pronoun کہتے ہیں، جیسے *وہ ذات* ، بڑی عظمت و برکت والی آیت ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جو سوتے وقت آیت الکرسی پڑھے تو صبح تک اللہ پاک اس کی حفاظت فرمائے گا اور شیطان اس کے قریب نہیں آسکے گا۔
📕 *(بخاری)*
🗝️ اگلی آیت میں یہ اصول بیان ہوا کہ ہدایت اور گمراہی کے واضح ہونے کے بعد دین میں داخل ہونے کے لیے کسی پر جبر نہیں ہے، جو باطل قوتوں سے بغاوت کرکے اللہ کا وفادار بن گیا تو اس نے ایسی مضبوط کڑی کو باندھ لیا جو ٹوٹنے والی نہیں ہے۔
⏳ اس کے بعد تین تاریخی واقعات بیان کیے گئے جو توحید پر دلالت کرتے ہیں اور مرنے کے بعد زندہ ہونے کے قرآنی عقیدے کو واضح کرتے ہیں۔
📜 پہلا واقعہ آیت 258 سے شروع ہوتا ہے، اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کا مکالمہ بیان کیا گیا ہے کہ نمرود جو کافر تھا اس کا دعویٰ تھا کہ میں بھی مردوں کو زندہ کر سکتا ہوں اور زندوں کو موت دے سکتا ہوں، لہذا میں اس کائنات کا رب ہوں معاذ اللہ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالی سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تم مغرب سے نکال کر دکھاؤ، اس پر وہ بالکل لاجواب ہوگیا اور کچھ بھی نہ کر سکا۔
🗓️ دوسرا واقعہ آیت نمبر 258 میں حضرت عزیر علیہ السلام کا ہے، جب بیت المقدس کو بخت نصر نے بالکل ویران کردیا تو اس اجڑے شہر کو دیکھ کر حضرت عزیر علیہ السلام نے کہا *اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَاۚ* یعنی اللہ انہیں ان کی موت کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟
تو اللہ تعالی نے عزیر علیہ السلام کی روح قبض فرما لی اور ان کی سواری (گدھا) بھی مرگیا، سو سال کے بعد اللہ پاک نے ان کو زندہ فرمایا اور سواری کی جو بوسیدہ ہڈیاں تھیں وہ آپ کے سامنے جمع ہوئیں ان پر گوشت چڑھا،اس میں روح پھونکی گئی اور وہ اٹھ کھڑا ہوا، اور ان کے ساتھ جو کھانا تھا یعنی انگور و کھجور وہ سو سال تک بالکل تروتازہ رہا، اس میں بو تک نہیں آئی، اس طرح اللہ پاک نے اپنی قدرت کا مشاہدہ کروایا۔
🗂️ تیسرا واقعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا آیت نمبر 260 میں ہے، جنہوں نے مرنے کے بعد زندہ ہونے کی کیفیت کا مشاہدہ کرنا چاہا اور دل کے اطمینان کے لئے اس کی عملی کیفیت کو دیکھنے کی خواہش کی کہ اللہ پاک ان کو کس طرح زندہ فرمائے گا؟
اللہ تعالی نے فرمایا
*اَوَ لَمْ تُؤْمِنْؕ*
کیا تم کو یقین نہیں
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جوابا عرض کی کہ:
*بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْؕ*
یقین کیوں نہیں مگر یہ (چاہتا ہوں) کہ میرے دل کو قرار آجائے۔
اللہ پاک نے ان کو حکم دیا کہ چار پرندوں کو لے کر انہیں مانوس کر لیں، پھر انہیں ذبح کریں، پھر قیمہ بنا کر ان کے ذرات آپس میں ملا دیں پھر اس کو مختلف پہاڑیوں پر رکھ کر ان پر پرندوں کا نام لے کر پکاریں تو وہ دوڑتے ہوئے آئیں گے،جب ابراہیم علیہ السلام نے ایسا کیا تو وہ اصلی شکل و صورت بن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے، جس سے اللہ کی زبردست حکمت و قوت کا عملی مشاہدہ ہو گیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لیا کہ اللہ تعالی مردوں کو کیسے زندہ فرمائے گا، ساتھ ہی غیر اللہ کو پکارنے کی دلیل بھی سامنے آگئی کہ یہ کوئی شرک نہیں ورنہ اللہ پاک اس کا حکم ارشاد نہ فرماتا۔
💸 صدقہ و خیرات کے بارے میں آیت 261 سے لے کر 276 تک 4 آیت بیان کی گئیں، دو مثالیں اخلاص کی اور دو ریاکاری کی بیان ہوئیں، اخلاص کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں مال خرچ کرنے کی مثال ایسے ہی ہے جیسے زمین میں ایک بیج ڈال کر دانے حاصل کرنا اور ریاکار کا صدقہ ایسا ہے جیسے سخت چٹان پر گلہ اگانے کی ناکام کوشش کرنا، اخلاص کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ سال میں دو دفعہ زمین پھل دیتی ہو اور ریاک
🌳 *تیسرا پارہ، تلك الرسل*
☁️ اس پارے کے شروع میں انبیاء کرام علیھم السلام کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے کہ تمام نبی علیھم السلام معزز اور مکرم ہیں اور نبی ہونے میں سب برابر ہیں، لیکن ان کے درجات و کمالات، خصائص و مراتب مختلف ہیں، اور سب سے اعلی ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس آیت میں بعض کو بعض سے افضل فرمایا گیا نہ کہ بعض بعض سے ادنی کہ یہ بے ادبی ہے، لہذا انبیاء کرام علیھم السلام کے فضائل بیان کرنے میں بھی احتیاط کرنی چاہیے۔
💰 اس کے بعد صدقہ اور خیرات کرکے اپنی آخرت کو سنوارنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی، ورنہ قیامت کے دن نہ مال کام آئے گا نہ رشتےدار، کفار کے لئے کوئی سفارش نہیں ہوگی۔
🌿 اس کے بعد وہ عظمت والی آیت ہے جس کو آیت الکرسی کہا جاتا ہے، یہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 155 ہے، اور اس کی عظمت کا راز یہ ہے کہ ذات باری کی جلالت اور اس کی قدرت کی وسعت کو بھرپور انداز میں بیان کیا گیا ہے، اور اس میں اللہ پاک کا نام 17 مرتبہ آیا ہے، کچھ مرتبہ صراحتا یعنی بالکل واضح طور پر جیسے *اللہ* اور باقی مرتبہ اشارتاً جس کو عربی میں ضمیر اور انگریزی میں pronoun کہتے ہیں، جیسے *وہ ذات* ، بڑی عظمت و برکت والی آیت ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جو سوتے وقت آیت الکرسی پڑھے تو صبح تک اللہ پاک اس کی حفاظت فرمائے گا اور شیطان اس کے قریب نہیں آسکے گا۔
📕 *(بخاری)*
🗝️ اگلی آیت میں یہ اصول بیان ہوا کہ ہدایت اور گمراہی کے واضح ہونے کے بعد دین میں داخل ہونے کے لیے کسی پر جبر نہیں ہے، جو باطل قوتوں سے بغاوت کرکے اللہ کا وفادار بن گیا تو اس نے ایسی مضبوط کڑی کو باندھ لیا جو ٹوٹنے والی نہیں ہے۔
⏳ اس کے بعد تین تاریخی واقعات بیان کیے گئے جو توحید پر دلالت کرتے ہیں اور مرنے کے بعد زندہ ہونے کے قرآنی عقیدے کو واضح کرتے ہیں۔
📜 پہلا واقعہ آیت 258 سے شروع ہوتا ہے، اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کا مکالمہ بیان کیا گیا ہے کہ نمرود جو کافر تھا اس کا دعویٰ تھا کہ میں بھی مردوں کو زندہ کر سکتا ہوں اور زندوں کو موت دے سکتا ہوں، لہذا میں اس کائنات کا رب ہوں معاذ اللہ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالی سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تم مغرب سے نکال کر دکھاؤ، اس پر وہ بالکل لاجواب ہوگیا اور کچھ بھی نہ کر سکا۔
🗓️ دوسرا واقعہ آیت نمبر 258 میں حضرت عزیر علیہ السلام کا ہے، جب بیت المقدس کو بخت نصر نے بالکل ویران کردیا تو اس اجڑے شہر کو دیکھ کر حضرت عزیر علیہ السلام نے کہا *اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَاۚ* یعنی اللہ انہیں ان کی موت کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟
تو اللہ تعالی نے عزیر علیہ السلام کی روح قبض فرما لی اور ان کی سواری (گدھا) بھی مرگیا، سو سال کے بعد اللہ پاک نے ان کو زندہ فرمایا اور سواری کی جو بوسیدہ ہڈیاں تھیں وہ آپ کے سامنے جمع ہوئیں ان پر گوشت چڑھا،اس میں روح پھونکی گئی اور وہ اٹھ کھڑا ہوا، اور ان کے ساتھ جو کھانا تھا یعنی انگور و کھجور وہ سو سال تک بالکل تروتازہ رہا، اس میں بو تک نہیں آئی، اس طرح اللہ پاک نے اپنی قدرت کا مشاہدہ کروایا۔
🗂️ تیسرا واقعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا آیت نمبر 260 میں ہے، جنہوں نے مرنے کے بعد زندہ ہونے کی کیفیت کا مشاہدہ کرنا چاہا اور دل کے اطمینان کے لئے اس کی عملی کیفیت کو دیکھنے کی خواہش کی کہ اللہ پاک ان کو کس طرح زندہ فرمائے گا؟
اللہ تعالی نے فرمایا
*اَوَ لَمْ تُؤْمِنْؕ*
کیا تم کو یقین نہیں
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جوابا عرض کی کہ:
*بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْؕ*
یقین کیوں نہیں مگر یہ (چاہتا ہوں) کہ میرے دل کو قرار آجائے۔
اللہ پاک نے ان کو حکم دیا کہ چار پرندوں کو لے کر انہیں مانوس کر لیں، پھر انہیں ذبح کریں، پھر قیمہ بنا کر ان کے ذرات آپس میں ملا دیں پھر اس کو مختلف پہاڑیوں پر رکھ کر ان پر پرندوں کا نام لے کر پکاریں تو وہ دوڑتے ہوئے آئیں گے،جب ابراہیم علیہ السلام نے ایسا کیا تو وہ اصلی شکل و صورت بن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے، جس سے اللہ کی زبردست حکمت و قوت کا عملی مشاہدہ ہو گیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لیا کہ اللہ تعالی مردوں کو کیسے زندہ فرمائے گا، ساتھ ہی غیر اللہ کو پکارنے کی دلیل بھی سامنے آگئی کہ یہ کوئی شرک نہیں ورنہ اللہ پاک اس کا حکم ارشاد نہ فرماتا۔
💸 صدقہ و خیرات کے بارے میں آیت 261 سے لے کر 276 تک 4 آیت بیان کی گئیں، دو مثالیں اخلاص کی اور دو ریاکاری کی بیان ہوئیں، اخلاص کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں مال خرچ کرنے کی مثال ایسے ہی ہے جیسے زمین میں ایک بیج ڈال کر دانے حاصل کرنا اور ریاکار کا صدقہ ایسا ہے جیسے سخت چٹان پر گلہ اگانے کی ناکام کوشش کرنا، اخلاص کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ سال میں دو دفعہ زمین پھل دیتی ہو اور ریاک
اری کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی مثال اس شخص کی ہے جو اپنی جوانی میں محنت کرکے بہترین فصل اگائے اور بڑھاپے میں جب یہ محتاج ہو اس فصل کی ضرورت ہو اور اس کی اولاد کو اس گلے کی ضرورت ہو تو وہ ناگہانی آفت سے تباہ و برباد ہو جائے، اسی طرح ریاکار کا اجر و ثواب آخرت میں ختم ہو جائے گا کہ دنیا میں محنت کر بھی لے آخرت میں اس کے کام کا کوئی اجر نہیں۔
💥 اس کے بعد قیامت کی یاد دہانی کرواتے ہوئے آیت 281 میں اللہ پاک فرماتا ہے، اس دن سے ڈرو جب تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر شخص کو نیک و بد اعمال کا پورا پورا حصہ دیا جائے گا، ظلم نہ کیا جائے گا اور ہر انسان کو اس کے کیے کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
📝 آیت نمبر 282 قرآن کریم کی سب سے بڑی آیت ہے اس کو آیت مدائنہ بھی کہتے ہیں، اس میں ادھار لین دین کا ضابطہ، ادائیگی کی مدت کا تعین اور تحریری دستاویز بنانے، اور گواہوں کی موجودگی کا بیان ہے۔ رہن کے احکام بھی موجود ہیں۔
☁️ سورت کے اختتام پر یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ اللہ تعالی کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا، آخر میں اللہ پاک نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھا دی کہ" اے اللہ اگر احکام کی تعمیل میں ہم سے کوئی غلطی ہو جایا کرے تو معاف فرما۔" جب تک مسلمان احکام الہیہ پر اپنی استطاعت کے مطابق عمل کر کے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں پر استغفار کرتے رہیں گے اللہ پاک انھیں معافی عطا فرمائے گا۔
🤲🏻 آیت 286 میں بہترین دعا ہے جو ہمیں مانگنی چاہیے،اس دعا کو زبانی یاد کرلینا چاہیے۔ سورہ ٔبقرہ کی اِن آخری دو آیتوں کی بڑی فضیلت ہے۔
حضرت جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" اللہ پاک نے سورہ ٔبقرہ کو ان دو آیتوں پر ختم فرمایا ہے جو مجھے اس کے عرش کے خزانہ سے عطا ہوئیں لہٰذا انہیں سیکھو اور اپنی عورتوں کو سکھاؤ کہ یہ نماز (یعنی نماز میں ان کی قراء ت کی جاتی ہے ) اور قرآن و دعا ہیں۔
📙 *(دارمی)*
🌷 *سورۂ اٰلِ عمران*
تیسرے پارے کے 8 رکوع سورہ بقرہ پر مشتمل ہیں،
نویں رکوع سے سورۃ ال عمران شروع ہوتی ہے، یہ بھی طویل سورتوں میں سے ہے۔
✏️ *تعارف*
سورۂ آلِ عمران مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی ہے۔اس میں 20رکوع اور 200 آیتیں ہیں۔
🔍 *وجہ*
آل کا ایک معنی ’’اولاد‘‘ ہے اور اس سورت کے چوتھے اور پانچویں رکوع میں آیت نمبر33 تا 54 میں حضرت مریم رضی اللہ عنھا کے والد عمران کی آل کی سیرت اور ان کے فضائل کا ذکر ہے ،اس مناسبت سے اس سورت کا نام’’سورۂ آلِ عمران‘‘ رکھا گیا ہے۔
🌴 *فضیلت*
اس سورت کے مختلف فضائل بیان کئے گئے ہیں،ایک عرض کرتا ہوں
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’جو شخص ر ات میں سورۂ آلِ عمر ان کی آخری آیتیں پڑھے گا تو اس کے لیے پوری رات عبادت کرنے کا ثواب لکھا جائے گا۔
📕 *(دارمی)*
سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کے مضامین میں حددرجہ مناسبت پائی جاتی ہے *نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم* نے ان دونوں صورتوں کو زہراوین(روشن نور) سورج اور چاند سے تعبیر کیا، سورہ بقرہ میں یہودیوں سے خطاب ہے جبکہ سورہ آل عمران میں عیسائیوں سے خطاب ہے۔یہ سورہ ایک واقعہ کے نتیجے میں نازل ہونا شروع ہوئی۔
📖 نجران کی ایک جماعت مدینے میں *نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم* سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئی، ان لوگوں نے حضرت عیسی علیہ السلام وسلم کو معاذاللہ کبھی رب، کبھی اللہ کا بیٹا تو کبھی تین خداؤں میں سے ایک کہنا شروع کیا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ "اللہ وہ ہے جو ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا اس پر کبھی موت طاری نہیں ہوگی جبکہ حضرت عیسی علیہ السلام کا وصال ہوگا، بیٹا اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے جب کہ وہ اللہ کی مشابہ نہیں ہوسکتے ،اللہ کچھ کھانے پینے سے پاک ہے جبکہ عیسی علیہ السلام کھاتے اور پیتے ہیں، اللہ کے پاس زمین وآسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے جبکہ حضرت عیسی کے پاس جو کچھ ہے اللہ کا عطا کردہ ہے اس پر وہ خاموش ہوگئے، ان کے پاس کوئی جواب نہ رہا۔
⚪ شروع میں اللہ پاک کی وحدانیت اور آسمانی کتابیں قرآن، توریت و انجیل کی حقانیت کا ذکر ہے۔اللہ کی آیات کے منکروں کو عذاب شدید سے ڈرایا گیا ہے، علم الہی کی وسعتوں کا ذکر ہے، اللہ کی قدرت کا بیان ہے کہ ماں کے پیٹ میں انسان کی پیدائش کے کیا مرحلے ہیں،قرآن میں بعض آیتوں کے معنی واضح ہیں اور بعض آیتوں کو متشابہات کہا جاتا ہے جیسے حرف مقطعات جن کے معنی اللہ جانتا ہے اور اللہ کے بتائے سے *حضور صلی اللہ علیہ وسلم* جانتے ہیں، ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ آیات اور ان کا جو معنی ہے وہ سب حق ہیں،
📚 اگلی آیات میں مسلسل اہل کتاب کی مذمت پر بیان ہے ،ان کے جرائم بیان ہوئے انہوں نے انبیاء کرام علیہم السلام کو ناحق شہید کیا، نیک لوگوں پر ظلم کیا اور مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو ہرگز دوست نہ بناؤ کیونکہ اسلام و کفر کے درمیان کوئی تعلق نہیں۔ کفار کبھی بھی مسل
💥 اس کے بعد قیامت کی یاد دہانی کرواتے ہوئے آیت 281 میں اللہ پاک فرماتا ہے، اس دن سے ڈرو جب تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر شخص کو نیک و بد اعمال کا پورا پورا حصہ دیا جائے گا، ظلم نہ کیا جائے گا اور ہر انسان کو اس کے کیے کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
📝 آیت نمبر 282 قرآن کریم کی سب سے بڑی آیت ہے اس کو آیت مدائنہ بھی کہتے ہیں، اس میں ادھار لین دین کا ضابطہ، ادائیگی کی مدت کا تعین اور تحریری دستاویز بنانے، اور گواہوں کی موجودگی کا بیان ہے۔ رہن کے احکام بھی موجود ہیں۔
☁️ سورت کے اختتام پر یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ اللہ تعالی کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا، آخر میں اللہ پاک نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھا دی کہ" اے اللہ اگر احکام کی تعمیل میں ہم سے کوئی غلطی ہو جایا کرے تو معاف فرما۔" جب تک مسلمان احکام الہیہ پر اپنی استطاعت کے مطابق عمل کر کے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں پر استغفار کرتے رہیں گے اللہ پاک انھیں معافی عطا فرمائے گا۔
🤲🏻 آیت 286 میں بہترین دعا ہے جو ہمیں مانگنی چاہیے،اس دعا کو زبانی یاد کرلینا چاہیے۔ سورہ ٔبقرہ کی اِن آخری دو آیتوں کی بڑی فضیلت ہے۔
حضرت جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" اللہ پاک نے سورہ ٔبقرہ کو ان دو آیتوں پر ختم فرمایا ہے جو مجھے اس کے عرش کے خزانہ سے عطا ہوئیں لہٰذا انہیں سیکھو اور اپنی عورتوں کو سکھاؤ کہ یہ نماز (یعنی نماز میں ان کی قراء ت کی جاتی ہے ) اور قرآن و دعا ہیں۔
📙 *(دارمی)*
🌷 *سورۂ اٰلِ عمران*
تیسرے پارے کے 8 رکوع سورہ بقرہ پر مشتمل ہیں،
نویں رکوع سے سورۃ ال عمران شروع ہوتی ہے، یہ بھی طویل سورتوں میں سے ہے۔
✏️ *تعارف*
سورۂ آلِ عمران مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی ہے۔اس میں 20رکوع اور 200 آیتیں ہیں۔
🔍 *وجہ*
آل کا ایک معنی ’’اولاد‘‘ ہے اور اس سورت کے چوتھے اور پانچویں رکوع میں آیت نمبر33 تا 54 میں حضرت مریم رضی اللہ عنھا کے والد عمران کی آل کی سیرت اور ان کے فضائل کا ذکر ہے ،اس مناسبت سے اس سورت کا نام’’سورۂ آلِ عمران‘‘ رکھا گیا ہے۔
🌴 *فضیلت*
اس سورت کے مختلف فضائل بیان کئے گئے ہیں،ایک عرض کرتا ہوں
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’جو شخص ر ات میں سورۂ آلِ عمر ان کی آخری آیتیں پڑھے گا تو اس کے لیے پوری رات عبادت کرنے کا ثواب لکھا جائے گا۔
📕 *(دارمی)*
سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کے مضامین میں حددرجہ مناسبت پائی جاتی ہے *نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم* نے ان دونوں صورتوں کو زہراوین(روشن نور) سورج اور چاند سے تعبیر کیا، سورہ بقرہ میں یہودیوں سے خطاب ہے جبکہ سورہ آل عمران میں عیسائیوں سے خطاب ہے۔یہ سورہ ایک واقعہ کے نتیجے میں نازل ہونا شروع ہوئی۔
📖 نجران کی ایک جماعت مدینے میں *نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم* سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئی، ان لوگوں نے حضرت عیسی علیہ السلام وسلم کو معاذاللہ کبھی رب، کبھی اللہ کا بیٹا تو کبھی تین خداؤں میں سے ایک کہنا شروع کیا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ "اللہ وہ ہے جو ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا اس پر کبھی موت طاری نہیں ہوگی جبکہ حضرت عیسی علیہ السلام کا وصال ہوگا، بیٹا اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے جب کہ وہ اللہ کی مشابہ نہیں ہوسکتے ،اللہ کچھ کھانے پینے سے پاک ہے جبکہ عیسی علیہ السلام کھاتے اور پیتے ہیں، اللہ کے پاس زمین وآسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے جبکہ حضرت عیسی کے پاس جو کچھ ہے اللہ کا عطا کردہ ہے اس پر وہ خاموش ہوگئے، ان کے پاس کوئی جواب نہ رہا۔
⚪ شروع میں اللہ پاک کی وحدانیت اور آسمانی کتابیں قرآن، توریت و انجیل کی حقانیت کا ذکر ہے۔اللہ کی آیات کے منکروں کو عذاب شدید سے ڈرایا گیا ہے، علم الہی کی وسعتوں کا ذکر ہے، اللہ کی قدرت کا بیان ہے کہ ماں کے پیٹ میں انسان کی پیدائش کے کیا مرحلے ہیں،قرآن میں بعض آیتوں کے معنی واضح ہیں اور بعض آیتوں کو متشابہات کہا جاتا ہے جیسے حرف مقطعات جن کے معنی اللہ جانتا ہے اور اللہ کے بتائے سے *حضور صلی اللہ علیہ وسلم* جانتے ہیں، ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ آیات اور ان کا جو معنی ہے وہ سب حق ہیں،
📚 اگلی آیات میں مسلسل اہل کتاب کی مذمت پر بیان ہے ،ان کے جرائم بیان ہوئے انہوں نے انبیاء کرام علیہم السلام کو ناحق شہید کیا، نیک لوگوں پر ظلم کیا اور مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو ہرگز دوست نہ بناؤ کیونکہ اسلام و کفر کے درمیان کوئی تعلق نہیں۔ کفار کبھی بھی مسل
مان کے ساتھ مخلص نہیں ہوسکتے۔
💳 آیت نمبر 14 میں ہے کہ انسان کو مال و دولت، رشتے، سواری ،سونا، چاندی، جانور کھیتیاں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں، مگر یہ دنیا میں ہیں اور اللہ کے پاس بہترین جزا ہے۔
متقی لوگوں کے لئے باغات ،نہریں، پاکیزہ بیویاں ہیں۔ اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے وہ بندے گناہوں پر استغفار اور جہنم سے حفاظت کے طلبگار ہیں۔ سچ بولنے والے ،صبر کرنے والے، فرمانبرداری کرنے والے، صدقہ و خیرات کرنے والے،تہجد کے وقت معافی مانگنے والوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
🔖 آیت 31 میں واضح طور پر بتایا گیا کہ بندہ اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس کی رضا کا طلبگار ہے تو ایک ہی راستہ ہے کہ *حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم* کی محبت و اتباع کی جائے، فرمایا اگر تم اللہ کی محبت پانا چاہتے ہو تو میرے *محبوب صلی اللہ علیہ وعلی وسلم* کی پیروی کرو اللہ تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا۔
💥 اس کے بعد والی آیات میں تین عبرت آموز واقعہ ذکر کیے گئے ہیں، ان تینوں قصوں میں اللہ کی عظیم قدرت کے دلائل ہیں، حضرت عمران کی صاحب کردار پاکیزہ اہلیہ حنا بنت فاقوذا جب حاملہ ہوئیں تو منت مانی کہ اپنے پیدا ہونے والے بچے کو اللہ کے لیے وقف کر دوں گی، مگر ان کے یہاں خلاف توقع لڑکی کی پیدائش ہوئی۔ لڑکی پیدا ہونے کے باوجود بھی اپنی منت پوری کی۔ان کا نام مریم رکھا اور حضرت زکریا علیہ السلام کی کفالت میں دے دیا اللہ نے حضرت مریم رضی اللہ عنھا کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمایا اور آپ بچپن سے لے کر جوانی تک عبادت میں مصروف رہیں،یہاں تک کہ بارگاہ الہی سے یہ کرامت بھی ظاہر ہوئی کہ آپ کے پاس بے موسم پھل آنے لگے اور اس کا ذکر قرآن پاک میں واضح طور پر ہے، حضرت زکریا علیہ السلام آپ کے خالو بھی تھے ، ایک دن آپ کے حجرے میں تشریف لائے جب آپ عبادت میں مصروف تھیں۔ اتنے پھل دیکھ کر آپ سے پوچھا کہ مریم یہ بے موسم پھل کہاں سے آتے ہیں کہا کہ اللہ کی طرف سے آتے ہیں اللہ جسے چاہتا ہے بلا حساب رزق عطا فرماتا ہے، حضرت زکریا علیہ السلام کی اب تک کوئی اولاد نہ تھی، اور ان کی زوجہ کی عمر بھی بڑی ہوچکی تھی تو زکریا علیہ السلام بی بی مریم رضی اللہ عنھا کے پاس بے موسم پھل دیکھ کر کی رحمت سے اور پرامید ہوگئے کہ جو بے موسم پھل مریم کو دے سکتا ہے تو مجھے بڑی عمر میں اولاد کیوں نہیں دے سکتا؟ تو دعا فرمائی کہ مجھے اپنی جانب سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، آپ کی دعا قبول ہوئی اور فرشتوں نے آکر کہا " اے زکریا آپ کو اللہ کی طرف سے نیک اور صالح بیٹے یحییٰ (علیہ السلام) کی بشارت ہے، حضرت زکریا علیہ السلام اس کے بعد تین دن مسلسل خاموش رہ کر عبادت میں مصروف ہوگئے۔
🌴 پھر فرشتوں نے بی بی مریم رضی اللہ عنھا کو پکار کر کہا کہ اللہ نے آپ کو بلند مرتبہ عطا کیا ہے اور آپ کو پاکیزگی و طہارت عطا کی ہے، تمام جہانوں کی عورتوں میں بلند مرتبہ دیا ہے، آپ اپنے رب کی بندگی کریں اور رکوع سجود کریں، پھر حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر ہے، بی بی مریم رضی اللہ عنھا کا دل بغیر شوہر کے بیٹے عطا ہونے پر پریشان تھا، یہ وہ بیٹے تھے جو کوڑھیوں کو شفا دیتے اور مادر زاد اندھوں کو بینا کرتے، جو بنی اسرائیل کھاتے اور چھپاتے اور جو بچاتے اس کی خبر دیتے تھے، آپ کے معجزات کو دیکھ کر آپ کی قوم نے آپ کو معاذاللہ اللہ کا بیٹا کہنا شروع کر دیا،اس پر اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ بے شک عیسی علیہ السلام کی مثال آدم علیہ السلام جیسی ہے جن کو بغیر باپ اور ماں کے پیدا کیا گیا، مٹی سے بنایا اور فرمایا *کن فیکون* یعنی ہوجا تو ہوگیا، جب آدم علیہ السلم کو خدا یا خدا کا بیٹا نہ کہا نہ مانا تو عیسی علیہ السلام کو کیوں مانتے ہو؟
نجران کا وفد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عیسی علیہ السلام کی ولادت کے معاملے میں بحث کرنے کے بعد لاجواب ہوگیا لیکن حقیقت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مباہلہ کا چیلنج کیا کہ تم حق کو تسلیم نہیں کرتے تو اپنے گھر والوں کو لے آؤ اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ چنانچہ *نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم* حضرت علی و فاطمہ حسن وحسین رضی اللہ تعالی عنہم کے ساتھ میدان مباہلہ میں پہنچے تو ان کے پادریوں نے چیلنج قبول کرنے سے انکارکردیا یہاں تک کہ ان کے بڑے نے کہا کہ اگر مباہلہ کو قبول کر لیتے تو قیامت تک کے لئے عیسائی دنیا سے ختم ہو جاتے۔
🟤 پھر اس سورت میں بتایا کہ کفار عیسیٰ علیہ السلام کی جان کے درپے تھے اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو بشارت دی کہ میں آپ کو زندہ آسمانوں کی طرف اٹھاؤنگا اور وہ آپ کا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے، اللہ پاک نے اپنے وعدے کو پورا فرمایا عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ اٹھا لیا اب عیسی علیہ السلام قیامت سے قبل دمشق کی جامع مسجد پر اتریں گے اور دجال کو قتل فرمائیں گے۔
🟢 آیت 69 سے اہل ایمان کو آگاہ کیا کہ اہل کتاب خود گمراہ ہیں، اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں، حق کو باطل سے ملاتے ہیں، جا
💳 آیت نمبر 14 میں ہے کہ انسان کو مال و دولت، رشتے، سواری ،سونا، چاندی، جانور کھیتیاں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں، مگر یہ دنیا میں ہیں اور اللہ کے پاس بہترین جزا ہے۔
متقی لوگوں کے لئے باغات ،نہریں، پاکیزہ بیویاں ہیں۔ اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے وہ بندے گناہوں پر استغفار اور جہنم سے حفاظت کے طلبگار ہیں۔ سچ بولنے والے ،صبر کرنے والے، فرمانبرداری کرنے والے، صدقہ و خیرات کرنے والے،تہجد کے وقت معافی مانگنے والوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
🔖 آیت 31 میں واضح طور پر بتایا گیا کہ بندہ اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس کی رضا کا طلبگار ہے تو ایک ہی راستہ ہے کہ *حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم* کی محبت و اتباع کی جائے، فرمایا اگر تم اللہ کی محبت پانا چاہتے ہو تو میرے *محبوب صلی اللہ علیہ وعلی وسلم* کی پیروی کرو اللہ تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا۔
💥 اس کے بعد والی آیات میں تین عبرت آموز واقعہ ذکر کیے گئے ہیں، ان تینوں قصوں میں اللہ کی عظیم قدرت کے دلائل ہیں، حضرت عمران کی صاحب کردار پاکیزہ اہلیہ حنا بنت فاقوذا جب حاملہ ہوئیں تو منت مانی کہ اپنے پیدا ہونے والے بچے کو اللہ کے لیے وقف کر دوں گی، مگر ان کے یہاں خلاف توقع لڑکی کی پیدائش ہوئی۔ لڑکی پیدا ہونے کے باوجود بھی اپنی منت پوری کی۔ان کا نام مریم رکھا اور حضرت زکریا علیہ السلام کی کفالت میں دے دیا اللہ نے حضرت مریم رضی اللہ عنھا کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمایا اور آپ بچپن سے لے کر جوانی تک عبادت میں مصروف رہیں،یہاں تک کہ بارگاہ الہی سے یہ کرامت بھی ظاہر ہوئی کہ آپ کے پاس بے موسم پھل آنے لگے اور اس کا ذکر قرآن پاک میں واضح طور پر ہے، حضرت زکریا علیہ السلام آپ کے خالو بھی تھے ، ایک دن آپ کے حجرے میں تشریف لائے جب آپ عبادت میں مصروف تھیں۔ اتنے پھل دیکھ کر آپ سے پوچھا کہ مریم یہ بے موسم پھل کہاں سے آتے ہیں کہا کہ اللہ کی طرف سے آتے ہیں اللہ جسے چاہتا ہے بلا حساب رزق عطا فرماتا ہے، حضرت زکریا علیہ السلام کی اب تک کوئی اولاد نہ تھی، اور ان کی زوجہ کی عمر بھی بڑی ہوچکی تھی تو زکریا علیہ السلام بی بی مریم رضی اللہ عنھا کے پاس بے موسم پھل دیکھ کر کی رحمت سے اور پرامید ہوگئے کہ جو بے موسم پھل مریم کو دے سکتا ہے تو مجھے بڑی عمر میں اولاد کیوں نہیں دے سکتا؟ تو دعا فرمائی کہ مجھے اپنی جانب سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، آپ کی دعا قبول ہوئی اور فرشتوں نے آکر کہا " اے زکریا آپ کو اللہ کی طرف سے نیک اور صالح بیٹے یحییٰ (علیہ السلام) کی بشارت ہے، حضرت زکریا علیہ السلام اس کے بعد تین دن مسلسل خاموش رہ کر عبادت میں مصروف ہوگئے۔
🌴 پھر فرشتوں نے بی بی مریم رضی اللہ عنھا کو پکار کر کہا کہ اللہ نے آپ کو بلند مرتبہ عطا کیا ہے اور آپ کو پاکیزگی و طہارت عطا کی ہے، تمام جہانوں کی عورتوں میں بلند مرتبہ دیا ہے، آپ اپنے رب کی بندگی کریں اور رکوع سجود کریں، پھر حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر ہے، بی بی مریم رضی اللہ عنھا کا دل بغیر شوہر کے بیٹے عطا ہونے پر پریشان تھا، یہ وہ بیٹے تھے جو کوڑھیوں کو شفا دیتے اور مادر زاد اندھوں کو بینا کرتے، جو بنی اسرائیل کھاتے اور چھپاتے اور جو بچاتے اس کی خبر دیتے تھے، آپ کے معجزات کو دیکھ کر آپ کی قوم نے آپ کو معاذاللہ اللہ کا بیٹا کہنا شروع کر دیا،اس پر اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ بے شک عیسی علیہ السلام کی مثال آدم علیہ السلام جیسی ہے جن کو بغیر باپ اور ماں کے پیدا کیا گیا، مٹی سے بنایا اور فرمایا *کن فیکون* یعنی ہوجا تو ہوگیا، جب آدم علیہ السلم کو خدا یا خدا کا بیٹا نہ کہا نہ مانا تو عیسی علیہ السلام کو کیوں مانتے ہو؟
نجران کا وفد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عیسی علیہ السلام کی ولادت کے معاملے میں بحث کرنے کے بعد لاجواب ہوگیا لیکن حقیقت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مباہلہ کا چیلنج کیا کہ تم حق کو تسلیم نہیں کرتے تو اپنے گھر والوں کو لے آؤ اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ چنانچہ *نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم* حضرت علی و فاطمہ حسن وحسین رضی اللہ تعالی عنہم کے ساتھ میدان مباہلہ میں پہنچے تو ان کے پادریوں نے چیلنج قبول کرنے سے انکارکردیا یہاں تک کہ ان کے بڑے نے کہا کہ اگر مباہلہ کو قبول کر لیتے تو قیامت تک کے لئے عیسائی دنیا سے ختم ہو جاتے۔
🟤 پھر اس سورت میں بتایا کہ کفار عیسیٰ علیہ السلام کی جان کے درپے تھے اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو بشارت دی کہ میں آپ کو زندہ آسمانوں کی طرف اٹھاؤنگا اور وہ آپ کا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے، اللہ پاک نے اپنے وعدے کو پورا فرمایا عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ اٹھا لیا اب عیسی علیہ السلام قیامت سے قبل دمشق کی جامع مسجد پر اتریں گے اور دجال کو قتل فرمائیں گے۔
🟢 آیت 69 سے اہل ایمان کو آگاہ کیا کہ اہل کتاب خود گمراہ ہیں، اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں، حق کو باطل سے ملاتے ہیں، جا