🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
مولائے روم علامہ جلال الدین رومی علیہ الرحمہ

نام و نسب:
اصل نام محمد ، لقب جلال الدین اور مولائے روم تھا ۔

نسب نامہ:
جواہر مضیہ میں سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا ہے: محمد جلال الدین بن محمد بہاؤ الدین بن محمد بن حسین بلخی بن احمد بن قاسم بن مسیب بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق ۔ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) ـ

تاریخِ ولادت:
مولائے روم ۔ ۶۰۴ھ مطابق ۱۲۰۷ء میں پیدا ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد شیخ بہاؤ الدین سے حاصل کی پھر انہوں نے اپنے مرید سید برہان الدین کو مولانا کا معلم اور اتالیق بنا دیا ۔ اکثر علوم مولانا کو انہی سے حاصل ہوئے ۔ ۶۳۹ھ میں حلب کے مدرسہ حلاویہ میں فقہ اور مذاہب کے بہت بڑے عالم مولانا کمال الدین سے شرف تلمذ حاصل کیا ۔ ان کے علاوہ عالمِ اسلام کی عظیم ہستیوں شیخ سعد الدین حموی ، شیخ محی الدین ابن عربی، شیخ شہاب الدین سہروردی، شیخ عثمان رومی، شیخ اوحد الدین کرمانی، شیخ صدر الدین قونوی (علیہم الرحمۃ والرضوان) سے اکتساب فیض کیا ۔ یہاں تک کہ ۶۰۴ھ میں پیدا ہونے والا یہ مولودِ مسعود ۲۶ سال کی عمر میں مرجع خلائق بن گیا اور بڑے بڑے علما انکی طرف رجوع کرنے لگے ۔

بیعت و خلافت:
اپنے والد صاحب کے وصال کے بعد مولانا نے اپنا روحانی تعلق سید برہان الدین سے قائم کر لیا تھا ۔ چنانچہ مثنوی میں مولانا نے ان کا تذکرہ اپنے پیر کی حیثیت سے کیا ہے ۔ جواہر مضیہ کی روایت کی مطابق شیخ شمس الدین کو ان کے مرشد بابا کمال الدین جندی نے یہ کہہ کر مولانا کے پاس بھیجا تھا کہ روم جاؤ وہاں ایک سوختہ دل ہے اس کو گرماؤ ۔ مولائے روم آپکی شخصیت و تعلیمات سے ایسے متأثر ہوئے کہ آپکے دست حق پرست پر بیعت ہو گئے ۔

سیرت و تعلیمات:
مولانا پر بچپن ہی سے سعادت مندی کے آثار نمایاں تھے ۔ جب خواجہ فرید الدین عطار مولائے روم کے والد شیخ بہاؤ الدین سے نیشاپور میں ملے اس وقت مولائے روم کی عمر تقریباً ۶ سال تھی ۔ خواجہ صاحب نے آپکو دیکھ کر شیخ بہاؤ الدین سے فرمایا! ‘‘اس صاحبزادے کے جوہر ِقابل سے غفلت نہ برتیے گا یہ مستقبل میں آفتابِ شریعت اور ماہتابِ طریقت ہوگا ’’ واقعی ایسا ہوا جیسے خواجہ صاحب نے فرمایا تھا ۔

مولائے روم ، دانائے مغرب ،میں تواضع اور انکساری اس حد تک تھی کہ ایک راہب نے آپکی انکساری دیکھ کر اپنے رفقاء سمیت اسلام قبول کرلیا ۔ انتقال سے قبل مولانا نے اپنے اصحاب کو وصیت فرمائی! کہ سرًاو علانیۃًً اللہ سے ڈرتے رہنا، کھانے، سونے اور گفتگو میں کمی کرنا،گناہوں سے دور رہنا، روزے برابر رکھنا، رات کے قیام میں ہمیشگی اختیار کرنا، شہوتوں کو ہمیشہ کیلئے چھوڑ دینا، ہر طرح کے لوگوں کی جفاؤں کو برداشت کرنا، غافلوں اور جاہلوں کی ہم نشینی سے بچنا ، نیکوں اور بزرگوں سے مصاحبت رکھنا، بہترین انسان وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے، اور بہترین کلام وہ ہے جو قلیل اور مکمل ہو۔تمام تعریف و توصیف اللہ جل شانہ کے لئے ہے جو عظمت والا ہے اور اس کے محبوب حضرت محمد ﷺ پر سلام ہو ۔

وصال:
تقریباً ۶۶سال کی عمر میں یک شنبہ 5 جمادی الثانی ۶۷۲ھ / مطابق 17 دسمبر ۱۲۷۳ء کو مغرب کے وقت مولائے روم عالمِ آخرت کی طرف روانہ ہوگئے اور قونیہ کی پاک سرزمین آج بھی عقیدت مندوں کا مرکز ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-room-hazrat-bahauddin-muhammad-jalaluddin-rumi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا سلام اللہ محدث رامپوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
مولانا سلام اللہ ۔ لقب: محدث رامپوری ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا سلام اللہ محدث رامپوری بن شیخ الاسلام محمد دہلوی بن حافظ فخرالدین دہلوی بن مولانا محب اللہ دہلوی بن شیخ نور اللہ دہلوی بن شیخ نور الحق محدث دہلوی بن امام المحدثین شیخ عبد الحق محدث دہلوی ۔ علیہم الرحمہ۔

آپ کا تمام خاندان علماء و محدثین کا خاندان ہے ۔ آپ کے والد شیخ الاسلام محمد دہلی کے قاضی القضاۃ اور شیخ الاسلام کے عہدے پر فائز تھے، اور شارحِ صحیح بخاری اور مصنف کتبِ کثیرہ تھے ۔

نوٹ:
حدائق الحنفیہ ، اور تذکرہ علمائے ہند میں ان کا سلسلہ نسب مکمل نہیں ہے ۔تصانیف وغیرہ بھی خلط کر دی گئی ہیں ۔

مذکورہ سلسلہ نسب مکمل اور صحیح ہے ۔ (مآثر الکرام، ص:280 / حیات شیخ عبد الحق ۔ خلیق نظامی ۔ ص:266) ـ

تحصیلِ علم:
جمیع علوم اپنے والد ماجد شیخ الاسلام مصنف شرح فارسی صحیح بخاری و رسالہ طرد الاوہام عن اثر الامام الہمام، اور کشف الغطاء عما لزم للموتی علی الاحیاء وغیرہ سے حاصل کیے اور انہیں سے اور نیز دیگر فضلائے عصر سے حدیث وغیرہ علوم کی سند و اجازت حاصل کی ۔

آپ اپنے وقت کے عظیم محدث تھے ۔ آپ کی کتاب شرح مؤطا امام مالک کو بعض علماء نے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی شرح المسویٰ سے جامع قرار دیا ہے ۔ (حیات شیخ عبد الحق محدث دہلوی، ص:270) ـ

سیرت و خصائص:
محدثِ زمانہ، فاضلِ یگانہ، عالمِ متبحر، خانوادۂ شیخ محقق کے فردِ فرید، حضرت علامہ مولانا شیخ سلام اللہ محدث رامپوری رحمۃ اللہ علیہ۔

آپ تمام علوم عقلیہ و نقلیہ کے جامع تھے ۔ ساری زندگی درس و تدریس ، تصنیف و تالیف اور خدمت دین میں گزاری ۔

حدائق الحنفیہ میں مرقوم ہے:
آپ حضرت شیخ الاسلام شارح بخار ی کے صاحبزادے اور محقق علی الاطلاق شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی اولاد میں سےتھے ۔ فقیہ فاضل، محدث کامل، مفسر متجر، علامۂ عصر، محقق و مدقق تھے ۔ آپ کے جد امجد حافظ فخر الدین بھی بڑے فاضل اور عالم اجل اور حقیقتاً فخر الدین والدنیا تھے، جن کی تصنیفات سے شرح فارسی صحیح مسلم اور فارسی شرح عین العلم اور شرح حصنِ حصین یادگار ہیں ۔ غرض بعد تحصیل علوم کے آپ مسندِ افادت و افاضت پر متمکن ہو کر مثل اپنے اسلاف کے تنشیر علوم میں مشغول ہوئے ۔

تذکرہ علمائے ہند میں ہے:
آپ اپنے زمانے کے مشہور محدث تھے ۔دہلی کے حالات سے بد دل ہو کر ترک وطن کرکے رام پور جا بسے تھے ۔ وہاں بڑے پیمانے پر درس و تدریس اور احیائے دین کا کام شروع کر دیا، اور محدث رامپوری کے نام سے مشہور ہوئے ۔

آپ کو عربی زبان میں مطالب علمیہ کی تحریر پر کامل دستگاہ تھی ۔ درس و تدریس، رشد و ہدایت مشغلۂ حیات تھے، تصانیف میں مؤطا کی شرح "محلی بحل اسرار المؤطا" آپ کے وفور علم پر شاہد ہے۔ محلیّٰ بحل اسرار المؤطا کے علاوہ آپ کی تصانیف مندرجہ ذیل ہیں:

تصنیفات:
❶ شرح شمائل ترمذی ۔ ❷ رسالہ مناقب اہل بیت بنام خلاصۃ المناقب ۔ ❸ کمالین حاشیہ تفسیر جلالین ۔ ❹ رسالہ اصول حدیث ۔

اولاد:
شیخ سلام اللہ کے دو صاحبزادے تھے ۔ شیخ نور الاسلام، اور شیخ محمد سالم ۔ شیخ نور الاسلام علوم عقلیہ و نقلیہ اور علم ریاضی میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔علم طب سے بھی خاص دلچسپی تھی۔مولانا غیاث الدین صاحبِ غیاث اللغات نے طب انہی سے پڑھی تھی ۔ شیخ نور الاسلام کچھ عرصہ رام پور میں مفتی بھی رہے ۔ دونوں صاحبزادگان نے مفید تصانیف یادگار چھوڑی ہیں ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 5 جمادی الثانی 1229ھ / مطابق مئی 1814ء کو ہوا ۔ زبدۃ الاولیاء شاہ عبد اللہ بغدادی قدس سرہٗ کی درگاہ کے احاطہ میں مسجد کے قریب جانب جنوب دفن ہوئے ۔

ماخذ و مراجع:
حیات شیخ عبدالحق ۔ حدائق الحنفیہ ۔تذکرہ علمائے ہند ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-salamullah-muhaddith-rampuri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت مولانا حاجی محمد اسماعیل صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (پشاور، پاکستان) ـ

خلیفۂ اعلٰی حضرت ، مولانا محمد اسماعیل صاحب آپ کو اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خاں قادری محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اجازت و خلافت عطاء فرمائی تھی ۔

امام اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو خلافت و اجازت کا اشتہار شائع فرمایا تھا اس میں آپ علیہ الرحمہ کا ذکر بایں الفاظ موجود ہے: ’’جناب مولانا مولوی محمد اسماعیل صاحب، پشاور، عالم، واعظ، مجاز طریقت ‘‘ ۔ (تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت ، ص:10) ـ

آپ علیہ الرحمہ کے مزید حالات معلوم نہیں ہو سکے ۔ احباب اہل سنت سے گزارش ہے کہ جن کے پاس آپ علیہ الرحمہ کی معلومات ہوں وہ افادۂ عام کے لئے ’’ ضیاء طیبہ ‘‘ کے ای میل ایڈریس ( info@ziaetaiba.com) پر بھیج کر اس کارِ خیر میں تعاون فرمائیں ۔ ہم ان شاء اللہ تعالیٰ اس کو ویب سائٹ پر (Upload) کر دیں گے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/haji-muhammad-ismail-ghauri-peshawari
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-06-1445 ᴴ | 18-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-06-1445 ᴴ | 19-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-06-1445 ᴴ | 19-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-06-1445 ᴴ | 19-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1