آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ایک رات منکروں میں سے ایک شخص آپ کی نسبت باتیں کر رہا تھا اور میں بھی اس کے مقابلہ میں باتیں کر تا تھا،چنانچہ بات بڑھ گئی اور جہاں کہ ہم تھے ۔ان کا مکان دور تھا یہ ممکن نہ تھا کہ آواز وہاں تک پہنچے۔جب میں صبح کو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمایا،کل تمہاری آواز ہم کو پریشان کرتی تھی۔تم کو چاہیے کہ جو شخص کچھ کہے ،اپنی طبیعت کو ادھر مشغول نہ کرو۔اپنے کام میں لگے رہو ۔جناب مخدومی خواجہ عبید اللہ اوام اللہ القابہم فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دن ان کی زیارت کا احرام باندھا تھا،تو میرے دوستوں میں سے ایک دوست راہ میں مجھے ملا۔اس نے شراب پی ہوئی تھی اور اس کے آثار اس پر ظاہر تھے۔اس نے مجھے باتوں میں لگا لیا۔جب آپ کی خدامت میں پہنچا تو آپ نے فرمایا ،شاید تم نے شراب پی ہے۔میں نے عرض کیا کہ نہیں۔فرمایا کہ پھر تمہاری کیا حالت ہے۔میں نے کہا،راستہ میں ایک مست سے ملا تھا۔اس سے چند باتیں کی تھیں۔
فرمایا کہ پس یہی وہ حالت ہےکہ تم کو اس کا اثر ہو گیا۔آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ مولانا نظام الدین فرماتے تھے۔سمرقذ کے ایک بزرگ جس کو ہماری نسبت بہت اخلاص اور محبت وارادت تھی بیمار ہوگیا۔یہاں تک کہ مرنے کہ قریب آگیا۔ان کے فرزنددوں اور متعلقین نے بہت عاجزی کی۔میں نے مراقبہ کیا ۔دیکھا کہ اس کی زندگی اور بقا سوائے اپنے ضمان میں لینے کے نہیں۔میں اس کو ضمان میں لیا۔اس کو صحت ہو گئی ۔کچھ عرصہ کے بعد ہماری نسبت ایک تہمت ہوگئی جو ہماری ذلت کا باعث ہوئی۔اور وہ شخص اس کام میں سعی کر سکتا تھا۔جس سے وہ تہمت دفعہ ہو جاتی،مگر اس نے خودداری کی اور اس میں دخل نہ دیا۔ہماری طبیعت اس سے ناراج ہوگئی۔ہم نے اس کو اپنے ضمان سے نکال دیا۔تب وہ اس وقت گر پڑااور مرگیا۔آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ایک دن مجھے یہ خبر دی گئی کہ مولانا بیمار ہوگئے۔
جب میں آپ کی خدمت میں گیا تو آپ کو سخت لرزہ ہو رہا تھا۔چنانچہ آگ جلائی ہوئی تھی اور بہت سے کپڑے آپ پر ڈالے گئے تھے۔آپ کو کچھ تسکین نہ ہوئی۔میں ایک گھڑی تک بیٹھا۔آپ کے مریدوں میں سے ایک شخص جس نے گیہوں چکی میں پیسنے کے لیے لے گیا تھا۔آیا اس کے کپڑے تر تھےاور بڑی سردی کا مارا تھاکہ چکی کی راہ میں اس پر پانی پڑا تھا۔جب مولانا نے اس کو دیکھا تو فرمایا کہ اس کو گرم کروکیونکہ یہ اسی کی سردی ہے جو مجھ میں اثر کر گئی ہے ۔جب ایسا کیا گیا تو آپ کی سردی جاتی رہی اور ہوش آ گیا ۔
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-nizamuddin-khamosh
فرمایا کہ پس یہی وہ حالت ہےکہ تم کو اس کا اثر ہو گیا۔آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ مولانا نظام الدین فرماتے تھے۔سمرقذ کے ایک بزرگ جس کو ہماری نسبت بہت اخلاص اور محبت وارادت تھی بیمار ہوگیا۔یہاں تک کہ مرنے کہ قریب آگیا۔ان کے فرزنددوں اور متعلقین نے بہت عاجزی کی۔میں نے مراقبہ کیا ۔دیکھا کہ اس کی زندگی اور بقا سوائے اپنے ضمان میں لینے کے نہیں۔میں اس کو ضمان میں لیا۔اس کو صحت ہو گئی ۔کچھ عرصہ کے بعد ہماری نسبت ایک تہمت ہوگئی جو ہماری ذلت کا باعث ہوئی۔اور وہ شخص اس کام میں سعی کر سکتا تھا۔جس سے وہ تہمت دفعہ ہو جاتی،مگر اس نے خودداری کی اور اس میں دخل نہ دیا۔ہماری طبیعت اس سے ناراج ہوگئی۔ہم نے اس کو اپنے ضمان سے نکال دیا۔تب وہ اس وقت گر پڑااور مرگیا۔آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ایک دن مجھے یہ خبر دی گئی کہ مولانا بیمار ہوگئے۔
جب میں آپ کی خدمت میں گیا تو آپ کو سخت لرزہ ہو رہا تھا۔چنانچہ آگ جلائی ہوئی تھی اور بہت سے کپڑے آپ پر ڈالے گئے تھے۔آپ کو کچھ تسکین نہ ہوئی۔میں ایک گھڑی تک بیٹھا۔آپ کے مریدوں میں سے ایک شخص جس نے گیہوں چکی میں پیسنے کے لیے لے گیا تھا۔آیا اس کے کپڑے تر تھےاور بڑی سردی کا مارا تھاکہ چکی کی راہ میں اس پر پانی پڑا تھا۔جب مولانا نے اس کو دیکھا تو فرمایا کہ اس کو گرم کروکیونکہ یہ اسی کی سردی ہے جو مجھ میں اثر کر گئی ہے ۔جب ایسا کیا گیا تو آپ کی سردی جاتی رہی اور ہوش آ گیا ۔
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-nizamuddin-khamosh
❤2
پیر طریقت ، علامہ قاری مصلح الدین صدیقی
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی ۔ لقب: مصلحِ اہلسنت، مصلحِ ملت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی بن مولانا غلام جیلانی، بن محمد نور الدین، بن شاہ محمد حسین، بن شاہ غلام جیلانی عرف شبر استاد، بن شاہ غلام محی الدین ،بن شاہ محمد یوسف، بن شاہ محمد، بن محمد یوسف (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
11 ربیع الاول 1336ھ، مطابق 24 دسمبر 1917ء، بروز پیر بوقت صبح صادق بمقام قندہا رضلع نانڈیر ریاست حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے نو سال کی عمر میں ناظرہ قرآن کریم مکمل کیا۔ چودہ سال کی عمر میں والد ِگرامی سے حفظ قرآن کی تکمیل اور ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا۔ مزید تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے 1354ھ/ 1935ء دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور میں داخلہ لیا اس کے بعد جامعہ عربیہ ناگپور میں داخلہ لیا اور اسی جامعہ میں علوم ِ دینیہ کی تکمیل ہوئی۔آپ نے اپنے وقت کے مایہ نازاساتذہ سے تحصیل ِ علم کیا۔
جن میں صدر الشریعۃ مفتی محمد امجد علی اعظمی، حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خاں ، محدث اعظم ہند سید محمد رضوی اشرفی،حافظ ملت مولانا عبدالعزیزمبارکپوری،مولانا محمد سلیمان بھاگلپوری ،حضرت مولانا ثناء اللہ اعظمی ۔ (علیہم الرحمہ) ـ
بیعت و خلافت:
تحصیلِ علم کے بعد حضرت صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی سے شرفِ بیعت حاصل کیا،اور کچھ عرصہ بعد خلافت سےنوازےگئے۔اسی طرح خلیفۂ اعلیٰ حضرت قطبِ مدینہ مولانا ضیاءالدین مدنی،اور شہزادۂ مجدداسلام حضورمفتیِ اعظم ہند علیہم الرحمہ سے بھی خلافت و اجازت سےمشرف ہوئے۔
سیرت و خصائص:
پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، جامع کمالات علمیہ و عملیہ، عالمِ ربانی، صاحبِ فضائل و کمالات صوری و معنوی، مصلحِ ملت، مصلحِ اہلسنت، خطیبِ شیریں بیان، قاریِ قرآن، مدرسِ باکمال، علم و تقویٰ میں بے مثال، خلیفۂ صدرالشریعہ،قطبِ مدینہ، و مفتیِ اعظم ہند، منظورِ نظر حضور حافظِ ملت، حضرت علامہ مولانا قار ی محمد مصلح الدین صدیقی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ نے زندگی کو دینِ اسلام کی خدمت کے لیے وقف کردیا تھا۔ہر ہر لمحہ اشاعتِ دین میں مصروف رہے ۔ بلا خوف لو مۃ لائم ،اعلا ئے کلمۃ الحق کو اپنا نصب العین بنائے رکھا اور مسلکِ اہل سنت وجماعت کی تبلیغ اور فروغ کے سلسلہ میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا ۔
جیسا کہ عرض کیاجا چکا ہے، کہ آپ کو اس وقت کی نابغۂ روزگارہستیوں سے اجازت وخلافت حاصل تھی۔اگرآپ مریدین کی کثرتِ تعدادپہ توجہ دیتے تولاکھوں کی تعدادہوجاتی۔لیکن آپ نے روایتی پیروں کی طرح مریدین کی کثرت کونصب العین نہیں بنایا،بلکہ ساری زندگی درس وتدریس،تصنیف وتالیف، وعظ ونصیحت کے ذریعے اسلام کی حقیقی خدمت فرمائی۔ایساکیوں نہ ہوتا!جب شروع سے تربیت ہی ایسی ہوئی تھی۔
ایک مرتبہ آپ نے اپنے پیرِ کامل حضرت صدر الشریعہ سے عرض کی حضور مجھے کوئی وظیفہ توعنایت فرمادیں ۔ حضرت صدر الشریعہ نے فرمایا: درس و تدریس ہی آپ کے لئے سب سے بڑا وظیفہ ہے ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی ۔ لقب: مصلحِ اہلسنت، مصلحِ ملت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی بن مولانا غلام جیلانی، بن محمد نور الدین، بن شاہ محمد حسین، بن شاہ غلام جیلانی عرف شبر استاد، بن شاہ غلام محی الدین ،بن شاہ محمد یوسف، بن شاہ محمد، بن محمد یوسف (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
11 ربیع الاول 1336ھ، مطابق 24 دسمبر 1917ء، بروز پیر بوقت صبح صادق بمقام قندہا رضلع نانڈیر ریاست حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے نو سال کی عمر میں ناظرہ قرآن کریم مکمل کیا۔ چودہ سال کی عمر میں والد ِگرامی سے حفظ قرآن کی تکمیل اور ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا۔ مزید تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے 1354ھ/ 1935ء دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور میں داخلہ لیا اس کے بعد جامعہ عربیہ ناگپور میں داخلہ لیا اور اسی جامعہ میں علوم ِ دینیہ کی تکمیل ہوئی۔آپ نے اپنے وقت کے مایہ نازاساتذہ سے تحصیل ِ علم کیا۔
جن میں صدر الشریعۃ مفتی محمد امجد علی اعظمی، حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خاں ، محدث اعظم ہند سید محمد رضوی اشرفی،حافظ ملت مولانا عبدالعزیزمبارکپوری،مولانا محمد سلیمان بھاگلپوری ،حضرت مولانا ثناء اللہ اعظمی ۔ (علیہم الرحمہ) ـ
بیعت و خلافت:
تحصیلِ علم کے بعد حضرت صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی سے شرفِ بیعت حاصل کیا،اور کچھ عرصہ بعد خلافت سےنوازےگئے۔اسی طرح خلیفۂ اعلیٰ حضرت قطبِ مدینہ مولانا ضیاءالدین مدنی،اور شہزادۂ مجدداسلام حضورمفتیِ اعظم ہند علیہم الرحمہ سے بھی خلافت و اجازت سےمشرف ہوئے۔
سیرت و خصائص:
پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، جامع کمالات علمیہ و عملیہ، عالمِ ربانی، صاحبِ فضائل و کمالات صوری و معنوی، مصلحِ ملت، مصلحِ اہلسنت، خطیبِ شیریں بیان، قاریِ قرآن، مدرسِ باکمال، علم و تقویٰ میں بے مثال، خلیفۂ صدرالشریعہ،قطبِ مدینہ، و مفتیِ اعظم ہند، منظورِ نظر حضور حافظِ ملت، حضرت علامہ مولانا قار ی محمد مصلح الدین صدیقی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ نے زندگی کو دینِ اسلام کی خدمت کے لیے وقف کردیا تھا۔ہر ہر لمحہ اشاعتِ دین میں مصروف رہے ۔ بلا خوف لو مۃ لائم ،اعلا ئے کلمۃ الحق کو اپنا نصب العین بنائے رکھا اور مسلکِ اہل سنت وجماعت کی تبلیغ اور فروغ کے سلسلہ میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا ۔
جیسا کہ عرض کیاجا چکا ہے، کہ آپ کو اس وقت کی نابغۂ روزگارہستیوں سے اجازت وخلافت حاصل تھی۔اگرآپ مریدین کی کثرتِ تعدادپہ توجہ دیتے تولاکھوں کی تعدادہوجاتی۔لیکن آپ نے روایتی پیروں کی طرح مریدین کی کثرت کونصب العین نہیں بنایا،بلکہ ساری زندگی درس وتدریس،تصنیف وتالیف، وعظ ونصیحت کے ذریعے اسلام کی حقیقی خدمت فرمائی۔ایساکیوں نہ ہوتا!جب شروع سے تربیت ہی ایسی ہوئی تھی۔
ایک مرتبہ آپ نے اپنے پیرِ کامل حضرت صدر الشریعہ سے عرض کی حضور مجھے کوئی وظیفہ توعنایت فرمادیں ۔ حضرت صدر الشریعہ نے فرمایا: درس و تدریس ہی آپ کے لئے سب سے بڑا وظیفہ ہے ۔
❤2
نمونۂ اسلاف:
حضرت مصلحِ اہل سنت علیہ الرحمہ، سلفِ صالحین کی مبارک زندگیوں کا جیتا جاگتا ثبوت تھے ۔ ان کی نشست و برخو است، ان کا ملنا جلنا، ہر عمل میں نہایت سادگی اور جاذبیت (کشش ) تھی ۔
تصنع ، بناوٹ اور خود ستائی جیسی چیزوں کا ان کی ذات سے دور کا بھی کوئی رابطہ نہیں تھا ۔ تلاوتِ قرآن سے انتہائی شغف تھا، یہ ولایت کی علامت بھی ہے ۔
امامت و خطابت ہو یا درس و تدریس کسی کام کو بھی انہوں نے ملازمت اور نوکری کے طور پر نہیں اپنایا بلکہ محض خدمتِ دین، اشاعتِ اسلام اور علم کی تو سیع کے نظریہ سے زند گی بھر بخوشی یہ تمام امور انجام دیتے رہے ۔
انتہائی رقیق القلب ، اور حساس اس قدر کہ پر یشان حال، حاجت مندوں کی درد بھری باتیں سُن کر تڑپ جاتے اور ان کے حق میں دعاء و تعویذ اور ہمدردی و خیر خواہی کرنے میں کوئی کسر نہ رکھتے تھے ۔ بعض اوقات اپنے ہم نشینوں سے فر ماتے: "مجھے دل کا مرض، ان پریشان حال، اہلِ حاجت ہی کی وجہ سے لگا ہے " ۔
آپ علیہ الرحمہ کی شخصیت، زہد و تقویٰ، عہد و وفا، تسلیم و رضا اور حسنِ اخلاق کی جامع مرقع تھی ۔ آپ کی شخصیت مسحور کن حد تک پر کشش تھی ۔ اللہ جل شانہ اور اس کے حبیبِ مکرم ﷺ کے احکام پر سختی سے عمل پیرا تھے ۔
بالخصوص رسولِ اکرم ﷺ، اور شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ، اور جملہ اکابرین اولیا ءاللہ کا عشق آپ کے رگ و پے میں جاری و ساری تھا ۔ اس لئے اولیاء کرام کے مزارات پر حاضری آپ کی زندگی کا معمول رہا ۔
آپ کی ہر محفل اولیاء کرام کے تذکروں سے منور و معطر ہوتی تھی ۔ پرہیزگاری کا یہ عالم تھا کہ کوئی سبق بغیر وضو کے نہ پڑھاتے تھے اور تمام وقت با وضو رہتے تھے ۔ آپ کے مزاج میں تواضع اور حسن ِاخلاق کا عنصر سب سے زیادہ غالب و نمایاں تھا ۔
چالیس برس خلوص و محبت کے ساتھ دینِ اسلام کی خدمت اور آبیاری فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرمائے ۔ (آمین) ـ
وصال:
7 جمادی الثانی 1403ھ / مطابق 23 مارچ 1983ء بروز بدھ بوقت 4:30 آپ نے داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ آپ کا مزار مصلح الدین گارڈن (سابق کھوڑی گارڈن) کراچی میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت (سندھ) ۔ تذکرہ مصلحِ اہلسنت ۔ فقہائے سندھ کی علمی خدمات ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-qari-muslehuddin-siddiqui
حضرت مصلحِ اہل سنت علیہ الرحمہ، سلفِ صالحین کی مبارک زندگیوں کا جیتا جاگتا ثبوت تھے ۔ ان کی نشست و برخو است، ان کا ملنا جلنا، ہر عمل میں نہایت سادگی اور جاذبیت (کشش ) تھی ۔
تصنع ، بناوٹ اور خود ستائی جیسی چیزوں کا ان کی ذات سے دور کا بھی کوئی رابطہ نہیں تھا ۔ تلاوتِ قرآن سے انتہائی شغف تھا، یہ ولایت کی علامت بھی ہے ۔
امامت و خطابت ہو یا درس و تدریس کسی کام کو بھی انہوں نے ملازمت اور نوکری کے طور پر نہیں اپنایا بلکہ محض خدمتِ دین، اشاعتِ اسلام اور علم کی تو سیع کے نظریہ سے زند گی بھر بخوشی یہ تمام امور انجام دیتے رہے ۔
انتہائی رقیق القلب ، اور حساس اس قدر کہ پر یشان حال، حاجت مندوں کی درد بھری باتیں سُن کر تڑپ جاتے اور ان کے حق میں دعاء و تعویذ اور ہمدردی و خیر خواہی کرنے میں کوئی کسر نہ رکھتے تھے ۔ بعض اوقات اپنے ہم نشینوں سے فر ماتے: "مجھے دل کا مرض، ان پریشان حال، اہلِ حاجت ہی کی وجہ سے لگا ہے " ۔
آپ علیہ الرحمہ کی شخصیت، زہد و تقویٰ، عہد و وفا، تسلیم و رضا اور حسنِ اخلاق کی جامع مرقع تھی ۔ آپ کی شخصیت مسحور کن حد تک پر کشش تھی ۔ اللہ جل شانہ اور اس کے حبیبِ مکرم ﷺ کے احکام پر سختی سے عمل پیرا تھے ۔
بالخصوص رسولِ اکرم ﷺ، اور شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ، اور جملہ اکابرین اولیا ءاللہ کا عشق آپ کے رگ و پے میں جاری و ساری تھا ۔ اس لئے اولیاء کرام کے مزارات پر حاضری آپ کی زندگی کا معمول رہا ۔
آپ کی ہر محفل اولیاء کرام کے تذکروں سے منور و معطر ہوتی تھی ۔ پرہیزگاری کا یہ عالم تھا کہ کوئی سبق بغیر وضو کے نہ پڑھاتے تھے اور تمام وقت با وضو رہتے تھے ۔ آپ کے مزاج میں تواضع اور حسن ِاخلاق کا عنصر سب سے زیادہ غالب و نمایاں تھا ۔
چالیس برس خلوص و محبت کے ساتھ دینِ اسلام کی خدمت اور آبیاری فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرمائے ۔ (آمین) ـ
وصال:
7 جمادی الثانی 1403ھ / مطابق 23 مارچ 1983ء بروز بدھ بوقت 4:30 آپ نے داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ آپ کا مزار مصلح الدین گارڈن (سابق کھوڑی گارڈن) کراچی میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت (سندھ) ۔ تذکرہ مصلحِ اہلسنت ۔ فقہائے سندھ کی علمی خدمات ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-qari-muslehuddin-siddiqui
scholars.pk
Hazrat Allama Qari Muslehuddin Siddiqui
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
پیر طریقت ، علامہ قاری مصلح الدین صدیقی نام و نسب: اسمِ گرامی: حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی ۔ لقب: مصلحِ اہلسنت، مصلحِ ملت ۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے: حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی بن مولانا غلام جیلانی، بن محمد نور الدین، بن شاہ محمد حسین، بن شاہ غلام…
https://t.me/islaamic_Knowledge/60222
قاری مصلح الدین صدیقی علیہالرحمہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-qari-muslehuddin-siddiqui
قاری مصلح الدین صدیقی علیہالرحمہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-qari-muslehuddin-siddiqui
❤2
حضرت قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت قاسم رضی اللہ عنہ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاسم رضی اللہ عنہ بن سید المرسلین حضرت محمد ﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کالب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک ۔ (رضی اللہ عنہم اجمعین) ـ
ولادت:
حضرت سیدنا قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور ﷺ کے سب سے پہلے فرزند ہیں جو حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوش مبارک میں اعلانِ نبوت سے قبل پیدا ہوئے ۔
وصال:
حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی کنیت ابو القاسم ان ہی کے نام پر ہے ۔ جمہور علماء کا یہی قول ہے کہ یہ پاؤں پر چلنا سیکھ گئے تھے کہ ان کی وفات ہو گئی اور ابن سعد کا بیان ہے کہ ان کی عمر شریف دو برس کی ہوئی مگر علامہ غلابی کہتے ہیں کہ یہ فقط سترہ ماہ زندہ رہے ۔ واﷲ اعلم ۔ (زرقانی جلد۳ ص ۱۹۴)
ماخذ و مراجع: سیرتِ مصطفیٰ ﷺ
https://scholars.pk/ur/scholar/son-of-holy-prophet-hazrat-qasim-bin-muhammad
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت قاسم رضی اللہ عنہ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاسم رضی اللہ عنہ بن سید المرسلین حضرت محمد ﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کالب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک ۔ (رضی اللہ عنہم اجمعین) ـ
ولادت:
حضرت سیدنا قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور ﷺ کے سب سے پہلے فرزند ہیں جو حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوش مبارک میں اعلانِ نبوت سے قبل پیدا ہوئے ۔
وصال:
حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی کنیت ابو القاسم ان ہی کے نام پر ہے ۔ جمہور علماء کا یہی قول ہے کہ یہ پاؤں پر چلنا سیکھ گئے تھے کہ ان کی وفات ہو گئی اور ابن سعد کا بیان ہے کہ ان کی عمر شریف دو برس کی ہوئی مگر علامہ غلابی کہتے ہیں کہ یہ فقط سترہ ماہ زندہ رہے ۔ واﷲ اعلم ۔ (زرقانی جلد۳ ص ۱۹۴)
ماخذ و مراجع: سیرتِ مصطفیٰ ﷺ
https://scholars.pk/ur/scholar/son-of-holy-prophet-hazrat-qasim-bin-muhammad
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-06-1445 ᴴ | 20-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-06-1445 ᴴ | 21-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1