صوفی باصفا مولانا محمد حبیب رضا قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا محمد حبیب رضا قادری ۔ لقب: نور دیدہ مفتی اعظم ہند، صوفی باصفا ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
نور دیدۂ مفتی اعظم عالم با عمل مولانا صوفی محمد حبیب رضا قادری رضوی بن مولانا حسنین رضا بن استاد زمن مولانا حسن رضا بریلوی برادرِ اعلی ٰحضرت (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ماہِ ربیع الثانی 1352ھ / مطابق اگست 1933ء کو محلہ " کانکر ٹولہ " پُرانا شہر بریلی شریف میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
حضرت مولانا حبیب رضا نے ابتدائی تعلیم گھر پر والدہ ماجدہ اور والد ِبزرگوار سے حاصل کی ۔ فارسی تعلیم کے لیے دار العلوم منظر اسلام بریلی میں داخلہ لیا اور عربی فارسی کی اعلیٰ کتابیں پڑھیں ۔ سلوک اور تصوف میں والد ماجد سے اکتساب فیض کیا ۔ وقتاً وقتاً مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری کی خدمت میں حاضر ہو کر فیض ظاہری و باطنی سے مالا مال ہوئے ۔ حضور مفتی اعظم کے وصال تک انہیں کی خدمت میں رہ کر نوری علم، نوری زہد، نوری تقویٰ سے سر شار ہوتے رہے ۔ دار العلوم منظر اسلام سے فراغت ہوئی ۔
اساتذۂ کرام:
۱۔ حضور مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی ۔
۲۔ حکیم العلماء مولانا حسنین رضا خاں رضوی بریلوی ۔
۳۔ صدر العلماء مولانا غلام جیلانی رضوی اعظمی ۔
۴۔ سید الاتقیاء مولانا تحسین رضا قادری بریلوی ـ
۵۔ حافظ انعام اللہ رضوی سابق مدرس شعبۂ فارسی منظر اسلام ۔
۶۔ حضرت مولانا سید احمد علی رام پوری ۔
۷۔ حضرت مولانا غلام یٰسین پور نوی ۔(علیہم الرحمہ)
بیعت و خلافت:
مولانا صوفی حبیب رضا نے 25 صفر المظفر 1365ھ کو عرس رضوی بریلی میں حضور مفتی اعظم سے بیعت کا شرف حاصل کیا، اور 15 صفر 1396ھ کو مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے اجازت و خلافت عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
عالم باعمل، صوفی باصفا، پیکر صدق و صفا، پروردۂ نگاہِ شاہ مصطفیٰ رضا خان حضرت علامہ مولانا محمد حبیب رضا قادری رضوی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
قدرت نے آپ علیہ الرحمہ کو حسن معنوی کے ساتھ حسن ظاہری سے بھی خوب نواز تھا ۔ پکا رَنگ، گھنی داڑھی قدرے سفید، میانہ قد، آنکھوں پر کبھی کبھی عینک، مسکراتا چہرہ پر مروت و شرافت کا غازہ نمایاں، کلی دار کرتا، بڑی مہری کا علی گڑھی پاجامہ، دو پلی ٹوپی، کبھی کبھی شیروانی بھی زیب تن فرماتے تھے ۔ آپ کی شخصیت میں مکمل طور پر بزرگانہ کشش پائی جاتی تھی ۔
حضور مفتی اعظم اور آپ کے والد گرامی مولانا حسنین رضا علیہما الرحمہ ہم عمر تھے ۔ دونوں کی تعلیم بھی ساتھ ساتھ ہوئی اور دونوں میں برادرانہ و دوستانہ تعلقات تھے ۔ دونوں ایک دوسرے سے نہایت محبت کے ساتھ ملتے ۔ ایسی محبت کہ جس کی نظیر اس زمانے میں حقیقی بھائیوں میں بھی نہیں ملتی ۔ ہم عمر ہونے کے باوجود دونوں ایک دوسرے کا بہت احترام کرتے جس کو دیکھنے والے حیرت کرتے تھے ۔
مولانا حبیب رضا بریلوی کے نانا جناب عبد الغنی خاں سب انسکپٹر پولیس بدایوں تھے ۔ جو محکمہ پولیس کی ملازمت کے باوجود پابند شرع تھے ۔ احتیاط کا یہ عالم تھا کہ جس کسی کے یہاں تفتیش کے لیے جاتے اُس کے یہاں کا پانی بھی پینا گوارہ نہ فرماتے ۔
خدمات دینیہ اور فتویٰ نویسی:
مولانا صوفی حبیب رضا قادری نہایت سادگی پسند، خوش اخلاق، کم گو، اور فقیہ العصر تھے ۔ با ضابطہ طور پر کسی مدرسہ میں درس و تدریس کا موقع نہیں ملا ۔ بعد فراغت آپ حضور اعظم قدس سرہٗ کے دولت کدہ پر رہتے اور آئے ہوئے ملک اور بیرون ملک کے فتاویٰ اور خطوط کے جواب عنایت فرماتے ۔ نیز حضور مفتی اعظم کے اکثر فتاویٰ کی نقل بھی آپ کے ذمہ تھی ۔ اس نقل افتاء نے مولانا صوفی حبیب رضا کو ایک ماہر جزئیات فقہ اور متبحر عالم دین بنا دیا ۔ حضور مفتی اعظم کی صحبت کیمیا اثر نے وہ گل کھلائے جو کسی شیخ کامل کی بارگاہ میں برسہا بس رہنے سے بھی نہیں مل سکتا تھا ۔
مولانا حبیب رضا قادری نے 1978ء میں فتویٰ نویسی کا آغاز کیا اور اصلاح حضور مفتی اعظم سے لیتے تھے ۔ مفتی اعظم قدس سرہٗ کے وصال کے بعد جانشین مفتی اعظم، تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختر رضا ازہری القادری دامت برکاتہم القدسیہ نے مرکزی دار الافتاء کی بنیاد رکھی، اس میں خود بھی جانشین مفتی اعظم فتویٰ تحریر فرماتے، اور مولانا حبیب رضا بھی فتویٰ نویسی کی خدمت انجام دیتے تھے، اور ساتھ ہی ساتھ " ادارہ سنی دنیا " کے اہتمام و انتظام کے فرائض بھی انجام دِیے ۔ آپ کی صلاحیتوں نے اس ادارہ میں چار چاند لگا دِیئے ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا محمد حبیب رضا قادری ۔ لقب: نور دیدہ مفتی اعظم ہند، صوفی باصفا ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
نور دیدۂ مفتی اعظم عالم با عمل مولانا صوفی محمد حبیب رضا قادری رضوی بن مولانا حسنین رضا بن استاد زمن مولانا حسن رضا بریلوی برادرِ اعلی ٰحضرت (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ماہِ ربیع الثانی 1352ھ / مطابق اگست 1933ء کو محلہ " کانکر ٹولہ " پُرانا شہر بریلی شریف میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
حضرت مولانا حبیب رضا نے ابتدائی تعلیم گھر پر والدہ ماجدہ اور والد ِبزرگوار سے حاصل کی ۔ فارسی تعلیم کے لیے دار العلوم منظر اسلام بریلی میں داخلہ لیا اور عربی فارسی کی اعلیٰ کتابیں پڑھیں ۔ سلوک اور تصوف میں والد ماجد سے اکتساب فیض کیا ۔ وقتاً وقتاً مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری کی خدمت میں حاضر ہو کر فیض ظاہری و باطنی سے مالا مال ہوئے ۔ حضور مفتی اعظم کے وصال تک انہیں کی خدمت میں رہ کر نوری علم، نوری زہد، نوری تقویٰ سے سر شار ہوتے رہے ۔ دار العلوم منظر اسلام سے فراغت ہوئی ۔
اساتذۂ کرام:
۱۔ حضور مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی ۔
۲۔ حکیم العلماء مولانا حسنین رضا خاں رضوی بریلوی ۔
۳۔ صدر العلماء مولانا غلام جیلانی رضوی اعظمی ۔
۴۔ سید الاتقیاء مولانا تحسین رضا قادری بریلوی ـ
۵۔ حافظ انعام اللہ رضوی سابق مدرس شعبۂ فارسی منظر اسلام ۔
۶۔ حضرت مولانا سید احمد علی رام پوری ۔
۷۔ حضرت مولانا غلام یٰسین پور نوی ۔(علیہم الرحمہ)
بیعت و خلافت:
مولانا صوفی حبیب رضا نے 25 صفر المظفر 1365ھ کو عرس رضوی بریلی میں حضور مفتی اعظم سے بیعت کا شرف حاصل کیا، اور 15 صفر 1396ھ کو مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے اجازت و خلافت عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
عالم باعمل، صوفی باصفا، پیکر صدق و صفا، پروردۂ نگاہِ شاہ مصطفیٰ رضا خان حضرت علامہ مولانا محمد حبیب رضا قادری رضوی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
قدرت نے آپ علیہ الرحمہ کو حسن معنوی کے ساتھ حسن ظاہری سے بھی خوب نواز تھا ۔ پکا رَنگ، گھنی داڑھی قدرے سفید، میانہ قد، آنکھوں پر کبھی کبھی عینک، مسکراتا چہرہ پر مروت و شرافت کا غازہ نمایاں، کلی دار کرتا، بڑی مہری کا علی گڑھی پاجامہ، دو پلی ٹوپی، کبھی کبھی شیروانی بھی زیب تن فرماتے تھے ۔ آپ کی شخصیت میں مکمل طور پر بزرگانہ کشش پائی جاتی تھی ۔
حضور مفتی اعظم اور آپ کے والد گرامی مولانا حسنین رضا علیہما الرحمہ ہم عمر تھے ۔ دونوں کی تعلیم بھی ساتھ ساتھ ہوئی اور دونوں میں برادرانہ و دوستانہ تعلقات تھے ۔ دونوں ایک دوسرے سے نہایت محبت کے ساتھ ملتے ۔ ایسی محبت کہ جس کی نظیر اس زمانے میں حقیقی بھائیوں میں بھی نہیں ملتی ۔ ہم عمر ہونے کے باوجود دونوں ایک دوسرے کا بہت احترام کرتے جس کو دیکھنے والے حیرت کرتے تھے ۔
مولانا حبیب رضا بریلوی کے نانا جناب عبد الغنی خاں سب انسکپٹر پولیس بدایوں تھے ۔ جو محکمہ پولیس کی ملازمت کے باوجود پابند شرع تھے ۔ احتیاط کا یہ عالم تھا کہ جس کسی کے یہاں تفتیش کے لیے جاتے اُس کے یہاں کا پانی بھی پینا گوارہ نہ فرماتے ۔
خدمات دینیہ اور فتویٰ نویسی:
مولانا صوفی حبیب رضا قادری نہایت سادگی پسند، خوش اخلاق، کم گو، اور فقیہ العصر تھے ۔ با ضابطہ طور پر کسی مدرسہ میں درس و تدریس کا موقع نہیں ملا ۔ بعد فراغت آپ حضور اعظم قدس سرہٗ کے دولت کدہ پر رہتے اور آئے ہوئے ملک اور بیرون ملک کے فتاویٰ اور خطوط کے جواب عنایت فرماتے ۔ نیز حضور مفتی اعظم کے اکثر فتاویٰ کی نقل بھی آپ کے ذمہ تھی ۔ اس نقل افتاء نے مولانا صوفی حبیب رضا کو ایک ماہر جزئیات فقہ اور متبحر عالم دین بنا دیا ۔ حضور مفتی اعظم کی صحبت کیمیا اثر نے وہ گل کھلائے جو کسی شیخ کامل کی بارگاہ میں برسہا بس رہنے سے بھی نہیں مل سکتا تھا ۔
مولانا حبیب رضا قادری نے 1978ء میں فتویٰ نویسی کا آغاز کیا اور اصلاح حضور مفتی اعظم سے لیتے تھے ۔ مفتی اعظم قدس سرہٗ کے وصال کے بعد جانشین مفتی اعظم، تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختر رضا ازہری القادری دامت برکاتہم القدسیہ نے مرکزی دار الافتاء کی بنیاد رکھی، اس میں خود بھی جانشین مفتی اعظم فتویٰ تحریر فرماتے، اور مولانا حبیب رضا بھی فتویٰ نویسی کی خدمت انجام دیتے تھے، اور ساتھ ہی ساتھ " ادارہ سنی دنیا " کے اہتمام و انتظام کے فرائض بھی انجام دِیے ۔ آپ کی صلاحیتوں نے اس ادارہ میں چار چاند لگا دِیئے ۔
❤2
حضور مفتی اعظم کی محبت:
حضرت مولانا حبیب رضا بریلوی کے گھر سے مفتی اعظم کو جو تعلق تھا ۔ اس کو دیکھنے والے آج بھی بکثرت موجود ہیں ۔ پُرانا شہر بریلی مسلمانوں کی ایک بہت بڑی بستی ہے ۔ جو کئی محلوں میں پھیلی ہوئی ہے ۔ مفتی اعظم قدس سرہٗ اس پوری بستی میں کہیں بھی تشریف لاتے تو مولانا حبیب رضا کے گھر ضرور تشریف لاتے، آپ کی شادی حضور مفتی اعظم کی نواسی سے ہوئی اور یہ بھی خوش نصیبی کہ حضرت کے دولت کدہ سے ہوئی ۔ اسی طرح حضور مفتی اعظم آپ کو اپنا بیٹا سمجھتے، اور بیٹوں والا ہی پیار دیتے تھے ۔ ایک مرتبہ فرمایا: اللہ جل شانہ نے مجھے ایک بیٹا عطا فرمایا تھا مگر وہ بچپن میں ہی چلا گیا ۔ اگر خدا کسی کو بیٹا دے تو حبیب میاں جیسا دے ۔ نیز خطوط جو حضور مفتی اعظم نے مولانا حبیب رضا کے نام مختلف سفروں میں لکھے ان سے بھی آپ سے محبت و شفقت کا اظہار ہوتا ہے ۔
ایک خط میں حضور مفتی اعظم تحریر فرماتے ہیں:
بر خور دار نور الابصار حبیب میاں سلمہٗ الرحمٰن
وعلیکم والسلام و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ
وعلیکم والسلام و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ
طالب خیر بحمدہٖ تعالیٰ مع الخیر والعافیہ ہے ۔ مولیٰ تعالیٰ وہاں بھی تم سب کو بخیر و عافیت رکھے، تمہارے والدین کا سایہ رحمت تمہارے سروں پر باامن و عافیت رکھے، تمہاری والدہ کو صحت و طاقت و قوت عطا فرمائے ۔ آمین ۔ (فقیر مصطفیٰ رضا قادری غفرلہٗ) ـ
حضور مفتی اعظم کی وصیتیں:
مولانا حبیب رضا علیہ الرحمہ نے حضور مفتی اعظم کے روز و شب دیکھے، خلوت و جلوت میں ساتھ رہے ۔ اس لیے ان کا یہ عینی مشاہدہ ہے، جسے غور سے پڑھیے لکھتے ہیں: " حضور مفتی اعظم احکام شریعت پر عمل کی تاکید فرماتے تھے ۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کے علاوہ داڑھی کی بہت زیادہ تاکید فرماتے تھے ۔ مسلمانوں کو اسلامی لباس میں دیکھنا پسند کرتے جس سے اس کا مسلمان ہونا ظاہر ہو ۔ قہقہہ لگا کر ہنسنا، گلے کے بٹن کھُلے رکھنا، آستین چڑھی ہونا، مغرورانہ انداز میں بیٹھنا، مغرورانہ انداز سے چلنا ناپسند فرماتے، ٹائی باندھنا سخت نا پسند تھا ۔ انگریزوں کے سخت مخالف تھے ۔ قریب بیٹھے ہوئے مسلمان کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھنا اور پاؤں پھیلانا نا پسند تھا ۔ جلسۂ وعظ یا محفل میلاد وغیرہ کے علاوہ اگر کوئی دنیاوی پروگرام کرتا تو فوراً ٹوکتے ۔ عورتوں کا بے پردہ گھومنا، بلکہ بلا کسی خاص حاجت کے گھر سے نکلنا سخت نا پسند تھا ۔ کچہری کو عدالت، سکھ کو سردار، گورنمنٹ کو سرکار کہنے سے منع فرماتے ۔ (مفتیِ اعظم اور ان کے خلفاء، ص،318) ـ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 26 جمادی الاولی 1335ھ / مطابق مارچ 2014ء کو ہوا ۔ مزار شریف بریلی (انڈیا) میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
مفتئ اعظم اور ان کے خلفاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-habib-raza-qadri-rizvi
حضرت مولانا حبیب رضا بریلوی کے گھر سے مفتی اعظم کو جو تعلق تھا ۔ اس کو دیکھنے والے آج بھی بکثرت موجود ہیں ۔ پُرانا شہر بریلی مسلمانوں کی ایک بہت بڑی بستی ہے ۔ جو کئی محلوں میں پھیلی ہوئی ہے ۔ مفتی اعظم قدس سرہٗ اس پوری بستی میں کہیں بھی تشریف لاتے تو مولانا حبیب رضا کے گھر ضرور تشریف لاتے، آپ کی شادی حضور مفتی اعظم کی نواسی سے ہوئی اور یہ بھی خوش نصیبی کہ حضرت کے دولت کدہ سے ہوئی ۔ اسی طرح حضور مفتی اعظم آپ کو اپنا بیٹا سمجھتے، اور بیٹوں والا ہی پیار دیتے تھے ۔ ایک مرتبہ فرمایا: اللہ جل شانہ نے مجھے ایک بیٹا عطا فرمایا تھا مگر وہ بچپن میں ہی چلا گیا ۔ اگر خدا کسی کو بیٹا دے تو حبیب میاں جیسا دے ۔ نیز خطوط جو حضور مفتی اعظم نے مولانا حبیب رضا کے نام مختلف سفروں میں لکھے ان سے بھی آپ سے محبت و شفقت کا اظہار ہوتا ہے ۔
ایک خط میں حضور مفتی اعظم تحریر فرماتے ہیں:
بر خور دار نور الابصار حبیب میاں سلمہٗ الرحمٰن
وعلیکم والسلام و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ
وعلیکم والسلام و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ
طالب خیر بحمدہٖ تعالیٰ مع الخیر والعافیہ ہے ۔ مولیٰ تعالیٰ وہاں بھی تم سب کو بخیر و عافیت رکھے، تمہارے والدین کا سایہ رحمت تمہارے سروں پر باامن و عافیت رکھے، تمہاری والدہ کو صحت و طاقت و قوت عطا فرمائے ۔ آمین ۔ (فقیر مصطفیٰ رضا قادری غفرلہٗ) ـ
حضور مفتی اعظم کی وصیتیں:
مولانا حبیب رضا علیہ الرحمہ نے حضور مفتی اعظم کے روز و شب دیکھے، خلوت و جلوت میں ساتھ رہے ۔ اس لیے ان کا یہ عینی مشاہدہ ہے، جسے غور سے پڑھیے لکھتے ہیں: " حضور مفتی اعظم احکام شریعت پر عمل کی تاکید فرماتے تھے ۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کے علاوہ داڑھی کی بہت زیادہ تاکید فرماتے تھے ۔ مسلمانوں کو اسلامی لباس میں دیکھنا پسند کرتے جس سے اس کا مسلمان ہونا ظاہر ہو ۔ قہقہہ لگا کر ہنسنا، گلے کے بٹن کھُلے رکھنا، آستین چڑھی ہونا، مغرورانہ انداز میں بیٹھنا، مغرورانہ انداز سے چلنا ناپسند فرماتے، ٹائی باندھنا سخت نا پسند تھا ۔ انگریزوں کے سخت مخالف تھے ۔ قریب بیٹھے ہوئے مسلمان کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھنا اور پاؤں پھیلانا نا پسند تھا ۔ جلسۂ وعظ یا محفل میلاد وغیرہ کے علاوہ اگر کوئی دنیاوی پروگرام کرتا تو فوراً ٹوکتے ۔ عورتوں کا بے پردہ گھومنا، بلکہ بلا کسی خاص حاجت کے گھر سے نکلنا سخت نا پسند تھا ۔ کچہری کو عدالت، سکھ کو سردار، گورنمنٹ کو سرکار کہنے سے منع فرماتے ۔ (مفتیِ اعظم اور ان کے خلفاء، ص،318) ـ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 26 جمادی الاولی 1335ھ / مطابق مارچ 2014ء کو ہوا ۔ مزار شریف بریلی (انڈیا) میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
مفتئ اعظم اور ان کے خلفاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-habib-raza-qadri-rizvi
❤1
حضرت خواجہ ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: ابراہیم ۔ کنیت: ابو اسحق ۔القاب: مفتاح العلوم، سلطان التارکین، سید المتوکلین، امام الاولیاء ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سلطان ابراہیم بن ادہم بن سلیمان بن منصور بن یزید بن جابر ۔ (علیہم الرحمہ)
ولادت با سعادت:
آپ کی ولادت باسعادت بلخ (افغانستان) میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
شاہی خاندان سے تعلق تھا، شہزادے تھے، ابتدائی تعلیم شاہی محل میں ہوئی، جب خدا طلبی میں بادشاہت کو ترک کرکے مکۃ المکرمہ پہنچے، وہاں کے مشائخ سے تحصیلِ علم کیا ۔ وہاں سے بغداد، بصرہ، کوفہ، بلادِ شام کا سفر کیا ۔ آپ نے جلیل القدر مشائخ خواجہ فضیل بن عیاض، امام باقر، سفیان ثوری، خواجہ عمران بن موسیٰ، شیخ منصور سلمی، خواجہ اویس قرنی، حضرت امام اعظم ابو حنیفہ، حضرت جنید بغدادی (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) سے علم حاصل کیا اور ان کی صحبت سے فیض یاب ہوئے ۔ جنید بغدادی آپ کو " مفاتیح العلوم " فرماتے ۔ حضرت امام اعظم آپ کو "سیدنا و سندنا " کہہ کر پُکارتے تھے ۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے بڑے محدثین، مفسرین، اور فقہاء میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ فضیل بن عیاض علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور انہی سے خرقہ خلافت پایا ۔ ان کے ساتھ ساتھ حضرت امام باقر، حضرت خواجہ عمران بن موسٰی، شیخ منصور سلمی، اور خواجہ اویس قرنی سے بھی خرقہ خلافت پایا ۔
سیرت و خصائص:
سید الاصفیاء، سلطان التارکین، سلطان السالکین، مقرب حضرت رب العالمین ، مملکت دنیا کے تارک ، سلطنت عقبیٰ کے صاحب، ظل الٰہی، آں جالسِ سیر اولیائی، آں متلبس بہ لباس پارسائی، مصدق و متوکل علی اللہ، واصل بہ نہایات فنا فی اللہ حضرت خواجہ ابراہیم بن ادہم قدس سرہ کا شمار حضرت خواجہ فضیل بن عیاض کے اکابر خلفاء میں ہوتا ہے ۔
آپ پیرانِ کبار، اولیاء نامدار، مشائخ عظام اور مقتدایان ذو الاحترام میں سے شمار ہوتے ہیں ۔ دولتِ علم سے مالا مال، معرفت و طریقت میں باکمال، آسمانِ ولایت کے گوہرِ تابدار تھے ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ بلخ کے بادشاہ تھے مگر انھوں نے تمام عیش و عشرت کو چھوڑ کر خدا طلبی کی راہ اپنا لی اور تارک الدنیا ہو گئے اور صحرا نوردی کرتے ہوئے مکۃ المکرمہ پہنچ گئے ۔ آپ کیا سفر اور کیا حضر ہر وقت روزے سے رہتے اور راتوں کو قیام و نماز میں بسر کیا کرتے تھے۔ ہمیشہ فکر و غم میں مستغرق نظر آتے تھے ۔
ترکِ سلطنت:
ایک رات آپ اپنے شاہی محل میں سوئے ہوئے تھے کہ چھت پر کسی کے دوڑنے کی آواز سنائی دی، بیدار ہوئے تو آواز دی تم کون ہو؟ جواب آیا کہ میں ایک مسافر ہوں میرا اونٹ گم ہوگیا تھا ۔ اسے تلاش کر رہا ہوں ۔ آپ نے کہا ارے بیوقوف گھروں کی چھتوں پر اونٹ بھی ملتے ہیں ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اونٹ گھر کی چھت پر آ جائے اُس شخص نے جواب دیا تم تو مجھ سے بھی زیادہ بیوقوف ہو کبھی خدا بھی شاہی محلات میں ملتا ہے ۔ تم ریشمی بستر پر آرام کر رہے ہو اور یہ بھی چاہتے ہو کہ تمہیں خدا مل جائے ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
؏:ہم خدا خواہی دہم دنیائے دوں
این خیال ست و محال است و جنون
اس بات سے سلطان ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ کی دل کی دنیا بدل گئی صبح اُٹھے اپنے بیٹے کو تخت نشین کر دیا ۔ امورِ سلطنت اُس کے حوالے کیے، شہر چھوڑ کر جنگل کی راہ لی، جنگل میں پہنچے تو شاہی لباس اُتار کر ایک گدڑیے کو بخش دیا۔ اور اس کے پھٹے پرانے کپڑے خود پہن لیے ۔ بلخ کو چھوڑ کر نیشاپور آئے اور پہاڑ کی ایک غار میں عبادت کرنے لگے ۔ جمعرات کی رات غار کی چھت پر آتے، لکڑیوں کا گٹھا جمع کرتے سر پر اُٹھا کر شہر میں پہنچتے اور لکڑیاں بیچ کر جو کچھ حاصل ہوتا اس کا نصف اللہ کی راہ میں دے دیتے اور نصف سے اپنی ضرورت کی چیزیں خرید کرلے آتے ۔ ایک عرصہ تک یہی کام رہا ۔ پھر غیبی اشارہ سے مکہ معظمہ پہنچے اور خواجہ فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر مرید ہو گئے اور ظاہری و باطنی کمالات حاصل کیے ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: ابراہیم ۔ کنیت: ابو اسحق ۔القاب: مفتاح العلوم، سلطان التارکین، سید المتوکلین، امام الاولیاء ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سلطان ابراہیم بن ادہم بن سلیمان بن منصور بن یزید بن جابر ۔ (علیہم الرحمہ)
ولادت با سعادت:
آپ کی ولادت باسعادت بلخ (افغانستان) میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
شاہی خاندان سے تعلق تھا، شہزادے تھے، ابتدائی تعلیم شاہی محل میں ہوئی، جب خدا طلبی میں بادشاہت کو ترک کرکے مکۃ المکرمہ پہنچے، وہاں کے مشائخ سے تحصیلِ علم کیا ۔ وہاں سے بغداد، بصرہ، کوفہ، بلادِ شام کا سفر کیا ۔ آپ نے جلیل القدر مشائخ خواجہ فضیل بن عیاض، امام باقر، سفیان ثوری، خواجہ عمران بن موسیٰ، شیخ منصور سلمی، خواجہ اویس قرنی، حضرت امام اعظم ابو حنیفہ، حضرت جنید بغدادی (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) سے علم حاصل کیا اور ان کی صحبت سے فیض یاب ہوئے ۔ جنید بغدادی آپ کو " مفاتیح العلوم " فرماتے ۔ حضرت امام اعظم آپ کو "سیدنا و سندنا " کہہ کر پُکارتے تھے ۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے بڑے محدثین، مفسرین، اور فقہاء میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ فضیل بن عیاض علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور انہی سے خرقہ خلافت پایا ۔ ان کے ساتھ ساتھ حضرت امام باقر، حضرت خواجہ عمران بن موسٰی، شیخ منصور سلمی، اور خواجہ اویس قرنی سے بھی خرقہ خلافت پایا ۔
سیرت و خصائص:
سید الاصفیاء، سلطان التارکین، سلطان السالکین، مقرب حضرت رب العالمین ، مملکت دنیا کے تارک ، سلطنت عقبیٰ کے صاحب، ظل الٰہی، آں جالسِ سیر اولیائی، آں متلبس بہ لباس پارسائی، مصدق و متوکل علی اللہ، واصل بہ نہایات فنا فی اللہ حضرت خواجہ ابراہیم بن ادہم قدس سرہ کا شمار حضرت خواجہ فضیل بن عیاض کے اکابر خلفاء میں ہوتا ہے ۔
آپ پیرانِ کبار، اولیاء نامدار، مشائخ عظام اور مقتدایان ذو الاحترام میں سے شمار ہوتے ہیں ۔ دولتِ علم سے مالا مال، معرفت و طریقت میں باکمال، آسمانِ ولایت کے گوہرِ تابدار تھے ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ بلخ کے بادشاہ تھے مگر انھوں نے تمام عیش و عشرت کو چھوڑ کر خدا طلبی کی راہ اپنا لی اور تارک الدنیا ہو گئے اور صحرا نوردی کرتے ہوئے مکۃ المکرمہ پہنچ گئے ۔ آپ کیا سفر اور کیا حضر ہر وقت روزے سے رہتے اور راتوں کو قیام و نماز میں بسر کیا کرتے تھے۔ ہمیشہ فکر و غم میں مستغرق نظر آتے تھے ۔
ترکِ سلطنت:
ایک رات آپ اپنے شاہی محل میں سوئے ہوئے تھے کہ چھت پر کسی کے دوڑنے کی آواز سنائی دی، بیدار ہوئے تو آواز دی تم کون ہو؟ جواب آیا کہ میں ایک مسافر ہوں میرا اونٹ گم ہوگیا تھا ۔ اسے تلاش کر رہا ہوں ۔ آپ نے کہا ارے بیوقوف گھروں کی چھتوں پر اونٹ بھی ملتے ہیں ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اونٹ گھر کی چھت پر آ جائے اُس شخص نے جواب دیا تم تو مجھ سے بھی زیادہ بیوقوف ہو کبھی خدا بھی شاہی محلات میں ملتا ہے ۔ تم ریشمی بستر پر آرام کر رہے ہو اور یہ بھی چاہتے ہو کہ تمہیں خدا مل جائے ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
؏:ہم خدا خواہی دہم دنیائے دوں
این خیال ست و محال است و جنون
اس بات سے سلطان ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ کی دل کی دنیا بدل گئی صبح اُٹھے اپنے بیٹے کو تخت نشین کر دیا ۔ امورِ سلطنت اُس کے حوالے کیے، شہر چھوڑ کر جنگل کی راہ لی، جنگل میں پہنچے تو شاہی لباس اُتار کر ایک گدڑیے کو بخش دیا۔ اور اس کے پھٹے پرانے کپڑے خود پہن لیے ۔ بلخ کو چھوڑ کر نیشاپور آئے اور پہاڑ کی ایک غار میں عبادت کرنے لگے ۔ جمعرات کی رات غار کی چھت پر آتے، لکڑیوں کا گٹھا جمع کرتے سر پر اُٹھا کر شہر میں پہنچتے اور لکڑیاں بیچ کر جو کچھ حاصل ہوتا اس کا نصف اللہ کی راہ میں دے دیتے اور نصف سے اپنی ضرورت کی چیزیں خرید کرلے آتے ۔ ایک عرصہ تک یہی کام رہا ۔ پھر غیبی اشارہ سے مکہ معظمہ پہنچے اور خواجہ فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر مرید ہو گئے اور ظاہری و باطنی کمالات حاصل کیے ۔
❤1
خدائی سلطنت:
جن دنوں سلطان ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے بازار میں آیا کرتے تھے تو بلخ کا ایک امیر آدمی بھی وہیں رہتا تھا ۔ اُس نے سلطان ابراہیم کو پہچان لیا اور بادشاہی چھوڑ کر لکڑیاں بیچنے پر بڑی ملامت شروع کر دی ۔ حضرت سلطان ابراہیم کو اُس کی باتوں پر بڑا غصہ آیا۔ بیٹھے بیٹھے لکڑیوں کے گٹھے پر ہاتھ مارا تو وہ ساری سونے کی بن گئیں۔ سلطان ابراہیم نے یہ سارا سونا اُس کو بخش دیا، اور کہا کہ آج بلخ کی سلطنت کی یاد کی نحوست کی وجہ سے میری حلال کی روزی ضائع ہو گئی ۔
اسی طرح جن دنوں سلطان ابراہیم بلخ کی بادشاہت چھوڑ کر بیابان میں چلے گئے تو چند دن دریا کے کنارے پر قیام کیا وہاں امراء اور وزراء حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ آپ دوبارہ تخت نشین ہو جائیں سلطان ابراہیم اس وقت اپنی گدڑی سی رہے تھے آپ نے سوئی دریا میں پھینک دی اور فرمایا کہ تم بڑے طاقتور حاکم ہو ۔ دنیا کے سارے اسباب تمہارے پاس موجود ہیں دریا سے میری سوئی نکال دو کوئی بھی سوئی نہ نکال سکا۔ آپ نے بلند آواز سے کہا کہ اے دریا کی مچھلیو میری سوئی نکال کر لاؤ ۔ اُسی وقت ہزاروں مچھلیاں اپنے منہ میں سونے اورچاندی کی سوئیاں اٹھائے پانی کی سطح پر تیرنے لگیں ۔
ایک مچھلی کے منہ میں حضرت خواجہ کی سوئی بھی تھی، آپ نے ہاتھ بڑھا کر اس سے سوئی لی اور تمام مچھلیوں کو رخصت کر دیا ۔ امراء کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ہماری سلطنت تمام جہاں پر ہے اب ہمیں بلخ کی سلطنت کی ضرورت نہیں ہے ۔
منقول ہے کہ ایک دفعہ خواجہ ابراہیم بن ادھم قدس سرہ جعفر بن منصور کے پاس آئے جو عباسیوں میں دوسرا خلیفہ اور وارث ِتخت و تاج تھا ۔ خلیفہ نے بڑے جوش کے ساتھ استقبال کیا اور سلام کے بعد کہا ۔ اے ابو اسحٰق تمہارا کیا حال ہے خواجہ ابراہیم ادھم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اے امیر المومنین: " نرفع دنیانا بتمزیق دیننا ۔ فلا دیننا بقی ولا ما نرفع " ۔ یعنی ہم نے اپنا دین پست کر کے دنیا کو بلند کیا لیکن اب نہ تو دین باقی رہا اور نہ ہی وہ چیز ہی رہی جسے ہم نے بلند کیا تھا ۔ (بعینہ آج مسلمانوں کے وہی حالات ہیں دین سے منہ موڑ کر دنیا کی طرف بھاگے تھے، دین کو تو پہلے ہی خیر آباد کہ دیا تھا، لیکن دنیا بھی ہاتھ میں نہ رہی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں مسلمان کے خون سے سستی کوئی چیز نہیں ہے ۔
ایک حدیث میں ہے کہ جب تم دنیا کے پیچھے بھاگوگے، تو دنیا تم سے بھاگےگی، اور جب تم دنیا سے نفرت کروگے تو دنیا تمھارے پیچھے بھاگےگی ۔ حضرت ابراہیم بن ادہم کے واقعات ہمارے لئے درس عبرت ہیں، بڑے بڑے دنیا داروں کے نام و نشاں مٹ گئے اور آپ کا نام ان شاء اللہ قیامت تک زندہ رہےگا) ـ
حضرت ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور قول ہے: کہ جب تم گناہ کا ارادہ کرو تو خدا کی بادشاہت سے باہر نکل جاؤ ۔
وصال:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کے سالِ وفات اور مزار کے بارے میں اختلاف ہے ۔ اصح قول کے مطابق 26 جمادی الاول 161ھ (بحوالہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد:1، ص:354 جامعہ پنجاب لاہور) کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کا مزار مبارک شام میں حضرت لوط علیہ السلام کے مزار پُر انوار کے قریب زیارت گاہِ خاص عام ہے ۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ نفحات الانس ۔ سیر الاولیاء ۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ibrahim-bin-adham
جن دنوں سلطان ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے بازار میں آیا کرتے تھے تو بلخ کا ایک امیر آدمی بھی وہیں رہتا تھا ۔ اُس نے سلطان ابراہیم کو پہچان لیا اور بادشاہی چھوڑ کر لکڑیاں بیچنے پر بڑی ملامت شروع کر دی ۔ حضرت سلطان ابراہیم کو اُس کی باتوں پر بڑا غصہ آیا۔ بیٹھے بیٹھے لکڑیوں کے گٹھے پر ہاتھ مارا تو وہ ساری سونے کی بن گئیں۔ سلطان ابراہیم نے یہ سارا سونا اُس کو بخش دیا، اور کہا کہ آج بلخ کی سلطنت کی یاد کی نحوست کی وجہ سے میری حلال کی روزی ضائع ہو گئی ۔
اسی طرح جن دنوں سلطان ابراہیم بلخ کی بادشاہت چھوڑ کر بیابان میں چلے گئے تو چند دن دریا کے کنارے پر قیام کیا وہاں امراء اور وزراء حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ آپ دوبارہ تخت نشین ہو جائیں سلطان ابراہیم اس وقت اپنی گدڑی سی رہے تھے آپ نے سوئی دریا میں پھینک دی اور فرمایا کہ تم بڑے طاقتور حاکم ہو ۔ دنیا کے سارے اسباب تمہارے پاس موجود ہیں دریا سے میری سوئی نکال دو کوئی بھی سوئی نہ نکال سکا۔ آپ نے بلند آواز سے کہا کہ اے دریا کی مچھلیو میری سوئی نکال کر لاؤ ۔ اُسی وقت ہزاروں مچھلیاں اپنے منہ میں سونے اورچاندی کی سوئیاں اٹھائے پانی کی سطح پر تیرنے لگیں ۔
ایک مچھلی کے منہ میں حضرت خواجہ کی سوئی بھی تھی، آپ نے ہاتھ بڑھا کر اس سے سوئی لی اور تمام مچھلیوں کو رخصت کر دیا ۔ امراء کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ہماری سلطنت تمام جہاں پر ہے اب ہمیں بلخ کی سلطنت کی ضرورت نہیں ہے ۔
منقول ہے کہ ایک دفعہ خواجہ ابراہیم بن ادھم قدس سرہ جعفر بن منصور کے پاس آئے جو عباسیوں میں دوسرا خلیفہ اور وارث ِتخت و تاج تھا ۔ خلیفہ نے بڑے جوش کے ساتھ استقبال کیا اور سلام کے بعد کہا ۔ اے ابو اسحٰق تمہارا کیا حال ہے خواجہ ابراہیم ادھم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اے امیر المومنین: " نرفع دنیانا بتمزیق دیننا ۔ فلا دیننا بقی ولا ما نرفع " ۔ یعنی ہم نے اپنا دین پست کر کے دنیا کو بلند کیا لیکن اب نہ تو دین باقی رہا اور نہ ہی وہ چیز ہی رہی جسے ہم نے بلند کیا تھا ۔ (بعینہ آج مسلمانوں کے وہی حالات ہیں دین سے منہ موڑ کر دنیا کی طرف بھاگے تھے، دین کو تو پہلے ہی خیر آباد کہ دیا تھا، لیکن دنیا بھی ہاتھ میں نہ رہی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں مسلمان کے خون سے سستی کوئی چیز نہیں ہے ۔
ایک حدیث میں ہے کہ جب تم دنیا کے پیچھے بھاگوگے، تو دنیا تم سے بھاگےگی، اور جب تم دنیا سے نفرت کروگے تو دنیا تمھارے پیچھے بھاگےگی ۔ حضرت ابراہیم بن ادہم کے واقعات ہمارے لئے درس عبرت ہیں، بڑے بڑے دنیا داروں کے نام و نشاں مٹ گئے اور آپ کا نام ان شاء اللہ قیامت تک زندہ رہےگا) ـ
حضرت ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور قول ہے: کہ جب تم گناہ کا ارادہ کرو تو خدا کی بادشاہت سے باہر نکل جاؤ ۔
وصال:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کے سالِ وفات اور مزار کے بارے میں اختلاف ہے ۔ اصح قول کے مطابق 26 جمادی الاول 161ھ (بحوالہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد:1، ص:354 جامعہ پنجاب لاہور) کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کا مزار مبارک شام میں حضرت لوط علیہ السلام کے مزار پُر انوار کے قریب زیارت گاہِ خاص عام ہے ۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ نفحات الانس ۔ سیر الاولیاء ۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ibrahim-bin-adham
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-05-1445 ᴴ | 10-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-05-1445 ᴴ | 11-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-05-1445 ᴴ | 11-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-05-1445 ᴴ | 11-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1