🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.87K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-06-1445 ᴴ | 19-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-06-1445 ᴴ | 19-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شاہ نیاز احمد بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
راز احمد ۔ تخلص: نیاز احمد ۔ اب اسی تخلص سے معروف ہیں ۔ والد کا اسم گرامی: شاہ محمد رحمت اللہ ہے ۔ آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ قدیمہ میں صاحبِ ارشاد تھے ۔ حضرت خواجہ فخر الدین دہلوی علیہ الرحمہ سے خاص تعلق تھا ۔ خواجہ صاحب آپ کا بے حد ادب کرتے تھے ۔

خاندانی حالات:
آپ والد کی طرف سے علوی سید ہیں اور والدہ کی طرف سے حسینی و رضوی ہیں ۔ آپ کی والدہ محترمہ مولانا سعد الدین کی صاحبزادی تھیں، اور مولانا سعدالدین حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ کے خلیفہ تھے ۔ آپ کے اجداد شاہان بخارا سے تھے ۔ آپ کے اجداد میں حضرت شاہ آیت اللہ علوی تاج و تخت چھوڑ کر ملتان تشریف لائے ۔ ان کے پوتے شاہ عظمت اللہ ملتان سے سرہند میں آکر رہنے لگے ۔ وہاں سے حضرت شاہ رحمت اللہ علوی دہلی تشریف لائے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 1173ھ میں سرہند میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ کی والدہ ماجدہ جو رابعۂ عصر تھیں نے اپنی نظروں میں بٹھایا اور اپنی زیر نگاہ تربیت دی پھر ظاہری و باطنی علوم کے لیے حضرت شاہ فخر الدین رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پیش کیا حضرت مولانا فخر قدس سرہ نے بھی شاہ نیاز کو بڑی توجہ اور شفقت سے زیور تعلیم سے آراستہ کیا آپ سترہ سال تک ظاہری اور باطنی علوم کی تحصیل میں مصروف رہے آپ کو معقول منقول فروغ و اصول حدیث و تفسیر فقہ و منطق جیسے علومِ مروجہ میں درجۂ کمال تک پہنچا دیا ۔ آپ کے نانا مولانا سعد الدین ایک جید عالم دین تھے ۔ ان سے بھی تحصیلِ علم کیا ۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت خواجہ فخر الدین دہلوی علیہ الرحمہ کے حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ آپ کی طرف سے خلافت بھی ملی ۔ حضرت خواجہ صاحب کے محبوب اور رازاداں خلیفہ تھے ۔

حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ایک بزرگ حضرت سید عبد اللہ بغدادی علیہ الرحمہ نے حضر ت غوث الاعظم کے حکم سے آپ کو خلافت عطا فرمائی ۔

سیرت و خصائص:
عارف اسرار ربانی، محبوب حضرت محبوبِ سبحانی، حضرت شاہ نیاز احمد قادری نظامی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ صاحبِ علم و کرامات بزرگ، اور بڑے صاحب راز و نیاز اور مالک سوز و گداز تھے ۔ عشق و محبت میں اپنی مثال آپ تھے ۔ علوم ظاہر و باطنی میں یگانہ روز گار تھے ۔ طالبان حق کو اللہ تک رسائی کرانا ان کے کمالات میں شامل تھا ۔ آپ کی خانقاہ فیوض ربانی کا خزینہ اور انوار سبحانی کا مطلع تھا ۔ ہزاروں سحر زدہ دل آپ کی دل جوئی سے خدا رسیدہ بن گئے اور سینکڑوں بے خبر اللہ کی معرفت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔

ہر وقت عشقِ الٰہی میں سرشار رہتے تھے ۔ عجز و انکساری اور حضرت مولانا فخر الدین فخر جہاں کے وابستگان سے لگاؤ اور محبت کی یہ حالت تھی کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا فخر الدین جہاں کی پالکی اٹھانے والوں میں سے ایک کہاری آپ کی خانقاہ میں آیا، آپ اس کو لینے کی غرض سے خانقاہ کے صحن تک تشریف لے گئے، اس کہاری کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور نہایت عزت کے ساتھ اس کو اپنی مسند کے پاس بٹھایا، اس کو نذر پیش کی اور رُخصت کیا ۔

اسی طرح آپ خاندان رسالت کا بڑا احترام کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ ایک مجلس وعظ میں آپ رونق افروز تھے ۔ آپ کی نگاہ ایک صاحب پر پڑی جو سید تھے ۔ وہ نہایت شکستہ حال تھے اور سب سے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ ان کو دیکھتے ہیں اٹھے اور اپنا سر ان کے قدموں پر رکھ دیا، پھر حاضرین سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ: "سب لوگ گواہ رہیں کہ اگر خدا کے یہاں مجھ سے یہ سوال ہوگا کہ تو اس مجلس وعظ میں گیا تھا تو میں یہی عرض کروں‌گا کہ میں نے وہاں بھی تیرے رسول کی اولاد کے قدموں پر سر رکھا تھا" ۔
1
آپ رات کو بارہ بجے کے قریب اٹھتے، وضو کرتے اور تہجد پڑھتے ۔ تہجد سے فارغ ہو کر خاندانی وظیفہ پڑھتے ۔ بعد ازاں بارہ تسبیح ضرب کی ادا کرتے ۔ صبح کی نماز پڑھ کر تھوڑی دیر آرام کرتے ۔ فنِ شاعری میں خاص مہارت تھی ۔ آپ کا کلام مقبولِ عام اور پُر تاثیر ہے ۔ آپ کو صوفی شعراء کی بزم میں ایک خاص  درجہ حاصل ہے ۔ آپ کا تخلص "نیاز" ہے ۔ دو دیوان، ایک فارسی زبان میں، اور دوسرا اردو زبان میں آپ کی شاعری کی یادگار ہیں ۔ آپ کا کلام فصاحت تام حقائق و معارف کا آئینہ ہے ۔ ایک مرتبہ جب آپ نے اپنی ایک غزل حضرت مرزا جان جاناں مظہر شہید رحمۃ اللہ علیہ کو سنائی تو حضرت مرزا صاحب پر وجدانی کیفیت طاری ہو گئی ۔

بعد از وصال بیعت:
ایک انگلستانی کابل سے آپ سے بیعت ہونے کی غرض سے بریلی آیا ۔ شہر سے باہر دریا کے کنارے اس کی ایک شخص سے ملاقات ہوئی ۔ باتوں باتوں میں اس ولایتی نے اپنے آنے کی وجہ ظاہر کی ۔ اس شخص نے یہ سن کر کہا کہ: "جس شخص کے پاس تم جاتے ہو، وہ نیاز احمد میں ہی ہوں" ۔ وہ شخص وہیں بیعت سے مشرف ہوا، پھر اس شخص سے فرمایا کہ تم خانقاہ چلو، میں بھی وہیں آتا ہوں، وہ شخص جب خانقاہ میں آیا تو دیکھا کہ آپ کی (حضرت شاہ نیاز رحمۃ اللہ علیہ کی) سوم کی فاتحہ ہو رہی ہے، اب اس شخص کو معلوم ہوا کہ آپ نے اس کو وصال کے بعد بیعت کیا ہے ۔ (تذکرہ اولیائے پاک و ہند، ص:321) ـ

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 جمادی الثانی 1250ھ / مطابق اکتوبر 1834ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار بریلی میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-niaz-ahmed-barelvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا محمد کامل ولید پوری اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ علیہ الرحمہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد امجاد سے تھے ـ

ولادت:
اپنے گاؤں ولید پور ضلع اعظم گڑھ میں ۲ نومبر ۱۸۲۳ء میں پیدا ہوئے ـ

تعلیم:
پندرہ برس کی عمر فرنگی محل کے علماء کی خدمت میں آکر درسیات پڑھی ـ

بیعت و خلافت:
حضرت سید شاہ عبد العلیم لوہاری سے سلسلۂ قادریہ میں مرید ہوئے، بارہ برس پیر کی خدمت میں رہ کر تکمیل سلوک کی، اور اجازت و خلافت سے سر فراز ہوئے ـ

۱۸۵۹ء میں دیانت داری و معدات گستری کی بناء پر جون پور کے منصف مقرر ہوئے، مسجد اٹالہ جونپور تعمیر کردہ سلطان ابراہیم شرفی کی مرمت صرف خاص سے کرائی ـ

وصال:
86 برس کی عمر میں 6 جمادی الثانیہ 1322ھ کو انتقال ہوا ـ

جانشین:
حضرت شاہ صوفی محمد جان ولید پوری جانشین ہوئے، ہر سال وقت مقررہ پر عرس ہوتا ہے، موجودہ سجادہ نشین شاہ مختار احمد ہیں ۔

(ماہنامہ صوفی بنار، تاریخ شیراز ہند جون پور)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-kamil-waleed-puri-azmi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
عارف کامل حضرت پیر سید غلام حیدر علی شاہ جلال پوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
حضرت پیر سید غلام حیدر علی شاہ بن سید جمعہ شاہ بن سید کاظم شاہ بن سید سخی شاہ (علیہم الرحمہ)

تاریخ ولادت:
۳ صفر / ۲۶ اپریل (۱۲۵۴ھ؍۱۸۳۸ء) کو جلال پور میں پیدا ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
جب آپ نے ہوش سنبھالا تو قرآن پاک کی تعلیم کے لئے آپ کو میاں خان محمد اعظم پوری کے سپرد کیا انہوں نے قرآن مجید پڑھانا شروع کیا جس کی تکمیل آپ کے چچا سید امام شاہ نے فرمائی ۔ اس کے بعد میاں عبد اللہ چکروی سے فارسی اور اردو کی درسی کتب پڑھیں پھر جلال پور سے پانچ کوس کے فاصلہ پر قاضی محمد کامل کی خدمت میں نین وال تشریف لے گئے اور ان سے کتب فقہ کا درس لیا، اپنے علاقے کے مشہور عالم مفتی غلام محی الدین سے استفادہ کیا اور کنز الدقائق پڑھی، اس سے زیادہ آپ نے ظاہری علم با قاعدگی سے نہیں پڑھا اور حضرت خواجہ شمس العارفین قدس سرہ سے مرقع اور کشکول کا درس لیا ۔

بیعت و خلافت:
تلاش مرشد میں سید غلام شاہ کی خدمت میں ہرن پور پہنچے اور بیعت کی درخواست کی، انہوں نے سیال شریف جانے کا مشورہ دیا بلکہ خود ساتھ لے گئے ۔

حضرت خواجہ شمس العارفین قدس سرہ نے انہیں دیکھا تو کھڑے ہو گئے، مزاج پوچھا اور بیٹھنے کا حکم دیا چنانچہ آپ ۷ رجب ۱۲۷۱ھ کو ان کے دست حق پرست پر بیعت ہو گئے ۔

بیعت کے بعد ہر ماہ دو تین مرتبہ شیخ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور شیخ کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ ان کے سامنے بولنے کی بھی ہمت نہ ہوتی تھی، جب چھٹی مرتبہ حاضر ہوئے تو حضرت شیخ نے خرقۂ خلافت اور اجازت سے سرفراز فرمایا ۔

سیرت و خصائص:
آپ کی والدہ ماجدہ بڑی عبادت گزار اور صالحہ خاتون تھیں ۔ جنہوں نے ابتداء ہی سے اپنے لخت جگر کو نماز روزہ کا پابند بنا دیا تھا ۔ آپ منکسر المزاج اور بلند اخلاق کے مالک تھے، آپ کو خود پسندی چھو کر بھی نہیں گزری تھی ۔ نہایت نرم دل اور سراپا شفقت و عنایت تھے ۔ غرباء کی دلجوئی آپ کا خاص وصف تھا ۔ اعمال میں نہایت محتاط اور پابند شریعت تھے ۔ آپ حد درجہ خوبصورت تھے، دراز قامت، دلکش آنکھیں، شانوں پر زلفیں، کلاہ چہار ترکی سر پر ، آپ حسن مجسم معلوم ہوتے تھے ۔

وصال:
6 جمادی الاخریٰ ، 7 جولائی (۱۳۲۶ھ/۱۹۰۸ء) کو آپ کا وصال ہوا اور جلال پور شریف میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ghulam-hyder-ali-shah
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1