حضرت مولانا حافظ رفیق رضوی
مجاہد اہل سنت ، پیکر اخلاق ، ناشر سنیت حاجی حافظ محمد رفیق بن حاجی حافظ دین محمد چشتی مہروی ۱۹۳۵ء کو دہلی بلی ماران (انڈیا) میں تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ کے گھر کا ماحول خالص دینی تھا گھر سے ابتدائی تعلیم کاآغاز کیا۔ اس کے بعد دس سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا اور اسی چھوٹی سی عمر میں امام اہل سنت اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی ؒ کے شاگرد و خلیفہ مولانا قاضی عبدالغفور رضوی کی صحبت اختیار کی اس کے بعد مولانا حکیم سیف الدین کی صحبت میں دینی تعلیم اور حکمت سیکھی ۔
قیام پاکستان کے بعد شیخ الحدیث حضرت علامہ سر دار احمد رضوی محدث لائلپوری کی صحبت اختیار کی ۔
پاکستان میں قیام:
قیام پاکستان کے بعد انڈیا سے پاکستان تشریف لائے۔ شروع میں سر گودھا میں قیام کیا اور ۱۹۵۱ء کو آپ ایک نوجوان سید ظہور احمد شاہ کے ہمراہ حرمین شریفین کے سفر پر نکلے ۔ لیکن دوران سفر سکھر (سندھ) آئے اور سکھر کی مشہور و مرکزی مسجد جامعہ قادریہ میں قیام پذیر ہوئے۔ سید صاحب کو ریلوے ہائی اسکول میں نوکری ملی اور آپ کو اسی مدرسہ قادریہ میں حفظ و ناظرہ کی کلاس کے لئے بحیثیت مدرس ملازمت ملی ۔ اس طرح آپ نے ۱۹۵۱ء تا ۲۰۰۴ء تک ۵۲ سال کا طویل عرصہ سکھر میں بسر کیا۔ ان دنوں جامعہ قادریہ (آج اس مدرسہ کے نام سے بھی کوئی شنا ساسکھرمیں مشکل نظر آئے گا) میں شیخ الحدیث کے منصب پر مولانا محمد شریف رضوی اور تدریس و فتاویٰ نویسی کی خدمات پر استاد العلماء مولانا مفتی محمد صالح نعیمی (لاڑکانہ) مامور تھے ۔
بیعت:
آپ لائلپور (فیصل آباد) میں شیخ الحدیث حضرت علامہ محمد سروار احمد رضوی بانی جامعہ رضویہ مظہر اسلام سے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں دست بیعت ہوئے۔ ان کے علاوہ دیگر علماء و مشائخ طریقت کی صحبت بافیض سے بھی لطف اندوز ہوئے ۔
سیاسی خدمات:
آپ اول تاآخر اہل سنت و جماعت کی نمائندہ سیاسی جماعت ’’ جمعیت علماء پاکستان سے منسلک رہے ۔ تحفظ مقام مصطفی اور نفاذ نظام مصطفی ﷺ کے لئے کوشش و جدوجہد کرتے رہے، سکھر میں دینی سیاسی ہر موڑ پر مولانا مفتی محمد حسین قادری کے ساتھ ساتھ رہے ۔
خدمت خلق:
آپ ایک عامل تھے، سکھر میں وجہ شہرت تعویذات کے حوالے سے تھی ، کئی بزرگوں سے عملیات و وظائف لے رکھے تھے۔ کھڈہ ( شمس آباد ) میں محمد ی مسجد کے برابر میں آپ کی رہائش تھی سارا دن تعویذات کے سائلین کا ہجوم رہتا ہے۔ اس طرح کافی خلق خدا نے فیض حاصل کیا ۔
امامت و خطابت:
شروع میں اللہ والی مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیئے اس کے بعد محمد ی مسجد عرف کھڈہ مسجد ( شمس آباد محلہ ) سکھر میں تشریف لائے اور تاحیات اسی مسجد کے ساتھ منسلک رہے۔ مسجد شریف کے متصل مدرسہ تعلیم القران بھی قائم کیا۔ اس طرح شب وروز تبلیغ دین میں مصروف رہتے ۔
مجاہد اہل سنت ، پیکر اخلاق ، ناشر سنیت حاجی حافظ محمد رفیق بن حاجی حافظ دین محمد چشتی مہروی ۱۹۳۵ء کو دہلی بلی ماران (انڈیا) میں تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ کے گھر کا ماحول خالص دینی تھا گھر سے ابتدائی تعلیم کاآغاز کیا۔ اس کے بعد دس سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا اور اسی چھوٹی سی عمر میں امام اہل سنت اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی ؒ کے شاگرد و خلیفہ مولانا قاضی عبدالغفور رضوی کی صحبت اختیار کی اس کے بعد مولانا حکیم سیف الدین کی صحبت میں دینی تعلیم اور حکمت سیکھی ۔
قیام پاکستان کے بعد شیخ الحدیث حضرت علامہ سر دار احمد رضوی محدث لائلپوری کی صحبت اختیار کی ۔
پاکستان میں قیام:
قیام پاکستان کے بعد انڈیا سے پاکستان تشریف لائے۔ شروع میں سر گودھا میں قیام کیا اور ۱۹۵۱ء کو آپ ایک نوجوان سید ظہور احمد شاہ کے ہمراہ حرمین شریفین کے سفر پر نکلے ۔ لیکن دوران سفر سکھر (سندھ) آئے اور سکھر کی مشہور و مرکزی مسجد جامعہ قادریہ میں قیام پذیر ہوئے۔ سید صاحب کو ریلوے ہائی اسکول میں نوکری ملی اور آپ کو اسی مدرسہ قادریہ میں حفظ و ناظرہ کی کلاس کے لئے بحیثیت مدرس ملازمت ملی ۔ اس طرح آپ نے ۱۹۵۱ء تا ۲۰۰۴ء تک ۵۲ سال کا طویل عرصہ سکھر میں بسر کیا۔ ان دنوں جامعہ قادریہ (آج اس مدرسہ کے نام سے بھی کوئی شنا ساسکھرمیں مشکل نظر آئے گا) میں شیخ الحدیث کے منصب پر مولانا محمد شریف رضوی اور تدریس و فتاویٰ نویسی کی خدمات پر استاد العلماء مولانا مفتی محمد صالح نعیمی (لاڑکانہ) مامور تھے ۔
بیعت:
آپ لائلپور (فیصل آباد) میں شیخ الحدیث حضرت علامہ محمد سروار احمد رضوی بانی جامعہ رضویہ مظہر اسلام سے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں دست بیعت ہوئے۔ ان کے علاوہ دیگر علماء و مشائخ طریقت کی صحبت بافیض سے بھی لطف اندوز ہوئے ۔
سیاسی خدمات:
آپ اول تاآخر اہل سنت و جماعت کی نمائندہ سیاسی جماعت ’’ جمعیت علماء پاکستان سے منسلک رہے ۔ تحفظ مقام مصطفی اور نفاذ نظام مصطفی ﷺ کے لئے کوشش و جدوجہد کرتے رہے، سکھر میں دینی سیاسی ہر موڑ پر مولانا مفتی محمد حسین قادری کے ساتھ ساتھ رہے ۔
خدمت خلق:
آپ ایک عامل تھے، سکھر میں وجہ شہرت تعویذات کے حوالے سے تھی ، کئی بزرگوں سے عملیات و وظائف لے رکھے تھے۔ کھڈہ ( شمس آباد ) میں محمد ی مسجد کے برابر میں آپ کی رہائش تھی سارا دن تعویذات کے سائلین کا ہجوم رہتا ہے۔ اس طرح کافی خلق خدا نے فیض حاصل کیا ۔
امامت و خطابت:
شروع میں اللہ والی مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیئے اس کے بعد محمد ی مسجد عرف کھڈہ مسجد ( شمس آباد محلہ ) سکھر میں تشریف لائے اور تاحیات اسی مسجد کے ساتھ منسلک رہے۔ مسجد شریف کے متصل مدرسہ تعلیم القران بھی قائم کیا۔ اس طرح شب وروز تبلیغ دین میں مصروف رہتے ۔
❤2
شادی و اولاد:
۱۹۶۱ء کو آپ نے استاد العلماء علامہ غلام محمد گھوٹوی مہروی کے شاگرد خاص مولانا حافظ فضل کریم چشتی مہروی کی بڑی بیٹی سے رشتہ رزدواج میں منسلک ہوئے۔ آپ نے گھر کا ایسا علمی روحانی ماحول پیدا کیا کہ آپ کی تمام اولاد دینی تعلیم سے آراستہ ہوئی نہ فقط لڑکے بلکہ لڑکیا ں بھی علم و فضل سے آراستہ ہیں یہاں تک کہ سکھر کی اکثر بچیوں اور مستورات کے مدارس ان بچیوں کے فیض سے جاری ہیں ۔ اور ایسے ماحول سے ہمارے اکثر علامء و مشائخ کے گھر خالی ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ ان کی اولاد والد کے الٹ چلتی ہے۔ ایک بار فقیر راشدی غفرلہ نے آپ کے صحبت یافتہ جناب قاری صلاح الدین صاحب سے دریافت کیا کہ قاری صاحب کی تمام اولاد دینی تعلیم سے آراستہ کیسے ہوئی ؟ انہوں نے کہا میری نظر میں اس کے دو جوابات ہیں ایک یہ کہ وہ نماز تہجد کے بعد اپنی اولاد کے لئے حصول تعلیم کی گڑگڑا کر دعا کرتے تھے اور دوسرا وہ ہر ملنے والے فقیر درویش پیر مشائخ سے اولاد کے حق میں علم دین کی دعا ضرور کرواتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو چھ بیٹیاں اور چھ بیٹے عنایت فرمائے۔
۱۔ خطیب اہل سنت مولانا علامہ عارف حسین سعیدی مہتمم جامعہ انوار مصطفی سکھر
۲۔ قاری محمد آصف مصطفائی ناظم جامعہ انوار مصطفی سکھر
۳۔ محمد عابد سعیدی
۴۔ مولانا حافظ قاری ساجد القادری مہتمم مدرسہ محمد یہ حنفیہ کوئٹہ
۵۔ قاری محمد عالم سعیدی
۶۔ قاری مولانا محمد شفیق سعیدی
عادات و خصائل:
وہ انتہائی مخلص ، خلیق ، متواضع ، متوازن اور پرکشش شخصیت کے مالک تھے۔ عجب واستکبار اور بندار نفس کی خوبوان میں بالکل نہیں تھی۔ تعمیری سوچ کے حامل ، متحرک مستقل مزاج ، عمل پیہم کے پیکر ، مہمان نواز، علماء و مشائخ کے قدردان ، اور دین کے درد سے سرشار تھے۔
سفر حرمین شریفین:
۱۹۵۲ء کو سکھر سے حج بیت اللہ اور روضہ رسول مقبول ﷺ کی حاضری کی سعادت حاصل کی۔ حرمین کا یہ پہلا سفر تھا۔
بنیادی کام:
آپ ہالا رمیمن جماعت خانہ میں تعلیم قرآن دیا کرتے اور شوکت الاسلام اسکوم میں ٹیچر تھے۔ صبح کو اسکول ، نماز ظہر کی امامت کے بعد تعویذات کا سلسلہ ، بعد نماز مغرب محمد ی مسجد میں تعلیم قرآن کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس طرح اصل بنیادی کام کرنے کے لئے راہ ہموار کی عوام الناس سے تعلقات استوار کئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سکھر میں اہل سنت و جماعت کی اہم و بنیادی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے درج ذیل مراکز کو قائم کیا :
٭ جامعہ انوار مصطفی ٹرسٹ نزد ریلوے گراوٗنڈ سکھر
٭ اباعیسیٰ اسلامک سینٹر میانی روڈ سکھر ( برائے خواتین)
٭ مدرسہ سعیدیہ کاظمیہ انوار مصطفی گوٹھ علی واہن تحصیل روہڑی ضلع سکھر
٭ مدرسہ تعلیم القرآن محمد یہ نیو پنڈسکھر
٭ مدرسہ جامعہ محمد یہ حنفیہ کوئٹہ ( بلوچستان)
وصال:
وفات سے کچھ عرصہ قبل کار کے حادثے میں شدید زخمی ہو گئے کمزوری آچکی تھی اور تھوڑے عرصے کے بعد راہی جنت ہوئے۔ حافظ قاری حاجی محمد رفیق نے ۲۷، جمادی الاول ۱۴۲۵ھ بمطابق ۱۶، جولائی ۲۰۰۴ء بروز جمعۃ المبارک گیارہ بجکر اکیس منٹ پرستر ( ۷۰) سال کی عمر میں انتقال کیا۔ اور مدرسہ انوار مصطفی سکھر کے صحن میں تدفین عمل میں آئی۔
[ ذاتی معلومات کے علاوہ رسالہ رفیق ملت مطبوعہ رفیق الملت ٹرسٹ سکھر سے حالات ماخوذ ہیں ]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hafiz-muhammad-rafiq-rizvi
۱۹۶۱ء کو آپ نے استاد العلماء علامہ غلام محمد گھوٹوی مہروی کے شاگرد خاص مولانا حافظ فضل کریم چشتی مہروی کی بڑی بیٹی سے رشتہ رزدواج میں منسلک ہوئے۔ آپ نے گھر کا ایسا علمی روحانی ماحول پیدا کیا کہ آپ کی تمام اولاد دینی تعلیم سے آراستہ ہوئی نہ فقط لڑکے بلکہ لڑکیا ں بھی علم و فضل سے آراستہ ہیں یہاں تک کہ سکھر کی اکثر بچیوں اور مستورات کے مدارس ان بچیوں کے فیض سے جاری ہیں ۔ اور ایسے ماحول سے ہمارے اکثر علامء و مشائخ کے گھر خالی ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ ان کی اولاد والد کے الٹ چلتی ہے۔ ایک بار فقیر راشدی غفرلہ نے آپ کے صحبت یافتہ جناب قاری صلاح الدین صاحب سے دریافت کیا کہ قاری صاحب کی تمام اولاد دینی تعلیم سے آراستہ کیسے ہوئی ؟ انہوں نے کہا میری نظر میں اس کے دو جوابات ہیں ایک یہ کہ وہ نماز تہجد کے بعد اپنی اولاد کے لئے حصول تعلیم کی گڑگڑا کر دعا کرتے تھے اور دوسرا وہ ہر ملنے والے فقیر درویش پیر مشائخ سے اولاد کے حق میں علم دین کی دعا ضرور کرواتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو چھ بیٹیاں اور چھ بیٹے عنایت فرمائے۔
۱۔ خطیب اہل سنت مولانا علامہ عارف حسین سعیدی مہتمم جامعہ انوار مصطفی سکھر
۲۔ قاری محمد آصف مصطفائی ناظم جامعہ انوار مصطفی سکھر
۳۔ محمد عابد سعیدی
۴۔ مولانا حافظ قاری ساجد القادری مہتمم مدرسہ محمد یہ حنفیہ کوئٹہ
۵۔ قاری محمد عالم سعیدی
۶۔ قاری مولانا محمد شفیق سعیدی
عادات و خصائل:
وہ انتہائی مخلص ، خلیق ، متواضع ، متوازن اور پرکشش شخصیت کے مالک تھے۔ عجب واستکبار اور بندار نفس کی خوبوان میں بالکل نہیں تھی۔ تعمیری سوچ کے حامل ، متحرک مستقل مزاج ، عمل پیہم کے پیکر ، مہمان نواز، علماء و مشائخ کے قدردان ، اور دین کے درد سے سرشار تھے۔
سفر حرمین شریفین:
۱۹۵۲ء کو سکھر سے حج بیت اللہ اور روضہ رسول مقبول ﷺ کی حاضری کی سعادت حاصل کی۔ حرمین کا یہ پہلا سفر تھا۔
بنیادی کام:
آپ ہالا رمیمن جماعت خانہ میں تعلیم قرآن دیا کرتے اور شوکت الاسلام اسکوم میں ٹیچر تھے۔ صبح کو اسکول ، نماز ظہر کی امامت کے بعد تعویذات کا سلسلہ ، بعد نماز مغرب محمد ی مسجد میں تعلیم قرآن کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس طرح اصل بنیادی کام کرنے کے لئے راہ ہموار کی عوام الناس سے تعلقات استوار کئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سکھر میں اہل سنت و جماعت کی اہم و بنیادی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے درج ذیل مراکز کو قائم کیا :
٭ جامعہ انوار مصطفی ٹرسٹ نزد ریلوے گراوٗنڈ سکھر
٭ اباعیسیٰ اسلامک سینٹر میانی روڈ سکھر ( برائے خواتین)
٭ مدرسہ سعیدیہ کاظمیہ انوار مصطفی گوٹھ علی واہن تحصیل روہڑی ضلع سکھر
٭ مدرسہ تعلیم القرآن محمد یہ نیو پنڈسکھر
٭ مدرسہ جامعہ محمد یہ حنفیہ کوئٹہ ( بلوچستان)
وصال:
وفات سے کچھ عرصہ قبل کار کے حادثے میں شدید زخمی ہو گئے کمزوری آچکی تھی اور تھوڑے عرصے کے بعد راہی جنت ہوئے۔ حافظ قاری حاجی محمد رفیق نے ۲۷، جمادی الاول ۱۴۲۵ھ بمطابق ۱۶، جولائی ۲۰۰۴ء بروز جمعۃ المبارک گیارہ بجکر اکیس منٹ پرستر ( ۷۰) سال کی عمر میں انتقال کیا۔ اور مدرسہ انوار مصطفی سکھر کے صحن میں تدفین عمل میں آئی۔
[ ذاتی معلومات کے علاوہ رسالہ رفیق ملت مطبوعہ رفیق الملت ٹرسٹ سکھر سے حالات ماخوذ ہیں ]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hafiz-muhammad-rafiq-rizvi
❤2
حضرت سید نور الحسن شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت سید نور الحسن ۔ لقب: سراج السالکین، عمدۃ العارفین ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
عارف کامل حضرت سید نور الحسن شاہ بن حضرت سید غلام علی شاہ بن حضرت سید حیات شاہ ۔ علیہم الرحمہ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام حسین تک پہنچتا ہے ۔ آپ کے آباؤ اجداد با کمال بزرگ تھے ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت:551) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 جمادی الاول 1306ھ مطابق 30 جنوری 1889ء بروز بدھ، بوقتِ شب ’’ کیلیانوالہ شریف ‘‘ ضلع گوجرانولہ پنجاب پاکستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی طبع سلیم میں ابتداء ہی سے تقویٰ و طہارت اور نیکی کے جذبات بدرجۂ اتم موجود تھے ۔ ظاہری تعلیم کے لئے آپ پہلے احمدنگر اور پھر قصبہ رسول نگر کے اسکول میں داخل ہوئے اور پرائمری پاس کر کے اسکول چھوڑ دیا، کچھ عرصہ بعد کیلیا نوالہ شریف کے خوشنویس مولانا نور الٰہی سے فن خوشنویس سیکھا، پھر کچھ عرصہ ٹھیکداری بھی کرتے رہے ۔ بعد ازاں چک 14 ضلع شیخو پورہ میں منتقل ہو گئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت میاں شیر محمد شرق پوری کے مرید و خلیفہ تھے ۔
سیرت و خصائص:
سراج السالکین، عمدۃ العارفین حضرت سید نور الحسن شاہ بخاری ۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے مشائخِ کبار میں ہوتا ہے ۔ آپ نےاشاعتِ اسلام میں بڑی کوشش فرمائی ۔ مسلکِ حق کے دفاع میں ساری زندگی مصروف رہے ۔ آپ کی کوشش سے بہت سے حضرات راہ راست پر آئے ۔ کیلیا نوالہ شریف کے خاندان سادات کے بہت سے افراد شیعہ ہو گئے تھے ۔ ابتداءً انہیں کے زیر اثر آپ بھی تشیع سے متاثر تھے لیکن موجودہ دور کے شیعوں کے بر عکس نماز اور روزہ کے پابند تھے ۔ قدرت نے آپ کو بڑی دل کش اور پر سوز آواز عطا فرمائی تھی ۔ چنانچہ جب آپ بیان فرماتے تو سامعین بڑے اشتیاق سے سنتے، نعت بھی بڑے سوز و گذار سے پڑھتے ۔ ایک دفعہ شر قپور شریف جاکر بیان کیا تو دھوم مچ گئی، کسی نے جاکر عارف ربانی حضرت میاں شیر محمد شر قپوری قدس سرہ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا ’’شاید یہ ہی ہمارا کام دیں‘‘ ولی کامل کی زبان سے نکلا ہوا یہ جملہ حرف بحرف صحیح ثابت ہوا اور حضرت سید نور الحسن شاہ بخاری کا حضرت میاں شیر محمد شر قپوری سے وہ رابطہ قائم ہوا جو دن بدن بڑھتا ہی رہا اور آپ کے ذریعہ رشد و ہدایت کا ایسا چشمہ جاری ہوا جس سے لاکھوں تشنہ کام سیراب ہوئے ۔
حضرت شرقپوری علیہ الرحمہ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہونے کے بعد آپ نے شر قپور شریف میں قیام کے دوران قرآن مجید پڑھا اور مرشد کامل کی نگاہ سے وہ فیوض حاصل کئے کہ آپ کی تحریر و تقریر بڑے بڑے علماء کو حیرت زدہ کر دیتی تھی۔آپ اکثر و بیشتر سفر و حضر میں حضرت میاں صاحب کے ساتھ رہا کرتے تھے اور ایک وقت وہ آیا کہ حضرت میاں صاحب نے آپ کو اجازت و خلافت مرحمت فرمائی اور آپ ان کے اکابر خلفاء میں شمار ہوئے۔جب آپ حضرت شیر ربانی قدس سرہ کے حکم سے آپ کیلیا نوالہ شریف میں منتقل ہوئے تو شیعوں نے مزاحمت شروع کردی اور طرح طرح سے در پئے آزار ہوئے، مقدمہ بازی اور قاتلانہ حملے تک نوبت پہنچی لیکن آپ کمال حلم سے سب کچھ برداشت کرتے رہے حتیٰ کہ مخالفین کو نا کامی کا مُنہ دیکھنا پڑا، اور آپ کے فیض کا آفتاب دن بدن عروج پر رہا ۔
حضرت شاہ صاحب اپنے دور کے وہ عظیم روحانی پیشوا تھے جن کے ذریعے ان گنت افراد راہِ راست پر آئے اور بے شمار منزل مقصود کو پہنچے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم لدنی کی دولت سے نوازا تھا ۔مشکل سے مشکل مسئلہ پر گفتگو فرماتے اور اسے منٹوں میں حل فرما دیتے ۔ ایک دفعہ مکان شریف (انڈیا) میں عرس کے موقع پر مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری (احراری) سے مسئلۂ علم غیب پر گفتگو ہوئی جس میں شاہ جی کو آپ کا موقف تسلیم کرنا پڑا ۔ آپ کی تصنیف جلیل ’’الانسان فی القرآن‘‘ تبحر علمی کا بہترین شاہکار ہے ۔ جس میں آپ نے مختلف موضوعات پر شرح صدر سے گفتگو فرمائی ہے اور بعض اختلافی مسائل کو بڑے حکیمانہ انداز سے سلجھایا ہے ۔ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ
؏: دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت سید نور الحسن ۔ لقب: سراج السالکین، عمدۃ العارفین ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
عارف کامل حضرت سید نور الحسن شاہ بن حضرت سید غلام علی شاہ بن حضرت سید حیات شاہ ۔ علیہم الرحمہ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام حسین تک پہنچتا ہے ۔ آپ کے آباؤ اجداد با کمال بزرگ تھے ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت:551) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 جمادی الاول 1306ھ مطابق 30 جنوری 1889ء بروز بدھ، بوقتِ شب ’’ کیلیانوالہ شریف ‘‘ ضلع گوجرانولہ پنجاب پاکستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی طبع سلیم میں ابتداء ہی سے تقویٰ و طہارت اور نیکی کے جذبات بدرجۂ اتم موجود تھے ۔ ظاہری تعلیم کے لئے آپ پہلے احمدنگر اور پھر قصبہ رسول نگر کے اسکول میں داخل ہوئے اور پرائمری پاس کر کے اسکول چھوڑ دیا، کچھ عرصہ بعد کیلیا نوالہ شریف کے خوشنویس مولانا نور الٰہی سے فن خوشنویس سیکھا، پھر کچھ عرصہ ٹھیکداری بھی کرتے رہے ۔ بعد ازاں چک 14 ضلع شیخو پورہ میں منتقل ہو گئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت میاں شیر محمد شرق پوری کے مرید و خلیفہ تھے ۔
سیرت و خصائص:
سراج السالکین، عمدۃ العارفین حضرت سید نور الحسن شاہ بخاری ۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے مشائخِ کبار میں ہوتا ہے ۔ آپ نےاشاعتِ اسلام میں بڑی کوشش فرمائی ۔ مسلکِ حق کے دفاع میں ساری زندگی مصروف رہے ۔ آپ کی کوشش سے بہت سے حضرات راہ راست پر آئے ۔ کیلیا نوالہ شریف کے خاندان سادات کے بہت سے افراد شیعہ ہو گئے تھے ۔ ابتداءً انہیں کے زیر اثر آپ بھی تشیع سے متاثر تھے لیکن موجودہ دور کے شیعوں کے بر عکس نماز اور روزہ کے پابند تھے ۔ قدرت نے آپ کو بڑی دل کش اور پر سوز آواز عطا فرمائی تھی ۔ چنانچہ جب آپ بیان فرماتے تو سامعین بڑے اشتیاق سے سنتے، نعت بھی بڑے سوز و گذار سے پڑھتے ۔ ایک دفعہ شر قپور شریف جاکر بیان کیا تو دھوم مچ گئی، کسی نے جاکر عارف ربانی حضرت میاں شیر محمد شر قپوری قدس سرہ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا ’’شاید یہ ہی ہمارا کام دیں‘‘ ولی کامل کی زبان سے نکلا ہوا یہ جملہ حرف بحرف صحیح ثابت ہوا اور حضرت سید نور الحسن شاہ بخاری کا حضرت میاں شیر محمد شر قپوری سے وہ رابطہ قائم ہوا جو دن بدن بڑھتا ہی رہا اور آپ کے ذریعہ رشد و ہدایت کا ایسا چشمہ جاری ہوا جس سے لاکھوں تشنہ کام سیراب ہوئے ۔
حضرت شرقپوری علیہ الرحمہ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہونے کے بعد آپ نے شر قپور شریف میں قیام کے دوران قرآن مجید پڑھا اور مرشد کامل کی نگاہ سے وہ فیوض حاصل کئے کہ آپ کی تحریر و تقریر بڑے بڑے علماء کو حیرت زدہ کر دیتی تھی۔آپ اکثر و بیشتر سفر و حضر میں حضرت میاں صاحب کے ساتھ رہا کرتے تھے اور ایک وقت وہ آیا کہ حضرت میاں صاحب نے آپ کو اجازت و خلافت مرحمت فرمائی اور آپ ان کے اکابر خلفاء میں شمار ہوئے۔جب آپ حضرت شیر ربانی قدس سرہ کے حکم سے آپ کیلیا نوالہ شریف میں منتقل ہوئے تو شیعوں نے مزاحمت شروع کردی اور طرح طرح سے در پئے آزار ہوئے، مقدمہ بازی اور قاتلانہ حملے تک نوبت پہنچی لیکن آپ کمال حلم سے سب کچھ برداشت کرتے رہے حتیٰ کہ مخالفین کو نا کامی کا مُنہ دیکھنا پڑا، اور آپ کے فیض کا آفتاب دن بدن عروج پر رہا ۔
حضرت شاہ صاحب اپنے دور کے وہ عظیم روحانی پیشوا تھے جن کے ذریعے ان گنت افراد راہِ راست پر آئے اور بے شمار منزل مقصود کو پہنچے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم لدنی کی دولت سے نوازا تھا ۔مشکل سے مشکل مسئلہ پر گفتگو فرماتے اور اسے منٹوں میں حل فرما دیتے ۔ ایک دفعہ مکان شریف (انڈیا) میں عرس کے موقع پر مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری (احراری) سے مسئلۂ علم غیب پر گفتگو ہوئی جس میں شاہ جی کو آپ کا موقف تسلیم کرنا پڑا ۔ آپ کی تصنیف جلیل ’’الانسان فی القرآن‘‘ تبحر علمی کا بہترین شاہکار ہے ۔ جس میں آپ نے مختلف موضوعات پر شرح صدر سے گفتگو فرمائی ہے اور بعض اختلافی مسائل کو بڑے حکیمانہ انداز سے سلجھایا ہے ۔ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ
؏: دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا
❤2
تحریکِ پاکستان میں کردار:
آپ دو قومی نظریے کے زبردست حامی اور مؤید تھے یہی وجہ تھی کہ آپ کانگریسی اور احراری لیڈروں کے مسموم اثرات کے ازالے کے لئے کوشاں رہے چنانچہ ایک مرتبہ مشہور احراری لیڈر ملک لعل خاں سے دوران گفتگو فرمایا: ’’فرمان مولیٰ کریم ہے ۔ انما ولیکم اللہ و رسولہ والذین امنو ۔ یعنی حقیقۃً تمہارے دوست اور سر پرست اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور ایماندار بندگان خدا ہیں، ایک مسلمان کے لئے تو یہی پیشوا اور راہنما ہیں،ان کے فرمان تو عرض کرہی دئے اب ان کے سوا آپ کےلئے گاندھی اور نہرو کا فرمان واجب العمل ہوگا جو سوائے جہنم کے ہمیں کسی راستے پر نہیں لےجا سکتا‘‘ ۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:553) ـ
آپ کی شبانہ روز زندگی عبادت اور ذکر و فکر میں بسر ہوتی تھی، سب سے پہلے مریدوں اور عقیدت مندوں کو شریعت مبارکہ کی اتباع کی تلقین فرماتے، اس کے بعد اوراد و وظائف کی باری آتی ۔ آپ مکان شریف اور شر قپور شریف سے فارغ ہو کر لاہور تشریف لے جاتے اور حضرت داتا گنج بخش ہجویری قدس سرہ کے مزار پر انوار پر ضرور حاضر ی دیتے، بعض اوقات حضرت شاہ محمد غوث کے مزار شریف پر بھی حاضر ہوتے ۔ آپ کے حلقۂ ارادت میں بڑے بڑے علماء شامل ہوئے، چند ایک کے نام، جو معلوم ہو سکے یہ ہیں:
1۔ حضرت مولانا سید جلال الدین شاہ بانی و مہتمم جامعہ محمدیہ رضویہ نوریہ بھکھی شریف ۔ (والد سید عرفان شاہ مشہدی مدظلہ العالی) ـ
2۔ حضرت مولانا محمد نوزا صدر مدرس مدرسہ مذکورہ ۔ (استاد محترم ڈاکٹر اشرف آصف جلالی مدظلہ العالی) ـ
3۔ مولانا سید منیر حسین شاہ جو کالوی، مؤلف، انشراح الصدور بتذکرۃ النور (سوانح حیات حضرت شاہ صاحب ممدوح قدس سرہ) ـ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 3 ربیع الاول 1372ھ مطابق 21 نومبر 1952ء کو جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب گیارہ بج کر پچیس منٹ پر 63 برس کی عمر میں ہوا ۔ کیلیا نوالہ شریف ضلع گوجرانولہ میں مزار شریف مرجعِ خلائق ہے ۔ آپ کے وصال کے بعد بڑے صاحبزادے حضرت سید محمد باقر شاہ سجادہ نشین ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔ انشراح الصدور بتذکرۃ النور ۔ اس کتاب میں آپ کے مفصل حالات بیان کیے گئے ہیں ۔
مولانا محمد عبد اللہ کنجاہی نے درج ذیل تاریخ وفات کہی:
سید السادات فرزند رسول
جامع الحسنات، دلبند بتول
ماجی بدعات، ابن مرتضیٰ
قرۃ العینِ شہیدِ کربلا
راحتِ جانِ جناب شاہ حسن
سیدی سندی شہ نور الحسن
نور کامل ز آفتاب شر قپور
بے شبہ بُد ماہتاب شر قپور
بود غوث وقت ہم قطبِ رشاد
ہر کہ آمد بر درش شد بامراد
کرد رحلت از فنا سوئے بقا
مخلصاں را رنج و غم، آہ وبکا
مہ ربیع اول، سوم تاریخ بود
چوں بیامد روح پاکش در صعود
گفت تاریخ وصالش مولوی
خادم شاہ سلیماں تونسوی
رفت خضر راہ دعا گودرجناں
پیر نور الحسن شاہ عارف زماں
ذاکر حق پیر نور الحسن شاہ
رحمت حق صلہ یافت از بارگاہ
1372
https://scholars.pk/ur/scholar/arif-e-kamil-hazrat-syed-noor-al-hasan-shah-bukhari
آپ دو قومی نظریے کے زبردست حامی اور مؤید تھے یہی وجہ تھی کہ آپ کانگریسی اور احراری لیڈروں کے مسموم اثرات کے ازالے کے لئے کوشاں رہے چنانچہ ایک مرتبہ مشہور احراری لیڈر ملک لعل خاں سے دوران گفتگو فرمایا: ’’فرمان مولیٰ کریم ہے ۔ انما ولیکم اللہ و رسولہ والذین امنو ۔ یعنی حقیقۃً تمہارے دوست اور سر پرست اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور ایماندار بندگان خدا ہیں، ایک مسلمان کے لئے تو یہی پیشوا اور راہنما ہیں،ان کے فرمان تو عرض کرہی دئے اب ان کے سوا آپ کےلئے گاندھی اور نہرو کا فرمان واجب العمل ہوگا جو سوائے جہنم کے ہمیں کسی راستے پر نہیں لےجا سکتا‘‘ ۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:553) ـ
آپ کی شبانہ روز زندگی عبادت اور ذکر و فکر میں بسر ہوتی تھی، سب سے پہلے مریدوں اور عقیدت مندوں کو شریعت مبارکہ کی اتباع کی تلقین فرماتے، اس کے بعد اوراد و وظائف کی باری آتی ۔ آپ مکان شریف اور شر قپور شریف سے فارغ ہو کر لاہور تشریف لے جاتے اور حضرت داتا گنج بخش ہجویری قدس سرہ کے مزار پر انوار پر ضرور حاضر ی دیتے، بعض اوقات حضرت شاہ محمد غوث کے مزار شریف پر بھی حاضر ہوتے ۔ آپ کے حلقۂ ارادت میں بڑے بڑے علماء شامل ہوئے، چند ایک کے نام، جو معلوم ہو سکے یہ ہیں:
1۔ حضرت مولانا سید جلال الدین شاہ بانی و مہتمم جامعہ محمدیہ رضویہ نوریہ بھکھی شریف ۔ (والد سید عرفان شاہ مشہدی مدظلہ العالی) ـ
2۔ حضرت مولانا محمد نوزا صدر مدرس مدرسہ مذکورہ ۔ (استاد محترم ڈاکٹر اشرف آصف جلالی مدظلہ العالی) ـ
3۔ مولانا سید منیر حسین شاہ جو کالوی، مؤلف، انشراح الصدور بتذکرۃ النور (سوانح حیات حضرت شاہ صاحب ممدوح قدس سرہ) ـ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 3 ربیع الاول 1372ھ مطابق 21 نومبر 1952ء کو جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب گیارہ بج کر پچیس منٹ پر 63 برس کی عمر میں ہوا ۔ کیلیا نوالہ شریف ضلع گوجرانولہ میں مزار شریف مرجعِ خلائق ہے ۔ آپ کے وصال کے بعد بڑے صاحبزادے حضرت سید محمد باقر شاہ سجادہ نشین ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔ انشراح الصدور بتذکرۃ النور ۔ اس کتاب میں آپ کے مفصل حالات بیان کیے گئے ہیں ۔
مولانا محمد عبد اللہ کنجاہی نے درج ذیل تاریخ وفات کہی:
سید السادات فرزند رسول
جامع الحسنات، دلبند بتول
ماجی بدعات، ابن مرتضیٰ
قرۃ العینِ شہیدِ کربلا
راحتِ جانِ جناب شاہ حسن
سیدی سندی شہ نور الحسن
نور کامل ز آفتاب شر قپور
بے شبہ بُد ماہتاب شر قپور
بود غوث وقت ہم قطبِ رشاد
ہر کہ آمد بر درش شد بامراد
کرد رحلت از فنا سوئے بقا
مخلصاں را رنج و غم، آہ وبکا
مہ ربیع اول، سوم تاریخ بود
چوں بیامد روح پاکش در صعود
گفت تاریخ وصالش مولوی
خادم شاہ سلیماں تونسوی
رفت خضر راہ دعا گودرجناں
پیر نور الحسن شاہ عارف زماں
ذاکر حق پیر نور الحسن شاہ
رحمت حق صلہ یافت از بارگاہ
1372
https://scholars.pk/ur/scholar/arif-e-kamil-hazrat-syed-noor-al-hasan-shah-bukhari
scholars.pk
Arif-e-Kamil Hazrat Syed Noor Al-Hasan Shah Bukari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
Muhammad IBRAHEEM
صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری نوری کا وصال: بزم علم و تحقیق کا عظیم نقصان ٢٦؍جنوری ٢٠٢٠ء کی دوپہر دُنیاے علم و تحقیق کی اہم شخصیت صاحبزادہ سید وجاہت رسول تاباںؔ قادری رضوی نوری وصال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ سید صاحب قبلہ کئی جہتوں سے ممتاز شخصیت…
صاحبزادہ حضرت علامہ سید وجاہت رسول قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
[ ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کراچی ]
ولادت باسعادت:
آل نبی ، اولاد علی ، گل گلشن ِجیلانی حضرت سید وجاہت رسول قادری رضوی ۲۷ جمادی االاولیٰ ۱۳۵۸ھ / بمطابق ۱۶ جولائی ۱۹۳۹ء کو بنارس میں پیدا ہوئے ۔
خاندانی حالات:
خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا سید ہدایت رسول قادری جو کہ بے مثال مناظر ، محقق، مصنف، واعظ اور شاعر تھے، آپ کے جدِ امجد ہیں ۔ جب کہ آپ کے والدِ ماجد مولانا سید وزارت رسول حامدی، جانشینِ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا شاہ محمد حامد رضا خاں بریلوی کے مرید، شاگرد اور خلیفہ ہونے کا شرف رکھتے تھے ۔
تعلیم و تربیت:
قرآن مجید ناظرہ اور اردو کی ابتدائی تعلیم والدہ ماجدہ سے گھر میں ہی حاصل کی ۔ والدہ ماجدہ بھی شعری ذوق کی حامل اور حضور حجۃ الاسلام سے شرف بیعت رکھتی تھیں ۔
کچھ عرصہ دار العلوم حمدیہ رضویہ میں زیر تعلیم رہے ۔ پھر والدِ ماجد جب بسلسلہ ملازمت راج شاہی، مشترقی پاکستان چلے گئے تو آپ بھی ان کے ساتھ تھے، میٹرک وہیں پر کیا ۔ بی ، اے آنرز اکنامکس گورنمنٹ کالج ڈھاکہ سے کیا ۔
۱۹۶۳ء میں راج شاہی یونیورسٹی سے ایم ، اے معاشیات کیا ۔ ۱۹۶۴ء میں کراچی تشریف لے آئے ۔ علم دین سے محبت کی یہ لائقِ تقلید مثال دیکھئے کہ ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد فیض یافتۂ محدث اعظم پاکستان مولانا محمد نصر اللہ خاں افغانی علیہ الرحمہ سے عربی ، صرف و نحو ، قدوری اور بخاری شریف کا درس لیا ۔
علم وعمل میں جس کی وجاہت عظیم تر غم دے گئی ہے رحلتِ تاجِ فحول آہ
ازدواجی زندگی:
۷ اگست ۱۹۷۰ء کو آپ کا نکاح ہوا ، جب کہ نکاح خواں علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ تھے ۔
اولاد:
آپ کے دو بیٹے سید محمد سطوت رسول قادری اور سید محمد صولت رسول قادری ہیں ۔
تصنیف و تالیف:
آپ کی تصنیفات دو درجن کے لگ بھگ ہیں، جن میں سے چند نمایاں تصانیف کے نام یہ ہیں:
تصنیفات:
❶ اصلاحِ معاشرہ سیرتِ رسول کی روشنی میں ❷ رحمت عالم ﷺ امن واخوت کے عظیم داعی ❸ امام احمد رضا اور تحفظِ ختم نبوت ❹ کنز الایمان کی عرب دنیا میں پذیرائی ❺ اسوۂ حسنہ کے چراغ ❻ اہل تصوف کا تصورِ جہاد ❼ سفر نامہ قاہرہ ❽ سفر نامہ بنگلہ دیش ❾ فروغِ صبح تاباں ❿ ماہنامہ ’’ معارف ِ رضا ‘‘ کے اداریئے (دوجلد) ۔ وغیرہ .....
وصال:
پیر سید وجاہت رسول قادری رضوی ۳۰ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۱ ھ بمطابق ۲۶ جنوری ۲۰۲۰ء بروز اتوار عین بارہ بجے دوپہر دنیائے فانی سے رحلت فرما گئے ۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ [سورۃ البقرہ، آیت 156] ـ ترجمۂ کنز الایمان: ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ـ ترجمۂ کنز العرفان: ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/allama-syed-wajahat-rasool-qadri
[ ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کراچی ]
ولادت باسعادت:
آل نبی ، اولاد علی ، گل گلشن ِجیلانی حضرت سید وجاہت رسول قادری رضوی ۲۷ جمادی االاولیٰ ۱۳۵۸ھ / بمطابق ۱۶ جولائی ۱۹۳۹ء کو بنارس میں پیدا ہوئے ۔
خاندانی حالات:
خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا سید ہدایت رسول قادری جو کہ بے مثال مناظر ، محقق، مصنف، واعظ اور شاعر تھے، آپ کے جدِ امجد ہیں ۔ جب کہ آپ کے والدِ ماجد مولانا سید وزارت رسول حامدی، جانشینِ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا شاہ محمد حامد رضا خاں بریلوی کے مرید، شاگرد اور خلیفہ ہونے کا شرف رکھتے تھے ۔
تعلیم و تربیت:
قرآن مجید ناظرہ اور اردو کی ابتدائی تعلیم والدہ ماجدہ سے گھر میں ہی حاصل کی ۔ والدہ ماجدہ بھی شعری ذوق کی حامل اور حضور حجۃ الاسلام سے شرف بیعت رکھتی تھیں ۔
کچھ عرصہ دار العلوم حمدیہ رضویہ میں زیر تعلیم رہے ۔ پھر والدِ ماجد جب بسلسلہ ملازمت راج شاہی، مشترقی پاکستان چلے گئے تو آپ بھی ان کے ساتھ تھے، میٹرک وہیں پر کیا ۔ بی ، اے آنرز اکنامکس گورنمنٹ کالج ڈھاکہ سے کیا ۔
۱۹۶۳ء میں راج شاہی یونیورسٹی سے ایم ، اے معاشیات کیا ۔ ۱۹۶۴ء میں کراچی تشریف لے آئے ۔ علم دین سے محبت کی یہ لائقِ تقلید مثال دیکھئے کہ ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد فیض یافتۂ محدث اعظم پاکستان مولانا محمد نصر اللہ خاں افغانی علیہ الرحمہ سے عربی ، صرف و نحو ، قدوری اور بخاری شریف کا درس لیا ۔
علم وعمل میں جس کی وجاہت عظیم تر غم دے گئی ہے رحلتِ تاجِ فحول آہ
ازدواجی زندگی:
۷ اگست ۱۹۷۰ء کو آپ کا نکاح ہوا ، جب کہ نکاح خواں علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ تھے ۔
اولاد:
آپ کے دو بیٹے سید محمد سطوت رسول قادری اور سید محمد صولت رسول قادری ہیں ۔
تصنیف و تالیف:
آپ کی تصنیفات دو درجن کے لگ بھگ ہیں، جن میں سے چند نمایاں تصانیف کے نام یہ ہیں:
تصنیفات:
❶ اصلاحِ معاشرہ سیرتِ رسول کی روشنی میں ❷ رحمت عالم ﷺ امن واخوت کے عظیم داعی ❸ امام احمد رضا اور تحفظِ ختم نبوت ❹ کنز الایمان کی عرب دنیا میں پذیرائی ❺ اسوۂ حسنہ کے چراغ ❻ اہل تصوف کا تصورِ جہاد ❼ سفر نامہ قاہرہ ❽ سفر نامہ بنگلہ دیش ❾ فروغِ صبح تاباں ❿ ماہنامہ ’’ معارف ِ رضا ‘‘ کے اداریئے (دوجلد) ۔ وغیرہ .....
وصال:
پیر سید وجاہت رسول قادری رضوی ۳۰ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۱ ھ بمطابق ۲۶ جنوری ۲۰۲۰ء بروز اتوار عین بارہ بجے دوپہر دنیائے فانی سے رحلت فرما گئے ۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ [سورۃ البقرہ، آیت 156] ـ ترجمۂ کنز الایمان: ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ـ ترجمۂ کنز العرفان: ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/allama-syed-wajahat-rasool-qadri
scholars.pk
Allama Syed Wajahat Rasool Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-05-1445 ᴴ | 11-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-05-1445 ᴴ | 12-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2