🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-06-1445 ᴴ | 19-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-06-1445 ᴴ | 19-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-06-1445 ᴴ | 19-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-06-1445 ᴴ | 19-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت شاہ نیاز احمد بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: راز احمد ۔ تخلص: نیاز احمد ۔ اب اسی تخلص سے معروف ہیں ۔ والد کا اسم گرامی: شاہ محمد رحمت اللہ ہے ۔ آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ قدیمہ میں صاحبِ ارشاد تھے ۔ حضرت خواجہ فخر الدین دہلوی علیہ الرحمہ سے خاص تعلق تھا ۔ خواجہ صاحب آپ کا بے حد ادب کرتے تھے ۔
خاندانی حالات:
آپ والد کی طرف سے علوی سید ہیں اور والدہ کی طرف سے حسینی و رضوی ہیں ۔ آپ کی والدہ محترمہ مولانا سعد الدین کی صاحبزادی تھیں، اور مولانا سعدالدین حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ کے خلیفہ تھے ۔ آپ کے اجداد شاہان بخارا سے تھے ۔ آپ کے اجداد میں حضرت شاہ آیت اللہ علوی تاج و تخت چھوڑ کر ملتان تشریف لائے ۔ ان کے پوتے شاہ عظمت اللہ ملتان سے سرہند میں آکر رہنے لگے ۔ وہاں سے حضرت شاہ رحمت اللہ علوی دہلی تشریف لائے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 1173ھ میں سرہند میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی والدہ ماجدہ جو رابعۂ عصر تھیں نے اپنی نظروں میں بٹھایا اور اپنی زیر نگاہ تربیت دی پھر ظاہری و باطنی علوم کے لیے حضرت شاہ فخر الدین رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پیش کیا حضرت مولانا فخر قدس سرہ نے بھی شاہ نیاز کو بڑی توجہ اور شفقت سے زیور تعلیم سے آراستہ کیا آپ سترہ سال تک ظاہری اور باطنی علوم کی تحصیل میں مصروف رہے آپ کو معقول منقول فروغ و اصول حدیث و تفسیر فقہ و منطق جیسے علومِ مروجہ میں درجۂ کمال تک پہنچا دیا ۔ آپ کے نانا مولانا سعد الدین ایک جید عالم دین تھے ۔ ان سے بھی تحصیلِ علم کیا ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت خواجہ فخر الدین دہلوی علیہ الرحمہ کے حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ آپ کی طرف سے خلافت بھی ملی ۔ حضرت خواجہ صاحب کے محبوب اور رازاداں خلیفہ تھے ۔
حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ایک بزرگ حضرت سید عبد اللہ بغدادی علیہ الرحمہ نے حضر ت غوث الاعظم کے حکم سے آپ کو خلافت عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
عارف اسرار ربانی، محبوب حضرت محبوبِ سبحانی، حضرت شاہ نیاز احمد قادری نظامی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ صاحبِ علم و کرامات بزرگ، اور بڑے صاحب راز و نیاز اور مالک سوز و گداز تھے ۔ عشق و محبت میں اپنی مثال آپ تھے ۔ علوم ظاہر و باطنی میں یگانہ روز گار تھے ۔ طالبان حق کو اللہ تک رسائی کرانا ان کے کمالات میں شامل تھا ۔ آپ کی خانقاہ فیوض ربانی کا خزینہ اور انوار سبحانی کا مطلع تھا ۔ ہزاروں سحر زدہ دل آپ کی دل جوئی سے خدا رسیدہ بن گئے اور سینکڑوں بے خبر اللہ کی معرفت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔
ہر وقت عشقِ الٰہی میں سرشار رہتے تھے ۔ عجز و انکساری اور حضرت مولانا فخر الدین فخر جہاں کے وابستگان سے لگاؤ اور محبت کی یہ حالت تھی کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا فخر الدین جہاں کی پالکی اٹھانے والوں میں سے ایک کہاری آپ کی خانقاہ میں آیا، آپ اس کو لینے کی غرض سے خانقاہ کے صحن تک تشریف لے گئے، اس کہاری کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور نہایت عزت کے ساتھ اس کو اپنی مسند کے پاس بٹھایا، اس کو نذر پیش کی اور رُخصت کیا ۔
اسی طرح آپ خاندان رسالت کا بڑا احترام کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ ایک مجلس وعظ میں آپ رونق افروز تھے ۔ آپ کی نگاہ ایک صاحب پر پڑی جو سید تھے ۔ وہ نہایت شکستہ حال تھے اور سب سے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ ان کو دیکھتے ہیں اٹھے اور اپنا سر ان کے قدموں پر رکھ دیا، پھر حاضرین سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ: "سب لوگ گواہ رہیں کہ اگر خدا کے یہاں مجھ سے یہ سوال ہوگا کہ تو اس مجلس وعظ میں گیا تھا تو میں یہی عرض کروںگا کہ میں نے وہاں بھی تیرے رسول کی اولاد کے قدموں پر سر رکھا تھا" ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: راز احمد ۔ تخلص: نیاز احمد ۔ اب اسی تخلص سے معروف ہیں ۔ والد کا اسم گرامی: شاہ محمد رحمت اللہ ہے ۔ آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ قدیمہ میں صاحبِ ارشاد تھے ۔ حضرت خواجہ فخر الدین دہلوی علیہ الرحمہ سے خاص تعلق تھا ۔ خواجہ صاحب آپ کا بے حد ادب کرتے تھے ۔
خاندانی حالات:
آپ والد کی طرف سے علوی سید ہیں اور والدہ کی طرف سے حسینی و رضوی ہیں ۔ آپ کی والدہ محترمہ مولانا سعد الدین کی صاحبزادی تھیں، اور مولانا سعدالدین حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ کے خلیفہ تھے ۔ آپ کے اجداد شاہان بخارا سے تھے ۔ آپ کے اجداد میں حضرت شاہ آیت اللہ علوی تاج و تخت چھوڑ کر ملتان تشریف لائے ۔ ان کے پوتے شاہ عظمت اللہ ملتان سے سرہند میں آکر رہنے لگے ۔ وہاں سے حضرت شاہ رحمت اللہ علوی دہلی تشریف لائے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 1173ھ میں سرہند میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی والدہ ماجدہ جو رابعۂ عصر تھیں نے اپنی نظروں میں بٹھایا اور اپنی زیر نگاہ تربیت دی پھر ظاہری و باطنی علوم کے لیے حضرت شاہ فخر الدین رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پیش کیا حضرت مولانا فخر قدس سرہ نے بھی شاہ نیاز کو بڑی توجہ اور شفقت سے زیور تعلیم سے آراستہ کیا آپ سترہ سال تک ظاہری اور باطنی علوم کی تحصیل میں مصروف رہے آپ کو معقول منقول فروغ و اصول حدیث و تفسیر فقہ و منطق جیسے علومِ مروجہ میں درجۂ کمال تک پہنچا دیا ۔ آپ کے نانا مولانا سعد الدین ایک جید عالم دین تھے ۔ ان سے بھی تحصیلِ علم کیا ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت خواجہ فخر الدین دہلوی علیہ الرحمہ کے حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ آپ کی طرف سے خلافت بھی ملی ۔ حضرت خواجہ صاحب کے محبوب اور رازاداں خلیفہ تھے ۔
حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ایک بزرگ حضرت سید عبد اللہ بغدادی علیہ الرحمہ نے حضر ت غوث الاعظم کے حکم سے آپ کو خلافت عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
عارف اسرار ربانی، محبوب حضرت محبوبِ سبحانی، حضرت شاہ نیاز احمد قادری نظامی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ صاحبِ علم و کرامات بزرگ، اور بڑے صاحب راز و نیاز اور مالک سوز و گداز تھے ۔ عشق و محبت میں اپنی مثال آپ تھے ۔ علوم ظاہر و باطنی میں یگانہ روز گار تھے ۔ طالبان حق کو اللہ تک رسائی کرانا ان کے کمالات میں شامل تھا ۔ آپ کی خانقاہ فیوض ربانی کا خزینہ اور انوار سبحانی کا مطلع تھا ۔ ہزاروں سحر زدہ دل آپ کی دل جوئی سے خدا رسیدہ بن گئے اور سینکڑوں بے خبر اللہ کی معرفت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔
ہر وقت عشقِ الٰہی میں سرشار رہتے تھے ۔ عجز و انکساری اور حضرت مولانا فخر الدین فخر جہاں کے وابستگان سے لگاؤ اور محبت کی یہ حالت تھی کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا فخر الدین جہاں کی پالکی اٹھانے والوں میں سے ایک کہاری آپ کی خانقاہ میں آیا، آپ اس کو لینے کی غرض سے خانقاہ کے صحن تک تشریف لے گئے، اس کہاری کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور نہایت عزت کے ساتھ اس کو اپنی مسند کے پاس بٹھایا، اس کو نذر پیش کی اور رُخصت کیا ۔
اسی طرح آپ خاندان رسالت کا بڑا احترام کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ ایک مجلس وعظ میں آپ رونق افروز تھے ۔ آپ کی نگاہ ایک صاحب پر پڑی جو سید تھے ۔ وہ نہایت شکستہ حال تھے اور سب سے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ ان کو دیکھتے ہیں اٹھے اور اپنا سر ان کے قدموں پر رکھ دیا، پھر حاضرین سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ: "سب لوگ گواہ رہیں کہ اگر خدا کے یہاں مجھ سے یہ سوال ہوگا کہ تو اس مجلس وعظ میں گیا تھا تو میں یہی عرض کروںگا کہ میں نے وہاں بھی تیرے رسول کی اولاد کے قدموں پر سر رکھا تھا" ۔
❤1
آپ رات کو بارہ بجے کے قریب اٹھتے، وضو کرتے اور تہجد پڑھتے ۔ تہجد سے فارغ ہو کر خاندانی وظیفہ پڑھتے ۔ بعد ازاں بارہ تسبیح ضرب کی ادا کرتے ۔ صبح کی نماز پڑھ کر تھوڑی دیر آرام کرتے ۔ فنِ شاعری میں خاص مہارت تھی ۔ آپ کا کلام مقبولِ عام اور پُر تاثیر ہے ۔ آپ کو صوفی شعراء کی بزم میں ایک خاص درجہ حاصل ہے ۔ آپ کا تخلص "نیاز" ہے ۔ دو دیوان، ایک فارسی زبان میں، اور دوسرا اردو زبان میں آپ کی شاعری کی یادگار ہیں ۔ آپ کا کلام فصاحت تام حقائق و معارف کا آئینہ ہے ۔ ایک مرتبہ جب آپ نے اپنی ایک غزل حضرت مرزا جان جاناں مظہر شہید رحمۃ اللہ علیہ کو سنائی تو حضرت مرزا صاحب پر وجدانی کیفیت طاری ہو گئی ۔
بعد از وصال بیعت:
ایک انگلستانی کابل سے آپ سے بیعت ہونے کی غرض سے بریلی آیا ۔ شہر سے باہر دریا کے کنارے اس کی ایک شخص سے ملاقات ہوئی ۔ باتوں باتوں میں اس ولایتی نے اپنے آنے کی وجہ ظاہر کی ۔ اس شخص نے یہ سن کر کہا کہ: "جس شخص کے پاس تم جاتے ہو، وہ نیاز احمد میں ہی ہوں" ۔ وہ شخص وہیں بیعت سے مشرف ہوا، پھر اس شخص سے فرمایا کہ تم خانقاہ چلو، میں بھی وہیں آتا ہوں، وہ شخص جب خانقاہ میں آیا تو دیکھا کہ آپ کی (حضرت شاہ نیاز رحمۃ اللہ علیہ کی) سوم کی فاتحہ ہو رہی ہے، اب اس شخص کو معلوم ہوا کہ آپ نے اس کو وصال کے بعد بیعت کیا ہے ۔ (تذکرہ اولیائے پاک و ہند، ص:321) ـ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 جمادی الثانی 1250ھ / مطابق اکتوبر 1834ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار بریلی میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-niaz-ahmed-barelvi
بعد از وصال بیعت:
ایک انگلستانی کابل سے آپ سے بیعت ہونے کی غرض سے بریلی آیا ۔ شہر سے باہر دریا کے کنارے اس کی ایک شخص سے ملاقات ہوئی ۔ باتوں باتوں میں اس ولایتی نے اپنے آنے کی وجہ ظاہر کی ۔ اس شخص نے یہ سن کر کہا کہ: "جس شخص کے پاس تم جاتے ہو، وہ نیاز احمد میں ہی ہوں" ۔ وہ شخص وہیں بیعت سے مشرف ہوا، پھر اس شخص سے فرمایا کہ تم خانقاہ چلو، میں بھی وہیں آتا ہوں، وہ شخص جب خانقاہ میں آیا تو دیکھا کہ آپ کی (حضرت شاہ نیاز رحمۃ اللہ علیہ کی) سوم کی فاتحہ ہو رہی ہے، اب اس شخص کو معلوم ہوا کہ آپ نے اس کو وصال کے بعد بیعت کیا ہے ۔ (تذکرہ اولیائے پاک و ہند، ص:321) ـ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 جمادی الثانی 1250ھ / مطابق اکتوبر 1834ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار بریلی میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-niaz-ahmed-barelvi
❤1