صدیق نہیں کی جاتی اور نہ ہی کوئی فتوہی جاری کیا جاتا ہے ،بلکہ کسی سوال کے جواب میں اگر ترددہوتا ہے تو سال سال بھر روک دیا جاتا ہے پھر کامل اطمینان کے بعد ہی جاری کیا جاتا ہے۔الحمد للہ مذکورہ فتوی بھی مکمل اطمینان وایقان کے بعد ہی جاری ہوا ہے ،نہ اس وقت کوئی تردد تھا اور نہ ہی آج کوئی تردد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ واحدی صاحب نے بے سوچےسمجھے بس قلم اُٹھایا اور لکھنا شروع کردیایہ بھی نہیں سوچاکہ کس کے بارے میں لکھ رہاہوں ،سراج الفقہا فقیہ اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین رضوی برکاتی مد ظلہ العالی صدر شعبۂ افتا وصدر المدرسین جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑہ کی شان یہ ہے کہ جب تک آپ کو کامل اطمینان قلب حاصل نہیں ہوجاتا ہرگز نہ کسی فتوی کی تصدیق کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی فتوی جاری کرنے کا حکم دیتے ہیں ،ناچیز کو بہت قریب سے حضور سراج الفقہا کی زندگی کو دیکھنے کا موقع ملا اور چودہ پندرہ سال تک ان کی خدمت میں رہ کر فتوی نویسی کا موقع میسر آیا کبھی بھی اس کے خلاف نہ پایا ۔ان کے تعلق سے اتنی بڑی بات کہہ دی کہ بے پڑھے اور سمجھے تصدیق کردی ۔حضور سراج الفقہامد ظلہ العالی کی ذات صرف عالم یا فقیہ ہی کی نہیں بلکہ مفتی گر کی ہے ہم جیسے سو دو سو نہیں بلکہ ہزاروں علمااور فقہا آپ کے شاگرد ہیں۔اس لئے مجھے یہ یقین ہو چلا ہے کہ واحدی صاحب اتنی واضح اور عیاں بات کو بھی یا تو سمجھ نہ سکے یا بے سمجھے جو پایا لکھ مارا۔الامان والحفیظ۔
ثالثاً: ’’مولانا وقار علی احسانی‘‘جنہوں نے مرکز میں رہ کر یہ فتوی تحریر کیاہے ان کے بارے میں واحدی صاحب نے لکھا ہے ’’ان حضرات کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا جو تربیت افتا کے حوالہ سے فتوی دیتے ہیں وہ عبارت کو سمجھتے بھی ہیں یا صرف عبارت نقل کردیتے ہیں‘‘یہ ہیں واحدی صاحب کے تعلّی سے پُر جملے ،لگتا ہے کتنے بڑے فقیہ ہیں کہ ہر کوئی ان کو اپنے سامنے بوناہی نظرآتا ہے اور حال یہ ہے کہ فتاوی بحر العلوم کی عبارت خود نہ سمجھ سکے کہ اس میں گل منجن کی ایک خاص صورت کا ذکر ہے اور واحدی صاحب نے مطلقاً گل منجن کے استعمال کی تمام صورتوں کے لئے فتاوی بحر العلوم کا جزئیہ نقل کردیا تو خود اپنا حال یہ ہے کہ بے سمجھے عبارت نقل کردی ہے اور اپنی برتری دکھانے کے لئے ناسمجھی کا الزام دوسرے پر مِڑھ دیا۔
رابعاً: مولانا وقار علی احسانی نے جو عبارت نقل کی ہے وہ فقہی سیمینار بورڈ دہلی کے اس سیمینار کی ہے جو اس سال دھرول گجرات میں منعقد ہوا تھا جس میں کثیر علما ،فقہا اور اکابرین دین وملت کی موجودگی میں کافی بحث و تمحیص کے بعد یہ فیصلہ طے پایا تھا یہ دو چار لوگوں کی رائے نہیں ۔پھر فتاوی بحرالعلوم کی عبارت بھی اس وقت مفتیان کرام کے پیش نظر تھی۔ناچیز بھی اس سیمینار میں شریک تھااورفتاوی مرکز تربیت افتا میں فقہی سیمینار بورڈ کا حوالہ بھی درج ہے مگر واحدی صاحب نے اس کی طرف نظر کرنے کی بھی زحمت نہ کی۔
خامساً: اس تفصیلی گفتگو کے بعد آپ پر یہ بالکل واضح اور عیاں ہوگیا ہوگا کہ واحدی صاحب کا مبلغ علم کتنا ہے مجھے تو لگتا ہے کہ شہرت اور ناموری کے لئے ایسا کیا ہے اور مرکز تربیت افتا اوجھا گنج یا مصدقین جو ابھی بقید حیات ہیں ان کی طرح رجوع کی بجائے اپنی عقل کو کامل سمجھ کر جو دل میں آیا لکھا جس کے بارے میں جو چاہا کہا اور واٹس ایپ ،فیس بک اور نیٹ پر ڈال دیا ،اس سے صاف ظاہر ہے کہ مقصد کیا ہے۔اس لئے کہ شہرت وناموری مقصود ہو تو کسی بڑے عالم یا نیتا کے خلاف کچھ لکھ دو جو شہرت کئی سالوں میں نہیں حاصل ہوسکتی وہ گھنٹہ دو گھنٹہ میں حاصل ہوجائے گی۔کیونکہ واحدی صاحب خود اپنی ایک کلپ میں بڑی خوشی کا اظہار کرتے یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں کہ نیٹ پر میرے پانچ سو فتؤں میں سے کوئی فتوی اتنا نہیں پڑھا گیا جتنا یہ فتوی پڑھا گیا،دو گھنٹوں میں پانچ سو لوگوں نے پڑھا۔ یہ شہرت اور ناموری نہیں تو کیا ہے؟
سادساً: واحدی صاحب نے لکھا ہے’’اگر یوں ہی رخصت دی گئی تو کل وہ دن دور نہیں کہ سکریٹ پینے والا ،تمباکو کھانے والا بھی عذر پیش کرے گا کہ ہمیں بھی پاخانہ نہیں ہوتا تو پھر یا تو انھیں بھی رخصت دینی ہوگی یا پھر روزہ چھوڑنے کو کہا جائے گا۔العیاذ باللہ تعالیٰ‘‘۔یہ واحدی صاحب کا جیتا جاگتا ناسمجھی کا ثبوت ہے۔کیونکہ ہر کوئی یہ بخوبی جانتا اور سمجھتا ہے کہ سکریٹ پینے سے دھواں پیٹ میں جائے گا اور کھینی کھانے سے ذرات حلق سے نیچے اُتریں گے جس سے بلاشبہ روزہ فاسد ہوجائے گا اس لئے ایک جاہل بھی یہ عذر نہیں پیش کرے گا اور اگر کوئی پیش کرے تو کوئی مفتی یا عالم کیا بلکہ کچھ بھی سوجھ بوجھ رکھنے والا ہوگا تو وہ منع کردے گا اور صاف کہہ دے گا کہ روزہ فاسد ہوجائے گا ۔رخصت کے لئے تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا سوائے آپ جیسے لوگوں کے کیونکہ جو بے سوچےسمجھے لکھتے اور بولتے ہیں وہ رخصت بھی دے سکتے ہیں،روزہ چھوڑنے کو بھی کہہ سکتے ہیں ان سے کچھ بعید نہیں ۔اس کے بر خلاف سائل کو جس کی رخصت دی گئی ہے اس میں محض
حقیقت یہ ہے کہ واحدی صاحب نے بے سوچےسمجھے بس قلم اُٹھایا اور لکھنا شروع کردیایہ بھی نہیں سوچاکہ کس کے بارے میں لکھ رہاہوں ،سراج الفقہا فقیہ اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین رضوی برکاتی مد ظلہ العالی صدر شعبۂ افتا وصدر المدرسین جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑہ کی شان یہ ہے کہ جب تک آپ کو کامل اطمینان قلب حاصل نہیں ہوجاتا ہرگز نہ کسی فتوی کی تصدیق کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی فتوی جاری کرنے کا حکم دیتے ہیں ،ناچیز کو بہت قریب سے حضور سراج الفقہا کی زندگی کو دیکھنے کا موقع ملا اور چودہ پندرہ سال تک ان کی خدمت میں رہ کر فتوی نویسی کا موقع میسر آیا کبھی بھی اس کے خلاف نہ پایا ۔ان کے تعلق سے اتنی بڑی بات کہہ دی کہ بے پڑھے اور سمجھے تصدیق کردی ۔حضور سراج الفقہامد ظلہ العالی کی ذات صرف عالم یا فقیہ ہی کی نہیں بلکہ مفتی گر کی ہے ہم جیسے سو دو سو نہیں بلکہ ہزاروں علمااور فقہا آپ کے شاگرد ہیں۔اس لئے مجھے یہ یقین ہو چلا ہے کہ واحدی صاحب اتنی واضح اور عیاں بات کو بھی یا تو سمجھ نہ سکے یا بے سمجھے جو پایا لکھ مارا۔الامان والحفیظ۔
ثالثاً: ’’مولانا وقار علی احسانی‘‘جنہوں نے مرکز میں رہ کر یہ فتوی تحریر کیاہے ان کے بارے میں واحدی صاحب نے لکھا ہے ’’ان حضرات کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا جو تربیت افتا کے حوالہ سے فتوی دیتے ہیں وہ عبارت کو سمجھتے بھی ہیں یا صرف عبارت نقل کردیتے ہیں‘‘یہ ہیں واحدی صاحب کے تعلّی سے پُر جملے ،لگتا ہے کتنے بڑے فقیہ ہیں کہ ہر کوئی ان کو اپنے سامنے بوناہی نظرآتا ہے اور حال یہ ہے کہ فتاوی بحر العلوم کی عبارت خود نہ سمجھ سکے کہ اس میں گل منجن کی ایک خاص صورت کا ذکر ہے اور واحدی صاحب نے مطلقاً گل منجن کے استعمال کی تمام صورتوں کے لئے فتاوی بحر العلوم کا جزئیہ نقل کردیا تو خود اپنا حال یہ ہے کہ بے سمجھے عبارت نقل کردی ہے اور اپنی برتری دکھانے کے لئے ناسمجھی کا الزام دوسرے پر مِڑھ دیا۔
رابعاً: مولانا وقار علی احسانی نے جو عبارت نقل کی ہے وہ فقہی سیمینار بورڈ دہلی کے اس سیمینار کی ہے جو اس سال دھرول گجرات میں منعقد ہوا تھا جس میں کثیر علما ،فقہا اور اکابرین دین وملت کی موجودگی میں کافی بحث و تمحیص کے بعد یہ فیصلہ طے پایا تھا یہ دو چار لوگوں کی رائے نہیں ۔پھر فتاوی بحرالعلوم کی عبارت بھی اس وقت مفتیان کرام کے پیش نظر تھی۔ناچیز بھی اس سیمینار میں شریک تھااورفتاوی مرکز تربیت افتا میں فقہی سیمینار بورڈ کا حوالہ بھی درج ہے مگر واحدی صاحب نے اس کی طرف نظر کرنے کی بھی زحمت نہ کی۔
خامساً: اس تفصیلی گفتگو کے بعد آپ پر یہ بالکل واضح اور عیاں ہوگیا ہوگا کہ واحدی صاحب کا مبلغ علم کتنا ہے مجھے تو لگتا ہے کہ شہرت اور ناموری کے لئے ایسا کیا ہے اور مرکز تربیت افتا اوجھا گنج یا مصدقین جو ابھی بقید حیات ہیں ان کی طرح رجوع کی بجائے اپنی عقل کو کامل سمجھ کر جو دل میں آیا لکھا جس کے بارے میں جو چاہا کہا اور واٹس ایپ ،فیس بک اور نیٹ پر ڈال دیا ،اس سے صاف ظاہر ہے کہ مقصد کیا ہے۔اس لئے کہ شہرت وناموری مقصود ہو تو کسی بڑے عالم یا نیتا کے خلاف کچھ لکھ دو جو شہرت کئی سالوں میں نہیں حاصل ہوسکتی وہ گھنٹہ دو گھنٹہ میں حاصل ہوجائے گی۔کیونکہ واحدی صاحب خود اپنی ایک کلپ میں بڑی خوشی کا اظہار کرتے یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں کہ نیٹ پر میرے پانچ سو فتؤں میں سے کوئی فتوی اتنا نہیں پڑھا گیا جتنا یہ فتوی پڑھا گیا،دو گھنٹوں میں پانچ سو لوگوں نے پڑھا۔ یہ شہرت اور ناموری نہیں تو کیا ہے؟
سادساً: واحدی صاحب نے لکھا ہے’’اگر یوں ہی رخصت دی گئی تو کل وہ دن دور نہیں کہ سکریٹ پینے والا ،تمباکو کھانے والا بھی عذر پیش کرے گا کہ ہمیں بھی پاخانہ نہیں ہوتا تو پھر یا تو انھیں بھی رخصت دینی ہوگی یا پھر روزہ چھوڑنے کو کہا جائے گا۔العیاذ باللہ تعالیٰ‘‘۔یہ واحدی صاحب کا جیتا جاگتا ناسمجھی کا ثبوت ہے۔کیونکہ ہر کوئی یہ بخوبی جانتا اور سمجھتا ہے کہ سکریٹ پینے سے دھواں پیٹ میں جائے گا اور کھینی کھانے سے ذرات حلق سے نیچے اُتریں گے جس سے بلاشبہ روزہ فاسد ہوجائے گا اس لئے ایک جاہل بھی یہ عذر نہیں پیش کرے گا اور اگر کوئی پیش کرے تو کوئی مفتی یا عالم کیا بلکہ کچھ بھی سوجھ بوجھ رکھنے والا ہوگا تو وہ منع کردے گا اور صاف کہہ دے گا کہ روزہ فاسد ہوجائے گا ۔رخصت کے لئے تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا سوائے آپ جیسے لوگوں کے کیونکہ جو بے سوچےسمجھے لکھتے اور بولتے ہیں وہ رخصت بھی دے سکتے ہیں،روزہ چھوڑنے کو بھی کہہ سکتے ہیں ان سے کچھ بعید نہیں ۔اس کے بر خلاف سائل کو جس کی رخصت دی گئی ہے اس میں محض
روزہ فاسد ہونے کا احتمال ہے ظن غالب بھی نہیں اور احتمال پر شرعاً کوئی حکم نافذ نہیں ہوتا،وہ بھی چند بار دانتوں پر رگڑ کر کلی کرلینے کا حکم دیا گیا۔ دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے مگر واحدی صاحب اتنی واضح بات کو نہ سمجھ سکے ۔تواب ناسمجھ کون ہے ہر کوئی بآسانی سمجھ سکتا ہے۔
سابعاً: حالت روزہ میں منجن کے استعمال کے تعلق سے اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ سے سوال ہوا’’روزے میں منجن جو بادام ،کوئلہ،سُپاری وگل وغیرہ کا بنتا ہے اس کا استعمال کرنا کیسا ہے؟ اس سوال کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا:
’’منجن ناجائز وحرام نہیں جبکہ اطمینان کافی ہوکہ اس کا کوئی جز حلق میں نہ جائے گا ،مگر بے ضرورت صحیحہ کراہت ضرور ہے۔درمختار میں ہے: کرہ لہ ذوق شیٔ۔ (روزہ دار کو کسی شی کا چکھنا مکروہ ہے) (فتاوی رضویہ مترجم ج: ۱۰ص:۵۵۱)
اعلی حضرت قدس سرہٗ سے مختلف قسم کے منجنوں کے بارے میں سوال ہوا اور اعلیٰ حضرت نے مطلق حکم بیان فرمایا کہ اگر حلق میںمنجن کے کسی جز کے نہ جانے کا اطمینان کافی ہو تو روزہ کی حالت میں منجن کا استعمال ناجائز وحرام نہیں یعنی جائز ہے اور گل بھی ایک منجن ہے تو اس کا بھی وہی حکم ہوگا کہ اطمینان کافی ہو تو حالت روزہ میں استعمال ناجائزو حرام نہیں، اور جب گل منجن پانی سے بھگو کر احتیاط کے ساتھ دانتوں پر ملا جائے پھر جلد ہی کلی کرلی جائے تو اس کا کوئی جز حلق میں نہ جانے کا اطمینان کافی ہوگا۔اب اگر یہ بلا عذر وحاجت ہو توصرف مکروہ ہوگا مفسد صوم نہیں ہوگا اور اگر عذر کی وجہ سے ہو تو مکروہ بھی نہ ہوگا۔
ثامناً: روزہ دار کا بلا عذر کسی چیز کا چکھنا یا چبانا مکروہ ہے،اور چکھنے سے مراد یہ ہے کہ زبان پر رکھ کر مزہ دریافت کرلیں اور اسے تھوک دیں ،اس میں سے کچھ حلق میں نہ جانے پائے۔اور چکھنے کے لئے عذر یہ ہے کہ مثلاًعورت کا شوہر یا باندی کا آقا بد مزاج ہے کہ نمک کم وبیش ہوگا تو اس کی ناراضگی کا سبب ہوگا،اس وجہ سے چکھنے میں حرج نہیں۔یوںہی چبانے کے لئے یہ عذر ہے کہ اتنا چھوٹا بچہ ہے کہ روٹی نہیں کھا سکتا اور کوئی نرم غذا نہیں اور نہ بے روزہ دار کوئی ایسا ہے جو اسے چباکر دیدے تو بچہ کو کھلانے کے لئے روٹی وغیرہ چبانا مکروہ نہیں۔ایسا ہی بہار شریعت ج:۱،ح:۵،ص:۹۹۶،۹۹۷،روزہ کے مکروہات کے بیان میں ہے۔
نور الایضاح ومراقی الفلاح میں ہے: ’’کرہ للصائم ذوق شیٔ لما فیہ من تعریض الصوم للفساد وکرہ مضغہ بلاعذر المراۃ اذاوجدت من یمضغ الطعام لصبیھا کمفترۃ لحیض،اما اذا لم تجد بدا منہ فلا باس بمضغھا لصیانۃ الولد وللمراۃ ذوق الطعام اذا کان زوجھا سیٔ الخلق لتعلم ملوحتہ وان کان حسن الخلق فلا یحل لھا وکذا الامۃ‘‘۔ (مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی،فصل فیما یکرہ للصائم، ص: ۱۷۱ ،مطبع : کراچی)
یعنی روزہ دار کے لیے کسی شی کا چکھنا مکروہ ہے کیونکہ یہ روزہ کو فاسد کرنے کے درپے ہوتا ہے ،اسی طرح طعام کا چبانا بھی بلا عذر مکروہ ہے جیسے خاتون بچے کے لئے کسی دوسرے کو چبانے والا پالے مثلاً حائضہ عورت کو پالے تو چبانا مکروہ ہے اور اگر عورت کو چبانے کے سوا چارہ نہ ہو تو بچے کی حفاظت کے لئے ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیںاور خاتون کے لئے طعام کا چکھنا بھی جائز ہے جبکہ خاوند بد خلق ہو تاکہ وہ نمک وغیرہ چکھ سکے اور شوہر حسن اخلاق والا ہے تو چکھنا جائز نہیں۔
البحرالرائق میں ہے: ’’کرہ ذوق شیٔ ومضغہ بلاعذر لما فیہ من تعریض الصوم للفساد ولایفسد صومہ لعدم الفطر صورۃ ومعنی،قید بقولہ بلاعذر لان الذوق بعذر لا یکرہ کما قال فی الخانیہ،فیمن کان زوجھا سیٔ الخلق او سیدھا،لاباس بان تذوق بلسانھا والمضغ بعذر بان لم تجد المرأۃ من یمضغ لصبیھا الطعام من حائض او نفساء او غیرھما ممن لایصوم ولم تجد طبیخا ولا لبنا حلیبا لابأس بہ للضرورۃ‘‘اھـ (ج:۲،ص:۲۷۹،۲۸۰،باب مایفسد الصوم،مطبع:کراچی)
یعنی بلا عذر کسی چیز کا چکھنا اور چبانا مکروہ ہے کہ یہ فساد روزہ کے درپے ہوتا ہے،ہاں اس سے روزہ فاسد نہ ہوگا کیونکہ صورۃً ومعنیً افطار نہیں پایا گیا ،’’بلاعذر‘‘ کی قید اس لئے لگائی ہے کہ عذر کی صورت میں چکھنا مکروہ نہیں جیسا کہ خانیہ میں اس عورت ولونڈی کے بارے میں ہے جس کا خاوند یا آقا بد خلق ہوتو زبان سے چکھنے میں حرج نہیں اور چبانے میں عذر یہ ہے مثلاً کوئی خاتون نہیں جو بچے کے لئے کھانا چبا دے مثلاً حائضہ یا نفاس والی کوئی عورت جو روزہ دار نہ ہواور نہ پکی ہوئی روٹی ،نہ دودہ میسر ہو تو اب ضرورت کے پیش نظر کوئی حرج نہیں۔ایسا ہی فتاوی رضویہ مترجم ج:۱۰ص: ۵۰۱،۵۰۲،باب مفسدات الصوم میں بھی ہے۔
مذکورہ عبارات میں محض شوہر کی ناراضگی اور بدخلقی جو بہت بڑی چیز نہیں فقہا نے اس کو عذر گردانا اور اس کے باعث بیوی کو نمک چکھنے کی اجازت مرحمت فرمائی،یوں ہی اگر کوئی بے روزہ دار چباکر دینے والا نہ ہو توبچہ کو کھلانے کے لئے روزہ دار کو چبانے کی اجازت دی اوراسے عذر شمار کیا۔واحدی صاحب کے نزدیک یہ بھی عذر نہیں ہوگا کیونکہ یہ کوئی بڑی بات نہیں نمک
سابعاً: حالت روزہ میں منجن کے استعمال کے تعلق سے اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ سے سوال ہوا’’روزے میں منجن جو بادام ،کوئلہ،سُپاری وگل وغیرہ کا بنتا ہے اس کا استعمال کرنا کیسا ہے؟ اس سوال کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا:
’’منجن ناجائز وحرام نہیں جبکہ اطمینان کافی ہوکہ اس کا کوئی جز حلق میں نہ جائے گا ،مگر بے ضرورت صحیحہ کراہت ضرور ہے۔درمختار میں ہے: کرہ لہ ذوق شیٔ۔ (روزہ دار کو کسی شی کا چکھنا مکروہ ہے) (فتاوی رضویہ مترجم ج: ۱۰ص:۵۵۱)
اعلی حضرت قدس سرہٗ سے مختلف قسم کے منجنوں کے بارے میں سوال ہوا اور اعلیٰ حضرت نے مطلق حکم بیان فرمایا کہ اگر حلق میںمنجن کے کسی جز کے نہ جانے کا اطمینان کافی ہو تو روزہ کی حالت میں منجن کا استعمال ناجائز وحرام نہیں یعنی جائز ہے اور گل بھی ایک منجن ہے تو اس کا بھی وہی حکم ہوگا کہ اطمینان کافی ہو تو حالت روزہ میں استعمال ناجائزو حرام نہیں، اور جب گل منجن پانی سے بھگو کر احتیاط کے ساتھ دانتوں پر ملا جائے پھر جلد ہی کلی کرلی جائے تو اس کا کوئی جز حلق میں نہ جانے کا اطمینان کافی ہوگا۔اب اگر یہ بلا عذر وحاجت ہو توصرف مکروہ ہوگا مفسد صوم نہیں ہوگا اور اگر عذر کی وجہ سے ہو تو مکروہ بھی نہ ہوگا۔
ثامناً: روزہ دار کا بلا عذر کسی چیز کا چکھنا یا چبانا مکروہ ہے،اور چکھنے سے مراد یہ ہے کہ زبان پر رکھ کر مزہ دریافت کرلیں اور اسے تھوک دیں ،اس میں سے کچھ حلق میں نہ جانے پائے۔اور چکھنے کے لئے عذر یہ ہے کہ مثلاًعورت کا شوہر یا باندی کا آقا بد مزاج ہے کہ نمک کم وبیش ہوگا تو اس کی ناراضگی کا سبب ہوگا،اس وجہ سے چکھنے میں حرج نہیں۔یوںہی چبانے کے لئے یہ عذر ہے کہ اتنا چھوٹا بچہ ہے کہ روٹی نہیں کھا سکتا اور کوئی نرم غذا نہیں اور نہ بے روزہ دار کوئی ایسا ہے جو اسے چباکر دیدے تو بچہ کو کھلانے کے لئے روٹی وغیرہ چبانا مکروہ نہیں۔ایسا ہی بہار شریعت ج:۱،ح:۵،ص:۹۹۶،۹۹۷،روزہ کے مکروہات کے بیان میں ہے۔
نور الایضاح ومراقی الفلاح میں ہے: ’’کرہ للصائم ذوق شیٔ لما فیہ من تعریض الصوم للفساد وکرہ مضغہ بلاعذر المراۃ اذاوجدت من یمضغ الطعام لصبیھا کمفترۃ لحیض،اما اذا لم تجد بدا منہ فلا باس بمضغھا لصیانۃ الولد وللمراۃ ذوق الطعام اذا کان زوجھا سیٔ الخلق لتعلم ملوحتہ وان کان حسن الخلق فلا یحل لھا وکذا الامۃ‘‘۔ (مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی،فصل فیما یکرہ للصائم، ص: ۱۷۱ ،مطبع : کراچی)
یعنی روزہ دار کے لیے کسی شی کا چکھنا مکروہ ہے کیونکہ یہ روزہ کو فاسد کرنے کے درپے ہوتا ہے ،اسی طرح طعام کا چبانا بھی بلا عذر مکروہ ہے جیسے خاتون بچے کے لئے کسی دوسرے کو چبانے والا پالے مثلاً حائضہ عورت کو پالے تو چبانا مکروہ ہے اور اگر عورت کو چبانے کے سوا چارہ نہ ہو تو بچے کی حفاظت کے لئے ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیںاور خاتون کے لئے طعام کا چکھنا بھی جائز ہے جبکہ خاوند بد خلق ہو تاکہ وہ نمک وغیرہ چکھ سکے اور شوہر حسن اخلاق والا ہے تو چکھنا جائز نہیں۔
البحرالرائق میں ہے: ’’کرہ ذوق شیٔ ومضغہ بلاعذر لما فیہ من تعریض الصوم للفساد ولایفسد صومہ لعدم الفطر صورۃ ومعنی،قید بقولہ بلاعذر لان الذوق بعذر لا یکرہ کما قال فی الخانیہ،فیمن کان زوجھا سیٔ الخلق او سیدھا،لاباس بان تذوق بلسانھا والمضغ بعذر بان لم تجد المرأۃ من یمضغ لصبیھا الطعام من حائض او نفساء او غیرھما ممن لایصوم ولم تجد طبیخا ولا لبنا حلیبا لابأس بہ للضرورۃ‘‘اھـ (ج:۲،ص:۲۷۹،۲۸۰،باب مایفسد الصوم،مطبع:کراچی)
یعنی بلا عذر کسی چیز کا چکھنا اور چبانا مکروہ ہے کہ یہ فساد روزہ کے درپے ہوتا ہے،ہاں اس سے روزہ فاسد نہ ہوگا کیونکہ صورۃً ومعنیً افطار نہیں پایا گیا ،’’بلاعذر‘‘ کی قید اس لئے لگائی ہے کہ عذر کی صورت میں چکھنا مکروہ نہیں جیسا کہ خانیہ میں اس عورت ولونڈی کے بارے میں ہے جس کا خاوند یا آقا بد خلق ہوتو زبان سے چکھنے میں حرج نہیں اور چبانے میں عذر یہ ہے مثلاً کوئی خاتون نہیں جو بچے کے لئے کھانا چبا دے مثلاً حائضہ یا نفاس والی کوئی عورت جو روزہ دار نہ ہواور نہ پکی ہوئی روٹی ،نہ دودہ میسر ہو تو اب ضرورت کے پیش نظر کوئی حرج نہیں۔ایسا ہی فتاوی رضویہ مترجم ج:۱۰ص: ۵۰۱،۵۰۲،باب مفسدات الصوم میں بھی ہے۔
مذکورہ عبارات میں محض شوہر کی ناراضگی اور بدخلقی جو بہت بڑی چیز نہیں فقہا نے اس کو عذر گردانا اور اس کے باعث بیوی کو نمک چکھنے کی اجازت مرحمت فرمائی،یوں ہی اگر کوئی بے روزہ دار چباکر دینے والا نہ ہو توبچہ کو کھلانے کے لئے روزہ دار کو چبانے کی اجازت دی اوراسے عذر شمار کیا۔واحدی صاحب کے نزدیک یہ بھی عذر نہیں ہوگا کیونکہ یہ کوئی بڑی بات نہیں نمک
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ابن علیم المصبور الرضوى العینی ✩)
⚡ بحالت روزہ منجن کرنا⚡
(سئل) رمضان کے مہینہ میں گل منجن کرنا کیسا ہے وہ بھی حالت روزہ میں؟
سائل: غلام معین الدین چشتی ضیائی
⚡⚡⚡⚡⚡
(فأجاب) حالت روزہ میں ضرورت صحيحہ پر منجن ملنا اس طرح کے اس کے ذرات حلق میں نہ جائیں، مکروہ نہیں ہے. اور مکروہ ہے اگر بے ضرورت صحیحہ ہو البتہ احتیاط کرے. اور اگر غالب احتمال اس جانب ہو کہ منجن حلق میں جائے گا تو مطلقا ممنوع.
فتاوی رضویہ (٥٥٨/١٠) میں ہے :
مسواک مطلقاً جائز ہے اگر چہ بعد زوال، اور منجن ناجائز وحرام نہیں بلکہ اطمینان کافی ہو کہ اس کا کوئی جزو حلق میں نہ جائے گا (یعنی اس کا مزہ حلق یا زبان پر معلوم نہ ہو تو ناجائز وحرام نہیں)، مگر بے ضرورتِ صحیحہ کراہت ضرور ہے۔ درمختار میں ہے: كره له ذوق شئی (روزہ دارکو شَے کا چکھنا مکروہ ہے: الدر المختار، باب مایفسد الصوم، ص: ١٤٨) والله تعالی اعلم.
اور فرمایا: روزہ میں (بے ضرورتِ صحیحہ) منجن ملنا نہ چاہیے. (فتاوی رضویہ، ٥١٨/١٠) واللہ تعالی اعلم.
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
⚡️ کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
⚡️ ٩/ ربیع النور، ١٤٤٠ھ
(سئل) رمضان کے مہینہ میں گل منجن کرنا کیسا ہے وہ بھی حالت روزہ میں؟
سائل: غلام معین الدین چشتی ضیائی
⚡⚡⚡⚡⚡
(فأجاب) حالت روزہ میں ضرورت صحيحہ پر منجن ملنا اس طرح کے اس کے ذرات حلق میں نہ جائیں، مکروہ نہیں ہے. اور مکروہ ہے اگر بے ضرورت صحیحہ ہو البتہ احتیاط کرے. اور اگر غالب احتمال اس جانب ہو کہ منجن حلق میں جائے گا تو مطلقا ممنوع.
فتاوی رضویہ (٥٥٨/١٠) میں ہے :
مسواک مطلقاً جائز ہے اگر چہ بعد زوال، اور منجن ناجائز وحرام نہیں بلکہ اطمینان کافی ہو کہ اس کا کوئی جزو حلق میں نہ جائے گا (یعنی اس کا مزہ حلق یا زبان پر معلوم نہ ہو تو ناجائز وحرام نہیں)، مگر بے ضرورتِ صحیحہ کراہت ضرور ہے۔ درمختار میں ہے: كره له ذوق شئی (روزہ دارکو شَے کا چکھنا مکروہ ہے: الدر المختار، باب مایفسد الصوم، ص: ١٤٨) والله تعالی اعلم.
اور فرمایا: روزہ میں (بے ضرورتِ صحیحہ) منجن ملنا نہ چاہیے. (فتاوی رضویہ، ٥١٨/١٠) واللہ تعالی اعلم.
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
⚡️ کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
⚡️ ٩/ ربیع النور، ١٤٤٠ھ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تربیت افتاء میں
گل منجن کی اجازت کیوں ؟
https://tajmohammadwahidi.blogspot.com/2020/04/blog-post_96.html
✍مولانا تاج محمد واحدی صاحب
گل منجن کی اجازت کیوں ؟
https://tajmohammadwahidi.blogspot.com/2020/04/blog-post_96.html
✍مولانا تاج محمد واحدی صاحب
Blogspot
( تربیت افتاء میں گل منجن کی اجازت کیوں؟)
( تربیت افتاء میں گل منجن کی اجازت کیوں؟) مسئلہ:۔ مولانا تاج محمد واحدی صاحب السلام علیکم و رحمۃ اللہ و بر کا تہ بعد سلام عرض ہے کہ مرک...
شہزادۂ فقیہ ملت مفتی ابرار احمد صاحب قبلہ کی بار گاہ میں چند معروضات
https://tajmohammadwahidi.blogspot.com/2020/05/blog-post_2.html
✍مولانا تاج محمد واحدی صاحب
https://tajmohammadwahidi.blogspot.com/2020/05/blog-post_2.html
✍مولانا تاج محمد واحدی صاحب
Blogspot
(شہزادۂ فقیہ ملت مفتی ابرار احمد صاحب قبلہ کی بار گاہ میں چندمعروضات)
(شہزادۂ فقیہ ملت مفتی ابرار احمد صاحب قبلہ کی بار گاہ میں چندمعروضات) السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکا تہ بسم اللہ الرحمن الرحیم فقیر ن...
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا 🌹 نام ونسب : اسمِ گرامی : ام المؤمنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کنیت : ام القاسم، امِ ہند لقب : طاہرہ سلسلہ نسب اسطرح ہے: خدیجہ بنتِ خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی ۔ سیدہ کا نسب حضور…
*حضرت خدیجۃالکبریٰ اسلام کی عظیم خاتون: جن کے ایثار نے طبقۂ نسواں میں قربانی کی روح پھونک دی*
_[یوم وصال : 10رمضان المبارک]_
غلام مصطفٰی رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
اسلام کی اشاعت و تبلیغ میں طبقۂ نسواں کا کردار نمایاں رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایثار و قربانی اور دین کے لیے جاں نثاری کی مثال قائم کرنے والی اولین خاتون کا نام امہات المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا ہے۔ جنھوں نے ایسے دور میں جب کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلانِ نبوت فرمایا اور سردارانِ قریش، کفارِ مکہ نے اسلام کے دیے بجھانے کو بڑا زور لگایا؛ دین کی حفاظت و صیانت کے لیے آپ نے بے مثال قربانی دی۔ ظلم برداشت کر لیا اور نبوی شان و عظمت کے تحفظ میں نمایاں رہیں۔ صبر و رضا کا پیکر بن کر خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کا فریضہ انجام دیتی رہیں۔ اسلام کے داعیانہ فہم و فراست کی عملی تصویر پیش کرتی رہیں۔ دلوں کی دنیا بدلتی رہیں ؎
وہ عہد ظلم و جہالت کے دل نما پتھر
نبی سے ملتے رہے آئینوں میں ڈھلتے رہے
*سیدہ طاہرہ:*
حضرت خدیجۃالکبریٰ رضی اللہ عنہا کے والد کا نام خویلد بن اسد ہے۔ والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ ہے۔ خاندان قریش کی معزز و دولت مند خاتون تھیں۔ اہلِ مکہ میں اپنی پاکیزگی و پاک دامنی کے سبب ’’طاہرہ‘‘ کے لقب سے معروف تھیں۔
*نکاح:*
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی بلندی، کردار کی عظمت، بے مثالی و کمالِ سیرت دیکھ کر نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ آپ نے سب سے پہلے اسلام قبول فرمایا۔ مصائب سہے، مظالم وتکالیف برداشت کیں، اسلام پر قائم رہیں اور کاشانۂ نبوی میں رفاقت، استقلال کے ساتھ کوہِ استقامت بنی رہیں۔اپنی ساری دولت اور مال و اموال بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں نچھاور فرما دیا۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے راہِ خدامیں خرچ فرما دیا۔
جنتی خواتین میں سب سے افضل حضرت سیدنا خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا، سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا، حضرت مریم رضی اللہ عنہا، حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا ہیں۔جن کی مثالی زندگی قیامت تک کی خواتین اسلام کے لیے رہبر و رہنما ہے۔ نشانِ منزل ہے۔
*وصال:*
سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ۲۵؍ برس کا عرصہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے گزارا۔ ہجرت سے تین برس قبل ۶۵؍ برس کی عمر میں مکہ معظمہ میں ۱۰؍ رمضان المبارک میں وصال ہوا۔ جنت المعلیٰ میں تاج دار کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تدفین فرمائی۔ جن کی بارگاہ کی حاضری روح کی بالیدگی، دل کی ستھرائی کا ذریعہ ہے۔ ماہِ صیام ۱۴۳۷ھ میں راقم نے ۱۰؍ رمضان کو امہات المومنین کی بارگاہِ عظمت و ناز میں حاضری کا شرف حاصل کیا۔ محسوس ہوا کہ چین و سکون اور امن کے باڑے اس بارگاہ سے بٹ رہے ہیں۔ دنیا کی لاکھوں خواتین کو ردائے تطہیر فراہم کرنے والی مقدس خاتون مکہ مکرمہ کے اس بابرکت قبرستان میں محو استراحت ہیں۔
*نمونۂ عمل:*
حضرت خدیجۃالکبریٰ رضی اللہ عنہا بڑی صاحبِ مال تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اخلاق، کردار کی تابندگی کے ساتھ ساتھ مال و منال سے نوازا تھا۔ تجارت میں خوب برکت عطا کی۔ آپ نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن اقدس میں کیا پناہ لی؛ تمام مال راہِ خدا کے لیے بارگاہِ رسالت میں پیش فرما دیا۔ ایثار و مروت کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ سادہ زندگی بسر کی۔ بعد کے دور والوں کے لیے آپ کی حیاتِ طیبہ نمونۂ عمل ہے۔ آپ کی وفا شعار زندگی، جہد مسلسل، کدوکاوش، خوبی و ایثار سبھی مثال ہیں اور پیغامِ عمل بھی۔
لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو:
موجودہ زمانے میں ایک بڑا مسئلہ آزادیِ نسواں کی آڑ میں اسلام کو نشانہ بنائے جانے کا ہے۔قانون سے عاری زندگی یقینی طور پر اعتدال سے رُوگردانی قرار دی جا سکتی ہے۔اسلامی قانون کی پاس داری میں ایک خاتون کی زندگی پاکیزہ و ستھری گزرتی ہے۔ جب کہ موجودہ آزادیِ نسواں کا نعرہ ان معنوں میں کھوکھلا ہے کہ اس میں عورت کی حیثیت محض کھلونے کی ہے، نگہِ ہوس کا شکار ہو کر کتنی ہی خواتین اپنی عفت گنوا بیٹھتی ہیں۔انھیں محض تفریح کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ اس لیے اسلام کے دامنِ تطہیر میں عظمت نسواں بھی سلامت ہے اور وقارِ نسواں بھی قائم و باقی ہے۔ عہدِ رواں کی فحاشی و عیش کوشی نے خواتین کی ذات کو چوراہے پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں ان کی عصمت باقی ہے نہ ان کی عزت و وقعت۔ سلام ہو ! لاکھوں سلام ہو حضرت سیدہ خدیجۃالکبریٰ رضی اللہ عنہا پرجن کی مثالی زندگی نے عفتِ نسواں کو عزم و حوصلہ دیا، مغرب کی تیار کردہ بے حیائی و فحاشی کی آندھیوں میں وقار و احترام سے جینے کا ہنر دیا۔ امہات المومنین کی شان بے نیازی کو سلام، سادہ زندگی کو سلام، پاکیزہ طبیعت کو سلام، ایثار ووفا کے جذبات کو سلام ؎
اہلِ اسلام کی مادرانِ شفیق
بانوانِ طہارت پہ لاکھوں سلام
سیما پہلی ماں کہفِ امن و اماں
حق گزارِ رفاقت پہ لاکھوں سلام
حدائق بخشش از اعلی حضرت
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
_[یوم وصال : 10رمضان المبارک]_
غلام مصطفٰی رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
اسلام کی اشاعت و تبلیغ میں طبقۂ نسواں کا کردار نمایاں رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایثار و قربانی اور دین کے لیے جاں نثاری کی مثال قائم کرنے والی اولین خاتون کا نام امہات المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا ہے۔ جنھوں نے ایسے دور میں جب کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلانِ نبوت فرمایا اور سردارانِ قریش، کفارِ مکہ نے اسلام کے دیے بجھانے کو بڑا زور لگایا؛ دین کی حفاظت و صیانت کے لیے آپ نے بے مثال قربانی دی۔ ظلم برداشت کر لیا اور نبوی شان و عظمت کے تحفظ میں نمایاں رہیں۔ صبر و رضا کا پیکر بن کر خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کا فریضہ انجام دیتی رہیں۔ اسلام کے داعیانہ فہم و فراست کی عملی تصویر پیش کرتی رہیں۔ دلوں کی دنیا بدلتی رہیں ؎
وہ عہد ظلم و جہالت کے دل نما پتھر
نبی سے ملتے رہے آئینوں میں ڈھلتے رہے
*سیدہ طاہرہ:*
حضرت خدیجۃالکبریٰ رضی اللہ عنہا کے والد کا نام خویلد بن اسد ہے۔ والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ ہے۔ خاندان قریش کی معزز و دولت مند خاتون تھیں۔ اہلِ مکہ میں اپنی پاکیزگی و پاک دامنی کے سبب ’’طاہرہ‘‘ کے لقب سے معروف تھیں۔
*نکاح:*
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی بلندی، کردار کی عظمت، بے مثالی و کمالِ سیرت دیکھ کر نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ آپ نے سب سے پہلے اسلام قبول فرمایا۔ مصائب سہے، مظالم وتکالیف برداشت کیں، اسلام پر قائم رہیں اور کاشانۂ نبوی میں رفاقت، استقلال کے ساتھ کوہِ استقامت بنی رہیں۔اپنی ساری دولت اور مال و اموال بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں نچھاور فرما دیا۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے راہِ خدامیں خرچ فرما دیا۔
جنتی خواتین میں سب سے افضل حضرت سیدنا خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا، سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا، حضرت مریم رضی اللہ عنہا، حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا ہیں۔جن کی مثالی زندگی قیامت تک کی خواتین اسلام کے لیے رہبر و رہنما ہے۔ نشانِ منزل ہے۔
*وصال:*
سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ۲۵؍ برس کا عرصہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے گزارا۔ ہجرت سے تین برس قبل ۶۵؍ برس کی عمر میں مکہ معظمہ میں ۱۰؍ رمضان المبارک میں وصال ہوا۔ جنت المعلیٰ میں تاج دار کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تدفین فرمائی۔ جن کی بارگاہ کی حاضری روح کی بالیدگی، دل کی ستھرائی کا ذریعہ ہے۔ ماہِ صیام ۱۴۳۷ھ میں راقم نے ۱۰؍ رمضان کو امہات المومنین کی بارگاہِ عظمت و ناز میں حاضری کا شرف حاصل کیا۔ محسوس ہوا کہ چین و سکون اور امن کے باڑے اس بارگاہ سے بٹ رہے ہیں۔ دنیا کی لاکھوں خواتین کو ردائے تطہیر فراہم کرنے والی مقدس خاتون مکہ مکرمہ کے اس بابرکت قبرستان میں محو استراحت ہیں۔
*نمونۂ عمل:*
حضرت خدیجۃالکبریٰ رضی اللہ عنہا بڑی صاحبِ مال تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اخلاق، کردار کی تابندگی کے ساتھ ساتھ مال و منال سے نوازا تھا۔ تجارت میں خوب برکت عطا کی۔ آپ نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن اقدس میں کیا پناہ لی؛ تمام مال راہِ خدا کے لیے بارگاہِ رسالت میں پیش فرما دیا۔ ایثار و مروت کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ سادہ زندگی بسر کی۔ بعد کے دور والوں کے لیے آپ کی حیاتِ طیبہ نمونۂ عمل ہے۔ آپ کی وفا شعار زندگی، جہد مسلسل، کدوکاوش، خوبی و ایثار سبھی مثال ہیں اور پیغامِ عمل بھی۔
لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو:
موجودہ زمانے میں ایک بڑا مسئلہ آزادیِ نسواں کی آڑ میں اسلام کو نشانہ بنائے جانے کا ہے۔قانون سے عاری زندگی یقینی طور پر اعتدال سے رُوگردانی قرار دی جا سکتی ہے۔اسلامی قانون کی پاس داری میں ایک خاتون کی زندگی پاکیزہ و ستھری گزرتی ہے۔ جب کہ موجودہ آزادیِ نسواں کا نعرہ ان معنوں میں کھوکھلا ہے کہ اس میں عورت کی حیثیت محض کھلونے کی ہے، نگہِ ہوس کا شکار ہو کر کتنی ہی خواتین اپنی عفت گنوا بیٹھتی ہیں۔انھیں محض تفریح کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ اس لیے اسلام کے دامنِ تطہیر میں عظمت نسواں بھی سلامت ہے اور وقارِ نسواں بھی قائم و باقی ہے۔ عہدِ رواں کی فحاشی و عیش کوشی نے خواتین کی ذات کو چوراہے پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں ان کی عصمت باقی ہے نہ ان کی عزت و وقعت۔ سلام ہو ! لاکھوں سلام ہو حضرت سیدہ خدیجۃالکبریٰ رضی اللہ عنہا پرجن کی مثالی زندگی نے عفتِ نسواں کو عزم و حوصلہ دیا، مغرب کی تیار کردہ بے حیائی و فحاشی کی آندھیوں میں وقار و احترام سے جینے کا ہنر دیا۔ امہات المومنین کی شان بے نیازی کو سلام، سادہ زندگی کو سلام، پاکیزہ طبیعت کو سلام، ایثار ووفا کے جذبات کو سلام ؎
اہلِ اسلام کی مادرانِ شفیق
بانوانِ طہارت پہ لاکھوں سلام
سیما پہلی ماں کہفِ امن و اماں
حق گزارِ رفاقت پہ لاکھوں سلام
حدائق بخشش از اعلی حضرت
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 via @toolkitbot
ْ ام المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہَا کا مختصر تعارف ! ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یومِ وِصال 🌹 10 رمضان المبارک ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ کنیت : ام القاسم = لقب : الکبریٰ والد : خویلد 🌹 والدہ : فاطمہ اولادِ اطہار : سوائے حضرت ابراہیم…
🌹 ام المومنین حـضرت سیدتنا
خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰهُ تَبَارَڪَ
وَ تَعَالیٰ عَنۡہَا کا مختصر تعارف !
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ وِصال 🌹 10 رمضان المبارک
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کنیت : ام القاسم = لقب : الکبریٰ
والد : خویلد 🌹 والدہ : فاطمہ
اولادِ اطہار : سوائے حضرت ابراہیم
کے تمام اولادِ اطہار انہیں سـے ہوئی
ولادت : عام الفیل سـے ¹⁵ سال پہلـے
عمر : 65 سال = پَینسٹھ سال
وصال-نبوت کے ¹⁰ویں سال ¹⁰رمضان
تدفین : مکہ مکرمہ میں واقع حجون
کے مقام پر جنت المعلیٰ میں کیا گیا-
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰهُ تَبَارَڪَ
وَ تَعَالیٰ عَنۡہَا کا مختصر تعارف !
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ وِصال 🌹 10 رمضان المبارک
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کنیت : ام القاسم = لقب : الکبریٰ
والد : خویلد 🌹 والدہ : فاطمہ
اولادِ اطہار : سوائے حضرت ابراہیم
کے تمام اولادِ اطہار انہیں سـے ہوئی
ولادت : عام الفیل سـے ¹⁵ سال پہلـے
عمر : 65 سال = پَینسٹھ سال
وصال-نبوت کے ¹⁰ویں سال ¹⁰رمضان
تدفین : مکہ مکرمہ میں واقع حجون
کے مقام پر جنت المعلیٰ میں کیا گیا-
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 via @toolkitbot
ْ ام المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَـ وَ تَعَالیٰ عَنۡہَا : تاریخِ وِصال تدفین ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یومِ وِصال 🌹 10 رمضان المبارک ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ وصال : آپ کی وفات ¹⁰رمضان المبارک 10 نبوی ، 65 برس کی عمر میں - مکۃ المکرمہ میں ہوئی ،…
ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡـہَا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت عام الفیل سے¹⁵سال قبل
یومِ وصال ¹⁰رمضان المبارک ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡـہَا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت عام الفیل سے¹⁵سال قبل
یومِ وصال ¹⁰رمضان المبارک ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻