🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-06-1445 ᴴ | 15-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ عرس حافظ ملت علیہالرحمہ ❶ Urse Hafize Millat 💐 مختصر سوانح حیات: ↶ استاذ العلماء جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت حضرت علامہ مولانا شاہ عبد العزیز محدث مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ https://t.me/islaamic_Knowledge/65114 شان…
01-06-1445 ᴴ | 15-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عرس حافظ ملت علیہالرحمہ ❷
Urse Hafize Millat 💐
مختصر سوانح حیات: ↶
استاذ العلماء جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت حضرت علامہ مولانا شاہ عبد العزیز محدث مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/65114
شان و عظمت حضور حافظ ملت ↶
سوانح حیات حافظ ملت علیہالرحمہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15920
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عرس حافظ ملت علیہالرحمہ ❷
Urse Hafize Millat 💐
مختصر سوانح حیات: ↶
استاذ العلماء جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت حضرت علامہ مولانا شاہ عبد العزیز محدث مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/65114
شان و عظمت حضور حافظ ملت ↶
سوانح حیات حافظ ملت علیہالرحمہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15920
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-06-1445 ᴴ | 15-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ عرس حافظ ملت علیہالرحمہ ❷ Urse Hafize Millat 💐 مختصر سوانح حیات: ↶ استاذ العلماء جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت حضرت علامہ مولانا شاہ عبد العزیز محدث مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ https://t.me/islaamic_Knowledge/65114 شان…
01-06-1445 ᴴ | 15-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عرس حافظ ملت علیہالرحمہ ❸
Urse Hafize Millat 💐
مختصر سوانح حیات: ↶
استاذ العلماء جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت حضرت علامہ مولانا شاہ عبد العزیز محدث مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/65114
شان و عظمت حضور حافظ ملت ↶
سوانح حیات حافظ ملت علیہالرحمہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15920
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عرس حافظ ملت علیہالرحمہ ❸
Urse Hafize Millat 💐
مختصر سوانح حیات: ↶
استاذ العلماء جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت حضرت علامہ مولانا شاہ عبد العزیز محدث مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/65114
شان و عظمت حضور حافظ ملت ↶
سوانح حیات حافظ ملت علیہالرحمہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15920
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت مولانا شاہ عبد الرشید مجددی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا عبد الرشید مجددی ۔ لقب: جامع شریعت و طریقت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا شاہ عبد الرشید مجددی بن حضرت مولانا شاہ احمد سعید مجددی بن مولانا شاہ ابو سعید مجددی رام پوری بن شاہ صفی القدر بن شاہ عزیز القدر بن شاہ عیسیٰ بن خواجہ سیف الدین بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔ (تذکرہ کاملان رام پور ص:219 / تذکرہ علمائے اہل سنت ص:137) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 2 جمادی الاخریٰ 1237ھ مطابق ماہ فروری 1822ء کو لکھنؤ میں ہوئی ۔ (ایضاً)
تحصیلِ علم:
آپ ایک علمی و مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ صغر سنی میں آثار سعادت چہرے سے ہویدا تھے ۔ انتہائی ذہین و فطین تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ دس برس کی عمر پوری نہ ہونے پائی تھی کہ حافظ قرآن ہو گئے ۔ صرف و نحو مولانا حبیب اللہ ملتانی سے، علوم عقلیہ مولانا فیض احمد دہلوی سے، کتب فقہ، تصوف، اور اصول حدیث والد ماجد سے، کتب حدیث مولانا شاہ مخصوص اللہ بن مولانا شاہ رفیع الدین اور مولانا شاہ محمد اسحٰق سے پڑھیں ۔ آپ علیہ الرحمہ علوم ظاہریہ و باطنیہ میں وحید العصر تھے ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت ص:137) ـ
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں آپ کے جد امجد امام العرفاء والفضلاء حضرت شاہ ابو سعید مجددی نے27 رمضان المبارک بعد نماز تراویح آپ کو اور اپنے فرزند اوسط شاہ عبد الغنی کو ایک ساتھ بیعت فرمایا ۔
پھر جب 1256ھ کو حج کے لئے جانے لگے، تو والد گرامی حضرت شاہ احمد سعید مجددی نے بڑی مشکل سے اجازت دی، اور پھر الوداع کے لئے بذاتِ خود شہر کے دروازہ تک رخصت کرنے آئے، اور مجمع عام میں حضرت شاہ غلام دھلوی کا عطیہ ٹوپی، قمیص، اور عمامہ پہنا کر خلافت عطا کی ۔ مکہ مکرمہ میں حضرت عبد اللہ سراج مکی سے سند حدیث حاصل کی ۔ (ایضا:138) ـ
سیرت و خصائص:
فاضل علوم عقلیہ و نقلیہ، ماہر علوم و حقائقِ باطنیہ، عارف اسرار ربانیہ، وارثِ کامل علوم و معارف مجددیہ حضرت علامہ مولانا شاہ عبد الرشید مجددی ـ جد امجد حضرت شاہ ابو سعید آپ سے بہت محبت فرماتے تھے، اور آپ کو اپنے ساتھ سلاتے تھے ۔ جس وقت وہ تہجد کی نماز کے لئے اٹھتے تویہ بھی ساتھ اٹھتے تھے ۔ دس سال کی چھوٹی عمر میں کلام اللہ حفظ کر لیا ۔ صغر سنی میں ہی حلقۂ ذکر و فکر میں شامل ہوتے، علومِ ظاہری کی تکمیل کے بعد والد گرامی نے مجاہدات و ریاضات میں مشغول کر دیا ۔ حج و زیارت سے فارغ ہو کر دہلی آئے اور تو والد بغل گیر ہو کر ملے، اور استقبال کیا ۔
1237ھ میں والد ماجد کے حکم سے نواب سید کلب علی خاں مرحوم کی بیعت کے لیے رام پور گئے، ایک ماہ قیام کر کے دھلی واپس گئے ۔ 1274ھ میں والد ماجد کے ہمراہ ہجرت کی، حضرت شاہ احمد سعید کے انتقال 1277ھ کے بعد مسند ارشاد پر بیٹھ کر ہدایتِ خلق میں مصروف ہو گئے ۔ انتقال سے پانچ سال پہلے ہر سال حج کرتے تھے ۔ آپ کی بدولت عرب دنیا میں سلسلۂ عالیہ کو فروغ حاصل ہوا ۔ بہت سے ارادت مند پوری دنیا میں تھے ۔ جب عمر شریف پچاس سال ہوئی یعنی سال رحلت تو اس مرتبہ بڑے اہتمام کے ساتھ تشریف لے گئے ۔ رفقاء اہل قافلہ کو سخت تاکید تھی کہ سوائے ذکر و فکر کے اور کوئی کام نہ کریں ۔ اس راہ میں اللہ رسول کے علاوہ کسی کا ذکر خواہ خوبی ہو یا بدی نہ کریں ۔ خلاف ورزی کرنے والے پر جرمانہ مقرر کیا گیا ۔ (تذکرہ کاملین رام پور ص:220) ـ
حج کے موقع پر منیٰ میں 12 ذی الحجہ کو اپنے بیٹے شاہ محمد معصوم سے فرمایا حج کے بعد ہندوستان جانا، معلوم نہیں دو دن بعد کیا ہو، 14 ذی الحجہ سے بخار کے ساتھ دردِ سر شروع ہوا جو رفتہ رفتہ شدت پکڑتا گیا، سکرات موت میں بار بار مسکراتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
16 ذی الحجہ 1287ھ مطابق 7 مارچ 1871ء کو منگل کے دن عصر اور مغرب کے درمیان انتقال ہوا ۔
مزار مبارک:
جنت المعلیٰ مکۃ المکرمہ میں حضرت ام المومنین سیدتنا خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پائیں شریف دفن ہوئے ـ
ہزاروں بندگان خدا کو آپ کی ذات سے فیض پہنچا ۔ عرب ممالک میں بکثرت آپ کے مرید اور خلفاء تھے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ تذکرہ کاملان رام پور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abdul-rasheed-mujaddadi
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا عبد الرشید مجددی ۔ لقب: جامع شریعت و طریقت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا شاہ عبد الرشید مجددی بن حضرت مولانا شاہ احمد سعید مجددی بن مولانا شاہ ابو سعید مجددی رام پوری بن شاہ صفی القدر بن شاہ عزیز القدر بن شاہ عیسیٰ بن خواجہ سیف الدین بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔ (تذکرہ کاملان رام پور ص:219 / تذکرہ علمائے اہل سنت ص:137) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 2 جمادی الاخریٰ 1237ھ مطابق ماہ فروری 1822ء کو لکھنؤ میں ہوئی ۔ (ایضاً)
تحصیلِ علم:
آپ ایک علمی و مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ صغر سنی میں آثار سعادت چہرے سے ہویدا تھے ۔ انتہائی ذہین و فطین تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ دس برس کی عمر پوری نہ ہونے پائی تھی کہ حافظ قرآن ہو گئے ۔ صرف و نحو مولانا حبیب اللہ ملتانی سے، علوم عقلیہ مولانا فیض احمد دہلوی سے، کتب فقہ، تصوف، اور اصول حدیث والد ماجد سے، کتب حدیث مولانا شاہ مخصوص اللہ بن مولانا شاہ رفیع الدین اور مولانا شاہ محمد اسحٰق سے پڑھیں ۔ آپ علیہ الرحمہ علوم ظاہریہ و باطنیہ میں وحید العصر تھے ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت ص:137) ـ
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں آپ کے جد امجد امام العرفاء والفضلاء حضرت شاہ ابو سعید مجددی نے27 رمضان المبارک بعد نماز تراویح آپ کو اور اپنے فرزند اوسط شاہ عبد الغنی کو ایک ساتھ بیعت فرمایا ۔
پھر جب 1256ھ کو حج کے لئے جانے لگے، تو والد گرامی حضرت شاہ احمد سعید مجددی نے بڑی مشکل سے اجازت دی، اور پھر الوداع کے لئے بذاتِ خود شہر کے دروازہ تک رخصت کرنے آئے، اور مجمع عام میں حضرت شاہ غلام دھلوی کا عطیہ ٹوپی، قمیص، اور عمامہ پہنا کر خلافت عطا کی ۔ مکہ مکرمہ میں حضرت عبد اللہ سراج مکی سے سند حدیث حاصل کی ۔ (ایضا:138) ـ
سیرت و خصائص:
فاضل علوم عقلیہ و نقلیہ، ماہر علوم و حقائقِ باطنیہ، عارف اسرار ربانیہ، وارثِ کامل علوم و معارف مجددیہ حضرت علامہ مولانا شاہ عبد الرشید مجددی ـ جد امجد حضرت شاہ ابو سعید آپ سے بہت محبت فرماتے تھے، اور آپ کو اپنے ساتھ سلاتے تھے ۔ جس وقت وہ تہجد کی نماز کے لئے اٹھتے تویہ بھی ساتھ اٹھتے تھے ۔ دس سال کی چھوٹی عمر میں کلام اللہ حفظ کر لیا ۔ صغر سنی میں ہی حلقۂ ذکر و فکر میں شامل ہوتے، علومِ ظاہری کی تکمیل کے بعد والد گرامی نے مجاہدات و ریاضات میں مشغول کر دیا ۔ حج و زیارت سے فارغ ہو کر دہلی آئے اور تو والد بغل گیر ہو کر ملے، اور استقبال کیا ۔
1237ھ میں والد ماجد کے حکم سے نواب سید کلب علی خاں مرحوم کی بیعت کے لیے رام پور گئے، ایک ماہ قیام کر کے دھلی واپس گئے ۔ 1274ھ میں والد ماجد کے ہمراہ ہجرت کی، حضرت شاہ احمد سعید کے انتقال 1277ھ کے بعد مسند ارشاد پر بیٹھ کر ہدایتِ خلق میں مصروف ہو گئے ۔ انتقال سے پانچ سال پہلے ہر سال حج کرتے تھے ۔ آپ کی بدولت عرب دنیا میں سلسلۂ عالیہ کو فروغ حاصل ہوا ۔ بہت سے ارادت مند پوری دنیا میں تھے ۔ جب عمر شریف پچاس سال ہوئی یعنی سال رحلت تو اس مرتبہ بڑے اہتمام کے ساتھ تشریف لے گئے ۔ رفقاء اہل قافلہ کو سخت تاکید تھی کہ سوائے ذکر و فکر کے اور کوئی کام نہ کریں ۔ اس راہ میں اللہ رسول کے علاوہ کسی کا ذکر خواہ خوبی ہو یا بدی نہ کریں ۔ خلاف ورزی کرنے والے پر جرمانہ مقرر کیا گیا ۔ (تذکرہ کاملین رام پور ص:220) ـ
حج کے موقع پر منیٰ میں 12 ذی الحجہ کو اپنے بیٹے شاہ محمد معصوم سے فرمایا حج کے بعد ہندوستان جانا، معلوم نہیں دو دن بعد کیا ہو، 14 ذی الحجہ سے بخار کے ساتھ دردِ سر شروع ہوا جو رفتہ رفتہ شدت پکڑتا گیا، سکرات موت میں بار بار مسکراتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
16 ذی الحجہ 1287ھ مطابق 7 مارچ 1871ء کو منگل کے دن عصر اور مغرب کے درمیان انتقال ہوا ۔
مزار مبارک:
جنت المعلیٰ مکۃ المکرمہ میں حضرت ام المومنین سیدتنا خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پائیں شریف دفن ہوئے ـ
ہزاروں بندگان خدا کو آپ کی ذات سے فیض پہنچا ۔ عرب ممالک میں بکثرت آپ کے مرید اور خلفاء تھے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ تذکرہ کاملان رام پور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abdul-rasheed-mujaddadi
❤1
حضرت سید محمد یوسف بلگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
سید محمد یوسف بن محمد اشرف واسطی بلگرامی: منقولات کے چراغ اور معقولات کی میزان تھے ـ
ولادت:
یک شنبہ کے روز ۲۱ ماہ شوال ۱۱۱۰ھ میں پیدا ہوئے ۔
آپ چونکہ سید آزاد کی خالہ کے بیتے تھے، اس لیے آپ اور آزاد نے بالموافقت تحصیل علوم پر کمر باندھی اور کتب درسیہ اور فنون کو ابتداء سے انتہاء تک سید طفیل محمد اور لغت کو اپنے نانا سید عبد الجلیل اور عروض وقانی کو سید محمد سے حاصل کیا ـ
اور جب سید آزاد حرمین شریفین کو تشریف لے گئے تو آپ نے ہئیت اور ہندسہ کو دہلی کے فضلاء سے اکتساب کیا ـ
بیعت:
اور سید لطف اللہ حسینی واسطی بلگرامی کی بیعت کی ـ
اور شرائع پر استقامت اور وطن میں اقامت اختیار کی ۔
آپ علیہ الرحمہ عربی و فارسی میں شعر بھی عمدہ کہتے تھے ۔ توحید شہودی میں کتاب الفرع الثابت من الاصل الثابت آپ سے یادگار ہے ۔
وصال:
وفات آپ کی پنج شنبہ کے روز دوم ماہ جمادی الاخری ۱۱۷۲ھ میں ہوئی اور اپنے نانا کے پاس دفن کیے گئے ۔ ’’ بے نظیر ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-yousuf-bilgrami
سید محمد یوسف بن محمد اشرف واسطی بلگرامی: منقولات کے چراغ اور معقولات کی میزان تھے ـ
ولادت:
یک شنبہ کے روز ۲۱ ماہ شوال ۱۱۱۰ھ میں پیدا ہوئے ۔
آپ چونکہ سید آزاد کی خالہ کے بیتے تھے، اس لیے آپ اور آزاد نے بالموافقت تحصیل علوم پر کمر باندھی اور کتب درسیہ اور فنون کو ابتداء سے انتہاء تک سید طفیل محمد اور لغت کو اپنے نانا سید عبد الجلیل اور عروض وقانی کو سید محمد سے حاصل کیا ـ
اور جب سید آزاد حرمین شریفین کو تشریف لے گئے تو آپ نے ہئیت اور ہندسہ کو دہلی کے فضلاء سے اکتساب کیا ـ
بیعت:
اور سید لطف اللہ حسینی واسطی بلگرامی کی بیعت کی ـ
اور شرائع پر استقامت اور وطن میں اقامت اختیار کی ۔
آپ علیہ الرحمہ عربی و فارسی میں شعر بھی عمدہ کہتے تھے ۔ توحید شہودی میں کتاب الفرع الثابت من الاصل الثابت آپ سے یادگار ہے ۔
وصال:
وفات آپ کی پنج شنبہ کے روز دوم ماہ جمادی الاخری ۱۱۷۲ھ میں ہوئی اور اپنے نانا کے پاس دفن کیے گئے ۔ ’’ بے نظیر ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-yousuf-bilgrami
❤1