🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.87K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.81K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-06-1445 ᴴ | 20-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-06-1445 ᴴ | 20-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
3
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مولانا سعد الدین کاشغری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ شروع حال میں علوم کی تحصیل میں مشغول تھے ۔ کتب مستعملہ جمع کیں ۔ ان کا مطالعہ کرتے رہے ۔ ظاہری جمعیت بھی رکھتے تھے ۔ جب اس طریق تصوف کا سامان پیدا کیا تو سب کو چھوڑ چھاڑ کر پورے مجرد ہو گئے اور مولانا نظام الدین کی خدمت میں پہنچے ۔

فرماتے تھے کہ چند سال کے بعد جب میں ان کی خدمت میں پہنچا ۔ مجھ کو حرمین شریفین زاد ہما اللہ تعالی تشریفاً و تکریماً کی زیارت کا ارادہ قویٰ ہوا ۔ میں نے آپ سے اجازت مانگی ۔ فرمایا کہ میں ہر چند دیکھتا ہوں لیکن کو اس سال حاجیوں کے قافلہ میں نہیں دیکھا اور اس سے پہلے کئی واقعات میں نہیں دیکھے تھے ۔ جس سے مجھے وہم ہوتا تھا ۔ آپ نے کہا تھا کہ تم ڈرو نہیں ۔ فرمایا جب جاؤ تو وہ واقعات مولانا زین الدین کی خدمت میں عرض کرنا ۔ کیونکہ وہ ایک مرد با شرع اور سنت کے طریق پر ثابت ہیں ۔

آپ کا مقصود شیخ زید الدین خوانی سے تھا کہ ان دنوں میں وہ خراسان میں ارشاد شیخوخت کے مقام پر معین تھے ۔ جب میں خراسان میں گیا تو حج کا جانا جیسا کہ مولانا نطام الدین نے فرمایا تھا ملتوی ہو گیا ۔ اس کے بعد کئی سالوں کے بعد میسر ہوا ۔ جب میں شیخ زین الدین کی خدمت میں پہنچا اور ان واقعات کو بیان کیا ۔ آپ نے فرمایا کہ ہم سے بیعت کرو اور ہماری ارادت کی قید میں آ جاؤ ۔ میں نے کہا وہ بزرگ کہ جن سے میں نے طریق لیا ہے ابھی زندہ ہیں ۔ آپ امین ہیں اگر آپ جانتے ہیں کہ اس گروہ کے طریق میں جائز ہے تو میں ایسا ہی کروں گا ۔ انہوں نے فرمایا کہ استخارہ کرو ۔ میں نے کہا مجھے اپنے استخارہ پر بھروسہ نہیں ہے ۔ آپ استخارہ کریں ۔

فرمایا کہ تم بھی استخارہ کرو، ہم بھی کرتے ہیں ۔ جب رات آئی میں نے استخارہ کیا ۔ تو دیکھا کہ خواجگان کا ایک گروہ ایک پیر کی زیارت گاہ پر کہ جہاں شیخ مولانا زین الدین اس وقت موجود تھے آتا ہے۔ درختوں کو اکھیڑتے ہیں۔ دیواروں کو گیراتے ہیں، اور ان پر غضب و قہر کے آثار ظاہر ہیں۔ میں نے بیان کیا کہ یہ پوری شان اس پر ہے کہ میں دوسرے طریقہ پر نہ آؤں۔ تب مجھے تسلی ہوگئی اور پاؤں پھیلا کر آرام سے سو رہا۔ جب صبح کے وقت سیخ کی مجلس میں آیا تو بغیر اس کے کہ میں اپنا واقع آپ سے عرض کروں۔ فرمایا کہ طریقہ ایک ہی ہے، اور سب ایک ہی طرف لوٹتے ہیں۔ اسی طریق پر مشغول رہے۔ اگر کوئی واقع یا مشکل پیش آئے تو ہم سے کہو ۔ جس قدر ہم سے ہو سکے گا، مدد کریں گے۔

مولوی پر کہ غلبہ حال جس پر موجود تھے۔ظاہر ہوا۔تھوڑی سی وجہ سے غیبت کے آثار بے خودی کی کیفیت معلوم ہونے لگی۔جس شخص کو اس حال سے واقفیت نہ تھی،وہ یہ وہم کرتا تھاکہ شاید آپ پر خواب کا غلبہ ہے۔میں شروع شروع جب آپکی صحبت میں پہنچا ۔جامو مسجد میں آپکے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔جیسے ان کی عادت تھی اپنے آپ سے غائب ہوگئے۔مجھے اس کا گمان ہوا کہ شاید آپ کو نیند آتی ہے۔میں نے کہا کہ ایک گھڑی اگر آرام کرلیں،تو مضائقہ نہیں۔آپ نے تبسم فرمایا ،اور کہا تم شاید اس کا اعتقاد نہیں رکھتےکہ ہم کو خواب کے سوا ایک اور کام بھی ہے۔

ایک دن آپ کہتے تھے کہ بعض درویش خواب و بیداری میں اس کے سوا اور کچھ فرق نہیں کر سکتےکہ اپنے میں ایک قسم کا ہلکا پن جو نیند کے بعد ہوا کرتا ہےپاتے ہیں۔ورنہ ان کے شغل کی کیفیت نیند اور بیداری میں ایک طریق پر ہے۔بلکہ خواب کی حالت میں کہ بعض رکاوٹیں جاتی رہتی ہیں۔زیادہ صاف اور زیادہ قوی ہوجاتی ہے۔مجھے ایسا گمان ہے کہ جو کچھ آپ کہتے تھے،وہ اپنے حال کی طرف اشارہ تھا۔وللہ تعالے اعلم۔ ایک درویش جو آپکی صحبت میں جایا کرتا تھا۔یہ بیان کرتا ہے کہ مجھ کو وعظ کی مجلس میں جب درویشوں کا تعارف دل پر گزرتا تو ایک بڑا تغیر ہوتا تھا۔فریادیں بہت سی لگاتا تھااور اس سےپردہ میں ہوجا تا تھا۔ایک دن میں نے آپ سے کہا،فرمایا کہ جب تیری حالت بدلے مجھ کو خیال کرلیاکر۔جن دنوں میں کہ آپ عرب کے سفر میں تھے۔ایک مدرسی میں جہاں پر ایک بزرگ وعظ کر رہے تھے۔میری حالت بدلنے لگی تو میں نے آپ کی طرف متوجہ کی۔میں دیکھا کہا اسی مدرسہ سے آپ نکلے ہیں اور میرےسامنے آگئے ہیں۔اپنے دونوں ہاتھ کندھوں پررکھے ہیں۔میں آپے سے باہر ہوگیااور بےہوش ہوگیا۔جس وقت کہ مجھے ہوش آیا وعظ کی مجلس ختم ہو چکی تھی۔لوگ چلے گئے اور مجھ پر دھوپ آگئی۔وہ دن رمضان شریف کے آخری جمعرات کا تھاکہ اس کے بعد عید تک اور کوئی جمعرات نہ تھی۔میں نے اس کودل میں رکھاکہ جب آپ مکہ معظمہ واپس آئیں گے تو میں آپ سے کہو گا۔جب آپ مکہ معظمہ سے تشریف واپس لائے اور میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ایک جماعت آپکی خدمت میں بیٹھی ہوئی تھی۔میں وہ حال بیان نہ کر سکا۔آپ نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔کہ وہ جمعرات تھی جس کے بعد عید تک دوسری جمعرات نہیں تھی

وصال:
آپ ظہر کی نماز کے درمیان چہار شنبہ کے دن۷ جمادی الاخری ۸۶۰ ھ میں انتقال فرما گئے۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-saaduddin-kashghari
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت خواجہ نظام الدین خاموش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ خواجہ علا ؤ الدین کے مرید ہیں۔آپ نے خواجہ بزرگ کو تحصیل علم کے زمانہ میں بخارا کے ایک عالم کی صحبت میں دیکھا تھا۔اس کے بعد خواجہ علاؤ الدین کی صحبت میں پہنچے ہیں ۔ آپ کی صحبت میں پہنچنے سے پہلے طرح طرح کی ریاضت و مجاہدات میں مشغول رہتے تھے۔تزکیہ نفس اور دل کے تصفیہ میں بڑی سعی کیا کرتے تھے۔فرماتے ہیں میں نے اول دفعہ جبکہ میں خواجہ علاؤ الدین رحمتہ اللہ کی صحبت میں پہنچا تو دیکھاکہ خواجہ بزرگ کے مریدوں میں سے ایک شخص آپ کے مکان کے باہر بیٹھا ہوا ہے۔اس نے مجھے دیکھا تو کہاکہ مولانا نظام الدین اب وقت آگیا کہ تم اپنے زہدوں اور پاکیزگیوں سے گزر جاؤ گے۔یہ ان کی بات مجھ کو گراں معلوم ہوئی۔

جب خواجہ کے پاس آیا تو آپ نے بھی یہی فرمایالیکن آپ کا فرمانا مجھے گراں نہ معلوم ہوا۔مولوی مخدومی مولانا سعد الدین کاشغری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ ہمیشہ آپ کا کرتہ آگے سے چرب رہا کرتا تھا۔مجھ کو یہ مشکل معلوم ہوا کہ اس کا سبب کیا ہے۔آخر ایسا معلوم ہوا کہ کھانا کھانے کے وقت میں غلبہ حال کی وجہ سے جو آپ کو رہتا تھا۔آپ کے ہاتھ مبارک سے چمچہ گرجایا کرتا تھااور جو شور با کھایا کرتے ہیں وہ کپڑے پر گر جایا کرتا ہے۔ اس لیے چکنا ہوجاتا ہےاور آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جب خواجہ علاؤ الدین کی صحبت میں ان پر جذبہ اور غلبہ کے آثار ظاہر ہوئےتھے۔خواجہ نے چاہا کہ یہ آثار ان سے واپس لے لیں۔ تب آپ نے فرمایا کہ بغرا(بغرا ایک قسم کا پلاؤ ہوتا ہے جس میں گوشت، میدہ، چنے روغن پڑتا ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اس قسم کا پلاؤترکستان پکتا ہے۔ترشی وغیرہ پڑتی ہے۔چونکہ بغرا خان بادشاہ نے اس کی ایجاد کی تھی۔اس لیے اس کو بغرا کہتے ہیں۔)پکائیں اور کواجہ نے کمر باندھی تھیاور خود مشغول تھے۔جب بغرا ڈالنے کا وقت آیا تو مولانا نظام الدین کو بلایا اور شوشسان (چاندی کی سلاخ یا چمچہ) ان کے ہاتھ میں دیا کہ بغرا ڈال دیں۔ جب ایک بغرا ڈالا تو مغلوب ہوگئےاور شوشہ ان کے ہاتھ سے گر پڑا۔خواجہ نے فرمایاکہ مولانا نظام الدین اٹھو جس کے خدائے تعالی نے اپنی طرف مشغول کر دیا ہوہم نہیں کرسکتے کہ اس کو اس سے ہٹالیں۔

آپ یہ فرماتے ہیں کہ مولانا نظام الدین فرماتے تھے، ایک دن حضرت خواجہ کا ارادہ ہوا کہ خواجہ علی حکیم ترمذی علیہ الرحمۃ کی زیارت کریں۔میں ہمراہ نہ گیااور جہاں کہ تھا وہیں متوجہ ہو کر بیٹھ گیا۔ ان کی روح حاضر ہوئی۔ جب حضرت خواجہ ان کے مزار پر پہنچے تو خالی پایا۔ انہوں نے ضرور اس روح کی جہت کو معلوم کرلیا ہوگا۔جب واپس آتے تو چاہا کہ میری طرف متوجہ ہوجائیں اور تصرف کریں۔میں بھی متوجہ ہوگیا ـ

اپنے آپ کو کبوتر کی طرح پایااور خواجہ کو باز کی طرح کہ میرے پیچھے بھاگتا ہےجہاں میں بھاگتا تھا وہ میرے پیچھے ہوتے تھے۔ آخر میں بے قرار ہو گیا اور حضرت رسالت پناہ ﷺ کی روحانیت مبارک میں پناہ لی اور حضور کے بے نہایت انوار میں محو ہوگیا۔ اب خواجہ کو قابو پانے کی طاقت نہ رہی اس غیرت سے آپ بیمار ہوگئےاور کسی نے بیماری کا سبب نہ جانا۔یہ بھی آپ فرماتے تھے کہ آپ کے مخلصوں میں سے ایک شخص کو قویٰ مرض پیدا ہوگیا۔آپ نے فرمایا کہ ہم اس کی بیمار پرسی کو جاتے ہیں۔راستہ میں جاتے تھے تو کہنے لگے فلاں شخص ہماری بڑی شائستہ خدمتیں کرتا رہا،ہمیں چاہیے کہ اس کی بیمار پرسی کو جائیں اور اس کے بوجھ کو تلے آئیں۔

اس کی بیماری اٹھالیں۔میرا دل اس سے بہت ڈرگیاجب آپ اس کے سرہانے بیٹھے تو وہ بستر پر پڑا ہوا تھا۔بات اور حرکت کرنے کی طاقت اس میں نہ تھی۔مولانا ایک گھڑی متوجہ ہو کر بیٹھ گئے اتنے میں وہ شخص بیٹھ گیا اور باتیں کرنے لگا۔آپ نے سر اٹھایا اور فرمایا کہ یہ بوجھ بھی تمہارے حوالہ ہے تم بڑی باتیں بناتے رہتے ہو۔جب باہر آئے تو فرمایا کہ وہ چلنے والا ہے اور اس کا بوجھ اٹھا نہیں سکتےہم نے پھر اسی کے حوالہ کردیا۔چنانچہ وہ شخص اس مرض میں فوت ہو گیا ۔
2
آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ایک رات منکروں میں سے ایک شخص آپ کی نسبت باتیں کر رہا تھا اور میں بھی اس کے مقابلہ میں باتیں کر تا تھا،چنانچہ بات بڑھ گئی اور جہاں کہ ہم تھے ۔ان کا مکان دور تھا یہ ممکن نہ تھا کہ آواز وہاں تک پہنچے۔جب میں صبح کو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمایا،کل تمہاری آواز ہم کو پریشان کرتی تھی۔تم کو چاہیے کہ جو شخص کچھ کہے ،اپنی طبیعت کو ادھر مشغول نہ کرو۔اپنے کام میں لگے رہو ۔جناب مخدومی خواجہ عبید اللہ اوام اللہ القابہم فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دن ان کی زیارت کا احرام باندھا تھا،تو میرے دوستوں میں سے ایک دوست راہ میں مجھے ملا۔اس نے شراب پی ہوئی تھی اور اس کے آثار اس پر ظاہر تھے۔اس نے مجھے باتوں میں لگا لیا۔جب آپ کی خدامت میں پہنچا تو آپ نے فرمایا ،شاید تم نے شراب پی ہے۔میں نے عرض کیا کہ نہیں۔فرمایا کہ پھر تمہاری کیا حالت ہے۔میں نے کہا،راستہ میں ایک مست سے ملا تھا۔اس سے چند باتیں کی تھیں۔

فرمایا کہ پس یہی وہ حالت ہےکہ تم کو اس کا اثر ہو گیا۔آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ مولانا نظام الدین فرماتے تھے۔سمرقذ کے ایک بزرگ جس کو ہماری نسبت بہت اخلاص اور محبت وارادت تھی بیمار ہوگیا۔یہاں تک کہ مرنے کہ قریب آگیا۔ان کے فرزنددوں اور متعلقین نے بہت عاجزی کی۔میں نے مراقبہ کیا ۔دیکھا کہ اس کی زندگی اور بقا سوائے اپنے ضمان میں لینے کے نہیں۔میں اس کو ضمان میں لیا۔اس کو صحت ہو گئی ۔کچھ عرصہ کے بعد ہماری نسبت ایک تہمت ہوگئی جو ہماری ذلت کا باعث ہوئی۔اور وہ شخص اس کام میں سعی کر سکتا تھا۔جس سے وہ تہمت دفعہ ہو جاتی،مگر اس نے خودداری کی اور اس میں دخل نہ دیا۔ہماری طبیعت اس سے ناراج ہوگئی۔ہم نے اس کو اپنے ضمان سے نکال دیا۔تب وہ اس وقت گر پڑااور مرگیا۔آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ایک دن مجھے یہ خبر دی گئی کہ مولانا بیمار ہوگئے۔

جب میں آپ کی خدمت میں گیا تو آپ کو سخت لرزہ ہو رہا تھا۔چنانچہ آگ جلائی ہوئی تھی اور بہت سے کپڑے آپ پر ڈالے گئے تھے۔آپ کو کچھ تسکین نہ ہوئی۔میں ایک گھڑی تک بیٹھا۔آپ کے مریدوں میں سے ایک شخص جس نے گیہوں چکی میں پیسنے کے لیے لے گیا تھا۔آیا اس کے کپڑے تر تھےاور بڑی سردی کا مارا تھاکہ چکی کی راہ میں اس پر پانی پڑا تھا۔جب مولانا نے اس کو دیکھا تو فرمایا کہ اس کو گرم کروکیونکہ یہ اسی کی سردی ہے جو مجھ میں اثر کر گئی ہے ۔جب ایسا کیا گیا تو آپ کی سردی جاتی رہی اور ہوش آ گیا ۔

( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-nizamuddin-khamosh
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
پیر طریقت ، علامہ قاری مصلح الدین صدیقی

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی ۔ لقب: مصلحِ اہلسنت، مصلحِ ملت ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی بن مولانا غلام جیلانی، بن محمد نور الدین، بن شاہ محمد حسین، بن شاہ غلام جیلانی عرف شبر استاد، بن شاہ غلام محی الدین ،بن شاہ محمد یوسف، بن شاہ محمد، بن محمد یوسف (علیہم الرحمہ) ـ

تاریخِ ولادت:
11 ربیع الاول 1336ھ، مطابق 24 دسمبر 1917ء، بروز پیر بوقت صبح صادق بمقام قندہا رضلع نانڈیر ریاست حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے نو سال کی عمر میں ناظرہ قرآن کریم مکمل کیا۔ چودہ سال کی عمر میں والد ِگرامی سے حفظ قرآن کی تکمیل اور ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا۔ مزید تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے 1354ھ/ 1935ء دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور میں داخلہ لیا اس کے بعد جامعہ عربیہ ناگپور میں داخلہ لیا اور اسی جامعہ میں علوم ِ دینیہ کی تکمیل ہوئی۔آپ نے اپنے وقت کے مایہ نازاساتذہ سے تحصیل ِ علم کیا۔

جن میں صدر الشریعۃ مفتی محمد امجد علی اعظمی، حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خاں ، محدث اعظم ہند سید محمد رضوی اشرفی،حافظ ملت مولانا عبدالعزیزمبارکپوری،مولانا محمد سلیمان بھاگلپوری ،حضرت مولانا ثناء اللہ اعظمی ۔ (علیہم الرحمہ) ـ

بیعت و خلافت:
تحصیلِ علم کے بعد حضرت صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی سے شرفِ بیعت حاصل کیا،اور کچھ عرصہ بعد خلافت سےنوازےگئے۔اسی طرح خلیفۂ اعلیٰ حضرت قطبِ مدینہ مولانا ضیاءالدین مدنی،اور شہزادۂ مجدداسلام حضورمفتیِ اعظم ہند علیہم الرحمہ سے بھی خلافت و اجازت سےمشرف ہوئے۔

سیرت و خصائص:
پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، جامع کمالات علمیہ و عملیہ، عالمِ ربانی، صاحبِ فضائل و کمالات صوری و معنوی، مصلحِ ملت، مصلحِ اہلسنت، خطیبِ شیریں بیان، قاریِ قرآن، مدرسِ باکمال، علم و تقویٰ میں بے مثال، خلیفۂ صدرالشریعہ،قطبِ مدینہ، و مفتیِ اعظم ہند، منظورِ نظر حضور حافظِ ملت، حضرت علامہ مولانا قار ی محمد مصلح الدین صدیقی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ نے زندگی کو دینِ اسلام کی خدمت کے لیے وقف کردیا تھا۔ہر ہر لمحہ اشاعتِ دین میں مصروف رہے ۔ بلا خوف لو مۃ لائم ،اعلا ئے کلمۃ الحق کو اپنا نصب العین بنائے رکھا اور مسلکِ اہل سنت وجماعت کی تبلیغ اور فروغ کے سلسلہ میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا ۔

جیسا کہ عرض کیاجا چکا ہے، کہ آپ کو اس وقت کی نابغۂ روزگارہستیوں سے اجازت وخلافت حاصل تھی۔اگرآپ مریدین کی کثرتِ تعدادپہ توجہ دیتے تولاکھوں کی تعدادہوجاتی۔لیکن آپ نے روایتی پیروں کی طرح مریدین کی کثرت کونصب العین نہیں بنایا،بلکہ ساری زندگی درس وتدریس،تصنیف وتالیف، وعظ ونصیحت کے ذریعے اسلام کی حقیقی خدمت فرمائی۔ایساکیوں نہ ہوتا!جب شروع سے تربیت ہی ایسی ہوئی تھی۔

ایک مرتبہ آپ نے اپنے پیرِ کامل حضرت صدر الشریعہ سے عرض کی حضور مجھے کوئی وظیفہ توعنایت فرمادیں ۔ حضرت صدر الشریعہ نے فرمایا: درس و تدریس ہی آپ کے لئے سب سے بڑا وظیفہ ہے ۔
2
نمونۂ اسلاف:
حضرت مصلحِ اہل سنت علیہ الرحمہ، سلفِ صالحین کی مبارک زندگیوں کا جیتا جاگتا ثبوت تھے ۔ ان کی نشست و برخو است، ان کا ملنا جلنا، ہر عمل میں  نہایت سادگی اور جاذبیت (کشش ) تھی ۔

تصنع ، بناوٹ اور خود ستائی جیسی چیزوں کا ان کی ذات سے دور کا بھی کوئی رابطہ نہیں تھا ۔ تلاوتِ قرآن سے انتہائی شغف تھا، یہ ولایت کی علامت بھی ہے ۔

امامت و خطابت ہو یا درس و تدریس کسی کام کو بھی انہوں نے ملازمت اور نوکری کے طور پر نہیں اپنایا بلکہ محض خدمتِ دین، اشاعتِ اسلام اور علم کی تو سیع کے نظریہ سے زند گی بھر بخوشی یہ تمام امور انجام دیتے رہے ۔

انتہائی رقیق القلب ، اور حساس اس قدر کہ پر یشان حال، حاجت مندوں کی درد بھری باتیں سُن کر تڑپ جاتے اور ان کے حق میں دعاء و تعویذ اور ہمدردی و خیر خواہی کرنے میں کوئی کسر نہ رکھتے تھے ۔ بعض اوقات اپنے ہم نشینوں سے فر ماتے: "مجھے دل کا مرض، ان پریشان حال، اہلِ حاجت ہی کی وجہ سے لگا ہے " ۔

آپ علیہ الرحمہ کی شخصیت، زہد و تقویٰ، عہد و وفا، تسلیم و رضا اور حسنِ اخلاق کی جامع مرقع تھی ۔ آپ کی شخصیت مسحور کن حد تک پر کشش تھی ۔ اللہ جل شانہ اور اس کے حبیبِ مکرم ﷺ کے احکام پر سختی سے عمل پیرا تھے ۔

بالخصوص رسولِ اکرم ﷺ، اور شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ، اور جملہ اکابرین اولیا ءاللہ کا عشق آپ کے رگ و پے میں جاری و ساری تھا ۔ اس لئے اولیاء کرام کے مزارات پر حاضری آپ کی زندگی کا معمول رہا ۔

آپ کی ہر محفل اولیاء کرام کے تذکروں سے منور و معطر ہوتی تھی ۔ پرہیزگاری کا یہ عالم تھا کہ کوئی سبق بغیر وضو کے نہ پڑھاتے تھے اور تمام وقت با وضو رہتے تھے ۔ آپ کے مزاج میں تواضع اور حسن ِاخلاق کا عنصر سب سے زیادہ غالب و نمایاں تھا ۔

چالیس برس خلوص و محبت کے ساتھ دینِ اسلام کی خدمت اور آبیاری فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرمائے ۔ (آمین) ـ

وصال:
7 جمادی الثانی 1403ھ / مطابق 23 مارچ 1983ء بروز بدھ بوقت 4:30 آپ نے داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ آپ کا مزار مصلح الدین گارڈن (سابق کھوڑی گارڈن) کراچی میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے ۔

ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت (سندھ) ۔ تذکرہ مصلحِ اہلسنت ۔ فقہائے سندھ کی علمی خدمات ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-qari-muslehuddin-siddiqui
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت قاسم رضی اللہ عنہ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاسم رضی اللہ عنہ بن سید المرسلین حضرت محمد ﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کالب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک ۔ (رضی اللہ عنہم اجمعین) ـ

ولادت:
حضرت سیدنا قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور ﷺ کے سب سے پہلے فرزند ہیں جو حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوش مبارک میں اعلانِ نبوت سے قبل پیدا ہوئے ۔

وصال:
حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی کنیت ابو القاسم ان ہی کے نام پر ہے ۔ جمہور علماء کا یہی قول ہے کہ یہ پاؤں پر چلنا سیکھ گئے تھے کہ ان کی وفات ہو گئی اور ابن سعد کا بیان ہے کہ ان کی عمر شریف دو برس کی ہوئی مگر علامہ غلابی کہتے ہیں کہ یہ فقط سترہ ماہ زندہ رہے ۔ واﷲ اعلم ۔ (زرقانی جلد۳ ص ۱۹۴)

ماخذ و مراجع: سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

https://scholars.pk/ur/scholar/son-of-holy-prophet-hazrat-qasim-bin-muhammad
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-06-1445 ᴴ | 20-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-06-1445 ᴴ | 21-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1