صاحبزادہ حضرت علامہ سید وجاہت رسول قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
[ ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کراچی ]
ولادت باسعادت:
آل نبی ، اولاد علی ، گل گلشن ِجیلانی حضرت سید وجاہت رسول قادری رضوی ۲۷ جمادی االاولیٰ ۱۳۵۸ھ / بمطابق ۱۶ جولائی ۱۹۳۹ء کو بنارس میں پیدا ہوئے ۔
خاندانی حالات:
خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا سید ہدایت رسول قادری جو کہ بے مثال مناظر ، محقق، مصنف، واعظ اور شاعر تھے، آپ کے جدِ امجد ہیں ۔ جب کہ آپ کے والدِ ماجد مولانا سید وزارت رسول حامدی، جانشینِ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا شاہ محمد حامد رضا خاں بریلوی کے مرید، شاگرد اور خلیفہ ہونے کا شرف رکھتے تھے ۔
تعلیم و تربیت:
قرآن مجید ناظرہ اور اردو کی ابتدائی تعلیم والدہ ماجدہ سے گھر میں ہی حاصل کی ۔ والدہ ماجدہ بھی شعری ذوق کی حامل اور حضور حجۃ الاسلام سے شرف بیعت رکھتی تھیں ۔
کچھ عرصہ دار العلوم حمدیہ رضویہ میں زیر تعلیم رہے ۔ پھر والدِ ماجد جب بسلسلہ ملازمت راج شاہی، مشترقی پاکستان چلے گئے تو آپ بھی ان کے ساتھ تھے، میٹرک وہیں پر کیا ۔ بی ، اے آنرز اکنامکس گورنمنٹ کالج ڈھاکہ سے کیا ۔
۱۹۶۳ء میں راج شاہی یونیورسٹی سے ایم ، اے معاشیات کیا ۔ ۱۹۶۴ء میں کراچی تشریف لے آئے ۔ علم دین سے محبت کی یہ لائقِ تقلید مثال دیکھئے کہ ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد فیض یافتۂ محدث اعظم پاکستان مولانا محمد نصر اللہ خاں افغانی علیہ الرحمہ سے عربی ، صرف و نحو ، قدوری اور بخاری شریف کا درس لیا ۔
علم وعمل میں جس کی وجاہت عظیم تر غم دے گئی ہے رحلتِ تاجِ فحول آہ
ازدواجی زندگی:
۷ اگست ۱۹۷۰ء کو آپ کا نکاح ہوا ، جب کہ نکاح خواں علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ تھے ۔
اولاد:
آپ کے دو بیٹے سید محمد سطوت رسول قادری اور سید محمد صولت رسول قادری ہیں ۔
تصنیف و تالیف:
آپ کی تصنیفات دو درجن کے لگ بھگ ہیں، جن میں سے چند نمایاں تصانیف کے نام یہ ہیں:
تصنیفات:
❶ اصلاحِ معاشرہ سیرتِ رسول کی روشنی میں ❷ رحمت عالم ﷺ امن واخوت کے عظیم داعی ❸ امام احمد رضا اور تحفظِ ختم نبوت ❹ کنز الایمان کی عرب دنیا میں پذیرائی ❺ اسوۂ حسنہ کے چراغ ❻ اہل تصوف کا تصورِ جہاد ❼ سفر نامہ قاہرہ ❽ سفر نامہ بنگلہ دیش ❾ فروغِ صبح تاباں ❿ ماہنامہ ’’ معارف ِ رضا ‘‘ کے اداریئے (دوجلد) ۔ وغیرہ .....
وصال:
پیر سید وجاہت رسول قادری رضوی ۳۰ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۱ ھ بمطابق ۲۶ جنوری ۲۰۲۰ء بروز اتوار عین بارہ بجے دوپہر دنیائے فانی سے رحلت فرما گئے ۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ [سورۃ البقرہ، آیت 156] ـ ترجمۂ کنز الایمان: ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ـ ترجمۂ کنز العرفان: ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/allama-syed-wajahat-rasool-qadri
[ ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کراچی ]
ولادت باسعادت:
آل نبی ، اولاد علی ، گل گلشن ِجیلانی حضرت سید وجاہت رسول قادری رضوی ۲۷ جمادی االاولیٰ ۱۳۵۸ھ / بمطابق ۱۶ جولائی ۱۹۳۹ء کو بنارس میں پیدا ہوئے ۔
خاندانی حالات:
خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا سید ہدایت رسول قادری جو کہ بے مثال مناظر ، محقق، مصنف، واعظ اور شاعر تھے، آپ کے جدِ امجد ہیں ۔ جب کہ آپ کے والدِ ماجد مولانا سید وزارت رسول حامدی، جانشینِ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا شاہ محمد حامد رضا خاں بریلوی کے مرید، شاگرد اور خلیفہ ہونے کا شرف رکھتے تھے ۔
تعلیم و تربیت:
قرآن مجید ناظرہ اور اردو کی ابتدائی تعلیم والدہ ماجدہ سے گھر میں ہی حاصل کی ۔ والدہ ماجدہ بھی شعری ذوق کی حامل اور حضور حجۃ الاسلام سے شرف بیعت رکھتی تھیں ۔
کچھ عرصہ دار العلوم حمدیہ رضویہ میں زیر تعلیم رہے ۔ پھر والدِ ماجد جب بسلسلہ ملازمت راج شاہی، مشترقی پاکستان چلے گئے تو آپ بھی ان کے ساتھ تھے، میٹرک وہیں پر کیا ۔ بی ، اے آنرز اکنامکس گورنمنٹ کالج ڈھاکہ سے کیا ۔
۱۹۶۳ء میں راج شاہی یونیورسٹی سے ایم ، اے معاشیات کیا ۔ ۱۹۶۴ء میں کراچی تشریف لے آئے ۔ علم دین سے محبت کی یہ لائقِ تقلید مثال دیکھئے کہ ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد فیض یافتۂ محدث اعظم پاکستان مولانا محمد نصر اللہ خاں افغانی علیہ الرحمہ سے عربی ، صرف و نحو ، قدوری اور بخاری شریف کا درس لیا ۔
علم وعمل میں جس کی وجاہت عظیم تر غم دے گئی ہے رحلتِ تاجِ فحول آہ
ازدواجی زندگی:
۷ اگست ۱۹۷۰ء کو آپ کا نکاح ہوا ، جب کہ نکاح خواں علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ تھے ۔
اولاد:
آپ کے دو بیٹے سید محمد سطوت رسول قادری اور سید محمد صولت رسول قادری ہیں ۔
تصنیف و تالیف:
آپ کی تصنیفات دو درجن کے لگ بھگ ہیں، جن میں سے چند نمایاں تصانیف کے نام یہ ہیں:
تصنیفات:
❶ اصلاحِ معاشرہ سیرتِ رسول کی روشنی میں ❷ رحمت عالم ﷺ امن واخوت کے عظیم داعی ❸ امام احمد رضا اور تحفظِ ختم نبوت ❹ کنز الایمان کی عرب دنیا میں پذیرائی ❺ اسوۂ حسنہ کے چراغ ❻ اہل تصوف کا تصورِ جہاد ❼ سفر نامہ قاہرہ ❽ سفر نامہ بنگلہ دیش ❾ فروغِ صبح تاباں ❿ ماہنامہ ’’ معارف ِ رضا ‘‘ کے اداریئے (دوجلد) ۔ وغیرہ .....
وصال:
پیر سید وجاہت رسول قادری رضوی ۳۰ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۱ ھ بمطابق ۲۶ جنوری ۲۰۲۰ء بروز اتوار عین بارہ بجے دوپہر دنیائے فانی سے رحلت فرما گئے ۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ [سورۃ البقرہ، آیت 156] ـ ترجمۂ کنز الایمان: ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ـ ترجمۂ کنز العرفان: ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/allama-syed-wajahat-rasool-qadri
scholars.pk
Allama Syed Wajahat Rasool Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
جمادی الاخریٰ مِیںۡ وِصَالۡ ( اِنتِقالۡ )
فرمانے وَالے چند مُنتَخبۡ بُزرگانِ دِینۡ
Join @islaamic_Knowledge
🗓️ ماہ جمادی الاخرٰی کے ایام 🗓️
یوم وصال | یوم وفات | یوم اعراس
Muhammad_Jamaluddin_Khan
فرمانے وَالے چند مُنتَخبۡ بُزرگانِ دِینۡ
Join @islaamic_Knowledge
🗓️ ماہ جمادی الاخرٰی کے ایام 🗓️
یوم وصال | یوم وفات | یوم اعراس
Muhammad_Jamaluddin_Khan
❤1
حضرت خواجہ ابو احمد ابدال چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ حسینی سادات عظام میں سے تھے اور حضرت خواجہ ابواسحاق شامی قدس سرہ کے خلیفہ اکبر تھے۔ ریاضت اور مجاہدہ میں بے مثال خوارق و کرامات میں لاثانی تھے، آپ کا لقب قدوۃ الدین تھا، ظاہری و باطنی حسن و جمال کے پیکر تھے۔ آپ کا منور چہرہ دور سے روشن نظر آتا، جس شخص کی نگاہ آپ کے چہرہ پر پڑتی دل و جاں سے محبت کرنے لگتا تھا، آپ کی جبیں نور افشاں سے نور الٰہی کی کرنیں پھوٹتی تھیں۔ رات کو گھر میں روشنی کے بغیر تشریف لاتے تو سارا گھر روشن ہوجاتا تھا آپ اندھیرے میں بیٹھتے تو قرآن پاک کے حروف اعراب سمیت نمایاں نظر آتے تذکرہ العاشقین اور سیر الاقطاب کے مصنفین نے لکھا ہے کہ خواجہ ابو احمد بادشاہ فرغانہ کے بیٹے تھے جو چشت کے شرفاء اور سادات حسینی سے تعلق رکھتے تھے، آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت حسن مثنیٰ سے ملتا ہے۔ ابو احمد بن سلطان فرغانہ سید ابراہیم بن سید یحییٰ بن سید حسن بن سید مجد المعالی المشہور بہ ابو المعالیبن سیدنا صرالدین بن سید عبداللہ بن سید امام حسن مثنیٰ بن امیر المومنین امام المتقین امام حسن بن علی المرتضیٰ اسد اللہ الغالب علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ۔
سلطان فرغانہ کی ایک بہن تھی، جو ولیہ عفیفہ اور صالحہ خاتون تھی، حضرت ابواسحاق شامی بسا اوقات ان کے گھر جاتے، اور کھانا بھی کھاتے ایک دن آپ نے انہیں فرمایا کہ تمہارے بھائی کو اللہ تعالیٰ ایک بیٹا دے گا اور اس کی تم پرورش کرنا، اس کے پیٹ میں مشکوک خوراک نہ جانے دینا۔ سلطان کی ہمشیرہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ ان کی بھابھی حاملہ ہے تو اس کی خوراک کی نگرانی کرنے لگی، آخر بتاریخ ششم ماہ رمضان ۲۶۰ھ کو یہ بچہ خلیفہ معتصم باللہ کے دور حکومت میں پیدا ہوا۔ جب آپ کی عمر سات سال ہوئی تو حضرت ابواسحاق کی مجلس میں حاضر ہوئے۔ ظاہری باطنی تعلیم لی اور حضرت خواجہ سے مستفیض ہوتے رہے، سولہ سال کی عمر میں ظاہری علوم سے فارغ ہوئے تو حضرت نے بیعت فرمالیا۔ اور خلوت کدہ میں ریاضت میں لگا دیا، بڑے مجاہدے کیے چنانچہ سات روز بعد کھانا کھاتے، وضو کرتے اور تین لقموں سے زیادہ نہ کھاتے۔ چالیس دنوں بعد حاجت انسانی کے لیے باہر جاتے۔
ایک دن خواجہ ابو احمد چشتی اپنے والد گرامی کے ہمراہ پہاڑوں پر شکار کھیلنے چلے گئے اتفاقاً والد اور ان کے ساتھیوں سے جدا ہوگئے اور پہاڑوں میں راستہ بھول گئے۔ رجال الغیب سے چالیس افراد ایک چٹان پر کھڑے تھے اور خواجہ ابو اسحاق شامی بھی انہی کے درمیان کھڑے تھے۔ حضرت خواجہ کو پہچان کر گھوڑے سے اُتر آئے۔ قدم بوسی کی اسلحہ اور گھوڑا تن سے علیحدہ کیے اور خواجہ کی رکاب پکڑ کر پیدل چلنے لگے، آپ کے باپ نے اور ان کے لشکر نے پہاڑوں میں آپ کو بڑا تلاش کیا، مگر نوجوان ابواحمد کا کہیں پتہ نہ چلا، چند دنوں بعد خبر ملی کہ ابو احمد فلاں موضع میں حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی قدس سرہ کی خدمت میں موجود ہے۔ بادشاہ نے چند آدمیوں کو بھیجا کہ انہیں لے آئیں، مگر ان کی ساری پند و نصیحت کے باوجود ابو احمد نے حضرت شامی کی مجلس سے جانا پسند نہ کیا آٹھ سال تک محنت شاقہ سے گزرے خرقہ خلافت حاصل کیا، تیس سال تک کبھی بستر پر آرام نہیں کیا۔
حضرت خواجہ ابو احمد جس پر ایک بار نگاہ ڈالتے وہ صاحب کرامت بن جاتا اگر مریض کو ایک بار دیکھ لیتے تو شفایاب ہوجاتا۔ سماع کے وقت آپ کی جبیں سے خصوصی نور ظاہر ہوتا۔ جس کی شعاعیں آسمانوں کو چھوتیں، حضرت ابو احمد کی کرامات کی شہرت مشرق و مغرب میں پھیلی، تو علماء عصر کو آپ سے حسد ہونے لگا، آپ کے سماع کی مجالس کے خلاف فتوی بازی ہونے لگی، ایک محضرنامہ تیار کیا گیا، اور امیر نصیر جو حاکم عادل بھی تھا، اور آپ کا حقیقی ماموں بھی آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا، حضرت خواجہ کی مجلس سماع کی برائیاں بیان کی گئیں، امیر نے ملک بھر کے علماء کی ایک مجلس بلائی جس میں کئی ہزار علماء جمع ہوئے، خواجہ ابو احمد کو بھی اس مجلس میں پیش کیا گیا، حضرت خواجہ یہ خبر سن کر خرقہ خلافت پہنے گھوڑے پر سوار ہوکر امیر کے دربار میں پہنچے آپ کے ساتھ ایک خادم محمد خدا بندہ نامی تھا۔ جسے سورۃ فاتحہ اور سورۂ اخلاص کے علاوہ قرآن سے کچھ یاد نہیں تھا، امیر نصیر کی بارگاہ میں پہنچے، آپ کی تشریف آوری سے پہلے تمام علماء اور حاسدین کا یہ ارادہ تھا کہ جب خواجہ ابو احمد آئیں تو کوئی شخص نہ استقبال کے لیے جائے اور نہ احترام میں اٹھے مگرایسا ہوا کہ جب خواجہ مجلس کے پاس آئے تو تمام علماء تعظیم کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ بعض نے آگے بڑھ کر استقبال بھی کیا مجلس میں لاکر ایک بلند مسند پر بٹھایا گیا، اور مسئلہ سماع پر گفتگو شروع کردی، جب علماء کرام اپنا نکتہ نظر بیان کرچکے اور اپنے اپنے اعتراضات کی تفصیل سنا چکے تو حضرت خواجہ ابو احمد نے اپنے خادم محمد بند ہ کو اشارہ فرمایا کہ ان علماء کرام کے اعتراضات کا جواب دو، خادم ان پڑھ تھا، مگر اسے یوں محسوس ہوا جیسے آج وہ سب سے زیادہ عالم اور فاضل ہے،
آپ حسینی سادات عظام میں سے تھے اور حضرت خواجہ ابواسحاق شامی قدس سرہ کے خلیفہ اکبر تھے۔ ریاضت اور مجاہدہ میں بے مثال خوارق و کرامات میں لاثانی تھے، آپ کا لقب قدوۃ الدین تھا، ظاہری و باطنی حسن و جمال کے پیکر تھے۔ آپ کا منور چہرہ دور سے روشن نظر آتا، جس شخص کی نگاہ آپ کے چہرہ پر پڑتی دل و جاں سے محبت کرنے لگتا تھا، آپ کی جبیں نور افشاں سے نور الٰہی کی کرنیں پھوٹتی تھیں۔ رات کو گھر میں روشنی کے بغیر تشریف لاتے تو سارا گھر روشن ہوجاتا تھا آپ اندھیرے میں بیٹھتے تو قرآن پاک کے حروف اعراب سمیت نمایاں نظر آتے تذکرہ العاشقین اور سیر الاقطاب کے مصنفین نے لکھا ہے کہ خواجہ ابو احمد بادشاہ فرغانہ کے بیٹے تھے جو چشت کے شرفاء اور سادات حسینی سے تعلق رکھتے تھے، آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت حسن مثنیٰ سے ملتا ہے۔ ابو احمد بن سلطان فرغانہ سید ابراہیم بن سید یحییٰ بن سید حسن بن سید مجد المعالی المشہور بہ ابو المعالیبن سیدنا صرالدین بن سید عبداللہ بن سید امام حسن مثنیٰ بن امیر المومنین امام المتقین امام حسن بن علی المرتضیٰ اسد اللہ الغالب علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ۔
سلطان فرغانہ کی ایک بہن تھی، جو ولیہ عفیفہ اور صالحہ خاتون تھی، حضرت ابواسحاق شامی بسا اوقات ان کے گھر جاتے، اور کھانا بھی کھاتے ایک دن آپ نے انہیں فرمایا کہ تمہارے بھائی کو اللہ تعالیٰ ایک بیٹا دے گا اور اس کی تم پرورش کرنا، اس کے پیٹ میں مشکوک خوراک نہ جانے دینا۔ سلطان کی ہمشیرہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ ان کی بھابھی حاملہ ہے تو اس کی خوراک کی نگرانی کرنے لگی، آخر بتاریخ ششم ماہ رمضان ۲۶۰ھ کو یہ بچہ خلیفہ معتصم باللہ کے دور حکومت میں پیدا ہوا۔ جب آپ کی عمر سات سال ہوئی تو حضرت ابواسحاق کی مجلس میں حاضر ہوئے۔ ظاہری باطنی تعلیم لی اور حضرت خواجہ سے مستفیض ہوتے رہے، سولہ سال کی عمر میں ظاہری علوم سے فارغ ہوئے تو حضرت نے بیعت فرمالیا۔ اور خلوت کدہ میں ریاضت میں لگا دیا، بڑے مجاہدے کیے چنانچہ سات روز بعد کھانا کھاتے، وضو کرتے اور تین لقموں سے زیادہ نہ کھاتے۔ چالیس دنوں بعد حاجت انسانی کے لیے باہر جاتے۔
ایک دن خواجہ ابو احمد چشتی اپنے والد گرامی کے ہمراہ پہاڑوں پر شکار کھیلنے چلے گئے اتفاقاً والد اور ان کے ساتھیوں سے جدا ہوگئے اور پہاڑوں میں راستہ بھول گئے۔ رجال الغیب سے چالیس افراد ایک چٹان پر کھڑے تھے اور خواجہ ابو اسحاق شامی بھی انہی کے درمیان کھڑے تھے۔ حضرت خواجہ کو پہچان کر گھوڑے سے اُتر آئے۔ قدم بوسی کی اسلحہ اور گھوڑا تن سے علیحدہ کیے اور خواجہ کی رکاب پکڑ کر پیدل چلنے لگے، آپ کے باپ نے اور ان کے لشکر نے پہاڑوں میں آپ کو بڑا تلاش کیا، مگر نوجوان ابواحمد کا کہیں پتہ نہ چلا، چند دنوں بعد خبر ملی کہ ابو احمد فلاں موضع میں حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی قدس سرہ کی خدمت میں موجود ہے۔ بادشاہ نے چند آدمیوں کو بھیجا کہ انہیں لے آئیں، مگر ان کی ساری پند و نصیحت کے باوجود ابو احمد نے حضرت شامی کی مجلس سے جانا پسند نہ کیا آٹھ سال تک محنت شاقہ سے گزرے خرقہ خلافت حاصل کیا، تیس سال تک کبھی بستر پر آرام نہیں کیا۔
حضرت خواجہ ابو احمد جس پر ایک بار نگاہ ڈالتے وہ صاحب کرامت بن جاتا اگر مریض کو ایک بار دیکھ لیتے تو شفایاب ہوجاتا۔ سماع کے وقت آپ کی جبیں سے خصوصی نور ظاہر ہوتا۔ جس کی شعاعیں آسمانوں کو چھوتیں، حضرت ابو احمد کی کرامات کی شہرت مشرق و مغرب میں پھیلی، تو علماء عصر کو آپ سے حسد ہونے لگا، آپ کے سماع کی مجالس کے خلاف فتوی بازی ہونے لگی، ایک محضرنامہ تیار کیا گیا، اور امیر نصیر جو حاکم عادل بھی تھا، اور آپ کا حقیقی ماموں بھی آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا، حضرت خواجہ کی مجلس سماع کی برائیاں بیان کی گئیں، امیر نے ملک بھر کے علماء کی ایک مجلس بلائی جس میں کئی ہزار علماء جمع ہوئے، خواجہ ابو احمد کو بھی اس مجلس میں پیش کیا گیا، حضرت خواجہ یہ خبر سن کر خرقہ خلافت پہنے گھوڑے پر سوار ہوکر امیر کے دربار میں پہنچے آپ کے ساتھ ایک خادم محمد خدا بندہ نامی تھا۔ جسے سورۃ فاتحہ اور سورۂ اخلاص کے علاوہ قرآن سے کچھ یاد نہیں تھا، امیر نصیر کی بارگاہ میں پہنچے، آپ کی تشریف آوری سے پہلے تمام علماء اور حاسدین کا یہ ارادہ تھا کہ جب خواجہ ابو احمد آئیں تو کوئی شخص نہ استقبال کے لیے جائے اور نہ احترام میں اٹھے مگرایسا ہوا کہ جب خواجہ مجلس کے پاس آئے تو تمام علماء تعظیم کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ بعض نے آگے بڑھ کر استقبال بھی کیا مجلس میں لاکر ایک بلند مسند پر بٹھایا گیا، اور مسئلہ سماع پر گفتگو شروع کردی، جب علماء کرام اپنا نکتہ نظر بیان کرچکے اور اپنے اپنے اعتراضات کی تفصیل سنا چکے تو حضرت خواجہ ابو احمد نے اپنے خادم محمد بند ہ کو اشارہ فرمایا کہ ان علماء کرام کے اعتراضات کا جواب دو، خادم ان پڑھ تھا، مگر اسے یوں محسوس ہوا جیسے آج وہ سب سے زیادہ عالم اور فاضل ہے،
❤1
اس نے علماء کے ایک ایک اعتراض کا جواب قرآن و احادیث سے دینا شروع کیا۔ بزرگان سلف کے طریقہ کو بھی بیان کرنے لگا تمام علماء اس کے جوباات سن کر دنگ رہ گئے بعض تو شرمندگی سے سر جھکائے بیٹھے رہے۔
ہر آں کہتر کہ بامہتر ستیزد
چناں انتد کہ ہرگز بر نخیزد
حضرت خواجہ ابو احمد کے والد ایک شراب خانہ کے مالک تھے۔ اس میں کئی سال پرانی شراب کا ذخیرہ جمع رہتا تھا۔ حضرت خواجہ بچپن میں ایک دن شراب خانے میں چلے گئے اندر سے دروازہ بند کرلیا اور تمام شراب کے مٹکے توڑ ڈالے بادشاہ نے چھت پر چڑھ کر بچے کی ا س حرکت کو دیکھا تو نہایت غصہ میں چلایا اور ایک پتھر لے کر دے مارا۔ اگرچہ پتھر خواجہ ابواحمد تک پہنچا، مگر قریب جاکر ہوا میں معلو ہو گیا، سلطان دیکھ کر حیران رہ گیا۔ شراب خانے میں آیا اور اپنے بیٹے کو اٹھا کر اللہ سے شراب نوشی سے توبہ کی، یہ واقع ۲۸۰ھ ہجری میں رونما ہوا تھا۔
حضرت خواجہ ابوا حمد ایک سفر میں ایسے ملک میں جا پہنچے جہاں کوئی بھی مسلمان نہیں تھا۔ اور ہر طرف کافر ہی کافر تھے یہ ایسے سخت کافر تھے کہ انہیں کوئی مسلمان نظر آتا تو اسے پکڑ کر آگ میں پھینک دیتے، انہوں نے خواجہ ابو احمد کو دیکھا پہچان لیا کہ یہ مسلمان ہے، بڑی سختی کرنے لگے، خواجہ کو جلانے کے لیے ایک جگہ آگ جلائی گئی اور خواجہ کو اس میں پھینکنے کے لیے تدبیریں کرنے لگے، حضرت خواجہ نے انہیں کہا، تم لوگ مجھے آگ میں پھینکنے کی تکلیف نہ کریں میں خود ہی آگ میں کود پڑتا ہوں، آپ نے مصلی کندھے پر رکھا، اور آگ کے شعلوں میں کود پڑے، آگ سرد ہوگئی، آپ نے انگاروں پر مصلی بچھا دیا، اور دو رکعت نماز شکرانہ ادا کی، ان دشمننانِ اسلام نے آپ کی کرامت دیکھی تو کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئے اور دل و جان سے آپ کے ہاتھ پر بیعت ہوگئے، جو شہر کفرآباد تھا، آپ کی برکت سے اسلام آباد بن گیا۔
حضرت ابواحمد ابدال رحمۃ اللہ علیہ ششم ماہ رمضان ۲۶۰ھ میں پیدا ہوئے۔ یکم ماہ جمادی الثانی ۳۵۵ھ کو فوت ہوئے۔
ہادی حق سید محبوب گو
۳۶۰ھ
سال تولیدش بقول اصفیاء
وصل او نور الٰہی احمد سست
۳۵۵ھ
نیز بو احمد فرید آمد بجا
۳۵۵ھ
عمدۃ الا برار قدوۃ الاخیار اولیاء کے بادشاہ اصفیا کے سلطان اتقیا کے برہان خواجہ ابو احمد چشتی قدس سرہ ہیں جو ملک مکاشفات کے ممالک کے حکمران اور مشاہدات کے دار السلطنت کے بادشاہ تھے آپ نے خرقہ ارادت خواجہ ابو اسحاق چشتی قدس اللہ سرہ سے حاصل کیا اور دوست کے بھیدوں میں سے کوئی بھید کبھی ظاہر نہیں کیا تھا آپ نے عالم ذوق و شوق میں حکومت و سلطنت کی ذرا پروانہ کی اور وارثان تاج و تخت کی طرف کبھی التفات نہیں کیا ۔ (سیر الاولیاء)
آں لسان غیب وترجمان اسرار، آں سروفتر زمرۂ مشائخ کبار، سیمرغ گوہ قان قربت، عفتائے بلند پرواز ازو حدت، معرض از حورو قصور بہشتی امام ابدال حضرت خواجہ ابو احمد ابدال چشتی قدس سرہٗ تمام کمالات ظاہری وباطنی سے مزین تھے فنائے احدیت میں گم اور اسرار توحیدو ولایت کے سر پوش تھے (یعنی ظاہر نہیں کرتے تھے)
نسب، ارادت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ ابو اسحاق چشتی قدس سرہٗ کے مرید وخلیفہ تے سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ آپ کا لقب قدوۃ الدین تھا۔ آپ سلطان فرستانہ کے فرزند تھے۔ جو شرفائ چشت وامراء ولایت میں سے تھے۔ آپ صحیح النسب سادات حسنی تھے۔ اور حضرت امام حسن مثنیٰ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے تھے۔ اس ترتیب سے کہ حضرت خواجہ ابو احمد ابن سلطان فرستانہ ابن سید یحییٰ بن سید احمد بن سید مجید المعالی بن سید ناصر الدین، بنس ید نور اللہ بن سید حسن مثنیٰ بن امیر المومنین و امام المتقین اسد اللہ الغالب حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ۔
نفحات الانس میں مرقوم ہے کہ سلطان فرستانہ کی ایک بہت تھیں۔ جو نہایت ہی صالحہ تھیں حضرت ابو اسحاق چشتی ان کے گھر آیا کرتے تھ ے اور کھانا کھایا کرتے تھے۔ ایک دن آپ نے اس بی بی سے کہا کہ تمہارے بھائی کے گھر ایک فرزند پیدا ہوگا جو بہت ہی بلند مرتبہ ہوگا۔ ایام جمل میں اس کی والدہ کی نگاہداشت کرنا تاکہ کوئی لقمہ حرام ان کے منہ میں نہ جائے۔ اس ضعیفہ صالحہ نے آپ کے ارشاد کی تعمیل کی۔ ح تیٰ کہ اپنے ہاتھ سے سوت بناکر فروخت کرتی تھیں اور بھائی کے حرم کے لیے حلال کا کھانا مہیا کرتی تھیں جب خواجہ ابو احمد چشتی پیدا ہوئے تو اسی صالحہ نے اپنے گھر میں سے جاکر ان کی پرورش کی کبھی کبھی حضرت خواجہ ابو اسحاق انکے گھر آیا کرتے تھے اور بچے کو دیکھتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ اس بچے سے ایک بزرگ خاندان ظاہر ہوگا۔ ایام طفلی میں احوال عجیبیہ اور آثار غربیہ نمایاں ہوتے تھے سات سال کی عمر میں آپ حضرت خواجہ ابو اسحاق کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت حضرت شیخ سماع سن رہے تھے جب بچے پر نظر پڑی تو پاس بلالیا۔ کہ آپ سات سال کی عمر میں ایسے اسرار ورموز بیان فرماتے تھے کہ علمائے وقت حیران رہ جاتے تھے آپ تیرہ سال کی عمر میں مرید ہوئے اور خلوت اختیار کرلی اور ذکر و شغل، ریاضت ومجاہدہ میں اس قدر مشغول ہ
ہر آں کہتر کہ بامہتر ستیزد
چناں انتد کہ ہرگز بر نخیزد
حضرت خواجہ ابو احمد کے والد ایک شراب خانہ کے مالک تھے۔ اس میں کئی سال پرانی شراب کا ذخیرہ جمع رہتا تھا۔ حضرت خواجہ بچپن میں ایک دن شراب خانے میں چلے گئے اندر سے دروازہ بند کرلیا اور تمام شراب کے مٹکے توڑ ڈالے بادشاہ نے چھت پر چڑھ کر بچے کی ا س حرکت کو دیکھا تو نہایت غصہ میں چلایا اور ایک پتھر لے کر دے مارا۔ اگرچہ پتھر خواجہ ابواحمد تک پہنچا، مگر قریب جاکر ہوا میں معلو ہو گیا، سلطان دیکھ کر حیران رہ گیا۔ شراب خانے میں آیا اور اپنے بیٹے کو اٹھا کر اللہ سے شراب نوشی سے توبہ کی، یہ واقع ۲۸۰ھ ہجری میں رونما ہوا تھا۔
حضرت خواجہ ابوا حمد ایک سفر میں ایسے ملک میں جا پہنچے جہاں کوئی بھی مسلمان نہیں تھا۔ اور ہر طرف کافر ہی کافر تھے یہ ایسے سخت کافر تھے کہ انہیں کوئی مسلمان نظر آتا تو اسے پکڑ کر آگ میں پھینک دیتے، انہوں نے خواجہ ابو احمد کو دیکھا پہچان لیا کہ یہ مسلمان ہے، بڑی سختی کرنے لگے، خواجہ کو جلانے کے لیے ایک جگہ آگ جلائی گئی اور خواجہ کو اس میں پھینکنے کے لیے تدبیریں کرنے لگے، حضرت خواجہ نے انہیں کہا، تم لوگ مجھے آگ میں پھینکنے کی تکلیف نہ کریں میں خود ہی آگ میں کود پڑتا ہوں، آپ نے مصلی کندھے پر رکھا، اور آگ کے شعلوں میں کود پڑے، آگ سرد ہوگئی، آپ نے انگاروں پر مصلی بچھا دیا، اور دو رکعت نماز شکرانہ ادا کی، ان دشمننانِ اسلام نے آپ کی کرامت دیکھی تو کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئے اور دل و جان سے آپ کے ہاتھ پر بیعت ہوگئے، جو شہر کفرآباد تھا، آپ کی برکت سے اسلام آباد بن گیا۔
حضرت ابواحمد ابدال رحمۃ اللہ علیہ ششم ماہ رمضان ۲۶۰ھ میں پیدا ہوئے۔ یکم ماہ جمادی الثانی ۳۵۵ھ کو فوت ہوئے۔
ہادی حق سید محبوب گو
۳۶۰ھ
سال تولیدش بقول اصفیاء
وصل او نور الٰہی احمد سست
۳۵۵ھ
نیز بو احمد فرید آمد بجا
۳۵۵ھ
عمدۃ الا برار قدوۃ الاخیار اولیاء کے بادشاہ اصفیا کے سلطان اتقیا کے برہان خواجہ ابو احمد چشتی قدس سرہ ہیں جو ملک مکاشفات کے ممالک کے حکمران اور مشاہدات کے دار السلطنت کے بادشاہ تھے آپ نے خرقہ ارادت خواجہ ابو اسحاق چشتی قدس اللہ سرہ سے حاصل کیا اور دوست کے بھیدوں میں سے کوئی بھید کبھی ظاہر نہیں کیا تھا آپ نے عالم ذوق و شوق میں حکومت و سلطنت کی ذرا پروانہ کی اور وارثان تاج و تخت کی طرف کبھی التفات نہیں کیا ۔ (سیر الاولیاء)
آں لسان غیب وترجمان اسرار، آں سروفتر زمرۂ مشائخ کبار، سیمرغ گوہ قان قربت، عفتائے بلند پرواز ازو حدت، معرض از حورو قصور بہشتی امام ابدال حضرت خواجہ ابو احمد ابدال چشتی قدس سرہٗ تمام کمالات ظاہری وباطنی سے مزین تھے فنائے احدیت میں گم اور اسرار توحیدو ولایت کے سر پوش تھے (یعنی ظاہر نہیں کرتے تھے)
نسب، ارادت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ ابو اسحاق چشتی قدس سرہٗ کے مرید وخلیفہ تے سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ آپ کا لقب قدوۃ الدین تھا۔ آپ سلطان فرستانہ کے فرزند تھے۔ جو شرفائ چشت وامراء ولایت میں سے تھے۔ آپ صحیح النسب سادات حسنی تھے۔ اور حضرت امام حسن مثنیٰ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے تھے۔ اس ترتیب سے کہ حضرت خواجہ ابو احمد ابن سلطان فرستانہ ابن سید یحییٰ بن سید احمد بن سید مجید المعالی بن سید ناصر الدین، بنس ید نور اللہ بن سید حسن مثنیٰ بن امیر المومنین و امام المتقین اسد اللہ الغالب حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ۔
نفحات الانس میں مرقوم ہے کہ سلطان فرستانہ کی ایک بہت تھیں۔ جو نہایت ہی صالحہ تھیں حضرت ابو اسحاق چشتی ان کے گھر آیا کرتے تھ ے اور کھانا کھایا کرتے تھے۔ ایک دن آپ نے اس بی بی سے کہا کہ تمہارے بھائی کے گھر ایک فرزند پیدا ہوگا جو بہت ہی بلند مرتبہ ہوگا۔ ایام جمل میں اس کی والدہ کی نگاہداشت کرنا تاکہ کوئی لقمہ حرام ان کے منہ میں نہ جائے۔ اس ضعیفہ صالحہ نے آپ کے ارشاد کی تعمیل کی۔ ح تیٰ کہ اپنے ہاتھ سے سوت بناکر فروخت کرتی تھیں اور بھائی کے حرم کے لیے حلال کا کھانا مہیا کرتی تھیں جب خواجہ ابو احمد چشتی پیدا ہوئے تو اسی صالحہ نے اپنے گھر میں سے جاکر ان کی پرورش کی کبھی کبھی حضرت خواجہ ابو اسحاق انکے گھر آیا کرتے تھے اور بچے کو دیکھتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ اس بچے سے ایک بزرگ خاندان ظاہر ہوگا۔ ایام طفلی میں احوال عجیبیہ اور آثار غربیہ نمایاں ہوتے تھے سات سال کی عمر میں آپ حضرت خواجہ ابو اسحاق کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت حضرت شیخ سماع سن رہے تھے جب بچے پر نظر پڑی تو پاس بلالیا۔ کہ آپ سات سال کی عمر میں ایسے اسرار ورموز بیان فرماتے تھے کہ علمائے وقت حیران رہ جاتے تھے آپ تیرہ سال کی عمر میں مرید ہوئے اور خلوت اختیار کرلی اور ذکر و شغل، ریاضت ومجاہدہ میں اس قدر مشغول ہ
❤1
وئےکہ سات دن کے بعد آپ افطار کرتے تھے اور مشائخ چشت رضوان اللہ تعالیٰ علیم ا جمعین کی سنت کے مطابق تین لقموں سے زیادہ تناول نہیں فرماتے تھے اسی طرح پانی بھی بہت کم پیتے تھے۔ چالیس دن کے بعد آپ قضائے حاجت کرتے تھے۔جو شخص آپ کے رخ انور پر نظر کرتا تا۔ دہشت زدہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے کہ آپ جبیں مبرک اس قدر منور تھا کہ بغیر چراغ کے اندھریے کمرے میں بیٹھ کر تلاوت کلام پاک کرتے اور اعراب تک دیکھ سکتے تھے لیکن اصح (سب سے زیادہ صحیح) روایت یہ ہے کہ آپ نے بیس سال کی عمر میں ترک اختیار کیا اور حقیقت کو پہنچے۔ نفحات الانس میں لکھا ہے کہ جب آپ کی عمر بیس سال ک ی ہوئی تو ایک دن اپنے والد سلطان فرستافہ کے ساتھ پہاڑ کی جانب شکار کو گئے۔ شکار کے دوران آپ اپنے والد سے علیحدہ ہوگئے اور پہاڑو کے درمیان ایک میدان تھا جہاں آپ کیا دیکھتے ایک پہاڑی پر چالیس مردان غیب کھڑے ہیں اور حضرت ابو اسحاق چشتی قدس سرہٗ ان کے درمیان میں ہیں۔ یہ دیکھ کر آپ پر ایک حالت طاری ہو گئی اور گھوڑے سے اتر کر حضرت خواجہ ابو اسحاق کے قدموں میں گر گئے۔ گھوڑا اور اسلحہ اور تمام مشاغل و مرادات ترک کر کے اونی خرقہ پہن لیا اور رجال الغیب کے ساتھ چلے گئے۔ والد اور ان کے خدام نے جس قدر تلاش کیا کچھ پتہ نہ چلا۔ چند یوم کے بعد خبر ملی کہ آپ حضرت خواجہ ابو اسحق کے ساتھ اس پہاڑ میں فلاں پر موجود ہیں۔ والد نے چند آدمیوں کو بھیجا کہ ان کو گھر لے آئیں۔ انہوں نے بہت پندو نصیحت کی لیکن ناکام رہے۔
آپ کے ہاتھ پر والد کا تائب ہونا
جب سالک کو توحید میں فنا حاصل ہوجاتی ہے تو ہر گز نہیں ج اتی اس وجہ سے کہ فنا کا دور ہونا مقام دوئی میں ہوتا ہے اور یہاں دوئی کا نام و نشان نہیں تھا۔
چوں قطرہ غرق دری شد چہ باشد
وجود قطرہ جزدریا نباشد
(جب قطرہ دریا میں غرق ہوگیا تو پھر یہ ہوتا ہے کہ وجود قطرہ نہیں رہتا دریا بن جاتا ہے)
کہتے ہیں کہ آپ کی تربیت کے بعد حضرت خواجہ ابو اسحاق چشتی قدس سرہٗ ملک روم کی جانب چلے گئے اس کے بعد آپ چشت میں مسند خلافت پر بیٹے اور ایک جہاں آپ سے فیضیاب ہو اور بلند مقاصد کو پہنچا۔ مراۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ ابو احمد ابدال چشتی سر حلقہ مشائخ اہل چشت ہیں اور بالاتفاق قطب ابدال تھےاور ساری دنیا پر آپ کا تسلب تھا۔ لطائف اشرفی میں لکھا ہے کہ حضرت ابو احمد ابدال سے لے کر آج تک ہمارے مشائخ چشت ابدال ہوئے ہیں اور ان سے کرامات وخوارق عالی ظاہر ہوئے ہیں۔ یہ فقیر راقم الحروف کہتا ہے کہ، لطائف اشرفی کی اس عبادت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت خواجہ ابو احمد ابدال چشتی قدس سرہٗ کے زمانے سے جتنے مشائخ چشتیہ ہو گذرے ہیں چونکہ ولایت محمدیہ کی جامعیت ان کو ورچہ میں ملی تھی اس لیے عصرحاضر تک ولایت کے جمعی مراتب ومناسب مثل قطبیت، فردیت، بدولیت تھی کیونکہ یہ اظہار کرامات وخوارق کا موجب ہے لیکن باقی مشائخ چشت جو اس نسبت سے مستشنیٰ ہیں ان میں سے بعض پر نسبت فرویت غالب تھی، بعض پر نسبت قطبیت اور بعض پر نسبت محبوبیت غالب تھی۔
سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ ابو احمد چشتی قدس سرہٗ تیس سال تک نہ سوئے اور تیس سال باوضو رہے اور کبھی پانی سیر ہوکر نہ پیا آپ ہر شب بعد نماز تہجد دعا کرتے تھے کہ الٰہی امت محمدیہﷺ کے گناہگاروں کو بخش دے۔ غیب سے آواز آتی کہ اے ابو احمد! ہم نے تمہاری دعا قبول کی ہے اور امت محمدیہ کے دس ہزار گنہگاروں کو تیری بدولت ہم نے بخش دیا اور بہشت میں جگہ دی۔
سماع میں انہماک
آپ سماع میں بہت غلو فرماتے تھے اور ہر وقت سماع میں مشغول رہتے تھے حالت سماع جس شخص پر آپ کی نظر پڑتی صاحب کرامت ہوجاتا تھا اور جو کافر آپ کی خدمت میں آتا تھا مسلمان ہوجاتا تھا ہر مریض جس پر آپ کی نگاہ پڑی تھی اسی وقت تندرست ہوجاتاتھا۔ حالت سماع میں نور ساطع آپ کی جبیں مبارک سے اس قدر ظاہر ہوتا تھا کہ اس کی روشنی آسمان تک پہنچ جاتی تھی۔ چنانچہ شہر کے اکثر لوگ اپنے گھروں م یں آپ کے نور جبیں کا مشاہدہ کرتے تو حاضر خدمت ہوجاتے تھے اور سمجھ جاتے تھے کہ آج حضرت اقدس سماع سن رہے ہیں۔ پس ہر طرف سے لوگ دوڑ دوڑ کر آتے تھے اور مجلس میں شریک ہوتے۔
علماء کا مناظرہ اور پھر مرید ہونا
یہ دیکھ کر چند علمائے ظواہر کے دلوں میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی اورآپ کے ماموں امیر نصیر حواس وقت ملک شام کے بادشاہ تھے کے پاس جاکر شکایت کی کہ آپ کے بھانجے نے بدعت سماع کھڑی کر رکھی اور خلق خدا کو گمراہ کر رہا ہے۔ آپ اس کو اپنی دربار میں طلب کریں تاکہ ہمارے ساتھ وہمناظرہ کرے۔ اگر وہ راہ راست پر ہے تو کوئی مضائقہ نہیں ورنہ اسے اس کام سے منع کردیا جائے۔ بادشاہ نے کسی آدمی کے ذریعے آپ کو طلب کیا۔ حضرت خواجہ کو جب اس بات کا علم ہوا تو خرقہ پہنا گھوڑے پر سوار ہوئے اور ایک خادم کو جس کا نام محمد خدا بندہ تھا اور سورت فاتحہ اور اخلاص کے سوا کچھ نہیں جانتا تھا ساتھ لے کر امیر نصیر کی دربار میں پہنچ گئے جہاں اطراف وجواب کے اس
آپ کے ہاتھ پر والد کا تائب ہونا
جب سالک کو توحید میں فنا حاصل ہوجاتی ہے تو ہر گز نہیں ج اتی اس وجہ سے کہ فنا کا دور ہونا مقام دوئی میں ہوتا ہے اور یہاں دوئی کا نام و نشان نہیں تھا۔
چوں قطرہ غرق دری شد چہ باشد
وجود قطرہ جزدریا نباشد
(جب قطرہ دریا میں غرق ہوگیا تو پھر یہ ہوتا ہے کہ وجود قطرہ نہیں رہتا دریا بن جاتا ہے)
کہتے ہیں کہ آپ کی تربیت کے بعد حضرت خواجہ ابو اسحاق چشتی قدس سرہٗ ملک روم کی جانب چلے گئے اس کے بعد آپ چشت میں مسند خلافت پر بیٹے اور ایک جہاں آپ سے فیضیاب ہو اور بلند مقاصد کو پہنچا۔ مراۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ ابو احمد ابدال چشتی سر حلقہ مشائخ اہل چشت ہیں اور بالاتفاق قطب ابدال تھےاور ساری دنیا پر آپ کا تسلب تھا۔ لطائف اشرفی میں لکھا ہے کہ حضرت ابو احمد ابدال سے لے کر آج تک ہمارے مشائخ چشت ابدال ہوئے ہیں اور ان سے کرامات وخوارق عالی ظاہر ہوئے ہیں۔ یہ فقیر راقم الحروف کہتا ہے کہ، لطائف اشرفی کی اس عبادت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت خواجہ ابو احمد ابدال چشتی قدس سرہٗ کے زمانے سے جتنے مشائخ چشتیہ ہو گذرے ہیں چونکہ ولایت محمدیہ کی جامعیت ان کو ورچہ میں ملی تھی اس لیے عصرحاضر تک ولایت کے جمعی مراتب ومناسب مثل قطبیت، فردیت، بدولیت تھی کیونکہ یہ اظہار کرامات وخوارق کا موجب ہے لیکن باقی مشائخ چشت جو اس نسبت سے مستشنیٰ ہیں ان میں سے بعض پر نسبت فرویت غالب تھی، بعض پر نسبت قطبیت اور بعض پر نسبت محبوبیت غالب تھی۔
سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ ابو احمد چشتی قدس سرہٗ تیس سال تک نہ سوئے اور تیس سال باوضو رہے اور کبھی پانی سیر ہوکر نہ پیا آپ ہر شب بعد نماز تہجد دعا کرتے تھے کہ الٰہی امت محمدیہﷺ کے گناہگاروں کو بخش دے۔ غیب سے آواز آتی کہ اے ابو احمد! ہم نے تمہاری دعا قبول کی ہے اور امت محمدیہ کے دس ہزار گنہگاروں کو تیری بدولت ہم نے بخش دیا اور بہشت میں جگہ دی۔
سماع میں انہماک
آپ سماع میں بہت غلو فرماتے تھے اور ہر وقت سماع میں مشغول رہتے تھے حالت سماع جس شخص پر آپ کی نظر پڑتی صاحب کرامت ہوجاتا تھا اور جو کافر آپ کی خدمت میں آتا تھا مسلمان ہوجاتا تھا ہر مریض جس پر آپ کی نگاہ پڑی تھی اسی وقت تندرست ہوجاتاتھا۔ حالت سماع میں نور ساطع آپ کی جبیں مبارک سے اس قدر ظاہر ہوتا تھا کہ اس کی روشنی آسمان تک پہنچ جاتی تھی۔ چنانچہ شہر کے اکثر لوگ اپنے گھروں م یں آپ کے نور جبیں کا مشاہدہ کرتے تو حاضر خدمت ہوجاتے تھے اور سمجھ جاتے تھے کہ آج حضرت اقدس سماع سن رہے ہیں۔ پس ہر طرف سے لوگ دوڑ دوڑ کر آتے تھے اور مجلس میں شریک ہوتے۔
علماء کا مناظرہ اور پھر مرید ہونا
یہ دیکھ کر چند علمائے ظواہر کے دلوں میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی اورآپ کے ماموں امیر نصیر حواس وقت ملک شام کے بادشاہ تھے کے پاس جاکر شکایت کی کہ آپ کے بھانجے نے بدعت سماع کھڑی کر رکھی اور خلق خدا کو گمراہ کر رہا ہے۔ آپ اس کو اپنی دربار میں طلب کریں تاکہ ہمارے ساتھ وہمناظرہ کرے۔ اگر وہ راہ راست پر ہے تو کوئی مضائقہ نہیں ورنہ اسے اس کام سے منع کردیا جائے۔ بادشاہ نے کسی آدمی کے ذریعے آپ کو طلب کیا۔ حضرت خواجہ کو جب اس بات کا علم ہوا تو خرقہ پہنا گھوڑے پر سوار ہوئے اور ایک خادم کو جس کا نام محمد خدا بندہ تھا اور سورت فاتحہ اور اخلاص کے سوا کچھ نہیں جانتا تھا ساتھ لے کر امیر نصیر کی دربار میں پہنچ گئے جہاں اطراف وجواب کے اس
❤1
ی علمائے متحر جمع تھے۔ ان لوگوں نے بادشاہ سے استدعا کی تھی کہ جب خواجہ صاحب آئیں تو ان کی طرف مطلقاً توجہ نہ کریں۔جب حضرت خواجہ وہاں پہنچے تو آپ کی عظمت اور دہشت سے بادشاہ اس قدر متاثر ہوا کہ بیٹھ نہ سکا اور اٹھ کر دروازہ تک استقبال کیا۔ آپ کا ہاتھ چوم کر اغرار واکرام کے ساتھ مجلس کی صدارت پیش کی۔ علماء نے چرب زبانی سے کام لیا اور مشکل سے مشکل سوالات پیش کیے۔ آپ نے اپنے خادم محمد فدا بندہ نے اسی مشکل سوالات کے جواب کتب متداولہ کے مطابق دے دیئے۔
اس کے بعد ایک مسئلہ خودان سے دریافت کیا لیکن وہ تمام علمائے اس کے جواب سے عاجز آگئے اور شرم سار ہوئے۔ بادشاہ نے یہ حالت دیکھ کر مذاق کے طور پر علماء سےکہا کہ اگر اب بھی کوئی سوال باقی ہو تو خاموش نہ رہو۔ لیکن علماء کچھ نہ کہہ سکے۔ کیونکہ علم لدنی کے مقابلہ میں وہ کیا کر سکتے تھے۔ جب حضرت شیخ نے ان پڑھ خادم کا مقابلہ نہ کر سکے تو آپ کا مقابلہ کہاں کر سکتے تھے۔ چنانچہ ان تمام علماء نے اپنے دستار گردن میں ڈال کر حضرت خواجہ کے پاؤں پر گر گئے۔ معافی طلب کی۔ توبہ کی اور مرید ہوگئے امیر نصیر نے آپ سے معافی چاہی اور حضرت کی خدمت میں بے شمار تحائف پیش کیے۔ لیکن آپ نے کوئی چیز قبول نہ فرمائی اور واپس آستانہ مبارک پر تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ کی ولایت کی بہت شہرت ہوئی اور ہر طرف سے لوگ جوق در جوق آکر مرید ہونے اور فیض حاصل کرنے لگے۔
ذوق سماع
اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت اقدس نیا کپڑا ہر گز نہیں پہنتے تھے اور نہ ہی دنیا داروں کی صحبت میں بیٹھتے تھے۔ آپ حافظ کالم ربانی تھے۔ خواجہ سری سقطی قدس سرہٗ اکثر آپ کی ملاقات کےلیے آیا کرتے تھے اور آپ کی مجالس سماع میں شریک ہوا کرتے تھے۔ آپ کی مجالس سماع میں حاضرین پر عجیب مستی اور مدہوشی کی حالت طاری ہوجاتی تھی۔ قوالوں پر ایسے ذوق وشوق کی حالت طاری ہوجاتی تھی کہ منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہوجاتی تھی۔ اور مسد و بے خود ہاجاتے تھے اور قوالوں کو قوالی کی آواز غیب سے سنائی دیتی تھی۔ جس سے ان پر حالت وجد طاری ہوجاتی تھی۔ مجتہدین وقت میں سے کسی کو آپ کے سماع پر اعتراض کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ وقت کے علماء وصلحاء آپ کا کلام سن کرونگ رہ جاتے تھے اور آپ کی بے حد عزت وتکریم کرتے تھے آپ ہر روز ایک ختم قرآن کیا کرتے تھے۔ جو شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا آپ کے نور جبیں کو دکھ کر حیران ہوتا تھا۔ جب فضل بن یحییٰ بر مکی[1] نے آپ کے سماع پراعتراض کیا اور آپ کو اس کا علم ہوا تو فرمایا کہ اگر وہ ناحق اعتراض کرتتا ہے تو سزا پائے گا چنانچہ اس کے فوراً بعد بیمار ہوا۔ اطباء نے جس قدر علاج کیا مرض بڑہتا گیا۔ جب لا علاج ہوا تو حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوا اور قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہوا۔ ایک رات اسے آں حضرتﷺ کے جمال جہاں آراء کی زیارت کا شرف ہو ا تو شفا کے لیے عرض کی۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا اے فضل تم نے ابو احمد چشتی کے سماع کا انکار کیا ہے اور اس کا انکار اس کے مشائخ کا انکار ہے جب تک تم توبہ کر کے اس کی مجلس سماع میں حاضر نہیں ہوگے شفا ممکن نہیں۔ فضل بیدار ہوتے ہی دوڑتا ہوا حضرت اقدس کی خدمت حاضر ہوا اتفاق سے اس وقت آپ مجلس سماع میں تھے۔ فضل وہاں جاکر وستہ بستہ ہوکر ایک طرف کھڑا ہوگیا۔ اتفاق سے ح ضرت شیخ کا وہاں سے گذر ہوا۔ اسے دیکھتے ہی آپ نے تبسم فرمایا اور فرمایا کہ اے فضل تم نے دیکھ لیا کہ سماع سے انکار کی سزا کیا ہے اس نے عرض کیا کہ میں قصور وار ہوں اور سزا پا چکا ہوں حضرت مخدوم کا یہ سماع اسرار الٰہی ہے۔ اس کے بعد حضرت اقدس ن ے اپنا دست شفقت اس کے سر پر رکھا۔ اس سے وہ فورا تندرست ہو ہوگیا۔ اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا کبھی بیمارہی نہیں ہوا تھا۔ یہ کرامت دیکھ کر سات سو کافر مسلمان ہوگئے ار ان میں سے ہر ایک بلند مرتبہ کو پہنچا۔
اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک دن آپ دریائے دجلہ کے کنارے تشریف لے گئے ۷۹آدمی آپ کے سات تھے لیکن کشتی موجود نہ تھی۔ آپ نے فرمایا آؤ حلقہ ذکر قائم کرتے ہیں۔ چنانچہ ذکر کرتے ہوئے۔ سب دریائے دجلہ کے پار پہنچ گئے اور کسی کا پاؤں بھی تر نہ ہوا اس وقت وہاں چوبیس کافر موجود تھے۔ یہ کرامت دیکھ کر سب مسلمان ہوگئے۔ ان کو بھی آپ نے اسی طرح پانی سے گذرا۔ وہ ب ھی تھوڑے عرصہ میں مرتبہ کمال کو پہنچے۔
اس کتاب میں یہ بھی مرقوم ہے کہ ایک دن حضرت اقدس راستے میں جارہے تھے اور ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں تمام کافر آباد تھے اور جو مسلمان وہاں جاتا تھا۔ان کے ڈر سے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر نہیں کرتا تھا۔ اگر ان کو معلام ہوجاتا کہ یہ مسلمان ہے تو بہت شدت سے پیش آتے تھے اور آگ میں جلادیتے تھے جب آپ وہاں پہنچے تو کافروں نے دورک کر آپ کو پکڑلیا اور کہنے لگے کہ کیا تم مسلمان ہو۔ آپ نے فرمایا ہاں مسلمان ہوں ۔ انہوں نے کہا ہم ہر گز مسلمان کو زندہ نہیں چھوڑتے لیکن اگر تم ہماری گرفت سے بچ سکتے ہو تو ہم یقین کریں گے کہ واقعی تم مسلمان ہو آپ
اس کے بعد ایک مسئلہ خودان سے دریافت کیا لیکن وہ تمام علمائے اس کے جواب سے عاجز آگئے اور شرم سار ہوئے۔ بادشاہ نے یہ حالت دیکھ کر مذاق کے طور پر علماء سےکہا کہ اگر اب بھی کوئی سوال باقی ہو تو خاموش نہ رہو۔ لیکن علماء کچھ نہ کہہ سکے۔ کیونکہ علم لدنی کے مقابلہ میں وہ کیا کر سکتے تھے۔ جب حضرت شیخ نے ان پڑھ خادم کا مقابلہ نہ کر سکے تو آپ کا مقابلہ کہاں کر سکتے تھے۔ چنانچہ ان تمام علماء نے اپنے دستار گردن میں ڈال کر حضرت خواجہ کے پاؤں پر گر گئے۔ معافی طلب کی۔ توبہ کی اور مرید ہوگئے امیر نصیر نے آپ سے معافی چاہی اور حضرت کی خدمت میں بے شمار تحائف پیش کیے۔ لیکن آپ نے کوئی چیز قبول نہ فرمائی اور واپس آستانہ مبارک پر تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ کی ولایت کی بہت شہرت ہوئی اور ہر طرف سے لوگ جوق در جوق آکر مرید ہونے اور فیض حاصل کرنے لگے۔
ذوق سماع
اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت اقدس نیا کپڑا ہر گز نہیں پہنتے تھے اور نہ ہی دنیا داروں کی صحبت میں بیٹھتے تھے۔ آپ حافظ کالم ربانی تھے۔ خواجہ سری سقطی قدس سرہٗ اکثر آپ کی ملاقات کےلیے آیا کرتے تھے اور آپ کی مجالس سماع میں شریک ہوا کرتے تھے۔ آپ کی مجالس سماع میں حاضرین پر عجیب مستی اور مدہوشی کی حالت طاری ہوجاتی تھی۔ قوالوں پر ایسے ذوق وشوق کی حالت طاری ہوجاتی تھی کہ منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہوجاتی تھی۔ اور مسد و بے خود ہاجاتے تھے اور قوالوں کو قوالی کی آواز غیب سے سنائی دیتی تھی۔ جس سے ان پر حالت وجد طاری ہوجاتی تھی۔ مجتہدین وقت میں سے کسی کو آپ کے سماع پر اعتراض کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ وقت کے علماء وصلحاء آپ کا کلام سن کرونگ رہ جاتے تھے اور آپ کی بے حد عزت وتکریم کرتے تھے آپ ہر روز ایک ختم قرآن کیا کرتے تھے۔ جو شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا آپ کے نور جبیں کو دکھ کر حیران ہوتا تھا۔ جب فضل بن یحییٰ بر مکی[1] نے آپ کے سماع پراعتراض کیا اور آپ کو اس کا علم ہوا تو فرمایا کہ اگر وہ ناحق اعتراض کرتتا ہے تو سزا پائے گا چنانچہ اس کے فوراً بعد بیمار ہوا۔ اطباء نے جس قدر علاج کیا مرض بڑہتا گیا۔ جب لا علاج ہوا تو حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوا اور قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہوا۔ ایک رات اسے آں حضرتﷺ کے جمال جہاں آراء کی زیارت کا شرف ہو ا تو شفا کے لیے عرض کی۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا اے فضل تم نے ابو احمد چشتی کے سماع کا انکار کیا ہے اور اس کا انکار اس کے مشائخ کا انکار ہے جب تک تم توبہ کر کے اس کی مجلس سماع میں حاضر نہیں ہوگے شفا ممکن نہیں۔ فضل بیدار ہوتے ہی دوڑتا ہوا حضرت اقدس کی خدمت حاضر ہوا اتفاق سے اس وقت آپ مجلس سماع میں تھے۔ فضل وہاں جاکر وستہ بستہ ہوکر ایک طرف کھڑا ہوگیا۔ اتفاق سے ح ضرت شیخ کا وہاں سے گذر ہوا۔ اسے دیکھتے ہی آپ نے تبسم فرمایا اور فرمایا کہ اے فضل تم نے دیکھ لیا کہ سماع سے انکار کی سزا کیا ہے اس نے عرض کیا کہ میں قصور وار ہوں اور سزا پا چکا ہوں حضرت مخدوم کا یہ سماع اسرار الٰہی ہے۔ اس کے بعد حضرت اقدس ن ے اپنا دست شفقت اس کے سر پر رکھا۔ اس سے وہ فورا تندرست ہو ہوگیا۔ اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا کبھی بیمارہی نہیں ہوا تھا۔ یہ کرامت دیکھ کر سات سو کافر مسلمان ہوگئے ار ان میں سے ہر ایک بلند مرتبہ کو پہنچا۔
اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک دن آپ دریائے دجلہ کے کنارے تشریف لے گئے ۷۹آدمی آپ کے سات تھے لیکن کشتی موجود نہ تھی۔ آپ نے فرمایا آؤ حلقہ ذکر قائم کرتے ہیں۔ چنانچہ ذکر کرتے ہوئے۔ سب دریائے دجلہ کے پار پہنچ گئے اور کسی کا پاؤں بھی تر نہ ہوا اس وقت وہاں چوبیس کافر موجود تھے۔ یہ کرامت دیکھ کر سب مسلمان ہوگئے۔ ان کو بھی آپ نے اسی طرح پانی سے گذرا۔ وہ ب ھی تھوڑے عرصہ میں مرتبہ کمال کو پہنچے۔
اس کتاب میں یہ بھی مرقوم ہے کہ ایک دن حضرت اقدس راستے میں جارہے تھے اور ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں تمام کافر آباد تھے اور جو مسلمان وہاں جاتا تھا۔ان کے ڈر سے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر نہیں کرتا تھا۔ اگر ان کو معلام ہوجاتا کہ یہ مسلمان ہے تو بہت شدت سے پیش آتے تھے اور آگ میں جلادیتے تھے جب آپ وہاں پہنچے تو کافروں نے دورک کر آپ کو پکڑلیا اور کہنے لگے کہ کیا تم مسلمان ہو۔ آپ نے فرمایا ہاں مسلمان ہوں ۔ انہوں نے کہا ہم ہر گز مسلمان کو زندہ نہیں چھوڑتے لیکن اگر تم ہماری گرفت سے بچ سکتے ہو تو ہم یقین کریں گے کہ واقعی تم مسلمان ہو آپ
❤1
نے فرمایا کہ اگر مسلمان صدق دل سے لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کہہ دے تو اس پر آگ ہر گز اثر نہیں کرتی چنانچہ انہوں نے آگ جلائی اور حضرت اقدس فوراً اس کے اندر چلے گئے اور مصلے بچھاکر نماز میں مشغول ہوگئے۔ اس سے آتش سوزاں فوراً ٹھنڈی ہوگئی۔ یہ دیکھ کر کافروں نے اپنے سرزمین پر رکھ دیئے ور صدق دلس ے سب مسلمان ہوگئے۔ اس بستی میں کل دس ہزار مرد تھے ان میں سے سو آدمیوں نے حضرت شیخ کی صحبت اختیار کرلی اور ہر شخص ولی کامل بن گیا۔ باقی لوگوں نے آپ کے فرمان کے مطابق اسی جگہ سکونت رکھی اور قبیہ عمر عبادت میں بسر کردی۔
وصال
مراۃ الاسرار میں آیا ہے کہ حضرت خواجہ ابو احمد چشتی قدس سرہے کی عمر پچانوے سال تھی۔ آپ کی ولادت خلیفہ معتصم باللہ جو بنی عباس کا آٹھواں خلیفہ تھا کے زمانہ حکومت میں بتاریخ سوم جمادی الثانی ۲۶۰ھ میں ہوئی اور آپ کا وصال چوبیسویں خلیفہ ابو بکر عبدالکریم بن مطیع جس کا لقب طالع تھا کے عہد حکومت میں ۳۵۵ھ میں ہوئی۔ آپ کا مدفن قصبہ چشت ہے جو ہرات سے تیس کوس کے فاصلہ پر ہے۔ صاحب سیر الاقطاب نے آپ کی تاریخ وصال یہ ن کالی ہے: قطب العالمین بود۔
اللّٰھمّ صلّ علیٰ محمد والہٖ واصحابہٖ اجمعین۔
ازرہگذرِ خاکِ سرکوئے شمابود
ہر نافہ کہ دردستِ نسیم سحر افتاد
[1] ۔ بر مکی خاندان خلفائے بنی عباس کے عہد میں یکے بعد دیگر عہدہ وزارت پر فائز رہے۔ علم و فضل میں بڑے مشہور تھے۔
( اقتباس الانوار )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abu-ahmad-abdal-chishti
وصال
مراۃ الاسرار میں آیا ہے کہ حضرت خواجہ ابو احمد چشتی قدس سرہے کی عمر پچانوے سال تھی۔ آپ کی ولادت خلیفہ معتصم باللہ جو بنی عباس کا آٹھواں خلیفہ تھا کے زمانہ حکومت میں بتاریخ سوم جمادی الثانی ۲۶۰ھ میں ہوئی اور آپ کا وصال چوبیسویں خلیفہ ابو بکر عبدالکریم بن مطیع جس کا لقب طالع تھا کے عہد حکومت میں ۳۵۵ھ میں ہوئی۔ آپ کا مدفن قصبہ چشت ہے جو ہرات سے تیس کوس کے فاصلہ پر ہے۔ صاحب سیر الاقطاب نے آپ کی تاریخ وصال یہ ن کالی ہے: قطب العالمین بود۔
اللّٰھمّ صلّ علیٰ محمد والہٖ واصحابہٖ اجمعین۔
ازرہگذرِ خاکِ سرکوئے شمابود
ہر نافہ کہ دردستِ نسیم سحر افتاد
[1] ۔ بر مکی خاندان خلفائے بنی عباس کے عہد میں یکے بعد دیگر عہدہ وزارت پر فائز رہے۔ علم و فضل میں بڑے مشہور تھے۔
( اقتباس الانوار )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abu-ahmad-abdal-chishti
scholars.pk
Hazrat Khawaja Abu Ahmad Abdal Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ ابو نصر ضیاء الدین موسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
سلخِ ربیع الاول ۵۳۵ھ میں متولد ہوئے
اپنے والد بزرگوار سے تفقہ حاصل کیا، اور اُنہیں سے اور سعید بن البنّا رحمۃ اللہ علیہ سے حدیث سنی ـ
آپ علیہ الرحمہ کثیر السّکوت طویل المراقبہ تھے، انکسار و افتقار سے متصف زاہد، متورع تھے، دمشق میں چلے گئے، اور وہیں توطن اختیار کیا ـ
وصال:
غرہ جمادی الآخر ۶۱۸ھ میں وفات پائی، مدرسہ مجاہدیہ میں نماز جنازہ پڑھی گئی، اور جبلِ قاسیون میں مدفون ہوئے، اپنے سب بھایوں سے اخیر فوت ہوئے ۔ [ایضًا ص ۱۱۳]
( شریف التواریخ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abu-nasar-ziauddin-moosa
ولادت:
سلخِ ربیع الاول ۵۳۵ھ میں متولد ہوئے
اپنے والد بزرگوار سے تفقہ حاصل کیا، اور اُنہیں سے اور سعید بن البنّا رحمۃ اللہ علیہ سے حدیث سنی ـ
آپ علیہ الرحمہ کثیر السّکوت طویل المراقبہ تھے، انکسار و افتقار سے متصف زاہد، متورع تھے، دمشق میں چلے گئے، اور وہیں توطن اختیار کیا ـ
وصال:
غرہ جمادی الآخر ۶۱۸ھ میں وفات پائی، مدرسہ مجاہدیہ میں نماز جنازہ پڑھی گئی، اور جبلِ قاسیون میں مدفون ہوئے، اپنے سب بھایوں سے اخیر فوت ہوئے ۔ [ایضًا ص ۱۱۳]
( شریف التواریخ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abu-nasar-ziauddin-moosa
scholars.pk
Hazrat Sheikh Abu Nasar Ziauddin Moosa
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
محمد جلال الدین قادری رضوی
یوم وصال 02 محرم الحرام 1429
یوم پیدائش 01 جمادى الآخر 1357
محقق دوراں حضرت مولانا محمد جلال الدین قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد جلال الدین ۔ کنیت: ابو سعید ۔ لقب: محقق دوراں، مفسر قرآن ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا محمد جلال الدین قادری بن حضرت مولانا خواج دین بن خدا بخش بن شرف دین ۔ (رحمۃ اللہ علیہم)
آپ کے والدِ گرامی باعمل عالمِ دین تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت یکم جمادی الثانی1357ھ / 29 جولائی 1938ء ، بروز جمعۃ المبارک اپنے آبائی گاؤں موضع "چوہدو" تحصیل کھاریاں، ضلع گجرات (پنجاب، پاکستان) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
حضرت مولانا محمد جلال الدین نے ناظرہ قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی کتابیں اپنے تایا مولانا فضل دین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پڑھیں۔ شعبان المعظم 1377ھ؍ مارچ 1958ء میں میٹرک پاس کرنے کے بعد درس نظامی پڑھنے کے لیے پہلے جامعہ غوثیہ نظامیہ وزیر آباد میں داخلہ لیا اور وہیں کتبِ متداولہ کی تعلیم حاصل کی۔ پھر محدثِ اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رضوی علیہ الرحمۃ سے دورۂ حدیث پڑھ کر شعبان المعظم ۱۳۸۰ھ؍فروری ۱۹۶۱ء کو سندِ فراغت حاصل کی۔
آپ بے حد ذہین و فتین تھے، ڈھائی سال کے قلیل عرصے میں مکمل درسِ نظامی سبقاًٍ پڑھ لی۔ حالانکہ یہی نصاب عموماً طلباء آٹھ سال میں پڑھتے ہیں۔
اساتذۂ کرام:
محدثِ اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رضوی علیہ الرحمۃ، حضرت مولانا غلام رسول قادری، مولانا یوسف گجراتی، حضرت مولانا محب النبی شیخ الحدیث دارالعلوم غوثیہ نظامیہ وزیر آباد۔ شیخ القرآن حضرت مولانا عبد الغفور ہزاروی (رحمہم اللہ تعالیٰ )
بیعت و خلافت:
مولانا محمد جلال الدین 8 محرم الحرام 22 جون 1961ء کو محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رضوی علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ میں بیعت ہوئے۔
رمضان المبارک 1384ھ؍ اپریل 1965ء میں حضرت مفتئ اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے اوراد و اشغال، تمام سلاسل اور حدیث کی سند عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
مفسرِ قرآں، محقق دوراں، یادگارِ اسلاف، عالمِ باعمل، متبعِ شریعت، استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد جلال الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ۔
شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتیِ اعظم ہند حضرت شاہ محمد مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمہ نے آپ کو بایں الفاظ یاد فرمایا: ہم بطورِ تبرک وہ متبرک الفاظ نقل کر رہے ہیں!
" برادرِ دینی و یقینی مولانا المکرم زید لطفہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ طالبِ خیر بخیر و عافیت، محبت نامہ تشریف لایا ۔ مولیٰ تعالیٰ آپ کو دین پر مستقیم رکھے، علم نافع عمل صالح سے نوازے اور برکات دینی و دنیاوی سے مالا مال فرمائے ۔ (آمین) علیٰ برکۃ اللہ تعالیٰ آپکو دلائل الخیرات شریف، و مجموعۂ اعمال کی اجازت ہے، مولیٰ تعالیٰ آپ کو اور آپ سے دوسرے اہل سنت کو اس سے نفع بخشے آمین۔ ماہِ مبارک سے کچھ پہلے سفر سے آیا ہوں۔ ڈاک بہت جمع ہے، جواب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میں آپ کو علیٰ برکتہ المولیٰ تعالیٰ اجازتِ قرآن و اجازتِ حدیث و اجازتِ سلاسل و مجموعۂ اعمال و اذکار و اشغال دیتا ہوں ۔ فقیر مصطفیٰ رضا قادری غفرلہ شب 3 رمضان 1384ھ۔
قبلہ مفتی صاحب علیہ الرحمہ ساری زندگی دین متین کی خدمت کرتے رہے ۔ آپ نے امت کو ایسی مفید کتب عطا کی ہیں جن سے ان شاء اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ مستفید ہوتی رہےگی، اور قیامت تک آپ کو صدقۂ جاریہ کی صورت میں ثواب ملتا رہےگا ۔
آپ کے صاحبزادے مفتی محمد محمود احمد لکھتے ہیں: کہ قبلہ مفتی صاحب اپنے وقت کی بہت قدر کرتے تھے، اور ہر چھوٹا بڑا واقعہ اپنی ڈائری میں ضرور تحریر فرماتے تھے، ہر کام کا ایک وقت مقرر تھا، حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کا بھی خصوصی خیال رکھتے تھے۔ آپ خود محقق تھے اس لئے محققین علماء کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے، اور ان کے ساتھ ہر قسم کا تعاون فرماتے تھے۔ آپ کی زیرِ نگرانی بہت سے تحقیقی مضامین ، مقالے ، اور کتب تحریر کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے (آمین)
وصال:
بارہ 12 جنوری 2008 عیسوی 2 محرم الحرام 1429ھ، بروز ہفتہ بعد نماز مغرب 6 بج کر 35 منٹ پر انتقال فرمایا۔
ماخذ و مراجع:
مقدمہ محدث اعظم پاکستان ۔ مولانا جلال الدین قادری -
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-jalaluddin-qadri-rizvi
یوم وصال 02 محرم الحرام 1429
یوم پیدائش 01 جمادى الآخر 1357
محقق دوراں حضرت مولانا محمد جلال الدین قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد جلال الدین ۔ کنیت: ابو سعید ۔ لقب: محقق دوراں، مفسر قرآن ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا محمد جلال الدین قادری بن حضرت مولانا خواج دین بن خدا بخش بن شرف دین ۔ (رحمۃ اللہ علیہم)
آپ کے والدِ گرامی باعمل عالمِ دین تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت یکم جمادی الثانی1357ھ / 29 جولائی 1938ء ، بروز جمعۃ المبارک اپنے آبائی گاؤں موضع "چوہدو" تحصیل کھاریاں، ضلع گجرات (پنجاب، پاکستان) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
حضرت مولانا محمد جلال الدین نے ناظرہ قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی کتابیں اپنے تایا مولانا فضل دین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پڑھیں۔ شعبان المعظم 1377ھ؍ مارچ 1958ء میں میٹرک پاس کرنے کے بعد درس نظامی پڑھنے کے لیے پہلے جامعہ غوثیہ نظامیہ وزیر آباد میں داخلہ لیا اور وہیں کتبِ متداولہ کی تعلیم حاصل کی۔ پھر محدثِ اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رضوی علیہ الرحمۃ سے دورۂ حدیث پڑھ کر شعبان المعظم ۱۳۸۰ھ؍فروری ۱۹۶۱ء کو سندِ فراغت حاصل کی۔
آپ بے حد ذہین و فتین تھے، ڈھائی سال کے قلیل عرصے میں مکمل درسِ نظامی سبقاًٍ پڑھ لی۔ حالانکہ یہی نصاب عموماً طلباء آٹھ سال میں پڑھتے ہیں۔
اساتذۂ کرام:
محدثِ اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رضوی علیہ الرحمۃ، حضرت مولانا غلام رسول قادری، مولانا یوسف گجراتی، حضرت مولانا محب النبی شیخ الحدیث دارالعلوم غوثیہ نظامیہ وزیر آباد۔ شیخ القرآن حضرت مولانا عبد الغفور ہزاروی (رحمہم اللہ تعالیٰ )
بیعت و خلافت:
مولانا محمد جلال الدین 8 محرم الحرام 22 جون 1961ء کو محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رضوی علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ میں بیعت ہوئے۔
رمضان المبارک 1384ھ؍ اپریل 1965ء میں حضرت مفتئ اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے اوراد و اشغال، تمام سلاسل اور حدیث کی سند عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
مفسرِ قرآں، محقق دوراں، یادگارِ اسلاف، عالمِ باعمل، متبعِ شریعت، استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد جلال الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ۔
شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتیِ اعظم ہند حضرت شاہ محمد مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمہ نے آپ کو بایں الفاظ یاد فرمایا: ہم بطورِ تبرک وہ متبرک الفاظ نقل کر رہے ہیں!
" برادرِ دینی و یقینی مولانا المکرم زید لطفہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ طالبِ خیر بخیر و عافیت، محبت نامہ تشریف لایا ۔ مولیٰ تعالیٰ آپ کو دین پر مستقیم رکھے، علم نافع عمل صالح سے نوازے اور برکات دینی و دنیاوی سے مالا مال فرمائے ۔ (آمین) علیٰ برکۃ اللہ تعالیٰ آپکو دلائل الخیرات شریف، و مجموعۂ اعمال کی اجازت ہے، مولیٰ تعالیٰ آپ کو اور آپ سے دوسرے اہل سنت کو اس سے نفع بخشے آمین۔ ماہِ مبارک سے کچھ پہلے سفر سے آیا ہوں۔ ڈاک بہت جمع ہے، جواب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میں آپ کو علیٰ برکتہ المولیٰ تعالیٰ اجازتِ قرآن و اجازتِ حدیث و اجازتِ سلاسل و مجموعۂ اعمال و اذکار و اشغال دیتا ہوں ۔ فقیر مصطفیٰ رضا قادری غفرلہ شب 3 رمضان 1384ھ۔
قبلہ مفتی صاحب علیہ الرحمہ ساری زندگی دین متین کی خدمت کرتے رہے ۔ آپ نے امت کو ایسی مفید کتب عطا کی ہیں جن سے ان شاء اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ مستفید ہوتی رہےگی، اور قیامت تک آپ کو صدقۂ جاریہ کی صورت میں ثواب ملتا رہےگا ۔
آپ کے صاحبزادے مفتی محمد محمود احمد لکھتے ہیں: کہ قبلہ مفتی صاحب اپنے وقت کی بہت قدر کرتے تھے، اور ہر چھوٹا بڑا واقعہ اپنی ڈائری میں ضرور تحریر فرماتے تھے، ہر کام کا ایک وقت مقرر تھا، حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کا بھی خصوصی خیال رکھتے تھے۔ آپ خود محقق تھے اس لئے محققین علماء کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے، اور ان کے ساتھ ہر قسم کا تعاون فرماتے تھے۔ آپ کی زیرِ نگرانی بہت سے تحقیقی مضامین ، مقالے ، اور کتب تحریر کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے (آمین)
وصال:
بارہ 12 جنوری 2008 عیسوی 2 محرم الحرام 1429ھ، بروز ہفتہ بعد نماز مغرب 6 بج کر 35 منٹ پر انتقال فرمایا۔
ماخذ و مراجع:
مقدمہ محدث اعظم پاکستان ۔ مولانا جلال الدین قادری -
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-jalaluddin-qadri-rizvi
scholars.pk
Hazrat Molana Muhammad Jalaluddin Qadri Rizvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
بیہقیِ وقت حضرت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی رحمۃ اللۃ تعالیٰ علیہ
اسم گرامی:
محمدمنظور احمد فیضی۔
اَلقاب:
بیہقیِ وقت، مفتی، مُناظرِ اعظم، شیخ القرآن، شیخ الحدیث وغیرہ۔
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
بیہقیِ وقت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی بن علامہ محمد ظریف فیضی بن علامہ الٰہی بخش قادری بن حاجی پیر بخش رحمھم اللہ تعالٰی تعالٰی۔
آپ ایک علمی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنےوقت کے جیّد عالم اور قبلہ شاہ جمالی کریم کے منظورِ نظر خلیفہ تھے۔ جدِّ امجد علامہ الٰہی بخش قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ عالم و عارف، اور صاحبِ تقویٰ بزرگ تھے۔
تاریخِ ولادت:
پیر کی شب، بوقتِ صبح صادق ،2؍ رمضان المبارک 1358ھ مطابق 16؍ اکتوبر 1939ء کو بستی فیض آباد اوچ شریف، تحصیل احمد پور شرقیہ، ضلع بہاولپور، پاکستان میں آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔
عطائے مصطفیٰ ﷺ:
مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ فیضِ مجسم حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے اولاد کے لیے عرض کیا، تو انہوں نے فرمایا:
’’تم رات ہمارے ہاں گزارو، تمہاری درخواست امام الانبیاء ﷺ کی بارگاہ میں پیش کر دیں گے۔ امید ہے کہ ان شاءاللہ قبول ہو جائے گی۔‘‘
جب صبح ہوئی تو حضرت نے فرمایا:
’’ تمہاری درخواست منظور ہو گئی ہے اور تمہیں منظور احمد عطا ہوگا ۔ ‘‘
تحصیلِ علم:
آغاز بسم اللہ اور سورۂ فاتحہ 6؍ محرم الحرام 1362ھ بروز پیر جامع مسجد سندیلہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خاں میں قبلہ شاہ جمالی کریم نے کرائی اور قرآنِ مجید شروع کرا دیا۔ پھر آپ نے تعلیمِ قرآنِ پاک، فارسی، صرف، نحو، فقہ، اصولِ فقہ، منطق، مشکوٰۃ شریف، جلالین تک کتب اپنے والدِ ماجد سے پڑھیں ۔ جملہ علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل اور علمِ حدیث کے حصول کے لیے غزالیِ زماں علامہ سیّد احمد سعید شاہ کاظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ نے 17؍ شوّال المکرم 1378ھ بمطابق 26؍ اپریل 1959ء کو جامعہ اَنوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل فرمائی ۔ پھر آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فاضلِ عربی کا امتحان پاس کیا ۔ جس سال آپ نے جامعہ انوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل کی اُسی سال جامعہ انوار العلوم کے سالانہ جلسۂ دستارِ فضیلت میں حضور نبی کریم رؤف و رحیم ﷺ جلوہ افروز تھے ۔ اہلِ نظر دیدار سے مستفیض ہوئے۔ الحمد للہ حمداً کثیرا۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں پیکرِ علم و عرفان حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری اور حضور قطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین احمد مدنی ، اور حضور غزالیِ زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی، سلطان العارفین حضرت خواجہ غلام یاسین شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم نے تمام علوم اور تمام سلاسل میں اجازت و خلافت سے نوازا ۔ آپ زیادہ تر سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں لوگوں کو بیعت کیا کرتے تھے۔
سیرتِ وخصائص:
شیخ القرآن، شیخ الحدیثِ والتفسیر، مُناظرِ اعظم، فقیہ العصر، بیہقیِ وقت، جامعِ شریعت وطریقت، حاوی الفروعِ والاصول، عاشقِ رسول، فنافی الرسول، عارف باللہ حضرت علامہ مولانا مفتی منظور احمد فیضی نوّر اللہ تعالٰی مرقدہ۔آپ کا شمار ماضیِ قریب کے جیّد علمائے حق کی صف میں ہوتا تھا ۔ مطالعے میں ایسی وسعت کہ تمام فنون پر گہری نظر تھی ۔ حافظہ ایسا غضب کا تھا کہ ذہن میں کتب کے صفحات کے ساتھ سطریں تک محفوظ تھیں ۔ تمام موضوعات پر مناظرے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا یہ آپ ہی کی ذاتِ گرامی کا حصہ تھا۔پورے پاکستان میں بدمذہبوں کے چیلنج قبول کرنا اور ان کو ہر جگہ ذلّت آمیز شکست دینا یہ آپ ہی کا خاصہ تھا ۔ علمائے اہلِ سنّت آپ کو ’’ مُناظرِ اعظم ‘‘ کے لقب سے ملقب کرتے ہیں ۔ اس فن میں کمال کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ 19؍ جون 2002ء کو آپ نے انٹرنیٹ پر چار مجتہدینِ رَوافض سے دس گھنٹے کامیاب مناظرہ کیا ۔ حضرت بیہقیِ وقت اکیلے اور رَوافض مُناظرین کی تعداد چار تھی ۔ اِس مناظرے میں روافض کو ذلّت آمیز شکست سے دو چار کیا ۔
آپ کی سب سےبڑی خوبی یہ تھی کہ علم کے ساتھ تقویٰ و روحانیت اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی دولت سے مالا مال تھے۔حدیث شریف پڑھاتے ہوئے ہوئےخود بھی عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں تڑپتے اور سامعین کو بھی تڑپاتے تھے ۔ جب اسمِ گرامی لیتے یا کسی کی زبان سے سنتے تو آنکھیں پر نم ہو جایا کرتیں تھیں اور کافی دیر تک ایک وجدانی کیفیت طاری رہتی تھی۔
اسم گرامی:
محمدمنظور احمد فیضی۔
اَلقاب:
بیہقیِ وقت، مفتی، مُناظرِ اعظم، شیخ القرآن، شیخ الحدیث وغیرہ۔
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
بیہقیِ وقت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی بن علامہ محمد ظریف فیضی بن علامہ الٰہی بخش قادری بن حاجی پیر بخش رحمھم اللہ تعالٰی تعالٰی۔
آپ ایک علمی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنےوقت کے جیّد عالم اور قبلہ شاہ جمالی کریم کے منظورِ نظر خلیفہ تھے۔ جدِّ امجد علامہ الٰہی بخش قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ عالم و عارف، اور صاحبِ تقویٰ بزرگ تھے۔
تاریخِ ولادت:
پیر کی شب، بوقتِ صبح صادق ،2؍ رمضان المبارک 1358ھ مطابق 16؍ اکتوبر 1939ء کو بستی فیض آباد اوچ شریف، تحصیل احمد پور شرقیہ، ضلع بہاولپور، پاکستان میں آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔
عطائے مصطفیٰ ﷺ:
مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ فیضِ مجسم حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے اولاد کے لیے عرض کیا، تو انہوں نے فرمایا:
’’تم رات ہمارے ہاں گزارو، تمہاری درخواست امام الانبیاء ﷺ کی بارگاہ میں پیش کر دیں گے۔ امید ہے کہ ان شاءاللہ قبول ہو جائے گی۔‘‘
جب صبح ہوئی تو حضرت نے فرمایا:
’’ تمہاری درخواست منظور ہو گئی ہے اور تمہیں منظور احمد عطا ہوگا ۔ ‘‘
تحصیلِ علم:
آغاز بسم اللہ اور سورۂ فاتحہ 6؍ محرم الحرام 1362ھ بروز پیر جامع مسجد سندیلہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خاں میں قبلہ شاہ جمالی کریم نے کرائی اور قرآنِ مجید شروع کرا دیا۔ پھر آپ نے تعلیمِ قرآنِ پاک، فارسی، صرف، نحو، فقہ، اصولِ فقہ، منطق، مشکوٰۃ شریف، جلالین تک کتب اپنے والدِ ماجد سے پڑھیں ۔ جملہ علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل اور علمِ حدیث کے حصول کے لیے غزالیِ زماں علامہ سیّد احمد سعید شاہ کاظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ نے 17؍ شوّال المکرم 1378ھ بمطابق 26؍ اپریل 1959ء کو جامعہ اَنوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل فرمائی ۔ پھر آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فاضلِ عربی کا امتحان پاس کیا ۔ جس سال آپ نے جامعہ انوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل کی اُسی سال جامعہ انوار العلوم کے سالانہ جلسۂ دستارِ فضیلت میں حضور نبی کریم رؤف و رحیم ﷺ جلوہ افروز تھے ۔ اہلِ نظر دیدار سے مستفیض ہوئے۔ الحمد للہ حمداً کثیرا۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں پیکرِ علم و عرفان حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری اور حضور قطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین احمد مدنی ، اور حضور غزالیِ زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی، سلطان العارفین حضرت خواجہ غلام یاسین شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم نے تمام علوم اور تمام سلاسل میں اجازت و خلافت سے نوازا ۔ آپ زیادہ تر سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں لوگوں کو بیعت کیا کرتے تھے۔
سیرتِ وخصائص:
شیخ القرآن، شیخ الحدیثِ والتفسیر، مُناظرِ اعظم، فقیہ العصر، بیہقیِ وقت، جامعِ شریعت وطریقت، حاوی الفروعِ والاصول، عاشقِ رسول، فنافی الرسول، عارف باللہ حضرت علامہ مولانا مفتی منظور احمد فیضی نوّر اللہ تعالٰی مرقدہ۔آپ کا شمار ماضیِ قریب کے جیّد علمائے حق کی صف میں ہوتا تھا ۔ مطالعے میں ایسی وسعت کہ تمام فنون پر گہری نظر تھی ۔ حافظہ ایسا غضب کا تھا کہ ذہن میں کتب کے صفحات کے ساتھ سطریں تک محفوظ تھیں ۔ تمام موضوعات پر مناظرے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا یہ آپ ہی کی ذاتِ گرامی کا حصہ تھا۔پورے پاکستان میں بدمذہبوں کے چیلنج قبول کرنا اور ان کو ہر جگہ ذلّت آمیز شکست دینا یہ آپ ہی کا خاصہ تھا ۔ علمائے اہلِ سنّت آپ کو ’’ مُناظرِ اعظم ‘‘ کے لقب سے ملقب کرتے ہیں ۔ اس فن میں کمال کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ 19؍ جون 2002ء کو آپ نے انٹرنیٹ پر چار مجتہدینِ رَوافض سے دس گھنٹے کامیاب مناظرہ کیا ۔ حضرت بیہقیِ وقت اکیلے اور رَوافض مُناظرین کی تعداد چار تھی ۔ اِس مناظرے میں روافض کو ذلّت آمیز شکست سے دو چار کیا ۔
آپ کی سب سےبڑی خوبی یہ تھی کہ علم کے ساتھ تقویٰ و روحانیت اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی دولت سے مالا مال تھے۔حدیث شریف پڑھاتے ہوئے ہوئےخود بھی عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں تڑپتے اور سامعین کو بھی تڑپاتے تھے ۔ جب اسمِ گرامی لیتے یا کسی کی زبان سے سنتے تو آنکھیں پر نم ہو جایا کرتیں تھیں اور کافی دیر تک ایک وجدانی کیفیت طاری رہتی تھی۔
❤1👍1
جب نام نہاد ملّاؤں نے غیروں کے اشاروں پر عزّت و عظمتِ مصطفیٰ ﷺ پر رکیک حملے شروع کیے، تو فیضی صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ان کے جواب میں ’’ مقامِ رسول ﷺ ‘‘ تالیف کرکے دنیائے سنیت پر احسانِ عظیم فرمایا۔ اس کتاب کا ایک ایک لفظ عظمتِ مصطفیٰ ﷺ اور مقامِ مصطفیٰ ﷺ کی گواہی دے رہا ہے۔ اس کتاب کو بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں شرفِ قبولیت حاصل ہے۔ ایک وہابی نے عدالت میں اس کتاب کو چیلنج کیا تو اللہ جل شانہ نے اُس مولوی کو عدالت میں ہی جوتے لگوائے ۔
حضرت بیہقیِ وقت اعلیٰ روحانی مقام پر فائز تھے۔ علم و عمل، زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت میں بے مثال تھے ۔ خدمتِ دین کی بدولت کئی مرتبہ زیارتِ مصطفیٰ ﷺ سے شرف یاب ہوئے ۔
ایک مرتبہ صاحبِ کشف بزرگ عالمِ دین حضرت مولانا عارف صاحب احمدپوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نےفرمایا:
’’علامہ فیضی صاحب! آج حضرت خضر علیہ السلام نے نمازِ جمعہ آپ کے پیچھے ادا کیا ہے، اور آئندہ جمعہ بھی آپ کو شرف بخشیں گے۔‘‘
واقعی ایساہوا، اگلےجمعۃ المبارک کےدن بہت سےحضرات نے حضرت خضرعلیہ السلام سےمصافحہ کیا۔یہ آپ کوشرف بخشنے،اورآپ کی عظمت ظاہرکرنےکےلیے تشریف لائےتھےجیساکہ بہت سےاولیائے کرام کی مجالس میں شریک ہوتے ہیں۔
آپ اپنے اعلیٰ علمی و روحانی مقام ومرتبہ کی وجہ سے نہ صر ف پاک وہند بلکہ پوری دنیا میں علمائے اہلِ سنّت اور مشائخِ اہلِ سنّت کے منظور ِنظر تھے۔اپنے وقت کے عظیم محدث و مفسر اور عظیم مناظر وخطیب ِ لاجواب تھے۔خطیب ایسےکہ جب تک بیان جاری رہتامجمع پرسکون و سکوت کی کیفیت طاری رہتی۔انداز ایسا دل نشیں کہ بات سامعین کےدل میں اترجاتی تھی۔ میں نےایسےافراددیکھےہیں جوعلامہ فیضی صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے بیانات کی برکت سےباعمل ہوگئے، بلکہ ایک بہترین مناظربھی بن گئے۔ کوئی بھی بدمذہب ان کےسامناکرنےسےکتراتاتھا۔
حضرت فیضی صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نےساری زندگی درس وتدریس، تصنیف وتالیف اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کے فروغ کے لیے گزار دی۔ جب مسند ِعلم پر جلوہ افروز ہوتے اور اپنے ہر قول پر رسولِ اکرم ﷺکے فرامین بیان کرتےتو امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی یاد تازہ ہوجاتی ،اور جب مُناظرے میں گستاخانِ مصطفیٰ ﷺ اور گستاخانِ صحابہ واہلِ بیت،واولیاء کو پچھاڑتےتو ایسا معلوم ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ کا شیر میدان میں آیا ہے اور مدِّ مقابل کو راہِ فرار کے علاوہ کوئی اور راستہ نظر نہ آتا۔ آپ ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ انتہائی منکسرالمزاج اور بااخلاق شخصیت کے حامل تھے۔ وعظ ونصیحت، مُناظرہ، مَحافلِ میلادکےلیے کبھی کسی سے معاوضےکےطلب گارنہ ہوئے۔ہرکام اللہ جل شانہ اوراس کےحبیبﷺکی رضاکےلیےہوتاتھا۔
آپ کی سیرت آج کے علما کےلیے مشعل راہ ہے۔
تاریخِ وصال:
قبلہ بیہقیِ وقت (66 سال، 8 ماہ 11 دن کی عمر میں) یکم جمادی الاخریٰ 1427ھ، مطابق27؍جون2006ء،بروز منگل، شب ِبدھ 8:45 پر عین اذانِ عشا کے وقت اپنے خالق ِحقیقی سے جا ملے۔
ماخذ:
’’ بیہقیِ وقت علامہ مفتی ابو الحسن محمد منظور احمد فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ‘‘، از: مفتی محمد اکرام المحسن فیضی، شائع کردۂ انجمن ضیائے طیبہ، کراچی، جون 2007ء۔
https://scholars.pk/ur/scholar/manzoor-ahmad-faizi-allama-mufti-muhammad
حضرت بیہقیِ وقت اعلیٰ روحانی مقام پر فائز تھے۔ علم و عمل، زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت میں بے مثال تھے ۔ خدمتِ دین کی بدولت کئی مرتبہ زیارتِ مصطفیٰ ﷺ سے شرف یاب ہوئے ۔
ایک مرتبہ صاحبِ کشف بزرگ عالمِ دین حضرت مولانا عارف صاحب احمدپوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نےفرمایا:
’’علامہ فیضی صاحب! آج حضرت خضر علیہ السلام نے نمازِ جمعہ آپ کے پیچھے ادا کیا ہے، اور آئندہ جمعہ بھی آپ کو شرف بخشیں گے۔‘‘
واقعی ایساہوا، اگلےجمعۃ المبارک کےدن بہت سےحضرات نے حضرت خضرعلیہ السلام سےمصافحہ کیا۔یہ آپ کوشرف بخشنے،اورآپ کی عظمت ظاہرکرنےکےلیے تشریف لائےتھےجیساکہ بہت سےاولیائے کرام کی مجالس میں شریک ہوتے ہیں۔
آپ اپنے اعلیٰ علمی و روحانی مقام ومرتبہ کی وجہ سے نہ صر ف پاک وہند بلکہ پوری دنیا میں علمائے اہلِ سنّت اور مشائخِ اہلِ سنّت کے منظور ِنظر تھے۔اپنے وقت کے عظیم محدث و مفسر اور عظیم مناظر وخطیب ِ لاجواب تھے۔خطیب ایسےکہ جب تک بیان جاری رہتامجمع پرسکون و سکوت کی کیفیت طاری رہتی۔انداز ایسا دل نشیں کہ بات سامعین کےدل میں اترجاتی تھی۔ میں نےایسےافراددیکھےہیں جوعلامہ فیضی صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے بیانات کی برکت سےباعمل ہوگئے، بلکہ ایک بہترین مناظربھی بن گئے۔ کوئی بھی بدمذہب ان کےسامناکرنےسےکتراتاتھا۔
حضرت فیضی صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نےساری زندگی درس وتدریس، تصنیف وتالیف اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کے فروغ کے لیے گزار دی۔ جب مسند ِعلم پر جلوہ افروز ہوتے اور اپنے ہر قول پر رسولِ اکرم ﷺکے فرامین بیان کرتےتو امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی یاد تازہ ہوجاتی ،اور جب مُناظرے میں گستاخانِ مصطفیٰ ﷺ اور گستاخانِ صحابہ واہلِ بیت،واولیاء کو پچھاڑتےتو ایسا معلوم ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ کا شیر میدان میں آیا ہے اور مدِّ مقابل کو راہِ فرار کے علاوہ کوئی اور راستہ نظر نہ آتا۔ آپ ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ انتہائی منکسرالمزاج اور بااخلاق شخصیت کے حامل تھے۔ وعظ ونصیحت، مُناظرہ، مَحافلِ میلادکےلیے کبھی کسی سے معاوضےکےطلب گارنہ ہوئے۔ہرکام اللہ جل شانہ اوراس کےحبیبﷺکی رضاکےلیےہوتاتھا۔
آپ کی سیرت آج کے علما کےلیے مشعل راہ ہے۔
تاریخِ وصال:
قبلہ بیہقیِ وقت (66 سال، 8 ماہ 11 دن کی عمر میں) یکم جمادی الاخریٰ 1427ھ، مطابق27؍جون2006ء،بروز منگل، شب ِبدھ 8:45 پر عین اذانِ عشا کے وقت اپنے خالق ِحقیقی سے جا ملے۔
ماخذ:
’’ بیہقیِ وقت علامہ مفتی ابو الحسن محمد منظور احمد فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ‘‘، از: مفتی محمد اکرام المحسن فیضی، شائع کردۂ انجمن ضیائے طیبہ، کراچی، جون 2007ء۔
https://scholars.pk/ur/scholar/manzoor-ahmad-faizi-allama-mufti-muhammad
scholars.pk
Mufti Manzoor Ahmed Faizi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Manzoor Ahmad Faizi, Allama Mufti Muhammad
❤1