🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-06-1445 ᴴ | 16-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-06-1445 ᴴ | 16-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ
کی تصنیفات کیوں ضائع ہوئیں ؟
https://www.facebook.com/share/PnWckdZayrfpJP2o/?mibextid=Na33Lf
حضور مفتئ اعظم ہند علامہ مصطفٰی رضا خان نوری علیہ الرحمة الرحمٰن جواب دیتے ہیں:
Meesam Qadiri ... میثم قادری
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نسلِ نو کے ارتداد کی طرف بڑھتے قدم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
دنیا میں کامیابی کے کئی راستے ہیں:
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
استاد العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی نور محمد قاسمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
استاد العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی نور محمد قاسمی بن فقیر لعل بخش دایو گوٹھ پرانہ آباد ( تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ ) میں ۱۳۳۰ھ / ۱۹۱۰ء کو تولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم ( ناظرہ قرآن) گوٹھ کی مسجد میں ملا محمود سے حاصل کی ۔ ان دنوں گوٹھ انٹرآباد میں حاجی غلام قادر انٹر نے مدرسہ قائم کیا اور مولانا عبد الحی مہر کو درس مقرر کیا ۔ آپ نے ان سے فارسی ’’ بہار دانش ‘‘ تک پڑھی ۔ اس کے بعد ۱۹۲۴ یا ۱۹۲۵ء بمطابق ۱۳۴۵ یا ۱۳۴۶ھ میں سندھ کی عظیم دینی و روحانی درس گاہ جامعہ عربیہ قاسم العلوم درگاہ عالیہ مشوری شریف میں داخلہ لیا ۔ وہیں ۸۔۹ سال تک عربی کی ابتدائی کتب سے لے کر آخر تک تعلیم حاصل کی ۔ ۱۳۵۳ھ؍ ۱۹۳۴ء میں فارغ التحصیل ہوئے ۔ آپ کی دستار فضیلت درگاہ شریف کے سالانہ جلسہ جشن عید میلاد النبی ﷺ کے موقعہ پر ہوئی تھی ۔ جہاں تک یاد آرہا ہے آپ کے ساتھ دیگر کے علاوہ مولانا محمد عثمان مشوری مرحوم کی بھی دستار بندی ہوئی تھی ۔اس اہم موقعہ پر سراج الفقہاء ، قطب دوران ، استاد الاساتذہ ، حضرت علامہ مفتی ابو الفیض غلام عمر جتوئی نور اللہ مرقدہ بھی جلوہ افروز تھے ۔

بیعت:
حضرت علامہ الحاج مفتی محمد قاسم مشوری نور اللہ مرقدہ کے دست پاک پر سلسلۂ عالیہ قادریہ راشدیہ میں بیعت ہوئے ۔

درس و تدریس:
آپ نے جب جامعہ عربیہ قاسم العلوم میں داخلہ لیا تھا اسی روزسے استاد محترم کے حکم سے فارسی کا درس دینا بھی شروع کیا تھا ۔ بعد فراغت مادر علمی جامعہ عربیہ میں دو سال مدرس رہے ۔ اس کے بعد استاد محترم کے حکم سے اپنے گوٹھ پرانہ آباد میں ۱۳۵۵ھ / ۱۹۳۶ء میں مدرسہ قائم کر کے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا ۔ بیس پچیس سال کی درسی خدمات کے بعد باقرانی شہر میں مدرسہ قائم کیا اور وہاں بھی درس و تدریس کا سلسلہ آخر عمر تک جاری رکھا ۔

سفر حرمین شریفین:
۱۳۷۴ھ / ۱۹۵۵ء میں ماہ شعبان المعظم میں بحری جہاز میں بغداد شریف پہنچے، وہاں سر کار غوث اعظم ، غوث الثقلین ، محبوب سبحانی ، قطب ربانی ، پیران پیر دستگیر کے مزار اقدس پر حاضری کی سعادت حاصل کی، سیدنا امام الائمہ ، سید المجتھدین ، سراج الامۃ ، سید الاولیاء حضور امام اعظم ابو حنیفہ تابعی کے دربار مقدس کی زیارت سے بہرہ مند ہوئے اس کے علاوہ دیگر مزارات مقدسہ کی حاضری کے بعد مدینہ منورہ کا سفر اختیار کیا، رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مدینہ منورہ پہنچے ۔ وہیں شوال المعظم اور ذوالقعدہ دو ماہ قیام کرنے کے بعد ذوالحجہ میں مکہ مکرمہ روانہ ہوئے وہاں پہنچ کر حج بیت اللہ ادا کیا اس کے بعد الخبر پہنچے وہاں سے لانچ کے ذریعے بحرین اور وہاں سے کراچی بندر گاہ پہنچے ۔ اس طرح محرم الحرام / اگست کے ماہ میں لاڑکانہ واپس تشریف لائے ۔

عادات و خصائل:
مولانا الحاج نور محمد قاسمی متوکل فقیر ، سادہ طبیعت ، مالی پوزیشن کمزور اس کے باوجود درس و تدریس کا عمل بلا معاوضہ جاری رکھا ۔ خوش مزاج ، خوش الحان تھے، مرشد کریم کی محبت میں فنا تھے۔ شریعت مطہرہ کے پابند ، خلوص وللہیت کی تصویر ، بااخلاق ، صابر و شاکر تھے ۔ اپنے پیر و مرشد کی سوانح حیات پر سب سے پہلے غالباً انہوں نے قلم اٹھایا تھا جب فقیر راشدی قاسم ولایت پر کام کر رہا تھا ان دنوں چند اوراق نظر سے گذرے استفسار پر بتایا گیا کہ تحریر نور محمد کی ہے ۔ پس معلوم ہوا کہ مولانا ، حضرت قبلہ عالم پر مستقل کتاب لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے ۔ لیکن نا معلوم وجوہات کی بنا پر وہ خاکہ پائے تکمیل کو نہ پہنچ سکا ۔
2👍2
شادی و اولاد:
۱۷ شوال ۱۳۵۸ھ کو باقر انی شہر (تحصیل ڈوکری) کے محمد ابراہیم دایو کی بیٹی سے آپ کا عقد ہوا ۔ نکاح پیر و مرشد استاد محترم مخدوم ملت حضور قبلہ عالم نے پڑھایا ۔ حضرت حافظ امام بخش سومرو نے بھی شرکت فرمائی ۔ ان کی بطن سے مولانا کو پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں تولد ہوئیں ۔

ان میں سے دو بیٹیاں اور دو بیٹے
۱۔ حافظ احمد
۲۔ عبدالغفور کلرک دفتر سول ہسپتال لاڑکانہ ، حال حیات و صاحب اولاد ہیں ـ

باقی اولاد تین بیٹے اور دو بیٹیاں بچپن میں انتقال کر گئے ۔

تلامذہ:
آپ کے تلامذہ کی طویل فہرست ہے ان میں سے بعض کے نام معلوم ہو سکے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:

۱۔ مولانا حافظ قمر الدین مغیری قاسمی سابق ڈسٹرکٹ خطیب لاڑکانہ ۔ امام مسجد درگاہ حضرت عظیم شاہ بخاری لاڑکانہ

۲۔ مولانا محمد ہاشم گوٹھ تھرڑی محبت           
۳۔ مولانا خان محمد پیر زادہ

۴۔ مولانا عرض محمد ( سندھ جا اسلامی درسگاہ ص ۵۲۸)

وصال:
مفتی الحاج نور محمد قاسمی نے ۳ جمادی الآخر ۱۳۸۹ھ؍ ۱۹۶۸ء بروز اتوار انتقال کیا ۔ اسی روز بعد نماز مغرب حضرت قبلہ عالم سرکار مشوری قدس سرہ نے نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور اپنے دستور کے مطابق حضرت نے میت کی استقاط و چہل قدمی کی اور اس کے بعد تدفین عمل میں آئی ۔ آپ کا آخری آرام گاہ پرانہ آباد میں واقع ہے ۔

[ مولانا قمر الدین قاسمی کی عنایت سے مذکورہ مواد دستیاب ہوا، فقیر مولانا کا مشکور ہے ]

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-mufti-noor-muhammad-qasmi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مفتئ بدایوں ، حضرت علامہ مفتی حافظ بخش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
آنولہ ضلع بریلی وطن، وہیں ۱۲۶۵ھ میں ولادت ہوئی ۔

تعلیم:
اپنے نانا قاری امام بخش سے حفظ قرآن پاک کیا، اور ابتدائی درسیات پڑھی ۔۱۲۸۴ھ میں مدرسہ قادریہ میں داخل ہوکر حضرت سیف اللہ المسلول معین الحق شاہ فضل رسول بدایونی، حضرت تاج الفحول محب رسول مولانا شاہ عبد القادر بدایونی، حضرت استاذ الاساتذہ مولانا شاہ نور احمد قدس اللہ اسرارہم سے پڑھ کر ۱۲۹۵ھ میں سند فراغ پائی ـ

بعدہ کچھ دنوں درسۂ قادریہ میں درس دیا ۔ پھر مدرسہ محمدیہ چودھری گنج سے متعلق ہو گئے ۔ پوری زندگی علم دین کی اشاعت اور مذہب اہل سُنّت کی تبلیغ میں گذری، جزیاتِ فقہ بکثرت یاد تھے ۔

آپ علیہ الرحمہ بدایوں کے مفتی تھے ۔ حضرت تاج الفحول کے ارشد تلامذہ میں شمار تھا ۔ دو مرتبہ حج و زیارت سے مشرف ہوئے ۔

وصال:
۳ جمادی الاخریٰ ۱۳۳۹ھ بوقت گیارہ بجے دن انتقال ہوا ۔ مدفن درگاہ قادری میں ہے ـ

حضرت مولانا قدیر بخش المتوفی ۱۳۷۶ھ مفتی جے پور نامور عالم و فاضل آپ کے بڑے صاحبزادے تھے ۔ مولوی عبد الغفور صاحب آنولوی مرحوم نے یہ تاریخ کہی:

متبع عرفاں، معدنِ ایمان، عالم و فاضل نیک خصال سالِ فنا ” تاریخ شہادت “ گفت بصد اندو ، و ملال ـ

( تذکرہ علمائے ہند )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-hafiz-bakhsh
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
پیر سیدمحمدامین الحسنا ت پیر آف مانکی شریف رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا پیر سید محمد امین الحسنات ۔ لقب: ناصرِ ملت، مجاہدِ اسلام ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت پیر محمد امین الحسنات بن پیر عبد الرؤف بن پیر عبد الحق پیر عبد الوہاب بن مولانا ضیاء الدین ۔ علیہم الرحمہ ۔ (تخلیق پاکستان میں علماء اہلسنت کا کردار ص:125) ـ

آپ کا آبائی تعلق " اکوڑہ خٹک " سے ہے ۔ آپ کے جد امجد مولانا ضیاء الدین نے اپنے وطن سے ہجرت کرکے علاقہ " بداش " تشریف لے گئے، اور وہاں ایک مسجد میں امامت و خطابت اور تبلیغ اسلام میں مشغول ہو گئے ۔ جب 1863ء میں انگریز نے سوات اور ملحقہ علاقوں پر قبضہ کرنا چاہا، تو انہوں نے اپنے پیر و مرشد عارف باللہ حضرت اخوند عبد الغفور قادری علیہ الرحمہ کے ساتھ مل کر انگریز کے خلاف جہاد کیا اور اس کو بھاگنے پر مجبور کیا ۔ اس وقت ان کا خاندان موضع " کٹی خیل " میں رہائش پذیر تھا ۔ حضرت اخوند کے حکم پر آپ موضع " مانکی " تحصیل نوشہرہ، ضلع پشاور تشریف لائے، آپ کی قدم میمنت کی برکت سے ایک گم نام قصبہ موضع مانکی، پوری دنیا میں " مانکی شریف " کے نام سے معروف ہو گیا، اور پیر صاحب، پیر آف مانکی شریف سے مشہور ہو گئے ۔ پھر یہاں سے سلسلہ رشد و ہدایت پوری دنیامیں عام ہوا۔(انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام ج:1، ص:444) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز بدھ 3 جمادی الثانی 1340ھ / مطابق یکم فروری 1922ء کو خانقاہ قادریہ مانکی شریف ضلع نوشہرہ میں ہوئی ۔ (تخلیق پاکستان میں علماء اہلسنت کا کردار، ص:125) ـ

تحصیل علم:
چھ سال کی عمر میں والد گرامی کاسایہ سر سے اٹھ گیا، اور گیارہ سال کی عمر میں شفقت پدری سے بھی محروم ہو گئے ۔ ابتدائی تعلیم و تربیت گھر پر ہوئی تھی ۔ حفظِ قرآن کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے، اور حفظ قرآن کے بعد مختلف علماء کرام سے جملہ علوم متداولہ کی تحصیل فرمائی، اور وقت کے عظیم دانشوروں میں شمار ہونے لگے ۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد گرامی حضرت پیر عبد الرؤف علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ان کے وصال کے بعد سجادہ نشین ہوئے، اور حقِ سجادگی، اور ملت کی نگہبانی کا حق ادا کر دیا ۔

سیرت و خصائص:
مجاہد اسلام، ناصرِ ملت، فخرِ امت، صاحبِ عزیمت، نازشِ اہل سنت، محسنِ پاکستان، فاتحِ سرحد، حضرت علامہ مولانا پیر محمد امین الحسنات پیر آف مانکی شریف رحمۃ اللہ علیہ ۔

حضرت پیر صاحب علیہ الرحمہ کی تحریک پاکستان اور خدمت اسلام کے لئے عظیم خدمات ہیں ۔ آپ کے اس روشن اور بے داغ کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائےگا، اور آپ کی سیرت و جذبۂ خود داری اہل پاکستان اور ملت اسلامیہ کے لئے مشعل راہ کا کردار ادا کرتی رہےگی، اور اہل اسلام اس کی روشنی میں سفر کرتے رہیں گے ۔

پیر صاحب مانکی شریف انتہائی فعال، بلند اخلاق، مدبر اور دانشمند انسان تھے ۔ انہوں نے روحانیت اور سیاست کے میدان میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ۔ ان کی ابتدائی خواہش تھی کہ اس خطے میں مسلمانوں کے لئے ایک ایسی آزاد مسلم ریاست ہونی چاہئے جہاں مسلمان قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزار سکیں، اور وہ اسلامی ریاست تمام عالم اسلام کے لئے ایک قائدانہ کردار ادا کرے ۔ کیونکہ اس وقت عالم اسلام زبوں حالی کا شکار تھا، اور ہند کے مسلمان غلامی کی زندگی گزار رہے تھے ۔ پیر صاحب کا تعلق ایسے علاقے سے تھا، جہاں ہندو اقلیت والے صوبہ سرحد میں اسلام کو ہندو اکثریت والے صوبوں سے زیادہ خطرات در پیش تھے ۔ بالآخر پیر صاحب نے اس نا ممکن کو ممکن بنا دیا ۔

صوبہ سرحد موجودہ (خیبر پختونخوا) سرخپوشوں، اور کانگریسیوں کا گڑھ تھا، کانگریسی اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ یہ علاقہ تو ہمارا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ 1937ء میں جواہر لال نہرونے دو مرتبہ اس صوبے کا دورہ کیا، اور اس کا بڑا پرتپاک استقبال کیا گیا ۔ پیر صاحب نے پورے صوبے میں طوفانی دورے کرکے مریدین اور عوام کو " مسلم لیگ " کی حمایت کے لئے آمادہ کیا ۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو خط لکھا، اور آپ کے ایماء پر قائد اعظم نے مجاہدِ آزادی مولانا عبد الحامد بدایونی علیہ الرحمہ کو سرحد بھیجا ۔

پیر صاحب نے 14 اکتوبر 1945ء کو مانکی شریف میں " علماء و مشائخ کانفرنس " منعقد کی جس میں سینکڑوں جید علمائے کرام اور مشائخ عظام نے شرکت فرمائی ۔ جن میں امیر ملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ، صدر الافاضل حضرت سید نعیم الدین مراد آبادی، مولانا عبد الحامد بدایونی، حضرت دیوان آل رسول سجادہ نشین اجمیر شریف، خواجہ حسن نظامی دہلوی وغیرہ ۔
2
1945ء میں حضرت قائد اعظم نے صوبہ سرحد کا دوسرا دورہ آپ کی دعوت پر کیا ۔ اس سے پہلے 1936ء میں پہلا دورہ کیا تھا جس میں بہت کم لوگ ساتھ تھے ۔ قائد اعظم کا یہ دورہ ایسا کامیاب ہوا کہ گانگریسیوں کے ہوش اڑ گئے، نومبر 1945ء میں شاہی باغ پشاور میں دو روزہ " مسلم لیگ کانفرنس " منعقد ہوئی، جس میں ایک لاکھ لوگ شریک ہوئے، تحریک پاکستان کے سلسلے میں عوام میں ایک ولولہ و جوش پیدا ہو گیا ۔ اس جلسے میں حضرت امیر ملت نے اپنے صاحبزادے کے ہاتھ قائد اعظم کے لئے سونے کا ایک تمغہ جس پر کلمہ طیبہ کندہ تھا، قائد اعظم کو پیش کیا، اور کہا: " میرے والد ماجد نے یہ تمغہ آپ کی خدمت میں بھیجاہے " ۔ سن کر قائد اعظم بے حد خوش ہوئے اور کھڑے ہوکر اس کو اپنی آنکھوں سے لگایا اور کہا: " پھر تومیں کامیاب ہوں یہ تمغہ میرے سینے پر آویزاں کیجئے " ۔ (تحریک پاکستان اور مشائخ عظام ص:147) ـ

کانگریسیوں نے قائد اعظم کے مقابلے میں نہرو کا تیسرا دورہ رکھ لیا ۔ جب 16 اکتوبر 1946ء کو نہرو کا ہوائی جہاز پشاور ائیرپورٹ پر اترا، تو پیر صاحب آف مانکی شریف کی قیادت میں سینکڑوں مسلمان مسلم لیگ کے جھنڈے میں ملبوس موجود تھے، اور ہزاروں سیاہ رنگ کے غبارے جن پر سفید رنگ سے " واپس جاؤ " کے الفاظ نمایاں تھے، فضا میں چھوڑے گئے، اور کالی جھنڈیاں لہرا کر نعرے لگائے " نہرو! واپس جاؤ " ۔ پاکستان زندہ باد، قائد اعظم زندہ باد کے پر جوش نعرے لگائے گئے، اور نہرو کی گاڑی انتہائی حفاظتی حصار میں گورنمنٹ ہاؤس پہنچائی گئی، اور وہ خفیہ طریقے سے بھاگنے پر مجبور ہوا ۔ اُفق کی سیاہی دیکھ کر مولانا ظفر علی خان نے کہا تھا:

؏: لایا ہے پیر مانکی ایک ایسا انقلاب
رنگت معاً بدلنے لگی آسمان کی ۔

اپریل 1946ء میں آپ نے " آل انڈیا سنی کانفرنس " بنارس میں شرکت کی اور اس جوش ایمانی سے اڑھائی گھنٹے تقریر فرمائی کہ عوام و خواص عش عش کر اٹھے آپ نے دوران تقریر فرمایا: " میں نے قائد اعظم محمد علی جناح سے وعدہ لیا ہے کہ اگر انہوں نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا، یا اسلام کے خلاف کوئی نظام جاری کرنے کی کوشش کی تو آج جس طرح ہم آپ کو دعوت دے رہے ہیں اور آپ کی قیادت کو مان رہے ہیں، کل اسی طرح اس کے بر عکس ہوگا " ۔ (ایضاً ص:149) ـ

13 اگست 1947ء کو جناب قائد اعظم محمد علی جناح نے پیر آف مانکی شریف کو کراچی سے بذریعہ فون قیام پاکستان کی مبارک باد دی اور فرمایا: " پاکستان قائم ہو گیا ہے اور یہ سب آپ کی برکات ہیں ۔ جواباً پیر صاحب نے آپ کو مبارک باد دی ۔ " (ایضاً:154) ـ

قیام پاکستان کے بعد پیر صاحب کو وزارت کی پیش کش کی گئی لیکن آپ نے کمال بے نیازی سے فرمایا: " درویشوں کو وزارت سے کوئی سروکار نہیں " ۔ اس طرح آپ نے ثابت کر دیا کہ ہماری جد و جہد کسی مالی منفعت، یا سیاسی اغراض و مقاصد، کے لئے نہیں تھی ۔ بلکہ اس کا مقصد ایک اسلامی و فلاحی ریاست تھا ۔ الحمد للہ اہل سنت و جماعت کی روشن تاریخ ہے، ہمارے اکابرین واقعی اکابرین تھے ۔ ان کا دامن ہر زمانے میں تمام قسم کی دنیاوی آلائشوں سے پاک رہا ۔ وہ صاف ستھرا کردار اس دنیا میں چھوڑ کر گئے، اور اپنے متبعین کو یہی سبق دیا کہ کبھی بھی ضمیر کا سودا نہ کرنا، حق کے ساتھ رہنا اس کے لئے تمہیں بڑی سے بڑی قربانی ہی کیوں نہ دینا پڑے ۔

غیر جانبدار مُنصِف مؤرخ ضرور لکھےگا: کہ ایک مردِ حق نے اسلام ، اور اہل اسلام کے لئے سب کچھ قربان کر دیا، اور اس کے صلے کاطلب گار دنیا کے بندوں سے نہ ہوا، بلکہ اپنا اجر آخرت کے لئے محفوظ کر لیا ۔

یہ بھی تحریر کرےگا: "پلیدستان" کانعرہ لگانے والے، اور کانگریس کی گود میں بیٹھ کر اہلِ اسلام و پاکستان پر تبرا کرنے والے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس ملک میں رہے، اور "ڈیزل و پٹرول" پر اپنے ضمیر کا سودا کیا، وہ بھی اسلام کے نام پر، ابن الوقتوں کے امام بنے، ہواؤں کے رخ کا فائدہ اٹھا کر خوب مال ومنصب حاصل کیا۔جہاں نفس کےخلاف دیکھا فوراً اسلام یاد آیا ۔ انسان چلا جاتا ہے، لیکن کردار زندہ رہتا ہے ۔ یہی فرق حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ابن زیاد وغیرہ کے کردار طمیں ہے ۔حسینیت آج بھی زندہ ہے چورطتا قیامِ قیامت تابندہ رہےگی، اور یزیدیت تو عار کا استعارہ ہے ۔

؏: نیرنگیِ دوراں کی سیاست تو دیکھئے
منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 29 رجب المرجب 1379ھ / مطابق 28 جنوری 1960ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف مانکی شریف ضلع نوشہرہ میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام ۔ تخلیق پاکستان میں علماء اہلسنت کا کردار ۔ تحریک پاکستان اور مشائخِ عظام ۔ تصوف اولیائے مانکی شریف اور تحریک پاکستان ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-amin-ul-hasanat-pir-of-manki-sharif
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
عبدالحکیم جوؔش صدّیقی، نجیبِ مصطفیٰ علامہ محمد

قائدِ ملّتِ اسلامیہ حضرت امام شاہ احمد نورانی صدّیقی﷫ کے دادا حضور، نجیبِ مصطفیٰ حضرت علّامہ شاہ محمد عبد الحکیم جوؔش صدّیقی میرٹھی قُدِّسَ سِرُّہٗ میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ آپ میرٹھ کی شاہی مسجد التمش کے امام و خطیب تھے، خود بھی شاعر تھے اور معروف شاعر مولانا محمد اسماعیل میرٹھی کے بڑے بھائی تھے، درس و تدریس فرماتے تھے۔

نام: محمد عبد الحکیم ۔

لقب: نجیبِ مصطفیٰ۔

خطاب: حکیم اللہ شاہ۔

شجرۂ نسب:

آپ نسباً صدّیقی تھے، حضرت سیّدنا محمد بن سیّدنا ابو بکر صدّیق رضی اللہ تعالٰی عنہھما کی اولاد سےتھے۔

آپ كا شجرۂ نسب یہ ہے:

’’ شاہ عبد الحکیم جؔوش و حکیمؔ صدّیقی بن شیخ پیر بخش بن شیخ غلام احمد بن مولانا محمد باقر بن مولانا محمد عاقل بن مولانا محمد شاکر بن مولانا عبد اللطیف بن مولانا یوسف بن مولانا داؤد بن مولانا احمد بن مولانا قاضی صوفی حمید الدین صدّیقی خجندی بن حضرت منصور خجندی(رحمۃ اللہ تعالٰی علیھم)۔‘‘[1]

تاریخِ ولادت:

حضرت شاہ عبدالحکیم جوش صدّیقی﷜ کے فرزندِ ارجمند حضرت علامہ محمد بشیر صدّیقی علیہ الرحمۃ لكھتے ہیں:

’’ راقمِ آثم ابو یحییٰ محمد بشیر الصدیقی عرف غلامِ مصطفیٰ (۱۳۰۰ھ)، ۱۳؍ جمادی الاخریٰ ۱۳۰۰ھ بروز سہ شنبہ (منگل) صبح صادق كے وقت ۲۱؍ مارچ ۱۸۸۳؁ع كو عالمِ وجود میں آیا۔ اُس روز حضرت والد صاحب قبلہ قُدِّسَ سِرُّہٗ كی عمر شریف بحسابِ قمری پورے پچاس (۵۰) سال كی تھی۔‘‘[2]

اس سے معلوم ہوتا ہے كہ حضرت شاہ عبد الحكیم جؔوش صدّیقی كی ولادتِ باسعادت ۱۲۵۰ھ میں ہوئی تھی؛ نیز، حضرتِ بشیر نے دوسرے مقام پر صراحت كے ساتھ، آپ كا سالِ ولادت: ’’۱۲۵۰ھ‘‘ لكھا بھی ہے۔[3]

لہٰذا، علامہ محمد بشیر صدّیقی علیہ الرحمۃ كی دستی تحریركے مطابق حضرت شاہ عبدالحكیم جؔوش صدّیقی كی تاریخِ ولادت: ’’۱۳؍ جُمادی الاخریٰ ۱۲۵۰ھ‘‘ہے؛ اور آن لائن كیلنڈر كے مطابق’’۱۳؍ جُمادی الاخریٰ ۱۲۵۰ھ‘‘ كو عیسوی تاریخ: ’’۱۷؍ اكتوبر ۱۸۳۴ء‘‘ تھی اور دن تھا جمعۃ المبارك۔

اس طرح حضرتِ حكیم كی مكمّل تاریخِ ولادت یہ ہوئی:

’’جمعۃ المبارك، ۱۳؍ جُمادَی الاخریٰ ۱۲۵۰ھ مطابق ۱۷؍ اكتوبر ۱۸۳۴ء ۔

بیعت و خلافت:

حضرت شاہ عبد الحکیم صدّیقی ﷫ کو حضرت سیّدنا سیّد غوث علی شاہ قلندر پانی پتی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے شرفِ بیعت و خلافت حاصل تھا؛ علاوہ ازیں، حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اورحضرت سیّد شاہ علی حُسین اشرفی الجیلانی عرف اشرفی میاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما ایسی بلند ہستیوں سےبھی آپ كو شرفِ خلافت حاصل تھا۔

حضور اشرفی میاں کے5 خلفا: شاہ عبدالحکیم اور اُن کے4 فرزند:

علّامہ شاہ محمود احمد قادری رفاقتی کان پوری دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ الْعَالِیَۃ رقم طراز ہیں:

’’حضرت مولانا شاہ عبد الحکیم صدّیقی علیہ الرحمۃ شاعر بھی تھے اور ’’حکیم‘‘ اور ’’جوش‘‘ تخلص کرتے تھے۔ ان کو بیعت ِ اِرادت کا شرف حضرت حاجی شاہ امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمۃ سے حاصل ہوا تھا۔ حضورِ پُرنور حضرت مخدوم الاولیا (حضرت شاہ علی حسین اشرفی میاں) علیہ الرحمۃ کی شرفِ زیارت سے مشرف ہوئے تو طالبِ ارشاد ہوئے، عقیدت و محبّت اور تعلّقِ قلبی نے رنگ جمایا تو حضور نے حلقِ راس کر ا کر خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا؛ حضورِ پُر نور کے حکم سے خلفائے کرام کی فہرست (ب)، جو طبقۂ علما کے ساتھ مخصوص ہے، حضرت مولانا شاہ عبد الحکیم کا نامِ نامی پہلے نمبر پر درج ہوا۔ اس فہرست میں درجِ ذیل الفاظ ہیں:

’’مولانا مولوی عبد الحکیم صاحب خجندؔی المخاطب بہ ’حکیم اللہ شاہ‘، محلّہ مشائخاں (کو) بعطائے تاج دلق و مثالِ خلافت و عملِ مقراض جمیع سلاسل عطا فرمائی گئی۔ ۲۷؍ ذی قعدہ ۱۳۲۳ہجری‘۔‘‘[4]

حضور اشرفی میاں قُدِّسَ سِرُّہُ الْعَزِیْز کے خلفائے کرام کی جو فہرست طبقۂ علما سے مخصوص ہے اُس کے سرِفہرست یعنی سب سے پہلے حضرت شاہ عبد الحکیم صدّیقی کام نامِ مبارک اس طرح درج ہے:

’’مولانا مولوی عبد الحکیم صاحب خجندی المخاطب بہ ’حکیم اللہ شاہ‘، محلّہ مشائخاں (کو) بعطائے تاج دلق و مثالِ خلافت و عملِ مقراض خلافت جمیع سلاسل عطا فرمائی گئی۔ ۲۷؍ ذی قعدہ ۱۳۲۳ہجری میں مُجاز و ماذون فرمائے گئے۔‘‘[5]

پھر آگے چل كر، اِسی فہرست میں حضرت شاہ عبد الحکیم صدّیقی علیہ الرحمۃ کا اسمِ مبارک دوبارہ یوں مذکور ہے:

’’مولوی عبد الحکیم المخاطب بہ ’حکیم اللہ شاہ‘ ۲۷؍ ذی القعدہ شاہ جہاں پور، ضلع میرٹھ، مدرّسِ اوّل مدرسۂ حنفیّہ ، قصور، لاہور۔‘‘[6]

’’حکیم اللہ شاہ‘‘ کا خطاب:

مندرجۂ بالا اقتباسات سے معلوم ہوا کہ حضور اشرفی میاں نے حضرت شاہ عبد الحکیم صدّیقی علیہما الرحمۃ کو ’’حکیم اللہ شاہ‘‘ کےخطاب سے نوازا تھا۔

حضرت شاہ عبدالحکیم صدّیقی کے چارفرزندانِ گرامی (خلیفۂ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا﷫ مبلغِ اسلام حضرت علّامہ شاہ احمد مختار صدّی
قی، علّامہ محمد بشیر صدّیقی، علّامہ نذیر احمد خجندی اور خلیفۂ اعلیٰ حضرت ﷫ مبلغِ اسلام علّامہ شاہ محمد عبدالعلیم صدّیقی میرٹھی مدنی علیہم الرحمۃ) بھی حضور اشرفی میاں سے شرفِ خلافت رکھتے تھے، جس سے متعلّق عبارات چوتھے (بیعت اور اجازت و خلافت) اوردسویں باب (بہن بھائی) میں نقل کی جائیں گی۔

ایك قادر الکلام شاعر:

خطیب العلما حضرت علّامہ مولانا نذیر احمد خجندؔی علیہ الرحمۃ کی سرپرستی میں بمبئی سے ایك ماہ نامہ ’’شاہ راہ‘‘ كے نام سے بھی نكلتا تھا، اُس میں آپ كے والدِ ماجدحضرت علّامہ شاہ محمد عبد الحکیم صدّیقی علیہ الرحمۃ کاحسبِ ذیل ایک نعتیہ قصیدہ شائع ہوا تھا، جو اُسی ماہ نامے كی سرخی (Heading)كے ساتھ ہدیۂ قارئین کیا جاتا ہے:

’’ذوق شوق

جذباتِ قبلۂ کونین و کعبۂ دارین، زبدۃ العارفین، سراج السالکین، عارف باللہ نجیب رسالت پناہ حضرت مولانا الحاج شاہ محمد عبد الحکیم جؔوش و حکیمؔ قُدِّسَ سِرُّہُ الْعَظِیْم

الٰہی! نعتِ احمد سے بیاں شیریں زباں تر ہو

سخن مقبول و تکرارِ سخن قندِ مقرر ہو

قریبِ روضۂ اقدس اگر مدفن میسّر ہو

دلِ مضطر کو آغوشِ لحد آغوشِ مادر ہو

اگر خاکِ مدینہ خوبیِ قسمت سے بستر ہو

وہ ہم سے خاکساروں کے لیے پھولوں کی چادر ہو

تِری بوئے محبّت سے دماغِ جاں معطّر ہو

تِری شمعِ تجلّی سے حریمِ دل منوّر ہو

الٰہی! لطف سے تیرے مقدّر یار و یاور ہو

حکیمِ جبہ فرسا ہو رسول اللہ کا در ہو

عیاں ہے شانِ حق، نامِ خدا کیا شان پائی ہے

تمھیں شایاں ہے رمزِ ’مَنْ رَّاٰنِیْ‘ گر زباں پر ہو

تمھارے نام کے صدقے تمھاری شان کے قرباں

نبی اللہ احمد ہو مقدّس ہو مطہر ہو

محمد مصطفیٰ خیر البریّہ رحمتِ عالم

امام الانبیا سیّد شفیعِ روزِ محشر ہو

تمھیں پایا خدا پایا تمھیں دیکھا خدا دیکھا

جمالِ حق نما اپنا دکھا دو تم کہ مظہر ہو

تمھارے دیکھنے والے لحد میں بھی نہ گھبرائیں

وہاں بھی جوشِ الفت سے خیالِ روئے انور ہو

مِری چشم تمنّا شکلِ آئینہ ہوئی حیراں

تمھاری خاکِ پا، یا مصطفیٰ![7] کحل الجواہر ہو

ہماری سجدہ ریزی بھی کبھی تو کام آ جائے

برنگِ نقشِ پا، یا رب! درِ حضرت پہ یہ سر ہو

تِرے کوچے کی مٹّی ہی مجھے اکسیرِ اعظم ہے

الٰہی! زرد رو وہ ہو جسے کچھ خواہشِ زر ہو

تمھارے طالبوں کو تشنہ کامی کا گلہ کیوں ہو

عنایت آپ سے جو ہو وہ جامِ حوضِ کوثر ہو

جہاں کے مال و دولت کو نہ دیکھے آنکھ اُٹھا کر وہ

تمھارے عشق کی دولت سے جس کا دل تونگر ہو

تم اپنے خاکساروں کو نگاہِ مہر سے دیکھو

کہ ذرّہ ذرّہ اُن کی خاک کا خورشیدِ خاور ہو

جمالِ حق نما اپنا دِکھا دو، یا حبیب اللہ!

ہمہ تن چشم ہوں، چشمِ تمنّا اب منوّر ہو

پھروں یوں در بہ در کیوں ہند میں، اے رحمتِ عالم!

مِرا ملجا و ماویٰ یا حرم یا آپ کا در ہو

نسیمِ شہر ِ احمد سے کِھلے[8] یہ غنچۂ خاطر

دلِ شیدا بہ رنگِ بوئے گُل جامہ سے باہر ہو

دِکھایا جلوۂ برقِ تجلّی ایک عالم کو

اگر مومن کے دل میں ہو منافق کی زباں پر ہو

کہاں ہم اور کہاں ’لَا تَقْنَطُوْا‘ یہ فیضِ حضرت ہے

نزولِ رحمتِ حق آپ پر، اے بندہ پرور! ہو

گنہگارانِ اُمّت میں سے مَیں بھی ایک عاصی ہوں

لوائے حمد روزِ حشر مجھ پر سایہ گستر ہو

رسول اللہ! اب مجھ کو مدینے میں بُلا لیجے

کہ ہر دم روضۂ اطہر کا نظّارہ میسّر ہو

حکیمِؔ شیفتہ دردِ جدائی سے تڑپتا ہے

کرم فرما، رسول اللہ! کرم فرما کہ جاں بر ہو

خداوندا! بہ حقِّ شاہِ بطحا احمدِ مُرسل

دمِ آخر زبانِ جؔوش پر اَللّٰہُ اَکْبَر ہو‘‘[9]



اَولادِ امجاد:

آپ کے سات بیٹے اور سات ہی بیٹیاں تھیں۔ سات بیٹوں میں سے مندرج:

ذیل چار فرزندانِ گرامی نے آفاقی شہرت پائی:

خلیفۂ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا﷫ مبلغِ اسلام حضرت علّامہ شاہ احمد مختار صدّیقی، الحاج علّامہ محمد بشیر صدّیقی، علّامہ نذیر احمد خجندی اور خلیفۂ اعلیٰ حضرت ﷫ مبلغِ اسلام علّامہ شاہ محمد عبدالعلیم صدّیقی میرٹھی مدنی۔ (علیہم الرحمۃ)

وصالِ مبارک:

آپ کا وصال 3؍ جمادی الاُخری کو ہُوا۔ آپ کے سالِ وصال میں تین روایات نظر سے گزری ہیں: 1322ھ، 1323ھ اور 1324ھ۔

مزارِ مبارك:

نجیبِ مصطفیٰ حضرت علامہ شاہ محمد عبدالحكیم جؔوش صدّیقی علیہ الرحمۃ كی قبرِ مبارك احاطۂ چشتی پہلوان شاہ، میرٹھ (ہندوستان) میں واقع ہے۔[10]

اللہ تبارك و تعالٰی آپ كی مرقدِ مبارك پر، تا صبحِ قیامت اپنی رحمتوں كی بركھا نازل فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ رَحْمَۃٍ لِّلْعَالَمِیْن ﷺ!



ماخوذ:

’’علامہ حاجی محمد بشیر صدّیقی کا سفرِ زندگی‘‘ (ملقب بہ لقبِ تاریخی ’’یک اجل تحریر در حیاتِ بشیر(۲۰۱۷ء)‘‘ از: ندیم احمد نؔدیم نورانی، تاریخ اشاعت: 1438ھ/ 2017ء، شائع کردۂ بزمِ چشتیہ صابریہ، دارالعلوم نعیمیہ، کراچی، باہتمام جمیلِ ملّت حضرت علامہ جمیل احمد نعیمی ضیائی چشتی صابری﷫۔



[1] ’’حیاتِ اسماعیل‘‘، ص۳۰؛ دستی تحریرِعلامہ محمد بشیرصدّیقی علیہ الرحمۃ ۔

[2
] دستی تحریرِعلامہ محمد بشیرصدّیقی علیہ الرحمۃ۔

[3] دستی تحریرِعلامہ محمد بشیرصدّیقی علیہ الرحمۃ۔

[4] ’’حیاتِ مخدوم الاولیاء محبوبِ ربّانی‘‘، ص ۳۳۶۔

[5] ’’حیاتِ مخدوم الاولیاء محبوبِ ربّانی‘‘، ص ۳۰۰۔

[6] ’’حیاتِ مخدوم الاولیاء محبوبِ ربّانی‘‘، ص ۳۱۰۔

[7] ماہ نامہ ’’شاہ راہ‘‘ میں اِس مقام پر ’’خاکِ پا، یا مصطفیٰ‘‘ کی جگہ ’’خاکِ پایا۔ مصطفیٰ‘‘

تھا۔اگلے شمارے (یعنی ربیع الثانی ۱۳۵۶ھ) میں حضرت علامہ غلام بھیک نیرنگ﷫

کا ایک خط شائع ہوا، جس میں ’’شاہ راہ‘‘ ربیع الاوّل کی چند اغلاط کی نشان دِہی کے ساتھ اُن کی تصحیح بھی کی گئی تھی۔ اُسی کے مطابق یہاں تصحیح کر لی گئی ہے۔ (ندیم نورانی)

[8] ماہ نامہ ’’شاہ راہ‘‘ میں اِس مقام پر ’’کِھلے‘‘ کی جگہ ’’کُھلے‘‘ تھا۔ حسبِ سابق تصحیح کر لی

گئی۔ (ندیم نورانی)

[9] ماہ نامہ ’’شاہ راہ‘‘، بمبئی، ربیع الاوّل ۱۳۵۶ھ، ص ۳۔

نوٹ: مبلغِ اعظم حضرت علامہ شاہ محمد عبد العلیم صدّیقی علیہ الرحمۃ نے اپنی تصنیفِ لطیف ’’ذکرِ حبیب ﷺ‘‘ (حصّۂ دوم) کے ابتدائی صفحات میں اِس نعت شریف کے صرف سات منتخب اشعار درج فرمائے ہیں؛ اِس انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ’’ذکرِ حبیب ﷺ‘‘ میں حضرت علامہ شاہ محمد عبد الحکیم صدّیقی علیہ الرحمۃ کے جو کلام شامل فرمائے ہیں، شاید وہ منتخب اشعار پر مشتمل ہوں۔ (ندیم نورانی)

[10] ’’تذكرۂ خانوادۂ علیمیہ، ص۴۱؛ ماہ نامہ ’’پیامِ حرم‘‘ جمدا شاہی (انڈیا) كا مبلغ ِ اسلام نمبر،

مارچ ۲۰۱۵ء، ص 7 اور 89۔

https://scholars.pk/ur/scholar/abdul-hakeem-josh-siddeeqi-najeeb-e-mustafa-shah-muhammad
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM