🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌2
حضرت شیخ احمد بن ابی الحسن المعروف ابن الرفاعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ذوالمقامات العلیۃ ولا حوال السنیۃ خرق سبحانہ علی یدیہ العوابد وقلب لہ الا عیان والظھر العجائب ولکن اصحابہ ففیھم الجید والری یدخل بعضھم النیران ویلعب یالحیات وھذا ماعرفہ الشیخ ولا صلحاء اصحابہ نعوذ بااللہ من الشیطان

یعنی: آپ بڑے مقامات اور بزرگ حالات رکھتے تھے ۔ اللہ سبحانہ نے ان کے ہاتھ پر بہت سے خرق عادات اور قلب ماہیات کی ہیں ۔ عجائبات ظاہر کیے ہیں، لیکن ان کے مرید اچھے بھی ہیں اور ردی بھی ہیں ۔ بعض ردی آگ میں گھس جاتے تھے ۔ سانپوں سے کھیلتے تھے، لیکن اس کو شیخ پسند نہ کرتے تھے اور نہ ان کے نیک بخت مرید شیطان سے پناہ مانگتے تھے ۔

آپ امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں ۔ ان کے خرقہ کی نسبت پانچ واسطہ سے حضرت شیخ شبلی علیہ الرحمہ تک پہنچی ہے ۔ ام عبید کے رہنے والے ہیں، جو کہ بطائح کے علاقہ میں ہے ۔ ابو الحسن علی جو آپ کے بھانجے ہیں ۔

بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ان کے خلوت خانہ کے دروازہ پر بیٹھا ہوا تھا ۔ اتنے میں ان کے پاس کسی کی آواز سنی ۔ جب میں نے دیکھا تو ان کے پاس ایک ایسا شخص بیٹھا ہوا دیکھا کہ پہلے اس سے میں نے اس کو کبھی نہ دیکھا تھا ۔ دیر تک ہم باتیں کرتے رہے ۔ پھر وہ شخص خلوت خانہ کی کھڑکی سے باہر نکل گیا اور بجلی کی طرح ہوا میں اڑ گیا ۔ تب میں شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ یہ کون شخص تھا؟ کہا، کیا تم نے اس کو دیکھا، میں نے کہا، ہاں، کہا، یہ وہ شخص ہے کہ خدائے تعالیٰ محیط سمندر کی اس سے حفاظت کرتا ہے ۔ چار مردوں سے ایک یہ ہے ۔ تین دن ہو گئے ہیں کہ یہ مہجور اور معزول ہے، لیکن خود نہیں جانتا ۔

میں نے کہا، اے میرے سردار اس کی مہجوری کا کیا سبب ہے؟ کہا، یہ بحر محیط کے ایک جزیرہ میں رہتا ہے ۔ وہاں تین دن تک متواتر بارش ہوتی رہی ۔ اس کے دل میں یوں آیا کہ کاش یہ بارش آبادی میں برستی ۔ اس کے بعد استغفار کیا ۔ سو اس اغراض کے سبب مہجور یعنی خدا سے دور جا پڑا ہے ۔ میں نے کہا، سیدی تم نے اس کو مہجوری کی خبر بھی کی ۔ کہا، نہیں مجھے شرم آئی ۔ میں نے کہا، اگر فرمائیں تو میں اس کو خبر دوں ۔ کہا، تم کر دوگے ۔ میں نے کہا، ہاں ۔ کہا، اپنے گریبان میں سر کر لے ۔ میں نے کر لیا ۔ میرے کان میں ایک آواز آئی کہ اے علی اپنا سر نکال مین نے سر نکالا تو اپنے آپ کو بحر محیط کے ایک جزیرہ میں دیکھا ۔

تب میں اپنے کام میں حیران رہ گیا ۔ میں اٹھا اور تھوڑی دیر تک گیا ۔ اس مرد کو دیکھا تو میں نے اس کو سلام کہا اور وہ قصہ میں نے اس کو کہا، مجھے قسم دی کہ جو کچھ میں کہوں وہی کرنا ۔ میں نے کہا، ہاں ایسا ہی کروں گا ۔ کہا، میرے خرقہ کو میری گردن میں ڈال اور مجھ کو زمین پر کھینچ اور کہو یہ اس شخص کی سزا ہے کہ خدائے تعالیٰ پر اعتراض کرے ۔ میں نے خرقہ کو اس کی گردن میں ڈالا اور چاہا کہ اس کو کھینچوں ۔ اتنے میں ہاتف نے آواز دی کہ اے علی اس کو چھوڑ دے ۔ کیونکہ آسمان کے فرشتے رونے لگے ہیں ۔ خدائے تعالیٰ ان سے خوش ہو گیا ۔ جب میں نے یہ آواز سنی تو بے ہوش ہو گیا ۔ جب ہوش میں آیا تو اپنے آپ کو اپنے ماموں کے پاس دیکھا ۔ واللہ مجھے معلوم نہ ہوا کہ کیونکر وہاں گیا اور کس طرح واپس آیا ۔
1
جب کسی وقت کوئی شخص سیدی احمد سے تعویذ مانگتا اور کاغذ لاتا کہ وہ کچھ لکھ دیں " اگر سیاہی نہ ہوتی تو  کاغذ لیتے اور سیاہی کے بغیر لکھ دیتے ۔ ایک دفعہ ایک شخص کے لیے بے سیاہی تعویذ لکھ دیا اور مدت تک وہ غائب رہا ۔ اس کے بعد پھر اسی کاغذ کو امتحاناً لایا اور کہا " اے شیخ اس پر آپ دعا لکھ  دیں ۔ جب آپ نے اس کاغذ کو دیکھا تو کہا " اے فرزند یہ کاغذ لکھا ہوا ہے اور واپس دے دیا ۔

ایک دن آپ کے دو مرید جنگل میں گئے مل کر بیٹھے اور باتیں کرتے رہے ۔ ایک نے دوسرے  سے کہا کہ تم اس مدت تک سیدی احمد کی خدمت سے کیا کچھ حاصل ہوا ؟

کہا " تم جو کچھ آرزو کرتے ہو " کرو ۔ اس نے کہا " اے میرے سردار میں چاہتا ہوں کہ اسی وقت ہماری دوزخ کی آزادی کا کاغذ آسمان سے اترے ۔ دوسرے نے کہا " خدا کا بہت کرم ہے اور اس کا فضل بے حد ۔

اس حالت میں یہ باتیں کر رہے تھے کہ دفعۃً ایک سفید ورق آسمان سے نیچے گرا ۔ اس کو لے لیا ۔ اس میں کچھ نہ لکھا تھا ۔ تب وہ سیدی احمد کی خدمت میں آئے اور اپنا احوال کچھ بھی نہ کہا ۔ صرف اس کاغذ کو آپ کو دے دیا ۔ جب سیدی نے اس کاغذ کو دیکھا تو خدا کو سجدہ کیا ۔ جب سجدہ سے سر اٹھایا تو کہا، قدرت کے ہاتھ سیاہی سے نہیں لکھا کرتے ۔ یہ خط نور سے لکھا ہوا ہے اور کہا ۔

الحمد اللہ الذی ارانی عتق اصحابی من النار فی الدنیا قب الاخرات

یعنی: خدا کی تعریف ہے ۔ جس نے کہا میرے مریدوں کا دوزخ سے آزاد ہونا، دنیا میں آخرت سے پہلے ہی دِکھا دیا ـ

کہتے ہیں، باوجود عبادت میں کمال مشغول رہنے کے ان کے لطیف اشعار بھی ہیں ۔ ان میں سے بعض یہ ہیں ۔

اذا جن لیل ھام قلبی بذ کرکم
انوح کما ناح الحام المطوق

وفوقی سحاب بمطر الھم والاسی
وتحتی بحار الھوی تندفق

سلوا ام عمرو کیف بات اسیرھا
تفک الا ساری دونہ وھو موثق

فلا ھو مقتول  ففی القتل راحۃ
ولا  ھو ممنون علیہ فیطلق

یعنی: جب رات پڑتی ہے تو میرا دل تمہاری یاد سے حیران ہو جاتا ہے ۔ میں ایسی فریاد کرتا ہوں ۔ جس طرح کبوتری طوق دار چلاتی ہے ۔ میرے اوپر ایک بادل ہے، جو کہ غم و رنج کو برساتا ہے اور میرے نیچے عشق کے سمندر ہیں، جو کہ جوش مارتے ہیں ۔ ام عمر سے پوچھو کہ تمہارے قیدی عشق نے کیونکر رات کاٹی ہے ۔ اس کے سوا اور قیدیوں کی زنجیریں کھول دیں گئیں اور وہ بندھا ہے ۔ وہ مقتول بھی نہیں ہوا ۔ کیونکہ قتل میں راحت ہےاور نہ وہ ایسا ہے کہ اس پر احسان رکھ کر اس کو چھوڑ دیا جائے ۔

بعض کہتے ہیں انہوں نے یہ اشعار قوال سے سنے تھے اور انہیں کے سننے سے وہ دنیا سے رحلت کر گئے تھے ۔

وصال:
آپ رضی اللہ عنہ جمعرات کے دن ۲۲ جمادی الاولیٰ ۵۷۸ھ میں فوت ہوئے ہیں ۔

( نفحاتُ الاُنس )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-abbas-ahmad-bin-abi-al-hasan-ibn-e-al-rifa-ee
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید علیم اللہ چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آبائی وطن اور شجرۂ نسب:
آپ قصبہ جالندھر کے سادات گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ـ آپ کا شجرہ نسب زید بن حسن رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ـ

بیعت:
آپ شاہ ابو المعالی قدس سرہ کے مرید تھے ـ

تعلیم:
ظاہری علوم میں کمال حاصل کیا اور علماء وقت میں ممتاز ہوئے ـ

تصنیفات:
آپ کی تصانیف میں انہار الاسرار شرح بوستان سعدی نزہتہ السالکین شرح اخلاق ناصری ۔ زبدۃ الروایات نثر الجواہر جو اندر مرجان کا فارسی ترجمہ ہے جس میں بلند پایا کتابیں یاد گار زمانہ ہیں ـ

بچپن میں ہی حضرت شاہ ابو المعالی چشتی کی خدمت میں رہنے لگے تھے مگر بڑے ہوئے تو آپ کو سید میراں بھیکھہ رحمۃ اللہ علیہ سے خرقۂ خلافت ملا ۔

آپ کی ساری عمر طلباء کی تعلیم اور خدامین کی تلقین میں گزری آپ کا شعری مذاق بڑا بلند تھا اور شعر خاص انداز میں کہتے تھے ہم آپ کی ایک غزل کا مطلع و مقطع دیتے ہیں ۔

یار از خلوت گہہ قدسی عیاں تاختہ
تیغ استغنا بگر دن ہائے اعتبار آختہ

از تلو نہائے تو شکر لباں گا علیم
ہمچو سیخ افسردہ گاہے چوں نمک بگداختہ

آپ کی کرامات اسرار تعلیم مولّفہ شیخ عبد اللہ قدس سرہ میں کثرت سے بیان کی گئی ہیں مگر ہم یہاں آپ کے تصرفات کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں ۔ آدینہ بیگ فوجدار دوآبہ جالندھر کے زمانہ میں ایک شخص صدیق بیگ کو قصبہ نور محل کا حاکم بنا دیا گیا اس نے نور محل پہنچتے ہی سب سے پہلا اقدام یہ کیا کہ ایک سید جو جالندھر کے سادات میں سے تھا کی تمام جائیداد ضبط کرلی اور ساتھ ہی تیس روپے جرمانہ بھی طلب کرلیا اس سیّد نے حضرت شاہ علیم اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر سفارش کی استدعا کی آپ نے حاکم نور محل کے نام ایک سفارشی رقعہ لکھا مگر حاکم نے قبول نہ کیا اور بڑی بے ہودہ باتیں کیں ۔ دوسرے ہی دن آدینہ بیگ نے اس حاکم کو کسی پرانے جرم میں طلب کر کے قید کر دیا اور تیس ہزار تاوان بھی مقرر کر دیا گیا ۔

آپ بائیس جمادی الاوّل ۱۱۰۹ھ کو پیدا ہوئے اور سولہ (۱۶) صفر ۱۲۰۲ھ کو فوت ہوئے آپ کا مزار جالندھری شہر میں ہے آپ کے مزار پر آفتاب چشتیہ (۱۲۰۲ھ) سے تاریخ نکال کر پتھر پر لکھی ہوئی ہے ۔

حضرت سید علیم اللہ پیر
صاحب صدق و صفا خیر الانام

فیض دیدار است تولیدش عیاں
سال ترحیلش بگو شیخ الکرام ۱۲۰۲ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-aleemullah-chishti
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-05-1445 ᴴ | 06-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-05-1445 ᴴ | 07-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-05-1445 ᴴ | 07-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-05-1445 ᴴ | 07-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2