🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-06-1445 ᴴ | 18-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-06-1445 ᴴ | 18-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-06-1445 ᴴ | 18-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-06-1445 ᴴ | 18-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
خدارا شادی کو آسان کیجئے!
نکاح کے لئے 6 ضروری کام ...
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
خدارا شادی کو آسان کیجئے!
نکاح کے لئے 6 ضروری کام ...
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت سید شاہ سکندر گیلانی کیتھلی قادری رحمۃ اللہ علیہ
تعارف:
قطب رابانی، رؤس الاولیاء، امام الاتقیا، برھان الاصفیاء، متصرف بہ تصرفات، صاحب کشف و کرامات، فخر السادات ، نسبت رسولی، حضرت شاہ سکندر کیتھلی قادری رحمۃ اللہ علیہ محبوب الٰہی ہیں۔
آپ کی ولادت باسعادت 16 شعبان المعظم ۹۶۳ ہجری بمطابق 26 جون 1556 بروز جمعرات صبح صادق کے وقت عارف باللہ ولی علی الاطلاق بالاتفاق حضرت سید عماد الدین گیالنی قادری کیتھلی رحمۃ اللہ علیہ کے گھر کیتھل شریف ضلع کرنال میں ہوئی۔
آپ غوث الوقت حضرت شاہ کمال شاہ کیتھل قادری گیلانی علیہ الرحمۃ کے پوتے اور حسنی حسینی سید ہیں۔ آپ کا شجرہ نسب چند واسطوں سے حضرت پیران پیر دستگیر سیدنا عبد القادر جیلانی الحسنی والحسینی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا کر ملتا ہے۔
آپ کی ولادہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ آپ کی ولادت باسعادت سے قبل آڈھی رات کو میں نے دیکھا کہ زمین سے لے کر آسمان تک روشنی ہی روشنی ہے چونکہ میں نے اس سے قبل ایسا نورانی منظر کبھی دیکھا نہ تھا اس لیے گھبراگئی۔ اور بارگاہ الٰہی میں التجا کی۔ اے مولا یہ کیا راز ہے۔ اس راز سے پردہ تو اٹھا، غیب سے ندا آئی۔ یہ روشنی تیرے پیٹ سے پیدا ہونے والے بچے کے دل کا نور ہے، جس کی ولادت ابھی کچھ ہی دیر بعد ہونے والی ہے۔
آپ کی والدہ فرماتی ہیں کہ آپ کی ولادت سے قبل مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مولائے کائنات حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہ الکریم زیارت ہوئی۔ اور انہوں نے مجھے آپ کی پیدائش کا مژدہ سنایا اور مبارکبار بھی دی۔
آپ کی ولادت باسعادت کے بعد آپ کے دادا جان حضرت شاہ کمال شاہ کیتھل قادری علیہ الرحمۃ کودایہ نے مبارک باد دی اورآپ کو ان کی جھولی میں ڈالا تو انہوں نے آپ کا روئے تاباں دیکھتے ہی فرمایا۔اس کا نام سکندر ہوگا۔اور یہ بچہ میرا جانشین ہوگا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی انگشت شہادت آپ کے منہ میں دے دی جسے آپ نے چوسنا شروع کردیا۔ جس سے آپ کادل انوار الٰہی سے معطر و معمور ہوگیا۔
تربیت و تعلیم:آپ کی تربیت آپ کے والد گرامی اور دادا بزرگوار کے ہاتھوں ہوئی۔جب آپ کی عمر عزیز چار برس کی ہوئی تو آپ کے دادا بزرگوار حسول علم کےلیے آپ کو ایک متجر اور جید عالم دین کے سپرد کردیا۔ جہاں آپ نے چند روز تحصیل علم فرمائی۔
اس دوران ایک رات کا واقعہ ہے۔کہ غٰب سے ندا آئی شاہ سکندر تو قرآن کیوں نہیں سیکھتا۔ آپ نے جواب دیا، یا اللہ تو قادر مطلق ہے مجھے تعلیم فرما ، یہ عرض کرنا تھا کہ غیب سے ایک نورانی ہاتھ نمودار ہوا اور اس ہاتھ نے آپ کے سینۂ مبارک سے مس کیا اور قرآنی علوم کا خزانہ آپ کے سینے میں آگیا اور اسی وقت علوم اسمیہ وغیرہ آپ پر منکشف ہوگئے۔
اس کے بعد سے معاملہ یہ ہوا کہ وقت کے بڑے بڑے علماء اور مشائخ کی ایک جماعت آپ کے گرد جمع رہتی تھی ۔ اور آپ کی دعاؤں سے ان کی دینی و دنیاوی آرزو ؤئیں پوری ہوتی تھیں اور بڑے بڑے دقیق مسائل آن واحد میں حل فرمادیتے تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے عظیم دادا بزرگوار شاہ کیتھل حضرت شاہ کمال کیتھلی قادری گیلانی علیہ الرحمۃ کے دست حق پرست پر بارہ برس کی عمر میں بیعت سے مشرف ہوئے اور بیعت کے فوراًبعد ہی خرقہ خلافت پاکر صاحب ارشاد مجاز ہوئے۔ آپ کے دادا زبرگوار اور شیخ طریقت نے عطائے خرقہ خلافت کے ساتھ اپنا عصا مبارک بھی آپ کو عطا فرما دیا تھا۔
اور اس واقعہ کے کچھ عرصۃ بعد ہی آپ کے پیر و مرشد اور دادا بزرگوار کا وصال باکمال ہوگیا تھا۔ جس کے بعد کیتھل کی روحانی خانقاہ کے وارث و سجادہ آپ ہی مقررہ ہوئے۔
سیرت و کردار:
آپ کا بچپن عصمت و تقویٰ کا بے مثال نمونہ ہے۔ کم سنی میں ہی خرقہ خلافت و اجازت ملنے کے بعد طویل عرصہ تک عبادت و ریاضت مجاہدہ سلوک میں مگن رہے۔
آپ کے مجاہدات سخت ہوتے تھے اس راہ میں آپ نے بہت تکالیف برداشت کیں۔ آپ احکام شرعیہ کے فطری طور پر مقلد تھے ۔ کسی بھی حال میں شریعت کے دامن کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
اسی طرح آپ نے اپنے پاس آنے والوں کی تربیت قلوب اور اصلاح خلق کے کام کو اس خوبی سے انجام دیا کہ سینکڑوں گم کردہ راہ راہ راست پر آگئے۔غفلت کے شکار لوگ غفلت سے بیدار ہوئے۔طالموں اور سر کشوں کے دلوں میں نرمی آئی۔حرص و ہوا کے پجاری عابد و زاہدو نیک ہوگئے۔ الغرض جو بھی آپ کے دامن سے وابستہ ہوتا وہ آپ کے قالب میں ڈھل کے رہ جاتا اور سینکڑوں طالبان حق آپ کی توجہ سے صاحب ارشاد ہوئے۔
آپ نے اپنی زندگی کا ایک ہی مقصد رکھاکہ خدا سے بھاگ ہوئے خدا کے دروازے پر آجائیں اور خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ سلم کے احکام کے متبع ہو جائیں ۔
تعارف:
قطب رابانی، رؤس الاولیاء، امام الاتقیا، برھان الاصفیاء، متصرف بہ تصرفات، صاحب کشف و کرامات، فخر السادات ، نسبت رسولی، حضرت شاہ سکندر کیتھلی قادری رحمۃ اللہ علیہ محبوب الٰہی ہیں۔
آپ کی ولادت باسعادت 16 شعبان المعظم ۹۶۳ ہجری بمطابق 26 جون 1556 بروز جمعرات صبح صادق کے وقت عارف باللہ ولی علی الاطلاق بالاتفاق حضرت سید عماد الدین گیالنی قادری کیتھلی رحمۃ اللہ علیہ کے گھر کیتھل شریف ضلع کرنال میں ہوئی۔
آپ غوث الوقت حضرت شاہ کمال شاہ کیتھل قادری گیلانی علیہ الرحمۃ کے پوتے اور حسنی حسینی سید ہیں۔ آپ کا شجرہ نسب چند واسطوں سے حضرت پیران پیر دستگیر سیدنا عبد القادر جیلانی الحسنی والحسینی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا کر ملتا ہے۔
آپ کی ولادہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ آپ کی ولادت باسعادت سے قبل آڈھی رات کو میں نے دیکھا کہ زمین سے لے کر آسمان تک روشنی ہی روشنی ہے چونکہ میں نے اس سے قبل ایسا نورانی منظر کبھی دیکھا نہ تھا اس لیے گھبراگئی۔ اور بارگاہ الٰہی میں التجا کی۔ اے مولا یہ کیا راز ہے۔ اس راز سے پردہ تو اٹھا، غیب سے ندا آئی۔ یہ روشنی تیرے پیٹ سے پیدا ہونے والے بچے کے دل کا نور ہے، جس کی ولادت ابھی کچھ ہی دیر بعد ہونے والی ہے۔
آپ کی والدہ فرماتی ہیں کہ آپ کی ولادت سے قبل مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مولائے کائنات حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہ الکریم زیارت ہوئی۔ اور انہوں نے مجھے آپ کی پیدائش کا مژدہ سنایا اور مبارکبار بھی دی۔
آپ کی ولادت باسعادت کے بعد آپ کے دادا جان حضرت شاہ کمال شاہ کیتھل قادری علیہ الرحمۃ کودایہ نے مبارک باد دی اورآپ کو ان کی جھولی میں ڈالا تو انہوں نے آپ کا روئے تاباں دیکھتے ہی فرمایا۔اس کا نام سکندر ہوگا۔اور یہ بچہ میرا جانشین ہوگا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی انگشت شہادت آپ کے منہ میں دے دی جسے آپ نے چوسنا شروع کردیا۔ جس سے آپ کادل انوار الٰہی سے معطر و معمور ہوگیا۔
تربیت و تعلیم:آپ کی تربیت آپ کے والد گرامی اور دادا بزرگوار کے ہاتھوں ہوئی۔جب آپ کی عمر عزیز چار برس کی ہوئی تو آپ کے دادا بزرگوار حسول علم کےلیے آپ کو ایک متجر اور جید عالم دین کے سپرد کردیا۔ جہاں آپ نے چند روز تحصیل علم فرمائی۔
اس دوران ایک رات کا واقعہ ہے۔کہ غٰب سے ندا آئی شاہ سکندر تو قرآن کیوں نہیں سیکھتا۔ آپ نے جواب دیا، یا اللہ تو قادر مطلق ہے مجھے تعلیم فرما ، یہ عرض کرنا تھا کہ غیب سے ایک نورانی ہاتھ نمودار ہوا اور اس ہاتھ نے آپ کے سینۂ مبارک سے مس کیا اور قرآنی علوم کا خزانہ آپ کے سینے میں آگیا اور اسی وقت علوم اسمیہ وغیرہ آپ پر منکشف ہوگئے۔
اس کے بعد سے معاملہ یہ ہوا کہ وقت کے بڑے بڑے علماء اور مشائخ کی ایک جماعت آپ کے گرد جمع رہتی تھی ۔ اور آپ کی دعاؤں سے ان کی دینی و دنیاوی آرزو ؤئیں پوری ہوتی تھیں اور بڑے بڑے دقیق مسائل آن واحد میں حل فرمادیتے تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے عظیم دادا بزرگوار شاہ کیتھل حضرت شاہ کمال کیتھلی قادری گیلانی علیہ الرحمۃ کے دست حق پرست پر بارہ برس کی عمر میں بیعت سے مشرف ہوئے اور بیعت کے فوراًبعد ہی خرقہ خلافت پاکر صاحب ارشاد مجاز ہوئے۔ آپ کے دادا زبرگوار اور شیخ طریقت نے عطائے خرقہ خلافت کے ساتھ اپنا عصا مبارک بھی آپ کو عطا فرما دیا تھا۔
اور اس واقعہ کے کچھ عرصۃ بعد ہی آپ کے پیر و مرشد اور دادا بزرگوار کا وصال باکمال ہوگیا تھا۔ جس کے بعد کیتھل کی روحانی خانقاہ کے وارث و سجادہ آپ ہی مقررہ ہوئے۔
سیرت و کردار:
آپ کا بچپن عصمت و تقویٰ کا بے مثال نمونہ ہے۔ کم سنی میں ہی خرقہ خلافت و اجازت ملنے کے بعد طویل عرصہ تک عبادت و ریاضت مجاہدہ سلوک میں مگن رہے۔
آپ کے مجاہدات سخت ہوتے تھے اس راہ میں آپ نے بہت تکالیف برداشت کیں۔ آپ احکام شرعیہ کے فطری طور پر مقلد تھے ۔ کسی بھی حال میں شریعت کے دامن کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
اسی طرح آپ نے اپنے پاس آنے والوں کی تربیت قلوب اور اصلاح خلق کے کام کو اس خوبی سے انجام دیا کہ سینکڑوں گم کردہ راہ راہ راست پر آگئے۔غفلت کے شکار لوگ غفلت سے بیدار ہوئے۔طالموں اور سر کشوں کے دلوں میں نرمی آئی۔حرص و ہوا کے پجاری عابد و زاہدو نیک ہوگئے۔ الغرض جو بھی آپ کے دامن سے وابستہ ہوتا وہ آپ کے قالب میں ڈھل کے رہ جاتا اور سینکڑوں طالبان حق آپ کی توجہ سے صاحب ارشاد ہوئے۔
آپ نے اپنی زندگی کا ایک ہی مقصد رکھاکہ خدا سے بھاگ ہوئے خدا کے دروازے پر آجائیں اور خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ سلم کے احکام کے متبع ہو جائیں ۔
❤2