بیہقیِ وقت حضرت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی رحمۃ اللۃ تعالیٰ علیہ
اسم گرامی:
محمدمنظور احمد فیضی۔
اَلقاب:
بیہقیِ وقت، مفتی، مُناظرِ اعظم، شیخ القرآن، شیخ الحدیث وغیرہ۔
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
بیہقیِ وقت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی بن علامہ محمد ظریف فیضی بن علامہ الٰہی بخش قادری بن حاجی پیر بخش رحمھم اللہ تعالٰی تعالٰی۔
آپ ایک علمی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنےوقت کے جیّد عالم اور قبلہ شاہ جمالی کریم کے منظورِ نظر خلیفہ تھے۔ جدِّ امجد علامہ الٰہی بخش قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ عالم و عارف، اور صاحبِ تقویٰ بزرگ تھے۔
تاریخِ ولادت:
پیر کی شب، بوقتِ صبح صادق ،2؍ رمضان المبارک 1358ھ مطابق 16؍ اکتوبر 1939ء کو بستی فیض آباد اوچ شریف، تحصیل احمد پور شرقیہ، ضلع بہاولپور، پاکستان میں آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔
عطائے مصطفیٰ ﷺ:
مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ فیضِ مجسم حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے اولاد کے لیے عرض کیا، تو انہوں نے فرمایا:
’’تم رات ہمارے ہاں گزارو، تمہاری درخواست امام الانبیاء ﷺ کی بارگاہ میں پیش کر دیں گے۔ امید ہے کہ ان شاءاللہ قبول ہو جائے گی۔‘‘
جب صبح ہوئی تو حضرت نے فرمایا:
’’ تمہاری درخواست منظور ہو گئی ہے اور تمہیں منظور احمد عطا ہوگا ۔ ‘‘
تحصیلِ علم:
آغاز بسم اللہ اور سورۂ فاتحہ 6؍ محرم الحرام 1362ھ بروز پیر جامع مسجد سندیلہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خاں میں قبلہ شاہ جمالی کریم نے کرائی اور قرآنِ مجید شروع کرا دیا۔ پھر آپ نے تعلیمِ قرآنِ پاک، فارسی، صرف، نحو، فقہ، اصولِ فقہ، منطق، مشکوٰۃ شریف، جلالین تک کتب اپنے والدِ ماجد سے پڑھیں ۔ جملہ علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل اور علمِ حدیث کے حصول کے لیے غزالیِ زماں علامہ سیّد احمد سعید شاہ کاظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ نے 17؍ شوّال المکرم 1378ھ بمطابق 26؍ اپریل 1959ء کو جامعہ اَنوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل فرمائی ۔ پھر آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فاضلِ عربی کا امتحان پاس کیا ۔ جس سال آپ نے جامعہ انوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل کی اُسی سال جامعہ انوار العلوم کے سالانہ جلسۂ دستارِ فضیلت میں حضور نبی کریم رؤف و رحیم ﷺ جلوہ افروز تھے ۔ اہلِ نظر دیدار سے مستفیض ہوئے۔ الحمد للہ حمداً کثیرا۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں پیکرِ علم و عرفان حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری اور حضور قطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین احمد مدنی ، اور حضور غزالیِ زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی، سلطان العارفین حضرت خواجہ غلام یاسین شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم نے تمام علوم اور تمام سلاسل میں اجازت و خلافت سے نوازا ۔ آپ زیادہ تر سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں لوگوں کو بیعت کیا کرتے تھے۔
سیرتِ وخصائص:
شیخ القرآن، شیخ الحدیثِ والتفسیر، مُناظرِ اعظم، فقیہ العصر، بیہقیِ وقت، جامعِ شریعت وطریقت، حاوی الفروعِ والاصول، عاشقِ رسول، فنافی الرسول، عارف باللہ حضرت علامہ مولانا مفتی منظور احمد فیضی نوّر اللہ تعالٰی مرقدہ۔آپ کا شمار ماضیِ قریب کے جیّد علمائے حق کی صف میں ہوتا تھا ۔ مطالعے میں ایسی وسعت کہ تمام فنون پر گہری نظر تھی ۔ حافظہ ایسا غضب کا تھا کہ ذہن میں کتب کے صفحات کے ساتھ سطریں تک محفوظ تھیں ۔ تمام موضوعات پر مناظرے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا یہ آپ ہی کی ذاتِ گرامی کا حصہ تھا۔پورے پاکستان میں بدمذہبوں کے چیلنج قبول کرنا اور ان کو ہر جگہ ذلّت آمیز شکست دینا یہ آپ ہی کا خاصہ تھا ۔ علمائے اہلِ سنّت آپ کو ’’ مُناظرِ اعظم ‘‘ کے لقب سے ملقب کرتے ہیں ۔ اس فن میں کمال کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ 19؍ جون 2002ء کو آپ نے انٹرنیٹ پر چار مجتہدینِ رَوافض سے دس گھنٹے کامیاب مناظرہ کیا ۔ حضرت بیہقیِ وقت اکیلے اور رَوافض مُناظرین کی تعداد چار تھی ۔ اِس مناظرے میں روافض کو ذلّت آمیز شکست سے دو چار کیا ۔
آپ کی سب سےبڑی خوبی یہ تھی کہ علم کے ساتھ تقویٰ و روحانیت اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی دولت سے مالا مال تھے۔حدیث شریف پڑھاتے ہوئے ہوئےخود بھی عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں تڑپتے اور سامعین کو بھی تڑپاتے تھے ۔ جب اسمِ گرامی لیتے یا کسی کی زبان سے سنتے تو آنکھیں پر نم ہو جایا کرتیں تھیں اور کافی دیر تک ایک وجدانی کیفیت طاری رہتی تھی۔
اسم گرامی:
محمدمنظور احمد فیضی۔
اَلقاب:
بیہقیِ وقت، مفتی، مُناظرِ اعظم، شیخ القرآن، شیخ الحدیث وغیرہ۔
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
بیہقیِ وقت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی بن علامہ محمد ظریف فیضی بن علامہ الٰہی بخش قادری بن حاجی پیر بخش رحمھم اللہ تعالٰی تعالٰی۔
آپ ایک علمی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنےوقت کے جیّد عالم اور قبلہ شاہ جمالی کریم کے منظورِ نظر خلیفہ تھے۔ جدِّ امجد علامہ الٰہی بخش قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ عالم و عارف، اور صاحبِ تقویٰ بزرگ تھے۔
تاریخِ ولادت:
پیر کی شب، بوقتِ صبح صادق ،2؍ رمضان المبارک 1358ھ مطابق 16؍ اکتوبر 1939ء کو بستی فیض آباد اوچ شریف، تحصیل احمد پور شرقیہ، ضلع بہاولپور، پاکستان میں آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔
عطائے مصطفیٰ ﷺ:
مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ فیضِ مجسم حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے اولاد کے لیے عرض کیا، تو انہوں نے فرمایا:
’’تم رات ہمارے ہاں گزارو، تمہاری درخواست امام الانبیاء ﷺ کی بارگاہ میں پیش کر دیں گے۔ امید ہے کہ ان شاءاللہ قبول ہو جائے گی۔‘‘
جب صبح ہوئی تو حضرت نے فرمایا:
’’ تمہاری درخواست منظور ہو گئی ہے اور تمہیں منظور احمد عطا ہوگا ۔ ‘‘
تحصیلِ علم:
آغاز بسم اللہ اور سورۂ فاتحہ 6؍ محرم الحرام 1362ھ بروز پیر جامع مسجد سندیلہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خاں میں قبلہ شاہ جمالی کریم نے کرائی اور قرآنِ مجید شروع کرا دیا۔ پھر آپ نے تعلیمِ قرآنِ پاک، فارسی، صرف، نحو، فقہ، اصولِ فقہ، منطق، مشکوٰۃ شریف، جلالین تک کتب اپنے والدِ ماجد سے پڑھیں ۔ جملہ علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل اور علمِ حدیث کے حصول کے لیے غزالیِ زماں علامہ سیّد احمد سعید شاہ کاظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ نے 17؍ شوّال المکرم 1378ھ بمطابق 26؍ اپریل 1959ء کو جامعہ اَنوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل فرمائی ۔ پھر آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فاضلِ عربی کا امتحان پاس کیا ۔ جس سال آپ نے جامعہ انوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل کی اُسی سال جامعہ انوار العلوم کے سالانہ جلسۂ دستارِ فضیلت میں حضور نبی کریم رؤف و رحیم ﷺ جلوہ افروز تھے ۔ اہلِ نظر دیدار سے مستفیض ہوئے۔ الحمد للہ حمداً کثیرا۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں پیکرِ علم و عرفان حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری اور حضور قطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین احمد مدنی ، اور حضور غزالیِ زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی، سلطان العارفین حضرت خواجہ غلام یاسین شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم نے تمام علوم اور تمام سلاسل میں اجازت و خلافت سے نوازا ۔ آپ زیادہ تر سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں لوگوں کو بیعت کیا کرتے تھے۔
سیرتِ وخصائص:
شیخ القرآن، شیخ الحدیثِ والتفسیر، مُناظرِ اعظم، فقیہ العصر، بیہقیِ وقت، جامعِ شریعت وطریقت، حاوی الفروعِ والاصول، عاشقِ رسول، فنافی الرسول، عارف باللہ حضرت علامہ مولانا مفتی منظور احمد فیضی نوّر اللہ تعالٰی مرقدہ۔آپ کا شمار ماضیِ قریب کے جیّد علمائے حق کی صف میں ہوتا تھا ۔ مطالعے میں ایسی وسعت کہ تمام فنون پر گہری نظر تھی ۔ حافظہ ایسا غضب کا تھا کہ ذہن میں کتب کے صفحات کے ساتھ سطریں تک محفوظ تھیں ۔ تمام موضوعات پر مناظرے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا یہ آپ ہی کی ذاتِ گرامی کا حصہ تھا۔پورے پاکستان میں بدمذہبوں کے چیلنج قبول کرنا اور ان کو ہر جگہ ذلّت آمیز شکست دینا یہ آپ ہی کا خاصہ تھا ۔ علمائے اہلِ سنّت آپ کو ’’ مُناظرِ اعظم ‘‘ کے لقب سے ملقب کرتے ہیں ۔ اس فن میں کمال کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ 19؍ جون 2002ء کو آپ نے انٹرنیٹ پر چار مجتہدینِ رَوافض سے دس گھنٹے کامیاب مناظرہ کیا ۔ حضرت بیہقیِ وقت اکیلے اور رَوافض مُناظرین کی تعداد چار تھی ۔ اِس مناظرے میں روافض کو ذلّت آمیز شکست سے دو چار کیا ۔
آپ کی سب سےبڑی خوبی یہ تھی کہ علم کے ساتھ تقویٰ و روحانیت اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی دولت سے مالا مال تھے۔حدیث شریف پڑھاتے ہوئے ہوئےخود بھی عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں تڑپتے اور سامعین کو بھی تڑپاتے تھے ۔ جب اسمِ گرامی لیتے یا کسی کی زبان سے سنتے تو آنکھیں پر نم ہو جایا کرتیں تھیں اور کافی دیر تک ایک وجدانی کیفیت طاری رہتی تھی۔
❤1👍1
جب نام نہاد ملّاؤں نے غیروں کے اشاروں پر عزّت و عظمتِ مصطفیٰ ﷺ پر رکیک حملے شروع کیے، تو فیضی صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ان کے جواب میں ’’ مقامِ رسول ﷺ ‘‘ تالیف کرکے دنیائے سنیت پر احسانِ عظیم فرمایا۔ اس کتاب کا ایک ایک لفظ عظمتِ مصطفیٰ ﷺ اور مقامِ مصطفیٰ ﷺ کی گواہی دے رہا ہے۔ اس کتاب کو بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں شرفِ قبولیت حاصل ہے۔ ایک وہابی نے عدالت میں اس کتاب کو چیلنج کیا تو اللہ جل شانہ نے اُس مولوی کو عدالت میں ہی جوتے لگوائے ۔
حضرت بیہقیِ وقت اعلیٰ روحانی مقام پر فائز تھے۔ علم و عمل، زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت میں بے مثال تھے ۔ خدمتِ دین کی بدولت کئی مرتبہ زیارتِ مصطفیٰ ﷺ سے شرف یاب ہوئے ۔
ایک مرتبہ صاحبِ کشف بزرگ عالمِ دین حضرت مولانا عارف صاحب احمدپوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نےفرمایا:
’’علامہ فیضی صاحب! آج حضرت خضر علیہ السلام نے نمازِ جمعہ آپ کے پیچھے ادا کیا ہے، اور آئندہ جمعہ بھی آپ کو شرف بخشیں گے۔‘‘
واقعی ایساہوا، اگلےجمعۃ المبارک کےدن بہت سےحضرات نے حضرت خضرعلیہ السلام سےمصافحہ کیا۔یہ آپ کوشرف بخشنے،اورآپ کی عظمت ظاہرکرنےکےلیے تشریف لائےتھےجیساکہ بہت سےاولیائے کرام کی مجالس میں شریک ہوتے ہیں۔
آپ اپنے اعلیٰ علمی و روحانی مقام ومرتبہ کی وجہ سے نہ صر ف پاک وہند بلکہ پوری دنیا میں علمائے اہلِ سنّت اور مشائخِ اہلِ سنّت کے منظور ِنظر تھے۔اپنے وقت کے عظیم محدث و مفسر اور عظیم مناظر وخطیب ِ لاجواب تھے۔خطیب ایسےکہ جب تک بیان جاری رہتامجمع پرسکون و سکوت کی کیفیت طاری رہتی۔انداز ایسا دل نشیں کہ بات سامعین کےدل میں اترجاتی تھی۔ میں نےایسےافراددیکھےہیں جوعلامہ فیضی صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے بیانات کی برکت سےباعمل ہوگئے، بلکہ ایک بہترین مناظربھی بن گئے۔ کوئی بھی بدمذہب ان کےسامناکرنےسےکتراتاتھا۔
حضرت فیضی صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نےساری زندگی درس وتدریس، تصنیف وتالیف اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کے فروغ کے لیے گزار دی۔ جب مسند ِعلم پر جلوہ افروز ہوتے اور اپنے ہر قول پر رسولِ اکرم ﷺکے فرامین بیان کرتےتو امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی یاد تازہ ہوجاتی ،اور جب مُناظرے میں گستاخانِ مصطفیٰ ﷺ اور گستاخانِ صحابہ واہلِ بیت،واولیاء کو پچھاڑتےتو ایسا معلوم ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ کا شیر میدان میں آیا ہے اور مدِّ مقابل کو راہِ فرار کے علاوہ کوئی اور راستہ نظر نہ آتا۔ آپ ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ انتہائی منکسرالمزاج اور بااخلاق شخصیت کے حامل تھے۔ وعظ ونصیحت، مُناظرہ، مَحافلِ میلادکےلیے کبھی کسی سے معاوضےکےطلب گارنہ ہوئے۔ہرکام اللہ جل شانہ اوراس کےحبیبﷺکی رضاکےلیےہوتاتھا۔
آپ کی سیرت آج کے علما کےلیے مشعل راہ ہے۔
تاریخِ وصال:
قبلہ بیہقیِ وقت (66 سال، 8 ماہ 11 دن کی عمر میں) یکم جمادی الاخریٰ 1427ھ، مطابق27؍جون2006ء،بروز منگل، شب ِبدھ 8:45 پر عین اذانِ عشا کے وقت اپنے خالق ِحقیقی سے جا ملے۔
ماخذ:
’’ بیہقیِ وقت علامہ مفتی ابو الحسن محمد منظور احمد فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ‘‘، از: مفتی محمد اکرام المحسن فیضی، شائع کردۂ انجمن ضیائے طیبہ، کراچی، جون 2007ء۔
https://scholars.pk/ur/scholar/manzoor-ahmad-faizi-allama-mufti-muhammad
حضرت بیہقیِ وقت اعلیٰ روحانی مقام پر فائز تھے۔ علم و عمل، زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت میں بے مثال تھے ۔ خدمتِ دین کی بدولت کئی مرتبہ زیارتِ مصطفیٰ ﷺ سے شرف یاب ہوئے ۔
ایک مرتبہ صاحبِ کشف بزرگ عالمِ دین حضرت مولانا عارف صاحب احمدپوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نےفرمایا:
’’علامہ فیضی صاحب! آج حضرت خضر علیہ السلام نے نمازِ جمعہ آپ کے پیچھے ادا کیا ہے، اور آئندہ جمعہ بھی آپ کو شرف بخشیں گے۔‘‘
واقعی ایساہوا، اگلےجمعۃ المبارک کےدن بہت سےحضرات نے حضرت خضرعلیہ السلام سےمصافحہ کیا۔یہ آپ کوشرف بخشنے،اورآپ کی عظمت ظاہرکرنےکےلیے تشریف لائےتھےجیساکہ بہت سےاولیائے کرام کی مجالس میں شریک ہوتے ہیں۔
آپ اپنے اعلیٰ علمی و روحانی مقام ومرتبہ کی وجہ سے نہ صر ف پاک وہند بلکہ پوری دنیا میں علمائے اہلِ سنّت اور مشائخِ اہلِ سنّت کے منظور ِنظر تھے۔اپنے وقت کے عظیم محدث و مفسر اور عظیم مناظر وخطیب ِ لاجواب تھے۔خطیب ایسےکہ جب تک بیان جاری رہتامجمع پرسکون و سکوت کی کیفیت طاری رہتی۔انداز ایسا دل نشیں کہ بات سامعین کےدل میں اترجاتی تھی۔ میں نےایسےافراددیکھےہیں جوعلامہ فیضی صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے بیانات کی برکت سےباعمل ہوگئے، بلکہ ایک بہترین مناظربھی بن گئے۔ کوئی بھی بدمذہب ان کےسامناکرنےسےکتراتاتھا۔
حضرت فیضی صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نےساری زندگی درس وتدریس، تصنیف وتالیف اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کے فروغ کے لیے گزار دی۔ جب مسند ِعلم پر جلوہ افروز ہوتے اور اپنے ہر قول پر رسولِ اکرم ﷺکے فرامین بیان کرتےتو امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی یاد تازہ ہوجاتی ،اور جب مُناظرے میں گستاخانِ مصطفیٰ ﷺ اور گستاخانِ صحابہ واہلِ بیت،واولیاء کو پچھاڑتےتو ایسا معلوم ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ کا شیر میدان میں آیا ہے اور مدِّ مقابل کو راہِ فرار کے علاوہ کوئی اور راستہ نظر نہ آتا۔ آپ ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ انتہائی منکسرالمزاج اور بااخلاق شخصیت کے حامل تھے۔ وعظ ونصیحت، مُناظرہ، مَحافلِ میلادکےلیے کبھی کسی سے معاوضےکےطلب گارنہ ہوئے۔ہرکام اللہ جل شانہ اوراس کےحبیبﷺکی رضاکےلیےہوتاتھا۔
آپ کی سیرت آج کے علما کےلیے مشعل راہ ہے۔
تاریخِ وصال:
قبلہ بیہقیِ وقت (66 سال، 8 ماہ 11 دن کی عمر میں) یکم جمادی الاخریٰ 1427ھ، مطابق27؍جون2006ء،بروز منگل، شب ِبدھ 8:45 پر عین اذانِ عشا کے وقت اپنے خالق ِحقیقی سے جا ملے۔
ماخذ:
’’ بیہقیِ وقت علامہ مفتی ابو الحسن محمد منظور احمد فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ‘‘، از: مفتی محمد اکرام المحسن فیضی، شائع کردۂ انجمن ضیائے طیبہ، کراچی، جون 2007ء۔
https://scholars.pk/ur/scholar/manzoor-ahmad-faizi-allama-mufti-muhammad
scholars.pk
Mufti Manzoor Ahmed Faizi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Manzoor Ahmad Faizi, Allama Mufti Muhammad
❤1
سلطان العارفین حضرت سلطان باہو سروری قادری رحمۃ اللہ علیہ
نام و لقب:
آپ کا نام " باہو " اور لقب " سلطان العارفین " اور " حق باہو " ہے ۔ آپ فرماتےہیں! ؎ نام باہومادرِ باہو نہاد،زانکہ باہو دائمی باہونہاد۔یعنی باھو کی ماں نے نام باھو رکھا کیونکہ باھو ہمیشہھوکے ساتھ رہا ۔
تاریخِ ولادت:
سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ یکم جمادی الثانی 1039ھ (17 جنوری 1630ء) بروز جمعرات بوقتِ فجر قصبہ شورکوٹ ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کی والدہ کی نگرانی میں ہوئی ۔ سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ نے کسی قسم کا کتابی اور ظاہری علم حاصل نہیں کیا ۔ آپ اپنی تصنیف " عین الفقر " میں فرماتے ہیں ! " محمد مصطفٰی عربی ﷺ و مرا علمِ ظاہر ہیچ نہ بود ۔ از علم حضور است و ظاہر و باطن علم چندیں واردات فتوحاتِ کشادہ است کہ دفتر ہا باید " ۔
یعنی حضرت محمد ﷺ اور مجھے علمِ ظاہر کسی نے نہیں سکھایا کیونکہ ہمیں علمِ حضوری عطا کیا گیا ہے جس کی واردات و فتوحات سے ظاہر و باطن میں اتنا وسیع علم منکشف ہوا ہے کہ جس کے اظہار کے لیے بے شمار دفاتر (کتب) کی ضرورت ہے ۔ اُمی ہونے کے باوجود آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تصانیف کی تعداد (۱۴۰) اور ۳۹ کتب کی فہرست تذکروں میں موجود ہے ۔
بیعت و خلافت:
آپ فرماتے ہیں میری باطنی بیعت سرور عالم ﷺ اور مولائے کائنات شیر ِخدا رضی اللہ عنہ سے ہے۔ پھرحضور ﷺ نےغوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے سپرد فرمایا ۔ والدہ کے حکم پر شاہ حبیب اللہ قادری رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئےاور شاہ صاحب نے آپکی طلب اور جذبہ کو دیکھکر مزید فیض کیلئے اپنے پیر و مرشد شیخ عبد الرحمٰن قادری دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں بھیج دیا ۔ آپ نے آنِ واحد میں باطنی توجہ فرما کر نعمتِ عظمیٰ سے مالا مال کر دیا ۔
سیرت و تعلیمات:
حضرت سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ ساری زندگی سنتِ نبوی اور شریعت محمدی ﷺ پر اس طرح کاربند رہے کہ ساری زندگی آپ سے ایک مستحب بھی فوت نہیں ہوا ۔ آپ عین الفقر میں فرماتے ہیں!ہر مراتب ازشریعت یافتم ۔ پیشوائے خود شریعت ساختم ۔ یعنی میں نے شریعت پر عمل پیرا ہو کر ہر مرتبہ حاصل کیا ہے اور اپنا پیشوا اور راہبر شریعت کو بنایا ہے ۔
شاہراہ شریعت پر چل کر میں عرش و کرسی سے بالا مقامات پر جا پہنچا اور اﷲ تعالیٰ کے سرِّ وحدت کے ہر مقام کو میں نے اچھی طرح دیکھا ۔ فقر (ولایت) کی ابتدا بھی شریعت اور انتہا بھی شریعت ہے ۔ اور تارکِ شریعت فقر (ولایت) کی خوشبو تک بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ (عین الفقر) ـ
وصال:
یکم جمادی الثانی 1102ھ (بمطابق یکم مارچ1691ء) بروز جمعرات، بوقتِ عصر تریسٹھ سال کی عمر میں وصال فرمایا ۔آپ کا مزار شریف شور کوٹ ضلع جھنگ میں مرجعِ عام وخاص ہے ۔
؎ نام فقیر تنہاں دا باھوُ
قبر جنھاں دی جیوے ہو ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sakhi-sultan-bahoo-jhang
نام و لقب:
آپ کا نام " باہو " اور لقب " سلطان العارفین " اور " حق باہو " ہے ۔ آپ فرماتےہیں! ؎ نام باہومادرِ باہو نہاد،زانکہ باہو دائمی باہونہاد۔یعنی باھو کی ماں نے نام باھو رکھا کیونکہ باھو ہمیشہھوکے ساتھ رہا ۔
تاریخِ ولادت:
سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ یکم جمادی الثانی 1039ھ (17 جنوری 1630ء) بروز جمعرات بوقتِ فجر قصبہ شورکوٹ ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کی والدہ کی نگرانی میں ہوئی ۔ سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ نے کسی قسم کا کتابی اور ظاہری علم حاصل نہیں کیا ۔ آپ اپنی تصنیف " عین الفقر " میں فرماتے ہیں ! " محمد مصطفٰی عربی ﷺ و مرا علمِ ظاہر ہیچ نہ بود ۔ از علم حضور است و ظاہر و باطن علم چندیں واردات فتوحاتِ کشادہ است کہ دفتر ہا باید " ۔
یعنی حضرت محمد ﷺ اور مجھے علمِ ظاہر کسی نے نہیں سکھایا کیونکہ ہمیں علمِ حضوری عطا کیا گیا ہے جس کی واردات و فتوحات سے ظاہر و باطن میں اتنا وسیع علم منکشف ہوا ہے کہ جس کے اظہار کے لیے بے شمار دفاتر (کتب) کی ضرورت ہے ۔ اُمی ہونے کے باوجود آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تصانیف کی تعداد (۱۴۰) اور ۳۹ کتب کی فہرست تذکروں میں موجود ہے ۔
بیعت و خلافت:
آپ فرماتے ہیں میری باطنی بیعت سرور عالم ﷺ اور مولائے کائنات شیر ِخدا رضی اللہ عنہ سے ہے۔ پھرحضور ﷺ نےغوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے سپرد فرمایا ۔ والدہ کے حکم پر شاہ حبیب اللہ قادری رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئےاور شاہ صاحب نے آپکی طلب اور جذبہ کو دیکھکر مزید فیض کیلئے اپنے پیر و مرشد شیخ عبد الرحمٰن قادری دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں بھیج دیا ۔ آپ نے آنِ واحد میں باطنی توجہ فرما کر نعمتِ عظمیٰ سے مالا مال کر دیا ۔
سیرت و تعلیمات:
حضرت سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ ساری زندگی سنتِ نبوی اور شریعت محمدی ﷺ پر اس طرح کاربند رہے کہ ساری زندگی آپ سے ایک مستحب بھی فوت نہیں ہوا ۔ آپ عین الفقر میں فرماتے ہیں!ہر مراتب ازشریعت یافتم ۔ پیشوائے خود شریعت ساختم ۔ یعنی میں نے شریعت پر عمل پیرا ہو کر ہر مرتبہ حاصل کیا ہے اور اپنا پیشوا اور راہبر شریعت کو بنایا ہے ۔
شاہراہ شریعت پر چل کر میں عرش و کرسی سے بالا مقامات پر جا پہنچا اور اﷲ تعالیٰ کے سرِّ وحدت کے ہر مقام کو میں نے اچھی طرح دیکھا ۔ فقر (ولایت) کی ابتدا بھی شریعت اور انتہا بھی شریعت ہے ۔ اور تارکِ شریعت فقر (ولایت) کی خوشبو تک بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ (عین الفقر) ـ
وصال:
یکم جمادی الثانی 1102ھ (بمطابق یکم مارچ1691ء) بروز جمعرات، بوقتِ عصر تریسٹھ سال کی عمر میں وصال فرمایا ۔آپ کا مزار شریف شور کوٹ ضلع جھنگ میں مرجعِ عام وخاص ہے ۔
؎ نام فقیر تنہاں دا باھوُ
قبر جنھاں دی جیوے ہو ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sakhi-sultan-bahoo-jhang
scholars.pk
Hazrat Sakhi Sultan Bahoo Jhang
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
استاذ العلماء جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت حضرت علامہ مولانا شاہ عبد العزیز محدث مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
نام عبد العزیز اور لقب حافظِ ملت ہے آپ کے دادا مولانا عبد الرحیم نے دہلی کے مشہور محدث شاہ عبد العزیز کی نسبت سے آپ کا نام عبد العزیز رکھا تاکہ میرا یہ بچہ بھی عالم دین بنے ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
عبد العزیز بن حافظ غلام نور بن مولانا عبد الرحیم (رحمہم اللہ تعالیٰ)
تاریخِ ولادت:
آپ ۱۳۱۲ھ بمطابق ۱۸۹۴ء قَصْبہ بھوج پور ( ضلع مراد آباد ، یوپی ہند ) بروز پیر صبح کے وقت پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد حضرت حافظ محمد غلام نوراور مولانا عبد المجید بھوجپورى سے حاصل کی ۔ کچھ عرصہ حکیم محمد شریف حیدر آبادی صاحب سے علمِ طب پڑھا ۔ اس کے علاوہ جامعہ نعیمیہ (مراد آباد) میں حضرت مولانا عبد العزیز خان فتح پورى، حضرت مولانا اجمل شاہ سنبھلى، حضرت مولانا وَصى احمد سہسرامى اور جامعہ مُعىنىہ عثمانی ( اجمیر شریف) میں حضرت مولانا مفتی امتىاز احمد، حضرت مولانا حافظ سَىِّد حامد حسىن اجمىرى اورصدرُالشرىعہ مفتی امجد على اعظمی جیسے جلیلُ القدر اساتذہ سےاکتسابِ علم کیا بالخصوص صدرُ الشریعہ کی نگاہِ فیض سے آسمانِ علم کے درخشاں ستارےبن کر چمکے ۔
سیرت و تعلیمات:
حضور حافظِ ملت ایک عظیم مفسر ومحدث ، بہترین مدرس ، مصنف، مناظر اور منتظمِ اعلیٰ تھے آپکا سب سے عظیم کارنامہ الجامعۃُ الاشرفیہ مبارک پور (ضلع اعظم گڑھ یوپی ہند) کا قیام ہےجہاں سے فارغُ التحصیل عُلماء ہند کی سرزمین سے لیکر پوری دنیا میں دینِ اسلام کی سربلندی اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کی ترویج و اشاعت میں مصروف ِ عمل ہیں ۔آپ وقت کے اِنتہائی پابند اور قدردان تھے ہر کام اپنے وقت پرکیا کرتے تھے ۔
آپ ایک شفیق اور مہربان باپ کی طرح طلبہ کی ضروریات اورتعلیم و تربىت کے ساتھ ساتھ ان کی شخصىت کو بھی نکھارا کرتے تھے ۔
چنانچہ رئىسُ القلم حضرت علامہ ارشدُالقادرى فرماتے ہیں!استاد شاگرد کا تعلق عام طور پر حلقۂ درس تک محدود ہوتا ہے ۔لىکن اپنے تلامذہ کے ساتھ حافظِ ملت کے تعلُّقات کا دائرہ اتنا وسىع ہے کہ پورى درسگاہ اس کے اىک گوشے مىں سماجائے، ىہ انہى کے قلب و نظر کى بے اِنْتہا وُسعت اور انہى کے جگر کابے پاىا حوصلہ تھا کہ اپنے حلقہ درس مىں داخل ہونے والے طالب علم کى بےشمار ذِمہ دارىاں وہ اپنے سَر لىتے تھے، طالبِ علم درس گاہ مىں بىٹھے تو کتاب پڑھائىں، باہر رہے تو اخلاق و کردا رکى نگرانى کرىں، مجلسِ خاص مىں شرىک ہو تو اىک عالمِ دىن کے محاسن و اوصاف سے روشناس فرمائىں،بىمار پڑے تو اس کا علاج کرىں، تنگدستى کا شکار ہوجائے تو مالى کفالت فرمائىں، پڑھ کر فارغ ہو تو ملازمت دلوائىں ، طالبِ علم کى نجى زندگى ، شادى بىاہ، دُکھ سُکھ سے لے کر خاندان تک کے مسائل حل کرنے میں توجہ فرمائیں، طالب علم زىرِ درس رہے ىا فارغ ہو کر چلا جائے اىک باپ کى طرح ہر حال مىں سرپرست اور کفىل ، ىہى ہے وہ جوہرِ مُنفرد جس نے حافظِ ملت کو اپنے اَقْران و مُعاصرىن کے درمیان ایک معمارِ زندگى کى حىثىت سے ممتاز اور نمایاں کر دیا ہے ۔
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اَعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں! میری زندگی میں دوہی باذوق پڑھنے والے ملے ایک مولوی سردار احمد (یعنی محدّثِ اعظم پاکستان) اور دوسرے حافظ عبد العزیز (یعنی حافظِ ملت مولانا شاہ عبد العزیز)(علیہم الرحمہ رحمۃً وّاسعۃ) ـ
وصال:
یکم جمادی الثانی ۱۳۹۶ھ بمطابق ۳۱ مئی ۱۹۷۶ء رات گیارہ بج کر پچپن منٹ پر وصال ہوا ۔
مزار مبارک:
آپ کی آخری آرام گاہ الجامعۃ الاشرفیہ مُبارک پور کے صحن میں " قدیم دارُ الاِقامۃ " کے مغربی میں واقع ہے ۔
جس نے پیدا کیے کتنے لعل و گہر
حافظِ دین و ملت پہ لاکھوں سلام
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-alhaj-hafiz-abdul-aziz-mubarakpuri
نام و نسب:
نام عبد العزیز اور لقب حافظِ ملت ہے آپ کے دادا مولانا عبد الرحیم نے دہلی کے مشہور محدث شاہ عبد العزیز کی نسبت سے آپ کا نام عبد العزیز رکھا تاکہ میرا یہ بچہ بھی عالم دین بنے ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
عبد العزیز بن حافظ غلام نور بن مولانا عبد الرحیم (رحمہم اللہ تعالیٰ)
تاریخِ ولادت:
آپ ۱۳۱۲ھ بمطابق ۱۸۹۴ء قَصْبہ بھوج پور ( ضلع مراد آباد ، یوپی ہند ) بروز پیر صبح کے وقت پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد حضرت حافظ محمد غلام نوراور مولانا عبد المجید بھوجپورى سے حاصل کی ۔ کچھ عرصہ حکیم محمد شریف حیدر آبادی صاحب سے علمِ طب پڑھا ۔ اس کے علاوہ جامعہ نعیمیہ (مراد آباد) میں حضرت مولانا عبد العزیز خان فتح پورى، حضرت مولانا اجمل شاہ سنبھلى، حضرت مولانا وَصى احمد سہسرامى اور جامعہ مُعىنىہ عثمانی ( اجمیر شریف) میں حضرت مولانا مفتی امتىاز احمد، حضرت مولانا حافظ سَىِّد حامد حسىن اجمىرى اورصدرُالشرىعہ مفتی امجد على اعظمی جیسے جلیلُ القدر اساتذہ سےاکتسابِ علم کیا بالخصوص صدرُ الشریعہ کی نگاہِ فیض سے آسمانِ علم کے درخشاں ستارےبن کر چمکے ۔
سیرت و تعلیمات:
حضور حافظِ ملت ایک عظیم مفسر ومحدث ، بہترین مدرس ، مصنف، مناظر اور منتظمِ اعلیٰ تھے آپکا سب سے عظیم کارنامہ الجامعۃُ الاشرفیہ مبارک پور (ضلع اعظم گڑھ یوپی ہند) کا قیام ہےجہاں سے فارغُ التحصیل عُلماء ہند کی سرزمین سے لیکر پوری دنیا میں دینِ اسلام کی سربلندی اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کی ترویج و اشاعت میں مصروف ِ عمل ہیں ۔آپ وقت کے اِنتہائی پابند اور قدردان تھے ہر کام اپنے وقت پرکیا کرتے تھے ۔
آپ ایک شفیق اور مہربان باپ کی طرح طلبہ کی ضروریات اورتعلیم و تربىت کے ساتھ ساتھ ان کی شخصىت کو بھی نکھارا کرتے تھے ۔
چنانچہ رئىسُ القلم حضرت علامہ ارشدُالقادرى فرماتے ہیں!استاد شاگرد کا تعلق عام طور پر حلقۂ درس تک محدود ہوتا ہے ۔لىکن اپنے تلامذہ کے ساتھ حافظِ ملت کے تعلُّقات کا دائرہ اتنا وسىع ہے کہ پورى درسگاہ اس کے اىک گوشے مىں سماجائے، ىہ انہى کے قلب و نظر کى بے اِنْتہا وُسعت اور انہى کے جگر کابے پاىا حوصلہ تھا کہ اپنے حلقہ درس مىں داخل ہونے والے طالب علم کى بےشمار ذِمہ دارىاں وہ اپنے سَر لىتے تھے، طالبِ علم درس گاہ مىں بىٹھے تو کتاب پڑھائىں، باہر رہے تو اخلاق و کردا رکى نگرانى کرىں، مجلسِ خاص مىں شرىک ہو تو اىک عالمِ دىن کے محاسن و اوصاف سے روشناس فرمائىں،بىمار پڑے تو اس کا علاج کرىں، تنگدستى کا شکار ہوجائے تو مالى کفالت فرمائىں، پڑھ کر فارغ ہو تو ملازمت دلوائىں ، طالبِ علم کى نجى زندگى ، شادى بىاہ، دُکھ سُکھ سے لے کر خاندان تک کے مسائل حل کرنے میں توجہ فرمائیں، طالب علم زىرِ درس رہے ىا فارغ ہو کر چلا جائے اىک باپ کى طرح ہر حال مىں سرپرست اور کفىل ، ىہى ہے وہ جوہرِ مُنفرد جس نے حافظِ ملت کو اپنے اَقْران و مُعاصرىن کے درمیان ایک معمارِ زندگى کى حىثىت سے ممتاز اور نمایاں کر دیا ہے ۔
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اَعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں! میری زندگی میں دوہی باذوق پڑھنے والے ملے ایک مولوی سردار احمد (یعنی محدّثِ اعظم پاکستان) اور دوسرے حافظ عبد العزیز (یعنی حافظِ ملت مولانا شاہ عبد العزیز)(علیہم الرحمہ رحمۃً وّاسعۃ) ـ
وصال:
یکم جمادی الثانی ۱۳۹۶ھ بمطابق ۳۱ مئی ۱۹۷۶ء رات گیارہ بج کر پچپن منٹ پر وصال ہوا ۔
مزار مبارک:
آپ کی آخری آرام گاہ الجامعۃ الاشرفیہ مُبارک پور کے صحن میں " قدیم دارُ الاِقامۃ " کے مغربی میں واقع ہے ۔
جس نے پیدا کیے کتنے لعل و گہر
حافظِ دین و ملت پہ لاکھوں سلام
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-alhaj-hafiz-abdul-aziz-mubarakpuri
scholars.pk
Hazrat Molana Alhaj Hafiz Abdul Aziz Mubarakpuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
استاذ العلماء جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت حضرت علامہ مولانا شاہ عبد العزیز محدث مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ نام و نسب: نام عبد العزیز اور لقب حافظِ ملت ہے آپ کے دادا مولانا عبد الرحیم نے دہلی کے مشہور محدث شاہ عبد العزیز کی نسبت سے آپ کا نام عبد العزیز رکھا…
https://t.me/islaamic_Knowledge/42491
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شان و عظمت حضور حافظ ملت ↶
سوانح حیات حافظ ملت علیہالرحمہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15920
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شان و عظمت حضور حافظ ملت ↶
سوانح حیات حافظ ملت علیہالرحمہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15920
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-05-1445 ᴴ | 14-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-06-1445 ᴴ | 15-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1