Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ابن علیم المصبور الرضوى العینی ✩)
⚡ بحالت روزہ منجن کرنا⚡
(سئل) رمضان کے مہینہ میں گل منجن کرنا کیسا ہے وہ بھی حالت روزہ میں؟
سائل: غلام معین الدین چشتی ضیائی
⚡⚡⚡⚡⚡
(فأجاب) حالت روزہ میں ضرورت صحيحہ پر منجن ملنا اس طرح کے اس کے ذرات حلق میں نہ جائیں، مکروہ نہیں ہے. اور مکروہ ہے اگر بے ضرورت صحیحہ ہو البتہ احتیاط کرے. اور اگر غالب احتمال اس جانب ہو کہ منجن حلق میں جائے گا تو مطلقا ممنوع.
فتاوی رضویہ (٥٥٨/١٠) میں ہے :
مسواک مطلقاً جائز ہے اگر چہ بعد زوال، اور منجن ناجائز وحرام نہیں بلکہ اطمینان کافی ہو کہ اس کا کوئی جزو حلق میں نہ جائے گا (یعنی اس کا مزہ حلق یا زبان پر معلوم نہ ہو تو ناجائز وحرام نہیں)، مگر بے ضرورتِ صحیحہ کراہت ضرور ہے۔ درمختار میں ہے: كره له ذوق شئی (روزہ دارکو شَے کا چکھنا مکروہ ہے: الدر المختار، باب مایفسد الصوم، ص: ١٤٨) والله تعالی اعلم.
اور فرمایا: روزہ میں (بے ضرورتِ صحیحہ) منجن ملنا نہ چاہیے. (فتاوی رضویہ، ٥١٨/١٠) واللہ تعالی اعلم.
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
⚡️ کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
⚡️ ٩/ ربیع النور، ١٤٤٠ھ
(سئل) رمضان کے مہینہ میں گل منجن کرنا کیسا ہے وہ بھی حالت روزہ میں؟
سائل: غلام معین الدین چشتی ضیائی
⚡⚡⚡⚡⚡
(فأجاب) حالت روزہ میں ضرورت صحيحہ پر منجن ملنا اس طرح کے اس کے ذرات حلق میں نہ جائیں، مکروہ نہیں ہے. اور مکروہ ہے اگر بے ضرورت صحیحہ ہو البتہ احتیاط کرے. اور اگر غالب احتمال اس جانب ہو کہ منجن حلق میں جائے گا تو مطلقا ممنوع.
فتاوی رضویہ (٥٥٨/١٠) میں ہے :
مسواک مطلقاً جائز ہے اگر چہ بعد زوال، اور منجن ناجائز وحرام نہیں بلکہ اطمینان کافی ہو کہ اس کا کوئی جزو حلق میں نہ جائے گا (یعنی اس کا مزہ حلق یا زبان پر معلوم نہ ہو تو ناجائز وحرام نہیں)، مگر بے ضرورتِ صحیحہ کراہت ضرور ہے۔ درمختار میں ہے: كره له ذوق شئی (روزہ دارکو شَے کا چکھنا مکروہ ہے: الدر المختار، باب مایفسد الصوم، ص: ١٤٨) والله تعالی اعلم.
اور فرمایا: روزہ میں (بے ضرورتِ صحیحہ) منجن ملنا نہ چاہیے. (فتاوی رضویہ، ٥١٨/١٠) واللہ تعالی اعلم.
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
⚡️ کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
⚡️ ٩/ ربیع النور، ١٤٤٠ھ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تربیت افتاء میں
گل منجن کی اجازت کیوں ؟
https://tajmohammadwahidi.blogspot.com/2020/04/blog-post_96.html
✍مولانا تاج محمد واحدی صاحب
گل منجن کی اجازت کیوں ؟
https://tajmohammadwahidi.blogspot.com/2020/04/blog-post_96.html
✍مولانا تاج محمد واحدی صاحب
Blogspot
( تربیت افتاء میں گل منجن کی اجازت کیوں؟)
( تربیت افتاء میں گل منجن کی اجازت کیوں؟) مسئلہ:۔ مولانا تاج محمد واحدی صاحب السلام علیکم و رحمۃ اللہ و بر کا تہ بعد سلام عرض ہے کہ مرک...
شہزادۂ فقیہ ملت مفتی ابرار احمد صاحب قبلہ کی بار گاہ میں چند معروضات
https://tajmohammadwahidi.blogspot.com/2020/05/blog-post_2.html
✍مولانا تاج محمد واحدی صاحب
https://tajmohammadwahidi.blogspot.com/2020/05/blog-post_2.html
✍مولانا تاج محمد واحدی صاحب
Blogspot
(شہزادۂ فقیہ ملت مفتی ابرار احمد صاحب قبلہ کی بار گاہ میں چندمعروضات)
(شہزادۂ فقیہ ملت مفتی ابرار احمد صاحب قبلہ کی بار گاہ میں چندمعروضات) السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکا تہ بسم اللہ الرحمن الرحیم فقیر ن...
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا 🌹 نام ونسب : اسمِ گرامی : ام المؤمنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کنیت : ام القاسم، امِ ہند لقب : طاہرہ سلسلہ نسب اسطرح ہے: خدیجہ بنتِ خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی ۔ سیدہ کا نسب حضور…
*حضرت خدیجۃالکبریٰ اسلام کی عظیم خاتون: جن کے ایثار نے طبقۂ نسواں میں قربانی کی روح پھونک دی*
_[یوم وصال : 10رمضان المبارک]_
غلام مصطفٰی رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
اسلام کی اشاعت و تبلیغ میں طبقۂ نسواں کا کردار نمایاں رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایثار و قربانی اور دین کے لیے جاں نثاری کی مثال قائم کرنے والی اولین خاتون کا نام امہات المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا ہے۔ جنھوں نے ایسے دور میں جب کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلانِ نبوت فرمایا اور سردارانِ قریش، کفارِ مکہ نے اسلام کے دیے بجھانے کو بڑا زور لگایا؛ دین کی حفاظت و صیانت کے لیے آپ نے بے مثال قربانی دی۔ ظلم برداشت کر لیا اور نبوی شان و عظمت کے تحفظ میں نمایاں رہیں۔ صبر و رضا کا پیکر بن کر خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کا فریضہ انجام دیتی رہیں۔ اسلام کے داعیانہ فہم و فراست کی عملی تصویر پیش کرتی رہیں۔ دلوں کی دنیا بدلتی رہیں ؎
وہ عہد ظلم و جہالت کے دل نما پتھر
نبی سے ملتے رہے آئینوں میں ڈھلتے رہے
*سیدہ طاہرہ:*
حضرت خدیجۃالکبریٰ رضی اللہ عنہا کے والد کا نام خویلد بن اسد ہے۔ والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ ہے۔ خاندان قریش کی معزز و دولت مند خاتون تھیں۔ اہلِ مکہ میں اپنی پاکیزگی و پاک دامنی کے سبب ’’طاہرہ‘‘ کے لقب سے معروف تھیں۔
*نکاح:*
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی بلندی، کردار کی عظمت، بے مثالی و کمالِ سیرت دیکھ کر نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ آپ نے سب سے پہلے اسلام قبول فرمایا۔ مصائب سہے، مظالم وتکالیف برداشت کیں، اسلام پر قائم رہیں اور کاشانۂ نبوی میں رفاقت، استقلال کے ساتھ کوہِ استقامت بنی رہیں۔اپنی ساری دولت اور مال و اموال بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں نچھاور فرما دیا۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے راہِ خدامیں خرچ فرما دیا۔
جنتی خواتین میں سب سے افضل حضرت سیدنا خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا، سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا، حضرت مریم رضی اللہ عنہا، حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا ہیں۔جن کی مثالی زندگی قیامت تک کی خواتین اسلام کے لیے رہبر و رہنما ہے۔ نشانِ منزل ہے۔
*وصال:*
سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ۲۵؍ برس کا عرصہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے گزارا۔ ہجرت سے تین برس قبل ۶۵؍ برس کی عمر میں مکہ معظمہ میں ۱۰؍ رمضان المبارک میں وصال ہوا۔ جنت المعلیٰ میں تاج دار کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تدفین فرمائی۔ جن کی بارگاہ کی حاضری روح کی بالیدگی، دل کی ستھرائی کا ذریعہ ہے۔ ماہِ صیام ۱۴۳۷ھ میں راقم نے ۱۰؍ رمضان کو امہات المومنین کی بارگاہِ عظمت و ناز میں حاضری کا شرف حاصل کیا۔ محسوس ہوا کہ چین و سکون اور امن کے باڑے اس بارگاہ سے بٹ رہے ہیں۔ دنیا کی لاکھوں خواتین کو ردائے تطہیر فراہم کرنے والی مقدس خاتون مکہ مکرمہ کے اس بابرکت قبرستان میں محو استراحت ہیں۔
*نمونۂ عمل:*
حضرت خدیجۃالکبریٰ رضی اللہ عنہا بڑی صاحبِ مال تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اخلاق، کردار کی تابندگی کے ساتھ ساتھ مال و منال سے نوازا تھا۔ تجارت میں خوب برکت عطا کی۔ آپ نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن اقدس میں کیا پناہ لی؛ تمام مال راہِ خدا کے لیے بارگاہِ رسالت میں پیش فرما دیا۔ ایثار و مروت کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ سادہ زندگی بسر کی۔ بعد کے دور والوں کے لیے آپ کی حیاتِ طیبہ نمونۂ عمل ہے۔ آپ کی وفا شعار زندگی، جہد مسلسل، کدوکاوش، خوبی و ایثار سبھی مثال ہیں اور پیغامِ عمل بھی۔
لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو:
موجودہ زمانے میں ایک بڑا مسئلہ آزادیِ نسواں کی آڑ میں اسلام کو نشانہ بنائے جانے کا ہے۔قانون سے عاری زندگی یقینی طور پر اعتدال سے رُوگردانی قرار دی جا سکتی ہے۔اسلامی قانون کی پاس داری میں ایک خاتون کی زندگی پاکیزہ و ستھری گزرتی ہے۔ جب کہ موجودہ آزادیِ نسواں کا نعرہ ان معنوں میں کھوکھلا ہے کہ اس میں عورت کی حیثیت محض کھلونے کی ہے، نگہِ ہوس کا شکار ہو کر کتنی ہی خواتین اپنی عفت گنوا بیٹھتی ہیں۔انھیں محض تفریح کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ اس لیے اسلام کے دامنِ تطہیر میں عظمت نسواں بھی سلامت ہے اور وقارِ نسواں بھی قائم و باقی ہے۔ عہدِ رواں کی فحاشی و عیش کوشی نے خواتین کی ذات کو چوراہے پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں ان کی عصمت باقی ہے نہ ان کی عزت و وقعت۔ سلام ہو ! لاکھوں سلام ہو حضرت سیدہ خدیجۃالکبریٰ رضی اللہ عنہا پرجن کی مثالی زندگی نے عفتِ نسواں کو عزم و حوصلہ دیا، مغرب کی تیار کردہ بے حیائی و فحاشی کی آندھیوں میں وقار و احترام سے جینے کا ہنر دیا۔ امہات المومنین کی شان بے نیازی کو سلام، سادہ زندگی کو سلام، پاکیزہ طبیعت کو سلام، ایثار ووفا کے جذبات کو سلام ؎
اہلِ اسلام کی مادرانِ شفیق
بانوانِ طہارت پہ لاکھوں سلام
سیما پہلی ماں کہفِ امن و اماں
حق گزارِ رفاقت پہ لاکھوں سلام
حدائق بخشش از اعلی حضرت
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
_[یوم وصال : 10رمضان المبارک]_
غلام مصطفٰی رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
اسلام کی اشاعت و تبلیغ میں طبقۂ نسواں کا کردار نمایاں رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایثار و قربانی اور دین کے لیے جاں نثاری کی مثال قائم کرنے والی اولین خاتون کا نام امہات المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا ہے۔ جنھوں نے ایسے دور میں جب کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلانِ نبوت فرمایا اور سردارانِ قریش، کفارِ مکہ نے اسلام کے دیے بجھانے کو بڑا زور لگایا؛ دین کی حفاظت و صیانت کے لیے آپ نے بے مثال قربانی دی۔ ظلم برداشت کر لیا اور نبوی شان و عظمت کے تحفظ میں نمایاں رہیں۔ صبر و رضا کا پیکر بن کر خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کا فریضہ انجام دیتی رہیں۔ اسلام کے داعیانہ فہم و فراست کی عملی تصویر پیش کرتی رہیں۔ دلوں کی دنیا بدلتی رہیں ؎
وہ عہد ظلم و جہالت کے دل نما پتھر
نبی سے ملتے رہے آئینوں میں ڈھلتے رہے
*سیدہ طاہرہ:*
حضرت خدیجۃالکبریٰ رضی اللہ عنہا کے والد کا نام خویلد بن اسد ہے۔ والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ ہے۔ خاندان قریش کی معزز و دولت مند خاتون تھیں۔ اہلِ مکہ میں اپنی پاکیزگی و پاک دامنی کے سبب ’’طاہرہ‘‘ کے لقب سے معروف تھیں۔
*نکاح:*
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی بلندی، کردار کی عظمت، بے مثالی و کمالِ سیرت دیکھ کر نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ آپ نے سب سے پہلے اسلام قبول فرمایا۔ مصائب سہے، مظالم وتکالیف برداشت کیں، اسلام پر قائم رہیں اور کاشانۂ نبوی میں رفاقت، استقلال کے ساتھ کوہِ استقامت بنی رہیں۔اپنی ساری دولت اور مال و اموال بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں نچھاور فرما دیا۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے راہِ خدامیں خرچ فرما دیا۔
جنتی خواتین میں سب سے افضل حضرت سیدنا خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا، سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا، حضرت مریم رضی اللہ عنہا، حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا ہیں۔جن کی مثالی زندگی قیامت تک کی خواتین اسلام کے لیے رہبر و رہنما ہے۔ نشانِ منزل ہے۔
*وصال:*
سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ۲۵؍ برس کا عرصہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے گزارا۔ ہجرت سے تین برس قبل ۶۵؍ برس کی عمر میں مکہ معظمہ میں ۱۰؍ رمضان المبارک میں وصال ہوا۔ جنت المعلیٰ میں تاج دار کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تدفین فرمائی۔ جن کی بارگاہ کی حاضری روح کی بالیدگی، دل کی ستھرائی کا ذریعہ ہے۔ ماہِ صیام ۱۴۳۷ھ میں راقم نے ۱۰؍ رمضان کو امہات المومنین کی بارگاہِ عظمت و ناز میں حاضری کا شرف حاصل کیا۔ محسوس ہوا کہ چین و سکون اور امن کے باڑے اس بارگاہ سے بٹ رہے ہیں۔ دنیا کی لاکھوں خواتین کو ردائے تطہیر فراہم کرنے والی مقدس خاتون مکہ مکرمہ کے اس بابرکت قبرستان میں محو استراحت ہیں۔
*نمونۂ عمل:*
حضرت خدیجۃالکبریٰ رضی اللہ عنہا بڑی صاحبِ مال تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اخلاق، کردار کی تابندگی کے ساتھ ساتھ مال و منال سے نوازا تھا۔ تجارت میں خوب برکت عطا کی۔ آپ نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن اقدس میں کیا پناہ لی؛ تمام مال راہِ خدا کے لیے بارگاہِ رسالت میں پیش فرما دیا۔ ایثار و مروت کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ سادہ زندگی بسر کی۔ بعد کے دور والوں کے لیے آپ کی حیاتِ طیبہ نمونۂ عمل ہے۔ آپ کی وفا شعار زندگی، جہد مسلسل، کدوکاوش، خوبی و ایثار سبھی مثال ہیں اور پیغامِ عمل بھی۔
لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو:
موجودہ زمانے میں ایک بڑا مسئلہ آزادیِ نسواں کی آڑ میں اسلام کو نشانہ بنائے جانے کا ہے۔قانون سے عاری زندگی یقینی طور پر اعتدال سے رُوگردانی قرار دی جا سکتی ہے۔اسلامی قانون کی پاس داری میں ایک خاتون کی زندگی پاکیزہ و ستھری گزرتی ہے۔ جب کہ موجودہ آزادیِ نسواں کا نعرہ ان معنوں میں کھوکھلا ہے کہ اس میں عورت کی حیثیت محض کھلونے کی ہے، نگہِ ہوس کا شکار ہو کر کتنی ہی خواتین اپنی عفت گنوا بیٹھتی ہیں۔انھیں محض تفریح کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ اس لیے اسلام کے دامنِ تطہیر میں عظمت نسواں بھی سلامت ہے اور وقارِ نسواں بھی قائم و باقی ہے۔ عہدِ رواں کی فحاشی و عیش کوشی نے خواتین کی ذات کو چوراہے پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں ان کی عصمت باقی ہے نہ ان کی عزت و وقعت۔ سلام ہو ! لاکھوں سلام ہو حضرت سیدہ خدیجۃالکبریٰ رضی اللہ عنہا پرجن کی مثالی زندگی نے عفتِ نسواں کو عزم و حوصلہ دیا، مغرب کی تیار کردہ بے حیائی و فحاشی کی آندھیوں میں وقار و احترام سے جینے کا ہنر دیا۔ امہات المومنین کی شان بے نیازی کو سلام، سادہ زندگی کو سلام، پاکیزہ طبیعت کو سلام، ایثار ووفا کے جذبات کو سلام ؎
اہلِ اسلام کی مادرانِ شفیق
بانوانِ طہارت پہ لاکھوں سلام
سیما پہلی ماں کہفِ امن و اماں
حق گزارِ رفاقت پہ لاکھوں سلام
حدائق بخشش از اعلی حضرت
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 via @toolkitbot
ْ ام المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہَا کا مختصر تعارف ! ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یومِ وِصال 🌹 10 رمضان المبارک ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ کنیت : ام القاسم = لقب : الکبریٰ والد : خویلد 🌹 والدہ : فاطمہ اولادِ اطہار : سوائے حضرت ابراہیم…
🌹 ام المومنین حـضرت سیدتنا
خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰهُ تَبَارَڪَ
وَ تَعَالیٰ عَنۡہَا کا مختصر تعارف !
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ وِصال 🌹 10 رمضان المبارک
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کنیت : ام القاسم = لقب : الکبریٰ
والد : خویلد 🌹 والدہ : فاطمہ
اولادِ اطہار : سوائے حضرت ابراہیم
کے تمام اولادِ اطہار انہیں سـے ہوئی
ولادت : عام الفیل سـے ¹⁵ سال پہلـے
عمر : 65 سال = پَینسٹھ سال
وصال-نبوت کے ¹⁰ویں سال ¹⁰رمضان
تدفین : مکہ مکرمہ میں واقع حجون
کے مقام پر جنت المعلیٰ میں کیا گیا-
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰهُ تَبَارَڪَ
وَ تَعَالیٰ عَنۡہَا کا مختصر تعارف !
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ وِصال 🌹 10 رمضان المبارک
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کنیت : ام القاسم = لقب : الکبریٰ
والد : خویلد 🌹 والدہ : فاطمہ
اولادِ اطہار : سوائے حضرت ابراہیم
کے تمام اولادِ اطہار انہیں سـے ہوئی
ولادت : عام الفیل سـے ¹⁵ سال پہلـے
عمر : 65 سال = پَینسٹھ سال
وصال-نبوت کے ¹⁰ویں سال ¹⁰رمضان
تدفین : مکہ مکرمہ میں واقع حجون
کے مقام پر جنت المعلیٰ میں کیا گیا-
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 via @toolkitbot
ْ ام المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَـ وَ تَعَالیٰ عَنۡہَا : تاریخِ وِصال تدفین ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یومِ وِصال 🌹 10 رمضان المبارک ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ وصال : آپ کی وفات ¹⁰رمضان المبارک 10 نبوی ، 65 برس کی عمر میں - مکۃ المکرمہ میں ہوئی ،…
ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡـہَا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت عام الفیل سے¹⁵سال قبل
یومِ وصال ¹⁰رمضان المبارک ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡـہَا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت عام الفیل سے¹⁵سال قبل
یومِ وصال ¹⁰رمضان المبارک ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻