🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-06-1445 ᴴ | 16-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-06-1445 ᴴ | 16-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-06-1445 ᴴ | 16-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-06-1445 ᴴ | 16-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ
کی تصنیفات کیوں ضائع ہوئیں ؟
https://www.facebook.com/share/PnWckdZayrfpJP2o/?mibextid=Na33Lf
حضور مفتئ اعظم ہند علامہ مصطفٰی رضا خان نوری علیہ الرحمة الرحمٰن جواب دیتے ہیں:
Meesam Qadiri ... میثم قادری
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نسلِ نو کے ارتداد کی طرف بڑھتے قدم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
دنیا میں کامیابی کے کئی راستے ہیں:
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
استاد العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی نور محمد قاسمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
استاد العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی نور محمد قاسمی بن فقیر لعل بخش دایو گوٹھ پرانہ آباد ( تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ ) میں ۱۳۳۰ھ / ۱۹۱۰ء کو تولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم ( ناظرہ قرآن) گوٹھ کی مسجد میں ملا محمود سے حاصل کی ۔ ان دنوں گوٹھ انٹرآباد میں حاجی غلام قادر انٹر نے مدرسہ قائم کیا اور مولانا عبد الحی مہر کو درس مقرر کیا ۔ آپ نے ان سے فارسی ’’ بہار دانش ‘‘ تک پڑھی ۔ اس کے بعد ۱۹۲۴ یا ۱۹۲۵ء بمطابق ۱۳۴۵ یا ۱۳۴۶ھ میں سندھ کی عظیم دینی و روحانی درس گاہ جامعہ عربیہ قاسم العلوم درگاہ عالیہ مشوری شریف میں داخلہ لیا ۔ وہیں ۸۔۹ سال تک عربی کی ابتدائی کتب سے لے کر آخر تک تعلیم حاصل کی ۔ ۱۳۵۳ھ؍ ۱۹۳۴ء میں فارغ التحصیل ہوئے ۔ آپ کی دستار فضیلت درگاہ شریف کے سالانہ جلسہ جشن عید میلاد النبی ﷺ کے موقعہ پر ہوئی تھی ۔ جہاں تک یاد آرہا ہے آپ کے ساتھ دیگر کے علاوہ مولانا محمد عثمان مشوری مرحوم کی بھی دستار بندی ہوئی تھی ۔اس اہم موقعہ پر سراج الفقہاء ، قطب دوران ، استاد الاساتذہ ، حضرت علامہ مفتی ابو الفیض غلام عمر جتوئی نور اللہ مرقدہ بھی جلوہ افروز تھے ۔

بیعت:
حضرت علامہ الحاج مفتی محمد قاسم مشوری نور اللہ مرقدہ کے دست پاک پر سلسلۂ عالیہ قادریہ راشدیہ میں بیعت ہوئے ۔

درس و تدریس:
آپ نے جب جامعہ عربیہ قاسم العلوم میں داخلہ لیا تھا اسی روزسے استاد محترم کے حکم سے فارسی کا درس دینا بھی شروع کیا تھا ۔ بعد فراغت مادر علمی جامعہ عربیہ میں دو سال مدرس رہے ۔ اس کے بعد استاد محترم کے حکم سے اپنے گوٹھ پرانہ آباد میں ۱۳۵۵ھ / ۱۹۳۶ء میں مدرسہ قائم کر کے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا ۔ بیس پچیس سال کی درسی خدمات کے بعد باقرانی شہر میں مدرسہ قائم کیا اور وہاں بھی درس و تدریس کا سلسلہ آخر عمر تک جاری رکھا ۔

سفر حرمین شریفین:
۱۳۷۴ھ / ۱۹۵۵ء میں ماہ شعبان المعظم میں بحری جہاز میں بغداد شریف پہنچے، وہاں سر کار غوث اعظم ، غوث الثقلین ، محبوب سبحانی ، قطب ربانی ، پیران پیر دستگیر کے مزار اقدس پر حاضری کی سعادت حاصل کی، سیدنا امام الائمہ ، سید المجتھدین ، سراج الامۃ ، سید الاولیاء حضور امام اعظم ابو حنیفہ تابعی کے دربار مقدس کی زیارت سے بہرہ مند ہوئے اس کے علاوہ دیگر مزارات مقدسہ کی حاضری کے بعد مدینہ منورہ کا سفر اختیار کیا، رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مدینہ منورہ پہنچے ۔ وہیں شوال المعظم اور ذوالقعدہ دو ماہ قیام کرنے کے بعد ذوالحجہ میں مکہ مکرمہ روانہ ہوئے وہاں پہنچ کر حج بیت اللہ ادا کیا اس کے بعد الخبر پہنچے وہاں سے لانچ کے ذریعے بحرین اور وہاں سے کراچی بندر گاہ پہنچے ۔ اس طرح محرم الحرام / اگست کے ماہ میں لاڑکانہ واپس تشریف لائے ۔

عادات و خصائل:
مولانا الحاج نور محمد قاسمی متوکل فقیر ، سادہ طبیعت ، مالی پوزیشن کمزور اس کے باوجود درس و تدریس کا عمل بلا معاوضہ جاری رکھا ۔ خوش مزاج ، خوش الحان تھے، مرشد کریم کی محبت میں فنا تھے۔ شریعت مطہرہ کے پابند ، خلوص وللہیت کی تصویر ، بااخلاق ، صابر و شاکر تھے ۔ اپنے پیر و مرشد کی سوانح حیات پر سب سے پہلے غالباً انہوں نے قلم اٹھایا تھا جب فقیر راشدی قاسم ولایت پر کام کر رہا تھا ان دنوں چند اوراق نظر سے گذرے استفسار پر بتایا گیا کہ تحریر نور محمد کی ہے ۔ پس معلوم ہوا کہ مولانا ، حضرت قبلہ عالم پر مستقل کتاب لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے ۔ لیکن نا معلوم وجوہات کی بنا پر وہ خاکہ پائے تکمیل کو نہ پہنچ سکا ۔
2👍2
شادی و اولاد:
۱۷ شوال ۱۳۵۸ھ کو باقر انی شہر (تحصیل ڈوکری) کے محمد ابراہیم دایو کی بیٹی سے آپ کا عقد ہوا ۔ نکاح پیر و مرشد استاد محترم مخدوم ملت حضور قبلہ عالم نے پڑھایا ۔ حضرت حافظ امام بخش سومرو نے بھی شرکت فرمائی ۔ ان کی بطن سے مولانا کو پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں تولد ہوئیں ۔

ان میں سے دو بیٹیاں اور دو بیٹے
۱۔ حافظ احمد
۲۔ عبدالغفور کلرک دفتر سول ہسپتال لاڑکانہ ، حال حیات و صاحب اولاد ہیں ـ

باقی اولاد تین بیٹے اور دو بیٹیاں بچپن میں انتقال کر گئے ۔

تلامذہ:
آپ کے تلامذہ کی طویل فہرست ہے ان میں سے بعض کے نام معلوم ہو سکے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:

۱۔ مولانا حافظ قمر الدین مغیری قاسمی سابق ڈسٹرکٹ خطیب لاڑکانہ ۔ امام مسجد درگاہ حضرت عظیم شاہ بخاری لاڑکانہ

۲۔ مولانا محمد ہاشم گوٹھ تھرڑی محبت           
۳۔ مولانا خان محمد پیر زادہ

۴۔ مولانا عرض محمد ( سندھ جا اسلامی درسگاہ ص ۵۲۸)

وصال:
مفتی الحاج نور محمد قاسمی نے ۳ جمادی الآخر ۱۳۸۹ھ؍ ۱۹۶۸ء بروز اتوار انتقال کیا ۔ اسی روز بعد نماز مغرب حضرت قبلہ عالم سرکار مشوری قدس سرہ نے نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور اپنے دستور کے مطابق حضرت نے میت کی استقاط و چہل قدمی کی اور اس کے بعد تدفین عمل میں آئی ۔ آپ کا آخری آرام گاہ پرانہ آباد میں واقع ہے ۔

[ مولانا قمر الدین قاسمی کی عنایت سے مذکورہ مواد دستیاب ہوا، فقیر مولانا کا مشکور ہے ]

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-mufti-noor-muhammad-qasmi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مفتئ بدایوں ، حضرت علامہ مفتی حافظ بخش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
آنولہ ضلع بریلی وطن، وہیں ۱۲۶۵ھ میں ولادت ہوئی ۔

تعلیم:
اپنے نانا قاری امام بخش سے حفظ قرآن پاک کیا، اور ابتدائی درسیات پڑھی ۔۱۲۸۴ھ میں مدرسہ قادریہ میں داخل ہوکر حضرت سیف اللہ المسلول معین الحق شاہ فضل رسول بدایونی، حضرت تاج الفحول محب رسول مولانا شاہ عبد القادر بدایونی، حضرت استاذ الاساتذہ مولانا شاہ نور احمد قدس اللہ اسرارہم سے پڑھ کر ۱۲۹۵ھ میں سند فراغ پائی ـ

بعدہ کچھ دنوں درسۂ قادریہ میں درس دیا ۔ پھر مدرسہ محمدیہ چودھری گنج سے متعلق ہو گئے ۔ پوری زندگی علم دین کی اشاعت اور مذہب اہل سُنّت کی تبلیغ میں گذری، جزیاتِ فقہ بکثرت یاد تھے ۔

آپ علیہ الرحمہ بدایوں کے مفتی تھے ۔ حضرت تاج الفحول کے ارشد تلامذہ میں شمار تھا ۔ دو مرتبہ حج و زیارت سے مشرف ہوئے ۔

وصال:
۳ جمادی الاخریٰ ۱۳۳۹ھ بوقت گیارہ بجے دن انتقال ہوا ۔ مدفن درگاہ قادری میں ہے ـ

حضرت مولانا قدیر بخش المتوفی ۱۳۷۶ھ مفتی جے پور نامور عالم و فاضل آپ کے بڑے صاحبزادے تھے ۔ مولوی عبد الغفور صاحب آنولوی مرحوم نے یہ تاریخ کہی:

متبع عرفاں، معدنِ ایمان، عالم و فاضل نیک خصال سالِ فنا ” تاریخ شہادت “ گفت بصد اندو ، و ملال ـ

( تذکرہ علمائے ہند )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-hafiz-bakhsh
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
پیر سیدمحمدامین الحسنا ت پیر آف مانکی شریف رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا پیر سید محمد امین الحسنات ۔ لقب: ناصرِ ملت، مجاہدِ اسلام ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت پیر محمد امین الحسنات بن پیر عبد الرؤف بن پیر عبد الحق پیر عبد الوہاب بن مولانا ضیاء الدین ۔ علیہم الرحمہ ۔ (تخلیق پاکستان میں علماء اہلسنت کا کردار ص:125) ـ

آپ کا آبائی تعلق " اکوڑہ خٹک " سے ہے ۔ آپ کے جد امجد مولانا ضیاء الدین نے اپنے وطن سے ہجرت کرکے علاقہ " بداش " تشریف لے گئے، اور وہاں ایک مسجد میں امامت و خطابت اور تبلیغ اسلام میں مشغول ہو گئے ۔ جب 1863ء میں انگریز نے سوات اور ملحقہ علاقوں پر قبضہ کرنا چاہا، تو انہوں نے اپنے پیر و مرشد عارف باللہ حضرت اخوند عبد الغفور قادری علیہ الرحمہ کے ساتھ مل کر انگریز کے خلاف جہاد کیا اور اس کو بھاگنے پر مجبور کیا ۔ اس وقت ان کا خاندان موضع " کٹی خیل " میں رہائش پذیر تھا ۔ حضرت اخوند کے حکم پر آپ موضع " مانکی " تحصیل نوشہرہ، ضلع پشاور تشریف لائے، آپ کی قدم میمنت کی برکت سے ایک گم نام قصبہ موضع مانکی، پوری دنیا میں " مانکی شریف " کے نام سے معروف ہو گیا، اور پیر صاحب، پیر آف مانکی شریف سے مشہور ہو گئے ۔ پھر یہاں سے سلسلہ رشد و ہدایت پوری دنیامیں عام ہوا۔(انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام ج:1، ص:444) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز بدھ 3 جمادی الثانی 1340ھ / مطابق یکم فروری 1922ء کو خانقاہ قادریہ مانکی شریف ضلع نوشہرہ میں ہوئی ۔ (تخلیق پاکستان میں علماء اہلسنت کا کردار، ص:125) ـ

تحصیل علم:
چھ سال کی عمر میں والد گرامی کاسایہ سر سے اٹھ گیا، اور گیارہ سال کی عمر میں شفقت پدری سے بھی محروم ہو گئے ۔ ابتدائی تعلیم و تربیت گھر پر ہوئی تھی ۔ حفظِ قرآن کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے، اور حفظ قرآن کے بعد مختلف علماء کرام سے جملہ علوم متداولہ کی تحصیل فرمائی، اور وقت کے عظیم دانشوروں میں شمار ہونے لگے ۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد گرامی حضرت پیر عبد الرؤف علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ان کے وصال کے بعد سجادہ نشین ہوئے، اور حقِ سجادگی، اور ملت کی نگہبانی کا حق ادا کر دیا ۔

سیرت و خصائص:
مجاہد اسلام، ناصرِ ملت، فخرِ امت، صاحبِ عزیمت، نازشِ اہل سنت، محسنِ پاکستان، فاتحِ سرحد، حضرت علامہ مولانا پیر محمد امین الحسنات پیر آف مانکی شریف رحمۃ اللہ علیہ ۔

حضرت پیر صاحب علیہ الرحمہ کی تحریک پاکستان اور خدمت اسلام کے لئے عظیم خدمات ہیں ۔ آپ کے اس روشن اور بے داغ کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائےگا، اور آپ کی سیرت و جذبۂ خود داری اہل پاکستان اور ملت اسلامیہ کے لئے مشعل راہ کا کردار ادا کرتی رہےگی، اور اہل اسلام اس کی روشنی میں سفر کرتے رہیں گے ۔

پیر صاحب مانکی شریف انتہائی فعال، بلند اخلاق، مدبر اور دانشمند انسان تھے ۔ انہوں نے روحانیت اور سیاست کے میدان میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ۔ ان کی ابتدائی خواہش تھی کہ اس خطے میں مسلمانوں کے لئے ایک ایسی آزاد مسلم ریاست ہونی چاہئے جہاں مسلمان قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزار سکیں، اور وہ اسلامی ریاست تمام عالم اسلام کے لئے ایک قائدانہ کردار ادا کرے ۔ کیونکہ اس وقت عالم اسلام زبوں حالی کا شکار تھا، اور ہند کے مسلمان غلامی کی زندگی گزار رہے تھے ۔ پیر صاحب کا تعلق ایسے علاقے سے تھا، جہاں ہندو اقلیت والے صوبہ سرحد میں اسلام کو ہندو اکثریت والے صوبوں سے زیادہ خطرات در پیش تھے ۔ بالآخر پیر صاحب نے اس نا ممکن کو ممکن بنا دیا ۔

صوبہ سرحد موجودہ (خیبر پختونخوا) سرخپوشوں، اور کانگریسیوں کا گڑھ تھا، کانگریسی اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ یہ علاقہ تو ہمارا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ 1937ء میں جواہر لال نہرونے دو مرتبہ اس صوبے کا دورہ کیا، اور اس کا بڑا پرتپاک استقبال کیا گیا ۔ پیر صاحب نے پورے صوبے میں طوفانی دورے کرکے مریدین اور عوام کو " مسلم لیگ " کی حمایت کے لئے آمادہ کیا ۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو خط لکھا، اور آپ کے ایماء پر قائد اعظم نے مجاہدِ آزادی مولانا عبد الحامد بدایونی علیہ الرحمہ کو سرحد بھیجا ۔

پیر صاحب نے 14 اکتوبر 1945ء کو مانکی شریف میں " علماء و مشائخ کانفرنس " منعقد کی جس میں سینکڑوں جید علمائے کرام اور مشائخ عظام نے شرکت فرمائی ۔ جن میں امیر ملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ، صدر الافاضل حضرت سید نعیم الدین مراد آبادی، مولانا عبد الحامد بدایونی، حضرت دیوان آل رسول سجادہ نشین اجمیر شریف، خواجہ حسن نظامی دہلوی وغیرہ ۔
2