Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-05-1445 ᴴ | 11-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-05-1445 ᴴ | 11-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ کیا عورت اندھیرے میں ننگے سر نماز پڑھ سکتی ہے؟ ❷ عورت فاتحہ پڑھنے کے لئے قبرستان جا سکتی ہے یا نہیں؟ ❸ بچے کی جنس معلوم کرنے کے لئے الٹرا ساؤنڈ کروانا کیسا ہے؟ ❹ عورت کا مخصوص ایام میں ایصال ثواب کرنا کیسا ہے؟ ❺ غیر مسلم عورت کو گھریلو کام کاج کے لئے رکھنا کیسا ہے؟ ❻ عورت کا مسواک یا دنداسا استعمال کرنا کیسا ہے؟ ❼ اگر کسی لڑکی کی لاش ملے اور معلوم نہ ہو کہ لڑکی مسلمان ہے یا نہیں تو کیا حکم ہے؟ ❽ بیوی کا دودھ شوہر کو پینا جائز ہے یا نہیں؟ نیز بیوی کا پستان منھ میں لینا کیسا ہے؟ ❾ کیا عورت خاوند کی اجازت کے بغیر بیعت ہو سکتی ہے؟ ❿ ناپاکی کی حالت میں مرید ہونا کیسا ہے؟ / ناپاک حالت میں بیعت ہوگی یا نہیں؟
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ کیا عورت اندھیرے میں ننگے سر نماز پڑھ سکتی ہے؟ ❷ عورت فاتحہ پڑھنے کے لئے قبرستان جا سکتی ہے یا نہیں؟ ❸ بچے کی جنس معلوم کرنے کے لئے الٹرا ساؤنڈ کروانا کیسا ہے؟ ❹ عورت کا مخصوص ایام میں ایصال ثواب کرنا کیسا ہے؟ ❺ غیر مسلم عورت کو گھریلو کام کاج کے لئے رکھنا کیسا ہے؟ ❻ عورت کا مسواک یا دنداسا استعمال کرنا کیسا ہے؟ ❼ اگر کسی لڑکی کی لاش ملے اور معلوم نہ ہو کہ لڑکی مسلمان ہے یا نہیں تو کیا حکم ہے؟ ❽ بیوی کا دودھ شوہر کو پینا جائز ہے یا نہیں؟ نیز بیوی کا پستان منھ میں لینا کیسا ہے؟ ❾ کیا عورت خاوند کی اجازت کے بغیر بیعت ہو سکتی ہے؟ ❿ ناپاکی کی حالت میں مرید ہونا کیسا ہے؟ / ناپاک حالت میں بیعت ہوگی یا نہیں؟
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولانا تاج محمد مہر قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
فقری باصفا مرید باکمان مولانا میاں تاج محمد صاحب مہر گوٹھ عامل (نزد چک ، تحصیل لکھی، ضلع شکار پور) میں تولد ہوئے۔ اپنے بھائیوں سے اختلاف کی بنیاد پر اپنے بڑے بھائی میاں محمد مبارک کے ساتھ عامل گوٹھ سے منتقل ہو کر ایک گوٹھ قائم کیا جو کہ ’’میاں جو گوٹھ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا ۔
تعلیم و تربیت:
آپ نے ’’ میاں جو گوٹھ ‘‘ (ضلع شکار پور سندھ) میں استاد العلماء حضرت مولانا عبدالحکیم پنہیار قادری علیہ الرحمۃ (جو کہ حضرت پیر سید موسیٰ شاہ جیلانی علیہ الرحمۃ گھوٹکی والے کے مرید با وفا تھے) سے تعلیم و تربیت حاصل کی۔ اس کے بعد میاں صاحب حصول علم میں ملتان شریف گئے، وہاں علامہ قاضی نور احمد صاحب بلکانی والے کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کا مدرسہ، حضرت حامد محمود مخدوم سید محمد راجن علیہ الرحمہ کے روضہ شریف کے قریب دریائے سندھ پر قائم تھا۔ وہیں درسی نصاب مکمل کیا ۔
اویسی فیض:
دوران تعلیم آپ کے سر میںشدید درد ہوا۔ بہتیرے علاج معالجہ کیا لیکن بے سود حالانکہ خود حضرت قاضی نور احمد صاحب ایک حاذق حکیم تھے لیکن کوئی علاج کارگر نہ ہا۔ اتفاقاً سلطان العارفین حضرت سلطان باہو قادری قدس سرہ(جھنگ پنجاب) کا ایک فقیر وہاں مدرسہ مٰں مہمان آکر ٹھہرا۔ فقیر نے فرمایا: مولوی صاحب آپ کا یہ درد کسی بیماری یا مادہ کے سبب نہیں کہ حکیموں کا علاج کارگر ہو۔ یہ ہمارے مرشد کریم حضرت سلطان العارفین کے تصرف و کشش کے سبب ہے۔ اس لئے آپ حضرت کی خانقاہ مقدس پر حاضری دیں انشاء اللہ تعالیٰ مزار شریف کی زیارت کرتے ہی آپ کا درد سر ختم ہوجائے گا۔ چنانچہ مولانا صاحب زیارت کرتے ہی شفایاب ہوگئے اور ڈھائی سال تک مزار شریف پر معتکف رہے اور فیض حاصل کرتے رہے۔ اس طرح آپ اویسی قادری ہوئے ۔
آپ ایک مقبول درگاہ الٰہی اور صاحب الحضوری بزرگ تھے۔
مرشد کریم سے عشق:
ایک بار بچے راستے میں کھڑے تھے ، انہیں معلوم تھا کہ مولانا احب اپنے مرشد کے نام پر کام کردیتے ہیں اسلئے کہ انہیں اپنے مرشد سے عشق ہے، اسلئے مرشد کے نام پر انکار نہیں کر سکتے۔ بچوں نے بغرض تماشہ مولانا صاحب سے کہا۔ مولانا صاحب! اپنے مرشد کے نا پر اس تالاب میں ایک غوطہ لگائیں۔ مولانا صاحب مرشد کا نام سن کر سراپا احترام بن گئے، ایندھن کا گٹھا سر سے اتار کر نیچے رکھا اور نہر میں غوطہ لگایا۔ جب ایک بار غوطہ لگا چکے تو پھر بچوں نے مرشد کا واسطہ دیا کہ ایک بار اور غوطہ لگائیں۔ مرشد کے نام پر مولانا صاحب نے نہ جانے کتنی بار غوطہ لگا چکے۔ بچے کھیل تماشہ سمجھ رہے تھے ادھر آپ عشق کے امتحان میں کامیاب نکلے ادھر ایک صاحب نہر پر آنکلے انہوں نے بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر بھگا دیا اور مولانا صاحب کو باہر نکالا ارو ان کے کپڑے نچوڑے اور ان کا گٹھا اور ریوڑ ان کے مکان پر پہنچا دیا۔ سبحان اللہ!
میں مدارجاں سے گزر سکا تو تری کشش کے طفیل میں
یہ ترے کرم کا کمال تھا کہ حصار ذات کو ڈھا گیا
سخاوت:
مولانا تاج محمد صاحب ذریعہ معاش کیلئے ریوڑ پالا کرتے تھے۔ ان کا تھوڑا سا دودھ بیچ کر روٹی کے واسطے غلہ خرید لیتے اور باقی دودھ راہ خدا میں تقسیم کر دیتے تھے۔ اس ریوڑ کو عموماً بذات خود چراتے تھے اور جب بھیڑیں چرا کر واپس آتے تو ایندھن کا گٹھا سر پر اٹھا کر لاتے ھتے ۔
مرشد زادے کا ادب:
سلطان حامد (مؤلف مناقب سلطانی) لکھتے ہیں کہ میرے جد امجد نے میرے والد ماجد سے فرمایا۔ بیٹا! اتنے فقیر اور اونٹ لے کر آستانہ گائوں جائو، وہاں سے باگڑ کی لمبی لکڑیاں لائو۔ کیوںکہ فلاں کنویں میں پانی کم ہوگیا ہے اس میں کوٹھی بنائی جائے گی۔ آپ نے حکم بجالاتے ہوئے ویس اہی کیا۔ جب باگڑ کی لکڑیاں دریافت کی تو معلوم ہوا کہ فلاں کنویں میں لکڑیاں فالتو پری ہیں انہیں کھینچ کر نکال لو۔ جب ہم اس کنویں پر پہنچے تو غوطہ لگا کر چار لکڑیوں کو چار رسوں سے باندھا۔ جب پانی کی سطح پر آئیں تو ان رسوں کو باہر کے درختوں سے باندھ دیا تاکہ ایک ایک کر کے نکال لی جائے۔ اس کام میں شام ہوگئی۔ چونکہ جلدی تھی اسلئے انہوں نے مولاناتاج محمد کو کہا کہ جلدی آئو اور اس چوتھی لکڑی کو اچھی طرح کھینچے رہو۔ انہیں خیال تھا کہ جب باقی کے تین رسے باندھ لئے جائٰں گے تو پھر اس چوتھے کو بھی باندھ لیا جائے گا۔ ااور رات اپنے اپنے مکانوں میں بسر کرکے صبح ان لکڑیوں کو نکال کر اونٹوں پر لاد دیا جائے گا۔ اور اس طرح پھر دوسرے روز نویں میں اترنا نہیں پڑے گا۔ وہ تمام فارغ ہو کر سوار ہوئے، ساتھیوں کے ہمراہ اپنی منزل کو پہنچے۔ وہاں جاکر مولانا تاج محمد یاد آئے جو کہ ساتھیوں کے ساتھ نہ تھے ۔
فقری باصفا مرید باکمان مولانا میاں تاج محمد صاحب مہر گوٹھ عامل (نزد چک ، تحصیل لکھی، ضلع شکار پور) میں تولد ہوئے۔ اپنے بھائیوں سے اختلاف کی بنیاد پر اپنے بڑے بھائی میاں محمد مبارک کے ساتھ عامل گوٹھ سے منتقل ہو کر ایک گوٹھ قائم کیا جو کہ ’’میاں جو گوٹھ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا ۔
تعلیم و تربیت:
آپ نے ’’ میاں جو گوٹھ ‘‘ (ضلع شکار پور سندھ) میں استاد العلماء حضرت مولانا عبدالحکیم پنہیار قادری علیہ الرحمۃ (جو کہ حضرت پیر سید موسیٰ شاہ جیلانی علیہ الرحمۃ گھوٹکی والے کے مرید با وفا تھے) سے تعلیم و تربیت حاصل کی۔ اس کے بعد میاں صاحب حصول علم میں ملتان شریف گئے، وہاں علامہ قاضی نور احمد صاحب بلکانی والے کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کا مدرسہ، حضرت حامد محمود مخدوم سید محمد راجن علیہ الرحمہ کے روضہ شریف کے قریب دریائے سندھ پر قائم تھا۔ وہیں درسی نصاب مکمل کیا ۔
اویسی فیض:
دوران تعلیم آپ کے سر میںشدید درد ہوا۔ بہتیرے علاج معالجہ کیا لیکن بے سود حالانکہ خود حضرت قاضی نور احمد صاحب ایک حاذق حکیم تھے لیکن کوئی علاج کارگر نہ ہا۔ اتفاقاً سلطان العارفین حضرت سلطان باہو قادری قدس سرہ(جھنگ پنجاب) کا ایک فقیر وہاں مدرسہ مٰں مہمان آکر ٹھہرا۔ فقیر نے فرمایا: مولوی صاحب آپ کا یہ درد کسی بیماری یا مادہ کے سبب نہیں کہ حکیموں کا علاج کارگر ہو۔ یہ ہمارے مرشد کریم حضرت سلطان العارفین کے تصرف و کشش کے سبب ہے۔ اس لئے آپ حضرت کی خانقاہ مقدس پر حاضری دیں انشاء اللہ تعالیٰ مزار شریف کی زیارت کرتے ہی آپ کا درد سر ختم ہوجائے گا۔ چنانچہ مولانا صاحب زیارت کرتے ہی شفایاب ہوگئے اور ڈھائی سال تک مزار شریف پر معتکف رہے اور فیض حاصل کرتے رہے۔ اس طرح آپ اویسی قادری ہوئے ۔
آپ ایک مقبول درگاہ الٰہی اور صاحب الحضوری بزرگ تھے۔
مرشد کریم سے عشق:
ایک بار بچے راستے میں کھڑے تھے ، انہیں معلوم تھا کہ مولانا احب اپنے مرشد کے نام پر کام کردیتے ہیں اسلئے کہ انہیں اپنے مرشد سے عشق ہے، اسلئے مرشد کے نام پر انکار نہیں کر سکتے۔ بچوں نے بغرض تماشہ مولانا صاحب سے کہا۔ مولانا صاحب! اپنے مرشد کے نا پر اس تالاب میں ایک غوطہ لگائیں۔ مولانا صاحب مرشد کا نام سن کر سراپا احترام بن گئے، ایندھن کا گٹھا سر سے اتار کر نیچے رکھا اور نہر میں غوطہ لگایا۔ جب ایک بار غوطہ لگا چکے تو پھر بچوں نے مرشد کا واسطہ دیا کہ ایک بار اور غوطہ لگائیں۔ مرشد کے نام پر مولانا صاحب نے نہ جانے کتنی بار غوطہ لگا چکے۔ بچے کھیل تماشہ سمجھ رہے تھے ادھر آپ عشق کے امتحان میں کامیاب نکلے ادھر ایک صاحب نہر پر آنکلے انہوں نے بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر بھگا دیا اور مولانا صاحب کو باہر نکالا ارو ان کے کپڑے نچوڑے اور ان کا گٹھا اور ریوڑ ان کے مکان پر پہنچا دیا۔ سبحان اللہ!
میں مدارجاں سے گزر سکا تو تری کشش کے طفیل میں
یہ ترے کرم کا کمال تھا کہ حصار ذات کو ڈھا گیا
سخاوت:
مولانا تاج محمد صاحب ذریعہ معاش کیلئے ریوڑ پالا کرتے تھے۔ ان کا تھوڑا سا دودھ بیچ کر روٹی کے واسطے غلہ خرید لیتے اور باقی دودھ راہ خدا میں تقسیم کر دیتے تھے۔ اس ریوڑ کو عموماً بذات خود چراتے تھے اور جب بھیڑیں چرا کر واپس آتے تو ایندھن کا گٹھا سر پر اٹھا کر لاتے ھتے ۔
مرشد زادے کا ادب:
سلطان حامد (مؤلف مناقب سلطانی) لکھتے ہیں کہ میرے جد امجد نے میرے والد ماجد سے فرمایا۔ بیٹا! اتنے فقیر اور اونٹ لے کر آستانہ گائوں جائو، وہاں سے باگڑ کی لمبی لکڑیاں لائو۔ کیوںکہ فلاں کنویں میں پانی کم ہوگیا ہے اس میں کوٹھی بنائی جائے گی۔ آپ نے حکم بجالاتے ہوئے ویس اہی کیا۔ جب باگڑ کی لکڑیاں دریافت کی تو معلوم ہوا کہ فلاں کنویں میں لکڑیاں فالتو پری ہیں انہیں کھینچ کر نکال لو۔ جب ہم اس کنویں پر پہنچے تو غوطہ لگا کر چار لکڑیوں کو چار رسوں سے باندھا۔ جب پانی کی سطح پر آئیں تو ان رسوں کو باہر کے درختوں سے باندھ دیا تاکہ ایک ایک کر کے نکال لی جائے۔ اس کام میں شام ہوگئی۔ چونکہ جلدی تھی اسلئے انہوں نے مولاناتاج محمد کو کہا کہ جلدی آئو اور اس چوتھی لکڑی کو اچھی طرح کھینچے رہو۔ انہیں خیال تھا کہ جب باقی کے تین رسے باندھ لئے جائٰں گے تو پھر اس چوتھے کو بھی باندھ لیا جائے گا۔ ااور رات اپنے اپنے مکانوں میں بسر کرکے صبح ان لکڑیوں کو نکال کر اونٹوں پر لاد دیا جائے گا۔ اور اس طرح پھر دوسرے روز نویں میں اترنا نہیں پڑے گا۔ وہ تمام فارغ ہو کر سوار ہوئے، ساتھیوں کے ہمراہ اپنی منزل کو پہنچے۔ وہاں جاکر مولانا تاج محمد یاد آئے جو کہ ساتھیوں کے ساتھ نہ تھے ۔
❤2
والد صاحب نے اسی وقت گھوڑا دوڑایا اور کنویں پر جاکر دیکھا کہ تاج محمد دونوں ہاتھوں سے رسی کو اچھی طرح پکڑے جوں کے توں کھڑے ہیں اور آنکھیں مراقبہ کیلئے بند ہیں گھوڑے سے اتر کر اس کے ہاتھ سے رسی لی اور درخت سے باندھی اور اسے ساتھ لے لیا اور راستہ میں پوچھا: تاج محمد! رسی کو درخت سے کیوں نہیں باندھا۔ اس نے کہا مجھے رسی تھام کر کھڑے رہنے کا حکم تھا میں کیوں کر حکم عدولی کر سکتا تھا۔ سبحان اللہ!
میاں تاج محمد نے ایک ظالم شخص کو ایک ہی نگاہ سے دربار الٰہی کا خاص بندہ اور صاحب حضوری بنا دیا ۔ پھر تو اس کی یہ حالت ہوئی کہ پورے چھ مہینے مسجد شریف میں ایک ہی اسغراق میں مراقبہ کئے بیٹھے رہے کہ اس کا سر سینے سے نہ اٹھا۔ جوشخص آپ کی خدمت میں آتا اسے اہی نگاہ سے دریائے توحید میں مستغرق فرما دیتے تھے ۔
وصال:
میاں تاج محمد مہر نے ۲۷ جمادی الاول ۱۲۶۶ھ/۱۸۵۰ء کو وصال کیا۔ ساری زندگی خلق خدا کو فیض پہنچایا ۔ آپ کا مزار میاں جو گوٹھ ضلع شکار پور میں مرجع خلائق ہے، سالانہ عرس منعقد ہوتا ہے میاں عبدالحئی ہر سات ویں سجادہ نشین ہیں۔
(ماخوذ: مناقب سلطانی طبع قدیم۔ خصوصی پمفلٹ مختصر حالات زندگی مطبوعہ میاں جو گوٹھ ۱۹۹۳ئ)
( انوارِعلماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-taj-muhammad-mehar-qadri
میاں تاج محمد نے ایک ظالم شخص کو ایک ہی نگاہ سے دربار الٰہی کا خاص بندہ اور صاحب حضوری بنا دیا ۔ پھر تو اس کی یہ حالت ہوئی کہ پورے چھ مہینے مسجد شریف میں ایک ہی اسغراق میں مراقبہ کئے بیٹھے رہے کہ اس کا سر سینے سے نہ اٹھا۔ جوشخص آپ کی خدمت میں آتا اسے اہی نگاہ سے دریائے توحید میں مستغرق فرما دیتے تھے ۔
وصال:
میاں تاج محمد مہر نے ۲۷ جمادی الاول ۱۲۶۶ھ/۱۸۵۰ء کو وصال کیا۔ ساری زندگی خلق خدا کو فیض پہنچایا ۔ آپ کا مزار میاں جو گوٹھ ضلع شکار پور میں مرجع خلائق ہے، سالانہ عرس منعقد ہوتا ہے میاں عبدالحئی ہر سات ویں سجادہ نشین ہیں۔
(ماخوذ: مناقب سلطانی طبع قدیم۔ خصوصی پمفلٹ مختصر حالات زندگی مطبوعہ میاں جو گوٹھ ۱۹۹۳ئ)
( انوارِعلماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-taj-muhammad-mehar-qadri
❤2
شیخ مظفر بلخی (مکہ) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ شیخ شرف الدین منیری قدس سرہٗ کے مرید اور خلیفہ تھے شیخ شرف الدین نے آپ کو اپنے مکتوبات میں امام مظفر کے نام سے موسوم کیا ہے مناقب الاصفیاء میں لکھا ہے کہ شیخ شرف الدین منیری کے ایک لاکھ مرید تھے ان میں سے تین سو حضرات واصل باللہ تھے اور تین ایسے بزرگ تھے جو محبوب اللہ تھے ایک جناب مظفر بلخی دوسرے ملک زادہ مظفر تیسرے مولانا نظام الدین حصاری قدس سرہم تھے ۔
حضرت شیخ مظفر بلخی کے والد مکرم جناب شمس الدین بلخی ابتدائی عمر میں ہی دہلی میں آگئے تھے اور سلطانِ دہلی کے دربار میں ایک عہد پر فائز ہوئے کچھ عرصہ کے بعد تارک الدنیا ہوکر اپنی بیوی کو لکھا کہ میں تارک الدّنیا ہوگیا ہوں اگر تمہیں میرے اس مقصدے سے اتفاق ہوتو اپنا مال و متاع اپنے بیٹوں کو دے کر میرے پاس آجاؤ اور صبر و قناعت کی زندگی اختیار کر لو ۔
اس نیک سیرت بی بی نے اپنے دونوں بیٹوں مظفر اور معز الدین کو بٹھا کر کہا کہ تمہارے باپ نے مجھے تارک الدنیا ہوکر بلایا ہے میں بھی اس کے اس مقصد میں شریک ہونا چاہتی ہوں میں جارہی ہوں تمہارے لیے یہ تمام مکانات اور مال و متاع موجود ہے والدہ کی یہ بات سنتے ہی دونوں بیٹوں نے کہا ۔ ہم بھی دنیا کے علایٔق کو ترک کرنا چاہتے ہیں چنانچہ تمام اثاثہ اور مال و متاع غرباء میں تقسیم کردیا۔ اور والدہ کے ساتھ سفر کرکے دہلی آپہنچے اگرچہ شیخ شمس الدین بلخی شیخ احمد چرم پوش بھاری کے خلیفہ تھے ۔
اور شیخ مظفر فرمایا کرتے تھے کہ شیخ احمد صاحب کرامت بزرگ ہیں لیکن وہ عالم نہیں ہیں اور مجھے بے علم بزرگ پر اعتماد نہیں ہے مجھے تو صاحب علم بزرگ پر اعتماد و اعتقاد ہوسکتا ہے چنانچہ آپ شیخ شرف الدین منیری کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مرید ہوئے چونکہ ان کی بیوی آپ کے معمولات ذکر اور دیگر مشاغل میں حارج تھی اور آپ کو اس سے فطری محبت بھی تھی۔ آپ نے طلاق دے دی اور حالت تجرید میں مشغول حق ہو گئے ۔
ایک دن حضرت شیخ مظفر اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں بیٹھے تھے۔ حاجی شیخ منہاخ الدین بھی اسی مجلس میں موجود تھے ۔ حج کعبہ کی فرضیت میں بات چل نکلی انہوں نے شیخ کی صحبت سے حج کعبہ کو افضل قرار دیا ۔
یہ بات سنتے ہی شیخ مظفر کو بڑا غصّہ آیا اور بحث شروع کردی کہ پیر طریقت کی برکات سے کعبہ قریب آجاتا ہے اسے شیخ کی صحبت ترک کرکے حج کعبہ میں جانے کی کیا ضرورت ہے اس بات نے طول پکڑا تو شیخ مظفر نے شیخ منہاج الدین کو جوش میں آکر کہا ۔ یہ دیکھو ۔ کعبہ تو میری آستین میں ہے شیخ منہاج الدین نے کعبۃ اللہ کو دیکھ کر اپنے خیال سے رجوع کرلیا مگر جب شیخ کو اس کرامت نمائی کا علم ہوا ۔
تو آپ نے شیخ مظفر کو بلا کر فرمایا تم کرامات کا اظہار کرکے یاد الٰہی سے غافل ہورہے ہو اب تمہارے لیے واجب ہے کہ حرین الشریفین کی زیارت کو جاؤ ۔ حضرت شیخ مظفریہ حکم سنتے ہی بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے بیت اللہ شریف پہنچے زیارت سے فارغ ہوئے تو ہندوستان کو روانہ ہوئے ابھی راستے میں ہی تھے کہ حضرت شیخ شرف الدین منیری کے وصال کی خبر سنی دورانِ سفر یہ صدمہ بے حد گراں گزرا ۔ ایک رات آپ کی سرور دو عالم ﷺ کی خواب میں زیارت ہوئی آپ نے حکم دیا کہ امسال جلدی سے ہندوستان جاؤ آئندہ اپنے بیٹوں کو لے کر پھر آنا آپ دوسری بار مکہ مکرمہ کی طرف گئے تو اپنے بیٹوں کو ساتھ لے گئے اور ساری بقایا عمر دیارِ حبیب میں گزار دی ۔
وفات کے قریب تقریباً بائیس (۲۲) دن کھانا نہ کھایا کسی سے بات نہ کی وصال کے وقت اپنے پیرانِ عظام کی امامت اپنے برادر زادہ شیخ حسین کو خرقہ خلافت کے ساتھ دی اور ۷۸۸ھ میں فوت ہوئے آپ اپنے پیر و مرشد حضرت منیری کے وصال سے چھ سال تک زندہ رہے ۔
شد بحنت چوں آں مظفر دین
محتشم سال رحلتش فرما ۷۸۸ھ
مقتداء شیخ متقی بلخی
ہم بگو زندہ دل ولی بلخی ۷۸۸ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muzaffar-balkhi-makkah
آپ شیخ شرف الدین منیری قدس سرہٗ کے مرید اور خلیفہ تھے شیخ شرف الدین نے آپ کو اپنے مکتوبات میں امام مظفر کے نام سے موسوم کیا ہے مناقب الاصفیاء میں لکھا ہے کہ شیخ شرف الدین منیری کے ایک لاکھ مرید تھے ان میں سے تین سو حضرات واصل باللہ تھے اور تین ایسے بزرگ تھے جو محبوب اللہ تھے ایک جناب مظفر بلخی دوسرے ملک زادہ مظفر تیسرے مولانا نظام الدین حصاری قدس سرہم تھے ۔
حضرت شیخ مظفر بلخی کے والد مکرم جناب شمس الدین بلخی ابتدائی عمر میں ہی دہلی میں آگئے تھے اور سلطانِ دہلی کے دربار میں ایک عہد پر فائز ہوئے کچھ عرصہ کے بعد تارک الدنیا ہوکر اپنی بیوی کو لکھا کہ میں تارک الدّنیا ہوگیا ہوں اگر تمہیں میرے اس مقصدے سے اتفاق ہوتو اپنا مال و متاع اپنے بیٹوں کو دے کر میرے پاس آجاؤ اور صبر و قناعت کی زندگی اختیار کر لو ۔
اس نیک سیرت بی بی نے اپنے دونوں بیٹوں مظفر اور معز الدین کو بٹھا کر کہا کہ تمہارے باپ نے مجھے تارک الدنیا ہوکر بلایا ہے میں بھی اس کے اس مقصد میں شریک ہونا چاہتی ہوں میں جارہی ہوں تمہارے لیے یہ تمام مکانات اور مال و متاع موجود ہے والدہ کی یہ بات سنتے ہی دونوں بیٹوں نے کہا ۔ ہم بھی دنیا کے علایٔق کو ترک کرنا چاہتے ہیں چنانچہ تمام اثاثہ اور مال و متاع غرباء میں تقسیم کردیا۔ اور والدہ کے ساتھ سفر کرکے دہلی آپہنچے اگرچہ شیخ شمس الدین بلخی شیخ احمد چرم پوش بھاری کے خلیفہ تھے ۔
اور شیخ مظفر فرمایا کرتے تھے کہ شیخ احمد صاحب کرامت بزرگ ہیں لیکن وہ عالم نہیں ہیں اور مجھے بے علم بزرگ پر اعتماد نہیں ہے مجھے تو صاحب علم بزرگ پر اعتماد و اعتقاد ہوسکتا ہے چنانچہ آپ شیخ شرف الدین منیری کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مرید ہوئے چونکہ ان کی بیوی آپ کے معمولات ذکر اور دیگر مشاغل میں حارج تھی اور آپ کو اس سے فطری محبت بھی تھی۔ آپ نے طلاق دے دی اور حالت تجرید میں مشغول حق ہو گئے ۔
ایک دن حضرت شیخ مظفر اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں بیٹھے تھے۔ حاجی شیخ منہاخ الدین بھی اسی مجلس میں موجود تھے ۔ حج کعبہ کی فرضیت میں بات چل نکلی انہوں نے شیخ کی صحبت سے حج کعبہ کو افضل قرار دیا ۔
یہ بات سنتے ہی شیخ مظفر کو بڑا غصّہ آیا اور بحث شروع کردی کہ پیر طریقت کی برکات سے کعبہ قریب آجاتا ہے اسے شیخ کی صحبت ترک کرکے حج کعبہ میں جانے کی کیا ضرورت ہے اس بات نے طول پکڑا تو شیخ مظفر نے شیخ منہاج الدین کو جوش میں آکر کہا ۔ یہ دیکھو ۔ کعبہ تو میری آستین میں ہے شیخ منہاج الدین نے کعبۃ اللہ کو دیکھ کر اپنے خیال سے رجوع کرلیا مگر جب شیخ کو اس کرامت نمائی کا علم ہوا ۔
تو آپ نے شیخ مظفر کو بلا کر فرمایا تم کرامات کا اظہار کرکے یاد الٰہی سے غافل ہورہے ہو اب تمہارے لیے واجب ہے کہ حرین الشریفین کی زیارت کو جاؤ ۔ حضرت شیخ مظفریہ حکم سنتے ہی بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے بیت اللہ شریف پہنچے زیارت سے فارغ ہوئے تو ہندوستان کو روانہ ہوئے ابھی راستے میں ہی تھے کہ حضرت شیخ شرف الدین منیری کے وصال کی خبر سنی دورانِ سفر یہ صدمہ بے حد گراں گزرا ۔ ایک رات آپ کی سرور دو عالم ﷺ کی خواب میں زیارت ہوئی آپ نے حکم دیا کہ امسال جلدی سے ہندوستان جاؤ آئندہ اپنے بیٹوں کو لے کر پھر آنا آپ دوسری بار مکہ مکرمہ کی طرف گئے تو اپنے بیٹوں کو ساتھ لے گئے اور ساری بقایا عمر دیارِ حبیب میں گزار دی ۔
وفات کے قریب تقریباً بائیس (۲۲) دن کھانا نہ کھایا کسی سے بات نہ کی وصال کے وقت اپنے پیرانِ عظام کی امامت اپنے برادر زادہ شیخ حسین کو خرقہ خلافت کے ساتھ دی اور ۷۸۸ھ میں فوت ہوئے آپ اپنے پیر و مرشد حضرت منیری کے وصال سے چھ سال تک زندہ رہے ۔
شد بحنت چوں آں مظفر دین
محتشم سال رحلتش فرما ۷۸۸ھ
مقتداء شیخ متقی بلخی
ہم بگو زندہ دل ولی بلخی ۷۸۸ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muzaffar-balkhi-makkah
❤2
حضرت سید سعد اللہ سلونی قادری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ سید سعد اللہ ۔ لقب: قصبہ سلون کی نسبت سے " سلونی " کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا سید سعد اللہ بن سید عبد الشکور بن سید غلام محمد سلونی ۔ پیر محمد سلونی علیہ الرحمہ ولی کامل تھے ۔ پورے ہندوستان میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ۔ سلاطینِ مغلیہ آپ کے عقیدت مندوں میں شامل تھے ۔ (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت " موضع سلون " ضلع الہ آباد (انڈیا) میں دسویں صدی ہجری کو ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
موضع سلون میں ہی آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ سید سعد اللہ کم سنی ہی میں علوم و فنون کی تحصیل کی طرف مائل ہوئے اور تھوڑی ہی مدت میں تمام علومِ متداولہ میں کامل دسترست حاصل کرلی اور عالمِ شباب ہی میں تعلیم و تربیت، درس و تدریس اور رشد و ہدایت کی مسند پر متمکن ہوگئے اور پرانے اور کہنہ مشق اساتذہ کے دوش بدوش آپ کا چشمہ فیض بھی جاری ہوگیا اسی دور میں آپ نے نہایت گراں قدر کتابیں بھی تصنیف فرمائیں خصوصاً علمِ معرفت، فلسفہ و حکمت اور فنِ منطق میں آپ کی تصانیف بہت بلند مقام رکھتی ہیں۔ جیسے"حاشیۃ علی الحکمۃ،کشف الحق،رسالۃ فی شرح اربعین، چہل بیت مثنوی، تحفۃ الرسول ﷺ، حاشیۃ یمین الوصول علم الفقہ میں ہے اور "آداب البحث" علم منطق میں ہے۔ ان کے علاوہ دیگر مایہ ناز کتب ہیں ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے جد امجد پیر سید غلام محمد سلونی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے، اور ایک عرصے تک ان کی خدمت میں رہ کر سلوک کی منزلیں طے فرمائیں۔ والدِ گرامی سید عبد الشکور اور حضرت پیر سلونی علیہما الرحمہ سے خلافت حاصل ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
شیخ العرب والعجم، امام الفقہاء والصلحاء، جامع المنقولاتِ والمنقولات، جامع کمالاتِ علمیہ وعملیہ، امام، فاضل، کامل، عارف حضرت شیخ سید سعد اللہ سلونی قادری رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ کا شمار اس وقت کے جید علماء و مشائخ میں ہوتا تھا۔ تقویٰ و فضل وراثت میں ملا تھا۔ پھر اس پر آپ کے مجاہدات نے سونے پہ سہاگہ والا کام کیا۔ درس و تدریس، تصنیف وتالیف، وعظ ونصیحت آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔آپ نےزیارتِ حرمین شریفین کا شرف بھی حاصل کیا اور کچھ زمانہ مکہ معظمہ میں مقیم رہے اور یہاں آپ کو بڑی عزت اور مقبولیت حاصل ہوئی ۔مکہ معظمہ کے چھوٹے بڑے خواص و عوام سبھی آپ سے بڑی عقیدت رکھتے تھے۔ اہل مکہ نے آپ سے علم ظاہری اور باطنی کی خوب تحصیل کی ۔
شیخ عبد اللہ بصری مکی رحمۃ اللہ علیہ (مصنف ضیاء الساری شرح صحیح بخاری ) یہ اپنے وقت کے ممتاز ترین علماء میں سے تھے اور ساری دنیا میں مسلم الثبوت استاد کی حیثیت رکھتے تھے، اور آج بھی عرب و عجم کے اکثر علماء کی اجازت کا سلسلہ انہی کی ذات گرامی تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے سلسلہ قادریہ کا بلند پایہ طریقہ حضرت سید سعداللہ سے حاصل کیا۔ شیخ عبد اللہ بصری کے فرزند شیخ سالم نے اپنے والدِ ماجد کی اجازت کے سلسلہ میں ایک رسالہ مرتب کیا ہے اس رسالہ میں شیخ سالم فرماتے ہیں۔ "مشایخہ فی الطریق و اساتذہ فی الارشاد و التحقیق جملۃ اجلاء منھم العلامۃ المحقق السید سعد اللہ الھندی عن السید عبد الشکور عن شاہ مسعود الاسفرا ینی عن الشیخ علی الحسینی عن الشیخ ابراہیم الحسینی عن الشیخ عبد اللہ الحسینی عن الشیخ عبید اللہ الحسینی عن الشیخ عبد الرزاق عن سیدنا عبد القادر الجیلانی قدس اللہ اسرارھم"۔
سلطان الاسلام حضرت عالمگیر بادشاہ رحمۃ اللہ علیہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے، اور بہت آداب بجالاتے تھے۔ آپ کو " سیدنا و سندنا " کے القابات سے مخاطب کرتے تھے۔ ایک مکان اور دو گاؤں بطورِ نذرانہ پیش کیے۔ جن کی ماہانہ آمدنی آٹھ ہزار روپے تھی۔ آپ کے عظمت و مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شیخ الاسلام، فخر الاسلام، فاضلِ زمانہ، محدثِ یگانہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمۃ اللہ علیہ آپ کی خدمت میں رہ کر مستفیض ہوئے تھے۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 27 جمادی الاولیٰ 1138ھ، مطابق جنوری 1726ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار بندر گاہ سورت (ہند) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ ہندوستان کے چالیس مشاہیر علماء کا تذکرہ ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ سید سعد اللہ ۔ لقب: قصبہ سلون کی نسبت سے " سلونی " کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا سید سعد اللہ بن سید عبد الشکور بن سید غلام محمد سلونی ۔ پیر محمد سلونی علیہ الرحمہ ولی کامل تھے ۔ پورے ہندوستان میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ۔ سلاطینِ مغلیہ آپ کے عقیدت مندوں میں شامل تھے ۔ (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت " موضع سلون " ضلع الہ آباد (انڈیا) میں دسویں صدی ہجری کو ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
موضع سلون میں ہی آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ سید سعد اللہ کم سنی ہی میں علوم و فنون کی تحصیل کی طرف مائل ہوئے اور تھوڑی ہی مدت میں تمام علومِ متداولہ میں کامل دسترست حاصل کرلی اور عالمِ شباب ہی میں تعلیم و تربیت، درس و تدریس اور رشد و ہدایت کی مسند پر متمکن ہوگئے اور پرانے اور کہنہ مشق اساتذہ کے دوش بدوش آپ کا چشمہ فیض بھی جاری ہوگیا اسی دور میں آپ نے نہایت گراں قدر کتابیں بھی تصنیف فرمائیں خصوصاً علمِ معرفت، فلسفہ و حکمت اور فنِ منطق میں آپ کی تصانیف بہت بلند مقام رکھتی ہیں۔ جیسے"حاشیۃ علی الحکمۃ،کشف الحق،رسالۃ فی شرح اربعین، چہل بیت مثنوی، تحفۃ الرسول ﷺ، حاشیۃ یمین الوصول علم الفقہ میں ہے اور "آداب البحث" علم منطق میں ہے۔ ان کے علاوہ دیگر مایہ ناز کتب ہیں ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے جد امجد پیر سید غلام محمد سلونی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے، اور ایک عرصے تک ان کی خدمت میں رہ کر سلوک کی منزلیں طے فرمائیں۔ والدِ گرامی سید عبد الشکور اور حضرت پیر سلونی علیہما الرحمہ سے خلافت حاصل ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
شیخ العرب والعجم، امام الفقہاء والصلحاء، جامع المنقولاتِ والمنقولات، جامع کمالاتِ علمیہ وعملیہ، امام، فاضل، کامل، عارف حضرت شیخ سید سعد اللہ سلونی قادری رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ کا شمار اس وقت کے جید علماء و مشائخ میں ہوتا تھا۔ تقویٰ و فضل وراثت میں ملا تھا۔ پھر اس پر آپ کے مجاہدات نے سونے پہ سہاگہ والا کام کیا۔ درس و تدریس، تصنیف وتالیف، وعظ ونصیحت آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔آپ نےزیارتِ حرمین شریفین کا شرف بھی حاصل کیا اور کچھ زمانہ مکہ معظمہ میں مقیم رہے اور یہاں آپ کو بڑی عزت اور مقبولیت حاصل ہوئی ۔مکہ معظمہ کے چھوٹے بڑے خواص و عوام سبھی آپ سے بڑی عقیدت رکھتے تھے۔ اہل مکہ نے آپ سے علم ظاہری اور باطنی کی خوب تحصیل کی ۔
شیخ عبد اللہ بصری مکی رحمۃ اللہ علیہ (مصنف ضیاء الساری شرح صحیح بخاری ) یہ اپنے وقت کے ممتاز ترین علماء میں سے تھے اور ساری دنیا میں مسلم الثبوت استاد کی حیثیت رکھتے تھے، اور آج بھی عرب و عجم کے اکثر علماء کی اجازت کا سلسلہ انہی کی ذات گرامی تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے سلسلہ قادریہ کا بلند پایہ طریقہ حضرت سید سعداللہ سے حاصل کیا۔ شیخ عبد اللہ بصری کے فرزند شیخ سالم نے اپنے والدِ ماجد کی اجازت کے سلسلہ میں ایک رسالہ مرتب کیا ہے اس رسالہ میں شیخ سالم فرماتے ہیں۔ "مشایخہ فی الطریق و اساتذہ فی الارشاد و التحقیق جملۃ اجلاء منھم العلامۃ المحقق السید سعد اللہ الھندی عن السید عبد الشکور عن شاہ مسعود الاسفرا ینی عن الشیخ علی الحسینی عن الشیخ ابراہیم الحسینی عن الشیخ عبد اللہ الحسینی عن الشیخ عبید اللہ الحسینی عن الشیخ عبد الرزاق عن سیدنا عبد القادر الجیلانی قدس اللہ اسرارھم"۔
سلطان الاسلام حضرت عالمگیر بادشاہ رحمۃ اللہ علیہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے، اور بہت آداب بجالاتے تھے۔ آپ کو " سیدنا و سندنا " کے القابات سے مخاطب کرتے تھے۔ ایک مکان اور دو گاؤں بطورِ نذرانہ پیش کیے۔ جن کی ماہانہ آمدنی آٹھ ہزار روپے تھی۔ آپ کے عظمت و مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شیخ الاسلام، فخر الاسلام، فاضلِ زمانہ، محدثِ یگانہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمۃ اللہ علیہ آپ کی خدمت میں رہ کر مستفیض ہوئے تھے۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 27 جمادی الاولیٰ 1138ھ، مطابق جنوری 1726ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار بندر گاہ سورت (ہند) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ ہندوستان کے چالیس مشاہیر علماء کا تذکرہ ۔
❤2