🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-05-1445 ᴴ | 12-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-05-1445 ᴴ | 12-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حاجی محمد افضل [1] بن شیخ محمد معصوم بن شیخ احمد مجدد الف ثانی:
محدث ثقہ، عالم ماہر، فاضل متجر اولیائے نامدار تھے، بعد تحصیل علوم ظاہری کے شیخ حجۃ اللہ نقشبند کے مرید ہوئے اور دس سال تک ان سے فیوض باطنی حاصل کیے پھر شیخ عبد الاحد خلیفہ شیخ احمد سعید سے ولایت کا شرف حاصل کیا ـ
بعد ازاں حرمین شریفین کی زیارت کو تشریف لے گئے اور وہاں سے فیوضات بے شمار اور فتوحات عظیم کے ساتھ واپس آکر تدریس علوم دینی اور تلقین اسرار باطنی میں مصروف ہوئے ـ
چنانچہ مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے علم حدیث کی سند آپ سے حاصل کی ۔ آپ کا یہ طریقہ تھا کہ جو شخص کچھ نقد بطور تحفہ و ہدیہ کے لاتا تو آپ اس سے ہر فن کی کتابیں خرید کر کے وقف کر دیتے ـ
چنانچہ ایک دفعہ آپ کو پندرہ ہزار روپیہ بطور تحفہ کے آیا، آپ نے سب کی کتابیں خرید کر کے وقف کر دیں ۔
وصال:
وفات آپ کی ۱۱۴۶ھ میں ہوئی ۔ ’’ نور فیض ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
1۔ حاجی محمد افضل شیخ محمد معصول کے بیٹے نہیں مرید اور خلیفہ تھے ۔ ’’ مقامات خیر ‘‘ تذکرۂ علمائے ہند (مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/haji-muhammad-afzal-mujaddadi
محدث ثقہ، عالم ماہر، فاضل متجر اولیائے نامدار تھے، بعد تحصیل علوم ظاہری کے شیخ حجۃ اللہ نقشبند کے مرید ہوئے اور دس سال تک ان سے فیوض باطنی حاصل کیے پھر شیخ عبد الاحد خلیفہ شیخ احمد سعید سے ولایت کا شرف حاصل کیا ـ
بعد ازاں حرمین شریفین کی زیارت کو تشریف لے گئے اور وہاں سے فیوضات بے شمار اور فتوحات عظیم کے ساتھ واپس آکر تدریس علوم دینی اور تلقین اسرار باطنی میں مصروف ہوئے ـ
چنانچہ مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے علم حدیث کی سند آپ سے حاصل کی ۔ آپ کا یہ طریقہ تھا کہ جو شخص کچھ نقد بطور تحفہ و ہدیہ کے لاتا تو آپ اس سے ہر فن کی کتابیں خرید کر کے وقف کر دیتے ـ
چنانچہ ایک دفعہ آپ کو پندرہ ہزار روپیہ بطور تحفہ کے آیا، آپ نے سب کی کتابیں خرید کر کے وقف کر دیں ۔
وصال:
وفات آپ کی ۱۱۴۶ھ میں ہوئی ۔ ’’ نور فیض ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
1۔ حاجی محمد افضل شیخ محمد معصول کے بیٹے نہیں مرید اور خلیفہ تھے ۔ ’’ مقامات خیر ‘‘ تذکرۂ علمائے ہند (مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/haji-muhammad-afzal-mujaddadi
❤2
خزائن الرحمت حضرت شیخ محمد سعید بن شیخ احمد بن عبد الاحد سرہندی علیہ الرحمہ
آپ کا لقب خازن الرحمہ تھا ـ
آپ علیہ الرحمہ بڑے محدث، فقیہ، عالم، فاضل، زاہد، عابد صاحب کرامات تھے ـ
علوم نقلیہ و رسمیہ اپنے والد ماجد مجدد الفِ ثانی سے حاصل کیے اور انہیں سے علمِ طریقت کو اخذ کیا اور مشکوٰۃ شریف پر حاشیہ لکھا ـ
وصال:
۱۰۷۰ھ میں وفات پائی ۔
’’ حوضِ نور ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ahmad-saeed-sarhandi
آپ کا لقب خازن الرحمہ تھا ـ
آپ علیہ الرحمہ بڑے محدث، فقیہ، عالم، فاضل، زاہد، عابد صاحب کرامات تھے ـ
علوم نقلیہ و رسمیہ اپنے والد ماجد مجدد الفِ ثانی سے حاصل کیے اور انہیں سے علمِ طریقت کو اخذ کیا اور مشکوٰۃ شریف پر حاشیہ لکھا ـ
وصال:
۱۰۷۰ھ میں وفات پائی ۔
’’ حوضِ نور ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ahmad-saeed-sarhandi
❤2
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا
تعارف:
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سب سے بڑے بیٹے حضرت سیدنا عبد اللہ بن ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سگی بہن ہیں اور آپ ہی حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سب سے بڑی بیٹی ہیں ـ
ذات النطاقین کا لقب:
ہجرت کے موقع پر زادِ سفر باندھنے کے لیے کوئی کپڑا نہ تھا آپ نے ہی اپنے کمر بند کے دو ٹکڑے کر کے باندھا تھا، اس وقت سے آپ ذَاتُ النَطَاقَیْن کے لقب سے مشہور ہو گئیں ۔
حضرت سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے مکہ مکرمہ میں نکاح کیا جس سے متعدد اولاد ہوئی ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سو سال عمر پائی آخری عمر میں بینائی جاتی رہی اور مکہ مکر مہ میں وصال ہوا ۔
آپ کے بیٹے حضرت سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شہنشاہِ مدینہ، قرار قلب و سینہ صلی اللہ وسلم کی زیارت کی اور مقام صحابیت پر فائز ہوئے ۔
اسماء دختر ابو بکر الصدیق (ابو بکر کا نام عبد اللہ بن عثمان تھا) قرشیہ، تیمیہ جو زبیر بن عوام کی زوجہ، عبداللہ بن زبیر کی والدہ اور ذوالنطاقین کے لقب سے ملقب تھیں، ان کی والدہ کا نام قیلہ یا قتیلہ دختر عبد العزی بن اسعد بن جابر بن مالک بن حسل بن عامر لوئی تھا ـ
جناب اسماء حضرت عائشہ کی سوتیلی بہن تھیں، اور عمر میں ان سے بڑی تھیں، اسی طرح عبد اللہ بن ابو بکر ان کے سوتیلے بھائی تھے، بقول ابو نعیم وہ ہجرت سے ستائیس سال پہلے پیدا ہوئیں، ان کی پیدائش کے وقت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی عمر بیس سے کچھ اوپر تھی، جناب اسماء سترہ آدمیوں کے بعد ایمان لائیں، جب انہوں نے ہجرت کی، توحاملہ تھیں، اور جب قبا میں پہنچیں تو عبد اللہ بن زبیر پیدا ہوئے ۔
ذات النطاقین کی وجہ یہ تھی، کہ ہجرت کی رات کو انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کے لئے کھانا تیار کیا، اسے باندھنے کے لئے گھر میں کوئی چیز موجود نہ تھی، جناب اسماء نے اپنی اوڑھنی کے دو حصّے کئے، ایک میں کھانا باندھا اور دوسرا سر پر اوڑھ لیا، اس پر آپ نے ان کے اس انداز کو پسند فرما کر یہ لقب عطا کیا، کچھ عرصے کے بعد زبیر نے انہیں طلاق دے دی، اور یہ اپنے بیٹے عبد اللہ کے پاس رہائش پذیر ہو گئیں ۔
ان کی طلاق کے بارے میں اختلاف ہے، ایک روایت میں ہے، کہ ایک دن عبد اللہ نے اپنے والد سے کہا، کہ آپ جس طرح مجھ سے سلوک کرتے ہیں، میری ماں سے ایسا سلوک نہ کیا کریں، اس پر ان کے والد نے اسماء کو طلاق دے دی، ایک روایت میں ہے، کہ اسماء، عبد اللہ، عروہ اور منذر کی ولادت کے بعد بوڑھی ہو گئی تھیں، اس لئے زبیر نے انہیں طلاق دے دی تھی، ایک روایت میں ہے کہ زبیر نے اسماء کو مارا، اس پر انہوں نے اپنے بیٹے عبد اللہ کو مدد کے لئے بلایا، جب وہ اپنی ماں کی امداد کے لئے ادھر متوجہ ہوئے، تو ان کے والد نے کہا، کہ اگر تُو میرے کمرے میں داخل ہوا، تو تیری ماں کو طلاق ہو جائےگی، عبد اللہ نے کہا، حیف ہے، کہ آپ میری ماں کو اپنی قسم کا ہدف بنا رہے ہیں، اس پر عبد اللہ اپنے والد کے کمرے میں داخل ہو گئے، اور حسب شرط طلاق واقع ہو گئی اور عبد اللہ اپنی ماں کو ساتھ لے کر آ گئے، اور مفارقت ہو گئی ۔
جناب اسماء سے عبد اللہ بن عباس ان کے بیٹے عروہ اور عباد بن عبداللہ بن زبیر اور ابوبکر اور عامر پسران عبداللہ بن زبیر اور مطلب اور محمد منکدر اور فاطمہ دختر منذر وغیرہ نے روایت کی ہے۔
ابو الفضال عبداللہ بن احمد الخطیب نے ابو محمد جعفربن احمد السراج سے،انہوں نے ابوعبداللہ الحسین بن علی بن یوسف المقری معروف بہ ابن الاخن سے،انہوں نے ابوالفتح یوسف بن عمر بن مسرور القواس سے،انہوں نے ابوالقاسم بن منیع سے،انہوں نے ابوالجہم العلاء بن موسیٰ الباہلی سے،انہوں نےلیث بن سعد سے(ح) ابن بنت المنیع نے ابوالجہم المقری سے،انہوں نے ابن عینیہ سے،انہوں نے ہشام بن عروہ سے ،انہوں نے اپنے والد سے ،انہوں نے اپنی والدہ اسماءسے روایت کی،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا،یا رسول اللہ!جب میری ماں نے مجھے جنا،تو وہ مجھ سے بیزار سی تھی،کیونکہ وہ قریش کے عہد جاہلیّت میں مشرکہ تھی،کیا میں اس کی بھلائی کی دعا کروں،فرمایا ،ہاں۔
اس کے بعد اسماءعرصےتک زندہ رہیں،اور آخری عمر میں اندھی ہوگئی تھیں،وہ ۷۳ھ میں جب انکے بیٹے عبداللہ بن زبیر کو عبدالملک بن مروان کے حکم سے قتل کیاگیا،اور ان کی لاش سولی پر لٹکا دی گئی،زندہ تھیں اور ان کی عمر سوسال سے زائد تھی،روایت ہے کہ جب ان کے بیٹے کی لاش اتاری گئی تو دس دن کے بعد یا بیس دن کےبعد یابیس دن سے چند دن کے بعد اس مخلص خاتون کی وفات ہوگئی۔
قبولِ ایمان کے بارے میں انہوں نے جو گفتگو اپنےبیٹے سے کی،وہ دلیل ہے،ان کی عقل رسا،دین پر پختہ یقین اور مضبوط اراد ے کی،جس کی مثال بہت کم ملتی ہے، تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-asma-bint-abu-bakr-life-history
تعارف:
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سب سے بڑے بیٹے حضرت سیدنا عبد اللہ بن ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سگی بہن ہیں اور آپ ہی حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سب سے بڑی بیٹی ہیں ـ
ذات النطاقین کا لقب:
ہجرت کے موقع پر زادِ سفر باندھنے کے لیے کوئی کپڑا نہ تھا آپ نے ہی اپنے کمر بند کے دو ٹکڑے کر کے باندھا تھا، اس وقت سے آپ ذَاتُ النَطَاقَیْن کے لقب سے مشہور ہو گئیں ۔
حضرت سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے مکہ مکرمہ میں نکاح کیا جس سے متعدد اولاد ہوئی ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سو سال عمر پائی آخری عمر میں بینائی جاتی رہی اور مکہ مکر مہ میں وصال ہوا ۔
آپ کے بیٹے حضرت سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شہنشاہِ مدینہ، قرار قلب و سینہ صلی اللہ وسلم کی زیارت کی اور مقام صحابیت پر فائز ہوئے ۔
اسماء دختر ابو بکر الصدیق (ابو بکر کا نام عبد اللہ بن عثمان تھا) قرشیہ، تیمیہ جو زبیر بن عوام کی زوجہ، عبداللہ بن زبیر کی والدہ اور ذوالنطاقین کے لقب سے ملقب تھیں، ان کی والدہ کا نام قیلہ یا قتیلہ دختر عبد العزی بن اسعد بن جابر بن مالک بن حسل بن عامر لوئی تھا ـ
جناب اسماء حضرت عائشہ کی سوتیلی بہن تھیں، اور عمر میں ان سے بڑی تھیں، اسی طرح عبد اللہ بن ابو بکر ان کے سوتیلے بھائی تھے، بقول ابو نعیم وہ ہجرت سے ستائیس سال پہلے پیدا ہوئیں، ان کی پیدائش کے وقت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی عمر بیس سے کچھ اوپر تھی، جناب اسماء سترہ آدمیوں کے بعد ایمان لائیں، جب انہوں نے ہجرت کی، توحاملہ تھیں، اور جب قبا میں پہنچیں تو عبد اللہ بن زبیر پیدا ہوئے ۔
ذات النطاقین کی وجہ یہ تھی، کہ ہجرت کی رات کو انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کے لئے کھانا تیار کیا، اسے باندھنے کے لئے گھر میں کوئی چیز موجود نہ تھی، جناب اسماء نے اپنی اوڑھنی کے دو حصّے کئے، ایک میں کھانا باندھا اور دوسرا سر پر اوڑھ لیا، اس پر آپ نے ان کے اس انداز کو پسند فرما کر یہ لقب عطا کیا، کچھ عرصے کے بعد زبیر نے انہیں طلاق دے دی، اور یہ اپنے بیٹے عبد اللہ کے پاس رہائش پذیر ہو گئیں ۔
ان کی طلاق کے بارے میں اختلاف ہے، ایک روایت میں ہے، کہ ایک دن عبد اللہ نے اپنے والد سے کہا، کہ آپ جس طرح مجھ سے سلوک کرتے ہیں، میری ماں سے ایسا سلوک نہ کیا کریں، اس پر ان کے والد نے اسماء کو طلاق دے دی، ایک روایت میں ہے، کہ اسماء، عبد اللہ، عروہ اور منذر کی ولادت کے بعد بوڑھی ہو گئی تھیں، اس لئے زبیر نے انہیں طلاق دے دی تھی، ایک روایت میں ہے کہ زبیر نے اسماء کو مارا، اس پر انہوں نے اپنے بیٹے عبد اللہ کو مدد کے لئے بلایا، جب وہ اپنی ماں کی امداد کے لئے ادھر متوجہ ہوئے، تو ان کے والد نے کہا، کہ اگر تُو میرے کمرے میں داخل ہوا، تو تیری ماں کو طلاق ہو جائےگی، عبد اللہ نے کہا، حیف ہے، کہ آپ میری ماں کو اپنی قسم کا ہدف بنا رہے ہیں، اس پر عبد اللہ اپنے والد کے کمرے میں داخل ہو گئے، اور حسب شرط طلاق واقع ہو گئی اور عبد اللہ اپنی ماں کو ساتھ لے کر آ گئے، اور مفارقت ہو گئی ۔
جناب اسماء سے عبد اللہ بن عباس ان کے بیٹے عروہ اور عباد بن عبداللہ بن زبیر اور ابوبکر اور عامر پسران عبداللہ بن زبیر اور مطلب اور محمد منکدر اور فاطمہ دختر منذر وغیرہ نے روایت کی ہے۔
ابو الفضال عبداللہ بن احمد الخطیب نے ابو محمد جعفربن احمد السراج سے،انہوں نے ابوعبداللہ الحسین بن علی بن یوسف المقری معروف بہ ابن الاخن سے،انہوں نے ابوالفتح یوسف بن عمر بن مسرور القواس سے،انہوں نے ابوالقاسم بن منیع سے،انہوں نے ابوالجہم العلاء بن موسیٰ الباہلی سے،انہوں نےلیث بن سعد سے(ح) ابن بنت المنیع نے ابوالجہم المقری سے،انہوں نے ابن عینیہ سے،انہوں نے ہشام بن عروہ سے ،انہوں نے اپنے والد سے ،انہوں نے اپنی والدہ اسماءسے روایت کی،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا،یا رسول اللہ!جب میری ماں نے مجھے جنا،تو وہ مجھ سے بیزار سی تھی،کیونکہ وہ قریش کے عہد جاہلیّت میں مشرکہ تھی،کیا میں اس کی بھلائی کی دعا کروں،فرمایا ،ہاں۔
اس کے بعد اسماءعرصےتک زندہ رہیں،اور آخری عمر میں اندھی ہوگئی تھیں،وہ ۷۳ھ میں جب انکے بیٹے عبداللہ بن زبیر کو عبدالملک بن مروان کے حکم سے قتل کیاگیا،اور ان کی لاش سولی پر لٹکا دی گئی،زندہ تھیں اور ان کی عمر سوسال سے زائد تھی،روایت ہے کہ جب ان کے بیٹے کی لاش اتاری گئی تو دس دن کے بعد یا بیس دن کےبعد یابیس دن سے چند دن کے بعد اس مخلص خاتون کی وفات ہوگئی۔
قبولِ ایمان کے بارے میں انہوں نے جو گفتگو اپنےبیٹے سے کی،وہ دلیل ہے،ان کی عقل رسا،دین پر پختہ یقین اور مضبوط اراد ے کی،جس کی مثال بہت کم ملتی ہے، تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-asma-bint-abu-bakr-life-history
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-05-1445 ᴴ | 12-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-05-1445 ᴴ | 13-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2