Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-05-1445 ᴴ | 14-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-05-1445 ᴴ | 14-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
استاد العلماءحضرت مولانا مفتی نجم الدین چھجڑو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
استاد العلماء مفتی نجم الدین بن مولوی حاجی محمد موسیٰ چھجڑو گوٹھ جھلو ضلع دادو سندھ میں ۱۹۴۱ء کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
مدرسہ عین العلوم امینانی شریف ( ضلع دادو ) میں حضرت علامہ مفتی سید امیر محمد شاہ حسینی سے نصاب پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے ۔ آپ کے والد بھی علامہ امیر محمد شاہ کے شاگرد تھے ۔
بیعت:
آپ غالبا اپنے استاد محترم سید امیر محمد شاہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں دست بیعت تھے ۔
درس و تدریس:
درس و تدریس کا آغاز مادرعلمی سے کیا اس کے بعد کنری ( ضلع عمر کوٹ ) کے مدرسہ میں درس دیا ۔ بعد ازاں اپنے گوٹھ جھلو میں قیام کیا جہاں امامت ، خطابت درس و تدریس اور فتویٰ نویسی جیسی علمی خدمات سے تاحیات وابستہ رہے ۔
تصنیف و تالیف:
اس سلسلہ میں فی الحال فتاویٰ کا علم ہوا ہے جو کہ مجموعہ کی صورت میں جمع ہے ترتیب و تدوین کا کام ابھی باقی ہے ۔
شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس میں سے ایک ہی بیٹا تولد ہوا جو کہ والد کی مسند سنبھالے ہوئے ہیں ۔
٭ مولانا قمر الدین چھجڑو
وصال:
مفتی نجم الدین نے ۳۰ جمادی الاول ۱۴۲۳ھ / ۱۱ اگست ۲۰۰۲ء بروز پیر بوقت دوپہر ۶۱ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ ( ڈاھاڈات دھنی ص ۲۰۰ )
آپ کی وصیت کے مطابق آپ کے استاد محترم کے صاحبزادے مولانا سید نذیر احمد شاہ نے نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور جھلو میں تدفین ہوئی ۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-najmuddin-chajro
ولادت:
استاد العلماء مفتی نجم الدین بن مولوی حاجی محمد موسیٰ چھجڑو گوٹھ جھلو ضلع دادو سندھ میں ۱۹۴۱ء کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
مدرسہ عین العلوم امینانی شریف ( ضلع دادو ) میں حضرت علامہ مفتی سید امیر محمد شاہ حسینی سے نصاب پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے ۔ آپ کے والد بھی علامہ امیر محمد شاہ کے شاگرد تھے ۔
بیعت:
آپ غالبا اپنے استاد محترم سید امیر محمد شاہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں دست بیعت تھے ۔
درس و تدریس:
درس و تدریس کا آغاز مادرعلمی سے کیا اس کے بعد کنری ( ضلع عمر کوٹ ) کے مدرسہ میں درس دیا ۔ بعد ازاں اپنے گوٹھ جھلو میں قیام کیا جہاں امامت ، خطابت درس و تدریس اور فتویٰ نویسی جیسی علمی خدمات سے تاحیات وابستہ رہے ۔
تصنیف و تالیف:
اس سلسلہ میں فی الحال فتاویٰ کا علم ہوا ہے جو کہ مجموعہ کی صورت میں جمع ہے ترتیب و تدوین کا کام ابھی باقی ہے ۔
شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس میں سے ایک ہی بیٹا تولد ہوا جو کہ والد کی مسند سنبھالے ہوئے ہیں ۔
٭ مولانا قمر الدین چھجڑو
وصال:
مفتی نجم الدین نے ۳۰ جمادی الاول ۱۴۲۳ھ / ۱۱ اگست ۲۰۰۲ء بروز پیر بوقت دوپہر ۶۱ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ ( ڈاھاڈات دھنی ص ۲۰۰ )
آپ کی وصیت کے مطابق آپ کے استاد محترم کے صاحبزادے مولانا سید نذیر احمد شاہ نے نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور جھلو میں تدفین ہوئی ۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-najmuddin-chajro
❤2
حضرت مولانا محمد نور احمد بدایونی
استاذ العلماء حضرت مولانا شاہ نور احمد ابن مولانا محمد شفیع ابن حضرت مولانا شاہ عبد الحمید قدست اسرارہم حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضل رسول بدایونی کے چچا زاد بھائی، ۱۲۳۰ھ میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
مولانا فیض احمد ابن مولانا حکیم گلام احمد ابن مولانا شمس الدین ابن مولانا محمد علی بحر العلوم بد ایونی قدس اللہ اسرارہم سے علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل کیے، مولانا فضل حق خیر آبادی سے متقدمین کی کتابیں پڑھیں، مدرسہ قادریہ بدایوں میں مدرس تھے، طلبہ پر بے حد شفقت فرماتے، غرباء و فقراء کی اعانت وصفِ خاص تھا ـ
بیعت:
اپنے چچا حضرت شاہ عین الحق عبد المجید قدس سرہٗ کے مرید تھے ـ
وصال:
جمادی الاولیٰ میں واصل بحق ہوئے، شیخ العصر مادۂ تاریخ ہے ـ
شاگرد:
تلامذہ میں حضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر جیسے بزرگ تھے ـ
اولاد:
اولاد کوئی نہ تھی ۔
( اکمل التاریخ جلد دوم )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-noor-ahmad-badayuni
استاذ العلماء حضرت مولانا شاہ نور احمد ابن مولانا محمد شفیع ابن حضرت مولانا شاہ عبد الحمید قدست اسرارہم حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضل رسول بدایونی کے چچا زاد بھائی، ۱۲۳۰ھ میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
مولانا فیض احمد ابن مولانا حکیم گلام احمد ابن مولانا شمس الدین ابن مولانا محمد علی بحر العلوم بد ایونی قدس اللہ اسرارہم سے علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل کیے، مولانا فضل حق خیر آبادی سے متقدمین کی کتابیں پڑھیں، مدرسہ قادریہ بدایوں میں مدرس تھے، طلبہ پر بے حد شفقت فرماتے، غرباء و فقراء کی اعانت وصفِ خاص تھا ـ
بیعت:
اپنے چچا حضرت شاہ عین الحق عبد المجید قدس سرہٗ کے مرید تھے ـ
وصال:
جمادی الاولیٰ میں واصل بحق ہوئے، شیخ العصر مادۂ تاریخ ہے ـ
شاگرد:
تلامذہ میں حضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر جیسے بزرگ تھے ـ
اولاد:
اولاد کوئی نہ تھی ۔
( اکمل التاریخ جلد دوم )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-noor-ahmad-badayuni
❤1
صاحبزادہ حضرت علامہ سید وجاہت رسول قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
[ ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کراچی ]
ولادت باسعادت:
آل نبی ، اولاد علی ، گل گلشن ِجیلانی حضرت سید وجاہت رسول قادری رضوی ۲۷ جمادی االاولیٰ ۱۳۵۸ھ / بمطابق ۱۶ جولائی ۱۹۳۹ء کو بنارس میں پیدا ہوئے ۔
خاندانی حالات:
خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا سید ہدایت رسول قادری جو کہ بے مثال مناظر ، محقق، مصنف، واعظ اور شاعر تھے، آپ کے جدِ امجد ہیں ۔ جب کہ آپ کے والدِ ماجد مولانا سید وزارت رسول حامدی، جانشینِ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا شاہ محمد حامد رضا خاں بریلوی کے مرید، شاگرد اور خلیفہ ہونے کا شرف رکھتے تھے ۔
تعلیم و تربیت:
قرآن مجید ناظرہ اور اردو کی ابتدائی تعلیم والدہ ماجدہ سے گھر میں ہی حاصل کی ۔ والدہ ماجدہ بھی شعری ذوق کی حامل اور حضور حجۃ الاسلام سے شرف بیعت رکھتی تھیں ۔
کچھ عرصہ دار العلوم حمدیہ رضویہ میں زیر تعلیم رہے ۔ پھر والدِ ماجد جب بسلسلہ ملازمت راج شاہی، مشترقی پاکستان چلے گئے تو آپ بھی ان کے ساتھ تھے، میٹرک وہیں پر کیا ۔ بی ، اے آنرز اکنامکس گورنمنٹ کالج ڈھاکہ سے کیا ۔
۱۹۶۳ء میں راج شاہی یونیورسٹی سے ایم ، اے معاشیات کیا ۔ ۱۹۶۴ء میں کراچی تشریف لے آئے ۔ علم دین سے محبت کی یہ لائقِ تقلید مثال دیکھئے کہ ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد فیض یافتۂ محدث اعظم پاکستان مولانا محمد نصر اللہ خاں افغانی علیہ الرحمہ سے عربی ، صرف و نحو ، قدوری اور بخاری شریف کا درس لیا ۔
علم وعمل میں جس کی وجاہت عظیم تر غم دے گئی ہے رحلتِ تاجِ فحول آہ
ازدواجی زندگی:
۷ اگست ۱۹۷۰ء کو آپ کا نکاح ہوا ، جب کہ نکاح خواں علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ تھے ۔
اولاد:
آپ کے دو بیٹے سید محمد سطوت رسول قادری اور سید محمد صولت رسول قادری ہیں ۔
تصنیف و تالیف:
آپ کی تصنیفات دو درجن کے لگ بھگ ہیں، جن میں سے چند نمایاں تصانیف کے نام یہ ہیں:
تصنیفات:
❶ اصلاحِ معاشرہ سیرتِ رسول کی روشنی میں ❷ رحمت عالم ﷺ امن واخوت کے عظیم داعی ❸ امام احمد رضا اور تحفظِ ختم نبوت ❹ کنز الایمان کی عرب دنیا میں پذیرائی ❺ اسوۂ حسنہ کے چراغ ❻ اہل تصوف کا تصورِ جہاد ❼ سفر نامہ قاہرہ ❽ سفر نامہ بنگلہ دیش ❾ فروغِ صبح تاباں ❿ ماہنامہ ’’ معارف ِ رضا ‘‘ کے اداریئے (دوجلد) ۔ وغیرہ .....
وصال:
پیر سید وجاہت رسول قادری رضوی ۳۰ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۱ ھ بمطابق ۲۶ جنوری ۲۰۲۰ء بروز اتوار عین بارہ بجے دوپہر دنیائے فانی سے رحلت فرما گئے ۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ [سورۃ البقرہ، آیت 156] ـ ترجمۂ کنز الایمان: ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ـ ترجمۂ کنز العرفان: ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/allama-syed-wajahat-rasool-qadri
[ ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کراچی ]
ولادت باسعادت:
آل نبی ، اولاد علی ، گل گلشن ِجیلانی حضرت سید وجاہت رسول قادری رضوی ۲۷ جمادی االاولیٰ ۱۳۵۸ھ / بمطابق ۱۶ جولائی ۱۹۳۹ء کو بنارس میں پیدا ہوئے ۔
خاندانی حالات:
خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا سید ہدایت رسول قادری جو کہ بے مثال مناظر ، محقق، مصنف، واعظ اور شاعر تھے، آپ کے جدِ امجد ہیں ۔ جب کہ آپ کے والدِ ماجد مولانا سید وزارت رسول حامدی، جانشینِ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا شاہ محمد حامد رضا خاں بریلوی کے مرید، شاگرد اور خلیفہ ہونے کا شرف رکھتے تھے ۔
تعلیم و تربیت:
قرآن مجید ناظرہ اور اردو کی ابتدائی تعلیم والدہ ماجدہ سے گھر میں ہی حاصل کی ۔ والدہ ماجدہ بھی شعری ذوق کی حامل اور حضور حجۃ الاسلام سے شرف بیعت رکھتی تھیں ۔
کچھ عرصہ دار العلوم حمدیہ رضویہ میں زیر تعلیم رہے ۔ پھر والدِ ماجد جب بسلسلہ ملازمت راج شاہی، مشترقی پاکستان چلے گئے تو آپ بھی ان کے ساتھ تھے، میٹرک وہیں پر کیا ۔ بی ، اے آنرز اکنامکس گورنمنٹ کالج ڈھاکہ سے کیا ۔
۱۹۶۳ء میں راج شاہی یونیورسٹی سے ایم ، اے معاشیات کیا ۔ ۱۹۶۴ء میں کراچی تشریف لے آئے ۔ علم دین سے محبت کی یہ لائقِ تقلید مثال دیکھئے کہ ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد فیض یافتۂ محدث اعظم پاکستان مولانا محمد نصر اللہ خاں افغانی علیہ الرحمہ سے عربی ، صرف و نحو ، قدوری اور بخاری شریف کا درس لیا ۔
علم وعمل میں جس کی وجاہت عظیم تر غم دے گئی ہے رحلتِ تاجِ فحول آہ
ازدواجی زندگی:
۷ اگست ۱۹۷۰ء کو آپ کا نکاح ہوا ، جب کہ نکاح خواں علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ تھے ۔
اولاد:
آپ کے دو بیٹے سید محمد سطوت رسول قادری اور سید محمد صولت رسول قادری ہیں ۔
تصنیف و تالیف:
آپ کی تصنیفات دو درجن کے لگ بھگ ہیں، جن میں سے چند نمایاں تصانیف کے نام یہ ہیں:
تصنیفات:
❶ اصلاحِ معاشرہ سیرتِ رسول کی روشنی میں ❷ رحمت عالم ﷺ امن واخوت کے عظیم داعی ❸ امام احمد رضا اور تحفظِ ختم نبوت ❹ کنز الایمان کی عرب دنیا میں پذیرائی ❺ اسوۂ حسنہ کے چراغ ❻ اہل تصوف کا تصورِ جہاد ❼ سفر نامہ قاہرہ ❽ سفر نامہ بنگلہ دیش ❾ فروغِ صبح تاباں ❿ ماہنامہ ’’ معارف ِ رضا ‘‘ کے اداریئے (دوجلد) ۔ وغیرہ .....
وصال:
پیر سید وجاہت رسول قادری رضوی ۳۰ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۱ ھ بمطابق ۲۶ جنوری ۲۰۲۰ء بروز اتوار عین بارہ بجے دوپہر دنیائے فانی سے رحلت فرما گئے ۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ [سورۃ البقرہ، آیت 156] ـ ترجمۂ کنز الایمان: ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ـ ترجمۂ کنز العرفان: ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/allama-syed-wajahat-rasool-qadri
scholars.pk
Allama Syed Wajahat Rasool Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1