🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-05-1445 ᴴ | 11-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-05-1445 ᴴ | 11-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ کیا عورت اندھیرے میں ننگے سر نماز پڑھ سکتی ہے؟ ❷ عورت فاتحہ پڑھنے کے لئے قبرستان جا سکتی ہے یا نہیں؟ ❸ بچے کی جنس معلوم کرنے کے لئے الٹرا ساؤنڈ کروانا کیسا ہے؟ ❹ عورت کا مخصوص ایام میں ایصال ثواب کرنا کیسا ہے؟ ❺ غیر مسلم عورت کو گھریلو کام کاج کے لئے رکھنا کیسا ہے؟ ❻ عورت کا مسواک یا دنداسا استعمال کرنا کیسا ہے؟ ❼ اگر کسی لڑکی کی لاش ملے اور معلوم نہ ہو کہ لڑکی مسلمان ہے یا نہیں تو کیا حکم ہے؟ ❽ بیوی کا دودھ شوہر کو پینا جائز ہے یا نہیں؟ نیز بیوی کا پستان منھ میں لینا کیسا ہے؟ ❾ کیا عورت خاوند کی اجازت کے بغیر بیعت ہو سکتی ہے؟ ❿ ناپاکی کی حالت میں مرید ہونا کیسا ہے؟ / ناپاک حالت میں بیعت ہوگی یا نہیں؟
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا تاج محمد مہر قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

فقری باصفا مرید باکمان مولانا میاں تاج محمد صاحب مہر گوٹھ عامل (نزد چک ، تحصیل لکھی، ضلع شکار پور) میں تولد ہوئے۔ اپنے بھائیوں سے اختلاف کی بنیاد پر اپنے بڑے بھائی میاں محمد مبارک کے ساتھ عامل گوٹھ سے منتقل ہو کر ایک گوٹھ قائم کیا جو کہ ’’میاں جو گوٹھ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا ۔

تعلیم و تربیت:
آپ نے ’’ میاں جو گوٹھ ‘‘ (ضلع شکار پور سندھ) میں استاد العلماء حضرت مولانا عبدالحکیم پنہیار قادری علیہ الرحمۃ (جو کہ حضرت پیر سید موسیٰ شاہ جیلانی علیہ الرحمۃ گھوٹکی والے کے مرید با وفا تھے) سے تعلیم و تربیت حاصل کی۔ اس کے بعد میاں صاحب حصول علم میں ملتان شریف گئے، وہاں علامہ قاضی نور احمد صاحب بلکانی والے کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کا مدرسہ، حضرت حامد محمود مخدوم سید محمد راجن علیہ الرحمہ کے روضہ شریف کے قریب دریائے سندھ پر قائم تھا۔ وہیں درسی نصاب مکمل کیا ۔

اویسی فیض:
دوران تعلیم آپ کے سر میںشدید درد ہوا۔ بہتیرے علاج معالجہ کیا لیکن بے سود حالانکہ خود حضرت قاضی نور احمد صاحب ایک حاذق حکیم تھے لیکن کوئی علاج کارگر نہ ہا۔ اتفاقاً سلطان العارفین حضرت سلطان باہو قادری قدس سرہ(جھنگ پنجاب) کا ایک فقیر وہاں مدرسہ مٰں مہمان آکر ٹھہرا۔ فقیر نے فرمایا: مولوی صاحب آپ کا یہ درد کسی بیماری یا مادہ کے سبب نہیں کہ حکیموں کا علاج کارگر ہو۔ یہ ہمارے مرشد کریم حضرت سلطان العارفین کے تصرف و کشش کے سبب ہے۔ اس لئے آپ حضرت کی خانقاہ مقدس پر حاضری دیں انشاء اللہ تعالیٰ مزار شریف کی زیارت کرتے ہی آپ کا درد سر ختم ہوجائے گا۔ چنانچہ مولانا صاحب زیارت کرتے ہی شفایاب ہوگئے اور ڈھائی سال تک مزار شریف پر معتکف رہے اور فیض حاصل کرتے رہے۔ اس طرح آپ اویسی قادری ہوئے ۔

آپ ایک مقبول درگاہ الٰہی اور صاحب الحضوری بزرگ تھے۔

مرشد کریم سے عشق:
ایک بار بچے راستے میں کھڑے تھے ، انہیں معلوم تھا کہ مولانا احب اپنے مرشد کے نام پر کام کردیتے ہیں اسلئے کہ انہیں اپنے مرشد سے عشق ہے، اسلئے مرشد کے نام پر انکار نہیں کر سکتے۔ بچوں نے بغرض تماشہ مولانا صاحب سے کہا۔ مولانا صاحب! اپنے مرشد کے نا پر اس تالاب میں ایک غوطہ لگائیں۔ مولانا صاحب مرشد کا نام سن کر سراپا احترام بن گئے، ایندھن کا گٹھا سر سے اتار کر نیچے رکھا اور نہر میں غوطہ لگایا۔ جب ایک بار غوطہ لگا چکے تو پھر بچوں نے مرشد کا واسطہ دیا کہ ایک بار اور غوطہ لگائیں۔ مرشد کے نام پر مولانا صاحب نے نہ جانے کتنی بار غوطہ لگا چکے۔ بچے کھیل تماشہ سمجھ رہے تھے ادھر آپ عشق کے امتحان میں کامیاب نکلے ادھر ایک صاحب نہر پر آنکلے انہوں نے بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر بھگا دیا اور مولانا صاحب کو باہر نکالا ارو ان کے کپڑے نچوڑے اور ان کا گٹھا اور ریوڑ ان کے مکان پر پہنچا دیا۔ سبحان اللہ!

میں مدارجاں سے گزر سکا تو تری کشش کے طفیل میں

یہ ترے کرم کا کمال تھا کہ حصار ذات کو ڈھا گیا

سخاوت:
مولانا تاج محمد صاحب ذریعہ معاش کیلئے ریوڑ پالا کرتے تھے۔ ان کا تھوڑا سا دودھ بیچ کر روٹی کے واسطے غلہ خرید لیتے اور باقی دودھ راہ خدا میں تقسیم کر دیتے تھے۔ اس ریوڑ کو عموماً بذات خود چراتے تھے اور جب بھیڑیں چرا کر واپس آتے تو ایندھن کا گٹھا سر پر اٹھا کر لاتے ھتے ۔

مرشد زادے کا ادب:
سلطان حامد (مؤلف مناقب سلطانی) لکھتے ہیں کہ میرے جد امجد نے میرے والد ماجد سے فرمایا۔ بیٹا! اتنے فقیر اور اونٹ لے کر آستانہ گائوں جائو، وہاں سے باگڑ کی لمبی لکڑیاں لائو۔ کیوںکہ فلاں کنویں میں پانی کم ہوگیا ہے اس میں کوٹھی بنائی جائے گی۔ آپ نے حکم بجالاتے ہوئے ویس اہی کیا۔ جب باگڑ کی لکڑیاں دریافت کی تو معلوم ہوا کہ فلاں کنویں میں لکڑیاں فالتو پری ہیں انہیں کھینچ کر نکال لو۔ جب ہم اس کنویں پر پہنچے تو غوطہ لگا کر چار لکڑیوں کو چار رسوں سے باندھا۔ جب پانی کی سطح پر آئیں تو ان رسوں کو باہر کے درختوں سے باندھ دیا تاکہ ایک ایک کر کے نکال لی جائے۔ اس کام میں شام ہوگئی۔ چونکہ جلدی تھی اسلئے انہوں نے مولاناتاج محمد کو کہا کہ جلدی آئو اور اس چوتھی لکڑی کو اچھی طرح کھینچے رہو۔ انہیں خیال تھا کہ جب باقی کے تین رسے باندھ لئے جائٰں گے تو پھر اس چوتھے کو بھی باندھ لیا جائے گا۔ ااور رات اپنے اپنے مکانوں میں بسر کرکے صبح ان لکڑیوں کو نکال کر اونٹوں پر لاد دیا جائے گا۔ اور اس طرح پھر دوسرے روز نویں میں اترنا نہیں پڑے گا۔ وہ تمام فارغ ہو کر سوار ہوئے، ساتھیوں کے ہمراہ اپنی منزل کو پہنچے۔ وہاں جاکر مولانا تاج محمد یاد آئے جو کہ ساتھیوں کے ساتھ نہ تھے ۔
2
والد صاحب نے اسی وقت گھوڑا دوڑایا اور کنویں پر جاکر دیکھا کہ تاج محمد دونوں ہاتھوں سے رسی کو اچھی طرح پکڑے جوں کے توں کھڑے ہیں اور آنکھیں مراقبہ کیلئے بند ہیں گھوڑے سے اتر کر اس کے ہاتھ سے رسی لی اور درخت سے باندھی اور اسے ساتھ لے لیا اور راستہ میں پوچھا: تاج محمد! رسی کو درخت سے کیوں نہیں باندھا۔ اس نے کہا مجھے رسی تھام کر کھڑے رہنے کا حکم تھا میں کیوں کر حکم عدولی کر سکتا تھا۔ سبحان اللہ!

میاں تاج محمد نے ایک ظالم شخص کو ایک ہی نگاہ سے دربار الٰہی کا خاص بندہ اور صاحب حضوری بنا دیا ۔ پھر تو اس کی یہ حالت ہوئی کہ پورے چھ مہینے مسجد شریف میں ایک ہی اسغراق میں مراقبہ کئے بیٹھے رہے کہ اس کا سر سینے سے نہ اٹھا۔ جوشخص آپ کی خدمت میں آتا اسے اہی نگاہ سے دریائے توحید میں مستغرق فرما دیتے تھے ۔

وصال:
میاں تاج محمد مہر نے ۲۷ جمادی الاول ۱۲۶۶ھ/۱۸۵۰ء کو وصال کیا۔ ساری زندگی خلق خدا کو فیض پہنچایا ۔ آپ کا مزار میاں جو گوٹھ ضلع شکار پور میں مرجع خلائق ہے، سالانہ عرس منعقد ہوتا ہے میاں عبدالحئی ہر سات ویں سجادہ نشین ہیں۔

(ماخوذ: مناقب سلطانی طبع قدیم۔ خصوصی پمفلٹ مختصر حالات زندگی مطبوعہ میاں جو گوٹھ ۱۹۹۳ئ)


( انوارِعلماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-taj-muhammad-mehar-qadri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3
شیخ مظفر بلخی (مکہ) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ شیخ شرف الدین منیری قدس سرہٗ کے مرید اور خلیفہ تھے شیخ شرف الدین نے آپ کو اپنے مکتوبات میں امام مظفر کے نام سے موسوم کیا ہے مناقب الاصفیاء میں لکھا ہے کہ شیخ شرف الدین منیری کے ایک لاکھ مرید تھے ان میں سے تین سو حضرات واصل باللہ تھے اور تین ایسے بزرگ تھے جو محبوب اللہ تھے ایک جناب مظفر بلخی دوسرے ملک زادہ مظفر تیسرے مولانا نظام الدین حصاری قدس سرہم تھے ۔

حضرت شیخ مظفر بلخی کے والد مکرم جناب شمس الدین بلخی ابتدائی عمر میں ہی دہلی میں آگئے تھے اور سلطانِ دہلی کے دربار میں ایک عہد پر فائز ہوئے کچھ عرصہ کے بعد تارک الدنیا ہوکر اپنی بیوی کو لکھا کہ میں تارک الدّنیا ہوگیا ہوں اگر تمہیں میرے اس مقصدے سے اتفاق ہوتو اپنا مال و متاع اپنے بیٹوں کو دے کر میرے پاس آجاؤ اور صبر و قناعت کی زندگی اختیار کر لو ۔

اس نیک سیرت بی بی نے اپنے دونوں بیٹوں مظفر اور معز الدین کو بٹھا کر کہا کہ تمہارے باپ نے مجھے تارک الدنیا ہوکر بلایا ہے میں بھی اس کے اس مقصد میں شریک ہونا چاہتی ہوں میں جارہی ہوں تمہارے لیے یہ تمام مکانات اور مال و متاع موجود ہے والدہ کی یہ بات سنتے ہی دونوں بیٹوں نے کہا ۔ ہم بھی دنیا کے علایٔق کو ترک کرنا چاہتے ہیں چنانچہ تمام اثاثہ اور مال و متاع غرباء میں تقسیم کردیا۔ اور والدہ کے ساتھ سفر کرکے دہلی آپہنچے اگرچہ شیخ شمس الدین بلخی شیخ احمد چرم پوش بھاری کے خلیفہ تھے ۔

اور شیخ مظفر فرمایا کرتے تھے کہ شیخ احمد صاحب کرامت بزرگ ہیں لیکن وہ عالم نہیں ہیں اور مجھے بے علم بزرگ پر اعتماد نہیں ہے مجھے تو صاحب علم بزرگ پر اعتماد و اعتقاد ہوسکتا ہے چنانچہ آپ شیخ شرف الدین منیری کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مرید ہوئے چونکہ ان کی بیوی آپ کے معمولات ذکر اور دیگر مشاغل میں حارج تھی اور آپ کو اس سے فطری محبت بھی تھی۔ آپ نے طلاق دے دی اور حالت تجرید میں مشغول حق ہو گئے ۔

ایک دن حضرت شیخ مظفر اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں بیٹھے تھے۔ حاجی شیخ منہاخ الدین بھی اسی مجلس میں موجود تھے ۔ حج کعبہ کی فرضیت میں بات چل نکلی انہوں نے شیخ کی صحبت سے حج کعبہ کو افضل قرار دیا ۔

یہ بات سنتے ہی شیخ مظفر کو بڑا غصّہ آیا اور بحث شروع کردی کہ پیر طریقت کی برکات سے کعبہ قریب آجاتا ہے اسے شیخ کی صحبت ترک کرکے حج کعبہ میں جانے کی کیا ضرورت ہے اس بات نے طول پکڑا تو شیخ مظفر نے شیخ منہاج الدین کو جوش میں آکر کہا ۔ یہ دیکھو ۔ کعبہ تو میری آستین میں ہے شیخ منہاج الدین نے کعبۃ اللہ کو دیکھ کر اپنے خیال سے رجوع کرلیا مگر جب شیخ کو اس کرامت نمائی کا علم ہوا ۔

تو آپ نے شیخ مظفر کو بلا کر فرمایا تم کرامات کا اظہار کرکے یاد الٰہی سے غافل ہورہے ہو اب تمہارے لیے واجب ہے کہ حرین الشریفین کی زیارت کو جاؤ ۔ حضرت شیخ مظفریہ حکم سنتے ہی بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے بیت اللہ شریف پہنچے زیارت سے فارغ ہوئے تو ہندوستان کو روانہ ہوئے ابھی راستے میں ہی تھے کہ حضرت شیخ شرف الدین منیری کے وصال کی خبر سنی دورانِ سفر یہ صدمہ بے حد گراں گزرا ۔ ایک رات آپ کی سرور دو عالم ﷺ کی خواب میں زیارت ہوئی آپ نے حکم دیا کہ امسال جلدی سے ہندوستان جاؤ آئندہ اپنے بیٹوں کو لے کر پھر آنا آپ دوسری بار مکہ مکرمہ کی طرف گئے تو اپنے بیٹوں کو ساتھ لے گئے اور ساری بقایا عمر دیارِ حبیب میں گزار دی ۔

وفات کے قریب تقریباً بائیس (۲۲) دن کھانا نہ کھایا کسی سے بات نہ کی وصال کے وقت اپنے پیرانِ عظام کی امامت اپنے برادر زادہ شیخ حسین کو خرقہ خلافت کے ساتھ دی اور ۷۸۸ھ میں فوت ہوئے آپ اپنے پیر و مرشد حضرت منیری کے وصال سے چھ سال تک زندہ رہے ۔

شد بحنت چوں آں مظفر دین
محتشم سال رحلتش فرما ۷۸۸ھ

مقتداء شیخ متقی بلخی
ہم بگو زندہ دل ولی بلخی ۷۸۸ھ

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muzaffar-balkhi-makkah
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت سید سعد اللہ سلونی قادری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
علامہ سید سعد اللہ ۔ لقب: قصبہ سلون کی نسبت سے " سلونی " کہلاتے ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا سید سعد اللہ بن سید عبد الشکور بن سید غلام محمد سلونی ۔ پیر محمد سلونی علیہ الرحمہ ولی کامل تھے ۔ پورے ہندوستان میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ۔ سلاطینِ مغلیہ آپ کے عقیدت مندوں میں شامل تھے ۔ (علیہم الرحمہ) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت " موضع سلون " ضلع الہ آباد (انڈیا) میں دسویں صدی ہجری کو ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
موضع سلون میں ہی آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ سید سعد اللہ کم سنی ہی میں علوم و فنون کی تحصیل کی طرف مائل ہوئے اور تھوڑی ہی مدت میں تمام علومِ متداولہ میں کامل دسترست حاصل کرلی اور عالمِ شباب ہی میں تعلیم و تربیت، درس و تدریس اور رشد و ہدایت کی مسند پر متمکن ہوگئے اور پرانے اور کہنہ مشق اساتذہ کے دوش بدوش آپ کا چشمہ فیض بھی جاری ہوگیا اسی دور میں آپ نے نہایت گراں قدر کتابیں بھی تصنیف فرمائیں خصوصاً علمِ معرفت، فلسفہ و حکمت اور فنِ منطق میں آپ کی تصانیف بہت بلند مقام رکھتی ہیں۔ جیسے"حاشیۃ علی الحکمۃ،کشف الحق،رسالۃ فی شرح اربعین، چہل بیت مثنوی، تحفۃ الرسول ﷺ، حاشیۃ یمین الوصول علم الفقہ میں ہے اور "آداب البحث" علم منطق میں ہے۔ ان کے علاوہ دیگر مایہ ناز کتب ہیں ۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے جد امجد پیر سید غلام محمد سلونی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے، اور ایک عرصے تک ان کی خدمت میں رہ کر سلوک کی منزلیں طے فرمائیں۔ والدِ گرامی سید عبد الشکور اور حضرت پیر سلونی علیہما الرحمہ سے خلافت حاصل ہوئی ۔

سیرت و خصائص:
شیخ العرب والعجم، امام الفقہاء والصلحاء، جامع المنقولاتِ والمنقولات، جامع کمالاتِ علمیہ وعملیہ، امام، فاضل، کامل، عارف حضرت شیخ سید سعد اللہ سلونی قادری رحمۃ اللہ علیہ۔

آپ کا شمار اس وقت کے جید علماء و مشائخ میں ہوتا تھا۔ تقویٰ و فضل وراثت میں ملا تھا۔ پھر اس پر آپ کے مجاہدات نے سونے پہ سہاگہ والا کام کیا۔ درس و تدریس، تصنیف وتالیف، وعظ ونصیحت آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔آپ نےزیارتِ حرمین شریفین کا شرف بھی حاصل کیا اور کچھ زمانہ مکہ معظمہ میں مقیم رہے اور یہاں آپ کو بڑی عزت اور مقبولیت حاصل ہوئی ۔مکہ معظمہ کے چھوٹے بڑے خواص و عوام سبھی آپ سے بڑی عقیدت رکھتے تھے۔ اہل مکہ نے آپ سے علم ظاہری اور باطنی کی خوب تحصیل کی ۔

شیخ عبد اللہ بصری مکی رحمۃ اللہ علیہ (مصنف ضیاء الساری شرح صحیح بخاری ) یہ اپنے وقت کے ممتاز ترین علماء میں سے تھے اور ساری دنیا میں مسلم الثبوت استاد کی حیثیت رکھتے تھے، اور آج بھی عرب و عجم کے اکثر علماء کی اجازت کا سلسلہ انہی کی ذات گرامی تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے سلسلہ قادریہ کا بلند پایہ طریقہ حضرت سید سعداللہ سے حاصل کیا۔ شیخ عبد اللہ بصری کے فرزند شیخ سالم نے اپنے والدِ ماجد کی اجازت کے سلسلہ میں ایک رسالہ مرتب کیا ہے اس رسالہ میں شیخ سالم فرماتے ہیں۔ "مشایخہ فی الطریق و اساتذہ فی الارشاد و التحقیق جملۃ اجلاء منھم العلامۃ المحقق السید سعد اللہ الھندی عن السید عبد الشکور عن شاہ مسعود الاسفرا ینی عن الشیخ علی الحسینی عن الشیخ ابراہیم الحسینی عن الشیخ عبد اللہ الحسینی عن الشیخ عبید اللہ الحسینی عن الشیخ عبد الرزاق عن سیدنا عبد القادر الجیلانی قدس اللہ اسرارھم"۔

سلطان الاسلام حضرت عالمگیر بادشاہ رحمۃ اللہ علیہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے، اور بہت آداب بجالاتے تھے۔ آپ کو " سیدنا و سندنا " کے القابات سے مخاطب کرتے تھے۔ ایک مکان اور دو گاؤں بطورِ نذرانہ پیش کیے۔ جن کی ماہانہ آمدنی آٹھ ہزار روپے تھی۔ آپ کے عظمت و مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شیخ الاسلام، فخر الاسلام، فاضلِ زمانہ، محدثِ یگانہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمۃ اللہ علیہ آپ کی خدمت میں رہ کر مستفیض ہوئے تھے۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 27 جمادی الاولیٰ 1138ھ، مطابق جنوری 1726ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار بندر گاہ سورت (ہند) میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ ہندوستان کے چالیس مشاہیر علماء کا تذکرہ ۔
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا حافظ رفیق رضوی

مجاہد اہل سنت ، پیکر اخلاق ، ناشر سنیت حاجی حافظ محمد رفیق بن حاجی حافظ دین محمد چشتی مہروی ۱۹۳۵ء کو دہلی بلی ماران (انڈیا) میں تولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
آپ کے گھر کا ماحول خالص دینی تھا گھر سے ابتدائی تعلیم کاآغاز کیا۔ اس کے بعد دس سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا اور اسی چھوٹی سی عمر میں امام اہل سنت اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی ؒ کے شاگرد و خلیفہ مولانا قاضی عبدالغفور رضوی کی صحبت اختیار کی اس کے بعد مولانا حکیم سیف الدین کی صحبت میں دینی تعلیم اور حکمت سیکھی ۔

قیام پاکستان کے بعد شیخ الحدیث حضرت علامہ سر دار احمد رضوی محدث لائلپوری کی صحبت اختیار کی ۔

پاکستان میں قیام:
قیام پاکستان کے بعد انڈیا سے پاکستان تشریف لائے۔ شروع میں سر گودھا میں قیام کیا اور ۱۹۵۱ء کو آپ ایک نوجوان سید ظہور احمد شاہ کے ہمراہ حرمین شریفین کے سفر پر نکلے ۔ لیکن دوران سفر سکھر (سندھ) آئے اور سکھر کی مشہور و مرکزی مسجد جامعہ قادریہ میں قیام پذیر ہوئے۔ سید صاحب کو ریلوے ہائی اسکول میں نوکری ملی اور آپ کو اسی مدرسہ قادریہ میں حفظ و ناظرہ کی کلاس کے لئے بحیثیت مدرس ملازمت ملی ۔ اس طرح آپ نے ۱۹۵۱ء تا ۲۰۰۴ء تک ۵۲ سال کا طویل عرصہ سکھر میں بسر کیا۔ ان دنوں جامعہ قادریہ (آج اس مدرسہ کے نام سے بھی کوئی شنا ساسکھرمیں مشکل نظر آئے گا) میں شیخ الحدیث کے منصب پر مولانا محمد شریف رضوی اور تدریس و فتاویٰ نویسی کی خدمات پر استاد العلماء مولانا مفتی محمد صالح نعیمی (لاڑکانہ) مامور تھے ۔

بیعت:
آپ لائلپور (فیصل آباد) میں شیخ الحدیث حضرت علامہ محمد سروار احمد رضوی بانی جامعہ رضویہ مظہر اسلام سے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں دست بیعت ہوئے۔ ان کے علاوہ دیگر علماء و مشائخ طریقت کی صحبت بافیض سے بھی لطف اندوز ہوئے ۔

سیاسی خدمات:
آپ اول تاآخر اہل سنت و جماعت کی نمائندہ سیاسی جماعت ’’ جمعیت علماء پاکستان سے منسلک رہے ۔ تحفظ مقام مصطفی اور نفاذ نظام مصطفی ﷺ کے لئے کوشش و جدوجہد کرتے رہے، سکھر میں دینی سیاسی ہر موڑ پر مولانا مفتی محمد حسین قادری کے ساتھ ساتھ رہے ۔

خدمت خلق:
آپ ایک عامل تھے، سکھر میں وجہ شہرت تعویذات کے حوالے سے تھی ، کئی بزرگوں سے عملیات و وظائف لے رکھے تھے۔ کھڈہ ( شمس آباد ) میں محمد ی مسجد کے برابر میں آپ کی رہائش تھی سارا دن تعویذات کے سائلین کا ہجوم رہتا ہے۔ اس طرح کافی خلق خدا نے فیض حاصل کیا ۔

امامت و خطابت:
شروع میں اللہ والی مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیئے اس کے بعد محمد ی مسجد عرف کھڈہ مسجد ( شمس آباد محلہ ) سکھر میں تشریف لائے اور تاحیات اسی مسجد کے ساتھ منسلک رہے۔ مسجد شریف کے متصل مدرسہ تعلیم القران بھی قائم کیا۔ اس طرح شب وروز تبلیغ دین میں مصروف رہتے ۔
2
شادی و اولاد:
۱۹۶۱ء کو آپ نے استاد العلماء علامہ غلام محمد گھوٹوی مہروی کے شاگرد خاص مولانا حافظ فضل کریم چشتی مہروی کی بڑی بیٹی سے رشتہ رزدواج میں منسلک ہوئے۔ آپ نے گھر کا ایسا علمی روحانی ماحول پیدا کیا کہ آپ کی تمام اولاد دینی تعلیم سے آراستہ ہوئی نہ فقط لڑکے بلکہ لڑکیا ں بھی علم و فضل سے آراستہ ہیں یہاں تک کہ سکھر کی اکثر بچیوں اور مستورات کے مدارس ان بچیوں کے فیض سے جاری ہیں ۔ اور ایسے ماحول سے ہمارے اکثر علامء و مشائخ کے گھر خالی ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ ان کی اولاد والد کے الٹ چلتی ہے۔ ایک بار فقیر راشدی غفرلہ نے آپ کے صحبت یافتہ جناب قاری صلاح الدین صاحب سے دریافت کیا کہ قاری صاحب کی تمام اولاد دینی تعلیم سے آراستہ کیسے ہوئی ؟ انہوں نے کہا میری نظر میں اس کے دو جوابات ہیں ایک یہ کہ وہ نماز تہجد کے بعد اپنی اولاد کے لئے حصول تعلیم کی گڑگڑا کر دعا کرتے تھے اور دوسرا وہ ہر ملنے والے فقیر درویش پیر مشائخ سے اولاد کے حق میں علم دین کی دعا ضرور کرواتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو چھ بیٹیاں اور چھ بیٹے عنایت فرمائے۔

۱۔ خطیب اہل سنت مولانا علامہ عارف حسین سعیدی مہتمم جامعہ انوار مصطفی سکھر

۲۔ قاری محمد آصف مصطفائی ناظم جامعہ انوار مصطفی سکھر

۳۔ محمد عابد سعیدی

۴۔ مولانا حافظ قاری ساجد القادری مہتمم مدرسہ محمد یہ حنفیہ کوئٹہ

۵۔ قاری محمد عالم سعیدی

۶۔ قاری مولانا محمد شفیق سعیدی

عادات و خصائل:
وہ انتہائی مخلص ، خلیق ، متواضع ، متوازن اور پرکشش شخصیت کے مالک تھے۔ عجب واستکبار اور بندار نفس کی خوبوان میں بالکل نہیں تھی۔ تعمیری سوچ کے حامل ، متحرک مستقل مزاج ، عمل پیہم کے پیکر ، مہمان نواز، علماء و مشائخ کے قدردان ، اور دین کے درد سے سرشار تھے۔

سفر حرمین شریفین:
۱۹۵۲ء کو سکھر سے حج بیت اللہ اور روضہ رسول مقبول ﷺ کی حاضری کی سعادت حاصل کی۔ حرمین کا یہ پہلا سفر تھا۔

بنیادی کام:
آپ ہالا رمیمن جماعت خانہ میں تعلیم قرآن دیا کرتے اور شوکت الاسلام اسکوم میں ٹیچر تھے۔ صبح کو اسکول ، نماز ظہر کی امامت کے بعد تعویذات کا سلسلہ ، بعد نماز مغرب محمد ی مسجد میں تعلیم قرآن کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس طرح اصل بنیادی کام کرنے کے لئے راہ ہموار کی عوام الناس سے تعلقات استوار کئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سکھر میں اہل سنت و جماعت کی اہم و بنیادی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے درج ذیل مراکز کو قائم کیا :

٭ جامعہ انوار مصطفی ٹرسٹ نزد ریلوے گراوٗنڈ سکھر

٭ اباعیسیٰ اسلامک سینٹر میانی روڈ سکھر ( برائے خواتین)

٭ مدرسہ سعیدیہ کاظمیہ انوار مصطفی گوٹھ علی واہن تحصیل روہڑی ضلع سکھر

٭ مدرسہ تعلیم القرآن محمد یہ نیو پنڈسکھر

٭ مدرسہ جامعہ محمد یہ حنفیہ کوئٹہ ( بلوچستان)

وصال:
وفات سے کچھ عرصہ قبل کار کے حادثے میں شدید زخمی ہو گئے کمزوری آچکی تھی اور تھوڑے عرصے کے بعد راہی جنت ہوئے۔ حافظ قاری حاجی محمد رفیق نے ۲۷، جمادی الاول ۱۴۲۵ھ بمطابق ۱۶، جولائی ۲۰۰۴ء بروز جمعۃ المبارک گیارہ بجکر اکیس منٹ پرستر ( ۷۰) سال کی عمر میں انتقال کیا۔ اور مدرسہ انوار مصطفی سکھر کے صحن میں تدفین عمل میں آئی۔

[ ذاتی معلومات کے علاوہ رسالہ رفیق ملت مطبوعہ رفیق الملت ٹرسٹ سکھر سے حالات ماخوذ ہیں ]


( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hafiz-muhammad-rafiq-rizvi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت سید نور الحسن شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
حضرت سید نور الحسن ۔ لقب: سراج السالکین، عمدۃ العارفین ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
عارف کامل حضرت سید نور الحسن شاہ بن حضرت سید غلام علی شاہ بن حضرت سید حیات شاہ ۔ علیہم الرحمہ ۔

آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام حسین تک پہنچتا ہے ۔ آپ کے آباؤ اجداد با کمال بزرگ تھے ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت:551) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 جمادی الاول 1306ھ مطابق 30 جنوری 1889ء بروز بدھ، بوقتِ شب ’’ کیلیانوالہ شریف ‘‘ ضلع گوجرانولہ پنجاب پاکستان میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ کی طبع سلیم میں ابتداء ہی سے تقویٰ و طہارت اور نیکی کے جذبات بدرجۂ اتم موجود تھے ۔ ظاہری تعلیم کے لئے آپ پہلے احمدنگر اور پھر قصبہ رسول نگر کے اسکول میں داخل ہوئے اور پرائمری پاس کر کے اسکول چھوڑ دیا، کچھ عرصہ بعد کیلیا نوالہ شریف کے خوشنویس مولانا نور الٰہی سے فن خوشنویس سیکھا، پھر کچھ عرصہ ٹھیکداری بھی کرتے رہے ۔ بعد ازاں چک 14 ضلع شیخو پورہ میں منتقل ہو گئے ۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت میاں شیر محمد شرق پوری کے مرید و خلیفہ تھے ۔

سیرت و خصائص:
سراج السالکین، عمدۃ العارفین حضرت سید نور الحسن شاہ بخاری ۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے مشائخِ کبار میں ہوتا ہے ۔ آپ نےاشاعتِ اسلام میں بڑی کوشش فرمائی ۔ مسلکِ حق کے دفاع میں ساری زندگی مصروف رہے ۔ آپ کی کوشش سے بہت سے حضرات راہ راست پر آئے ۔ کیلیا نوالہ شریف کے خاندان سادات کے بہت سے افراد شیعہ ہو گئے تھے ۔ ابتداءً انہیں کے زیر اثر آپ بھی تشیع سے متاثر تھے لیکن موجودہ دور کے شیعوں کے بر عکس نماز اور روزہ کے پابند تھے ۔ قدرت نے آپ کو بڑی دل کش اور پر سوز آواز عطا فرمائی تھی ۔ چنانچہ جب آپ بیان فرماتے تو سامعین بڑے اشتیاق سے سنتے، نعت بھی بڑے سوز و گذار سے پڑھتے ۔ ایک دفعہ شر قپور شریف جاکر بیان کیا تو دھوم مچ گئی، کسی نے جاکر عارف ربانی حضرت میاں شیر محمد شر قپوری قدس سرہ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا ’’شاید یہ ہی ہمارا کام دیں‘‘ ولی کامل کی زبان سے نکلا ہوا یہ جملہ حرف بحرف صحیح ثابت ہوا اور حضرت سید نور الحسن شاہ بخاری کا حضرت میاں شیر محمد شر قپوری سے وہ رابطہ قائم ہوا جو دن بدن بڑھتا ہی رہا اور آپ کے ذریعہ رشد و ہدایت کا ایسا چشمہ جاری ہوا جس سے لاکھوں تشنہ کام سیراب ہوئے ۔

حضرت شرقپوری علیہ الرحمہ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہونے کے بعد آپ نے شر قپور شریف میں قیام کے دوران قرآن مجید پڑھا اور مرشد کامل کی نگاہ سے وہ فیوض حاصل کئے کہ آپ کی تحریر و تقریر بڑے بڑے علماء کو حیرت زدہ کر دیتی تھی۔آپ اکثر و بیشتر سفر و حضر میں حضرت میاں صاحب کے ساتھ رہا کرتے تھے اور ایک وقت وہ آیا کہ حضرت میاں صاحب نے آپ کو اجازت و خلافت مرحمت فرمائی اور آپ ان کے اکابر خلفاء میں شمار ہوئے۔جب آپ حضرت شیر ربانی قدس سرہ کے حکم سے آپ کیلیا نوالہ شریف میں منتقل ہوئے تو شیعوں نے مزاحمت شروع کردی اور طرح طرح سے در پئے آزار ہوئے، مقدمہ بازی اور قاتلانہ حملے تک نوبت پہنچی لیکن آپ کمال حلم سے سب کچھ برداشت کرتے رہے حتیٰ کہ مخالفین کو نا کامی کا مُنہ دیکھنا پڑا، اور آپ کے فیض کا آفتاب دن بدن عروج پر رہا ۔

حضرت شاہ صاحب اپنے دور کے وہ عظیم روحانی پیشوا تھے جن کے ذریعے ان گنت افراد راہِ راست پر آئے اور بے شمار منزل مقصود کو پہنچے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم لدنی کی دولت سے نوازا تھا ۔مشکل سے مشکل مسئلہ پر گفتگو فرماتے اور اسے منٹوں میں حل فرما دیتے ۔ ایک دفعہ مکان شریف (انڈیا) میں عرس کے موقع پر مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری (احراری) سے مسئلۂ علم غیب پر گفتگو ہوئی جس میں شاہ جی کو آپ کا موقف تسلیم کرنا پڑا ۔ آپ کی تصنیف جلیل ’’الانسان فی القرآن‘‘ تبحر علمی کا بہترین شاہکار ہے ۔ جس میں آپ نے مختلف موضوعات پر شرح صدر سے گفتگو فرمائی ہے اور بعض اختلافی مسائل کو بڑے حکیمانہ انداز سے سلجھایا ہے ۔ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ

؏: دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا
2
تحریکِ پاکستان میں کردار:
آپ دو قومی نظریے کے زبردست حامی اور مؤید تھے یہی وجہ تھی کہ آپ کانگریسی اور احراری لیڈروں کے مسموم اثرات کے ازالے کے لئے کوشاں رہے چنانچہ ایک مرتبہ مشہور احراری لیڈر ملک لعل خاں سے دوران گفتگو فرمایا: ’’فرمان مولیٰ کریم ہے ۔ انما ولیکم اللہ و رسولہ والذین امنو ۔ یعنی حقیقۃً تمہارے دوست اور سر پرست اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور ایماندار بندگان خدا ہیں، ایک مسلمان کے لئے تو یہی پیشوا اور راہنما ہیں،ان کے فرمان تو عرض کرہی دئے اب ان کے سوا آپ کےلئے  گاندھی اور نہرو کا فرمان واجب العمل ہوگا جو سوائے جہنم کے ہمیں کسی راستے پر نہیں لےجا سکتا‘‘ ۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:553) ـ

آپ کی شبانہ روز زندگی عبادت اور ذکر و فکر میں بسر ہوتی تھی، سب سے پہلے  مریدوں اور عقیدت مندوں کو شریعت مبارکہ کی اتباع کی تلقین فرماتے، اس کے بعد اوراد و وظائف کی باری آتی ۔ آپ مکان شریف اور شر قپور شریف سے فارغ ہو کر لاہور تشریف لے جاتے اور حضرت داتا گنج بخش ہجویری قدس سرہ کے مزار پر انوار پر ضرور حاضر ی دیتے، بعض اوقات حضرت شاہ محمد غوث کے مزار شریف پر بھی حاضر ہوتے ۔ آپ کے حلقۂ ارادت میں بڑے بڑے علماء شامل ہوئے، چند ایک کے نام، جو معلوم ہو سکے یہ ہیں:

1۔ حضرت مولانا سید جلال الدین شاہ بانی و مہتمم جامعہ محمدیہ رضویہ نوریہ بھکھی شریف ۔ (والد سید عرفان شاہ مشہدی مدظلہ العالی) ـ

2۔ حضرت مولانا محمد نوزا صدر مدرس مدرسہ مذکورہ ۔ (استاد محترم ڈاکٹر اشرف آصف جلالی مدظلہ العالی) ـ

3۔ مولانا سید منیر حسین شاہ جو کالوی، مؤلف، انشراح الصدور بتذکرۃ النور (سوانح حیات حضرت شاہ صاحب ممدوح قدس سرہ) ـ

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 3 ربیع الاول 1372ھ مطابق 21 نومبر 1952ء کو جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب گیارہ بج کر پچیس منٹ پر 63 برس کی عمر میں ہوا ۔ کیلیا نوالہ شریف ضلع گوجرانولہ میں مزار شریف مرجعِ خلائق ہے ۔ آپ کے وصال کے بعد بڑے صاحبزادے حضرت سید محمد باقر شاہ سجادہ نشین ہوئے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔ انشراح الصدور بتذکرۃ النور ۔ اس کتاب میں آپ کے مفصل حالات بیان کیے گئے ہیں ۔

مولانا محمد عبد اللہ کنجاہی نے درج ذیل تاریخ وفات کہی:

سید السادات فرزند رسول
جامع الحسنات، دلبند بتول

ماجی بدعات، ابن مرتضیٰ
قرۃ العینِ شہیدِ کربلا

راحتِ جانِ جناب شاہ حسن
سیدی سندی شہ نور الحسن

نور کامل ز آفتاب شر قپور
بے شبہ بُد ماہتاب شر قپور

بود غوث وقت ہم قطبِ رشاد
ہر کہ آمد بر درش شد بامراد

کرد رحلت از فنا سوئے بقا
مخلصاں را رنج و غم، آہ وبکا

مہ ربیع اول، سوم تاریخ بود
چوں بیامد روح پاکش در صعود

گفت تاریخ وصالش مولوی
خادم شاہ سلیماں تونسوی

رفت خضر راہ دعا گودرجناں
پیر نور الحسن شاہ عارف زماں

ذاکر حق پیر نور الحسن شاہ
رحمت حق صلہ یافت از بارگاہ

1372

https://scholars.pk/ur/scholar/arif-e-kamil-hazrat-syed-noor-al-hasan-shah-bukhari
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2