🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
خلیفۂ حضور مفتئ اعظمِ ہند ، فقیہ العصر ، حضرت مولانا مفتی عبد الجلیل رضوی بہاری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
مفتی عبد الجلیل ۔ لقب: فقیہ العصر، رضوی، بہاری ۔ والد کا اسم گرامی: مولانا سخاوت علی ۔ آپ کے والد ماجد مولانا سخاوت علی علیہ الرحمہ بہترین فارسی داں اور اپنے زمانے کے مشہور میلاد خواں تھے ۔

تاریخِ ولادت:
حضرت مولانا عبد الجلیل رضوی 15 شوال المکرم 1352ھ / مطابق یکم فروری 1934ء کو ایک اعلیٰ گھرانے میں پیدا ہوئے ۔

تحصیل علم:
مولانا مفتی عبدالجلیل رضوی جب سخن آموزی کی منزل عبور کر چکے تو اپنے والد گرامی سے بسم اللہ خوانی کی رسم ادا کر کے ابتدائی تعلیم تا قرآن شریف کی تعلیم مکمل کر کے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے متعدد مدارس اسلامیہ کا سفر کیا ۔ پھر جامعہ نعیمیہ مراد آباد تشریف لے گئے، خصوصیت کے ساتھ مولانا الحاج محمد یونس اشرفی مفتی حبیب اللہ نعیمی بہاری اور مولانا طریق اللہ قادری کے سامنے زانوئے ادب تہہ کر کے فراغت حاصل کی ۔

مفتی حبیب اللہ نعیمی بہاری کی دور بین نگاہوں نے مولانا عبد الجلیل رضوی کی ذہانت و فطانت کا جائزہ لیا اور دورِ طالب علمی میں دار الافتاء کی ذمہ داری آپ کے دوش ناتواں پر ڈال دی جسے مولانا عبد الجلیل بحسن و خوبی انجام دیتے رہے ۔ اور زمانۂ طالب علمی کی تربیت آپ کی پوری زندگی پر اثر انداز اور پوری زندگی مسائل کی جانکاری کے لیے مرجع خلائق بنے رہے ۔

بیعت و خلافت:
حضور مفتیِ اعظم ہند شاہ مصطفیٰ رضا خان نوری علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور 15 ربیع الاول 1392ھ میں تمام سلاسل کی خلافت اور عملیات کی اجازت سے نوازا ۔ آپ کا حلقۂ ارادت بہت وسیع ہے ۔

سیرت و خصائص:
عالمِ جلیل، فاضلِ نبیل، فقیہ العصر، خلیفۂ مفتی اعظم ہند، جامع شریعت وطریقت حضرت علامہ مولانا مفتی عبد الجلیل رضوی بہاری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ ایک متحرک شخصیت کے مالک تھے، ہر وقت دین کی اشاعت میں کوشاں نظر آتے ۔ آپ نے دینی مدارس کے ذریعے اہل سنت و جماعت کے فروغ میں بڑا کردار ادا کیا ۔ آپ نے 1956ء میں " جامعہ اسلامیہ نوریہ " کی بنیاد رکھی تھی، آج الحمد للہ ایک تناور درخت کی شکل میں موجودہے، اورآپ کاعلمی ورحانی فیضان تقسیم ہورہاہے۔

مولانا عبدالجلیل علیہ الرحمہ میانہ قد، انتہائی حسین تھے اور چہرۂ بارعب کہ بڑے سے بڑے لوگوں پر ان کا ایک دبدبہ طاری رہتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود چہرے پر ایک مسکراہٹ قائم رہتی، اور اتنی سنجیدگی طاری رہتی کہ لوگ ادب کے دائرے سے باہر جانے کی جرأت نہیں کرتے۔آپ کا اخلاق بڑاوسیع تھا جو بھی ان سے ملاقات کےلیے آیا متاثر ہوئے بغیر نہیں گیا اور ہر کوئی یہی کہتا خواہ بڑا ہو یاچھوٹا اپنا ہو یا پرایا۔فقیہ العصر مفتی عبدلجلیل علیہ الرحمہ ہم سے زیادہ محبت کرتے تھے اور اہم سے زیادہ کسی دوسرے سے اتنی محبت نہیں کرتے۔اس قدر ہر ایک کے دلوں میں ان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور خیالات اتنے بلند کہ مولانا عبدالجلیل جو فرماتے سننے والے یہ سمجھتے کہ گویا یہ میرے دل کی بات ہے ۔

مولانا مفتی عبد الجلیل علیہ الرحمہ کو کتابوں کے مطالعہ کا بے حد شوق تھا اور نظر بڑی محققانہ تھی کتابوں کی کثیر تعداد ان کی ذاتی ملکیت میں تھی ۔ مطالعہ کتب کا حال ایسا کہ کوئی مسئلہ در پیش ہوا، تو تحقیق کا دروازہ کھلاہوتا کتابوں کا انبار سامنے ہوتا اور مسائل حل ہوتے ہر مسئلہ پر باریک نظر تھی۔ دلائل سامنے لاتے اور تشنگان علم و فن کی خوب خوب سیر یابی ہوتی، عربی وفارسی کی بہترین صلاحیت تھی۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ریاضی میں کافی ادراک عطا فرمایا تھا۔ ریاضی کا وہ مسئلہ جس کاحل ہونا ہر ایک سے مشکل ہوتا آپ اسے منٹوں میں حل کردیتےتھے۔

ہرجگہ شریعت مطہرہ کا خیال مقدم ہوتا،اورکوئی بات جو شریعت کے خلاف ہو برداشت نہیں کرتے تھے اور ہم عصر علماء میں اپنے زہد وتقویٰ کےلحاظ سے ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ اپنے پرائے آپ کے زہد و تقویٰ سے متأثر تھے۔ آپ جہاں بھی تشریف لے جاتے نماز کی امامت آپ کرتے تھے۔ آپ کی موجودگی میں کوئی بھی آگے نہیں بڑھتا تھا ۔

حضورمفتی اعظم ہند شہزادۂ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ آپ کی دینی خدمات کو قدرکی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ تقریباً آپ چوبیس دینی مدارس کی سرپرستی فرماتے تھے ۔ اسی طرح اہل سنت کی کئی تنظیموں کی سرپرستی، ومعاونت، درس وتدریس، افتاء ،وعظ ونصیحت، مریدین کاتزکیہ وغیرہ آپ کےاہم مشاغل تھے۔

الغرض آپ نےایک عملی زندگی گزاری، اپنےوقت کوصحیح مصرف لاکر اللہ جل شانہ اور اس کے حبیبﷺ کی بارگامیں سرخروہوئے۔آپ کی زندگی آج کےنوجوان علماء کےلئے مشعل ِراہ ہے۔

تاریخِ وصال:
اس تاریخ ساز شخصیت کا وصال 2 جمادی الثانی 1409ھ / مطابق 11 جنوری 1989ء بروز جمعرات شب 9 بج کر 40 منٹ پر ہوا ۔

ماخذ و مراجع:
مفتیِ اعظم ہند اور ان کے خلفاء ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-abdul-jaleel-rizvi-bihari
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
سیف اللہ المسلول معین الحق شاہ فضلِ رسول قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت شاہ فضلِ رسول ۔ لقب: سیف اللہ المسلول، معین الحق ۔حضرت شاہ آلِ احمد اچھے میاں رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے ارشاد کے مطابق آپ کا نام فضلِ رسول رکھا گیا ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ فضلِ رسول بدایونی بن عین الحق حضرت شاہ عبد المجید بدایونی، بن شاہ عبد الحمید بدایونی ۔ علیہم الرحمہ ۔

آپ کا سلسلہ نسب والدِ ماجد کی طرف سے جامع القرآن حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالی عنہ تک اور والدہ ماجدہ کی طرف سے رئیس المفسرین حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما تک پہنچتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ماہِ صفر المظفر 1213ھ / مطابق 1798ء کو بدایوں (انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
صرف و نحوکی ابتدائی تعلیم جدا مجد اور والد ماجد سے حاصل کی ۔ بارہ برس کی عمر میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاپیادہ لکھنؤ کا سفر کیا اور فرنگی محل لکھنؤ میں بحر العلوم قدس سرہ کے جلیل القدر شاگرد مولانا نور الحق قدس سرہ (متوفی 1338ھ) کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ نے چار سال کے قلیل عرصے میں تمام علوم و فنون کی تکمیل کرلی ۔ حکیم ببر علی موہانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے فنِ طب کی تکمیل کی ۔

بیعت و خلافت:
آپ والدِ گرامی عین الحق شاہ عبد المجید بدایونی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ انہوں نے تمام سلاسل میں اجازت و خلافت عطا فرمائی تھی ۔ درگاہِ غوثیہ کے نقیب الاشراف حضرت سید علی نے آپ کو اجازت و خلافت مرحمت فرمائی ۔

سیرت و خصائص:
جامع المنقولات والمعقولات، جامع الشریعت والطریقت، امام اہلسنت، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، غیظ المنافقین، مہلک الوہابیین، معین الحق والدین، محسن الاسلام والمسلمین، سیف اللہ المسلول حضرت شاہ فضل رسول قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ معقول و منقول کے امام اور شریعت و طریقت کے شیخِ کامل تھے ۔ بے حساب افراد آپ سے فیض یاب ہوئے ۔ آپ نے اپنے دور میں نمایاں طور پر احقاقِ حق کا فریضہ ادا کیا ۔ بے شمار سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان کا تحفظ فرمایا اور لا تعداد افراد کو راہِ راست دکھائی ۔ مولانا کی ذات والا صفات مرجع انام تھی، ان کے پاس کوئی علاج معالجے کے لیے آتا اور کوئی مسائلِ شریعت دریافت کرنے حاضر ہوتا ۔ کوئی ظاہری علوم کی گتھیاں سلجھانے کے لیے شرفِ باریابی حاصل کرتا، تو کوئی باطنی علوم کے عقدے حل کرانے کی غرض سے دامِن عقیدت و اکرتا ۔

غرض و ہ علم و فضل کے نیر اعظم اور شریعت و طریقت کے سنگم تھے جہاں سے علم و عرفان کے چشمے پھوٹتے تھے ۔ وہ ایک شمع انجمن تھے، جن سے ہر شخص اپنے ظرف اور ضرورت کے مطابق کسبِ ضیاء کرتا تھا ۔ حرمین شریفین کی زیارت سے مستفیض ہوئے، اور خوب ریاضتیں کیں ـ

مولوی محمد رضی الدین بدایونی لکھتے ہیں: " جو کچھ ریاضتیں آپ نے ان اماکنِ متبرکہ میں ادا فرمائیں ۔ بجز قدم اولیاء کرام کے دوسرے سے مسموع نہ ہوئیں ۔ حرمین شریفین کی راہ میں پیادہ سفر اور یتیموں مسکینوں کے آرام پہنچانے میں آپ نے ہر قسم کی تکلیف گوارا کی " ۔ (نور نور چہرے، ص:299) ـ

رد وہابیہ:
حضرت شاہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ کی ساری زندگی دینِ متین کی خدمت میں گزری ۔ اس وقت " فتنۂ وہابیہ " نیا نیا ظاہر ہوا تھا، اور مولوی اسمعیل دہلوی کی " تفویۃ الایمان " کے ذریعے ہندوستان میں اس فرقہ ضالہ کا بیج بویا جا رہا تھا ۔ وہابی خذلھم اللہ تعالی سرعام انبیاءِ کرام اور اولیاء عظام کی توہین کرتے تھے ۔ اس وقت ہندوستان میں آپ ہی کی ذات گرامی تھی جس نے اس فتنے کا سد باب کیا ۔ ہر جگہ ان کا تعاقب کیا ۔

آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
" میں قطب العالم حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار مبارک میں مراقبہ کر رہا تھا ۔ حالتِ مراقبہ میں دیکھا کہ حضور خواجہ صاحب رونق افروز ہیں اور دونوں دستِ مبارک میں اس قدر کتب کا انبار ہے کہ آسمان کی طرف حد نظر تک کتاب پر کتاب نظر آتی ہے ۔ میں نے عرض کیا کہ اس قدر تکلیف حضور نے کس لیے گوارا فرمائی ہے؟ ارشاد مبارک ہوا کہ تم یہ بار اپنے ذمہ لے کر شیاطینِ وہابیہ کا قلع قمع کر دو ۔ آپ نے مراقبہ سے سر اٹھایا اور اسی ہفتہ میں کتاب مستطاب " بوارقِ محمدیہ " تالیف فرمائی ۔ " (ایضاً، ص:203) ـ
2
حضرت شاہ فضل رسول قادری علیہ الرحمہ نے مولوی اسمٰعیل دہلوی اور سید احمد بریلوی کو قریب سے دیکھا ۔ ان کے عقائد اور عزائم کا بنظرِ غائر جائزہ لیا ۔ ان کے طور و طریق کو بخوبی جانچا اور پھر ضمیر کی آواز کو بلاکم و کاست تحریر کر دیا ۔ فرماتے ہیں: " فاحشہ رنڈیوں کی بھی پیش کش (نذر) لینے میں تامل نہ تھا، یہاں تک کہ جو فرنگیوں کے گھروں میں تھیں ۔ چنانچہ بنارس کا ریذیڈنٹ اگنسن بروک نام، اس کے گھر میں ایک فاحشہ تھی، بڑی اختیار والی اور صاحبِ مقدور مرید ہوئی اور دس ہزار روپے نذر پیش کیے اور اس کے مرید ہونے سے ریذیڈنٹ نے بہت خاطر داری کی کہ سید صاحب نے اس کو اپنی بیٹی فرمایا تھا، راقم (حضرت شاہ فضل رسول) بھی وہاں موجود تھا " ۔ (سیف الجبار، ص:73) ـ

مولوی اسمٰعیل دہلوی کے
بارے میں امام المحدثین کی رائے:

امام المحدثین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے تقویۃ الایمان پر اظہارِ ناراضگی فرمایا ۔

حضرت مولانا شاہ محمد فاخر الہ آبادی قدس سرہٗ فرماتے تھے: کہ جب اسماعیل دہلوی نے تقویۃ الایمان لکھی اور سارے جہان کو مشرک و کافر بنانا شروع کیا تو اس وقت حضرت شاہ عبد العزیز صاحب آنکھوں سے معذور اور بہت ضعیف ہو چکے تھے ۔

افسوس کے ساتھ فرمایا:
کہ میں تو بالکل ضعیف ہوگیا ہوں، آنکھوں سے بھی معذور ہوں، ورنہ اس کتاب اور اس عقیدہ فاسد کا رد بھی تحفہ اثنا عشریہ کی طرح لکھتا کہ لوگ دیکھتے ۔ (نور نور چہرے، ص:311) ـ

ابنِ عبد الوہاب اپنوں کی نظر میں:
محمد بن عبد الوہاب نجدی کے بارے میں ان کے شیخ الاسلام مولوی حسین احمد مدنی کی رائے قابلِ ملاحظہ ہے ۔ لکھتے ہیں: صاحبو! محمد بن عبد الوہاب نجدی ابتدائے تیرھویں صدی میں نجدی عرب سے ظاہر ہوا اور چونکہ خیالاتِ باطلہ اور عقائدِ فاسدہ رکھتا تھا، اس لیے اس نے اہل سنت و جماعت سے قتل و قتال کیا اور ان کو بالجبر اپنے خیالات کی تکلیف دیتا رہا ۔ ان کے اموال کو غنیمت کا مال اور حلال سمجھا کیا ۔ ان کے قتل کو باعثِ ثواب و رحمت شمار کرتا رہا ۔ اہل حرمین کو خصوصاً اور اہل حجاز کو عموماً اس نے تکالیفِ شاقہ پہنچائیں ۔ سلفِ صالحین اور اکابرین کی شان میں نہایت گستاخی و بے ادبی کے الفاظ استعمال کیے ۔ بہت سے لوگوں کو بوجہ اس کے تکالیفِ شدیدہ کے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ چھوڑنا پڑا اور ہزاروں آدمی اس کی فوج کے ہاتھوں شہید ہو گئے ۔ الحاصل وہ ایک ظالم و باغی خونخوار، فاسق و فاجر شخص تھا ۔ (الشہاب الثاقب، ص:50) ـ

دربارِ رسالت ﷺ میں آپ کی قبولیت:
جب آپ کی عمر 77 برس ہوئی، تو آپ کے شانوں کے درمیان پشت پر زخم نمودار ہوا ۔ ایک دن قاضی شمس الاسلام عباسی، جو آپ کے والد ماجد کے مرید تھے، عیادت کے لیے حاضر تھے، آپ نے فرمایا: " قاضی صاحب! بمقتضائے وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ آج آپ سے کہتا ہوں کہ میں دربارِ نبوت سے استیصالِ فرقۂ وہابیہ کے لیے مامور کیا گیا ۔ الحمد اللہ! کہ فرقہ باطلہ اسمٰعیلیہ و اسحاقیہ کا رد پورے طور ہو چکا، دربار نبوت میں میری یہ سعی قبول ہو چکی، میرے دل میں اب کوئی آرزو باقی نہ رہی، میں اس دارِ فانی سے جانے والا ہوں ۔ (ایضاً، ص:313) ـ

آپ نے خدمتِ خلق، عبادت و ریاضت، درس و تدریس، وغط و تبلیغ کے مشاغل کے باوجود تصنیف و تالیف کی طرف بھی توجہ فرمائی ۔ آپ نے اعتقادیات، درسیات، طب، تصوف اور فقہ میں قابلِ قدر کتابیں تصنف فرمائی ہیں ۔ علماء اہلسنت کو ان کتب کا لازمی مطالعہ کرنا چاہئے ۔

تاریخِ وصال:
2 جمادی الاخریٰ 1289ھ / مطابق 8 اگست 1872ء، بروز جمعرات ظہر کے وقت اسمِ ذات کے ذکر خفی میں مصروف تھے کہ اچانک دو دفعہ بلند آواز سے اللہ اللہ کہا اور ساتھ ہی روح قفسِ عنصری سے اعلیٰ علیین کی طرف پرواز کر گئی ۔ درگاہِ قادری (بدایوں) میں آرام گاہ ہے ۔

نوٹ:
سیف اللہ المسلول شاہ فضلِ رسول بدایونی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ فضلِ حق خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات قدسی صفات کی وجہ سے اہلِ باطل کے مقابلہ میں اہلِ حق (اہلِ سنت و جماعت) ماضی قریب میں " بد ایونی " اور " خیر آبادی " کے لقب سے پکارے جاتے تھے اور فی زمانہ امام اہلِ سنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے (پاک و ہند میں) اہلِ حق (اہل ِسنت و جماعت) " بریلوی " کے لقب سے پکارے اور جانے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ قرونِ اولیٰ میں معتزلہ، مجسمہ وغیرہ کے مقابلہ میں اہلِ حق اپنے آپ کو " اشعری " ماتریدی " کہتے تھے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماء اہلسنت ۔ نور نور چہرے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-fazal-rasool-badayuni
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-06-1445 ᴴ | 15-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-06-1445 ᴴ | 16-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-06-1445 ᴴ | 16-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-06-1445 ᴴ | 16-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1