🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-06-1445 ᴴ | 17-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-06-1445 ᴴ | 17-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ گنے کے رس کے فوائد ـ ❷ آم کے فوائد ـ ❸ کھیرے کے فوائد ـ ❹ کاجو کے فوائد ـ ❺ دہی کے فوائد ـ ❻ ایصال ثواب کرنے کے طریقے ـ ❼ شیطان کی عبادت ـ ❽ وضو میں کہنیاں دھونے کا فائدہ ـ ❾ سورۂ یٰس پڑھنے کی برکتیں ـ ❿ اپنے خاندان کو محفوظ کرنے کے لئے کچھ کام کر لیجئے کیونکہ جو کچھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے وہ بیان سے باہر ہے ـ از ڈاکٹر اسمٰعیل بدایونی ـ ضیاء طیبہ ـ
🆔 @islaamic_Knowledge
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ گنے کے رس کے فوائد ـ ❷ آم کے فوائد ـ ❸ کھیرے کے فوائد ـ ❹ کاجو کے فوائد ـ ❺ دہی کے فوائد ـ ❻ ایصال ثواب کرنے کے طریقے ـ ❼ شیطان کی عبادت ـ ❽ وضو میں کہنیاں دھونے کا فائدہ ـ ❾ سورۂ یٰس پڑھنے کی برکتیں ـ ❿ اپنے خاندان کو محفوظ کرنے کے لئے کچھ کام کر لیجئے کیونکہ جو کچھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے وہ بیان سے باہر ہے ـ از ڈاکٹر اسمٰعیل بدایونی ـ ضیاء طیبہ ـ
🆔 @islaamic_Knowledge
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3
حضرت سلطان بالا دین اویسی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سلطان بالادین اویسی ۔ لقب: سلطان العرفاء ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت سلطان بالا دین اویسی بن مولانا صالح محمد اویسی بن سلطان العاشقین حضرت خواجہ عبد الخالق اویسی رحمۃ اللہ علیہم ۔
تحصیل علم:
آپ کی تعلیم و تربیت اپنے والد کی زیرِ نگرانی ہوئی ۔ آپ کے والد گرامی ایک متبحر عالم اور عارف باللہ تھے ۔ آپ علومِ شرعیہ میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ کی روحانی تربیت حضرت خواجہ عبد الخالق اویسی کے زیرِ سایہ ہوئی، اور صاحب السیر حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی اویسی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت حاصل ہوئی ۔ اسی طرح حضرت خواجہ عبد الخالق نے سلسلۂ عالیہ اویسیہ میں خلافت و اجازت عطاء فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
سلطان العرفاء، پیکرِ عشق وفاء، صاحبِ علم و معرفت حضرت خواجہ عبد الخالق اویسی علیہ الرحمہ ۔ آپ علم و عمل، عبادت و ریاضت، تقویٰ و طہارت میں بے مثال تھے ۔ ہر وقت ذکرِ خدا اور نعتِ مصطفیٰ ﷺ سے اپنی زبان کو تر رکھتے تھے ۔ اپنے والد کے بعد جانشین منتخب ہوئے اور کثیر مخلوقِ خدا آپ سے مستفید ہوئی ۔
ایک مرتبہ حضرت صاحب السیر علیہ الرحمہ آپ کو لےکر آپ کے دادا بزرگوار حضرت خواجہ عبد الخالق اویسی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو حضرت نے آپ کو ایک خرقۂ خلافت پہنایا، اور آپ سے بغل گیر ہو کر فرمایا: اس پوشاک میں رازِ الہی پوشیدہ ہے، اس امانت کا خیال رکھنا ۔ پھر آپ نے حضرت صاحب السیر سے مخاطب ہو کر فرمایا: میرا یہ پوتا ہمارا مستانہ ہے، اور رسول اللہ ﷺ کا عاشق ہے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 4 جمادی الثانی 1241ھ / مطابق جنوری 1826ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار اپنے دادا کے ساتھ "خانقاہ شریف" ضلع بہاولپور میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذومراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ انسائیکلوپیڈیا اولیاء کرام، ج:6 ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sultan-bala-deen-owaisi-lahori
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سلطان بالادین اویسی ۔ لقب: سلطان العرفاء ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت سلطان بالا دین اویسی بن مولانا صالح محمد اویسی بن سلطان العاشقین حضرت خواجہ عبد الخالق اویسی رحمۃ اللہ علیہم ۔
تحصیل علم:
آپ کی تعلیم و تربیت اپنے والد کی زیرِ نگرانی ہوئی ۔ آپ کے والد گرامی ایک متبحر عالم اور عارف باللہ تھے ۔ آپ علومِ شرعیہ میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ کی روحانی تربیت حضرت خواجہ عبد الخالق اویسی کے زیرِ سایہ ہوئی، اور صاحب السیر حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی اویسی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت حاصل ہوئی ۔ اسی طرح حضرت خواجہ عبد الخالق نے سلسلۂ عالیہ اویسیہ میں خلافت و اجازت عطاء فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
سلطان العرفاء، پیکرِ عشق وفاء، صاحبِ علم و معرفت حضرت خواجہ عبد الخالق اویسی علیہ الرحمہ ۔ آپ علم و عمل، عبادت و ریاضت، تقویٰ و طہارت میں بے مثال تھے ۔ ہر وقت ذکرِ خدا اور نعتِ مصطفیٰ ﷺ سے اپنی زبان کو تر رکھتے تھے ۔ اپنے والد کے بعد جانشین منتخب ہوئے اور کثیر مخلوقِ خدا آپ سے مستفید ہوئی ۔
ایک مرتبہ حضرت صاحب السیر علیہ الرحمہ آپ کو لےکر آپ کے دادا بزرگوار حضرت خواجہ عبد الخالق اویسی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو حضرت نے آپ کو ایک خرقۂ خلافت پہنایا، اور آپ سے بغل گیر ہو کر فرمایا: اس پوشاک میں رازِ الہی پوشیدہ ہے، اس امانت کا خیال رکھنا ۔ پھر آپ نے حضرت صاحب السیر سے مخاطب ہو کر فرمایا: میرا یہ پوتا ہمارا مستانہ ہے، اور رسول اللہ ﷺ کا عاشق ہے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 4 جمادی الثانی 1241ھ / مطابق جنوری 1826ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار اپنے دادا کے ساتھ "خانقاہ شریف" ضلع بہاولپور میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذومراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ انسائیکلوپیڈیا اولیاء کرام، ج:6 ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sultan-bala-deen-owaisi-lahori
❤2
حضور فقیہِ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی جلال الدین احمد ۔لقب: فقیہِ ملت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مفتی جلال الدین احمد بن جان محمد بن عبدالرحیم بن غلام رسول بن ضیاء الدین بن محمد سالک بن محمد صادق بن عبد القادر بن مراد علی ۔ رحمہم اللہ تعالیٰ ۔ (غَفَرَ اللهُ لَھُمۡ وَ لِسَائِرِ الۡمُسۡلِمِیۡنَ (اللہ عزوجل ان کی اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے ـ آمینۡ)
آپ کا تعلق ایک علمی و دیندار گھرانے سے تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1352ھ، مطابق 1933ء کو ضلع "بستی" کی مشہور آبادی اوجھا گنج میں ہوئی، جو شہر بستی سے بیس کلو میٹر مغرب (پچھم) فیض آباد روڈ سے دو میل جنوب میں واقع ہے ۔
تحصیلِ علم:
سات سال کی عمر میں مولانا حافظ زکریا سے ناظرہ قرآنِ مجید مکمل کیا اور پھر حفظ کا شوق ہوا تو تین سال میں قرآن مجید ساڑھے دس سال کی چھوٹی سی عمر میں حفظ مکمل کر لیا۔پیر زادہ مولانا عبد الباری صاحب اور مولانا عبد الرؤف صاحب سے فارسی کی چھوٹی بڑی بارہ کتب پڑھیں اور عربی کی ابتدائی تعلیم بھی انہیں سے حاصل کی ۔
مزید حصولِ علم کے لیۓ "مدرسہ اسلامیہ شمس العلوم" میں رئیس المتکلمین ملک التحریر حضرت علامہ ارشد القادری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اٹھارہ سال کی عمر میں 24 شعبان المعظم 1317ھ مطابق 19 مئی 1952ء کو سندِ فراغت حاصل فرمائی ۔
آپ علیہالرحمہ فرماتے ہیں:
وقت کی قدر کی، اسے ضائع نہ کیا۔ درسی کتابوں کی شروح و حواشی سے گہرا مطالعہ کرنے کے بعد پڑھایا، اساتذہ اور والدین کو خوش رکھا، ان کی خدمتیں کیں، ان سے دعائیں لیں اور یقین ہو گیا کہ حقیقت میں علم حاصل کرنے کا وقت فراغت کے بعد ہے اور زمانۂ طالبِ علمی میں صرف علم حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کی جاتی ہے تو خدائے تعالیٰ نے مجھے اس منزل پر پہنچا دیا جس کا کبھی تصور نہیں کر سکتا تھا۔ فلله الحمد ۔
شرفِ بیعت:
آپ کو زمانۂ طالب علمی سے ہی حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت مفتی محمد امجد علی صاحب اعظمی قدس سرہ العزیز سے گہری عقیدت تھی، اور جب یہ معلوم ہوا کہ آپ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ والرضوان کے خلیفہ ہیں تو آپ کی عقیدت اور زیادہ ہو گئی، چنانچہ 29 جمادی الاولی 1378ھ مطابق 1948ء کو حضور صدر الشریعہ سے مرید ہو کر سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ میں داخل ہو گئے ۔
سیرت و خصائص:
محسن اہل سنت، فقیہ ملت، فقیہ العصر، مناظرِ اعظم، مدرس اکمل، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، صاحبِ اوصافِ کثیرہ، حضرت علامہ مولانا مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ اپنے وقت کی ایک عظیم اور جامع شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ کی تصنیفی، تدریسی، دینی، ملی، علمی اور تقریری خدمات اور بِالخصوص دینی مدارس کا قیام جو مسلک حق اور دینِ اسلام کے لئے روح کی حیثیت رکھتے ہیں آپ کی زندگی کے ایسے شاندار کارنامے ہیں جن پر اہلسنت آپ کا جتنا شکریہ ادا کریں کم ہے ۔
مدارس یقیناً ایک قلعے کی حیثیت رکھتے ہیں، مدارس کا اثر مستقل اور دیر پا ہوتا ہے ۔ جس علاقے میں مدرسہ ہوگا وہاں کے لوگوں کا اور ان کی نسلوں کا ایمان محفوظ رہےگا ۔ بہت سے علاقے ہمارے مشاہدے میں ہیں کہ وہاں بدمذہبوں نے مدرسے کھولے اور پوری سنی آبادی کو بدمذہب بنا دیا ۔ حضرت فقیہ ملت فرماتے ہیں: "مذہب اہل سنت کی تبلیغ، مسلک اعلیٰ حضرت کی ترویج اور ضلع بستی و گونڈہ کی بڑھتی ہوئی بد مذہبی کی روک تھام کے لیے حضرت شاہ محمد یار علی صاحب علیہ الرحمہ نے حضرت شیر بیشۂ اہل سنت قدس سرہ جیسے ساحر البیان مقرر اور مناظر کو ہمراہ لے کر بہت سے دیہاتوں کا دورہ فرمایا جن کی تقریر و مناظرے نے پورے علاقہ میں دھوم مچا دی اور اہل سنت میں نئی روح ڈال دی لیکن چونکہ تعلیم کے مقابلہ میں تقریر و مناظرہ کا اثر زیادہ دیر پا نہیں ہوتا اس لیے حضرت شعیب الاولیاء کی عین تمنا تھی کہ اس علاقے میں اہل سنت کے مدارس بنائے جائیں اور ان کے تعلیمی معیار کو اعلیٰ کیا جائے تاکہ تعلیم خوب عام ہو جائے ۔آپ اپنے تمام مریدین و معتقدین کو مدارس کی مدد کی تلقین فرماتے تھے ۔"
(مقدمہ انوار الحدیث، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) ـ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی جلال الدین احمد ۔لقب: فقیہِ ملت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مفتی جلال الدین احمد بن جان محمد بن عبدالرحیم بن غلام رسول بن ضیاء الدین بن محمد سالک بن محمد صادق بن عبد القادر بن مراد علی ۔ رحمہم اللہ تعالیٰ ۔ (غَفَرَ اللهُ لَھُمۡ وَ لِسَائِرِ الۡمُسۡلِمِیۡنَ (اللہ عزوجل ان کی اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے ـ آمینۡ)
آپ کا تعلق ایک علمی و دیندار گھرانے سے تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1352ھ، مطابق 1933ء کو ضلع "بستی" کی مشہور آبادی اوجھا گنج میں ہوئی، جو شہر بستی سے بیس کلو میٹر مغرب (پچھم) فیض آباد روڈ سے دو میل جنوب میں واقع ہے ۔
تحصیلِ علم:
سات سال کی عمر میں مولانا حافظ زکریا سے ناظرہ قرآنِ مجید مکمل کیا اور پھر حفظ کا شوق ہوا تو تین سال میں قرآن مجید ساڑھے دس سال کی چھوٹی سی عمر میں حفظ مکمل کر لیا۔پیر زادہ مولانا عبد الباری صاحب اور مولانا عبد الرؤف صاحب سے فارسی کی چھوٹی بڑی بارہ کتب پڑھیں اور عربی کی ابتدائی تعلیم بھی انہیں سے حاصل کی ۔
مزید حصولِ علم کے لیۓ "مدرسہ اسلامیہ شمس العلوم" میں رئیس المتکلمین ملک التحریر حضرت علامہ ارشد القادری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اٹھارہ سال کی عمر میں 24 شعبان المعظم 1317ھ مطابق 19 مئی 1952ء کو سندِ فراغت حاصل فرمائی ۔
آپ علیہالرحمہ فرماتے ہیں:
وقت کی قدر کی، اسے ضائع نہ کیا۔ درسی کتابوں کی شروح و حواشی سے گہرا مطالعہ کرنے کے بعد پڑھایا، اساتذہ اور والدین کو خوش رکھا، ان کی خدمتیں کیں، ان سے دعائیں لیں اور یقین ہو گیا کہ حقیقت میں علم حاصل کرنے کا وقت فراغت کے بعد ہے اور زمانۂ طالبِ علمی میں صرف علم حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کی جاتی ہے تو خدائے تعالیٰ نے مجھے اس منزل پر پہنچا دیا جس کا کبھی تصور نہیں کر سکتا تھا۔ فلله الحمد ۔
شرفِ بیعت:
آپ کو زمانۂ طالب علمی سے ہی حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت مفتی محمد امجد علی صاحب اعظمی قدس سرہ العزیز سے گہری عقیدت تھی، اور جب یہ معلوم ہوا کہ آپ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ والرضوان کے خلیفہ ہیں تو آپ کی عقیدت اور زیادہ ہو گئی، چنانچہ 29 جمادی الاولی 1378ھ مطابق 1948ء کو حضور صدر الشریعہ سے مرید ہو کر سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ میں داخل ہو گئے ۔
سیرت و خصائص:
محسن اہل سنت، فقیہ ملت، فقیہ العصر، مناظرِ اعظم، مدرس اکمل، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، صاحبِ اوصافِ کثیرہ، حضرت علامہ مولانا مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ اپنے وقت کی ایک عظیم اور جامع شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ کی تصنیفی، تدریسی، دینی، ملی، علمی اور تقریری خدمات اور بِالخصوص دینی مدارس کا قیام جو مسلک حق اور دینِ اسلام کے لئے روح کی حیثیت رکھتے ہیں آپ کی زندگی کے ایسے شاندار کارنامے ہیں جن پر اہلسنت آپ کا جتنا شکریہ ادا کریں کم ہے ۔
مدارس یقیناً ایک قلعے کی حیثیت رکھتے ہیں، مدارس کا اثر مستقل اور دیر پا ہوتا ہے ۔ جس علاقے میں مدرسہ ہوگا وہاں کے لوگوں کا اور ان کی نسلوں کا ایمان محفوظ رہےگا ۔ بہت سے علاقے ہمارے مشاہدے میں ہیں کہ وہاں بدمذہبوں نے مدرسے کھولے اور پوری سنی آبادی کو بدمذہب بنا دیا ۔ حضرت فقیہ ملت فرماتے ہیں: "مذہب اہل سنت کی تبلیغ، مسلک اعلیٰ حضرت کی ترویج اور ضلع بستی و گونڈہ کی بڑھتی ہوئی بد مذہبی کی روک تھام کے لیے حضرت شاہ محمد یار علی صاحب علیہ الرحمہ نے حضرت شیر بیشۂ اہل سنت قدس سرہ جیسے ساحر البیان مقرر اور مناظر کو ہمراہ لے کر بہت سے دیہاتوں کا دورہ فرمایا جن کی تقریر و مناظرے نے پورے علاقہ میں دھوم مچا دی اور اہل سنت میں نئی روح ڈال دی لیکن چونکہ تعلیم کے مقابلہ میں تقریر و مناظرہ کا اثر زیادہ دیر پا نہیں ہوتا اس لیے حضرت شعیب الاولیاء کی عین تمنا تھی کہ اس علاقے میں اہل سنت کے مدارس بنائے جائیں اور ان کے تعلیمی معیار کو اعلیٰ کیا جائے تاکہ تعلیم خوب عام ہو جائے ۔آپ اپنے تمام مریدین و معتقدین کو مدارس کی مدد کی تلقین فرماتے تھے ۔"
(مقدمہ انوار الحدیث، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) ـ
❤2
آپ علیہ الرحمہ ایک اور مقام پر
افسوس کے ساتھ ارشاد فرماتے ہیں:
درس و تدریس، تالیف اور فتویٰ نویسی کے ساتھ ہم نے وعظ و تقریر کی بھی کوشِش کی اس لیے کہ جاہل عوام کی تبلیغ کے لیے یہی ایک ذریعہ ہے ۔ یہ بات افسوس ناک ہے کہ آج کل وعظ و تقریر کے بارے میں ہماری جماعت کا مزاج بہت بگڑ گیا ہے کہ سیرت النبی ﷺ کے مبارک اسٹیج پر فساق و فجار ہر قسم کے شعراء کثرت سے بُلائے جاتے ہیں اور گیارہ بارہ بجے تک فلمی ٹھمری وغیرہ ہر قسم کی طرز کے اشعار پڑھے جاتے ہیں، پھر تھوڑی دیر عالم کی تقریر ہوتی ہے اور آخِر میں پھر اشعار پڑھے جاتے ہیں ۔ اس طرح تقریر کا جو کچھ اثر ہوتا ہے وہ زائل ہو جاتا ہے اور سامعین صرف نغمہ و ترنم کا اثر لے کر اپنے اپنے گھر جاتے ہیں ۔
بعض جلسوں میں تو اِتنے بڑے شعراء بُلائے جاتے ہیں جو بڑے بڑے شیخ الحدیث سے بھی بڑے ہوتے ہیں کہ ان سے زیادہ شاعِر کی خاطر مدارت ہوتی ہے، لوگ اسے گھیرے رہتے ہیں اور نہایت ہی اعزاز اور تعظیم و تکریم کے ساتھ اسے رخصت کرتے ہیں ۔ میں ایسے جلسوں میں جہاں گویے شاعر حاصل جلسہ ہوں شرکت کرنے سے پرہیز کرتا ہوں کہ مذہبی جلسوں میں مذہبی پیشوا کی ثانوی حیثیت ہونا مذہب اور مذہبی پیشوا دونوں کی موت ہے ۔ (ایضاًٍ)
علماء و مشائخ سے شکوہ:
حضرت فقیہِ ملت فرماتے ہیں:
"ہماری جماعت میں تصنیف و تالیف کی بہت کمی ہے ۔ دوسرے لوگ قرآن و حدیث کے ترجمے، ان کی تفسیر تشریح، درسی کتابوں کے شروح و حواشی اور ان کے ترجمے تاریخ و سیر اور اخلاق و تصوف وغیرہ ہر علم و فن کی کتابیں لکھنے میں پیش پیش ہیں اور ہم بِالکل نہ لِکھنے کے برابر اِس لیے کہ ہماری جماعت کے اکثر وہ جلیل القدر علماء جو تصنیف و تالیف کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں اپنا پورا وقت وعظ و تقریر پیری مریدی، میں صرف کرکے اپنی اس عظیم ذمہ داری سے غفلت برت رہے ہیں، ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ پیری مریدی اور وعظ و تقریر نہ کریں لیکن ان سے اتنا ضرور عرض کریں گے کہ وقت کی اس اہم ضرورت پر توجہ دیں اور اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر تصنیفی کام ضرور کریں ورنہ سنیت کا مستقبل تاریک سے تاریک تر ہوتا جائے گا " ۔ (ایضاً)
آپ مسلکِ حق اہل اہلسنت و جماعت کے فروغ کے لئے ساری زندگی خلوص و لِلّٰہِیَت کے ساتھ جد و جہد کرتے رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ زمانہ آپ کو "فقیہِ ملت" کے نام سے یاد کرتا ہے ۔ آپ نے حصولِ علم کے لئے جو مشقتیں برداشت کیں آج کا طالبِ علم سوچ بھی نہیں سکتا ۔ آپ نے اپنی کتب کے مقدمات میں جو تجربات قلم بند کئے ہیں آج کے علماء و طلباء کو انکا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے ۔
وصال:
4 جمادی الثانی 1422ھ / مطابق 24 اگست 2001ء شبِ جمعہ بارہ بجکر پچپن منٹ پر 70 سال کی عمر میں اوجھا گنج (انڈیا) میں وصال فرمایا ۔
ماخذ و مراجع:
مقدمہ انوار الحدیث ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-jalaluddin-ahmed-amjadi
افسوس کے ساتھ ارشاد فرماتے ہیں:
درس و تدریس، تالیف اور فتویٰ نویسی کے ساتھ ہم نے وعظ و تقریر کی بھی کوشِش کی اس لیے کہ جاہل عوام کی تبلیغ کے لیے یہی ایک ذریعہ ہے ۔ یہ بات افسوس ناک ہے کہ آج کل وعظ و تقریر کے بارے میں ہماری جماعت کا مزاج بہت بگڑ گیا ہے کہ سیرت النبی ﷺ کے مبارک اسٹیج پر فساق و فجار ہر قسم کے شعراء کثرت سے بُلائے جاتے ہیں اور گیارہ بارہ بجے تک فلمی ٹھمری وغیرہ ہر قسم کی طرز کے اشعار پڑھے جاتے ہیں، پھر تھوڑی دیر عالم کی تقریر ہوتی ہے اور آخِر میں پھر اشعار پڑھے جاتے ہیں ۔ اس طرح تقریر کا جو کچھ اثر ہوتا ہے وہ زائل ہو جاتا ہے اور سامعین صرف نغمہ و ترنم کا اثر لے کر اپنے اپنے گھر جاتے ہیں ۔
بعض جلسوں میں تو اِتنے بڑے شعراء بُلائے جاتے ہیں جو بڑے بڑے شیخ الحدیث سے بھی بڑے ہوتے ہیں کہ ان سے زیادہ شاعِر کی خاطر مدارت ہوتی ہے، لوگ اسے گھیرے رہتے ہیں اور نہایت ہی اعزاز اور تعظیم و تکریم کے ساتھ اسے رخصت کرتے ہیں ۔ میں ایسے جلسوں میں جہاں گویے شاعر حاصل جلسہ ہوں شرکت کرنے سے پرہیز کرتا ہوں کہ مذہبی جلسوں میں مذہبی پیشوا کی ثانوی حیثیت ہونا مذہب اور مذہبی پیشوا دونوں کی موت ہے ۔ (ایضاًٍ)
علماء و مشائخ سے شکوہ:
حضرت فقیہِ ملت فرماتے ہیں:
"ہماری جماعت میں تصنیف و تالیف کی بہت کمی ہے ۔ دوسرے لوگ قرآن و حدیث کے ترجمے، ان کی تفسیر تشریح، درسی کتابوں کے شروح و حواشی اور ان کے ترجمے تاریخ و سیر اور اخلاق و تصوف وغیرہ ہر علم و فن کی کتابیں لکھنے میں پیش پیش ہیں اور ہم بِالکل نہ لِکھنے کے برابر اِس لیے کہ ہماری جماعت کے اکثر وہ جلیل القدر علماء جو تصنیف و تالیف کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں اپنا پورا وقت وعظ و تقریر پیری مریدی، میں صرف کرکے اپنی اس عظیم ذمہ داری سے غفلت برت رہے ہیں، ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ پیری مریدی اور وعظ و تقریر نہ کریں لیکن ان سے اتنا ضرور عرض کریں گے کہ وقت کی اس اہم ضرورت پر توجہ دیں اور اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر تصنیفی کام ضرور کریں ورنہ سنیت کا مستقبل تاریک سے تاریک تر ہوتا جائے گا " ۔ (ایضاً)
آپ مسلکِ حق اہل اہلسنت و جماعت کے فروغ کے لئے ساری زندگی خلوص و لِلّٰہِیَت کے ساتھ جد و جہد کرتے رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ زمانہ آپ کو "فقیہِ ملت" کے نام سے یاد کرتا ہے ۔ آپ نے حصولِ علم کے لئے جو مشقتیں برداشت کیں آج کا طالبِ علم سوچ بھی نہیں سکتا ۔ آپ نے اپنی کتب کے مقدمات میں جو تجربات قلم بند کئے ہیں آج کے علماء و طلباء کو انکا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے ۔
وصال:
4 جمادی الثانی 1422ھ / مطابق 24 اگست 2001ء شبِ جمعہ بارہ بجکر پچپن منٹ پر 70 سال کی عمر میں اوجھا گنج (انڈیا) میں وصال فرمایا ۔
ماخذ و مراجع:
مقدمہ انوار الحدیث ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-jalaluddin-ahmed-amjadi
scholars.pk
Hazrat Allama Mufti Jalaluddin Ahmed Amjadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی حنفی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی پیدائش ١٣٥٢ه مطابق ١٩٣٣ء میں ہوئی۔ ٢٩ جمادی الاولی ١٣٧٨ھ مطابق ١٩٤٨ء کو صدرالشریعہ سے مرید ہو کر سلسلہ قادریہ رضویہ میں داخل ہوئے۔ آپ جید عالم، مفتی اسلام، صاحب تصانیف اور استاذ الفقہا ہیں۔ فتاوی فیض الرسول اور انوار الحدیث آپ کی مشہور کتب ہیں۔ آپ کی تصنیفی، تدریسی، دینی، ملی، علمی اور تقریری خدمات اور بالخصوص دینی مدارس کا قیام آپ کی زندگی کے ایسے شاندار کارنامے ہیں جن پر اہلسنت آپ کا جتنا شکریہ ادا کریں کم ہے۔ ٤ جمادی الاخری ١٤٢٢ھ مطابق ٢٤ اگست ٢٠٠١ء شب جمعہ بارہ بجکر پچپن منٹ پر ٧٠ سال کی عمر میں آپ کا وصال ہوا۔ مزار شریف اوجھا گنج (ضلع بستی یو پی) ہند میں ہے۔ (انوار الحدیث)
Faqeeh-e-Millat Mufti Jalaluddin Ahmad Amjadi Hanafi (Alayhir Rahmah) was born in 1352 Hijri (1933). He pledged his allegiance in Qadiriyah Razawiyyah Spiritual Order on the blessed hands of Sadr al-Shariah (Alayhir Rahmah) on 29th Jumad al-Ula 1378 Hijri (1948). He was a great scholar, jurist, author and teacher of teachers. Fatawa Faiz-ur-Rasool and Anwar-ul-Hadith are his famous books. His literary, teaching, religious, national, scholarly and oratory services and especially the establishment of religious institutes are some of the great achievements of his life for which the Ahl as-Sunnah cannot thank him enough. He passed away on 4th Jumad al-Akhirah 1422 Hijri (24th August 2001) at the age of 70 on Friday night at 12:55am. His Mazar Sharif is located in Ojhaganj, Basti District U.P., India. [Anwaar-ul-Hadeeth]
https://www.facebook.com/286386582084187/posts/965193390870166/?mibextid=Nif5oz
Faqeeh-e-Millat Mufti Jalaluddin Ahmad Amjadi Hanafi (Alayhir Rahmah) was born in 1352 Hijri (1933). He pledged his allegiance in Qadiriyah Razawiyyah Spiritual Order on the blessed hands of Sadr al-Shariah (Alayhir Rahmah) on 29th Jumad al-Ula 1378 Hijri (1948). He was a great scholar, jurist, author and teacher of teachers. Fatawa Faiz-ur-Rasool and Anwar-ul-Hadith are his famous books. His literary, teaching, religious, national, scholarly and oratory services and especially the establishment of religious institutes are some of the great achievements of his life for which the Ahl as-Sunnah cannot thank him enough. He passed away on 4th Jumad al-Akhirah 1422 Hijri (24th August 2001) at the age of 70 on Friday night at 12:55am. His Mazar Sharif is located in Ojhaganj, Basti District U.P., India. [Anwaar-ul-Hadeeth]
https://www.facebook.com/286386582084187/posts/965193390870166/?mibextid=Nif5oz
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-06-1445 ᴴ | 17-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-06-1445 ᴴ | 18-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2