🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-05-1445 ᴴ | 07-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-05-1445 ᴴ | 07-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤3
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3
حضرت شیخ عبد اللہ شطاری علیہ الرحمہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبداللہ شطاری ۔
سلسلۂ نسب:
شیخ عبد اللہ شطاری کا سلسلۂ نسب حضرت سیّدنا شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ملتا ہے ۔
بیعت و خلافت:
شیخ عبداللہ شطاری شیخ محمد طیفوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خرقۂ خلافت بھی انہیں سے حاصل کیا ۔
سیرت و خصائص:
حضرت عبد اللہ شطاری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سلسلۂ شطاریہ کے بانی اور امامِ طریقت اور پیشوائے حقیقت تھے ۔ آپ نے رسالہ ’’ اشغالِ شطاریہ ‘‘ میں اپنے سلسلۂ عالیہ کے مقامات و احوال قلم بند کیے ہیں ۔
سلسلۂ طیفوریہ میں جو شخص سب سے پہلے شطاریہ طریقت پر اٹھا وہ حضرت شیخ عبد اللہ تھے ۔
لفظ شطار کی وجہ تسمیہ:
شطار اصطلاح میں ’’ تیز رو ‘‘ کو کہتے ہیں، مگر صوفیاء میں اس شخص کو شطار کہا جاتا ہے جو فنا فی اللہ اور بقا باللہ کے رتبۂ عالیہ کو حاصل کرے ۔
حضرت شیخ عبد اللہ ریاضات اور مجاہدات میں کماحقہ کمال حاصل کرچکے تو آپ کو شطاری کہا جانے لگا۔ سب سے پہلے حضرت شیخ محمد نے آپ کو شطاری کے خطاب سے مخاطب فرمایا اور حکم دیا کہ وہ برِّ صغیر ہندوستان (پاکستان) میں جائیں اور جس جگہ قیام کریں معرفت کا غلغلہ برپا کر دیں، تاکہ لوگ ہدایت حاصل کر سکیں ۔ اگر کسی بزرگ سے ملاقات ہو تو اسے برملا کہہ دیں کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ تمہیں بخش دیں ۔ ورنہ میرے پاس جو کچھ بھی ہے میں دینے کو تیار ہوں ۔ آپ اپنے پیر و مرشِد کے حکم پر اپنی معرفت اور ولایت کا اظہار اعلانیہ کرنے لگے اور بلا جھجک کہنے لگے جو بھی اللہ تعالیٰ کی تلاش میں آنا چاہتا ہے میرے پاس آئے میں اسے خدا تک پہنچاؤںگا ۔
تاریخِ وصال:
شیخ عبد اللہ شطاری کا وصال 23 جمادی الاولیٰ 832ھ بمطابق فروی 1429ء میں ہوا تھا ۔
آپ کا مزار آگرہ ’’ قلعہ مندو ‘‘ کے اندر ہے ۔ شیخ پیر میرٹھی جو آپ کے سلسلۂ شطاریہ کے معروف بزرگ ہیں جہانگیر بادشاہ کے ساتھ قلعہ مندو میں گئے تھے اور شیخ عبد اللہ کا بہت عالی شان مزار بنایا تھا ۔
ماخذ: خزینۃ الاصفیاء
از: مفتی غلام سروَر لاہوری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/abdullah-shattaari-shaikh
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبداللہ شطاری ۔
سلسلۂ نسب:
شیخ عبد اللہ شطاری کا سلسلۂ نسب حضرت سیّدنا شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ملتا ہے ۔
بیعت و خلافت:
شیخ عبداللہ شطاری شیخ محمد طیفوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خرقۂ خلافت بھی انہیں سے حاصل کیا ۔
سیرت و خصائص:
حضرت عبد اللہ شطاری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سلسلۂ شطاریہ کے بانی اور امامِ طریقت اور پیشوائے حقیقت تھے ۔ آپ نے رسالہ ’’ اشغالِ شطاریہ ‘‘ میں اپنے سلسلۂ عالیہ کے مقامات و احوال قلم بند کیے ہیں ۔
سلسلۂ طیفوریہ میں جو شخص سب سے پہلے شطاریہ طریقت پر اٹھا وہ حضرت شیخ عبد اللہ تھے ۔
لفظ شطار کی وجہ تسمیہ:
شطار اصطلاح میں ’’ تیز رو ‘‘ کو کہتے ہیں، مگر صوفیاء میں اس شخص کو شطار کہا جاتا ہے جو فنا فی اللہ اور بقا باللہ کے رتبۂ عالیہ کو حاصل کرے ۔
حضرت شیخ عبد اللہ ریاضات اور مجاہدات میں کماحقہ کمال حاصل کرچکے تو آپ کو شطاری کہا جانے لگا۔ سب سے پہلے حضرت شیخ محمد نے آپ کو شطاری کے خطاب سے مخاطب فرمایا اور حکم دیا کہ وہ برِّ صغیر ہندوستان (پاکستان) میں جائیں اور جس جگہ قیام کریں معرفت کا غلغلہ برپا کر دیں، تاکہ لوگ ہدایت حاصل کر سکیں ۔ اگر کسی بزرگ سے ملاقات ہو تو اسے برملا کہہ دیں کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ تمہیں بخش دیں ۔ ورنہ میرے پاس جو کچھ بھی ہے میں دینے کو تیار ہوں ۔ آپ اپنے پیر و مرشِد کے حکم پر اپنی معرفت اور ولایت کا اظہار اعلانیہ کرنے لگے اور بلا جھجک کہنے لگے جو بھی اللہ تعالیٰ کی تلاش میں آنا چاہتا ہے میرے پاس آئے میں اسے خدا تک پہنچاؤںگا ۔
تاریخِ وصال:
شیخ عبد اللہ شطاری کا وصال 23 جمادی الاولیٰ 832ھ بمطابق فروی 1429ء میں ہوا تھا ۔
آپ کا مزار آگرہ ’’ قلعہ مندو ‘‘ کے اندر ہے ۔ شیخ پیر میرٹھی جو آپ کے سلسلۂ شطاریہ کے معروف بزرگ ہیں جہانگیر بادشاہ کے ساتھ قلعہ مندو میں گئے تھے اور شیخ عبد اللہ کا بہت عالی شان مزار بنایا تھا ۔
ماخذ: خزینۃ الاصفیاء
از: مفتی غلام سروَر لاہوری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/abdullah-shattaari-shaikh
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-05-1445 ᴴ | 07-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-05-1445 ᴴ | 08-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1