🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-05-1445 ᴴ | 14-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-05-1445 ᴴ | 14-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
استاد العلماءحضرت مولانا مفتی نجم الدین چھجڑو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
استاد العلماء مفتی نجم الدین بن مولوی حاجی محمد موسیٰ چھجڑو گوٹھ جھلو ضلع دادو سندھ میں ۱۹۴۱ء کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
مدرسہ عین العلوم امینانی شریف ( ضلع دادو ) میں حضرت علامہ مفتی سید امیر محمد شاہ حسینی سے نصاب پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے ۔ آپ کے والد بھی علامہ امیر محمد شاہ کے شاگرد تھے ۔
بیعت:
آپ غالبا اپنے استاد محترم سید امیر محمد شاہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں دست بیعت تھے ۔
درس و تدریس:
درس و تدریس کا آغاز مادرعلمی سے کیا اس کے بعد کنری ( ضلع عمر کوٹ ) کے مدرسہ میں درس دیا ۔ بعد ازاں اپنے گوٹھ جھلو میں قیام کیا جہاں امامت ، خطابت درس و تدریس اور فتویٰ نویسی جیسی علمی خدمات سے تاحیات وابستہ رہے ۔
تصنیف و تالیف:
اس سلسلہ میں فی الحال فتاویٰ کا علم ہوا ہے جو کہ مجموعہ کی صورت میں جمع ہے ترتیب و تدوین کا کام ابھی باقی ہے ۔
شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس میں سے ایک ہی بیٹا تولد ہوا جو کہ والد کی مسند سنبھالے ہوئے ہیں ۔
٭ مولانا قمر الدین چھجڑو
وصال:
مفتی نجم الدین نے ۳۰ جمادی الاول ۱۴۲۳ھ / ۱۱ اگست ۲۰۰۲ء بروز پیر بوقت دوپہر ۶۱ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ ( ڈاھاڈات دھنی ص ۲۰۰ )
آپ کی وصیت کے مطابق آپ کے استاد محترم کے صاحبزادے مولانا سید نذیر احمد شاہ نے نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور جھلو میں تدفین ہوئی ۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-najmuddin-chajro
ولادت:
استاد العلماء مفتی نجم الدین بن مولوی حاجی محمد موسیٰ چھجڑو گوٹھ جھلو ضلع دادو سندھ میں ۱۹۴۱ء کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
مدرسہ عین العلوم امینانی شریف ( ضلع دادو ) میں حضرت علامہ مفتی سید امیر محمد شاہ حسینی سے نصاب پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے ۔ آپ کے والد بھی علامہ امیر محمد شاہ کے شاگرد تھے ۔
بیعت:
آپ غالبا اپنے استاد محترم سید امیر محمد شاہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں دست بیعت تھے ۔
درس و تدریس:
درس و تدریس کا آغاز مادرعلمی سے کیا اس کے بعد کنری ( ضلع عمر کوٹ ) کے مدرسہ میں درس دیا ۔ بعد ازاں اپنے گوٹھ جھلو میں قیام کیا جہاں امامت ، خطابت درس و تدریس اور فتویٰ نویسی جیسی علمی خدمات سے تاحیات وابستہ رہے ۔
تصنیف و تالیف:
اس سلسلہ میں فی الحال فتاویٰ کا علم ہوا ہے جو کہ مجموعہ کی صورت میں جمع ہے ترتیب و تدوین کا کام ابھی باقی ہے ۔
شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس میں سے ایک ہی بیٹا تولد ہوا جو کہ والد کی مسند سنبھالے ہوئے ہیں ۔
٭ مولانا قمر الدین چھجڑو
وصال:
مفتی نجم الدین نے ۳۰ جمادی الاول ۱۴۲۳ھ / ۱۱ اگست ۲۰۰۲ء بروز پیر بوقت دوپہر ۶۱ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ ( ڈاھاڈات دھنی ص ۲۰۰ )
آپ کی وصیت کے مطابق آپ کے استاد محترم کے صاحبزادے مولانا سید نذیر احمد شاہ نے نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور جھلو میں تدفین ہوئی ۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-najmuddin-chajro
❤2
حضرت مولانا محمد نور احمد بدایونی
استاذ العلماء حضرت مولانا شاہ نور احمد ابن مولانا محمد شفیع ابن حضرت مولانا شاہ عبد الحمید قدست اسرارہم حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضل رسول بدایونی کے چچا زاد بھائی، ۱۲۳۰ھ میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
مولانا فیض احمد ابن مولانا حکیم گلام احمد ابن مولانا شمس الدین ابن مولانا محمد علی بحر العلوم بد ایونی قدس اللہ اسرارہم سے علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل کیے، مولانا فضل حق خیر آبادی سے متقدمین کی کتابیں پڑھیں، مدرسہ قادریہ بدایوں میں مدرس تھے، طلبہ پر بے حد شفقت فرماتے، غرباء و فقراء کی اعانت وصفِ خاص تھا ـ
بیعت:
اپنے چچا حضرت شاہ عین الحق عبد المجید قدس سرہٗ کے مرید تھے ـ
وصال:
جمادی الاولیٰ میں واصل بحق ہوئے، شیخ العصر مادۂ تاریخ ہے ـ
شاگرد:
تلامذہ میں حضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر جیسے بزرگ تھے ـ
اولاد:
اولاد کوئی نہ تھی ۔
( اکمل التاریخ جلد دوم )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-noor-ahmad-badayuni
استاذ العلماء حضرت مولانا شاہ نور احمد ابن مولانا محمد شفیع ابن حضرت مولانا شاہ عبد الحمید قدست اسرارہم حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضل رسول بدایونی کے چچا زاد بھائی، ۱۲۳۰ھ میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
مولانا فیض احمد ابن مولانا حکیم گلام احمد ابن مولانا شمس الدین ابن مولانا محمد علی بحر العلوم بد ایونی قدس اللہ اسرارہم سے علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل کیے، مولانا فضل حق خیر آبادی سے متقدمین کی کتابیں پڑھیں، مدرسہ قادریہ بدایوں میں مدرس تھے، طلبہ پر بے حد شفقت فرماتے، غرباء و فقراء کی اعانت وصفِ خاص تھا ـ
بیعت:
اپنے چچا حضرت شاہ عین الحق عبد المجید قدس سرہٗ کے مرید تھے ـ
وصال:
جمادی الاولیٰ میں واصل بحق ہوئے، شیخ العصر مادۂ تاریخ ہے ـ
شاگرد:
تلامذہ میں حضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر جیسے بزرگ تھے ـ
اولاد:
اولاد کوئی نہ تھی ۔
( اکمل التاریخ جلد دوم )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-noor-ahmad-badayuni
❤1
صاحبزادہ حضرت علامہ سید وجاہت رسول قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
[ ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کراچی ]
ولادت باسعادت:
آل نبی ، اولاد علی ، گل گلشن ِجیلانی حضرت سید وجاہت رسول قادری رضوی ۲۷ جمادی االاولیٰ ۱۳۵۸ھ / بمطابق ۱۶ جولائی ۱۹۳۹ء کو بنارس میں پیدا ہوئے ۔
خاندانی حالات:
خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا سید ہدایت رسول قادری جو کہ بے مثال مناظر ، محقق، مصنف، واعظ اور شاعر تھے، آپ کے جدِ امجد ہیں ۔ جب کہ آپ کے والدِ ماجد مولانا سید وزارت رسول حامدی، جانشینِ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا شاہ محمد حامد رضا خاں بریلوی کے مرید، شاگرد اور خلیفہ ہونے کا شرف رکھتے تھے ۔
تعلیم و تربیت:
قرآن مجید ناظرہ اور اردو کی ابتدائی تعلیم والدہ ماجدہ سے گھر میں ہی حاصل کی ۔ والدہ ماجدہ بھی شعری ذوق کی حامل اور حضور حجۃ الاسلام سے شرف بیعت رکھتی تھیں ۔
کچھ عرصہ دار العلوم حمدیہ رضویہ میں زیر تعلیم رہے ۔ پھر والدِ ماجد جب بسلسلہ ملازمت راج شاہی، مشترقی پاکستان چلے گئے تو آپ بھی ان کے ساتھ تھے، میٹرک وہیں پر کیا ۔ بی ، اے آنرز اکنامکس گورنمنٹ کالج ڈھاکہ سے کیا ۔
۱۹۶۳ء میں راج شاہی یونیورسٹی سے ایم ، اے معاشیات کیا ۔ ۱۹۶۴ء میں کراچی تشریف لے آئے ۔ علم دین سے محبت کی یہ لائقِ تقلید مثال دیکھئے کہ ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد فیض یافتۂ محدث اعظم پاکستان مولانا محمد نصر اللہ خاں افغانی علیہ الرحمہ سے عربی ، صرف و نحو ، قدوری اور بخاری شریف کا درس لیا ۔
علم وعمل میں جس کی وجاہت عظیم تر غم دے گئی ہے رحلتِ تاجِ فحول آہ
ازدواجی زندگی:
۷ اگست ۱۹۷۰ء کو آپ کا نکاح ہوا ، جب کہ نکاح خواں علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ تھے ۔
اولاد:
آپ کے دو بیٹے سید محمد سطوت رسول قادری اور سید محمد صولت رسول قادری ہیں ۔
تصنیف و تالیف:
آپ کی تصنیفات دو درجن کے لگ بھگ ہیں، جن میں سے چند نمایاں تصانیف کے نام یہ ہیں:
تصنیفات:
❶ اصلاحِ معاشرہ سیرتِ رسول کی روشنی میں ❷ رحمت عالم ﷺ امن واخوت کے عظیم داعی ❸ امام احمد رضا اور تحفظِ ختم نبوت ❹ کنز الایمان کی عرب دنیا میں پذیرائی ❺ اسوۂ حسنہ کے چراغ ❻ اہل تصوف کا تصورِ جہاد ❼ سفر نامہ قاہرہ ❽ سفر نامہ بنگلہ دیش ❾ فروغِ صبح تاباں ❿ ماہنامہ ’’ معارف ِ رضا ‘‘ کے اداریئے (دوجلد) ۔ وغیرہ .....
وصال:
پیر سید وجاہت رسول قادری رضوی ۳۰ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۱ ھ بمطابق ۲۶ جنوری ۲۰۲۰ء بروز اتوار عین بارہ بجے دوپہر دنیائے فانی سے رحلت فرما گئے ۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ [سورۃ البقرہ، آیت 156] ـ ترجمۂ کنز الایمان: ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ـ ترجمۂ کنز العرفان: ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/allama-syed-wajahat-rasool-qadri
[ ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کراچی ]
ولادت باسعادت:
آل نبی ، اولاد علی ، گل گلشن ِجیلانی حضرت سید وجاہت رسول قادری رضوی ۲۷ جمادی االاولیٰ ۱۳۵۸ھ / بمطابق ۱۶ جولائی ۱۹۳۹ء کو بنارس میں پیدا ہوئے ۔
خاندانی حالات:
خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا سید ہدایت رسول قادری جو کہ بے مثال مناظر ، محقق، مصنف، واعظ اور شاعر تھے، آپ کے جدِ امجد ہیں ۔ جب کہ آپ کے والدِ ماجد مولانا سید وزارت رسول حامدی، جانشینِ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا شاہ محمد حامد رضا خاں بریلوی کے مرید، شاگرد اور خلیفہ ہونے کا شرف رکھتے تھے ۔
تعلیم و تربیت:
قرآن مجید ناظرہ اور اردو کی ابتدائی تعلیم والدہ ماجدہ سے گھر میں ہی حاصل کی ۔ والدہ ماجدہ بھی شعری ذوق کی حامل اور حضور حجۃ الاسلام سے شرف بیعت رکھتی تھیں ۔
کچھ عرصہ دار العلوم حمدیہ رضویہ میں زیر تعلیم رہے ۔ پھر والدِ ماجد جب بسلسلہ ملازمت راج شاہی، مشترقی پاکستان چلے گئے تو آپ بھی ان کے ساتھ تھے، میٹرک وہیں پر کیا ۔ بی ، اے آنرز اکنامکس گورنمنٹ کالج ڈھاکہ سے کیا ۔
۱۹۶۳ء میں راج شاہی یونیورسٹی سے ایم ، اے معاشیات کیا ۔ ۱۹۶۴ء میں کراچی تشریف لے آئے ۔ علم دین سے محبت کی یہ لائقِ تقلید مثال دیکھئے کہ ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد فیض یافتۂ محدث اعظم پاکستان مولانا محمد نصر اللہ خاں افغانی علیہ الرحمہ سے عربی ، صرف و نحو ، قدوری اور بخاری شریف کا درس لیا ۔
علم وعمل میں جس کی وجاہت عظیم تر غم دے گئی ہے رحلتِ تاجِ فحول آہ
ازدواجی زندگی:
۷ اگست ۱۹۷۰ء کو آپ کا نکاح ہوا ، جب کہ نکاح خواں علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ تھے ۔
اولاد:
آپ کے دو بیٹے سید محمد سطوت رسول قادری اور سید محمد صولت رسول قادری ہیں ۔
تصنیف و تالیف:
آپ کی تصنیفات دو درجن کے لگ بھگ ہیں، جن میں سے چند نمایاں تصانیف کے نام یہ ہیں:
تصنیفات:
❶ اصلاحِ معاشرہ سیرتِ رسول کی روشنی میں ❷ رحمت عالم ﷺ امن واخوت کے عظیم داعی ❸ امام احمد رضا اور تحفظِ ختم نبوت ❹ کنز الایمان کی عرب دنیا میں پذیرائی ❺ اسوۂ حسنہ کے چراغ ❻ اہل تصوف کا تصورِ جہاد ❼ سفر نامہ قاہرہ ❽ سفر نامہ بنگلہ دیش ❾ فروغِ صبح تاباں ❿ ماہنامہ ’’ معارف ِ رضا ‘‘ کے اداریئے (دوجلد) ۔ وغیرہ .....
وصال:
پیر سید وجاہت رسول قادری رضوی ۳۰ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۱ ھ بمطابق ۲۶ جنوری ۲۰۲۰ء بروز اتوار عین بارہ بجے دوپہر دنیائے فانی سے رحلت فرما گئے ۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ [سورۃ البقرہ، آیت 156] ـ ترجمۂ کنز الایمان: ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ـ ترجمۂ کنز العرفان: ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/allama-syed-wajahat-rasool-qadri
scholars.pk
Allama Syed Wajahat Rasool Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
جمادی الاخریٰ مِیںۡ وِصَالۡ ( اِنتِقالۡ )
فرمانے وَالے چند مُنتَخبۡ بُزرگانِ دِینۡ
Join @islaamic_Knowledge
🗓️ ماہ جمادی الاخرٰی کے ایام 🗓️
یوم وصال | یوم وفات | یوم اعراس
Muhammad_Jamaluddin_Khan
فرمانے وَالے چند مُنتَخبۡ بُزرگانِ دِینۡ
Join @islaamic_Knowledge
🗓️ ماہ جمادی الاخرٰی کے ایام 🗓️
یوم وصال | یوم وفات | یوم اعراس
Muhammad_Jamaluddin_Khan
❤1
حضرت خواجہ ابو احمد ابدال چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ حسینی سادات عظام میں سے تھے اور حضرت خواجہ ابواسحاق شامی قدس سرہ کے خلیفہ اکبر تھے۔ ریاضت اور مجاہدہ میں بے مثال خوارق و کرامات میں لاثانی تھے، آپ کا لقب قدوۃ الدین تھا، ظاہری و باطنی حسن و جمال کے پیکر تھے۔ آپ کا منور چہرہ دور سے روشن نظر آتا، جس شخص کی نگاہ آپ کے چہرہ پر پڑتی دل و جاں سے محبت کرنے لگتا تھا، آپ کی جبیں نور افشاں سے نور الٰہی کی کرنیں پھوٹتی تھیں۔ رات کو گھر میں روشنی کے بغیر تشریف لاتے تو سارا گھر روشن ہوجاتا تھا آپ اندھیرے میں بیٹھتے تو قرآن پاک کے حروف اعراب سمیت نمایاں نظر آتے تذکرہ العاشقین اور سیر الاقطاب کے مصنفین نے لکھا ہے کہ خواجہ ابو احمد بادشاہ فرغانہ کے بیٹے تھے جو چشت کے شرفاء اور سادات حسینی سے تعلق رکھتے تھے، آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت حسن مثنیٰ سے ملتا ہے۔ ابو احمد بن سلطان فرغانہ سید ابراہیم بن سید یحییٰ بن سید حسن بن سید مجد المعالی المشہور بہ ابو المعالیبن سیدنا صرالدین بن سید عبداللہ بن سید امام حسن مثنیٰ بن امیر المومنین امام المتقین امام حسن بن علی المرتضیٰ اسد اللہ الغالب علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ۔
سلطان فرغانہ کی ایک بہن تھی، جو ولیہ عفیفہ اور صالحہ خاتون تھی، حضرت ابواسحاق شامی بسا اوقات ان کے گھر جاتے، اور کھانا بھی کھاتے ایک دن آپ نے انہیں فرمایا کہ تمہارے بھائی کو اللہ تعالیٰ ایک بیٹا دے گا اور اس کی تم پرورش کرنا، اس کے پیٹ میں مشکوک خوراک نہ جانے دینا۔ سلطان کی ہمشیرہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ ان کی بھابھی حاملہ ہے تو اس کی خوراک کی نگرانی کرنے لگی، آخر بتاریخ ششم ماہ رمضان ۲۶۰ھ کو یہ بچہ خلیفہ معتصم باللہ کے دور حکومت میں پیدا ہوا۔ جب آپ کی عمر سات سال ہوئی تو حضرت ابواسحاق کی مجلس میں حاضر ہوئے۔ ظاہری باطنی تعلیم لی اور حضرت خواجہ سے مستفیض ہوتے رہے، سولہ سال کی عمر میں ظاہری علوم سے فارغ ہوئے تو حضرت نے بیعت فرمالیا۔ اور خلوت کدہ میں ریاضت میں لگا دیا، بڑے مجاہدے کیے چنانچہ سات روز بعد کھانا کھاتے، وضو کرتے اور تین لقموں سے زیادہ نہ کھاتے۔ چالیس دنوں بعد حاجت انسانی کے لیے باہر جاتے۔
ایک دن خواجہ ابو احمد چشتی اپنے والد گرامی کے ہمراہ پہاڑوں پر شکار کھیلنے چلے گئے اتفاقاً والد اور ان کے ساتھیوں سے جدا ہوگئے اور پہاڑوں میں راستہ بھول گئے۔ رجال الغیب سے چالیس افراد ایک چٹان پر کھڑے تھے اور خواجہ ابو اسحاق شامی بھی انہی کے درمیان کھڑے تھے۔ حضرت خواجہ کو پہچان کر گھوڑے سے اُتر آئے۔ قدم بوسی کی اسلحہ اور گھوڑا تن سے علیحدہ کیے اور خواجہ کی رکاب پکڑ کر پیدل چلنے لگے، آپ کے باپ نے اور ان کے لشکر نے پہاڑوں میں آپ کو بڑا تلاش کیا، مگر نوجوان ابواحمد کا کہیں پتہ نہ چلا، چند دنوں بعد خبر ملی کہ ابو احمد فلاں موضع میں حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی قدس سرہ کی خدمت میں موجود ہے۔ بادشاہ نے چند آدمیوں کو بھیجا کہ انہیں لے آئیں، مگر ان کی ساری پند و نصیحت کے باوجود ابو احمد نے حضرت شامی کی مجلس سے جانا پسند نہ کیا آٹھ سال تک محنت شاقہ سے گزرے خرقہ خلافت حاصل کیا، تیس سال تک کبھی بستر پر آرام نہیں کیا۔
حضرت خواجہ ابو احمد جس پر ایک بار نگاہ ڈالتے وہ صاحب کرامت بن جاتا اگر مریض کو ایک بار دیکھ لیتے تو شفایاب ہوجاتا۔ سماع کے وقت آپ کی جبیں سے خصوصی نور ظاہر ہوتا۔ جس کی شعاعیں آسمانوں کو چھوتیں، حضرت ابو احمد کی کرامات کی شہرت مشرق و مغرب میں پھیلی، تو علماء عصر کو آپ سے حسد ہونے لگا، آپ کے سماع کی مجالس کے خلاف فتوی بازی ہونے لگی، ایک محضرنامہ تیار کیا گیا، اور امیر نصیر جو حاکم عادل بھی تھا، اور آپ کا حقیقی ماموں بھی آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا، حضرت خواجہ کی مجلس سماع کی برائیاں بیان کی گئیں، امیر نے ملک بھر کے علماء کی ایک مجلس بلائی جس میں کئی ہزار علماء جمع ہوئے، خواجہ ابو احمد کو بھی اس مجلس میں پیش کیا گیا، حضرت خواجہ یہ خبر سن کر خرقہ خلافت پہنے گھوڑے پر سوار ہوکر امیر کے دربار میں پہنچے آپ کے ساتھ ایک خادم محمد خدا بندہ نامی تھا۔ جسے سورۃ فاتحہ اور سورۂ اخلاص کے علاوہ قرآن سے کچھ یاد نہیں تھا، امیر نصیر کی بارگاہ میں پہنچے، آپ کی تشریف آوری سے پہلے تمام علماء اور حاسدین کا یہ ارادہ تھا کہ جب خواجہ ابو احمد آئیں تو کوئی شخص نہ استقبال کے لیے جائے اور نہ احترام میں اٹھے مگرایسا ہوا کہ جب خواجہ مجلس کے پاس آئے تو تمام علماء تعظیم کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ بعض نے آگے بڑھ کر استقبال بھی کیا مجلس میں لاکر ایک بلند مسند پر بٹھایا گیا، اور مسئلہ سماع پر گفتگو شروع کردی، جب علماء کرام اپنا نکتہ نظر بیان کرچکے اور اپنے اپنے اعتراضات کی تفصیل سنا چکے تو حضرت خواجہ ابو احمد نے اپنے خادم محمد بند ہ کو اشارہ فرمایا کہ ان علماء کرام کے اعتراضات کا جواب دو، خادم ان پڑھ تھا، مگر اسے یوں محسوس ہوا جیسے آج وہ سب سے زیادہ عالم اور فاضل ہے،
آپ حسینی سادات عظام میں سے تھے اور حضرت خواجہ ابواسحاق شامی قدس سرہ کے خلیفہ اکبر تھے۔ ریاضت اور مجاہدہ میں بے مثال خوارق و کرامات میں لاثانی تھے، آپ کا لقب قدوۃ الدین تھا، ظاہری و باطنی حسن و جمال کے پیکر تھے۔ آپ کا منور چہرہ دور سے روشن نظر آتا، جس شخص کی نگاہ آپ کے چہرہ پر پڑتی دل و جاں سے محبت کرنے لگتا تھا، آپ کی جبیں نور افشاں سے نور الٰہی کی کرنیں پھوٹتی تھیں۔ رات کو گھر میں روشنی کے بغیر تشریف لاتے تو سارا گھر روشن ہوجاتا تھا آپ اندھیرے میں بیٹھتے تو قرآن پاک کے حروف اعراب سمیت نمایاں نظر آتے تذکرہ العاشقین اور سیر الاقطاب کے مصنفین نے لکھا ہے کہ خواجہ ابو احمد بادشاہ فرغانہ کے بیٹے تھے جو چشت کے شرفاء اور سادات حسینی سے تعلق رکھتے تھے، آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت حسن مثنیٰ سے ملتا ہے۔ ابو احمد بن سلطان فرغانہ سید ابراہیم بن سید یحییٰ بن سید حسن بن سید مجد المعالی المشہور بہ ابو المعالیبن سیدنا صرالدین بن سید عبداللہ بن سید امام حسن مثنیٰ بن امیر المومنین امام المتقین امام حسن بن علی المرتضیٰ اسد اللہ الغالب علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ۔
سلطان فرغانہ کی ایک بہن تھی، جو ولیہ عفیفہ اور صالحہ خاتون تھی، حضرت ابواسحاق شامی بسا اوقات ان کے گھر جاتے، اور کھانا بھی کھاتے ایک دن آپ نے انہیں فرمایا کہ تمہارے بھائی کو اللہ تعالیٰ ایک بیٹا دے گا اور اس کی تم پرورش کرنا، اس کے پیٹ میں مشکوک خوراک نہ جانے دینا۔ سلطان کی ہمشیرہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ ان کی بھابھی حاملہ ہے تو اس کی خوراک کی نگرانی کرنے لگی، آخر بتاریخ ششم ماہ رمضان ۲۶۰ھ کو یہ بچہ خلیفہ معتصم باللہ کے دور حکومت میں پیدا ہوا۔ جب آپ کی عمر سات سال ہوئی تو حضرت ابواسحاق کی مجلس میں حاضر ہوئے۔ ظاہری باطنی تعلیم لی اور حضرت خواجہ سے مستفیض ہوتے رہے، سولہ سال کی عمر میں ظاہری علوم سے فارغ ہوئے تو حضرت نے بیعت فرمالیا۔ اور خلوت کدہ میں ریاضت میں لگا دیا، بڑے مجاہدے کیے چنانچہ سات روز بعد کھانا کھاتے، وضو کرتے اور تین لقموں سے زیادہ نہ کھاتے۔ چالیس دنوں بعد حاجت انسانی کے لیے باہر جاتے۔
ایک دن خواجہ ابو احمد چشتی اپنے والد گرامی کے ہمراہ پہاڑوں پر شکار کھیلنے چلے گئے اتفاقاً والد اور ان کے ساتھیوں سے جدا ہوگئے اور پہاڑوں میں راستہ بھول گئے۔ رجال الغیب سے چالیس افراد ایک چٹان پر کھڑے تھے اور خواجہ ابو اسحاق شامی بھی انہی کے درمیان کھڑے تھے۔ حضرت خواجہ کو پہچان کر گھوڑے سے اُتر آئے۔ قدم بوسی کی اسلحہ اور گھوڑا تن سے علیحدہ کیے اور خواجہ کی رکاب پکڑ کر پیدل چلنے لگے، آپ کے باپ نے اور ان کے لشکر نے پہاڑوں میں آپ کو بڑا تلاش کیا، مگر نوجوان ابواحمد کا کہیں پتہ نہ چلا، چند دنوں بعد خبر ملی کہ ابو احمد فلاں موضع میں حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی قدس سرہ کی خدمت میں موجود ہے۔ بادشاہ نے چند آدمیوں کو بھیجا کہ انہیں لے آئیں، مگر ان کی ساری پند و نصیحت کے باوجود ابو احمد نے حضرت شامی کی مجلس سے جانا پسند نہ کیا آٹھ سال تک محنت شاقہ سے گزرے خرقہ خلافت حاصل کیا، تیس سال تک کبھی بستر پر آرام نہیں کیا۔
حضرت خواجہ ابو احمد جس پر ایک بار نگاہ ڈالتے وہ صاحب کرامت بن جاتا اگر مریض کو ایک بار دیکھ لیتے تو شفایاب ہوجاتا۔ سماع کے وقت آپ کی جبیں سے خصوصی نور ظاہر ہوتا۔ جس کی شعاعیں آسمانوں کو چھوتیں، حضرت ابو احمد کی کرامات کی شہرت مشرق و مغرب میں پھیلی، تو علماء عصر کو آپ سے حسد ہونے لگا، آپ کے سماع کی مجالس کے خلاف فتوی بازی ہونے لگی، ایک محضرنامہ تیار کیا گیا، اور امیر نصیر جو حاکم عادل بھی تھا، اور آپ کا حقیقی ماموں بھی آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا، حضرت خواجہ کی مجلس سماع کی برائیاں بیان کی گئیں، امیر نے ملک بھر کے علماء کی ایک مجلس بلائی جس میں کئی ہزار علماء جمع ہوئے، خواجہ ابو احمد کو بھی اس مجلس میں پیش کیا گیا، حضرت خواجہ یہ خبر سن کر خرقہ خلافت پہنے گھوڑے پر سوار ہوکر امیر کے دربار میں پہنچے آپ کے ساتھ ایک خادم محمد خدا بندہ نامی تھا۔ جسے سورۃ فاتحہ اور سورۂ اخلاص کے علاوہ قرآن سے کچھ یاد نہیں تھا، امیر نصیر کی بارگاہ میں پہنچے، آپ کی تشریف آوری سے پہلے تمام علماء اور حاسدین کا یہ ارادہ تھا کہ جب خواجہ ابو احمد آئیں تو کوئی شخص نہ استقبال کے لیے جائے اور نہ احترام میں اٹھے مگرایسا ہوا کہ جب خواجہ مجلس کے پاس آئے تو تمام علماء تعظیم کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ بعض نے آگے بڑھ کر استقبال بھی کیا مجلس میں لاکر ایک بلند مسند پر بٹھایا گیا، اور مسئلہ سماع پر گفتگو شروع کردی، جب علماء کرام اپنا نکتہ نظر بیان کرچکے اور اپنے اپنے اعتراضات کی تفصیل سنا چکے تو حضرت خواجہ ابو احمد نے اپنے خادم محمد بند ہ کو اشارہ فرمایا کہ ان علماء کرام کے اعتراضات کا جواب دو، خادم ان پڑھ تھا، مگر اسے یوں محسوس ہوا جیسے آج وہ سب سے زیادہ عالم اور فاضل ہے،
❤1