Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
فلسطینی مسلمانوں کی مسلسل گرفتاریاں
(1)حالیہ جنگ بندی معاہدہ کے دوران بعض ایسے فلسطینی بچے بھی اسرائیلی جیلوں سے رہا کیے گئے جن کو پانچ سال کی عمر میں اسرائیلی فوج پر پتھر پھینکنے کا الزام لگا کر اسرائیلی جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا اور وہ کئی سالوں تک اسرائیلی جیلوں میں رہے۔
اسرائیلی فوجی آٹھ نو سال کے بچوں کو پتھر پھینکنے کے الزام میں گرفتار کر لیتی ہے اور پھر انہیں غیر متعینہ مدت کے لئے اسرائیلی جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔یہودی فوجی فلسطینی نابالغ لڑکیوں اور عورتوں کو بھی گرفتار کر لیتے ہیں۔
عرب اسرائیل جنگ:1967میں عرب ممالک اسرائیل سے شکست کھا گئے تھے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ ہے کہ 1967 سے آج تک 56 سالوں میں دس لاکھ فلسطینی مسلمانوں کو اسرائیلی فوج نے گرفتار کر کے اسرائیلی جیلوں میں ڈال دیا۔ان میں سے بہت سے لوگ اسرائیلی جیلوں میں وفات پا گئے۔بہت سے لوگ لمبی مدت تک اسرائیلی جیلوں میں رہنے کے بعد آزاد ہوئے۔اسرائیلی کورٹ میں بھی فلسطینی مسلمانوں کو انصاف نہیں ملتا ہے۔
(2)حالیہ فلسطین واسرائیل جنگ سے متعلق یہ خبر بھی گشت کر رہی ہے کہ اسرائیلی فوجی تلاشی کے نام پر فلسطینی مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیتے اور ان کے گھروں سے روپے اور زیورات چوری کر لیتے۔اسرائیلی فوجیوں نے عام فلسطینی شہریوں کے گھروں سے چوری کر کے قریبا دس کروڑ روپے اسرائیلی حکومت کے پاس جمع کئے ہیں،پھر چوری تو اس سے زیادہ کئے ہوں گے۔
(3)اسرائیلی فوجیوں نے حالیہ جنگ کے دوران تین ہزار سے زائد عام فلسطینی شہریوں کو گرفتار کیا ہےجن میں بہت سے بچے بھی شامل ہیں۔پندرہ ہزار سے زائد عام فلسطینی شہریوں کا قتل کیا ہے،جن میں چھ ہزار بچے اور چار ہزار عورتیں شامل ہیں۔
(4) اسرائیلی حکومت نے اپنے انٹلی جنس محکمہ یعنی موساد کو حکم دیا ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی حماس کے لیڈر ہوں،ان کو قتل کر دیا جائے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ دنیا بھر میں فلسطینی مسلمانوں کا قتل ہو گا،خواہ وہ حماس کے ممبر ہوں یا عام فلسطینی۔چند دن قبل 25:نومبر کو امریکہ میں تین فلسطینی اسٹوڈنٹس کو گولی ماری گئی ہے۔امریکی کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہے۔
(5)اسرائیلی میڈیا جھوٹ پھیلانے میں بہت ماہر ہے۔اسی طرح مغرب کا پروپیگنڈہ میڈیا اور بھارت کا گودی میڈیا بھی جھوٹ پھیلانے میں اسرائیلی میڈیا کے ہم پلہ ہیں۔حالیہ فلسطین واسرائیل جنگ سے متعلق بھی بہت جھوٹ پھیلایا گیا،لیکن سوشل میڈیا کے سبب دنیا والوں کو صحیح خبریں بھی موصول ہوتی رہیں۔
(6)کل بروز دوشنبہ 27:نومبر کو چار روزہ جنگ بندی کی مدت پوری ہو چکی تھی،لیکن فلسطین واسرائیل نے باہمی رضامندی سے مزید دو دنوں کے لئے جنگ بندی کی مدت بڑھا دی ہے۔امید ہے کہ رفتہ رفتہ مستقل جنگ بندی ہو جائے گی۔
(7)موجودہ فلسطین واسرائیل جنگ سے دنیا بھر کے حالات بدلتے نظر آ رہے ہیں۔مشرق وسطی سے امریکہ و یورپ کی سامراجیت ختم ہوتی نظر آ رہی پے۔ان شاء اللہ تعالی اگلے مضمون میں تفصیل رقم کی جائے گی۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:28:نومبر 2023
فلسطینی مسلمانوں کی مسلسل گرفتاریاں
(1)حالیہ جنگ بندی معاہدہ کے دوران بعض ایسے فلسطینی بچے بھی اسرائیلی جیلوں سے رہا کیے گئے جن کو پانچ سال کی عمر میں اسرائیلی فوج پر پتھر پھینکنے کا الزام لگا کر اسرائیلی جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا اور وہ کئی سالوں تک اسرائیلی جیلوں میں رہے۔
اسرائیلی فوجی آٹھ نو سال کے بچوں کو پتھر پھینکنے کے الزام میں گرفتار کر لیتی ہے اور پھر انہیں غیر متعینہ مدت کے لئے اسرائیلی جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔یہودی فوجی فلسطینی نابالغ لڑکیوں اور عورتوں کو بھی گرفتار کر لیتے ہیں۔
عرب اسرائیل جنگ:1967میں عرب ممالک اسرائیل سے شکست کھا گئے تھے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ ہے کہ 1967 سے آج تک 56 سالوں میں دس لاکھ فلسطینی مسلمانوں کو اسرائیلی فوج نے گرفتار کر کے اسرائیلی جیلوں میں ڈال دیا۔ان میں سے بہت سے لوگ اسرائیلی جیلوں میں وفات پا گئے۔بہت سے لوگ لمبی مدت تک اسرائیلی جیلوں میں رہنے کے بعد آزاد ہوئے۔اسرائیلی کورٹ میں بھی فلسطینی مسلمانوں کو انصاف نہیں ملتا ہے۔
(2)حالیہ فلسطین واسرائیل جنگ سے متعلق یہ خبر بھی گشت کر رہی ہے کہ اسرائیلی فوجی تلاشی کے نام پر فلسطینی مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیتے اور ان کے گھروں سے روپے اور زیورات چوری کر لیتے۔اسرائیلی فوجیوں نے عام فلسطینی شہریوں کے گھروں سے چوری کر کے قریبا دس کروڑ روپے اسرائیلی حکومت کے پاس جمع کئے ہیں،پھر چوری تو اس سے زیادہ کئے ہوں گے۔
(3)اسرائیلی فوجیوں نے حالیہ جنگ کے دوران تین ہزار سے زائد عام فلسطینی شہریوں کو گرفتار کیا ہےجن میں بہت سے بچے بھی شامل ہیں۔پندرہ ہزار سے زائد عام فلسطینی شہریوں کا قتل کیا ہے،جن میں چھ ہزار بچے اور چار ہزار عورتیں شامل ہیں۔
(4) اسرائیلی حکومت نے اپنے انٹلی جنس محکمہ یعنی موساد کو حکم دیا ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی حماس کے لیڈر ہوں،ان کو قتل کر دیا جائے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ دنیا بھر میں فلسطینی مسلمانوں کا قتل ہو گا،خواہ وہ حماس کے ممبر ہوں یا عام فلسطینی۔چند دن قبل 25:نومبر کو امریکہ میں تین فلسطینی اسٹوڈنٹس کو گولی ماری گئی ہے۔امریکی کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہے۔
(5)اسرائیلی میڈیا جھوٹ پھیلانے میں بہت ماہر ہے۔اسی طرح مغرب کا پروپیگنڈہ میڈیا اور بھارت کا گودی میڈیا بھی جھوٹ پھیلانے میں اسرائیلی میڈیا کے ہم پلہ ہیں۔حالیہ فلسطین واسرائیل جنگ سے متعلق بھی بہت جھوٹ پھیلایا گیا،لیکن سوشل میڈیا کے سبب دنیا والوں کو صحیح خبریں بھی موصول ہوتی رہیں۔
(6)کل بروز دوشنبہ 27:نومبر کو چار روزہ جنگ بندی کی مدت پوری ہو چکی تھی،لیکن فلسطین واسرائیل نے باہمی رضامندی سے مزید دو دنوں کے لئے جنگ بندی کی مدت بڑھا دی ہے۔امید ہے کہ رفتہ رفتہ مستقل جنگ بندی ہو جائے گی۔
(7)موجودہ فلسطین واسرائیل جنگ سے دنیا بھر کے حالات بدلتے نظر آ رہے ہیں۔مشرق وسطی سے امریکہ و یورپ کی سامراجیت ختم ہوتی نظر آ رہی پے۔ان شاء اللہ تعالی اگلے مضمون میں تفصیل رقم کی جائے گی۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:28:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
کیا فلسطین آزاد ملک بن جائے گا؟
(1) فلسطینی تحریک"حماس"کی ناقابل یقین فتح یابی دیکھ کر ایسا ہی لگتا ہے کہ اب اقوام متحدہ فلسطین کو ایک مستقل ملک بنانے کی کوشش کرے۔دنیا میں طاقتور اور فاتح کی بات مانی جاتی ہے۔حالیہ جنگ میں اسرائیل کو بدترین شکست ہوئی ہے۔اسرائیل اور اس کے حمایتی اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھے ہیں۔امریکی فضاؤں سے بھی رونق غائب ہو چکی ہے۔حماس نے امریکی سامراجیت کو روند کر رکھ دیا ہے۔
اگر اسرائیل کو شکست نہ ہوتی تو وہ ہرگز جنگ بندی نہیں کرتا۔ یہودی دنیا کی وہ بدترین قوم ہے کہ اسے فتح یابی کی ایک فی صد بھی امید ہوتی تو اسرائیل ہرگز جنگ بندی نہیں کرتا۔
عرب اسرائیل جنگ:1967 میں کامیابی کے بعد اسرائیل خود کو مشرق وسطی کا سب سے طاقتور ملک اور اپنے آپ کو ناقابل تسخیر سمجھتا رہا ہے۔حماس سے بدترین شکست کے بعد امریکہ بھی نرم پڑ چکا ہے۔
اقوام متحدہ میں پانچ ممالک مستقل ارکان ہیں جن کو ویٹو پاور حاصل ہے۔ان پانچ ممالک میں امریکہ بھی شامل ہے۔امریکہ ہمیشہ فلسطین کو مستقل ملک بنانے کی مخالفت کرتا رہا اور ویٹو پاور کا استعمال کرتا رہا ہے۔اب رائے عامہ کے دباؤ میں امریکہ بھی ٹو نیشن تھیوری کی بظاہر حمایت کر رہا ہے،لیکن امریکہ کا ظاہر وباطن یکساں نظر نہیں آتا۔
(2)فی الحال جنگ بندی ہو چکی ہے۔اگر جنگ بندی کے بعد دوبارہ جنگ شروع بھی ہو جائے تو اسرائیل وامریکہ مل کر بھی اس جنگ کو جیت نہیں سکتے،کیوں کہ اس مرتبہ عرب دنیا یا فلسطین میں کسی بڑے غدار کو تلاش کرنے میں امریکہ ناکام رہا ہے۔عام طور پر اہل مغرب دو ملکوں یا دو جماعتوں میں نا اتفاقی پیدا کر کے محاذ جنگ پر کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں۔اس بار نہ عرب ممالک کو آپس میں لڑایا جا سکا،نہ ہی فلسطین میں حماس کے خلاف کسی غدار کو میدان میں لانے کی کوشش کامیاب ہوئی۔غزہ پٹی اور ویسٹ بینک میں اسرائیل نے سازش ضرور کی تھی کہ عام فلسطینیوں کو حماس کے خلاف کر دیا جائے،لیکن 75:سال سے اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم وستم ڈھا رہا ہے،لہذا فلسطینی عوام حماس کے خلاف نہ ہو سکے۔اسرائیل چند فلسطینی شہریوں کو اپنا جاسوس بنانے میں ضرور کامیاب ہوا،لیکن حماس سے جب خود اسرائیل شکست کھا گیا تو کوئی غدار جماعت کیسے حماس سے جیت سکتی ہے۔
(3)موجودہ حالات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اب امریکہ رفتہ رفتہ مشرق وسطی سے اپنے فوجی اڈے ہٹا لے گا اور مشرق وسطی میں ایران سپر پاور کی حیثیت اختیار کر لے گا۔اسرائیل ذلت وخواری کے ساتھ موجود رہے گا اور عرب ممالک کو آپس میں لڑانے کی کوشش کرتا رہے گا،کیوں کہ یہودی قوم کبھی اپنی غلط حرکتوں سے باز نہیں آ سکتی۔جیسے قوم جن میں شیاطین ہیں،اسی طرح بنی آدم میں یہودی قوم ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:29:نومبر 2023
کیا فلسطین آزاد ملک بن جائے گا؟
(1) فلسطینی تحریک"حماس"کی ناقابل یقین فتح یابی دیکھ کر ایسا ہی لگتا ہے کہ اب اقوام متحدہ فلسطین کو ایک مستقل ملک بنانے کی کوشش کرے۔دنیا میں طاقتور اور فاتح کی بات مانی جاتی ہے۔حالیہ جنگ میں اسرائیل کو بدترین شکست ہوئی ہے۔اسرائیل اور اس کے حمایتی اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھے ہیں۔امریکی فضاؤں سے بھی رونق غائب ہو چکی ہے۔حماس نے امریکی سامراجیت کو روند کر رکھ دیا ہے۔
اگر اسرائیل کو شکست نہ ہوتی تو وہ ہرگز جنگ بندی نہیں کرتا۔ یہودی دنیا کی وہ بدترین قوم ہے کہ اسے فتح یابی کی ایک فی صد بھی امید ہوتی تو اسرائیل ہرگز جنگ بندی نہیں کرتا۔
عرب اسرائیل جنگ:1967 میں کامیابی کے بعد اسرائیل خود کو مشرق وسطی کا سب سے طاقتور ملک اور اپنے آپ کو ناقابل تسخیر سمجھتا رہا ہے۔حماس سے بدترین شکست کے بعد امریکہ بھی نرم پڑ چکا ہے۔
اقوام متحدہ میں پانچ ممالک مستقل ارکان ہیں جن کو ویٹو پاور حاصل ہے۔ان پانچ ممالک میں امریکہ بھی شامل ہے۔امریکہ ہمیشہ فلسطین کو مستقل ملک بنانے کی مخالفت کرتا رہا اور ویٹو پاور کا استعمال کرتا رہا ہے۔اب رائے عامہ کے دباؤ میں امریکہ بھی ٹو نیشن تھیوری کی بظاہر حمایت کر رہا ہے،لیکن امریکہ کا ظاہر وباطن یکساں نظر نہیں آتا۔
(2)فی الحال جنگ بندی ہو چکی ہے۔اگر جنگ بندی کے بعد دوبارہ جنگ شروع بھی ہو جائے تو اسرائیل وامریکہ مل کر بھی اس جنگ کو جیت نہیں سکتے،کیوں کہ اس مرتبہ عرب دنیا یا فلسطین میں کسی بڑے غدار کو تلاش کرنے میں امریکہ ناکام رہا ہے۔عام طور پر اہل مغرب دو ملکوں یا دو جماعتوں میں نا اتفاقی پیدا کر کے محاذ جنگ پر کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں۔اس بار نہ عرب ممالک کو آپس میں لڑایا جا سکا،نہ ہی فلسطین میں حماس کے خلاف کسی غدار کو میدان میں لانے کی کوشش کامیاب ہوئی۔غزہ پٹی اور ویسٹ بینک میں اسرائیل نے سازش ضرور کی تھی کہ عام فلسطینیوں کو حماس کے خلاف کر دیا جائے،لیکن 75:سال سے اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم وستم ڈھا رہا ہے،لہذا فلسطینی عوام حماس کے خلاف نہ ہو سکے۔اسرائیل چند فلسطینی شہریوں کو اپنا جاسوس بنانے میں ضرور کامیاب ہوا،لیکن حماس سے جب خود اسرائیل شکست کھا گیا تو کوئی غدار جماعت کیسے حماس سے جیت سکتی ہے۔
(3)موجودہ حالات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اب امریکہ رفتہ رفتہ مشرق وسطی سے اپنے فوجی اڈے ہٹا لے گا اور مشرق وسطی میں ایران سپر پاور کی حیثیت اختیار کر لے گا۔اسرائیل ذلت وخواری کے ساتھ موجود رہے گا اور عرب ممالک کو آپس میں لڑانے کی کوشش کرتا رہے گا،کیوں کہ یہودی قوم کبھی اپنی غلط حرکتوں سے باز نہیں آ سکتی۔جیسے قوم جن میں شیاطین ہیں،اسی طرح بنی آدم میں یہودی قوم ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:29:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
اسپین،اسرائیل اور اسلامو فوبیا
(1)اگر بفضل الہی فلسطین کو فتح یابی نصیب ہو گئی اور فلسطین ایک آزاد ملک بن گیا تو دنیا بھر میں مسلمانوں پر ظلم وجبر کم ہونے کی امید ہے۔بھارت میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم بھی کم ہونے کی امید ہے۔
دراصل اسلامو فوبیا پھیلانے میں یہودی سب سے آگے ہیں۔یورپ وامریکہ کے نصاری کو بھی یہودیوں نے اپنے ساتھ کر لیا ہے۔اسی طرح دنیا کے دیگر ممالک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں یہودی سر فہرست ہے۔2014 میں بھارت میں بھاجپا کی حکومت قائم ہوئی۔اس کے بعد بھارت واسرائیل کے درمیان قربت بڑھتی گئی اور بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کے جدید طریقے اپنائے جانے لگے۔چند سالوں سے بھاجپا کی ریاستی حکومتیں مسلمانوں پر کوئی الزام عائد کرتی ہیں اور پھر ان کے گھروں کو بلڈوزر سے مسمار کر دیا جاتا ہے۔مساجد ومدارس کو غیر قانونی بتا کر توڑ دیا جاتا ہے۔ماب لنچنگ کا حادثہ بھی مسلسل پیش آتا رہتا ہے۔
(2)آر ایس ایس کا قیام 1925 میں ہوا۔غالبا1930 میں بھارت کے متعصب ہنود کا ایک قافلہ اسپین بھیجا گیا تھا،تاکہ معلوم کیا جائے کہ کس طرح اسپین سے مسلمانوں کا نام ونشان مٹایا گیا تھا۔
اسرائیل کا قیام 1948 میں ہوا تھا۔بھارت میں طویل مدت تک کانگریس کی حکومت قائم رہی۔اس کے بعد اکثر مخلوط حکومتیں رہیں۔2019 کے لوک سبھا الیکشن میں بھاجپا کو اکثریت ملی۔بھاجپائی حکومت اسرائیل سے تعلقات بڑھانے لگی،حالاں کہ بھارتی حکومت ہمیشہ فلسطین کی حمایت کرتی رہی ہے اور اسرائیل سے بھارت کے تعلقات نہ تھے۔
جس طرح اسرائیل نے فلسطینی مسلمانوں کو حیوانوں سے بھی بدتر درجہ دے رکھا ہے۔مسلسل 75 سالوں سے فلسطینیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جا رہا ہے،تاکہ فلسطینی مسلمان فلسطین چھوڑ کر بھاگ جائیں۔چند سالوں سے یہودیوں کے جابرانہ طرز عمل کو بھارت کے متعصب ہنود اور بھاجپائی لوگ اپنانے لگے۔مسلمانوں کے خلاف سخت نفرت پھیلائی جانے لگی اور ظلم وجبر کے نئے نئے طریقے اختیار کئے جانے لگے۔
فلسطین واسرائیل کی حالیہ جنگ سے متعلق بھارت کے گودی میڈیا نے بہت سے جھوٹ پھیلائے۔حالیہ جنگ میں اسرائیل بدترین شکست سے دو چار ہوا ہے،لیکن گودی میڈیا یہودیوں کو فاتح کی حیثیت سے پیش کر رہا ہے۔در اصل یہ سب اسلام دشمنی کا نتیجہ ہے۔
بھارت کی مرکزی حکومت نے ابتدائی مرحلہ میں اسرائیل کی حمایت کی،پھر ملک کی خارجہ پالیسی کے سبب فلسطین کی حمایت کرنے لگی،کیوں کہ بھارت ہمیشہ فلسطین کا حامی رہا ہے۔
فلسطین کی فتح یابی کا معنی یہ ہے کہ مشرق وسطی میں ایران کا اثر ورسوخ بڑھے گا اور امریکہ کو مشرق وسطی سے رخصت ہونا پڑے گا۔یہ سب کچھ دیکھ کر بھارت کی مرکزی حکومت ایران سے تعلقات کو مزید مضبوط کر رہی ہے۔چند دنوں قبل بھارتی وزارت خارجہ کے ایک افسر کو ایران بھیجا گیا تھا۔
ابھی جنگ بندی ہے اور جنگ بندی کی مدت بڑھانے پر بھی بحث ہو رہی ہے،لیکن اسرائیل اپنی تاریخی شکست سے تلملا اٹھا ہے۔اسرائیل کو اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا ہے۔اگر اسرائیل دوبارہ جنگ شروع کرتا ہے تو اسے اپنا وجود بچانا مشکل ہو جائے گا۔
اقوام متحدہ میں فلسطین کو ایک آزاد ملک کا درجہ دینے سے متعلق بات چیت ہو رہی ہے۔اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں جن علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ان علاقوں کو چھوڑنے کی بات کی جا رہی ہے۔ان شاء اللہ تعالی چند ماہ میں سارا منظر نامہ واضح ہو جائے گا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:29:نومبر 2023
اسپین،اسرائیل اور اسلامو فوبیا
(1)اگر بفضل الہی فلسطین کو فتح یابی نصیب ہو گئی اور فلسطین ایک آزاد ملک بن گیا تو دنیا بھر میں مسلمانوں پر ظلم وجبر کم ہونے کی امید ہے۔بھارت میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم بھی کم ہونے کی امید ہے۔
دراصل اسلامو فوبیا پھیلانے میں یہودی سب سے آگے ہیں۔یورپ وامریکہ کے نصاری کو بھی یہودیوں نے اپنے ساتھ کر لیا ہے۔اسی طرح دنیا کے دیگر ممالک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں یہودی سر فہرست ہے۔2014 میں بھارت میں بھاجپا کی حکومت قائم ہوئی۔اس کے بعد بھارت واسرائیل کے درمیان قربت بڑھتی گئی اور بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کے جدید طریقے اپنائے جانے لگے۔چند سالوں سے بھاجپا کی ریاستی حکومتیں مسلمانوں پر کوئی الزام عائد کرتی ہیں اور پھر ان کے گھروں کو بلڈوزر سے مسمار کر دیا جاتا ہے۔مساجد ومدارس کو غیر قانونی بتا کر توڑ دیا جاتا ہے۔ماب لنچنگ کا حادثہ بھی مسلسل پیش آتا رہتا ہے۔
(2)آر ایس ایس کا قیام 1925 میں ہوا۔غالبا1930 میں بھارت کے متعصب ہنود کا ایک قافلہ اسپین بھیجا گیا تھا،تاکہ معلوم کیا جائے کہ کس طرح اسپین سے مسلمانوں کا نام ونشان مٹایا گیا تھا۔
اسرائیل کا قیام 1948 میں ہوا تھا۔بھارت میں طویل مدت تک کانگریس کی حکومت قائم رہی۔اس کے بعد اکثر مخلوط حکومتیں رہیں۔2019 کے لوک سبھا الیکشن میں بھاجپا کو اکثریت ملی۔بھاجپائی حکومت اسرائیل سے تعلقات بڑھانے لگی،حالاں کہ بھارتی حکومت ہمیشہ فلسطین کی حمایت کرتی رہی ہے اور اسرائیل سے بھارت کے تعلقات نہ تھے۔
جس طرح اسرائیل نے فلسطینی مسلمانوں کو حیوانوں سے بھی بدتر درجہ دے رکھا ہے۔مسلسل 75 سالوں سے فلسطینیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جا رہا ہے،تاکہ فلسطینی مسلمان فلسطین چھوڑ کر بھاگ جائیں۔چند سالوں سے یہودیوں کے جابرانہ طرز عمل کو بھارت کے متعصب ہنود اور بھاجپائی لوگ اپنانے لگے۔مسلمانوں کے خلاف سخت نفرت پھیلائی جانے لگی اور ظلم وجبر کے نئے نئے طریقے اختیار کئے جانے لگے۔
فلسطین واسرائیل کی حالیہ جنگ سے متعلق بھارت کے گودی میڈیا نے بہت سے جھوٹ پھیلائے۔حالیہ جنگ میں اسرائیل بدترین شکست سے دو چار ہوا ہے،لیکن گودی میڈیا یہودیوں کو فاتح کی حیثیت سے پیش کر رہا ہے۔در اصل یہ سب اسلام دشمنی کا نتیجہ ہے۔
بھارت کی مرکزی حکومت نے ابتدائی مرحلہ میں اسرائیل کی حمایت کی،پھر ملک کی خارجہ پالیسی کے سبب فلسطین کی حمایت کرنے لگی،کیوں کہ بھارت ہمیشہ فلسطین کا حامی رہا ہے۔
فلسطین کی فتح یابی کا معنی یہ ہے کہ مشرق وسطی میں ایران کا اثر ورسوخ بڑھے گا اور امریکہ کو مشرق وسطی سے رخصت ہونا پڑے گا۔یہ سب کچھ دیکھ کر بھارت کی مرکزی حکومت ایران سے تعلقات کو مزید مضبوط کر رہی ہے۔چند دنوں قبل بھارتی وزارت خارجہ کے ایک افسر کو ایران بھیجا گیا تھا۔
ابھی جنگ بندی ہے اور جنگ بندی کی مدت بڑھانے پر بھی بحث ہو رہی ہے،لیکن اسرائیل اپنی تاریخی شکست سے تلملا اٹھا ہے۔اسرائیل کو اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا ہے۔اگر اسرائیل دوبارہ جنگ شروع کرتا ہے تو اسے اپنا وجود بچانا مشکل ہو جائے گا۔
اقوام متحدہ میں فلسطین کو ایک آزاد ملک کا درجہ دینے سے متعلق بات چیت ہو رہی ہے۔اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں جن علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ان علاقوں کو چھوڑنے کی بات کی جا رہی ہے۔ان شاء اللہ تعالی چند ماہ میں سارا منظر نامہ واضح ہو جائے گا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:29:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
دفاع کی برکت اور ضرورت واہمیت
فلسطینی مسلمانوں پر1948 سے یہود ونصاری ظلم وستم ڈھاتے رہے ہیں۔فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔وہ مسلسل مزاحمت ودفاع کرتے رہے ہیں،لیکن اس بار فلسطینی مسلمانوں نے ایسی جرات و بہادری دکھائی کہ مشرق وسطی کا سپر پاور اس کے سامنے بھیگی بلی بنا بیٹھا ہے۔ابھی اسرائیل جو دھمکیاں دے رہا ہے،وہ دراصل گیدڑ بھبکی ہے۔
اسرائیلی فوجی حماس سے زمینی جنگ جیت نہیں سکتے اور اسرائیل ہوائی حملے کر کے فلسطینیوں کو ضرور تباہ وبرباد کر سکتا ہے،لیکن وہ خود بھی بچ نہیں پائے گا حماس بھی راکٹوں اور میزائلوں سے اسرائیلی شہروں پر حملہ کرتا ہے اور جس طرح امریکہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے،اسی طرح عرب ملیشیا (غیر سرکاری فوجی گروپس)حماس کے ساتھ کھڑے ہیں۔اگر امریکہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا ہے تو دنیا کا کوئی ملیشیا بھی کسی کو خاطر میں نہیں لاتا ہے۔ان کے لئے
امریکہ اور غیر امریکا سب یکساں ہے۔
عہد حاضر میں دنیا میں جتنے بھی ملیشیا ہیں،وہ ملکی یا عالمی قوانین کو نہیں مانتے ہیں،بلکہ دنیا میں بہت سے قوانین ملیشیا کے کہنے پر بنائے گئے ہیں اور ملکوں کو ان ملیشیا کے سامنے جھکنا پڑا ہے۔دستور ہند میں بھی متعدد قوانین آسام،ناگالینڈ ودیگر ریاستوں کے ملیشیا کے کہنے پر بنائے گئے ہیں۔
حماس کوئی ملیشیا نہیں،بلکہ غزہ پٹی کی حکمراں پارٹی ہے،لیکن عرب ممالک کے ملیشیا جماس کے ساتھ ہیں۔جب حماس نے سخت دفاعی پوزیشن اختیار کی تو دنیا کے لوگ اس کے ساتھ ہو گئے اور اقوام متحدہ میں بھی فلسطین کی حمایت میں آوازیں بلند ہونے لگیں،ورنہ فلسطین کے لوگ 75 سالوں سے ظلم وجبر کے شکار ہیں۔دنیا میں نہ کبھی فلسطین کی حمایت میں اتنے مظاہرے ہوئے،نہ اقوام متحدہ میں اتنی قوت کے ساتھ فلسطین کی حمایت میں بحث ہو سکی تھی۔
آج بھی دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں پر ظلم وجبر ہو رہا ہے،لیکن وہ خود دفاعی پوزیشن اختیار نہ کر سکے تو دنیا کے لوگ بھی ان کے حق میں آواز بلند نہیں کرتے۔چند دنوں قبل مسلم ممالک کے سربراہان وذمہ داران چین گئے تھے،تاکہ فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے ظلم وجبر کو ختم کیا جا سکے۔چین اس واسطے اقدام کے لئے راضی بھی ہو گیا۔دوسری جانب خود چینی حکومت اپنے ملک میں آباد مسلمانوں پر مسلسل ظلم وستم ڈھاتی رہتی ہے۔
چینی مسلمان اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا مضبوط دفاع نہیں کرتے،لہذا دنیا کے لوگ چینی مسلمانوں سے متعلق کچھ نہیں بولتے۔
دنیاوی قوانین میں صرف سلف ڈیفنس کا قانون موجود ہے۔شرعی قوانین میں سلف ڈیفنس کے ساتھ ہجرت کا قانون بھی موجود ہے۔جہاں کے مسلمان اپنا ڈیفنس نہ کر سکیں،ان کے لئے ہجرت کی صورت موجود ہے۔مکہ معظمہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور مکی صحابہ کرام کا آبائی وطن تھا۔مکہ مکرمہ میں ہی کعبہ مقدسہ ہے جو مسلمانوں کا قبلہ ہے،لیکن حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو مکہ معظمہ سے ہجرت کا حکم دیا گیا۔ایسا حکم نہیں کہ دفاع کی قوت نہ ہو تو بھی اسی مقام پر ذلت وخواری کے ساتھ زندگی گزارتے رہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:30:نومبر 2023
دفاع کی برکت اور ضرورت واہمیت
فلسطینی مسلمانوں پر1948 سے یہود ونصاری ظلم وستم ڈھاتے رہے ہیں۔فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔وہ مسلسل مزاحمت ودفاع کرتے رہے ہیں،لیکن اس بار فلسطینی مسلمانوں نے ایسی جرات و بہادری دکھائی کہ مشرق وسطی کا سپر پاور اس کے سامنے بھیگی بلی بنا بیٹھا ہے۔ابھی اسرائیل جو دھمکیاں دے رہا ہے،وہ دراصل گیدڑ بھبکی ہے۔
اسرائیلی فوجی حماس سے زمینی جنگ جیت نہیں سکتے اور اسرائیل ہوائی حملے کر کے فلسطینیوں کو ضرور تباہ وبرباد کر سکتا ہے،لیکن وہ خود بھی بچ نہیں پائے گا حماس بھی راکٹوں اور میزائلوں سے اسرائیلی شہروں پر حملہ کرتا ہے اور جس طرح امریکہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے،اسی طرح عرب ملیشیا (غیر سرکاری فوجی گروپس)حماس کے ساتھ کھڑے ہیں۔اگر امریکہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا ہے تو دنیا کا کوئی ملیشیا بھی کسی کو خاطر میں نہیں لاتا ہے۔ان کے لئے
امریکہ اور غیر امریکا سب یکساں ہے۔
عہد حاضر میں دنیا میں جتنے بھی ملیشیا ہیں،وہ ملکی یا عالمی قوانین کو نہیں مانتے ہیں،بلکہ دنیا میں بہت سے قوانین ملیشیا کے کہنے پر بنائے گئے ہیں اور ملکوں کو ان ملیشیا کے سامنے جھکنا پڑا ہے۔دستور ہند میں بھی متعدد قوانین آسام،ناگالینڈ ودیگر ریاستوں کے ملیشیا کے کہنے پر بنائے گئے ہیں۔
حماس کوئی ملیشیا نہیں،بلکہ غزہ پٹی کی حکمراں پارٹی ہے،لیکن عرب ممالک کے ملیشیا جماس کے ساتھ ہیں۔جب حماس نے سخت دفاعی پوزیشن اختیار کی تو دنیا کے لوگ اس کے ساتھ ہو گئے اور اقوام متحدہ میں بھی فلسطین کی حمایت میں آوازیں بلند ہونے لگیں،ورنہ فلسطین کے لوگ 75 سالوں سے ظلم وجبر کے شکار ہیں۔دنیا میں نہ کبھی فلسطین کی حمایت میں اتنے مظاہرے ہوئے،نہ اقوام متحدہ میں اتنی قوت کے ساتھ فلسطین کی حمایت میں بحث ہو سکی تھی۔
آج بھی دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں پر ظلم وجبر ہو رہا ہے،لیکن وہ خود دفاعی پوزیشن اختیار نہ کر سکے تو دنیا کے لوگ بھی ان کے حق میں آواز بلند نہیں کرتے۔چند دنوں قبل مسلم ممالک کے سربراہان وذمہ داران چین گئے تھے،تاکہ فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے ظلم وجبر کو ختم کیا جا سکے۔چین اس واسطے اقدام کے لئے راضی بھی ہو گیا۔دوسری جانب خود چینی حکومت اپنے ملک میں آباد مسلمانوں پر مسلسل ظلم وستم ڈھاتی رہتی ہے۔
چینی مسلمان اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا مضبوط دفاع نہیں کرتے،لہذا دنیا کے لوگ چینی مسلمانوں سے متعلق کچھ نہیں بولتے۔
دنیاوی قوانین میں صرف سلف ڈیفنس کا قانون موجود ہے۔شرعی قوانین میں سلف ڈیفنس کے ساتھ ہجرت کا قانون بھی موجود ہے۔جہاں کے مسلمان اپنا ڈیفنس نہ کر سکیں،ان کے لئے ہجرت کی صورت موجود ہے۔مکہ معظمہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور مکی صحابہ کرام کا آبائی وطن تھا۔مکہ مکرمہ میں ہی کعبہ مقدسہ ہے جو مسلمانوں کا قبلہ ہے،لیکن حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو مکہ معظمہ سے ہجرت کا حکم دیا گیا۔ایسا حکم نہیں کہ دفاع کی قوت نہ ہو تو بھی اسی مقام پر ذلت وخواری کے ساتھ زندگی گزارتے رہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:30:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
نیو ورلڈ آرڈر اور یہود ونصاری
(1)نیو ورلڈ آرڈر کا خلاصہ یہ ہے کہ ساری دنیا پر یہودیوں کی حکومت قائم ہو،لیکن یہودی دنیا میں قلیل تعداد میں ہیں،لہذا نصاری کی ذہن سازی کی گئی اور یورپ وامریکہ میں یہودیوں نے نصاری کے ساتھ مل کر متعدد تنظیمیں قائم کی ہیں،تاکہ بالواسطہ ساری دنیا پر یہودیوں کی حکمرانی قائم ہو سکے۔
(2)ساری دنیا میں یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ یہودی بہت زیادہ تعلیم یافتہ اور بہت عقل مند ہوتے ہیں۔بہت مالدار ہوتے ہیں۔یہودیوں کو ٹیکنالوجی کے میدان میں سب سے بالاتر بتانے کی کوشش کی گئی،حالاں کہ فلسطینی مسلمان جو اسرائیل کی جانب سے پچھتر سال سے ظلم وجبر اور مختلف قسم کی پابندیوں میں گھرے ہوئے ہیں۔
ان مظلوم وکمزور فلسطینی نوجوانوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو اسرائیل کے آئرن ڈوم نظام کو ہیک کر لیتے ہیں۔چند دنوں قبل اسرائیل کی ایمرجنسی سروس کو ہیک کر لیا گیا۔فلسطینیوں نے ایسے میزائل تیار کیے کہ اسرائیل کے مشہور عالم مرکاوا ٹینک کو تباہ وبرباد کر دیا۔383 ٹینک میں سے صرف گیارہ ٹینک سلامت رہے۔اسرائیل کی وزارت خارجہ کی معلومات ہیک کر لی گئیں۔اسرائیل کے انٹلی جنس محکمہ موساد کو بے اثر کر دیا گیا۔ڈیڑھ ماہ تک غزہ پٹی میں اسرائیل کی فوج گشت لگاتی رہی،لیکن نہ اسرائیلی فوج حماس پر قابو پا سکی،نہ ہی حماس سے مقابلہ کر سکی،نہ حماس کے سرنگوں کو تباہ کر سکی،بلکہ دنیا میں سب سے تربیت یافتہ اور بہادر مانی جانے والی اسرائیلی فوج حماس سے شکست کھا کر بھاگ کھڑی ہوئی۔اسرائیل میں ان بھگوڑے فوجیوں پر مقدمے چلائے جا رہے ہیں۔بہت سے فوجیوں کو حماس نے قیدی بنا لیا ہے۔انہیں قیدی سپاہیوں کے سبب حماس کا مطالبہ ہے کہ سارے فلسطینی قیدیوں اسرائیل کے جیلوں سے رہا کیا جائے۔ابھی اسرائیل نے اس مطالبہ کو قبول نہیں کیا ہے۔
عرب ممالک میں بے شمار مسلمان ہیں جو یہودیوں سے زیادہ مالدار ہیں۔جھوٹ پھیلا کر اور ڈھکوسلا بازی کر کے یہودیوں کو بالاتر قوم بتانے کی کوشش کی گئی۔
اگر یہ کہا جائے کہ فریب بازی،ظلم وجبر،کذب بیانی اور شیطانی میں یہودی قوم سب سے اوپر ہے تو یہ ضرور سچ ہے۔قران مقدس میں یہودیوں کی بہت سی شرارتوں کا ذکر ہے۔یہودیوں کو اللہ تعالی نے بہت سی فضیلت عطا فرمائی تھی،لیکن ان کی شیطانی کے سبب وہ فضیلتیں سلب کر لی گئیں اور یہ دنیا میں اللہ تعالی کی غضب یافتہ قوم ہے۔
ارشاد الہی ہے:(
ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْكَنَةُؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّؕ-ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ(سورہ آل عمران:آیت 112)
ترجمہ:
ان پر جمادی گئی خواری (ذلت)جہاں ہوں امان نہ پائیں مگر اللہ کی ڈور اور آدمیوں کی ڈور سے اور غضبِ الٰہی کے سزا وار ہوئے اور اُن پر جمادی گئی محتاجی یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے اور پیغمبروں کو ناحق شہیدیہ اس لیے کہ نافرمان بردار اور سرکش تھے۔(کنز الایمان)
{ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ: ان پر ذلت مسلط کردی گئی۔} اس آیت میں بیان فرمایا گیا کہ یہودیوں پر ذلت اور محتاجی لازم کر دی گئی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس آیت میں استثناء بھی ہے’’اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ‘‘سوائے اس کے کہ انہیں اللہ کی طرف سے سہارا مل جائے یا لوگوں کی طرف سے سہارا مل جائے۔ اِستِثناء کے آنے سے معنی یہ بن گیا کہ یہودی ذلت و خواری سے کسی صورت اورکسی طرح بچ نہیں سکتے مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رسی کے ساتھ اور لوگوں کی رسی کے ساتھ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رسی کے ساتھ یوں کہ یہودی مسلمان ہو جائیں تو ذلت وخواری سے بچ سکتے ہیں اور حقیقی عزت حاصل کر سکتے ہیں اور لوگوں کی رسی کی صورت یہ کہ لوگوں سے عہد و پیمان کریں،اسلامی حکومت کے ذمی بن جائیں یا کافر حکومتوں سے بھیک مانگیں اور تعاون حاصل کریں تو دنیاوی عزت پا سکتے ہیں اور ایسی صورت میں ان کی سلطنت بھی بن سکتی ہے۔ چند سالوں قبل اگرچہ اسرائیل میں مغربی ممالک کی مدد سے یہودی سلطنت وجود میں آ گئی ہے،لیکن اس حکومت کا قیام قرآنِ مقدس کی صداقت کے خلاف نہیں بلکہ قرآنِ کریم کی صداقت کی بڑی صاف اور واضح دلیل ہے۔قرآن مقدس میں استثنا موجود ہے:(وحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ)صدیوں سے ذلیل و خوار یہودیوں کو نصاری کی مدد سے ایک ملک مل گیا اور ان کی حکومت قائم ہو گئی۔
(3)یہود ونصاری نے دنیا بھر میں ایک ملک کو دوسرے ملک سے لڑایا۔اپنے ہتھیار فروخت کئے اور ان ملکوں پر بالواسطہ اپنی حکم رانی قائم کر لی۔
نیو ورلڈ آرڈر اور یہود ونصاری
(1)نیو ورلڈ آرڈر کا خلاصہ یہ ہے کہ ساری دنیا پر یہودیوں کی حکومت قائم ہو،لیکن یہودی دنیا میں قلیل تعداد میں ہیں،لہذا نصاری کی ذہن سازی کی گئی اور یورپ وامریکہ میں یہودیوں نے نصاری کے ساتھ مل کر متعدد تنظیمیں قائم کی ہیں،تاکہ بالواسطہ ساری دنیا پر یہودیوں کی حکمرانی قائم ہو سکے۔
(2)ساری دنیا میں یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ یہودی بہت زیادہ تعلیم یافتہ اور بہت عقل مند ہوتے ہیں۔بہت مالدار ہوتے ہیں۔یہودیوں کو ٹیکنالوجی کے میدان میں سب سے بالاتر بتانے کی کوشش کی گئی،حالاں کہ فلسطینی مسلمان جو اسرائیل کی جانب سے پچھتر سال سے ظلم وجبر اور مختلف قسم کی پابندیوں میں گھرے ہوئے ہیں۔
ان مظلوم وکمزور فلسطینی نوجوانوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو اسرائیل کے آئرن ڈوم نظام کو ہیک کر لیتے ہیں۔چند دنوں قبل اسرائیل کی ایمرجنسی سروس کو ہیک کر لیا گیا۔فلسطینیوں نے ایسے میزائل تیار کیے کہ اسرائیل کے مشہور عالم مرکاوا ٹینک کو تباہ وبرباد کر دیا۔383 ٹینک میں سے صرف گیارہ ٹینک سلامت رہے۔اسرائیل کی وزارت خارجہ کی معلومات ہیک کر لی گئیں۔اسرائیل کے انٹلی جنس محکمہ موساد کو بے اثر کر دیا گیا۔ڈیڑھ ماہ تک غزہ پٹی میں اسرائیل کی فوج گشت لگاتی رہی،لیکن نہ اسرائیلی فوج حماس پر قابو پا سکی،نہ ہی حماس سے مقابلہ کر سکی،نہ حماس کے سرنگوں کو تباہ کر سکی،بلکہ دنیا میں سب سے تربیت یافتہ اور بہادر مانی جانے والی اسرائیلی فوج حماس سے شکست کھا کر بھاگ کھڑی ہوئی۔اسرائیل میں ان بھگوڑے فوجیوں پر مقدمے چلائے جا رہے ہیں۔بہت سے فوجیوں کو حماس نے قیدی بنا لیا ہے۔انہیں قیدی سپاہیوں کے سبب حماس کا مطالبہ ہے کہ سارے فلسطینی قیدیوں اسرائیل کے جیلوں سے رہا کیا جائے۔ابھی اسرائیل نے اس مطالبہ کو قبول نہیں کیا ہے۔
عرب ممالک میں بے شمار مسلمان ہیں جو یہودیوں سے زیادہ مالدار ہیں۔جھوٹ پھیلا کر اور ڈھکوسلا بازی کر کے یہودیوں کو بالاتر قوم بتانے کی کوشش کی گئی۔
اگر یہ کہا جائے کہ فریب بازی،ظلم وجبر،کذب بیانی اور شیطانی میں یہودی قوم سب سے اوپر ہے تو یہ ضرور سچ ہے۔قران مقدس میں یہودیوں کی بہت سی شرارتوں کا ذکر ہے۔یہودیوں کو اللہ تعالی نے بہت سی فضیلت عطا فرمائی تھی،لیکن ان کی شیطانی کے سبب وہ فضیلتیں سلب کر لی گئیں اور یہ دنیا میں اللہ تعالی کی غضب یافتہ قوم ہے۔
ارشاد الہی ہے:(
ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْكَنَةُؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّؕ-ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ(سورہ آل عمران:آیت 112)
ترجمہ:
ان پر جمادی گئی خواری (ذلت)جہاں ہوں امان نہ پائیں مگر اللہ کی ڈور اور آدمیوں کی ڈور سے اور غضبِ الٰہی کے سزا وار ہوئے اور اُن پر جمادی گئی محتاجی یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے اور پیغمبروں کو ناحق شہیدیہ اس لیے کہ نافرمان بردار اور سرکش تھے۔(کنز الایمان)
{ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ: ان پر ذلت مسلط کردی گئی۔} اس آیت میں بیان فرمایا گیا کہ یہودیوں پر ذلت اور محتاجی لازم کر دی گئی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس آیت میں استثناء بھی ہے’’اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ‘‘سوائے اس کے کہ انہیں اللہ کی طرف سے سہارا مل جائے یا لوگوں کی طرف سے سہارا مل جائے۔ اِستِثناء کے آنے سے معنی یہ بن گیا کہ یہودی ذلت و خواری سے کسی صورت اورکسی طرح بچ نہیں سکتے مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رسی کے ساتھ اور لوگوں کی رسی کے ساتھ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رسی کے ساتھ یوں کہ یہودی مسلمان ہو جائیں تو ذلت وخواری سے بچ سکتے ہیں اور حقیقی عزت حاصل کر سکتے ہیں اور لوگوں کی رسی کی صورت یہ کہ لوگوں سے عہد و پیمان کریں،اسلامی حکومت کے ذمی بن جائیں یا کافر حکومتوں سے بھیک مانگیں اور تعاون حاصل کریں تو دنیاوی عزت پا سکتے ہیں اور ایسی صورت میں ان کی سلطنت بھی بن سکتی ہے۔ چند سالوں قبل اگرچہ اسرائیل میں مغربی ممالک کی مدد سے یہودی سلطنت وجود میں آ گئی ہے،لیکن اس حکومت کا قیام قرآنِ مقدس کی صداقت کے خلاف نہیں بلکہ قرآنِ کریم کی صداقت کی بڑی صاف اور واضح دلیل ہے۔قرآن مقدس میں استثنا موجود ہے:(وحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ)صدیوں سے ذلیل و خوار یہودیوں کو نصاری کی مدد سے ایک ملک مل گیا اور ان کی حکومت قائم ہو گئی۔
(3)یہود ونصاری نے دنیا بھر میں ایک ملک کو دوسرے ملک سے لڑایا۔اپنے ہتھیار فروخت کئے اور ان ملکوں پر بالواسطہ اپنی حکم رانی قائم کر لی۔
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
عرب ممالک کو بھی ایک دوسرے سے لڑایا گیا۔کبھی صدام حسین کا خوف دلایا گیا،کبھی ایران کا خوف دلایا گیا،کبھی شیعہ سنی کہہ کر ایک دوسرے کو لڑایا گیا۔عراق،شام،لیبیا،افغانستان کو تباہ وبرباد کر دیا گیا۔لاکھوں عوام کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
حالیہ فلسطین واسرائیل جنگ کے موقع پر بھی شیعہ و سنی کا اختلاف درمیان میں لانے کی کوشش کی گئی،لیکن ایران اور سعودی ساتھ مل گئے۔
غیروں کے مقابلے میں کلمہ گو طبقات کو متحد ہو کر مقابلہ آرائی کی اجازت ہے۔فلسطین میں بھی مختلف فرقوں کے لوگ ہوں گے،لیکن ساری دنیا کے مسلمان کلمہ گوئی کے نام پر فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔
(4)عرب ممالک نہ اپنی مضبوط فوج بنا سکے،نہ ہی محکمہ دفاع کو مضبوط کر سکے۔ایران پر بھی ہمیشہ پابندی لگی رہی،لیکن ایران نے ہتھیار بھی بنایا اور اپنی فوجی پوزیشن کو بھی مستحکم کیا۔آج بھی ایران پر پابندیاں عائد ہیں،لیکن ایران ہمیشہ امریکہ کو آنکھ دکھاتا رہا ہے۔وہ کبھی امریکہ کے سامنے جھکا نہیں ہے۔
ایران ایک شیعہ ملک ہے،لیکن سعودی ودیگر تمام عربی ممالک بھی خالص سنی نہیں ہیں۔جب اغیار حملہ آور ہوں تو کلمہ گو طبقات کو متحد ہو کر اغیار سے مقابلہ آرائی کی اجازت ہے۔اگر موجودہ منظر نامہ سے ایران کو غائب کر دیا جائے تو اکثر مسلم ممالک امریکہ کو جھک کر سلام کرنے والے اور امت مسلمہ کو یہود ونصاری کی غلامی میں ڈالنے والے ہیں۔
قرآن عظیم کا فرمان ہے:(فاستعدوا لہ ما استطعتم)
اپنی قوت بھر دشمن کے مقابلے کی تیاری رکھو،لیکن اکثر مسلم ممالک امریکہ یا روس کے دربار میں سلامی ٹھونکتے رہے۔
حسب ضرورت غیر مسلم ممالک سے مدد لینا بھی جائز ہے،لیکن اغیار پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔کون کب کدھر پلٹ جائے،کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے بھی بعض مواقع پر مدینہ منورہ کے یہود اور مشرکین عرب کے بعض قبیلوں سے معاہدہ فرمایا تھا۔تفصیلات فقہ وسیرت کی کتابوں میں دیکھ لی جائیں۔
(4)گرچہ چند دنوں کی جنگ بندی ہو چکی ہے اور اپنے عوام کے خوف سے مغربی ممالک بھی اعلانیہ طور پر اسرائیل کی حمایت میں نہیں ہیں،لیکن اندرون خانہ کی رپورٹ اطمینان بخش نہیں۔دوبارہ جنگ شروع ہو سکتی ہے،لہذا مسلمانوں کی فتح یابی کی دعائیں کی جائیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:30:نومبر 2023
حالیہ فلسطین واسرائیل جنگ کے موقع پر بھی شیعہ و سنی کا اختلاف درمیان میں لانے کی کوشش کی گئی،لیکن ایران اور سعودی ساتھ مل گئے۔
غیروں کے مقابلے میں کلمہ گو طبقات کو متحد ہو کر مقابلہ آرائی کی اجازت ہے۔فلسطین میں بھی مختلف فرقوں کے لوگ ہوں گے،لیکن ساری دنیا کے مسلمان کلمہ گوئی کے نام پر فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔
(4)عرب ممالک نہ اپنی مضبوط فوج بنا سکے،نہ ہی محکمہ دفاع کو مضبوط کر سکے۔ایران پر بھی ہمیشہ پابندی لگی رہی،لیکن ایران نے ہتھیار بھی بنایا اور اپنی فوجی پوزیشن کو بھی مستحکم کیا۔آج بھی ایران پر پابندیاں عائد ہیں،لیکن ایران ہمیشہ امریکہ کو آنکھ دکھاتا رہا ہے۔وہ کبھی امریکہ کے سامنے جھکا نہیں ہے۔
ایران ایک شیعہ ملک ہے،لیکن سعودی ودیگر تمام عربی ممالک بھی خالص سنی نہیں ہیں۔جب اغیار حملہ آور ہوں تو کلمہ گو طبقات کو متحد ہو کر اغیار سے مقابلہ آرائی کی اجازت ہے۔اگر موجودہ منظر نامہ سے ایران کو غائب کر دیا جائے تو اکثر مسلم ممالک امریکہ کو جھک کر سلام کرنے والے اور امت مسلمہ کو یہود ونصاری کی غلامی میں ڈالنے والے ہیں۔
قرآن عظیم کا فرمان ہے:(فاستعدوا لہ ما استطعتم)
اپنی قوت بھر دشمن کے مقابلے کی تیاری رکھو،لیکن اکثر مسلم ممالک امریکہ یا روس کے دربار میں سلامی ٹھونکتے رہے۔
حسب ضرورت غیر مسلم ممالک سے مدد لینا بھی جائز ہے،لیکن اغیار پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔کون کب کدھر پلٹ جائے،کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے بھی بعض مواقع پر مدینہ منورہ کے یہود اور مشرکین عرب کے بعض قبیلوں سے معاہدہ فرمایا تھا۔تفصیلات فقہ وسیرت کی کتابوں میں دیکھ لی جائیں۔
(4)گرچہ چند دنوں کی جنگ بندی ہو چکی ہے اور اپنے عوام کے خوف سے مغربی ممالک بھی اعلانیہ طور پر اسرائیل کی حمایت میں نہیں ہیں،لیکن اندرون خانہ کی رپورٹ اطمینان بخش نہیں۔دوبارہ جنگ شروع ہو سکتی ہے،لہذا مسلمانوں کی فتح یابی کی دعائیں کی جائیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:30:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
اسرائیل وامریکہ کی خفیہ پلاننگ
(1)مختلف میڈیائی رپورٹ کے مطابق غزہ کی زمین میں گیس اور تیل کا ذخیرہ وافر مقدار میں موجود ہے،لہذا امریکہ و اسرائیل نے یہ پلاننگ بنائی تھی کہ غزہ پر حملہ کیا جائے اور اس علاقہ میں آباد بیس لاکھ مسلمانوں کو آس پاس کے ملکوں میں منتقل ہونے پر مجبور کر دیا جائے۔
یہ خبر حماس کو معلوم تھی،لہذا اس نے اسرائیل کے حملہ سے پہلے ہی اسرائیل پر 7:اکتوبر کو حملہ کر دیا۔اسرائیل کے فوجی ٹھکانوں پر راکٹ داغے اور حملہ کے دوران ہی حماس کو معلوم ہوا کہ اسرائیلی علاقوں میں یہودیوں کا اجتماعی تہوار ہو رہا ہے تو بہت سے لوگوں کو قیدی بنا لیا،تاکہ اس کے بدلے اسرائیل کے جیلوں میں قید فلسطینیوں کو رہا کرا سکے۔
اسی دوران اسرائیل کے فوجی ہیلی کاپٹر نے حماس پر بم برسایا اور اس بمباری کے سبب بہت سے لوگ ہلاک ہوئے۔الغرض 7:اکتوبر کو اسی فی صد یہودی اسرائیلی فوج کے ہیلی کاپٹر حملوں سے ہلاک ہوئے،پھر حماس کے اسی حملہ کو بہانہ بنا کر اسرائیل نے غزہ پٹی پر بمباری شروع کر دی۔
(2)اس میں کوئی شک نہیں کہ زمینی جنگ میں حماس نے اسرائیل کو بدترین شکست دی ہے،لیکن اسرائیل جنگی جہازوں سے حملہ کر کے اب تک سولہ ہزار عام فلسطینیوں کو ہلاک کر چکا ہے۔قریبا سات ہزار فلسطینی لاپتہ ہیں۔بے شمار فلسطینی زخمی ہیں۔جنگ دوبارہ شروع ہو چکی ہے اور امریکہ درپردہ اسرائیل کی حمایت میں ہے۔
اسرائیل کے فضائی حملوں کو روکنے کا کوئی مضبوط ذریعہ حماس کے پاس نہیں ہے۔حماس بھی میزائلوں اور راکٹوں سے اسرائیلی شہروں پر حملے کر رہا ہے،لیکن اسرائیلی فضائیہ جس قدر تباہی مچا رہا ہے،حماس کے راکٹ ومیزائل اس قدر تباہی نہیں مچا سکتے،بلکہ امریکہ نے بھی فضائی بمباری کے ذریعہ ہی مختلف ملکوں کو تباہ کیا ہے۔
حماس نے اپنے شدید حملوں سے عالمی اقوام کو ضرور بیدار کر دیا ہے اور سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیا ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ کسی علاقہ پر قبضہ کے لئے اس مینی جنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔فضائی بمباری سے صرف تباہی لائی جا سکتی ہے،لیکن کسی علاقے پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔اس تناظر میں یہ بات ضرور وثوق واعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ غزہ پٹی پر قبضہ کر لینا اسرائیل وامریکہ کی قوت سے باہر ہے،لیکن اسرائیل فضائی حملوں سے بے شمار فلسطینی شہریوں کو ہلاک کرے گا۔
یہ بھی خبر ہے کہ دوبارہ جنگ شروع ہونے کے بعد امریکہ نے اسرائیل کو بہت سے ایسے خطرناک بم دئیے ہیں جن سے حماس کے سرنگوں کو تباہ کیا جا سکے،یعنی یہ امریکہ واسرائیل کی آخری کوشش ہے۔امریکہ نے اسرائیل کو چند دن کا موقع دیا ہے۔اسرائیل حماس سے جیت تو نہیں سکے گا،لیکن عام فلسطینیوں پر بمباری کر کے وہ عام فلسطینیوں کو حماس کا مخالف بنانے کی زبردست کوشش کر رہا ہے۔ان شاء اللہ تعالی اس سازش میں اسرائیل کامیاب نہیں ہو سکے گا،لیکن اسرائیل بہت سے فلسطینیوں کو ہلاک کر دے گا اور حماس کے سخت حملوں کے سبب اسرائیل بھی تباہی کا شکار ہو گا۔ممکن ہے کہ یہودی مہلوکین کی تعداد فلسطینیوں سے کم رہے،لیکن حماس کے سخت حملے اسرائیلی شہروں پر جاری ہیں۔
(3)اسرائیل کے حملوں کو دیکھ کر مصر اور جارڈن کی فوج ہائی الرٹ پر ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ممالک اسرائیل سے مقابلہ آرائی کریں گے،بلکہ مصر وجارڈن کی فوج فلسطینی مسلمانوں کو اپنے ملکوں میں داخل ہونے نہیں دے گی۔خواہ ان تمام فلسطینی مسلمانوں کو اسرائیل بمباری کر کے نیست ونابود کر ڈالے۔
مصر وجارڈن فلسطینی مسلمانوں کی کوئی مدد نہیں کر رہے ہیں،نہ ہی مدد کر سکتے ہیں،کیوں کہ یہ ممالک امریکہ کے زیر اثر ہیں۔
حزب اللہ سے بھی کافی مدد کی امید تھی،لیکن اب تک اس نے بھی کوئی بڑی کاروائی نہیں کی ہے۔حزب اللہ کی جانب سے چند حملے ضرور ہوئے ہیں،لیکن وہ ناکافی ہیں۔یمن کے حوثی اگر اسرائیل پر فضائی حملہ بھی کرتے ہیں تو امریکی بحری جہاز راستے ہی میں حوثیوں کے میزائل کو تباہ کر دیتا ہے۔الغرض یہ جنگ حماس کو ہی لڑنا ہے اور حماس کو ہی کلیدی کردار ادا کرنا ہے۔چند دنوں انتظار کیا جائے۔حماس بھی ایک طاقتور جماعت ہے اور میدان میں ڈٹا ہوا ہے۔اب خداوندی مدد ہی فلسطین کا سہارا ہے:(لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا)
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:02:دسمبر 2023
اسرائیل وامریکہ کی خفیہ پلاننگ
(1)مختلف میڈیائی رپورٹ کے مطابق غزہ کی زمین میں گیس اور تیل کا ذخیرہ وافر مقدار میں موجود ہے،لہذا امریکہ و اسرائیل نے یہ پلاننگ بنائی تھی کہ غزہ پر حملہ کیا جائے اور اس علاقہ میں آباد بیس لاکھ مسلمانوں کو آس پاس کے ملکوں میں منتقل ہونے پر مجبور کر دیا جائے۔
یہ خبر حماس کو معلوم تھی،لہذا اس نے اسرائیل کے حملہ سے پہلے ہی اسرائیل پر 7:اکتوبر کو حملہ کر دیا۔اسرائیل کے فوجی ٹھکانوں پر راکٹ داغے اور حملہ کے دوران ہی حماس کو معلوم ہوا کہ اسرائیلی علاقوں میں یہودیوں کا اجتماعی تہوار ہو رہا ہے تو بہت سے لوگوں کو قیدی بنا لیا،تاکہ اس کے بدلے اسرائیل کے جیلوں میں قید فلسطینیوں کو رہا کرا سکے۔
اسی دوران اسرائیل کے فوجی ہیلی کاپٹر نے حماس پر بم برسایا اور اس بمباری کے سبب بہت سے لوگ ہلاک ہوئے۔الغرض 7:اکتوبر کو اسی فی صد یہودی اسرائیلی فوج کے ہیلی کاپٹر حملوں سے ہلاک ہوئے،پھر حماس کے اسی حملہ کو بہانہ بنا کر اسرائیل نے غزہ پٹی پر بمباری شروع کر دی۔
(2)اس میں کوئی شک نہیں کہ زمینی جنگ میں حماس نے اسرائیل کو بدترین شکست دی ہے،لیکن اسرائیل جنگی جہازوں سے حملہ کر کے اب تک سولہ ہزار عام فلسطینیوں کو ہلاک کر چکا ہے۔قریبا سات ہزار فلسطینی لاپتہ ہیں۔بے شمار فلسطینی زخمی ہیں۔جنگ دوبارہ شروع ہو چکی ہے اور امریکہ درپردہ اسرائیل کی حمایت میں ہے۔
اسرائیل کے فضائی حملوں کو روکنے کا کوئی مضبوط ذریعہ حماس کے پاس نہیں ہے۔حماس بھی میزائلوں اور راکٹوں سے اسرائیلی شہروں پر حملے کر رہا ہے،لیکن اسرائیلی فضائیہ جس قدر تباہی مچا رہا ہے،حماس کے راکٹ ومیزائل اس قدر تباہی نہیں مچا سکتے،بلکہ امریکہ نے بھی فضائی بمباری کے ذریعہ ہی مختلف ملکوں کو تباہ کیا ہے۔
حماس نے اپنے شدید حملوں سے عالمی اقوام کو ضرور بیدار کر دیا ہے اور سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیا ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ کسی علاقہ پر قبضہ کے لئے اس مینی جنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔فضائی بمباری سے صرف تباہی لائی جا سکتی ہے،لیکن کسی علاقے پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔اس تناظر میں یہ بات ضرور وثوق واعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ غزہ پٹی پر قبضہ کر لینا اسرائیل وامریکہ کی قوت سے باہر ہے،لیکن اسرائیل فضائی حملوں سے بے شمار فلسطینی شہریوں کو ہلاک کرے گا۔
یہ بھی خبر ہے کہ دوبارہ جنگ شروع ہونے کے بعد امریکہ نے اسرائیل کو بہت سے ایسے خطرناک بم دئیے ہیں جن سے حماس کے سرنگوں کو تباہ کیا جا سکے،یعنی یہ امریکہ واسرائیل کی آخری کوشش ہے۔امریکہ نے اسرائیل کو چند دن کا موقع دیا ہے۔اسرائیل حماس سے جیت تو نہیں سکے گا،لیکن عام فلسطینیوں پر بمباری کر کے وہ عام فلسطینیوں کو حماس کا مخالف بنانے کی زبردست کوشش کر رہا ہے۔ان شاء اللہ تعالی اس سازش میں اسرائیل کامیاب نہیں ہو سکے گا،لیکن اسرائیل بہت سے فلسطینیوں کو ہلاک کر دے گا اور حماس کے سخت حملوں کے سبب اسرائیل بھی تباہی کا شکار ہو گا۔ممکن ہے کہ یہودی مہلوکین کی تعداد فلسطینیوں سے کم رہے،لیکن حماس کے سخت حملے اسرائیلی شہروں پر جاری ہیں۔
(3)اسرائیل کے حملوں کو دیکھ کر مصر اور جارڈن کی فوج ہائی الرٹ پر ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ممالک اسرائیل سے مقابلہ آرائی کریں گے،بلکہ مصر وجارڈن کی فوج فلسطینی مسلمانوں کو اپنے ملکوں میں داخل ہونے نہیں دے گی۔خواہ ان تمام فلسطینی مسلمانوں کو اسرائیل بمباری کر کے نیست ونابود کر ڈالے۔
مصر وجارڈن فلسطینی مسلمانوں کی کوئی مدد نہیں کر رہے ہیں،نہ ہی مدد کر سکتے ہیں،کیوں کہ یہ ممالک امریکہ کے زیر اثر ہیں۔
حزب اللہ سے بھی کافی مدد کی امید تھی،لیکن اب تک اس نے بھی کوئی بڑی کاروائی نہیں کی ہے۔حزب اللہ کی جانب سے چند حملے ضرور ہوئے ہیں،لیکن وہ ناکافی ہیں۔یمن کے حوثی اگر اسرائیل پر فضائی حملہ بھی کرتے ہیں تو امریکی بحری جہاز راستے ہی میں حوثیوں کے میزائل کو تباہ کر دیتا ہے۔الغرض یہ جنگ حماس کو ہی لڑنا ہے اور حماس کو ہی کلیدی کردار ادا کرنا ہے۔چند دنوں انتظار کیا جائے۔حماس بھی ایک طاقتور جماعت ہے اور میدان میں ڈٹا ہوا ہے۔اب خداوندی مدد ہی فلسطین کا سہارا ہے:(لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا)
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:02:دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
نہ آئےامام مہدی،نہ نکلا دجال
میدان میں حماس اور اسرائیل
(1)سات روزہ جنگ بندی کے بعد آج سے اسرائیل نے غزہ پٹی پر بمباری شروع کر دی ہے۔جنگ بندی کی مدت میں اسرائیل نے صرف بمباری بند کی تھی،لیکن اسرائیلی فوج غزہ اور ویسٹ بینک میں فلسطینیوں کو مسلسل ہلاک کرتی رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آج کی بمباری میں سو سے زائد عام فلسطینی مسلمان ہلاک ہو چکے ہیں اور قریبا سو اسرائیلی فوجی بھی مارے جا چکے ہیں۔مختلف شہروں میں حماس نے بھی راکٹ ومیزائل داغے ہیں۔ان حملوں میں بھی کچھ یہودی ہلاک ہوئے ہوں گے،لیکن اسرائیلی میڈیا اپنی ہلاکت کی خبر عام نہیں کرتا،تاکہ دنیا اسے فاتح سمجھے،لیکن ساری دنیا میں اسرائیل کی شکست کی داستان پھیل چکی ہے۔
(2)چوں کہ دو ملکی نظریہ(Two Nation Theory)اقوام متحدہ میں زیر بحث ہے،لہذا اسرائیل اور اس کے حامی ممالک چاہتے ہیں کہ حماس کا نام ونشان مٹا دیا جائے،تاکہ فلسطین میں اسرائیل کی حمایت کرنے والی حکومت قائم ہو،تاکہ مشرق وسطی میں مغربی ممالک اور اسرائیل کے اثرات قائم رہیں۔
(3)دوسری جنگ عظیم کے بعد1949 میں دنیا دو خیموں میں تقسیم ہو چکی ہے۔دنیا کے اکثر ممالک پر امریکہ اور مغربی ممالک کے اثرات ہیں اور بعض ممالک روس کے زیر اثر ہیں۔امریکہ نے اپنے حامی ممالک کی ایک تنظیم بنائی ہے جو نیٹو(NATO)کے نام سے مشہور ہے۔فی الوقت قریبا تیس ممالک اس کے ممبر ہیں۔
(4)دنیا کے بہت سے ممالک امریکی اثرات سے خود کو آزاد کرنے کی کوشش میں ہیں۔مشرق وسطی اور عرب کے بہت سے ممالک بھی امریکہ سے آزاد ہونا چاہتے ہیں،لیکن بہت سے عرب ممالک بھی امریکہ کے حامی ہیں۔
(5)ذو الفقار علی بھٹو(پاکستان)،شاہ فیصل(سعودی عرب)ودیگر مسلم لیڈروں نے مسلم ممالک کا ایک اتحاد بنانا چاہا تھا،لیکن امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے(CIA)نے اسے کامیاب ہونے نہیں دیا۔بعض ممالک میں ان لیڈروں کی حکومت گرا دی گئی اور بعض ممالک کے لیڈروں کو قتل کروا دیا گیا۔اس کے بعد مسلم حکم راں امریکہ کے غلام بنے رہتے ہیں۔
ایران اگر امریکہ کو آنکھیں دکھاتا رہتا ہے تو اس کی پشت پر روس ہے اور خود ایران نے ہتھیار بنا لیا ہے اور اپنی فوجی پوزیشن مستحکم کر لیا ہے۔ترکی 1952سے نیٹو(NATO)کا ممبر ہے۔وہ مسلمانوں کی حمایت میں بیان بازی کر سکتا ہے اور حسب ضرورت مالی مدد کر سکتا ہے،لیکن کسی مسلم ملک پر آفت آئے تو وہ فوجی کاروائی نہیں کر سکتا ہے۔
اسلامی ممالک میں روس وایران کے اثرات بڑھنے کی امید ہے۔ابتدائی مرحلہ میں روس مسلمانوں پر زیادہ ظلم نہیں کرے گا،کیوں کہ اسے اپنے اثرات قائم کرنے ہیں۔بعد میں وہی ہو گا جو امریکہ اور مغربی ممالک کرتے رہے ہیں۔
مسلم ممالک پر جب ایران کے اثرات بڑھیں گے تو جیسے سعودی عرب نے دنیا بھر میں وہابیت کو پھیلانے کی کوشش کی ہے،ویسی کوشش ایران بھی کرے گا۔یہ مذہبی محاذ ہے۔اس محاذ کو سر کرنے کے لئے علمائے کرام کو تیار رہنا ہو گا۔یہاں جنگ وجدال کی ضرورت نہیں،بلکہ شواہد ودلائل کی ضرورت ہے۔مغربی ممالک کی خفیہ ایجنسیاں سنی شیعہ میں جنگی محاذ آرائی کی کوشش کریں گی،لیکن علمائے کرام کو علمی محاذ آرائی کرنی چاہیے،جیسے وہابیوں سے محض علمی محاذ آرائی ہوتی ہے۔
پاکستان،عراق،شام،لیبیا وغیرہ میں شیعہ سنی جھگڑے خوب کروائے گئے اور ان ملکوں کو تباہ کر دیا گیا۔چند دن قبل ایران اور سعودی عرب نے دفاعی معاہدہ کیا ہے۔امریکی سیاست اسے برداشت نہیں کر پائے گی،کیوں کہ یہ شیعہ و سنی اتحاد ہے۔سعودی وہابی ملک ہے،لیکن دنیاوی اصطلاح کے اعتبار سے مسلمانوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:سنی اور شیعہ۔اسی اصطلاح کے اعتبار سے غیر شیعہ ممالک کو سنی ملک کہا جاتا ہے۔
عراق،شام،لیبیا،افغانستان وغیرہ میں شیعہ و سنی کو ایک دوسرے مقابل کھڑا کر دیا گیا اور جنگی محاذ آرائی کرائی گئی،اور امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کسی ایک جانب ہو کر بے شمار مسلمانوں کو ہلاک کیے۔دشمن کو بس موقع ملنا چاہیے،لہذا شیعہ و سنی اختلاف کی وہی نوعیت ہونی چاہئے جو قرآن وحدیث میں بیان کی گئی ہے،یعنی ترک تعلق اور علمی محاذ آرائی۔علمائے کرام دنیاوی وملکی سیاست کا اس قدر مطالعہ ضرور کریں کہ وہ تحفظ مذہب ومسلک کے ساتھ امت مسلمہ کو ہلاکت سے بچا سکیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:یکم دسمبر 2023
نہ آئےامام مہدی،نہ نکلا دجال
میدان میں حماس اور اسرائیل
(1)سات روزہ جنگ بندی کے بعد آج سے اسرائیل نے غزہ پٹی پر بمباری شروع کر دی ہے۔جنگ بندی کی مدت میں اسرائیل نے صرف بمباری بند کی تھی،لیکن اسرائیلی فوج غزہ اور ویسٹ بینک میں فلسطینیوں کو مسلسل ہلاک کرتی رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آج کی بمباری میں سو سے زائد عام فلسطینی مسلمان ہلاک ہو چکے ہیں اور قریبا سو اسرائیلی فوجی بھی مارے جا چکے ہیں۔مختلف شہروں میں حماس نے بھی راکٹ ومیزائل داغے ہیں۔ان حملوں میں بھی کچھ یہودی ہلاک ہوئے ہوں گے،لیکن اسرائیلی میڈیا اپنی ہلاکت کی خبر عام نہیں کرتا،تاکہ دنیا اسے فاتح سمجھے،لیکن ساری دنیا میں اسرائیل کی شکست کی داستان پھیل چکی ہے۔
(2)چوں کہ دو ملکی نظریہ(Two Nation Theory)اقوام متحدہ میں زیر بحث ہے،لہذا اسرائیل اور اس کے حامی ممالک چاہتے ہیں کہ حماس کا نام ونشان مٹا دیا جائے،تاکہ فلسطین میں اسرائیل کی حمایت کرنے والی حکومت قائم ہو،تاکہ مشرق وسطی میں مغربی ممالک اور اسرائیل کے اثرات قائم رہیں۔
(3)دوسری جنگ عظیم کے بعد1949 میں دنیا دو خیموں میں تقسیم ہو چکی ہے۔دنیا کے اکثر ممالک پر امریکہ اور مغربی ممالک کے اثرات ہیں اور بعض ممالک روس کے زیر اثر ہیں۔امریکہ نے اپنے حامی ممالک کی ایک تنظیم بنائی ہے جو نیٹو(NATO)کے نام سے مشہور ہے۔فی الوقت قریبا تیس ممالک اس کے ممبر ہیں۔
(4)دنیا کے بہت سے ممالک امریکی اثرات سے خود کو آزاد کرنے کی کوشش میں ہیں۔مشرق وسطی اور عرب کے بہت سے ممالک بھی امریکہ سے آزاد ہونا چاہتے ہیں،لیکن بہت سے عرب ممالک بھی امریکہ کے حامی ہیں۔
(5)ذو الفقار علی بھٹو(پاکستان)،شاہ فیصل(سعودی عرب)ودیگر مسلم لیڈروں نے مسلم ممالک کا ایک اتحاد بنانا چاہا تھا،لیکن امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے(CIA)نے اسے کامیاب ہونے نہیں دیا۔بعض ممالک میں ان لیڈروں کی حکومت گرا دی گئی اور بعض ممالک کے لیڈروں کو قتل کروا دیا گیا۔اس کے بعد مسلم حکم راں امریکہ کے غلام بنے رہتے ہیں۔
ایران اگر امریکہ کو آنکھیں دکھاتا رہتا ہے تو اس کی پشت پر روس ہے اور خود ایران نے ہتھیار بنا لیا ہے اور اپنی فوجی پوزیشن مستحکم کر لیا ہے۔ترکی 1952سے نیٹو(NATO)کا ممبر ہے۔وہ مسلمانوں کی حمایت میں بیان بازی کر سکتا ہے اور حسب ضرورت مالی مدد کر سکتا ہے،لیکن کسی مسلم ملک پر آفت آئے تو وہ فوجی کاروائی نہیں کر سکتا ہے۔
اسلامی ممالک میں روس وایران کے اثرات بڑھنے کی امید ہے۔ابتدائی مرحلہ میں روس مسلمانوں پر زیادہ ظلم نہیں کرے گا،کیوں کہ اسے اپنے اثرات قائم کرنے ہیں۔بعد میں وہی ہو گا جو امریکہ اور مغربی ممالک کرتے رہے ہیں۔
مسلم ممالک پر جب ایران کے اثرات بڑھیں گے تو جیسے سعودی عرب نے دنیا بھر میں وہابیت کو پھیلانے کی کوشش کی ہے،ویسی کوشش ایران بھی کرے گا۔یہ مذہبی محاذ ہے۔اس محاذ کو سر کرنے کے لئے علمائے کرام کو تیار رہنا ہو گا۔یہاں جنگ وجدال کی ضرورت نہیں،بلکہ شواہد ودلائل کی ضرورت ہے۔مغربی ممالک کی خفیہ ایجنسیاں سنی شیعہ میں جنگی محاذ آرائی کی کوشش کریں گی،لیکن علمائے کرام کو علمی محاذ آرائی کرنی چاہیے،جیسے وہابیوں سے محض علمی محاذ آرائی ہوتی ہے۔
پاکستان،عراق،شام،لیبیا وغیرہ میں شیعہ سنی جھگڑے خوب کروائے گئے اور ان ملکوں کو تباہ کر دیا گیا۔چند دن قبل ایران اور سعودی عرب نے دفاعی معاہدہ کیا ہے۔امریکی سیاست اسے برداشت نہیں کر پائے گی،کیوں کہ یہ شیعہ و سنی اتحاد ہے۔سعودی وہابی ملک ہے،لیکن دنیاوی اصطلاح کے اعتبار سے مسلمانوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:سنی اور شیعہ۔اسی اصطلاح کے اعتبار سے غیر شیعہ ممالک کو سنی ملک کہا جاتا ہے۔
عراق،شام،لیبیا،افغانستان وغیرہ میں شیعہ و سنی کو ایک دوسرے مقابل کھڑا کر دیا گیا اور جنگی محاذ آرائی کرائی گئی،اور امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کسی ایک جانب ہو کر بے شمار مسلمانوں کو ہلاک کیے۔دشمن کو بس موقع ملنا چاہیے،لہذا شیعہ و سنی اختلاف کی وہی نوعیت ہونی چاہئے جو قرآن وحدیث میں بیان کی گئی ہے،یعنی ترک تعلق اور علمی محاذ آرائی۔علمائے کرام دنیاوی وملکی سیاست کا اس قدر مطالعہ ضرور کریں کہ وہ تحفظ مذہب ومسلک کے ساتھ امت مسلمہ کو ہلاکت سے بچا سکیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:یکم دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
دنیا کی بدترین قوم سے مشکل ترین جنگ
(1)غزہ پٹی کو تین اطراف سے اسرائیل نے گھیر رکھا ہے۔ایک طرف مصر کی سرحد ہے جو جنگ کے سبب بند کر دی گئی ہے۔مصر کی سرحد سے بھی کوئی چیز غزہ پٹی داخل نہیں ہو سکتی۔جب کہ اسرائیل نے غزہ پٹی میں بجلی اور پانی کی سپلائی 7:اکتوبر کے بعد ہی بند کر دی تھی۔
اسرائیل نے ہوائی حملے کر کے جس طرح عام شہریوں کے رہائشی مکانات کو تباہ وبرباد کیا،اسی طرح غزہ پٹی کے تمام بڑے اسپتالوں کو تباہ کر دیا،تاکہ لوگ علاج ودوا نہ ملنے کے سبب مر جائیں۔اناج کے گوداموں کو بھی بمباری کر کے تباہ کردیا،تاکہ لوگ بھوک سے مر جائیں۔بہت سے کنواں کو ناقابل استعمال کر دیا گیا،تاکہ لوگ پیاس سے مر جائیں۔بمباری کے سبب بے شمار لوگ مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے۔غزہ پٹی میں اسپتالوں کی تباہی کے سب علاج ودوا کا کوئی معقول انتظام نہیں۔اوپر سے مسلسل بمباری ہو رہی ہے۔
ایسی صورت میں غزہ پٹی کے مسلمان کس قدر ذہنی و جسمانی پریشانیوں میں مبتلا ہوں گے،اس کا صحیح اندازہ وہی کر سکتا ہے جو خود اس منزل سے گزر چکا ہو۔ایسی صورت میں غزہ کے مسلمانوں کا زندہ رہ جانا ہی ایک بہت بڑی کرامت ہے۔
امریکہ نے دوبارہ جنگ کی اجازت دی ہے تو اسے مستحکم گائیڈ لائن بھی مرتب کرنا چاہئے،لیکن ایسا نہیں ہو سکتا۔قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہود ونصاری اسی وقت مسلمانوں سے راضی ہوں گے،جب مسلمان بھی یہودی ونصرانی مذہب قبول کر لیں۔
(2)یو ٹیوب وغیرہ پر فلسطین کی فتح یابی اور اسرائیل کی شکست سے متعلق جو ویڈیو ہو،اسے ڈلٹ کر دیا جاتا ہے،لہذا یو ٹیوبرس زیادہ تر ایسے ویڈیوز بناتے ہیں جن میں اسرائیل کی شکست کا ذکر نہ ہو۔اگر اسرائیل کے پانچ سو فوجی مارے جائیں تو اسرائیل کہے گا کہ ہمارے پانچ فوجی زخمی ہوئے ہیں۔یوٹیوبرس کو بھی ایسا ہی کہنا ہے،ورنہ یوٹیوب ڈلٹ کر دیا جائے گا اور یو ٹیوبرس کی روزی روٹی یوٹیوب سے چلتی ہے،لہذا وہ بھی یوٹیوب کمپنی کے خلاف نہیں جا سکتے،یعنی صحیح خبر ملنا بھی مشکل ہے۔
(3)جب حماس کے مختلف گروپ بھی مسلسل زمینی اور فضائی حملے کر رہے ہیں تو ضرور اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔حماس کے ٹھکانے گرچہ سرنگوں میں ہیں،لیکن وہ مقابلہ آرائی کے لئے باہر آتے ہیں اور مختلف مقامات پر گھات لگا کر بیٹھے رہتے ہیں اور اسرائیلی فوجیوں سے جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔حماس کے لڑاکے آزادانہ طور پر سڑکوں پر موجود رہیں تو غزہ پٹی کی فضا میں گشت لگانے والے اسرائیل کے جاسوسی طیارے اپنے کمانڈ سینٹر کو اس کی اطلاع بھیجیں گے اور اسرائیلی طیارے ان پر بمباری کریں گے،لہذا بلا ضرورت سڑکوں پر گھوم کر خود کو ہلاکت میں ڈالنا کوئی عقل مندی نہیں۔
(4)غزہ پٹی میں انسانی ضرورتوں کے سامان نہیں پہنچ رہے ہیں اور لوگ زیادہ دنوں تک بھوک پیاس برداشت نہیں کر سکتے،نہ ہی طویل مدت تک دوا وعلاج کے بغیر رہ سکتے ہیں۔یہ ایک مشکل مرحلہ ہے۔معلوم نہیں کہ حماس نے اس کا کیا انتظام کیا ہے،لہذا فلسطینی مسلمانوں کی بھلائی کے لئے دعائیں کی جائیں۔
(5)رپورٹ کے مطابق امریکہ نے یکم دسمبر سے سات دسمبر تک اسرائیل کو موقع دیا ہے،تاکہ وہ ان سات دنوں میں حماس کو ختم کر سکے۔اسرائیل ان سات دنوں میں بمباری کر کے بے شمار فلسطینی عوام کو ہلاک کرے گا،کیوں کہ حماس کو ختم کرنا اسرائیل وامریکہ کی قوت سے باہر ہے۔امریکہ بیس سال میں طالبان کو ختم نہ کر سکا۔امریکہ نے بھی تورا بورا کے پہاڑ پر خوب بمباری کی تھی۔آخر کار اپنے سر پر ذلت وخواری کا ٹوکرا اٹھائے سوئے امریکہ روانہ ہو گیا۔
خبر کے مطابق اس مرتبہ حماس بھی بہت سخت زمینی حملے کر رہا ہے اور اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر راکٹ ومیزائل کی بارش برسا رہا ہے۔اللہ تعالی مسلمانوں کو فتح عطا فرمائے:(آمین)
(6)قوم یہود کے بہت سے مذہبی پیشواؤں نے متفقہ طور پر فتویٰ دیا تھا کہ مسلمانوں کو ہلاک کرنا کوئی گناہ نہیں ہے۔ان مذہبی پیشواؤں کا لیڈر چند دنوں قبل یروشلم میں ہلاک کیا جا چکا ہے اور اسرائیل کا سب سے بڑا سائنسدان بھی ہلاک کر دیا گیا ہے۔اس سائنس داں کی ہلاکت پر یہودیوں کو بہت افسوس ہوا۔
(7)جنگی محاذ پر صورت حال بدلتے رہتی ہے۔اگر آج کوئی فریق غالب رہا تو کل وہ شکست بھی کھا سکتا ہے،لہذا رحمت الہی سے نا امید ہونے کی ضرورت نہیں،استقامت اور دعا کی ضرورت ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:02:دسمبر 2023
دنیا کی بدترین قوم سے مشکل ترین جنگ
(1)غزہ پٹی کو تین اطراف سے اسرائیل نے گھیر رکھا ہے۔ایک طرف مصر کی سرحد ہے جو جنگ کے سبب بند کر دی گئی ہے۔مصر کی سرحد سے بھی کوئی چیز غزہ پٹی داخل نہیں ہو سکتی۔جب کہ اسرائیل نے غزہ پٹی میں بجلی اور پانی کی سپلائی 7:اکتوبر کے بعد ہی بند کر دی تھی۔
اسرائیل نے ہوائی حملے کر کے جس طرح عام شہریوں کے رہائشی مکانات کو تباہ وبرباد کیا،اسی طرح غزہ پٹی کے تمام بڑے اسپتالوں کو تباہ کر دیا،تاکہ لوگ علاج ودوا نہ ملنے کے سبب مر جائیں۔اناج کے گوداموں کو بھی بمباری کر کے تباہ کردیا،تاکہ لوگ بھوک سے مر جائیں۔بہت سے کنواں کو ناقابل استعمال کر دیا گیا،تاکہ لوگ پیاس سے مر جائیں۔بمباری کے سبب بے شمار لوگ مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے۔غزہ پٹی میں اسپتالوں کی تباہی کے سب علاج ودوا کا کوئی معقول انتظام نہیں۔اوپر سے مسلسل بمباری ہو رہی ہے۔
ایسی صورت میں غزہ پٹی کے مسلمان کس قدر ذہنی و جسمانی پریشانیوں میں مبتلا ہوں گے،اس کا صحیح اندازہ وہی کر سکتا ہے جو خود اس منزل سے گزر چکا ہو۔ایسی صورت میں غزہ کے مسلمانوں کا زندہ رہ جانا ہی ایک بہت بڑی کرامت ہے۔
امریکہ نے دوبارہ جنگ کی اجازت دی ہے تو اسے مستحکم گائیڈ لائن بھی مرتب کرنا چاہئے،لیکن ایسا نہیں ہو سکتا۔قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہود ونصاری اسی وقت مسلمانوں سے راضی ہوں گے،جب مسلمان بھی یہودی ونصرانی مذہب قبول کر لیں۔
(2)یو ٹیوب وغیرہ پر فلسطین کی فتح یابی اور اسرائیل کی شکست سے متعلق جو ویڈیو ہو،اسے ڈلٹ کر دیا جاتا ہے،لہذا یو ٹیوبرس زیادہ تر ایسے ویڈیوز بناتے ہیں جن میں اسرائیل کی شکست کا ذکر نہ ہو۔اگر اسرائیل کے پانچ سو فوجی مارے جائیں تو اسرائیل کہے گا کہ ہمارے پانچ فوجی زخمی ہوئے ہیں۔یوٹیوبرس کو بھی ایسا ہی کہنا ہے،ورنہ یوٹیوب ڈلٹ کر دیا جائے گا اور یو ٹیوبرس کی روزی روٹی یوٹیوب سے چلتی ہے،لہذا وہ بھی یوٹیوب کمپنی کے خلاف نہیں جا سکتے،یعنی صحیح خبر ملنا بھی مشکل ہے۔
(3)جب حماس کے مختلف گروپ بھی مسلسل زمینی اور فضائی حملے کر رہے ہیں تو ضرور اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔حماس کے ٹھکانے گرچہ سرنگوں میں ہیں،لیکن وہ مقابلہ آرائی کے لئے باہر آتے ہیں اور مختلف مقامات پر گھات لگا کر بیٹھے رہتے ہیں اور اسرائیلی فوجیوں سے جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔حماس کے لڑاکے آزادانہ طور پر سڑکوں پر موجود رہیں تو غزہ پٹی کی فضا میں گشت لگانے والے اسرائیل کے جاسوسی طیارے اپنے کمانڈ سینٹر کو اس کی اطلاع بھیجیں گے اور اسرائیلی طیارے ان پر بمباری کریں گے،لہذا بلا ضرورت سڑکوں پر گھوم کر خود کو ہلاکت میں ڈالنا کوئی عقل مندی نہیں۔
(4)غزہ پٹی میں انسانی ضرورتوں کے سامان نہیں پہنچ رہے ہیں اور لوگ زیادہ دنوں تک بھوک پیاس برداشت نہیں کر سکتے،نہ ہی طویل مدت تک دوا وعلاج کے بغیر رہ سکتے ہیں۔یہ ایک مشکل مرحلہ ہے۔معلوم نہیں کہ حماس نے اس کا کیا انتظام کیا ہے،لہذا فلسطینی مسلمانوں کی بھلائی کے لئے دعائیں کی جائیں۔
(5)رپورٹ کے مطابق امریکہ نے یکم دسمبر سے سات دسمبر تک اسرائیل کو موقع دیا ہے،تاکہ وہ ان سات دنوں میں حماس کو ختم کر سکے۔اسرائیل ان سات دنوں میں بمباری کر کے بے شمار فلسطینی عوام کو ہلاک کرے گا،کیوں کہ حماس کو ختم کرنا اسرائیل وامریکہ کی قوت سے باہر ہے۔امریکہ بیس سال میں طالبان کو ختم نہ کر سکا۔امریکہ نے بھی تورا بورا کے پہاڑ پر خوب بمباری کی تھی۔آخر کار اپنے سر پر ذلت وخواری کا ٹوکرا اٹھائے سوئے امریکہ روانہ ہو گیا۔
خبر کے مطابق اس مرتبہ حماس بھی بہت سخت زمینی حملے کر رہا ہے اور اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر راکٹ ومیزائل کی بارش برسا رہا ہے۔اللہ تعالی مسلمانوں کو فتح عطا فرمائے:(آمین)
(6)قوم یہود کے بہت سے مذہبی پیشواؤں نے متفقہ طور پر فتویٰ دیا تھا کہ مسلمانوں کو ہلاک کرنا کوئی گناہ نہیں ہے۔ان مذہبی پیشواؤں کا لیڈر چند دنوں قبل یروشلم میں ہلاک کیا جا چکا ہے اور اسرائیل کا سب سے بڑا سائنسدان بھی ہلاک کر دیا گیا ہے۔اس سائنس داں کی ہلاکت پر یہودیوں کو بہت افسوس ہوا۔
(7)جنگی محاذ پر صورت حال بدلتے رہتی ہے۔اگر آج کوئی فریق غالب رہا تو کل وہ شکست بھی کھا سکتا ہے،لہذا رحمت الہی سے نا امید ہونے کی ضرورت نہیں،استقامت اور دعا کی ضرورت ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:02:دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
اسرائیل کی قسمت میں شکست پر شکست
(1)آج 03:دسمبر کو بھی فلسطین واسرائیل کے درمیان سخت معرکہ آرائی جاری ہے۔حماس کا پلہ بھاری ہے۔آج حماس نے تین اسرائیلی کمانڈر کو ہلاک کیا۔بہت سے اسرائیلی ٹینک تباہ کیے۔حماس کی طرف سےاسرائیلی شہروں پر بمباری جاری ہے۔اسرائیل کا آئرن ڈوم کام کرنا چھوڑ دیا ہے،بلکہ وہ اسرائیلی شہروں میں میزائل داغ رہا ہے۔
اج بھی بہت سے اسرائیلی فوجی مارے گئے ہیں۔مختلف رپورٹ میں مختلف تعداد بتائی جا رہی ہے۔خلاصہ یہ کہ پچاس سے زائد اسرائیلی فوجی مارے گئے ہیں۔
(2)یہودیوں کے فضائی حملوں سے بہت سے عام فلسطینی شہری ہلاک ہوئے۔تعداد کی صحیح رپورٹ نہیں ہے۔ڈھائی سو سے زیادہ تعداد بتائی جاتی ہے۔
اسرائیلی فوج اعلان کرتی ہے کہ عام فلسطینی شہری فلاں مقام پر چلے جائیں۔وہاں بمباری نہیں ہوگی،پھر اسرائیلی طیاروں سے وہاں بھی بمباری کر دی جاتی ہے۔غزہ پٹی سے فلسطینیوں کی ہجرت کی خبر بھی آئی ہے۔
(3) اسرائیل کے جاسوسی طیارے حماس کے سرنگوں کو تلاش کر رہے ہیں،تاکہ امریکہ کے دیئے ہوئے بنکر بسٹر بموں کے ذریعہ ان سرنگوں کو تباہ کر دیا جائے،لیکن امید ہے کہ سرنگوں کی تلاش سے قبل ہی اسرائیل شکست کھا کر غزہ پٹی سے بھاگ کھڑا ہو گا۔حماس کے حملے انتہائی خطرناک اور تیز ہو چکے ہیں۔یہودی فوج کو غزہ پٹی میں قدم جمانے کا موقع نہیں مل پا رہا ہے۔
اندازہ یہی ہے کہ سرنگوں کو کمال مہارت سے بنایا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس جاسوسی طیارے بھی ان سرنگوں کو تلاش کرنے میں ناکام ہیں جیسے اسرائیل کا آئرن ڈوم نظام ناکام اور پاگل ہو چکا ہے۔اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد جو سمندر کے اندر کی خبر بھی حاصل کر لیتی ہے،وہ اپنے پڑوسی علاقہ کی سرنگوں کا پتہ لگانے میں ناکام کیوں ہے؟
درحقیقت اسرائیل محض ڈینگ مارتا ہے کہ اس کی خفیہ ایجنسی بہت طاقتور ہے۔اس کی فوج بہت بہادر ہے۔اس کا آئرن ڈوم سسٹم بہت موثر ہے۔وغیرہ
حماس نے اسرائیل کو تاریخی شکست سے دو چار کر رکھا ہے۔یہ بات واضح ہے کہ دنیا چڑھتے سورج کو سلام کرتی ہے۔اگر حماس نے استقامت وشجاعت دکھائی تو ان شاء اللہ تعالی فلسطین ایک آزاد ملک بن جائے گا۔اسرائیلی فضائی حملوں سے فلسطینی عوام کثیر تعداد میں ہلاک ہو رہے ہیں۔اس کا ہمیں بہت افسوس ہے۔حماس کے پاس فضائی حملہ روکنے کا کوئی موثر ذریعہ نہیں،لیکن زمینی جنگ میں حماس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:03:دسمبر 2023
اسرائیل کی قسمت میں شکست پر شکست
(1)آج 03:دسمبر کو بھی فلسطین واسرائیل کے درمیان سخت معرکہ آرائی جاری ہے۔حماس کا پلہ بھاری ہے۔آج حماس نے تین اسرائیلی کمانڈر کو ہلاک کیا۔بہت سے اسرائیلی ٹینک تباہ کیے۔حماس کی طرف سےاسرائیلی شہروں پر بمباری جاری ہے۔اسرائیل کا آئرن ڈوم کام کرنا چھوڑ دیا ہے،بلکہ وہ اسرائیلی شہروں میں میزائل داغ رہا ہے۔
اج بھی بہت سے اسرائیلی فوجی مارے گئے ہیں۔مختلف رپورٹ میں مختلف تعداد بتائی جا رہی ہے۔خلاصہ یہ کہ پچاس سے زائد اسرائیلی فوجی مارے گئے ہیں۔
(2)یہودیوں کے فضائی حملوں سے بہت سے عام فلسطینی شہری ہلاک ہوئے۔تعداد کی صحیح رپورٹ نہیں ہے۔ڈھائی سو سے زیادہ تعداد بتائی جاتی ہے۔
اسرائیلی فوج اعلان کرتی ہے کہ عام فلسطینی شہری فلاں مقام پر چلے جائیں۔وہاں بمباری نہیں ہوگی،پھر اسرائیلی طیاروں سے وہاں بھی بمباری کر دی جاتی ہے۔غزہ پٹی سے فلسطینیوں کی ہجرت کی خبر بھی آئی ہے۔
(3) اسرائیل کے جاسوسی طیارے حماس کے سرنگوں کو تلاش کر رہے ہیں،تاکہ امریکہ کے دیئے ہوئے بنکر بسٹر بموں کے ذریعہ ان سرنگوں کو تباہ کر دیا جائے،لیکن امید ہے کہ سرنگوں کی تلاش سے قبل ہی اسرائیل شکست کھا کر غزہ پٹی سے بھاگ کھڑا ہو گا۔حماس کے حملے انتہائی خطرناک اور تیز ہو چکے ہیں۔یہودی فوج کو غزہ پٹی میں قدم جمانے کا موقع نہیں مل پا رہا ہے۔
اندازہ یہی ہے کہ سرنگوں کو کمال مہارت سے بنایا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس جاسوسی طیارے بھی ان سرنگوں کو تلاش کرنے میں ناکام ہیں جیسے اسرائیل کا آئرن ڈوم نظام ناکام اور پاگل ہو چکا ہے۔اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد جو سمندر کے اندر کی خبر بھی حاصل کر لیتی ہے،وہ اپنے پڑوسی علاقہ کی سرنگوں کا پتہ لگانے میں ناکام کیوں ہے؟
درحقیقت اسرائیل محض ڈینگ مارتا ہے کہ اس کی خفیہ ایجنسی بہت طاقتور ہے۔اس کی فوج بہت بہادر ہے۔اس کا آئرن ڈوم سسٹم بہت موثر ہے۔وغیرہ
حماس نے اسرائیل کو تاریخی شکست سے دو چار کر رکھا ہے۔یہ بات واضح ہے کہ دنیا چڑھتے سورج کو سلام کرتی ہے۔اگر حماس نے استقامت وشجاعت دکھائی تو ان شاء اللہ تعالی فلسطین ایک آزاد ملک بن جائے گا۔اسرائیلی فضائی حملوں سے فلسطینی عوام کثیر تعداد میں ہلاک ہو رہے ہیں۔اس کا ہمیں بہت افسوس ہے۔حماس کے پاس فضائی حملہ روکنے کا کوئی موثر ذریعہ نہیں،لیکن زمینی جنگ میں حماس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:03:دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
فلسطین واسرائیل جنگ:کون جیتا؟ کون ہارا؟
(1) اسرائیل نے جنگ بندی کے بعد یکم دسمبر سے دوبارہ جنگ شروع کر دی ہے۔اس نے سوچا تھا کہ اس بار اسرائیل کی پیشانی سے شکست کا داغ دھل دیا جائے،لیکن اس مرتبہ زمینی جنگ میں یہودیوں کا قدم جم نہیں پا رہا ہے۔ہر مقام پر وہ ہلاک ہو رہے ہیں۔اس کے ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ کی جا رہی ہیں۔اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کی صحیح تعداد بتائی نہیں جا رہی ہے۔کل ایک ہی جگہ 60: اسرائیلی فوجی واصل جہنم ہوئے۔دیگر مقامات پر بھی یہودی فوجی مارے گئے۔مجموعی تعداد دو سو کے قریب ہو گی۔ویسٹ بینک میں بھی جنگ شروع ہو چکی ہے اور حماس کے متعدد گروپ ویسٹ بینک میں مقابلہ آرائی کر رہے ہیں۔خبر کے مطابق شمالی غزہ سے ستر فی صد اسرائیلی فوجی بھاگ چکے ہیں۔
(2)شمالی غزہ کی طرح جنوبی غزہ اور دیگر حصوں میں بھی اسرائیل کی وحشیانہ بمباری جاری ہے۔کل سات سو عام فلسطینی شہری ہلاک ہوئے۔
(3)حماس کے زمینی حملے سخت ہو چکے ہیں۔اج بھی قریبا سو یہودی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔حزب اللہ بھی حملے کر رہا ہے۔ یمن کے حوثی بحر احمر میں اسرائیلی جہازوں کو تباہ کر رہے ہیں اور امریکہ وبرطانیہ کے جہازوں پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔عراق وشام میں امریکہ کے فوجی اڈے ہیں۔ان فوجی ٹھکانوں پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔اگر بفضل الہی حماس نے چند دن مزید ثابت قدمی دکھائی تو ان شاء اللہ تعالی اسرائیل شکست فاش سے دوچار ہو گا اور مستقل جنگ بندی اور دو ملکی نظریہ پر بات چیت شروع ہو جائے گی۔
(4) اسرائیل کے اندرونی حالات اچھے نہیں ہیں۔غزہ جنگ سے متعلق اہل حکومت آپس ہی میں جھگڑ رہے ہیں۔نتن یاہو پر گھوٹالے کا مقدمہ بھی چل رہا ہے۔دوسری جانب ہر جگہ یہودی شکست بھی کھا رہے ہیں۔دنیا بھر میں فلسطین کی حمایت میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:04:دسمبر 2023
فلسطین واسرائیل جنگ:کون جیتا؟ کون ہارا؟
(1) اسرائیل نے جنگ بندی کے بعد یکم دسمبر سے دوبارہ جنگ شروع کر دی ہے۔اس نے سوچا تھا کہ اس بار اسرائیل کی پیشانی سے شکست کا داغ دھل دیا جائے،لیکن اس مرتبہ زمینی جنگ میں یہودیوں کا قدم جم نہیں پا رہا ہے۔ہر مقام پر وہ ہلاک ہو رہے ہیں۔اس کے ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ کی جا رہی ہیں۔اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کی صحیح تعداد بتائی نہیں جا رہی ہے۔کل ایک ہی جگہ 60: اسرائیلی فوجی واصل جہنم ہوئے۔دیگر مقامات پر بھی یہودی فوجی مارے گئے۔مجموعی تعداد دو سو کے قریب ہو گی۔ویسٹ بینک میں بھی جنگ شروع ہو چکی ہے اور حماس کے متعدد گروپ ویسٹ بینک میں مقابلہ آرائی کر رہے ہیں۔خبر کے مطابق شمالی غزہ سے ستر فی صد اسرائیلی فوجی بھاگ چکے ہیں۔
(2)شمالی غزہ کی طرح جنوبی غزہ اور دیگر حصوں میں بھی اسرائیل کی وحشیانہ بمباری جاری ہے۔کل سات سو عام فلسطینی شہری ہلاک ہوئے۔
(3)حماس کے زمینی حملے سخت ہو چکے ہیں۔اج بھی قریبا سو یہودی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔حزب اللہ بھی حملے کر رہا ہے۔ یمن کے حوثی بحر احمر میں اسرائیلی جہازوں کو تباہ کر رہے ہیں اور امریکہ وبرطانیہ کے جہازوں پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔عراق وشام میں امریکہ کے فوجی اڈے ہیں۔ان فوجی ٹھکانوں پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔اگر بفضل الہی حماس نے چند دن مزید ثابت قدمی دکھائی تو ان شاء اللہ تعالی اسرائیل شکست فاش سے دوچار ہو گا اور مستقل جنگ بندی اور دو ملکی نظریہ پر بات چیت شروع ہو جائے گی۔
(4) اسرائیل کے اندرونی حالات اچھے نہیں ہیں۔غزہ جنگ سے متعلق اہل حکومت آپس ہی میں جھگڑ رہے ہیں۔نتن یاہو پر گھوٹالے کا مقدمہ بھی چل رہا ہے۔دوسری جانب ہر جگہ یہودی شکست بھی کھا رہے ہیں۔دنیا بھر میں فلسطین کی حمایت میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:04:دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
فلسطین واسرائیل جنگ اور غلط خبریں
(1)فلسطین واسرائیل جنگ سے متعلق جو خبریں عربی چینلس خاص کر الجزیرہ پر دی جاتی ہیں۔وہ بہت حد تک صحیح ہوتی ہیں۔بھارتی گودی میڈیا مسلمانوں کی عداوت میں اسرائیل کی طرف داری کرتاہے،لہذا گودی میڈیا شکست خوردہ اسرائیل کو فاتح بتانے کی کوشش کرتا ہے۔
(2) اسرائیل کو 1948 سے آج تک ایسی بدترین شکست نہیں ملی تھی جو اسے حماس کے ذریعہ ملی ہے۔یہودیوں کے بہت سے کرنل بھی مارے گئے اور کل ایک فوجی جنرل بھی مارا گیا ہے۔
فوجیوں سے بھری گاڑیاں حماس کے حملوں سے جل کر راکھ کا ڈھیر بن جا رہی ہیں اور اس میں بیٹھے فوجی بھی ہلاک ہو جا رہے ہیں۔چلتے ہوئے ٹینکوں پر میزائل مارے جاتے ہیں،ان میں آگ لگ جاتی ہے۔ٹینکوں کے اندر بیٹھے ہوئے فوجی بھی جل کر خاک ہو جا رہے ہیں۔ہر دن پچیس تیس ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کو تباہ کیا جا رہا ہے۔مختلف مقامات پر جنگ ہو رہی ہے۔حماس کے مختلف ذیلی گروپ مصروف پیکار ہیں۔اسرائیلی فوجی جا بجا ہلاک ہو رہے ہیں۔حزب اللہ بھی سخت حملے کر رہا ہے،پھر بھی انڈین یو ٹیوبرس بتاتے ہیں کہ آج اسرائیل کےتین/ چار/ پانچ فوجی زخمی ہوئے.یہ سب جھوٹی خبریں ہیں۔عقل اسے تسلیم نہیں کر سکتی۔
ہاں،یہ بات سچ ہے کہ فلسطینی عام شہریوں کی ہلاکت کی تعداد بھی اس سے زیادہ ہے جو تعداد خبروں میں بتائی جا رہی ہے اور یہودی فوجیوں کی ہلاکت بھی بہت ہو رہی ہے۔بعد میں جب صحیح تعداد آزاد ذرائع سے بتائی جائے تو وہ کسی قدر قابل اعتماد ہو گی۔ان شاء اللہ تعالی چند دنوں میں فلسطین سے یہودی فوج بھاگ کھڑی ہو گی۔
(3)ایک انڈین مسلم یو ٹیوبر پہلے کسی قدر صحیح خبر دے رہا تھا،پھر اس کا چینل بند کر دیا گیا اور پھر وہ یو ٹیوب چینل دوبارہ کام کرنے لگا۔اب وہ بھی اسرائیل کا بہت کم نقصان بیان کرتا ہے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ انڈین یو ٹیوبرس کو ہدایت دی گئی ہے کہ اسرائیل کا نقصان بیان نہ کیا جائے،تاکہ مسلمانوں کو ذہنی اذیت محسوس ہو،اور وہ یاسیت ونا امیدی میں مبتلا ہو جائیں۔
(4) اسرائیل کی ریزرو فوج میں بہت سے وہ فوجی ہیں جن کے ماں باپ یا بیوی بچے نہیں ہیں۔یہ سب زنا سے پیدا ہونے والے فوجی ہیں جن کو اسرائیل نے ریزرو فوج میں داخل کیا ہے۔چوں کہ ان لوگوں کا کوئی وارث ہی نہیں،لہذا اسرائیل ایسے فوجیوں کی ہلاکت کا ذکر بھی نہیں کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے بہت سے کمانڈر مارے جا چکے ہیں۔اسرائیل کا ایٹمی سائنسدان ہلاک کیا جا چکا ہے۔صیہونی یہودیوں کا مذہبی پیشوا ہلاک کیا جا چکا ہے جس نے فتویٰ دیا تھا کہ توریت وتلمود کی روشنی میں مسلمانوں کو قتل کرنا گناہ نہیں،یہاں تک کہ جو بچہ ماں کے شکم میں ہے،اسے بھی ہلاک کرنا گناہ نہیں ہے۔حالیہ دنوں میں ایک یہودی پیشوا نے بیان دیا ہے کہ مسلمان عورتوں کی عصمت دری کرنا گناہ نہیں۔الغرض یہودی اس جنگ کو مذہبی جنگ سمجھ کر لڑ رہے ہیں اور یہودیوں کے مذہبی پیشوا حرام کاموں کو حلال کرتے جا رہے ہیں۔دنیاوی محاذ پر امریکہ ومغربی ممالک اسرائیل کی طرف داری اور مدد میں ہیں،لیکن کامیاب وفاتح وہی ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی دستگیری میسر ہو۔فلسطین روز اول سے ظالم وغاصب یہودیوں پر غالب ہے۔اللہ تعالی فلسطینی مسلمانوں کی مدد فرمائے:آمین
(5)خبر کے مطابق ایران ان ملکوں کا اتحاد قائم کر رہا ہے جو مسلم ممالک کی حفاظت کر سکے۔لیبیا کےبکرنل معمر قذافی نے افریقہ کے اکہتر ملکوں کا اتحاد قائم کرنے کی پلاننگ کر رہا تھا،لیکن لیبیا میں بغاوت کروا کر اس کی حکومت ختم کر دی گئی اور کرنل معمر قذافی کو بھی ہلاک کر دیا گیا۔ذو الفقار علی بھٹو نے بھی مسلم ممالک کے اتحاد کی کوشش کی تھی،لیکن اس کو بھی حکومت سے بے دخل کر دیا گیا اور انجام کار اس کو پھانسی دی گئی۔امریکی خفیہ ایجنسی ایسا کوئی اتحاد قائم ہونے نہیں دیتی ہے جس سے امریکی سامراجیت کو خطرہ ہو۔اب ایران کس حد تک کامیاب ہوتا ہے،یہ آنے والا وقت بتائے گا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:05:دسمبر 2023
فلسطین واسرائیل جنگ اور غلط خبریں
(1)فلسطین واسرائیل جنگ سے متعلق جو خبریں عربی چینلس خاص کر الجزیرہ پر دی جاتی ہیں۔وہ بہت حد تک صحیح ہوتی ہیں۔بھارتی گودی میڈیا مسلمانوں کی عداوت میں اسرائیل کی طرف داری کرتاہے،لہذا گودی میڈیا شکست خوردہ اسرائیل کو فاتح بتانے کی کوشش کرتا ہے۔
(2) اسرائیل کو 1948 سے آج تک ایسی بدترین شکست نہیں ملی تھی جو اسے حماس کے ذریعہ ملی ہے۔یہودیوں کے بہت سے کرنل بھی مارے گئے اور کل ایک فوجی جنرل بھی مارا گیا ہے۔
فوجیوں سے بھری گاڑیاں حماس کے حملوں سے جل کر راکھ کا ڈھیر بن جا رہی ہیں اور اس میں بیٹھے فوجی بھی ہلاک ہو جا رہے ہیں۔چلتے ہوئے ٹینکوں پر میزائل مارے جاتے ہیں،ان میں آگ لگ جاتی ہے۔ٹینکوں کے اندر بیٹھے ہوئے فوجی بھی جل کر خاک ہو جا رہے ہیں۔ہر دن پچیس تیس ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کو تباہ کیا جا رہا ہے۔مختلف مقامات پر جنگ ہو رہی ہے۔حماس کے مختلف ذیلی گروپ مصروف پیکار ہیں۔اسرائیلی فوجی جا بجا ہلاک ہو رہے ہیں۔حزب اللہ بھی سخت حملے کر رہا ہے،پھر بھی انڈین یو ٹیوبرس بتاتے ہیں کہ آج اسرائیل کےتین/ چار/ پانچ فوجی زخمی ہوئے.یہ سب جھوٹی خبریں ہیں۔عقل اسے تسلیم نہیں کر سکتی۔
ہاں،یہ بات سچ ہے کہ فلسطینی عام شہریوں کی ہلاکت کی تعداد بھی اس سے زیادہ ہے جو تعداد خبروں میں بتائی جا رہی ہے اور یہودی فوجیوں کی ہلاکت بھی بہت ہو رہی ہے۔بعد میں جب صحیح تعداد آزاد ذرائع سے بتائی جائے تو وہ کسی قدر قابل اعتماد ہو گی۔ان شاء اللہ تعالی چند دنوں میں فلسطین سے یہودی فوج بھاگ کھڑی ہو گی۔
(3)ایک انڈین مسلم یو ٹیوبر پہلے کسی قدر صحیح خبر دے رہا تھا،پھر اس کا چینل بند کر دیا گیا اور پھر وہ یو ٹیوب چینل دوبارہ کام کرنے لگا۔اب وہ بھی اسرائیل کا بہت کم نقصان بیان کرتا ہے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ انڈین یو ٹیوبرس کو ہدایت دی گئی ہے کہ اسرائیل کا نقصان بیان نہ کیا جائے،تاکہ مسلمانوں کو ذہنی اذیت محسوس ہو،اور وہ یاسیت ونا امیدی میں مبتلا ہو جائیں۔
(4) اسرائیل کی ریزرو فوج میں بہت سے وہ فوجی ہیں جن کے ماں باپ یا بیوی بچے نہیں ہیں۔یہ سب زنا سے پیدا ہونے والے فوجی ہیں جن کو اسرائیل نے ریزرو فوج میں داخل کیا ہے۔چوں کہ ان لوگوں کا کوئی وارث ہی نہیں،لہذا اسرائیل ایسے فوجیوں کی ہلاکت کا ذکر بھی نہیں کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے بہت سے کمانڈر مارے جا چکے ہیں۔اسرائیل کا ایٹمی سائنسدان ہلاک کیا جا چکا ہے۔صیہونی یہودیوں کا مذہبی پیشوا ہلاک کیا جا چکا ہے جس نے فتویٰ دیا تھا کہ توریت وتلمود کی روشنی میں مسلمانوں کو قتل کرنا گناہ نہیں،یہاں تک کہ جو بچہ ماں کے شکم میں ہے،اسے بھی ہلاک کرنا گناہ نہیں ہے۔حالیہ دنوں میں ایک یہودی پیشوا نے بیان دیا ہے کہ مسلمان عورتوں کی عصمت دری کرنا گناہ نہیں۔الغرض یہودی اس جنگ کو مذہبی جنگ سمجھ کر لڑ رہے ہیں اور یہودیوں کے مذہبی پیشوا حرام کاموں کو حلال کرتے جا رہے ہیں۔دنیاوی محاذ پر امریکہ ومغربی ممالک اسرائیل کی طرف داری اور مدد میں ہیں،لیکن کامیاب وفاتح وہی ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی دستگیری میسر ہو۔فلسطین روز اول سے ظالم وغاصب یہودیوں پر غالب ہے۔اللہ تعالی فلسطینی مسلمانوں کی مدد فرمائے:آمین
(5)خبر کے مطابق ایران ان ملکوں کا اتحاد قائم کر رہا ہے جو مسلم ممالک کی حفاظت کر سکے۔لیبیا کےبکرنل معمر قذافی نے افریقہ کے اکہتر ملکوں کا اتحاد قائم کرنے کی پلاننگ کر رہا تھا،لیکن لیبیا میں بغاوت کروا کر اس کی حکومت ختم کر دی گئی اور کرنل معمر قذافی کو بھی ہلاک کر دیا گیا۔ذو الفقار علی بھٹو نے بھی مسلم ممالک کے اتحاد کی کوشش کی تھی،لیکن اس کو بھی حکومت سے بے دخل کر دیا گیا اور انجام کار اس کو پھانسی دی گئی۔امریکی خفیہ ایجنسی ایسا کوئی اتحاد قائم ہونے نہیں دیتی ہے جس سے امریکی سامراجیت کو خطرہ ہو۔اب ایران کس حد تک کامیاب ہوتا ہے،یہ آنے والا وقت بتائے گا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:05:دسمبر 2023
❤1
حضرت شیخ احمد بن ابی الحسن المعروف ابن الرفاعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ذوالمقامات العلیۃ ولا حوال السنیۃ خرق سبحانہ علی یدیہ العوابد وقلب لہ الا عیان والظھر العجائب ولکن اصحابہ ففیھم الجید والری یدخل بعضھم النیران ویلعب یالحیات وھذا ماعرفہ الشیخ ولا صلحاء اصحابہ نعوذ بااللہ من الشیطان
یعنی: آپ بڑے مقامات اور بزرگ حالات رکھتے تھے ۔ اللہ سبحانہ نے ان کے ہاتھ پر بہت سے خرق عادات اور قلب ماہیات کی ہیں ۔ عجائبات ظاہر کیے ہیں، لیکن ان کے مرید اچھے بھی ہیں اور ردی بھی ہیں ۔ بعض ردی آگ میں گھس جاتے تھے ۔ سانپوں سے کھیلتے تھے، لیکن اس کو شیخ پسند نہ کرتے تھے اور نہ ان کے نیک بخت مرید شیطان سے پناہ مانگتے تھے ۔
آپ امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں ۔ ان کے خرقہ کی نسبت پانچ واسطہ سے حضرت شیخ شبلی علیہ الرحمہ تک پہنچی ہے ۔ ام عبید کے رہنے والے ہیں، جو کہ بطائح کے علاقہ میں ہے ۔ ابو الحسن علی جو آپ کے بھانجے ہیں ۔
بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ان کے خلوت خانہ کے دروازہ پر بیٹھا ہوا تھا ۔ اتنے میں ان کے پاس کسی کی آواز سنی ۔ جب میں نے دیکھا تو ان کے پاس ایک ایسا شخص بیٹھا ہوا دیکھا کہ پہلے اس سے میں نے اس کو کبھی نہ دیکھا تھا ۔ دیر تک ہم باتیں کرتے رہے ۔ پھر وہ شخص خلوت خانہ کی کھڑکی سے باہر نکل گیا اور بجلی کی طرح ہوا میں اڑ گیا ۔ تب میں شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ یہ کون شخص تھا؟ کہا، کیا تم نے اس کو دیکھا، میں نے کہا، ہاں، کہا، یہ وہ شخص ہے کہ خدائے تعالیٰ محیط سمندر کی اس سے حفاظت کرتا ہے ۔ چار مردوں سے ایک یہ ہے ۔ تین دن ہو گئے ہیں کہ یہ مہجور اور معزول ہے، لیکن خود نہیں جانتا ۔
میں نے کہا، اے میرے سردار اس کی مہجوری کا کیا سبب ہے؟ کہا، یہ بحر محیط کے ایک جزیرہ میں رہتا ہے ۔ وہاں تین دن تک متواتر بارش ہوتی رہی ۔ اس کے دل میں یوں آیا کہ کاش یہ بارش آبادی میں برستی ۔ اس کے بعد استغفار کیا ۔ سو اس اغراض کے سبب مہجور یعنی خدا سے دور جا پڑا ہے ۔ میں نے کہا، سیدی تم نے اس کو مہجوری کی خبر بھی کی ۔ کہا، نہیں مجھے شرم آئی ۔ میں نے کہا، اگر فرمائیں تو میں اس کو خبر دوں ۔ کہا، تم کر دوگے ۔ میں نے کہا، ہاں ۔ کہا، اپنے گریبان میں سر کر لے ۔ میں نے کر لیا ۔ میرے کان میں ایک آواز آئی کہ اے علی اپنا سر نکال مین نے سر نکالا تو اپنے آپ کو بحر محیط کے ایک جزیرہ میں دیکھا ۔
تب میں اپنے کام میں حیران رہ گیا ۔ میں اٹھا اور تھوڑی دیر تک گیا ۔ اس مرد کو دیکھا تو میں نے اس کو سلام کہا اور وہ قصہ میں نے اس کو کہا، مجھے قسم دی کہ جو کچھ میں کہوں وہی کرنا ۔ میں نے کہا، ہاں ایسا ہی کروں گا ۔ کہا، میرے خرقہ کو میری گردن میں ڈال اور مجھ کو زمین پر کھینچ اور کہو یہ اس شخص کی سزا ہے کہ خدائے تعالیٰ پر اعتراض کرے ۔ میں نے خرقہ کو اس کی گردن میں ڈالا اور چاہا کہ اس کو کھینچوں ۔ اتنے میں ہاتف نے آواز دی کہ اے علی اس کو چھوڑ دے ۔ کیونکہ آسمان کے فرشتے رونے لگے ہیں ۔ خدائے تعالیٰ ان سے خوش ہو گیا ۔ جب میں نے یہ آواز سنی تو بے ہوش ہو گیا ۔ جب ہوش میں آیا تو اپنے آپ کو اپنے ماموں کے پاس دیکھا ۔ واللہ مجھے معلوم نہ ہوا کہ کیونکر وہاں گیا اور کس طرح واپس آیا ۔
ذوالمقامات العلیۃ ولا حوال السنیۃ خرق سبحانہ علی یدیہ العوابد وقلب لہ الا عیان والظھر العجائب ولکن اصحابہ ففیھم الجید والری یدخل بعضھم النیران ویلعب یالحیات وھذا ماعرفہ الشیخ ولا صلحاء اصحابہ نعوذ بااللہ من الشیطان
یعنی: آپ بڑے مقامات اور بزرگ حالات رکھتے تھے ۔ اللہ سبحانہ نے ان کے ہاتھ پر بہت سے خرق عادات اور قلب ماہیات کی ہیں ۔ عجائبات ظاہر کیے ہیں، لیکن ان کے مرید اچھے بھی ہیں اور ردی بھی ہیں ۔ بعض ردی آگ میں گھس جاتے تھے ۔ سانپوں سے کھیلتے تھے، لیکن اس کو شیخ پسند نہ کرتے تھے اور نہ ان کے نیک بخت مرید شیطان سے پناہ مانگتے تھے ۔
آپ امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں ۔ ان کے خرقہ کی نسبت پانچ واسطہ سے حضرت شیخ شبلی علیہ الرحمہ تک پہنچی ہے ۔ ام عبید کے رہنے والے ہیں، جو کہ بطائح کے علاقہ میں ہے ۔ ابو الحسن علی جو آپ کے بھانجے ہیں ۔
بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ان کے خلوت خانہ کے دروازہ پر بیٹھا ہوا تھا ۔ اتنے میں ان کے پاس کسی کی آواز سنی ۔ جب میں نے دیکھا تو ان کے پاس ایک ایسا شخص بیٹھا ہوا دیکھا کہ پہلے اس سے میں نے اس کو کبھی نہ دیکھا تھا ۔ دیر تک ہم باتیں کرتے رہے ۔ پھر وہ شخص خلوت خانہ کی کھڑکی سے باہر نکل گیا اور بجلی کی طرح ہوا میں اڑ گیا ۔ تب میں شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ یہ کون شخص تھا؟ کہا، کیا تم نے اس کو دیکھا، میں نے کہا، ہاں، کہا، یہ وہ شخص ہے کہ خدائے تعالیٰ محیط سمندر کی اس سے حفاظت کرتا ہے ۔ چار مردوں سے ایک یہ ہے ۔ تین دن ہو گئے ہیں کہ یہ مہجور اور معزول ہے، لیکن خود نہیں جانتا ۔
میں نے کہا، اے میرے سردار اس کی مہجوری کا کیا سبب ہے؟ کہا، یہ بحر محیط کے ایک جزیرہ میں رہتا ہے ۔ وہاں تین دن تک متواتر بارش ہوتی رہی ۔ اس کے دل میں یوں آیا کہ کاش یہ بارش آبادی میں برستی ۔ اس کے بعد استغفار کیا ۔ سو اس اغراض کے سبب مہجور یعنی خدا سے دور جا پڑا ہے ۔ میں نے کہا، سیدی تم نے اس کو مہجوری کی خبر بھی کی ۔ کہا، نہیں مجھے شرم آئی ۔ میں نے کہا، اگر فرمائیں تو میں اس کو خبر دوں ۔ کہا، تم کر دوگے ۔ میں نے کہا، ہاں ۔ کہا، اپنے گریبان میں سر کر لے ۔ میں نے کر لیا ۔ میرے کان میں ایک آواز آئی کہ اے علی اپنا سر نکال مین نے سر نکالا تو اپنے آپ کو بحر محیط کے ایک جزیرہ میں دیکھا ۔
تب میں اپنے کام میں حیران رہ گیا ۔ میں اٹھا اور تھوڑی دیر تک گیا ۔ اس مرد کو دیکھا تو میں نے اس کو سلام کہا اور وہ قصہ میں نے اس کو کہا، مجھے قسم دی کہ جو کچھ میں کہوں وہی کرنا ۔ میں نے کہا، ہاں ایسا ہی کروں گا ۔ کہا، میرے خرقہ کو میری گردن میں ڈال اور مجھ کو زمین پر کھینچ اور کہو یہ اس شخص کی سزا ہے کہ خدائے تعالیٰ پر اعتراض کرے ۔ میں نے خرقہ کو اس کی گردن میں ڈالا اور چاہا کہ اس کو کھینچوں ۔ اتنے میں ہاتف نے آواز دی کہ اے علی اس کو چھوڑ دے ۔ کیونکہ آسمان کے فرشتے رونے لگے ہیں ۔ خدائے تعالیٰ ان سے خوش ہو گیا ۔ جب میں نے یہ آواز سنی تو بے ہوش ہو گیا ۔ جب ہوش میں آیا تو اپنے آپ کو اپنے ماموں کے پاس دیکھا ۔ واللہ مجھے معلوم نہ ہوا کہ کیونکر وہاں گیا اور کس طرح واپس آیا ۔
❤1
جب کسی وقت کوئی شخص سیدی احمد سے تعویذ مانگتا اور کاغذ لاتا کہ وہ کچھ لکھ دیں " اگر سیاہی نہ ہوتی تو کاغذ لیتے اور سیاہی کے بغیر لکھ دیتے ۔ ایک دفعہ ایک شخص کے لیے بے سیاہی تعویذ لکھ دیا اور مدت تک وہ غائب رہا ۔ اس کے بعد پھر اسی کاغذ کو امتحاناً لایا اور کہا " اے شیخ اس پر آپ دعا لکھ دیں ۔ جب آپ نے اس کاغذ کو دیکھا تو کہا " اے فرزند یہ کاغذ لکھا ہوا ہے اور واپس دے دیا ۔
ایک دن آپ کے دو مرید جنگل میں گئے مل کر بیٹھے اور باتیں کرتے رہے ۔ ایک نے دوسرے سے کہا کہ تم اس مدت تک سیدی احمد کی خدمت سے کیا کچھ حاصل ہوا ؟
کہا " تم جو کچھ آرزو کرتے ہو " کرو ۔ اس نے کہا " اے میرے سردار میں چاہتا ہوں کہ اسی وقت ہماری دوزخ کی آزادی کا کاغذ آسمان سے اترے ۔ دوسرے نے کہا " خدا کا بہت کرم ہے اور اس کا فضل بے حد ۔
اس حالت میں یہ باتیں کر رہے تھے کہ دفعۃً ایک سفید ورق آسمان سے نیچے گرا ۔ اس کو لے لیا ۔ اس میں کچھ نہ لکھا تھا ۔ تب وہ سیدی احمد کی خدمت میں آئے اور اپنا احوال کچھ بھی نہ کہا ۔ صرف اس کاغذ کو آپ کو دے دیا ۔ جب سیدی نے اس کاغذ کو دیکھا تو خدا کو سجدہ کیا ۔ جب سجدہ سے سر اٹھایا تو کہا، قدرت کے ہاتھ سیاہی سے نہیں لکھا کرتے ۔ یہ خط نور سے لکھا ہوا ہے اور کہا ۔
الحمد اللہ الذی ارانی عتق اصحابی من النار فی الدنیا قب الاخرات
یعنی: خدا کی تعریف ہے ۔ جس نے کہا میرے مریدوں کا دوزخ سے آزاد ہونا، دنیا میں آخرت سے پہلے ہی دِکھا دیا ـ
کہتے ہیں، باوجود عبادت میں کمال مشغول رہنے کے ان کے لطیف اشعار بھی ہیں ۔ ان میں سے بعض یہ ہیں ۔
اذا جن لیل ھام قلبی بذ کرکم
انوح کما ناح الحام المطوق
وفوقی سحاب بمطر الھم والاسی
وتحتی بحار الھوی تندفق
سلوا ام عمرو کیف بات اسیرھا
تفک الا ساری دونہ وھو موثق
فلا ھو مقتول ففی القتل راحۃ
ولا ھو ممنون علیہ فیطلق
یعنی: جب رات پڑتی ہے تو میرا دل تمہاری یاد سے حیران ہو جاتا ہے ۔ میں ایسی فریاد کرتا ہوں ۔ جس طرح کبوتری طوق دار چلاتی ہے ۔ میرے اوپر ایک بادل ہے، جو کہ غم و رنج کو برساتا ہے اور میرے نیچے عشق کے سمندر ہیں، جو کہ جوش مارتے ہیں ۔ ام عمر سے پوچھو کہ تمہارے قیدی عشق نے کیونکر رات کاٹی ہے ۔ اس کے سوا اور قیدیوں کی زنجیریں کھول دیں گئیں اور وہ بندھا ہے ۔ وہ مقتول بھی نہیں ہوا ۔ کیونکہ قتل میں راحت ہےاور نہ وہ ایسا ہے کہ اس پر احسان رکھ کر اس کو چھوڑ دیا جائے ۔
بعض کہتے ہیں انہوں نے یہ اشعار قوال سے سنے تھے اور انہیں کے سننے سے وہ دنیا سے رحلت کر گئے تھے ۔
وصال:
آپ رضی اللہ عنہ جمعرات کے دن ۲۲ جمادی الاولیٰ ۵۷۸ھ میں فوت ہوئے ہیں ۔
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-abbas-ahmad-bin-abi-al-hasan-ibn-e-al-rifa-ee
ایک دن آپ کے دو مرید جنگل میں گئے مل کر بیٹھے اور باتیں کرتے رہے ۔ ایک نے دوسرے سے کہا کہ تم اس مدت تک سیدی احمد کی خدمت سے کیا کچھ حاصل ہوا ؟
کہا " تم جو کچھ آرزو کرتے ہو " کرو ۔ اس نے کہا " اے میرے سردار میں چاہتا ہوں کہ اسی وقت ہماری دوزخ کی آزادی کا کاغذ آسمان سے اترے ۔ دوسرے نے کہا " خدا کا بہت کرم ہے اور اس کا فضل بے حد ۔
اس حالت میں یہ باتیں کر رہے تھے کہ دفعۃً ایک سفید ورق آسمان سے نیچے گرا ۔ اس کو لے لیا ۔ اس میں کچھ نہ لکھا تھا ۔ تب وہ سیدی احمد کی خدمت میں آئے اور اپنا احوال کچھ بھی نہ کہا ۔ صرف اس کاغذ کو آپ کو دے دیا ۔ جب سیدی نے اس کاغذ کو دیکھا تو خدا کو سجدہ کیا ۔ جب سجدہ سے سر اٹھایا تو کہا، قدرت کے ہاتھ سیاہی سے نہیں لکھا کرتے ۔ یہ خط نور سے لکھا ہوا ہے اور کہا ۔
الحمد اللہ الذی ارانی عتق اصحابی من النار فی الدنیا قب الاخرات
یعنی: خدا کی تعریف ہے ۔ جس نے کہا میرے مریدوں کا دوزخ سے آزاد ہونا، دنیا میں آخرت سے پہلے ہی دِکھا دیا ـ
کہتے ہیں، باوجود عبادت میں کمال مشغول رہنے کے ان کے لطیف اشعار بھی ہیں ۔ ان میں سے بعض یہ ہیں ۔
اذا جن لیل ھام قلبی بذ کرکم
انوح کما ناح الحام المطوق
وفوقی سحاب بمطر الھم والاسی
وتحتی بحار الھوی تندفق
سلوا ام عمرو کیف بات اسیرھا
تفک الا ساری دونہ وھو موثق
فلا ھو مقتول ففی القتل راحۃ
ولا ھو ممنون علیہ فیطلق
یعنی: جب رات پڑتی ہے تو میرا دل تمہاری یاد سے حیران ہو جاتا ہے ۔ میں ایسی فریاد کرتا ہوں ۔ جس طرح کبوتری طوق دار چلاتی ہے ۔ میرے اوپر ایک بادل ہے، جو کہ غم و رنج کو برساتا ہے اور میرے نیچے عشق کے سمندر ہیں، جو کہ جوش مارتے ہیں ۔ ام عمر سے پوچھو کہ تمہارے قیدی عشق نے کیونکر رات کاٹی ہے ۔ اس کے سوا اور قیدیوں کی زنجیریں کھول دیں گئیں اور وہ بندھا ہے ۔ وہ مقتول بھی نہیں ہوا ۔ کیونکہ قتل میں راحت ہےاور نہ وہ ایسا ہے کہ اس پر احسان رکھ کر اس کو چھوڑ دیا جائے ۔
بعض کہتے ہیں انہوں نے یہ اشعار قوال سے سنے تھے اور انہیں کے سننے سے وہ دنیا سے رحلت کر گئے تھے ۔
وصال:
آپ رضی اللہ عنہ جمعرات کے دن ۲۲ جمادی الاولیٰ ۵۷۸ھ میں فوت ہوئے ہیں ۔
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-abbas-ahmad-bin-abi-al-hasan-ibn-e-al-rifa-ee
❤1
حضرت سید علیم اللہ چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آبائی وطن اور شجرۂ نسب:
آپ قصبہ جالندھر کے سادات گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ـ آپ کا شجرہ نسب زید بن حسن رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ـ
بیعت:
آپ شاہ ابو المعالی قدس سرہ کے مرید تھے ـ
تعلیم:
ظاہری علوم میں کمال حاصل کیا اور علماء وقت میں ممتاز ہوئے ـ
تصنیفات:
آپ کی تصانیف میں انہار الاسرار شرح بوستان سعدی نزہتہ السالکین شرح اخلاق ناصری ۔ زبدۃ الروایات نثر الجواہر جو اندر مرجان کا فارسی ترجمہ ہے جس میں بلند پایا کتابیں یاد گار زمانہ ہیں ـ
بچپن میں ہی حضرت شاہ ابو المعالی چشتی کی خدمت میں رہنے لگے تھے مگر بڑے ہوئے تو آپ کو سید میراں بھیکھہ رحمۃ اللہ علیہ سے خرقۂ خلافت ملا ۔
آپ کی ساری عمر طلباء کی تعلیم اور خدامین کی تلقین میں گزری آپ کا شعری مذاق بڑا بلند تھا اور شعر خاص انداز میں کہتے تھے ہم آپ کی ایک غزل کا مطلع و مقطع دیتے ہیں ۔
یار از خلوت گہہ قدسی عیاں تاختہ
تیغ استغنا بگر دن ہائے اعتبار آختہ
از تلو نہائے تو شکر لباں گا علیم
ہمچو سیخ افسردہ گاہے چوں نمک بگداختہ
آپ کی کرامات اسرار تعلیم مولّفہ شیخ عبد اللہ قدس سرہ میں کثرت سے بیان کی گئی ہیں مگر ہم یہاں آپ کے تصرفات کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں ۔ آدینہ بیگ فوجدار دوآبہ جالندھر کے زمانہ میں ایک شخص صدیق بیگ کو قصبہ نور محل کا حاکم بنا دیا گیا اس نے نور محل پہنچتے ہی سب سے پہلا اقدام یہ کیا کہ ایک سید جو جالندھر کے سادات میں سے تھا کی تمام جائیداد ضبط کرلی اور ساتھ ہی تیس روپے جرمانہ بھی طلب کرلیا اس سیّد نے حضرت شاہ علیم اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر سفارش کی استدعا کی آپ نے حاکم نور محل کے نام ایک سفارشی رقعہ لکھا مگر حاکم نے قبول نہ کیا اور بڑی بے ہودہ باتیں کیں ۔ دوسرے ہی دن آدینہ بیگ نے اس حاکم کو کسی پرانے جرم میں طلب کر کے قید کر دیا اور تیس ہزار تاوان بھی مقرر کر دیا گیا ۔
آپ بائیس جمادی الاوّل ۱۱۰۹ھ کو پیدا ہوئے اور سولہ (۱۶) صفر ۱۲۰۲ھ کو فوت ہوئے آپ کا مزار جالندھری شہر میں ہے آپ کے مزار پر آفتاب چشتیہ (۱۲۰۲ھ) سے تاریخ نکال کر پتھر پر لکھی ہوئی ہے ۔
حضرت سید علیم اللہ پیر
صاحب صدق و صفا خیر الانام
فیض دیدار است تولیدش عیاں
سال ترحیلش بگو شیخ الکرام ۱۲۰۲ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-aleemullah-chishti
آبائی وطن اور شجرۂ نسب:
آپ قصبہ جالندھر کے سادات گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ـ آپ کا شجرہ نسب زید بن حسن رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ـ
بیعت:
آپ شاہ ابو المعالی قدس سرہ کے مرید تھے ـ
تعلیم:
ظاہری علوم میں کمال حاصل کیا اور علماء وقت میں ممتاز ہوئے ـ
تصنیفات:
آپ کی تصانیف میں انہار الاسرار شرح بوستان سعدی نزہتہ السالکین شرح اخلاق ناصری ۔ زبدۃ الروایات نثر الجواہر جو اندر مرجان کا فارسی ترجمہ ہے جس میں بلند پایا کتابیں یاد گار زمانہ ہیں ـ
بچپن میں ہی حضرت شاہ ابو المعالی چشتی کی خدمت میں رہنے لگے تھے مگر بڑے ہوئے تو آپ کو سید میراں بھیکھہ رحمۃ اللہ علیہ سے خرقۂ خلافت ملا ۔
آپ کی ساری عمر طلباء کی تعلیم اور خدامین کی تلقین میں گزری آپ کا شعری مذاق بڑا بلند تھا اور شعر خاص انداز میں کہتے تھے ہم آپ کی ایک غزل کا مطلع و مقطع دیتے ہیں ۔
یار از خلوت گہہ قدسی عیاں تاختہ
تیغ استغنا بگر دن ہائے اعتبار آختہ
از تلو نہائے تو شکر لباں گا علیم
ہمچو سیخ افسردہ گاہے چوں نمک بگداختہ
آپ کی کرامات اسرار تعلیم مولّفہ شیخ عبد اللہ قدس سرہ میں کثرت سے بیان کی گئی ہیں مگر ہم یہاں آپ کے تصرفات کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں ۔ آدینہ بیگ فوجدار دوآبہ جالندھر کے زمانہ میں ایک شخص صدیق بیگ کو قصبہ نور محل کا حاکم بنا دیا گیا اس نے نور محل پہنچتے ہی سب سے پہلا اقدام یہ کیا کہ ایک سید جو جالندھر کے سادات میں سے تھا کی تمام جائیداد ضبط کرلی اور ساتھ ہی تیس روپے جرمانہ بھی طلب کرلیا اس سیّد نے حضرت شاہ علیم اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر سفارش کی استدعا کی آپ نے حاکم نور محل کے نام ایک سفارشی رقعہ لکھا مگر حاکم نے قبول نہ کیا اور بڑی بے ہودہ باتیں کیں ۔ دوسرے ہی دن آدینہ بیگ نے اس حاکم کو کسی پرانے جرم میں طلب کر کے قید کر دیا اور تیس ہزار تاوان بھی مقرر کر دیا گیا ۔
آپ بائیس جمادی الاوّل ۱۱۰۹ھ کو پیدا ہوئے اور سولہ (۱۶) صفر ۱۲۰۲ھ کو فوت ہوئے آپ کا مزار جالندھری شہر میں ہے آپ کے مزار پر آفتاب چشتیہ (۱۲۰۲ھ) سے تاریخ نکال کر پتھر پر لکھی ہوئی ہے ۔
حضرت سید علیم اللہ پیر
صاحب صدق و صفا خیر الانام
فیض دیدار است تولیدش عیاں
سال ترحیلش بگو شیخ الکرام ۱۲۰۲ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-aleemullah-chishti
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-05-1445 ᴴ | 06-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-05-1445 ᴴ | 07-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2