🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-05-1445 ᴴ | 08-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-05-1445 ᴴ | 08-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-05-1445 ᴴ | 08-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-05-1445 ᴴ | 08-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
فخر المجودین مولانا قاری محمد یوسف صدیقی، لاہور رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
استاذ القراء حضرت مولانا ابو عطاء المصطفےٰ قاری محمد یوسف صدیقی بن حضرت مولانا پیر محمد حبیب صدیقی [۱] ۲۴ جمادی الاولیٰ ۱۳۴۹ھ ، ۱۷ اکتوبر ۱۹۳۰ء میں ضلع مانسہرہ (ڈویژن ہزارہ) کے مضافات میں واقع موضع ہاتھی میرا کے ایک علمی و روحانی خاندان میں پیدا ہوئے، آپ کا سلسلۂ نصب خلیفہ اوّل حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
[۱۔ حضرت مولانا پیر محمد حبیب صدیقی، ایک جید عالم، ماہر طبیب اور شب زندہ دار عابد و زاہد تھے ۔ آپ کے عقیدت مند کشمیر، کاغان، بالاکوٹ اور ہزارہ ڈویژن کے دوسرے علاقوں کے علاوہ لاہور میں بھی بکثرت موجود ہیں۔ آپ کی پر تاثیر تبلیغ سے لا تعداد افراد، عیسائیت، مرزائیت اور نجدیت کا شکار ہونے سے محفوظ رہے اور کئی ایک تائب ہوکر صراط مستقیم پر گامزن ہوئے ۔ ]
آپ کے والد ماجد، چچا [۱] اوردونوں خسر [۲] اپنے دور کے جیّد علماء میں شمار ہوتے تھے ۔
[۱۔ حضرت مولانا محمد صالحین ہزاروی نہایت خوش الحان خطیب تھے، عمر کا اکثر حصہ لاہور میں گزرا، آپ بدعقیدہ لوگوں سے مناظرہ کرتے اور کامیابی سے ہمکنار ہوتے ۔ آخر عمر میں عقیدتمندوں کے اسرار پر میانوالی ضلع سیالکوٹ منتقل ہوئے اور وہیں انتقال فرمایا ۔
[۲۔ حضرت مولانا محمد شریف اللہ اور حضرت مولانا محمد ایاز قریشی رحمہما اللہ، قاری محمد یوسف صدیقی کے سسر تھے، اول الذکر پانی پت سے قرأت سبعہ کے مستند تھے اور موخر الذکر ایک جید عالم تھے اور حضرت خواجہ پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ کے حلقہ ارادت میں شامل تھے ۔ آپ کی زندگی کا اکثر حصہ پنجاب میں گزرا، ۱۹۷۵ء میں آپ کا وصال میر پور آزاد کشمیر میں ہوا اور لبڑ کوٹ (مانسرہ) میں آپ کا مزار ہے ۔ ]
حضرت علامہ قاری محمد یوسف صدیقی نے ابتدائی کتب درس نظامی اورفارسی ادب کی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی متوسط کتب نصاب حضرت مولانا صفی اللہ رحمۃ اللہ، سوسل (اوگی ہزارہ) سے پڑھیں تکمیل فنون اور حصول حدیث کے لیے جامعہ اشرفیہ لاہور میں داخل ہوئے ۔ چونکہ آپ حضرت شیخ القرآن ابو الحقائق علامہ محمد عبد الغفور ہزاروی رحمہ اللہ کی تقریر سننے جاتے تھے، جو جامعہ اشرفیہ کے اساتذہ و طلباء کے لیے نا قابل برداشت بات تھی، اس لیے ان لوگوں کا تعصب پر مبنی رویہ آپ کے لیے رحمت خدا وندی ثابت ہوا اور آپ اہل سنت و جماعت کے مرکزی دارالعلوم حزب الاحناف میں داخل ہوگئے اور بالآخر جامعہ نعیمیہ لاہور سے سند فراغت حاصل کی ۔
علم تجوید کے لیے آپ نے قاری امیر الدین بجنوری، قاری محمد شاکر انور، قاری عبد الملک اور قاری حسن شاہ بخاری سے استفادہ کیا، آپ نے تدریسی زندگی کا آغاز جامعہ نعیمیہ لاہور سے کیا ۔
۱۹۵۶ء میں آپ نے جامع مسجد کا چھوپورہ لاہور میں خطابت و امامت کے فرائض انجام دینے شروع کیے اور مدرسہ خدام القرآن کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔
ایک سال جامعہ غوثیہ و سنن پورہ، ایک سال جامعہ شمیہ فیض العلوم، فیض باغ اور ایک سال جامعہ گنج بخش میں تجوید و قرأت کی تدریس فرمانے کے بعد ۱۹۶۳ء میں آپ نے جامع مسجد غوثیہ لاری اڈہ لاہور میں ’’جامعہ صدیقیہ سراج العلوم‘‘ کے نام سے تجوید و قرأت کی ایک مرکزی درسگاہ قائم کی، جہاں سے اب تک سینکڑوں حفاظ اور قراء سند فراغت حاصل کر چکے ہیں۔
اس دار العلوم کے قیام میں مفکر اہل سنت حضرت علامہ قاضی عبدالنبی کوکب رحمۃ اللہ کے مفید مشورے سے قدم قدم پر معاون رہے۔
دوران تعلیم، آپ خواجگان ضلع مانسہرہ میں خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے، آپ نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں اپنے ہاتھوں مسجد کا سنگ بنیاد رکھا اور خطابت فرماتے رہے جامع مسجد چوک والگراں میں نائب امام اور جامع مسجد کا چھوپورہ میں کچھ عرصہ خطابت و امامت کے فرائض انجام دینے کے بعد آج کل آپ جامع مسجد غوثیہ لاڑی اڈہ کے خطیب ہیں ۔
استاذ القراء حضرت مولانا ابو عطاء المصطفےٰ قاری محمد یوسف صدیقی بن حضرت مولانا پیر محمد حبیب صدیقی [۱] ۲۴ جمادی الاولیٰ ۱۳۴۹ھ ، ۱۷ اکتوبر ۱۹۳۰ء میں ضلع مانسہرہ (ڈویژن ہزارہ) کے مضافات میں واقع موضع ہاتھی میرا کے ایک علمی و روحانی خاندان میں پیدا ہوئے، آپ کا سلسلۂ نصب خلیفہ اوّل حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
[۱۔ حضرت مولانا پیر محمد حبیب صدیقی، ایک جید عالم، ماہر طبیب اور شب زندہ دار عابد و زاہد تھے ۔ آپ کے عقیدت مند کشمیر، کاغان، بالاکوٹ اور ہزارہ ڈویژن کے دوسرے علاقوں کے علاوہ لاہور میں بھی بکثرت موجود ہیں۔ آپ کی پر تاثیر تبلیغ سے لا تعداد افراد، عیسائیت، مرزائیت اور نجدیت کا شکار ہونے سے محفوظ رہے اور کئی ایک تائب ہوکر صراط مستقیم پر گامزن ہوئے ۔ ]
آپ کے والد ماجد، چچا [۱] اوردونوں خسر [۲] اپنے دور کے جیّد علماء میں شمار ہوتے تھے ۔
[۱۔ حضرت مولانا محمد صالحین ہزاروی نہایت خوش الحان خطیب تھے، عمر کا اکثر حصہ لاہور میں گزرا، آپ بدعقیدہ لوگوں سے مناظرہ کرتے اور کامیابی سے ہمکنار ہوتے ۔ آخر عمر میں عقیدتمندوں کے اسرار پر میانوالی ضلع سیالکوٹ منتقل ہوئے اور وہیں انتقال فرمایا ۔
[۲۔ حضرت مولانا محمد شریف اللہ اور حضرت مولانا محمد ایاز قریشی رحمہما اللہ، قاری محمد یوسف صدیقی کے سسر تھے، اول الذکر پانی پت سے قرأت سبعہ کے مستند تھے اور موخر الذکر ایک جید عالم تھے اور حضرت خواجہ پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ کے حلقہ ارادت میں شامل تھے ۔ آپ کی زندگی کا اکثر حصہ پنجاب میں گزرا، ۱۹۷۵ء میں آپ کا وصال میر پور آزاد کشمیر میں ہوا اور لبڑ کوٹ (مانسرہ) میں آپ کا مزار ہے ۔ ]
حضرت علامہ قاری محمد یوسف صدیقی نے ابتدائی کتب درس نظامی اورفارسی ادب کی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی متوسط کتب نصاب حضرت مولانا صفی اللہ رحمۃ اللہ، سوسل (اوگی ہزارہ) سے پڑھیں تکمیل فنون اور حصول حدیث کے لیے جامعہ اشرفیہ لاہور میں داخل ہوئے ۔ چونکہ آپ حضرت شیخ القرآن ابو الحقائق علامہ محمد عبد الغفور ہزاروی رحمہ اللہ کی تقریر سننے جاتے تھے، جو جامعہ اشرفیہ کے اساتذہ و طلباء کے لیے نا قابل برداشت بات تھی، اس لیے ان لوگوں کا تعصب پر مبنی رویہ آپ کے لیے رحمت خدا وندی ثابت ہوا اور آپ اہل سنت و جماعت کے مرکزی دارالعلوم حزب الاحناف میں داخل ہوگئے اور بالآخر جامعہ نعیمیہ لاہور سے سند فراغت حاصل کی ۔
علم تجوید کے لیے آپ نے قاری امیر الدین بجنوری، قاری محمد شاکر انور، قاری عبد الملک اور قاری حسن شاہ بخاری سے استفادہ کیا، آپ نے تدریسی زندگی کا آغاز جامعہ نعیمیہ لاہور سے کیا ۔
۱۹۵۶ء میں آپ نے جامع مسجد کا چھوپورہ لاہور میں خطابت و امامت کے فرائض انجام دینے شروع کیے اور مدرسہ خدام القرآن کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔
ایک سال جامعہ غوثیہ و سنن پورہ، ایک سال جامعہ شمیہ فیض العلوم، فیض باغ اور ایک سال جامعہ گنج بخش میں تجوید و قرأت کی تدریس فرمانے کے بعد ۱۹۶۳ء میں آپ نے جامع مسجد غوثیہ لاری اڈہ لاہور میں ’’جامعہ صدیقیہ سراج العلوم‘‘ کے نام سے تجوید و قرأت کی ایک مرکزی درسگاہ قائم کی، جہاں سے اب تک سینکڑوں حفاظ اور قراء سند فراغت حاصل کر چکے ہیں۔
اس دار العلوم کے قیام میں مفکر اہل سنت حضرت علامہ قاضی عبدالنبی کوکب رحمۃ اللہ کے مفید مشورے سے قدم قدم پر معاون رہے۔
دوران تعلیم، آپ خواجگان ضلع مانسہرہ میں خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے، آپ نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں اپنے ہاتھوں مسجد کا سنگ بنیاد رکھا اور خطابت فرماتے رہے جامع مسجد چوک والگراں میں نائب امام اور جامع مسجد کا چھوپورہ میں کچھ عرصہ خطابت و امامت کے فرائض انجام دینے کے بعد آج کل آپ جامع مسجد غوثیہ لاڑی اڈہ کے خطیب ہیں ۔
❤1
تقریباً پانچ سال آپ نے دربار حضرت داتا گنج بخش رحمہ اللہ کی جامع مسجد میں درس حدیث دیا، جبکہ علامہ قاضی عبد النبی کوکب رحمہ اللہ قرآن پاک کا درس دیتے تھے، جو بعد میں کھدر پوش مسعود بھگوان نے بند کروا دیا ۔
۱۹۶۷ء میں جامعہ اسلامیہ (اسلامی یونیورسٹی) بہاولپور میں ائمہ کا تربیتی کورس ہوا، جس میں آپ نے اول پوزیشن حاصل کی ۔
۱۹۷۶ء میں آپ نے حج بیت اللہ شریف اور گنبد خضریٰ علی صاحبہا الصلوٰۃ و السلام کی زیارت کا شرف حاصل کیا ۔
تحریکِ ختم نبوت میں آپ نے دیگر علماء و عوام اہل سنت کے شانہ بشانہ کام کیا، تحریک نظام مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ نے محکمہ اوقاف کی ملازمت کے باوجود بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ آپ کے صاحبزادے قاری غلام مصطفےٰ صدیقی واقعہ مسلم میں شدید زخمی ہوئے، جو اس وقت جامعہ نظامیہ رضویہ کے مدرس تھے ۔ سیاسی طور پر آپ کا تعلق ہمیشہ جمعیت علماء پاکستان سے رہا ہے ۔
حضرت علامہ قاری محمد یوسف صدیقی ایک جیّد عالم اور فن قرأت کے بے مثال مدرس ہیں ۔ تجوید سے متعلق نہایت جامع اور سہل انداز میں دو کتابیں آپ نے تحریر فرمائیں، جو عنقریب زیور طبع سے آراستہ ہو رہی ہیں ۔
۱۔ مقدمہ التجوید ۲۔ ضیاء التجوید
آپ سے اکتساب فیض کرنے والے کثیر التعداد فضلاء میں سے چند معروف تلامذہ یہ ہیں ۔ [۱]
[۱۔ راقم کو بھی آپ سے شرف تلمذ حاصل ہے ۔ ]
۱۔ حضرت مولانا شیر محمد، پاکپتن شریف ۔
۲۔ مولانا محمد طفیل نقشبندی ۔
۳۔ مولانا قاری غلام عباس نقشبندی ۔
۴۔ مولانا سید زدار حسین شاہ ۔
۵۔ مولانا قاری سید محمد ریاض شاہ ۔
۶۔ مولانا قاری غلام رسول بصیر پوری ۔
۷۔ قاری سیّد صداقت علی ۔
۸۔ قاری غلام مصطفےٰ صدیقی ۔
۹۔ مولانا قاری عبد الرشید سیالوی شبراکوٹ لاہور ۔
۱۰۔ مولانا عبد الرشید سیالوی، فیصل آباد ۔ [۱]
[ ۱- مکتوب حضرت علامہ قاری محمد یوسف صدیقی مدظلہ بنام مرتب ـ ]
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qari-muhammad-yousuf-siddiqui
۱۹۶۷ء میں جامعہ اسلامیہ (اسلامی یونیورسٹی) بہاولپور میں ائمہ کا تربیتی کورس ہوا، جس میں آپ نے اول پوزیشن حاصل کی ۔
۱۹۷۶ء میں آپ نے حج بیت اللہ شریف اور گنبد خضریٰ علی صاحبہا الصلوٰۃ و السلام کی زیارت کا شرف حاصل کیا ۔
تحریکِ ختم نبوت میں آپ نے دیگر علماء و عوام اہل سنت کے شانہ بشانہ کام کیا، تحریک نظام مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ نے محکمہ اوقاف کی ملازمت کے باوجود بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ آپ کے صاحبزادے قاری غلام مصطفےٰ صدیقی واقعہ مسلم میں شدید زخمی ہوئے، جو اس وقت جامعہ نظامیہ رضویہ کے مدرس تھے ۔ سیاسی طور پر آپ کا تعلق ہمیشہ جمعیت علماء پاکستان سے رہا ہے ۔
حضرت علامہ قاری محمد یوسف صدیقی ایک جیّد عالم اور فن قرأت کے بے مثال مدرس ہیں ۔ تجوید سے متعلق نہایت جامع اور سہل انداز میں دو کتابیں آپ نے تحریر فرمائیں، جو عنقریب زیور طبع سے آراستہ ہو رہی ہیں ۔
۱۔ مقدمہ التجوید ۲۔ ضیاء التجوید
آپ سے اکتساب فیض کرنے والے کثیر التعداد فضلاء میں سے چند معروف تلامذہ یہ ہیں ۔ [۱]
[۱۔ راقم کو بھی آپ سے شرف تلمذ حاصل ہے ۔ ]
۱۔ حضرت مولانا شیر محمد، پاکپتن شریف ۔
۲۔ مولانا محمد طفیل نقشبندی ۔
۳۔ مولانا قاری غلام عباس نقشبندی ۔
۴۔ مولانا سید زدار حسین شاہ ۔
۵۔ مولانا قاری سید محمد ریاض شاہ ۔
۶۔ مولانا قاری غلام رسول بصیر پوری ۔
۷۔ قاری سیّد صداقت علی ۔
۸۔ قاری غلام مصطفےٰ صدیقی ۔
۹۔ مولانا قاری عبد الرشید سیالوی شبراکوٹ لاہور ۔
۱۰۔ مولانا عبد الرشید سیالوی، فیصل آباد ۔ [۱]
[ ۱- مکتوب حضرت علامہ قاری محمد یوسف صدیقی مدظلہ بنام مرتب ـ ]
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qari-muhammad-yousuf-siddiqui
❤1
حضرت مولانا حاجی احمد شاہ عرف مظفر علی خاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
بیعت و خلافت:
حاجی احمد شاہ عرف مظفر علی خاں ۱۲۷۲ھ میں حضرت حافظ حاجی محمود جالندھری قدس سرہ سے بیعت ہوئے ۔ اور ۱۲۹۹ھ میں ان سے خلافت و اجازت حاصل کی ۔
بقول جناب مولوی سراج الدین احمد صاحب دہلوی خاں صاحب موصوف کو اجازت و خلافت حضرت مرشد میاں صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے بھی ہے۔ میاں صاحب علیہ الرحمۃ آپ کی تعظیم کو کھڑے ہوجایا کرتے تھے اور کھانا اپنے ہمراہ کھلایا کرتے تھے۔ ضلع حصار میں آپ کے بہت سے مریدین ہیں۔ آپ میاں صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سجادہ نشین بھی رہے ہیں ۔
وصال:
آپ نے اکانوے برس کی عمر میں بتاریخ ۲۴ جمادی الاولےٰ ۱۳۳۸ھ مطابق ۱۹۲۰ء وصال فرمایا ۔ مزار مبارک حصار میں ہے ۔ میاں عبد الصمد خاں صاحب سجادہ نشین ہیں جو حضور صاحب کے لقب سے مشہور ہیں ۔
کرامت:
خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ انسپکٹر پولیس تھے۔ آپ کی یہ کرامت عوام میں مشہور ہے کہ آپ کا گھوڑا بیگار کی گھاس نہ کھاتا تھا ۔ اس کی نسبت قاضی فضل حق صاحب حال سب انسپکٹر حصار نے جو کچھ اپنے والد بزرگوار جناب مولوی حاجی قاضی فضل احمد صاحب پنشز کورٹ انسپکٹر لودہیانہ کو اپنے خط مورخہ ۲۱ اکتوبر ۱۹۳۵ء میں تحریر فرمایا ہے وہ یہ ہے ۔
کہ میاں عبد الصمد خان صاحب نے فرمایا ۔ کہ ایک مرتبہ پیر عبد اللطیف صاحب صاحب پانی پتی (جو بعد میں انسپکٹر پولیس ہوئے ۔ انبالہ سے پینشن لی اور فوت ہو گئے) کپتان صاحب کی پیشی میں تھے ۔ کسی گاؤں میں خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی دورہ میں کپتان صاحب کے ساتھ گئے ہوئے تھے ۔ جیسا کہ عام قاعدہ ہے بیگار میں گھاس آئی ہوئی تھی ۔ وہ آپ کے گھوڑے کے آگے ڈال دی گئی ۔ تو اس نے نہ کھائی ۔ پیر جی صاحب کو خیال ہوا کہ شاید گھوڑا بیمار ہے ۔ انہوں نے حضرت صاحب سے رپوٹ کی ۔
آپ نے فرمایا کہ ایسا نہیں اور پوچھا کہ یہ گھاس کہاں سے لائی گئی ہے ۔ معلوم ہونے پر آپ نے فوراً اس بنئے کو طلب فرمایا اور گھاس کی قیمت ادا کی ۔ پھر فرمایا کہ اب ڈال دو ۔ چنانچہ گھوڑا وہ گھاس کھانے لگ گیا ۔ میاں عبد الصمد خاں صاحب نے اس ضمن میں مزید فرمایا کہ ایک مرتبہ میرے سامنے علاقہ حصار کے بہت سے ہندو مل کر آئے اور خاں رحمۃ اللہ علیہ کی شکل دیکھتے ہی کہنے لگے ۔ ’’ وہ تو وہی ہے جس کے گھوڑے نے مفت کی گھاس نہیں کھائی تھی ۔ ‘‘ میاں صاحب موصوف فرماتے ہیں کہ حضور نے خود تو کبھی کوئی ایسی بات نہیں فرمائی تھی ۔ جب پوچھا بھی جاتا تھا ۔ تو فرمایا کرتے تھے کہ یہاں لوگ یو نہی اڑا دِیا کرتے تھے ۔
( مشائخ نقشبند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-haji-ahmad-shah-muzaffar-ali-khan
بیعت و خلافت:
حاجی احمد شاہ عرف مظفر علی خاں ۱۲۷۲ھ میں حضرت حافظ حاجی محمود جالندھری قدس سرہ سے بیعت ہوئے ۔ اور ۱۲۹۹ھ میں ان سے خلافت و اجازت حاصل کی ۔
بقول جناب مولوی سراج الدین احمد صاحب دہلوی خاں صاحب موصوف کو اجازت و خلافت حضرت مرشد میاں صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے بھی ہے۔ میاں صاحب علیہ الرحمۃ آپ کی تعظیم کو کھڑے ہوجایا کرتے تھے اور کھانا اپنے ہمراہ کھلایا کرتے تھے۔ ضلع حصار میں آپ کے بہت سے مریدین ہیں۔ آپ میاں صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سجادہ نشین بھی رہے ہیں ۔
وصال:
آپ نے اکانوے برس کی عمر میں بتاریخ ۲۴ جمادی الاولےٰ ۱۳۳۸ھ مطابق ۱۹۲۰ء وصال فرمایا ۔ مزار مبارک حصار میں ہے ۔ میاں عبد الصمد خاں صاحب سجادہ نشین ہیں جو حضور صاحب کے لقب سے مشہور ہیں ۔
کرامت:
خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ انسپکٹر پولیس تھے۔ آپ کی یہ کرامت عوام میں مشہور ہے کہ آپ کا گھوڑا بیگار کی گھاس نہ کھاتا تھا ۔ اس کی نسبت قاضی فضل حق صاحب حال سب انسپکٹر حصار نے جو کچھ اپنے والد بزرگوار جناب مولوی حاجی قاضی فضل احمد صاحب پنشز کورٹ انسپکٹر لودہیانہ کو اپنے خط مورخہ ۲۱ اکتوبر ۱۹۳۵ء میں تحریر فرمایا ہے وہ یہ ہے ۔
کہ میاں عبد الصمد خان صاحب نے فرمایا ۔ کہ ایک مرتبہ پیر عبد اللطیف صاحب صاحب پانی پتی (جو بعد میں انسپکٹر پولیس ہوئے ۔ انبالہ سے پینشن لی اور فوت ہو گئے) کپتان صاحب کی پیشی میں تھے ۔ کسی گاؤں میں خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی دورہ میں کپتان صاحب کے ساتھ گئے ہوئے تھے ۔ جیسا کہ عام قاعدہ ہے بیگار میں گھاس آئی ہوئی تھی ۔ وہ آپ کے گھوڑے کے آگے ڈال دی گئی ۔ تو اس نے نہ کھائی ۔ پیر جی صاحب کو خیال ہوا کہ شاید گھوڑا بیمار ہے ۔ انہوں نے حضرت صاحب سے رپوٹ کی ۔
آپ نے فرمایا کہ ایسا نہیں اور پوچھا کہ یہ گھاس کہاں سے لائی گئی ہے ۔ معلوم ہونے پر آپ نے فوراً اس بنئے کو طلب فرمایا اور گھاس کی قیمت ادا کی ۔ پھر فرمایا کہ اب ڈال دو ۔ چنانچہ گھوڑا وہ گھاس کھانے لگ گیا ۔ میاں عبد الصمد خاں صاحب نے اس ضمن میں مزید فرمایا کہ ایک مرتبہ میرے سامنے علاقہ حصار کے بہت سے ہندو مل کر آئے اور خاں رحمۃ اللہ علیہ کی شکل دیکھتے ہی کہنے لگے ۔ ’’ وہ تو وہی ہے جس کے گھوڑے نے مفت کی گھاس نہیں کھائی تھی ۔ ‘‘ میاں صاحب موصوف فرماتے ہیں کہ حضور نے خود تو کبھی کوئی ایسی بات نہیں فرمائی تھی ۔ جب پوچھا بھی جاتا تھا ۔ تو فرمایا کرتے تھے کہ یہاں لوگ یو نہی اڑا دِیا کرتے تھے ۔
( مشائخ نقشبند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-haji-ahmad-shah-muzaffar-ali-khan
❤1