🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-06-1445 ᴴ | 15-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ عرس حافظ ملت علیہ‌الرحمہ ❷ Urse Hafize Millat 💐 مختصر سوانح حیات: ↶ استاذ العلماء جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت حضرت علامہ مولانا شاہ عبد العزیز محدث مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ https://t.me/islaamic_Knowledge/65114 شان…
01-06-1445 ᴴ | 15-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عرس حافظ ملت علیہ‌الرحمہ ❸
Urse Hafize Millat 💐
مختصر سوانح حیات:
استاذ العلماء جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت حضرت علامہ مولانا شاہ عبد العزیز محدث مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/65114
شان و عظمت حضور حافظ ملت ↶
سوانح حیات حافظ ملت علیہ‌الرحمہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15920
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا شاہ عبد الرشید مجددی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
حضرت مولانا عبد الرشید مجددی ۔ لقب: جامع شریعت و طریقت ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا شاہ عبد الرشید مجددی بن حضرت مولانا شاہ احمد سعید مجددی بن مولانا شاہ ابو سعید مجددی رام پوری بن شاہ صفی القدر بن شاہ عزیز القدر بن شاہ عیسیٰ بن خواجہ سیف الدین بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔ (تذکرہ کاملان رام پور ص:219 / تذکرہ علمائے اہل سنت ص:137) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 2 جمادی الاخریٰ 1237ھ مطابق ماہ فروری 1822ء کو لکھنؤ میں ہوئی ۔ (ایضاً)

تحصیلِ علم:
آپ ایک علمی و مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ صغر سنی میں آثار سعادت چہرے سے ہویدا تھے ۔ انتہائی ذہین و فطین تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ دس برس کی عمر پوری نہ ہونے پائی تھی کہ حافظ قرآن ہو گئے ۔ صرف و نحو مولانا حبیب اللہ ملتانی سے، علوم عقلیہ مولانا فیض احمد دہلوی سے، کتب فقہ، تصوف، اور اصول حدیث والد ماجد سے، کتب حدیث مولانا شاہ مخصوص اللہ بن مولانا شاہ رفیع الدین اور مولانا شاہ محمد اسحٰق سے پڑھیں ۔ آپ علیہ الرحمہ علوم ظاہریہ و باطنیہ میں وحید العصر تھے ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت ص:137) ـ

بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں آپ کے جد امجد امام العرفاء والفضلاء حضرت شاہ ابو سعید مجددی نے27 رمضان المبارک بعد نماز تراویح آپ کو اور اپنے فرزند اوسط شاہ عبد الغنی کو ایک ساتھ بیعت فرمایا ۔

پھر جب 1256ھ کو حج کے لئے جانے لگے، تو والد گرامی حضرت شاہ احمد سعید مجددی نے بڑی مشکل سے اجازت دی، اور پھر الوداع کے لئے بذاتِ خود شہر کے دروازہ تک رخصت کرنے آئے، اور مجمع عام میں حضرت شاہ غلام دھلوی کا عطیہ ٹوپی، قمیص، اور عمامہ پہنا کر خلافت عطا کی ۔ مکہ مکرمہ میں حضرت عبد اللہ سراج مکی سے سند حدیث حاصل کی ۔ (ایضا:138) ـ

سیرت و خصائص:
فاضل علوم عقلیہ و نقلیہ، ماہر علوم و حقائقِ باطنیہ، عارف اسرار ربانیہ، وارثِ کامل علوم و معارف مجددیہ حضرت علامہ مولانا شاہ عبد الرشید مجددی ـ جد امجد حضرت شاہ ابو سعید آپ سے بہت محبت فرماتے تھے، اور آپ کو اپنے ساتھ سلاتے تھے ۔ جس وقت وہ تہجد کی نماز کے لئے اٹھتے تویہ بھی ساتھ اٹھتے تھے ۔ دس سال کی چھوٹی عمر میں کلام اللہ حفظ کر لیا ۔ صغر سنی میں ہی حلقۂ ذکر و فکر میں شامل ہوتے، علومِ ظاہری کی تکمیل کے بعد والد گرامی نے مجاہدات و ریاضات میں مشغول کر دیا ۔ حج و زیارت سے فارغ ہو کر دہلی آئے اور تو والد بغل گیر ہو کر ملے، اور استقبال کیا ۔

1237ھ میں والد ماجد کے حکم سے نواب سید کلب علی خاں مرحوم کی بیعت کے لیے رام پور گئے، ایک ماہ قیام کر کے دھلی واپس گئے ۔ 1274ھ میں والد ماجد کے ہمراہ ہجرت کی، حضرت شاہ احمد سعید کے انتقال 1277ھ کے بعد مسند ارشاد پر بیٹھ کر ہدایتِ خلق میں مصروف ہو گئے ۔ انتقال سے پانچ سال پہلے ہر سال حج کرتے تھے ۔ آپ کی بدولت عرب دنیا میں سلسلۂ عالیہ کو فروغ حاصل ہوا ۔ بہت سے ارادت مند پوری دنیا میں تھے ۔ جب عمر شریف پچاس سال ہوئی یعنی سال رحلت تو اس مرتبہ بڑے اہتمام کے ساتھ تشریف لے گئے ۔ رفقاء اہل قافلہ کو سخت تاکید تھی کہ سوائے ذکر و فکر کے اور کوئی کام نہ کریں ۔ اس راہ میں اللہ رسول کے علاوہ کسی کا ذکر خواہ خوبی ہو یا بدی نہ کریں ۔ خلاف ورزی کرنے والے پر جرمانہ مقرر کیا گیا ۔ (تذکرہ کاملین رام پور ص:220) ـ

حج کے موقع پر منیٰ میں 12 ذی الحجہ کو اپنے بیٹے شاہ محمد معصوم سے فرمایا حج کے بعد ہندوستان جانا، معلوم نہیں دو دن بعد کیا ہو، 14 ذی الحجہ سے بخار کے ساتھ دردِ سر شروع ہوا جو رفتہ رفتہ شدت پکڑتا گیا، سکرات موت میں بار بار مسکراتے تھے ۔

تاریخِ وصال:
16 ذی الحجہ 1287ھ مطابق 7 مارچ 1871ء کو منگل کے دن عصر اور مغرب کے درمیان انتقال ہوا ۔

مزار مبارک:
جنت المعلیٰ مکۃ المکرمہ میں حضرت ام المومنین سیدتنا خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پائیں شریف دفن ہوئے ـ

ہزاروں بندگان خدا کو آپ کی ذات سے فیض پہنچا ۔ عرب ممالک میں بکثرت آپ کے مرید اور خلفاء تھے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ تذکرہ کاملان رام پور ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abdul-rasheed-mujaddadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید محمد یوسف بلگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

سید محمد یوسف بن محمد اشرف واسطی بلگرامی: منقولات کے چراغ اور معقولات کی میزان تھے ـ

ولادت:
یک شنبہ کے روز ۲۱ ماہ شوال ۱۱۱۰ھ میں پیدا ہوئے ۔

آپ چونکہ سید آزاد کی خالہ کے بیتے تھے، اس لیے آپ اور آزاد نے بالموافقت تحصیل علوم پر کمر باندھی اور کتب درسیہ اور فنون کو ابتداء سے انتہاء تک سید طفیل محمد اور لغت کو اپنے نانا سید عبد الجلیل اور عروض وقانی کو سید محمد سے حاصل کیا ـ

اور جب سید آزاد حرمین شریفین کو تشریف لے گئے تو آپ نے ہئیت اور ہندسہ کو دہلی کے فضلاء سے اکتساب کیا ـ

بیعت:
اور سید لطف اللہ حسینی واسطی بلگرامی کی بیعت کی ـ

اور شرائع پر استقامت اور وطن میں اقامت اختیار کی ۔

آپ علیہ الرحمہ عربی و فارسی میں شعر بھی عمدہ کہتے تھے ۔ توحید شہودی میں کتاب الفرع الثابت من الاصل الثابت آپ سے یادگار ہے ۔

وصال:
وفات آپ کی پنج شنبہ کے روز دوم ماہ جمادی الاخری ۱۱۷۲ھ میں ہوئی اور اپنے نانا کے پاس دفن کیے گئے ۔ ’’ بے نظیر ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-yousuf-bilgrami
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید قطب الدین حجروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و لقب:
نام: قطب الدین ـ لقب: قطب الانام ـ

سیّد صدر الدین بن سید عبد الرزاق صاحبِ حجرہ کے نامور فرزندِ ارجمند تھے ۔ جامع کمالاتِ ظاہری و باطنی تھے ۔ علم وحلم، زہد و ورع، عبادت و ریاضت اور جُود و سخا میں یگانۂ آفاق تھے ۔ تمام عمر طلبہ و مریدین کی تہذیب و تکمیل میں گزاری ۔ ایک خلقِ کثیر نے آپ کی ذاتِ گرامی سے اکتسابِ فیض کیا ۔

نقل ہے ایک دفعہ آپ کے جدِّ بزرگوار سیّد عبد الرزاق بیمار ہو گئے، جب بیماری طویل ہو گئی تو آپ کے والدِ ماجد سیّد صدر الدین نے بارگاہِ خدا وندی میں منّت مانی کہ میں اپنے پدر بزرگوار کی صحت یابی کے لیے اپنے بیٹے قطب الدین کو تصدق کر دوں‌گا ۔ ابھی آپ نے یہ بات پُوری بھی نہ کہی تھی کہ قطب الدین جن کی عمر اس وقت چودہ برس کی تھی اپنی جگہ سے اُٹھے اور اپنے جدِ امجد کے گرد سات بار طواف کیا اور دادا جان کی دستار مبارک کو چار پائی سے اُٹھا کر اپنے سر پر رکھ لیا ۔ ان کے والد نے جب ان کی یہ حرکت دیکھی تو اپنے والد محترم کی ناراضی کے پیشِ نظر خاموش رہے ۔

سیّد عبد الرزاق نے اسی وقت فرمایا: اے صدر الدین پشیمان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ نے تیری نذر کو قبول فرما لیا ہے اور وہ طواف کر کے تصدق ہو گیا ہے ۔ سر پر پگڑی رکھنے سے یہ اشارہ ہے کہ وہ کسی اور کے توسل کے بغیر میرا جانشین ہوگا ۔ چنانچہ ایسا ہی ظہور پذیر ہُوا ـ اپنے والد کی وفات کے بعد یہی سجادہ نشین ہُوئے باوجود یکہ سردار علی خلفِ سیّد مدد علی موجود تھے ۔ سیّد نعمت علی اور ان کی محترمہ ہمشیرہ نے بھی آپ ہی کی سجادگی پر اظہارِ رضا مندی کیا ۔

نقل ہے محمد شاہ اور احمد شاہ قریشی دونوں بھائی آپ کے مُرید تھے اور قصبۂ جھنگ سیالاں میں سکونت رکھتے تھے ان کی ہمشیرہ لا ولد تھی ۔ ایک دفعہ آپ جھنگ تشریف لے گئے تو اس خاتون نے آپ کے قدم پکڑ لیے اور عرض کیا کہ میں اس وقت نہیں چھوڑوں گی جب تک آپ مجھے فرزند کی بشات نہ دیں‌گے ۔ آپ نے فرمایا: تیری قسمت میں فرزند نہیں ہے مگر ہمارے ہاں ایک فرزند کا ہونا مقدر ہے وُہ فرزند ہم نے تجھے دیا ۔ یہ مژدہ سُن کر اس خاتون نے آپ کے قدم چھوڑ دیئے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے فرزند سے نوازا اور اس کا نام بہادر شاہ رکھا گیا ۔

ولادت:
صاحبِ اسرار الاولیاء کے قول کے مطابق آپ کی ولادت ۱۱۸۲ء میں ہوئی ـ

وصال:
اور وفات ۲ جمادی الثانی ۱۲۵۰ھ مین پائی ۔ پہلے بیگم کوٹ میں مدفون ہوئے پھر سیّد مدد علی شاہ نعشِ مبارک کو نکال کر بمقام حجرہ لے گئے اور وہاں دفن کیا ۔

قطعۂ تاریخ وِلادت و وفات:

قطبِ اقطاب آں شہ قطب الانام
سالِ تولیدش زچرخِ چار میں
رحلتش مخدومِ نعمت کن رقم ۵۰ ھ ۱۲

میر قطب الدین ولئ متقی!
طرفہ ’’ خورشید نبی‘‘ شد منجلی
نیز ’’ قطب الافضلیں کامل ولی ‘‘ ۵۰ ھ ۱۲

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-qutbuddin-hujruvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ قاری محبوب رضا رحمہ اللہ علیہ

ہماری نئی نسل سے اکثر نے حضرت قاری محبوب رضا خان علیہ الرحمہ کا نام اور چند ایک واقعات سنے ہونگے ۔

آپ رضی اللہ عنہ ایک باوقار اور خود دار شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ سے کبھی کسی صاحب ثروت کی تعریف نہیں سنی ۔

آپ حضرت صدر الشریعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ان تلامذہ میں سے ہیں جنہوں نے حضرت کی وصیت کے مطابق بہار شریعت کے باقی حصوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا ۔

آپ قاری ، عالم ، مفتی ہونے کے ساتھ ساتھ اردو اور فارسی کے شاعر بھی تھے ۔ ابتدا میں بہت جلالی رہے لیکن آخر عمر شریف میں کچھ جمال کا بھی ظہور رہا ۔

سن 1989 میں حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب علیہ الرحمہ کے ساتھ بغداد شریف کی حاضری کی سعادت حاصل فرما کر مدینہ شریف تشریف لائے ـ

وصال:
اور سن ۱۹۹۱ مطابق 1411 ھجری میں آپ کا اس ماہ مبارک کی ۲ تاریخ کو کراچی میں وصال ہوا ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-qari-mehboob-raza-khan-barelvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شاہ غلام محی الدین المعروف بابوجی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
سید غلا م محی الدین ـ لقب: بابو جی ۔ اسی لقب سےمعروف ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ غلام محی الدین بن شیخ الاسلام پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی بن سید نذر دین شاہ الی آخرہ ۔ علیہم الرحمہ ۔

آپ کا سلسلۂ نسب چھبیس واسطوں سے حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سینتیس واسطوں سے حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
ماہِ جمادی الاول 1309ھ، مطابق ماہِ دسمبر 1891ء " گولڑہ شریف " اسلام آباد پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ حضرت پیر سید مہر علی شاہ آپ کی ولادت پر اظہارِ مسرت کرتے ہوئے فرمایا: " مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ ہمارے گھر میں اللہ اللہ کرنے والی ایک روح آ گئی ہے " ۔

تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت کے لئے نادرِ زمانہ اساتذہ مقرر کیے گئے، علم التجوید میں قاری عبد الرحمن جونپوری سے استفادہ کیا اور علوم دینیہ کی تحصیل و تکمیل حضرت مولانا علامہ محمد غازی علیہ الرحمہ اور والد ماجد حضرت پیر سید مہر علی شاہ علیہ الرحمہ سے کی ۔

والدِ گرامی کے فیضِ توجہ اور روحانی تربیت نے آپ کو جلد ہی مہرِ طریقت و شریعت بنا دیا ۔

بیعت و خلافت:
علمی و روحانی تکمیل کے بعد حضرت گولڑوی نے آپ کو اجازت و خلافت سے نوازا لیکن آپ کسی کو بیعت کرنے پر تیار نہ ہوئے تا آنکہ حضرت پیر سید مہر علی شاہ علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا: " جو شخص تمہارے ہاتھ پر بیعت کرےگا اس کا میں ذمہ دار ہوں " (مہرِ منیر، ص:368) ـ

سیرت و خصائص:
خلف الصدق، سیادت پناہ، جان ِایقاں، وکانِ عرفاں، وارث علوم مشائخِ چشتیاں، صاحبِ اوصافِ حمیدہ، لختِ جگر غوث الاسلام والمسلمین حضرت سید شاہ غلام محی الدین گولڑوی المعروف بابوجی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ حضرت سیدنا پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ کے دریکتا تھے ۔ حضرت بابو جی علیہ الرحمہ پر " الولد سرلابیہ " کی اصطلاح صحیح معنوں میں صادق آتی ہے ۔ نقاش ازل جل جلالہ نے اس نقش ثانی کی ذات با برکات کو ایک ایساوصف اور روشن آئینہ بنایا جس میں حضرت اعلی گولڑوی کے فضائل و خصائل کی ہو بہو تصویر و تمثیل نظروں کے سامنے آ گئی ۔

حضرت شاہ غلام محی الدین عالم ہونے کے باوجود عارف کی حیثیت سے معروف تھے ۔ وہ خاموش مزاج، نام و نمود سے دور، خودی تعلی سے بے گانہ، تسلیم و رضا اور صبر و استقلال کے پیکر تھے ۔ 37 سال مسند ارشاد پر جلوہ افروز رہے ۔ اس پورے عرصہ میں صدور، وزراء اور دوسرے اربابِ اقتدار سے دور رہے ۔ وہ مشائخ چشت کی راہ کا عملی نمونہ تھے ۔ ان کی بارگاہ میں شاہ و گدا دونوں حاضر ہوتے اور وہ سب سے مشائخ چشت جیسا سلوک کرتے ۔ ارباب اقتدار کی طرف جھکاؤ اور میلان ان کے ہاں بِالکل نہ تھا ۔

ہر وقت با وضو رہنا ۔ ہروقت یاد الہی میں مشغول ہونا، اور اپنی خودی کو مٹا کر مخلوقِ خدا کی خدمت میں مشغول اور احد من الناس ہو کر رہنا ۔ یہ آپ کے اوصاف حمیدہ تھے ۔ آپ کے کمالات کے خود اعلیٰ حضرت گولڑوی قدس سرہ معترف تھے ۔

چنانچہ ایک دفعہ آپ اپنے بالا خانہ پر تشریف فرما تھے کہ دور سے راولپنڈی کی طرف سے حضرت شاہ غلام محی الدین قدس سرہ کو آتے دیکھا اور فرمایا: غلام محی الدین ہے، پھر تبسم کرتے ہوئے فرمایا دیکھو گھوڑا دوڑ رہا ہے مگر اپنے کام (یاد حق) میں برابر مشغول چلا آ رہا ہے ۔ (ایضاً، ص:361) ـ

اپنے شب و روز یاد الٰہی اور ذکر وفکر میں گزارتے ۔ ہر وقت باوضو رہتے ۔ تمام نمازیں باجماعت صفِ اول میں ادا کرتے ۔ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے ذکر و تسبیح میں مصروف رہتے ۔ بڑے سخی اور جواد تھے ۔ بیواؤں، یتیموں، فقراء و مساکین اور دوستوں کی امداداد و اعانت آپ کا شیوہ تھا ۔ دینی مدارس، مذہبی و دینی اداروں، انجمنوں، پریشان حال لوگوں کے کام آنا آپ کا دستورِ حیات تھا اور یہ تمام کام راز دارانہ اور خفیہ طریقوں سے کرتے ۔ تحریک ختمِ نبوت سے آپ کا موروثی تعلق تھا ۔ ختمِ نبوت کا نام لینے اور کام کرنے والوں سے بڑی محبت تھی ۔ ان پر خصوصی توجہ فرماتے اور مالی تعاون بھی کرتے تھے ۔
1
ٹرین کے انجن سے دلچسپی کا راز:
آپ کو بچپن ہی سے (Train) کے انجن سے خاصی دلچسپی تھی ۔ ایک مرتبہ کسی دوست نے انجن سے دلچسپی کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا! مجھے اس کی چار ادائیں پسند ہیں:

حوصلہ: کہ جتنی زیادہ آگ ڈالو، اتنا ہی تیز چلتا ہے ۔
وفا: جہاں خود جائےگا وہیں تمام ڈبوں کو بلا تمیز ساتھ لے جائےگا ۔
ایثار: خود جلتا ہے اور دوسروں کو منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے ۔
استقامت: ہمیشہ معیّن راستہ (لائن) پر چلتا ہے ۔

گویا آپ نے بڑے عام فہم انداز میں مرشد کی خصوصیات بیان فرما دیں ۔ (ایضاً، ص:366) ـ

آپ کی طبیعت میں انکساری و تواضع کوٹ کوٹ بھری  ہوئی تھی ۔ بے پناہ شہرت و مقبولیت اور عزت و عظمت کے باوجود " احدمن الناس " ہو کر رہتے ۔ آپ اولیاء مستورین میں سے تھے اور حتی الوسع خود کو مخلوق سے مخفی رکھتے ۔ بظاہر ایسے لباس میں ہوتے کہ کوئی انہیں اھل اللہ کے گر وہ میں شامل نہ سمجھے ۔ آپ کسی سے ایسی بات سننا گوارہ نہ کرتے جس سے اپنے متعلق کرامت یا مافوق الفطرت چیز کا ترشح ہو رہا ہو ۔ جب کبھی کوئی مزاج نا آشنا ایسی بات کہتا تو سخت غصّے میں آ جاتے، اور پھر آئندہ کوئی بھی ایسی چیز کے ذکر اور بیان کی ہمّت و جرات نہیں کرتا تھا ۔

( فی زمانہ علم و عمل سے خالی، اور تسبیح وعمامہ سےمسلح پیروں کی بہتات ہے، ہر کوئی اپنے فضائل و کرامات بیان کرنے میں لگا ہوا ہے، اور جعلی القابات و کرامات کانہ تھمنے والا سلسلہ ہے ۔ جاہل مولوی و واعظ چند سکوں کے بدلے میں انہیں عوام کے اندر خوب بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں ۔ " تومرا حامی بگومن ترا حاجی بگویم " کے مصداق ایک دوسرے کی خوب تعریف و توصیف کی جاتی ہے ۔ میں ملتان شریف میں ایک عرس میں شریک تھا، اس خانقاہ کا سجادہ صورت سے بھی مسلمان نہیں نظر آتا ۔ وہاں کے ایک مشہور واعظ انہیں ایسے القابات سے نواز رہے تھے، کہ محسوس یہی ہوتا تھا کہ اس وقت غوث الاعظم ، ظل الہٰی حضرت ہی ہیں ۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ ۔ اکابرین اولیاء کرام تو اپنے آپ کو چھپاتے تھے ۔ تونسوی غفرلہ) ـ

علامہ محمد اقبال قلندر لاہوری فرماتے ہیں:

؏:خدا وندا! یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری

وصال:
2 جمادی الثانی 1394ھ / مطابق 22 جون 1947ء کو رات گیارہ بجے دار البقاء میں منتقل ہو گئے، اور حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے جوار میں آخری آرام گاہ بنی ۔

ماخذ و مراجع:
مہرِ منیر ۔ تذکرہ اکابر اہلسنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/peer-syed-ghulam-mohiuddin-golra-sharif
1