🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
مناظر اسلام حضرت مولانا حافظ ولی اللہ لاہوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
حافظ ولی اللہ ۔ لقب: مناظراسلام ، محافظ اسلام ۔

جائے ولادت:
حافظ قرآن، محافظ اسلام حضرت مولانا علامہ حافظ ولی اللہ لاہوری ریاست جموں و کشمیر میں پیدا ہوئے ۔ ریاست کے سکھ راجہ کے مظالم سے تنگ آکر دوسرے کشمیری مسلمانوں کی طرح آپ کے والدین بھی نقل مکانی پر مجبور ہو گئے اور چند روز پسرور (ضلع سیالکوٹ) رہنے کے بعد لاہور آگئے ۔

حضرت حافظ صاحب کی عمر ابھی پانچ سال تھی کہ چیچک کے موذی مرض میں مبتلا ہو گئے، اس منحوس بیماری میں آپ کی ظاہری بصارت زائل ہو گئی مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو حیرت انگیز قوتوں کا حصۂ و افر عطا فرما دِیا ۔

آپ کے والدین بچپن میں داغ ِمفارقت دے گئے اور آپ کی کفالت آپ کے مفلوک الحال بھائیوں کے کندھوں پر آ پڑی، آپ کے چاروں با ہمت بھائیوں نے پوری تند ہی سے محنت و مشقت کی اور جوان ہونے پر تمام کشمیری خاندانوں میں مقبول ہو گئے ۔

تحصیل علم:
ان دنوں لاہور کے مشہور فاضل مولانا غلام رسول تشریف لائےتو از راہ کرم حافظ ولی اللہ کو اپنے ساتھ لے گئے اور اپنی نگرانی قرآن میں پاک حفظ کرایا ۔ حافظ صاحب نے حفظ قرآن مجید کے بعد تمام کتابیں پڑھیں اور عبو رحاصل کر لیا ۔ مولانا غلام رسول کے علاوہ مولانا نور احمد ساکن کھائی کوتلی اور مولانا احمد دین بگوی سے بھی استفادہ کیا ۔

حضرت حافظ صاحب نہ صرف قرآن مجید بلکہ انجیل کے بھی حافظ تھے ۔ انہیں انجیل کے مختلف ایڈیشنوں کے صفحات اور سطریں تک ازبر یاد تھیں ۔

سیرت و خصائص:
حافظ قرآن، عالم الادیان، محافظ اسلام، مناظر اسلام حضرت علامہ مولانا حافظ ولی اللہ لاہوری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ اپنے وقت کے جید عالم اور بہترین قاریِ قرآن تھے ۔ اسی طرح تقابل ادیان پر مہارتِ تامہ حاصل تھی ۔ اللہ جل شانہ نے قوتِ حافظہ میں حصہ وافر عطا فرمایا تھا ۔

1849ء میں پنجاب بھی انگریزوں کے زیر نگیں آ گیا تو لارڈ ڈلہوزی نے یورپ کے عیسائی پادریوں کو ایک خاص منصوبے کے تحت مشنری مراکز قائم کرنے کی دعوت دی ۔ خاص طور پر لاہور میں جن پادریوں نے اپنے مشن کو زور و شور سے شروع کیا ان میں پادری فور مین (بانی ایف سی کالج لاہور) پادری فونڈر اور پادری عماد الدین خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ ان پادریوں نے عیسائیت کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ اسلام پر کھلم کھلا رکیک حملے شروع کر دِئے جن کا نتیجہ یہ ہوا کہ عام مسلمانوں میں اضطراب پایا جانے لگا ۔

ان دنون حافظ ولی اللہ گوجرانوالہ سے لاہور پہنچے اور شاہی مسجد کے نائب خطیب مقرر ہوئے اور جب حالات کی سنگینی ملاحظہ فرمائی تو مردانہ وار میدان میں آ گئے اور تقریر و تحریر کے ذریعے عیسائیوں کے شکوک و شبہات کی دھجیاں بکھیر دیں ۔ میدان مناظرہ میں عیسائی پادریوں کی وہ درگت بنائی کہ بات بات پر دین اسلام کا تمسخر اُڑانے والے اور بے سر و پا اعتراضات وارد کرکے مسلمانوں کی متاع عزیز لوٹنے کی کوشش کرنے والے بڑے بڑے جغادری پادریوں پر سناٹا چھا گیا اور حالت یہاں تک پہنچی کہ نامی گرامی عیسائی مناظر حافظ صاحب کا نام سن کر میدان مناظرہ سے بھاگ جاتے تھے ۔

ایک دفعہ آپ لاہور سے باہر گئے ہوئے تھے ۔ واپسی پر پتہ چلا کہ آج تین دن سے مسلمانوں کے علماء اور پادری فونڈر کے درمیان مناظرہ ہو رہا ہے ۔ آپ آتے ہی میدان مناظرہ میں پہنچ گئے اور علماء سے اجازت لے کر تنِ تنہا مقابلے میں آ گئے ۔
1
آپ نےفرمایا:
چونکہ میں نابینا ہوں اس لئے اپنے مد مقابل کو قریب سے دیکھنا چاہتا ہوں چنانچہ آپ کو پادری کے پاس لےجایا گیا ۔ آپ نے اس کے چہرے کو ٹٹولا اور اس کے منہ پر ایسا زناٹے دار تھپڑ رسید کیا کہ پادری کے منہ سے خون بہنے لگا، بس پھر کیا تھا، مناظرہ ہنگامے کی نذر ہو گیا ۔ پادری نے آپ کے خلاف عدالت میں  ارادۂ قتل کامقدمہ دائر کر دیا ۔

"دوسرے دن انگریز مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیتے ہوئے آپ نے فرمایا: "مجھ پر یہ الزام غلط ہے کہ میں نے ارادۂ قتل سے تھپڑ مارا ہے، میں تو دیکھنا چاہتا تھا کہ پادری صاحب انجیل مقدس پر ایمان رکھتے ہیں یا نہیں کیونکہ انجیل میں لکھا ہے کہ اگر تمہیں ایک تھپڑ مارا جائے تو دوسرا گال پیش کر دو مگر پادری صاحب نے انجیل کی تعلیم پر عمل کرنے کی بجائے مقدمہ دائر کر دیا ہے " ۔

اس کے ساتھ ہی حافظ صاحب نے انجیل کے 121 ایڈیشنوں کے حوالے صفحہ و سطر کی قید سے سنا دئے اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ فلاں ایڈیشن فلاں لائبریری میں اور فلاں ایڈیشن فلان پادری کے پاس ہے ۔

پادری فونڈر جب جواب دینے کے لئے اٹھا تو اس نے حافظ صاحب کے بیان کی تائید کی اور مقدمہ واپس لے لیا ۔ حافظ صاحب نے نابینا ہونے اور بے انداز مصروفیات کے باوجود رد عیسائیت میں یہ کتابیں لکھیں ہیں جن پر آپ کے شاگرد رشید مولانا فقیر محمد جہلمی (مؤلف حدائق الحنفیہ) نے حواشی لکھے ہیں:

1۔ مباحثۂ دینی ۔
2۔ صیانۃ الانسان عن وسوۃ الشیطان ۔
3۔ ابحاث ضروری ۔

تاریخ وصال:
24 جمادی الاول 1296ھ، مطابق مئی 1879ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کی آخری آرام گاہ فلیمنگ روڈ لاہور کے کنارے ایک مختصر احاطے میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hafiz-waliullah-lahori
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-05-1445 ᴴ | 08-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-05-1445 ᴴ | 09-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-05-1445 ᴴ | 09-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-05-1445 ᴴ | 09-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1