🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

دنیا چڑھتے سورج کو سلام کرتی ہے

اسرائیل نے جنگی جہازوں سے بمباری کر کے تقریبا چودہ ہزار عام فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کر دیا۔ان میں بچوں،بوڑھوں اور عورتوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔اسرائیل نے غزہ پٹی کے نصف علاقے کو عام شہریوں سے خالی کرا لیا۔بے شمار عمارتوں،اسکولوں،اسپتالوں اور مسجدوں کو بھی تباہ وبرباد کر دیا۔

حماس کے پاس جنگی جہازوں کو مار گرانے کا مستحکم نظام نہیں ہے،لہذا یہودیوں نے جنگی جہازوں سے عام شہریوں کو بے دریغ ہلاک کیا اور بے شمار عمارتوں کو تہس نہس کر دیا۔لیکن زمینی حملوں کا حال بالکل برعکس ہے۔حماس کے سپاہی اسرائیل کے جنگی ٹینکوں کو ایسے تباہ کر رہے ہیں جیسے بچے ڈھیلے پھینک کر مٹی کی ہانڈیوں کو توڑ دیتے ہیں۔یہودی ٹینکوں کی تباہی کا منظر دیکھنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیلی ٹینک نیست ونابود ہونے کے لئے ہی غزہ پٹی میں داخل ہوئے ہیں۔اگر حماس اسی طرح کاروائی کرتا رہا تو زمینی جنگ میں اسرائیل کی تاریخی شکست یقینی ہے۔

بسا اوقات یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ حماس نے اسرائیل کے جنگی ہیلی کاپٹروں کو ایسے مار گرایا جیسے بچے غلیل سے کوے مار گراتے ہیں۔

  اب تو اسرائیلی شہروں پر بھی بمباری ہو رہی ہے اور دنیا کی خبیث ترین قوم یعنی خروج دجال کی امید لگائے بیٹھے غاصب وظالم یہودی اسرائیل چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں اور بہت سے یوروپین ممالک اسرائیل کا ساتھ دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ان شاء اللہ تعالی حماس مضبوطی کے ساتھ میدان میں ڈٹا رہا تو دیگر ممالک بھی اسرائیل کے خلاف ہو جائیں گے۔

ع/ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:15:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

تمام ہیرو مسلمانوں کے سامنے زیرو

سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کے پاس کوئی مرکزی قوت نہیں۔او آئی سی یا عرب لیگ کی حالت جگ ظاہر ہے۔اس عہد زوال میں مسلمانوں نے دنیا کی سپر پاور طاقتوں کو شکست وریخت سے دو چار کیا ہے۔

روس وامریکہ یقینا بڑے طاقتور اور سپر پاور ملک ہیں۔لیکن یہ ممالک ناقابل تسخیر نہیں۔ افغانستان وچیچینیا نے روس کو شکست فاش دی،پھر اسی افغانستان نے امریکہ کو اپنے ملک سے باہر نکالا۔

اسرائیل کے بارے میں بھی بہت سے حقائق یا افسانے مشہور ہیں۔اسرائیل کی فوج دنیا کی بہت طاقتور فوج مانی جاتی ہے۔اس کے جنگی ہتھیاروں کو بہت مستحکم ہتھیار مانا جاتا ہے۔اس کے محکمہ انٹلی جنس یعنی موساد کو دنیا کا ماہر ترین شعبہ انٹلی جنس مانا جاتا ہے۔آئرن ڈوم کا شہرہ بھی آسمان کی بلندیاں چھو رہا ہے،لیکن حماس کے سامنے اسرائیل کی فوج،اس کے جنگی ہتھیار،اس کا محکمہ انٹلی جنس اور آئرن ڈوم سب زیرو نظر آ رہے ہیں۔

غزہ پٹی میں اسرائیل کے جنگی ٹینک تباہ کئے جا رہے ہیں۔اسرائیلی فوجی مسلسل مارے جا رہے ہیں۔موساد مسلسل بے دست و پا نظر آ رہا ہے۔اسرائیلی شہروں پر بمباری ہو رہی ہے اور میزائیل بھی داغے جا رہے ہیں۔اسرائیل کا آئرن ڈوم سسٹم دہشت کے مارے خاموش ہو چکا ہے۔دنیا کی بدترین قوم یہودی اپنے گھروں کو چھوڑ کر اسرائیل سے بھاگ رہی ہے۔

انہی مقامات پر مسلمان مارے اور کاٹے جاتے ہیں،جہاں انہوں نے ڈیفنس کی خاطر خواہ تیاری نہ کی ہو۔ہم کسی بے قصور پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتے،لیکن جو ہم پر ظلم وستم ڈھائے تو ہمیں ڈیفنس کا حق اسلامی قانون بھی دیتا ہے اور ملکی وعالمی قانون بھی۔مسلمانوں کو اپنا دفاع کرنا ہو گا،تب اللہ تعالی کی مدد مسلمانوں کی دستگیری کرے گی۔

ابھی عالمی وملکی میڈیا دو خیموں میں منقسم ہو چکا ہے۔میڈیا سے صحیح جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کریں۔حماس کے مسلسل حملوں سے اسرائیل بدحواس ہو چکا ہے۔اسرائیلی فوج حماس کا مقابلہ نہیں کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ہاں،یہودی فوج نہتے شہریوں پر حملے کرتی ہے اور اسرائیل کے جنگی جہاز عام شہریوں پر بمباری کرتے ہیں۔حماس کو اسرائیل کے ہوائی حملے روکنے کی تدبیر کرنی چاہئے۔

جنگ بندی جلد ہو گی یا کچھ وقت لگے گا،یہ بتانا مشکل ہے۔امید ہے کہ نومبر کے اخیر تک منظر نامہ بدل جائے،کیوں کہ حماس کے حملے تیز ہوتے جا رہے ہیں اور اسرائیلی شہروں پر مسلسل بمباری جاری ہے۔مغربی ودجالی میڈیا کب تک اسرائیل کی عزت بچائے گا۔دیگر ذرائع سے حقائق سامنے آ رہے ہیں۔سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ چالیس دنوں سے مسلسل جنگ جاری ہے۔اسرائیل کی طاقتور فوج اب تک حماس کا خاتمے کیوں نہیں کر سکی۔سچ تو یہ ہے کہ اسرائیلی فوج کے کچھ لوگ روزانہ موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور اسرائیلی ٹینک تباہ وبرباد ہو رہے ہیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:16:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

خفیہ حقائق،غداریاں اور فلسطین

(1)یہود ونصاری،بلکہ تمام غیر مسلم اقوام ہی مسلمانوں کے ازلی دشمن ہیں۔

کافر ہر فرد وفرقہ دشمن ما را
مرتد مشرک یہود وگیر وترسا

(2)عظیم سلطنت عثمانیہ ترکیہ کا وجود ہمیشہ یورپ کے یہود ونصاری کو کھٹکتا رہا۔پہلی جنگ عظیم(1914-1918)میں سلطنت عثمانیہ ترکیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا،حالاں کہ سلطنت عثمانیہ ترکیہ کو اس جنگ سے الگ رہنا چاہیے۔ممکن ہے کہ یوروپین ممالک کے زر خرید مشیروں نے سلطنت عثمانیہ ترکیہ کو جرمنی کا ساتھ دینےکا مشورہ دیا ہو،تاکہ یورپ کے اتحادی ممالک سلطنت عثمانیہ کونیست ونابود کر سکیں،کیوں کہ عرب دنیا اور سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے زیر اقتدار علاقوں میں یہود ونصاری سلطنت عثمانیہ کے بہت سے غدار تلاش کر چکے تھے۔

پھر ایسا ہی ہوا کہ سلطنت عثمانیہ ترکیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا اور جرمنی کو شکست ہوئی اور سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے غداروں نے داخلی انتشار پھیلایا،سلطنت عثمانیہ ترکیہ سے غداری کی اور عرب ممالک اور دیگر بہت سے علاقوں پر سلطنت عثمانیہ ترکیہ کا کنٹرول قائم نہیں رہ سکا۔یورپ کی اتحادی طاقتوں نے سلطنت عثمانیہ ترکیہ سے الگ ہونے والے علاقوں کو چھوٹے چھوٹے ممالک میں تقسیم کر دیا اور سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے غداروں کو ان ممالک کا اقتدار سونپ دیا۔وہ بظاہر مسلمان اور کلمہ گو ہیں،لیکن مسلمانوں کی بھلائی اور خیر خواہی نہیں کر سکتے،بلکہ اپنے آقاؤں کی وفاداری نبھائیں گے۔

یوروپین ممالک ان عرب علاقوں کو بھی چھوٹے چھوٹے ممالک میں تقسیم کیا،تاکہ یہ ممالک کبھی طاقتور نہ ہو سکیں،نیز بعد میں کسی نے آنکھ دکھانے کی کوشش کی تو اسے کچل بھی دیا گیا۔

(3)سلطنت عثمانیہ ترکیہ کو نیست ونابود کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یوروپین سائنس دانوں نے یہ معلوم کر لیا تھا کہ مشرق وسطی اور عرب علاقوں میں تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ان ذخائر پر اہل یوروپ قبضہ کرنا چاہتے تھے۔اس کی صورت یہی تھی کہ سلطنت عثمانیہ ترکیہ کا اقتدار ان علاقوں سے ختم کر دیا جائے۔

پہلی جنگ عظیم کے موقع پر ان علاقوں سے سلطنت عثمانیہ ترکیہ کا اقتدار ختم ہو گیا اور اب ان علاقوں میں یوروپین ممالک کے غلام اور سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے غدار بر سر اقتدار آ چکے تھے،لیکن غدار کسی سے بھی غداری کر سکتا ہے،لہذا فلسطین کو یہودیوں کا مسکن بتا کر یہودیوں کو فلسطین میں بسایا جانے لگا اور پھر 1948 میں ایک یہودی ملک"اسرائیل"کے نام سے بنا دیا گیا۔اسرائیل کو مالی امداد اور ہتھیاروں کے ذریعہ مضبوط بنایا گیا،پھر کئی بار عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ مقابلہ آرائی کئے اور ہار گئے۔

خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ غلام ممالک کو یہی پلان دیا گیا تھا کہ تمہیں اسرائیل سے ہار جانا ہے،تاکہ اسرائیل کی دہشت مشرق وسطی میں قائم ہو جائے اور اسے ناقابل تسخیر سمجھا جائے اور مشرق وسطی یوروپین ممالک کے غلام بنے رہیں۔ان ممالک کے عوام شور وہنگامہ نہ کریں۔اگر یہ بات حقیقت ہے تو پھر عرب ممالک سو بار بھی اسرائیل سے جنگ لڑیں گے تو سو بار بھی جان بوجھ کر شکست کھائیں گے۔

مسلم ممالک میں موجود ملیشیا یعنی رضا کارانہ فوجی گروہ یوروپین ممالک کے غلام نہیں،لہذا وہ اہل یورپ کی بات نہیں مانیں گے اور یورپ وامریکہ ان فوجی گروہوں کو نیست ونابود کرنے کے واسطے کوشش کرتا رہے گا۔

چوں کہ فلسطین کی موجودہ فوجی جماعتیں یورپ وامریکہ کے زیر اثر نہیں ہیں،لہذا وہ مکمل کوشش میں ہیں کہ اسرائیل کو شکست دی جائے اور سازش کے ذریعہ قائم کی جانے والی اسرائیل کی فوقیت وبرتری کو تہس نہس کر دیا جائے۔اس سے پہلے بھی حزب اللہ نے اسرائیل کی دادا گیری کو ملیامیٹ کر دیا تھا۔

(4)او آئی سی اور عرب لیگ میں یورپ وامریکہ کے غلام ممالک شامل ہیں۔اگر اسرائیل کے خلاف کوئی تجویز آئے گی تو ہرگز اس پر اتفاق نہیں ہو سکے گا۔چند ممالک مخالفت کریں گے،تاکہ تجویز پاس نہ ہو سکے۔
سازشی انداز میں اکثر ممالک ان تجاویز کے حق میں ہوں گے،تاکہ عوام کو غلام ممالک کی گہری سازش کا علم نہ ہو سکے۔

(5)پہلی جنگ عظیم کے وقت جب سلطنت عثمانیہ ترکیہ کو شکست ہوئی تو برطانیہ نے 1917 میں فلسطین کو اپنی تحویل میں لے لیا۔فلسطین کسی غدار کو نہیں دیا گیا،کیوں کہ یوروپین ممالک فلسطین میں یہودیوں کو آباد کرنا چاہتے تھے۔1948 میں فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ایک حصہ یہودیوں کو دیا گیا اور ایک حصہ فلسطینی مسلمانوں کو دیا گیا۔اس کے بعد اسرائیل نے رفتہ رفتہ فلسطین کے دیگر حصوں پر بھی قبضہ کر لیا۔اب غزہ پٹی اور ویسٹ بینک فلسطین میں ہے اور دیگر سارے علاقے اسرائیل میں شامل ہیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:18:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

امام مہدی کا ظہور اور دجال کا خروج بہت دور

(1)ابھی نہ حضرت امام مہدی رضی اللہ تعالی عنہ کا ظہور ہو گا،نہ ہی دجال کا خروج ہو گا،نہ ہی حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کا نزول ہو گا۔ابھی بہت سی نشانیاں باقی ہیں۔

(2)دجال کے ساتھ اصفہان کے یہودیوں کا ستر ہزار لشکر ہو گا اور ستر ہزار کلمہ اسلام پڑھنے والے بدمذہبوں کا لشکر ہو گا۔جس طرح ابھی بہت سے کلمہ گو یہودیوں کے ساتھ کھڑے ہیں،اسی طرح ستر ہزار کلمہ گو دجال کے لشکر میں ہوں گے،کیوں کہ ان کے یہودی دوست دجال کے ساتھ نکلیں گے۔ابھی سعودی میں فلسطینی مسلمانوں کے لئے دعا کرنے پر بھی پابندی ہے۔

(3)خروج دجال کے وقت اسرائیل کا وجود رہے گا یا نہیں۔یہ اللہ تعالی کو معلوم ہے۔ابھی تو اسرائیل کا وجود ہی خطرے میں ہے۔

(4)بھارتی گودی میڈیا کی طرح دنیا بھر میں پروپیگنڈہ میڈیا ہے جو روزانہ یہ بیان دے رہا ہے کہ آج حماس کا نام ونشان مٹ جائے گا،لیکن آج تک وہ آج نہیں آ سکا۔کہیں وہ آج نہ آ جائے جس دن اسرائیل اپنا وجود کھو بیٹھے۔

(5) اسرائیل نے نصف غزہ پٹی فلسطینی باشندوں سے خالی کرا لیا۔اب باقی ماندہ نصف حصہ خالی کرانے کی پلاننگ کر رہا ہے۔وہ اس حصے پر بھی بمباری کرے گا،اس کے بعد عرب ممالک کے ملیشیا یقینا میدان میں پوری قوت سے کود پڑیں گے اور اسرائیل کے پاس اتنی قوت نہیں کہ فوجی ملیشیا سے جیت جائے،نہ ہی فوجی ملیشیا کسی کے کنٹرول میں ہے۔اگر اسرائیل اپنا رعب ودبدبہ قائم کرنے کے چکر میں باقی ماندہ غزہ پٹی پر بمباری کرنے کی غلطی کر بیٹھا تو اسرائیل کے حالات بہت خراب ہو سکتے ہیں۔

(6)اسرائیل دہشت گردی کا الزام دے کر فلسطینی مسلمانوں کو گرفتار کر کے اپنے جیلوں میں ڈال دیتا ہے اور انہیں ناقابل بیان اذیتیں دیتا ہے۔ان کے ساتھ جیلوں میں انتہائی غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔حماس اور دیگر ملیشیا کا وجود اسرائیل کے مسلسل ظلم وستم کے سبب ہوا ہے۔

(7)حالیہ دنوں میں قریبا چودہ پندرہ ہزار عام فلسطینی شہریوں کو بمباری کر کے اسرائیل نے ہلاک کر دیا۔اسرائیل فلسطینی عوام تک کسی قسم کی مدد بھی پہنچنے نہیں دے رہا ہے۔غزہ پٹی کے اسپتالوں کو بھی تباہ کرتا جا رہا ہے،تاکہ فلسطینی مسلمان بھوک،پیاس،علاج کی عدم فراہمی اور بیماریوں سے ہلاک ہو جائیں،لیکن ظلم وجبر کی فتح نہیں ہوتی ہے،جب کہ لوگ ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہو جائیں۔ظلم سہنا ظالم کی مدد کرنا ہے۔اللہ تعالی ان کی مدد فرماتا ہے جو لوگ خود اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

جسے نہ ہو خیال خود ہی اپنی حالت بدلنے کا



طارق انور مصباحی

جاری کردہ:18:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

جنگ بندی کا امکان اور اسرائیل کا پلان

(1) اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس وقت تک جنگ جاری رکھے گا جب تک کہ حماس کا خاتمہ نہیں ہو جاتا،لیکن اب ساری دنیا کے حقائق شناسوں کو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو اسرائیل کا خاتمہ ہو جائے گا،لہذا امریکہ سیاسی انداز میں جنگ بندی کی کوشش کر رہا ہے۔

(2)بتایا جاتا ہے کہ شمالی غزہ پٹی میں اسرائیل نے اتنے بم برسایا تھا کہ دوسری جنگ عظیم میں دنیا بھر میں اتنے بم نہیں برسائے گئے تھے،لیکن جنوبی غزہ پٹی میں اسرائیل اس قدر بمباری نہیں کر رہا ہے۔اس کا یہ معنی نہیں کہ دنیا کی بدترین قوم یعنی یہود کے دل میں انسانیت کا جذبہ بیدار ہو گیا ہے،بلکہ وہ جتنے عام فلسطینی شہریوں کو مار رہا ہے،اسی مقدار میں یا اس سے کچھ زیادہ اس کے فوجی حماس وحزب اللہ کے حملوں سے مارے جا رہے ہیں۔اسرائیل کے سرپرستوں کو بخوبی معلوم ہے کہ اسرائیل نے جنوبی غزہ میں بمباری تیز کی تو حزب اللہ اور حماس کے حملے تیز ہوں گے اور اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔

مرتا کیا نہ کرتا۔چین میں اسلامی ممالک کا اجلاس کرایا گیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بار بار جنگ بندی کی آواز اٹھائی گئی کہ غزہ میں بے قصور فلسطینی عوام،عورتوں،بچوں اور بزرگوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔یہ تو بتا نہیں سکتے کہ اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے اور اسرائیلی فوج کا بے تحاشہ جانی ومالی نقصان ہو رہا ہے۔

مسلمانوں کی جان ومال کی تو کچھ پرواہ ہی نہیں ہے۔جب حزب اللہ نے اپنے تیور سخت کئے تو امریکہ بھی حواس باختہ ہو گیا کہ کہیں حزب اللہ اور عرب ممالک کے ملیشیا (غیر سرکاری فوجی گروپ)اسرائیل کا نام ونشان نہ مٹا دیں۔اسرائیل اور مغربی طاقتوں نے داعش کو وجود دیا تھا،حزب اللہ اس کا نام ونشان مٹا چکا تھا۔اب مغربی ملکوں کے فرزند ارجمند مسٹر اسرائیل کی گوشمالی جاری ہے۔ایک دو دن میں جنگ بندی سے متعلق مزید کچھ معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔

ع/ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:21:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

کیا انسانی دلوں میں انسانیت بیدار ہو گئی؟

(1)ممنوعہ جنگی ہتھیار رکھنے کی جھوٹی افواہ کی بنیاد پر امریکہ وبرطانیہ نے عراق پر حملہ کیا تھا اور قریبا دس لاکھ عراقی مارے گئے۔بعد میں امریکہ نے معافی مانگ لی کہ عراق میں کچھ نہیں ملا۔الغرض محض شک کی بنیاد پر عراق کو تباہ وبرباد کر دیا گیا اور دس لاکھ مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا،بعض رپورٹ کے مطابق بیس لاکھ مسلمانوں کو مارا گیا،اسی لاکھ مسلمان اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے،لیکن انسانیت بیدار نہیں ہوئی۔اسی طرح ملک شام،لیبیا،افغانستان میں بھی بے شمار مسلمان مارے گئے،لیکن دنیا تماشا دیکھتے رہی۔دنیا والوں کے دلوں میں انسانیت کا جذبہ بیدار نہیں ہوا۔

(2)اسرائیل کے قیام یعنی 1948 سے آج تک اسرائیل نے بے شمار فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک اور تباہ وبرباد کیا۔ان کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔سات لاکھ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال کر ان کے مکانات پر قبضہ کر لیا،یہودی لوگ فلسطینیوں پر مسلسل وحشیانہ مظالم ڈھاتے رہے،لیکن انسانیت بیدار نہیں ہوئی۔

(3)آج انسانیت بیدار کیسے ہو گئی؟
ابھی فلسطین میں عراق،لیبیا،شام وافغانستان کی طرح تباہی و بربادی نہیں ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق حالیہ اسرائیلی حملوں میں قریبا چودہ ہزار فلسطینی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔دس لاکھ،بیس لاکھ،پندرہ لاکھ انسانوں کی ہلاکت پر دنیا خاموش رہی،لیکن چودہ پندرہ ہزار ہلاکت ہوتے ہی دنیا کے بیشتر ممالک فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔دنیا کے مختلف ممالک میں جنگ بندی کی میٹنگیں ہو رہی ہیں۔اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ فلسطینی کمزور اور مظلوم ہیں،لہذا دنیا مظلوم وکمزور کے ساتھ کھڑی ہو رہی ہے،بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ فلسطین زبردست مقابلہ آرائی کر رہا ہے۔اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور جنگی ٹینکوں کو تباہ کر رہا ہے۔زمینی جنگ میں اسرائیل شکست کھا رہا ہے۔نیز اسرائیلی علاقوں پر سخت بمباری کے سبب اسرائیلی سپاہی مارےجا رہے ہیں اور اسرائیلی شہر تباہ وبرباد ہو رہے ہیں۔روئے زمین کی بدترین قوم یعنی یہودی اپنے گھروں اور شہروں کو چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔

یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ دنیا چڑھتے سورج کو سلام کرتی ہے۔خبر کے مطابق اسرائیل بھی وقتی جنگ بندی کے لیے راضی ہو چکا ہے۔جب کوئی قوم ظالموں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے اور ظالموں کو سخت ٹکر دیتی ہے،تب دنیا کے لوگ مظلوموں سے ہمدردی کا اظہار کرنے لگتے ہیں،کیوں کہ مظلوموں کی فتح یابی کے آثار نظر آنے لگتے ہیں۔

آج کل امریکہ بھی نرم ہو چکا ہے۔مغربی ممالک سوچ رہے ہیں کہ دنیا والوں کو یہ کیسے بتایا جائے کہ مسٹر اسرائیل شکست کھا رہا ہے۔مغربی ملکوں نےاسرائیل کو مشرق وسطی کا سب سے طاقتور ملک بنانے کی کوشش کی تھی،تاکہ مشرق وسطی میں مغربی ممالک کی دادا گیری قائم رہے۔حماس نے مسٹر اسرائیل کا سینہ چھلنی کر دیا۔اب اسرائیل نیم غشی کی حالت میں باؤلے کتے کی طرح نہتے فلسطینی بچوں،عورتوں،بوڑھوں اور نہتے عوام پر حملہ کر رہا ہے۔

اگر غزہ پٹی پر اسرائیل کا قبضہ ہو چکا ہے تو غزہ پٹی سے اسرائیلی شہروں پر بمباری کیسے ہو رہی ہے۔غزہ پٹی میں اسرائیلی فوجیوں کی لاشوں کے انبار کون لگا رہا ہے۔اسرائیلی ٹینک تباہ کیسے ہو رہے ہیں۔

(4)حالات سے بے خبر لوگ کہتے ہیں کہ حماس کی غلطی کے سبب اسرائیل نے غزہ پٹی پر حملہ کر دیا،حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل آئے دن فلسطینیوں کو ہلاک کرتا رہتا ہے۔جھوٹے الزام عائد کر کے فلسطینیوں کو اسرائیلی جیلوں میں ڈال دیتا ہے اور ان کو ایسی وحشیانہ سزائیں دیتا ہے کہ سن کر انسانوں کے کلیجے پھٹ جاتے ہیں۔فلسطینی بچوں کو ہلاک کرتا ہے۔فلسطینی عورتوں کی عصمت دری کرتا ہے۔الغرض یہودیوں کے شیطانی مظالم کی ایک طویل تاریخ ہے۔حماس نے جو کچھ کیا،وہ دفاعی عمل تھا،وہ اقدامی عمل نہیں تھا۔اگر آج بھی فلسطین قوت وطاقت سے مقابلہ نہ کرتا تو فلسطینیوں کی ہلاکت پر دنیا تالی بجاتی اور اسرائیل کو شاباشی دیتی کہ اسرائیل نے دہشت گردوں کو ختم کر دیا،لیکن حماس نے اسرائیل کو بدحواس کر دیا۔اب تو اندھ بھکتوں کے علاوہ کوئی بھی حماس کو دہشت گرد گروپ نہیں کہتا ہے۔

(5)بھارت نے فلسطینیوں کے لئے دو بار راحت کاری کے سامان بھیجے۔سلامتی کونسل میں بھی فلسطین کے حق میں ووٹ دیا۔یہ سب کچھ دیکھ کر اندھ بھکتوں کے تن بدن میں آگ لگی ہوئی ہے۔اگر کوئی اندھ بھکت انڈیا کی فلسطین حمایت کے سبب خود کشی کرتا ہے تو ان شاء اللہ تعالی اس کی خبر دی جائے گی۔ابھی صرف ان کے نیم پاگل ہونے کی خبریں گشت کر رہی ہیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:22:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

جنگ بندی اور منصوبہ بندی

(1)آج غزہ پٹی میں جنگ بندی ہونے والی تھی،لیکن آج اسرائیل نے جنوبی غزہ پر زبردست بمباری کی اور سو سے زائد فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کر دیا۔حماس نے بھی جوابی کارروائی کی اور اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا اور اسرائیلی شہروں پر بمباری کی۔

حماس کا دعویٰ ہے کہ حالیہ جنگ میں اس نے قریبا تین ہزار اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا۔ممکن ہے کہ مرنے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو،کیوں کہ قریبا چار سو اسرائیلی ٹینکوں کو تباہ کرنے کی خبر بھی آئی ہے۔ہر ٹینک میں چار پانچ فوجی بیٹھے ہوتے ہیں۔جب ٹینک پر میزائل مارا جائے تو ٹینک میں بیٹھے لوگ بھی ہلاک ہوں گے۔اسی طرح اسرائیلی شہروں پر بھی بمباری ہو رہی ہے اور اس بمباری میں بھی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔

سوشل میڈیا کے اکثر اقسام مثلا واٹس ایپ،فیس بک،انسٹا گرام،ٹیلی گرام وغیرہ پر یہود ونصاری کا قبضہ ہے،لہذا حماس کے حملوں کے ویڈیوز ڈلٹ کر دیئے جاتے ہیں،تاکہ دنیا کو یہ معلوم نہ ہو سکے کہ اسرائیل کا کتنا نقصان ہوا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ کل بروز جمعہ 24:نومبر 2023 سے چار دنوں کے لئے جنگ بندی ہو گی۔اس کے بعد دوبارہ جنگ ہو گی یا کوئی حل نکالا جائے گا۔فی الفور اس بارے میں کوئی صحیح خبر نہیں دی جا رہی ہے۔

(2) اسرائیل 1948 سے مسلسل فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کرتا آ رہا ہے۔حالیہ جنگ میں اس نے سوچا کہ بے تحاشہ بمباری کر کے فلسطینیوں کی نسل کشی کی جائے اور انہیں اتنا کمزور کر دیا جائے کہ کئی سالوں تک وہ سر نہ اٹھا سکیں۔اسی مقصد کی تکمیل کے لئے حماس کا نام لے کر وہ عام شہریوں پر بمباری کرتا رہا۔

مساجد،مدارس،اسکول،اسپتال،شہریوں کے مکانات اور دیگر مقامات کو حماس کا ٹھکانہ بتا کر جنگی جہازوں سے بمباری کرتا رہا۔عام رپورٹ کے مطابق قریبا پندرہ ہزار عام فلسطینی شہریوں کو یہودیوں نے ہلاک کر دیا ہے اور حقیقی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو گی۔

(3)غزہ پٹی میں ایک آبادی زمین کے اوپر ہے اور دوسری آبادی زمین کے نیچے ہے۔زمین میں صرف سرنگ ہی نہیں،بلکہ اسپتال،خوراک کے گوڈاون،ہتھیاروں کے ذخیرے،مجاہدین کے رہنے سہنے کا انتظام اور دیگر تمام ضروری ساز وسامان موجود ہیں۔زیر زمین حصہ اس قدر مستحکم ہے کہ زمین کے اوپر ہونے والی بمباری کا کچھ اثر سرنگوں کے اندر نہیں ہوتا ہے۔کوئی مخالف فوج زیر زمین جا کر جنگ نہیں کر سکتی۔جب زمین کے اوپر حماس اسرائیلیوں کو تباہ وبرباد کر رہا ہے تو سرنگوں میں اسرائیلیوں کا کیا حال ہو گا۔

(4)ابتدائی مرحلہ میں اسرائیل کے حامی مغربی ممالک نے سمجھا تھا کہ یہ جنگ حماس اور اسرائیل تک محدود رہے گی۔اسرائیل بمباری کرتا رہے گا اور فلسطینی مسلمان ہلاک ہوتے رہیں گے۔امریکی صدر اور دیگر امریکی منسٹرس وافسران عرب ممالک کا دورہ کرتے رہے اور عرب ممالک کو سمجھاتے رہے کہ یہ اسرائیل وحماس کی جنگ ہے۔آپ لوگ خاموش رہیں۔

(5)عرب ممالک کی خاموشی اور بے نتیجہ میٹنگوں کو دیکھ کر عرب دنیا کے ملیشیا(غیر سرکاری فوجی گروپس)حرکت میں آ گئے۔عرب ملکوں کو امریکہ نے خموشی کا سبق پڑھا دیا تھا،لیکن عرب ملیشیا کو خموشی کا سبق کون پڑھائے۔

عرب ملیشیا صرف اسرائیلی فوجیوں کی طرح تربیت یافتہ نہیں ہیں،بلکہ عملی طور پر مختلف محاذ پر جنگ لڑ چکے ہیں،جب کہ اسرائیلی فوج نہتے فلسطینی عوام پر زور آزمائی کرتے رہی ہے۔کل جنگ بندی ہو جاتی ہے تو رفتہ رفتہ مستقبل کی منصوبہ بندی کی خبر بھی عام ہو جائے گی۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:23:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

سچ جاننے کے لیے محنت کی ضرورت

(1)الجزیرہ ٹی وی کا اعتراف ہے کہ حالیہ اسرائیل فلسطین جنگ کی مدت میں سب سے زیادہ جھوٹی خبریں بھارت کے گودی میڈیا نے پھیلایا ہے۔آج فلسطین میں جنگ بندی ہو چکی ہے اور غزہ کے مختلف علاقوں سے یہودی فوج اپنے جنگی ٹینکوں کے ساتھ اسرائیل واپس جا رہی ہے،لیکن بھارت کے گودی میڈیا ابھی بھی یہی خبر نشر کر رہا ہے کہ غزہ پٹی میں جنگ جاری ہے۔در اصل گودی میڈیا جھوٹی خبریں پھیلا کر اپنے جیجا مسٹر نتن یاہو کے سر پر فتح کا تاج رکھنا چاہتا ہے،لیکن حزب اللہ ودیگر عرب ملیشیا نے یہودیوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔

امریکہ کو یہ خوف ستا رہا ہے کہ اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو امریکہ کو عرب دنیا سے اسی طرح ذلیل وخوار کر بھاگنا پڑے گا جیسے وہ افغانستان سے بھاگا تھا،لہذا امریکہ جنگ بندی کے لئے حکمت عملی اپنا رہا ہے۔

(2) اسرائیل نے حالیہ جنگ میں عام فلسطینی شہریوں کو ہلاک کیا،تاکہ فلسطینی عوام حماس کے خلاف ہو جائیں،لیکن ایسا نہ ہو سکا،بلکہ اسرائیلی منشا کے برخلاف بہت سے فلسطینی حماس میں شریک ہونے لگے۔

دوسری جانب حماس وحزب اللہ کے خوف سے بہت سے اسرائیلی فوجی اپنی فوج سے بھاگ گئے۔انہیں چاروں طرف موت نظر آنے لگی تھی۔غزہ پٹی میں اسرائیلی فوجیوں نے حماس کا مقابلہ بہت کم کیا،وہ عام شہریوں کو ہلاک کرتے رہے اور اسپتالوں،اسکولوں،مسجدوں، رہائشی مکانوں اور بے گھر فلسطینیوں کے کیمپوں پر حملہ کرتے رہے اور اسرائیلی جنگی جہاز عوامی مقامات پر بمباری کرتا رہا۔

حالیہ جنگ میں اسرائیل کا بھی بہت نقصان ہوا ہے۔اس کے بہت سے فوجی مارے گئے۔ٹینک اور جہاز تباہ ہوئے۔اسرائیل کے بہت سے علاقے تباہ ہوئے۔بمباری میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔اسرائیل نے حماس سے مقابلہ ہی نہیں کیا۔اسرائیل عام شہریوں پر حملہ کرتا رہا،لہذا دنیا کے اکثر ممالک اسرائیل کے خلاف ہو گئے اور دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہوئے۔

حماس نے گوریلا جنگ کا طریقہ اختیار کیا اور بہت سے اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا،اس کے فوجی ٹینکوں اور فوجی ہیلی کاپٹرس کو تباہ کیا۔اسرائیلی شہروں پر راکٹ اور میزائیل سے حملے کرتا رہا۔

اسرائیل نے بمباری کر کے شمالی غزہ کو تباہ کر دیا تھا۔ہزاروں عام شہریوں کو ہلاک کر چکا تھا۔اس کے بعد اسرائیلی علاقوں سے متصل جنوبی غزہ میں بھی جہازوں سے پرچیاں گرا چکا تھا کہ یہ علاقے خالی کرو،ورنہ بمباری ہو گی۔اس کے بعد اسرائیل نے کچھ بمباری بھی کی۔یہ دیکھ کر حزب اللہ نے کہا کہ ہم آ رہے ہیں۔اس کے بعد حزب اللہ نے لبنان سے اسرائیلی علاقوں پر میزائیل وراکٹ داغنے شروع کئے اور اسرائیل کے فوجی اڈوں اور فوجی تنصیبات کو تہس نہس کرنا شروع کر دیا۔اسی درمیان یمن کے ملیشیا نے ایک بحری جہاز پر قبضہ کر لیا۔مختلف علاقوں میں امریکہ کے فوجی ٹھکانوں پر عرب ملیشیا نے حملہ شروع کر دیا۔یہ سب کچھ دیکھ کر جنوبی غزہ پر بمباری کی رفتار سست پڑ گئی،ورنہ اسرائیل جنوبی غزہ میں بھی شمالی غزہ کی طرح بمباری کرتا۔

یہ سب کچھ دیکھ کر امریکی اشارہ پر عرب ممالک چین و روس ودیگر ممالک گئے اور جنگ بندی کی باتیں ہونے لگیں،ورنہ سعودیہ میں تو فلسطین کے لئے دعا مانگنا بھی جرم تھا۔اگر عرب ممالک اسرائیل سے تعلقات توڑ لیتے تو اسرائیل اس قدر ظلم وستم سے باز رہتا۔اسرائیل تو دیکھ رہا ہےکہ ہم فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک بھی کرتے ہیں اور عرب ممالک ہمارے ساتھ دوستی بھی نبھاتے ہیں۔یہ سب کچھ دیکھ کر اسرائیل جری ہو چکا ہے،لیکن عرب ملیشیا(غیر سرکاری فوجی گروپس)نے اسرائیل وامریکہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

(3)یہودیوں کا خیال ہے کہ ہر فلسطینی حماس کے ساتھ ہے،لہذا ہر فلسطینی قتل وہلاکت کا مستحق ہے۔اگر یہ نظریہ درست ہے تو ہر یہودی اسرائیل کے ساتھ ہے،لہذا ہر یہودی بھی قتل کا مستحق ہونا چاہیے،خواہ وہ فوجی ہو یا عام شہری۔

جب دو ملکوں میں جنگ ہوتی ہے تو ہر ملک کے عوام اپنے ملک کے ساتھ ہوتے ہیں،لیکن اس کی وجہ سے عام شہریوں پر بمباری نہیں کی جاتی ہے،نہ ہی عام شہریوں کو ہلاک کیا جاتا ہے۔

(4)اگر جنگ بندی کی مدت میں اقوام متحدہ اور عرب ممالک نے مستقل جنگ بندی کی کوشش کی تو ممکن ہے کہ مستقل جنگ بندی ہو جائے،ورنہ انجام انتہائی دردناک ہو گا۔دونوں طرف بے تحاشہ ہلاکت ہو گی۔اسرائیل کے اندرونی حالات بھی خراب ہیں۔ممکن ہے کہ نتن یاہو کو اپنے عہدہ سے مستعفی ہونا پڑے۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:24:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

اسرائیل کا غرور مکمل چکنا چور

(1) اسرائیل نے حالیہ جنگ میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ چند دنوں میں حماس کا خاتمہ کر دے گا۔قریبا ڈیڑھ ماہ غزہ پٹی میں اسرائیلی فوج بمباری اور حملے کرتی رہی۔اسرائیل نے غزہ پٹی میں 383 جنگی ٹینک بھیجے تھے۔ان میں سے صرف گیارہ ٹینک سلامت رہے اور 372 ٹینکوں کو حماس نے تباہ وبرباد کر دیا۔ان ٹینکوں کے جنازے غزہ پٹی میں جا بجا بکھرے پڑے ہیں اور اسرائیل کی شکست کی حقیقت بیان کر رہے ہیں۔

حماس کا دعویٰ ہے کہ تین ہزار اسرائیلی فوجیوں کو حماس نے ہلاک کیا ہے۔اسرائیلی فوج نے حماس کے کتنے لوگوں کو مارا،اسرائیلی فوج آج تک کوئی تفصیل نہ بتا سکی۔

اسرائیل نے بمباری کر کے قریبا پندرہ ہزار عام فلسطینی شہریوں کو ہلاک کیا اور سات ہزار فلسطینی لاپتہ ہیں۔کچھ عمارتوں کے ملبے میں دبے ہوں گے اور کچھ کو اسرائیلی فوج نے گرفتار کر لیا ہو گا۔رپورٹ کے مطابق حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے ویسٹ بینک سے تین ہزار سے زائد فلسطینی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

اسرائیل کی بمباری کے جواب میں حماس نے بھی اسرائیلی شہروں پر راکٹوں اور میزائلوں سے حملے کئے۔ان حملوں میں بھی یہودی ہلاک ہوئے ہوں گے۔یہودی بہت سے شہر چھوڑ کر بھاگ گئے اور بہت سے یہودی ملک چھوڑ کر بھاگ گئے اور بہت سے اسرائیلی سپاہی فوج چھوڑ کر بھاگ گئے،یعنی یہودی ہر طرف سے بھاگ رہے ہیں۔

جنگی ٹینک لوہے سے بنا ہوتا ہے اور اس قدر مضبوط و مستحکم ہوتا ہے کہ اس پر گولیوں کا کچھ اثر نہیں ہوتا ہے،لیکن حماس کے سپاہی اسرائیلی ٹینکوں پر گولی کی بجائے گولا پھینکنے لگے جس سے ٹینکوں میں آگ لگ جاتی اور ٹینک میں بیٹھے ہوئے پردہ نشیں اسرائیلی فوجی جل کر راکھ ہو جاتے۔

اسرائیلی بمباری کے جواب میں حماس نے بھی اسرائیلی شہروں پر راکٹوں اور میزائلوں کے حملے تیز کر دیئے۔اسرائیل کی راجدھانی تل ابیب پر اتنے میزائل داغے کہ تل ابیب میں جا بجا کالے کالے تل نظر آنے لگے۔

اسرائیل نے سوچا تھا کہ وہ غزہ پٹی پر بمباری کر کے عام شہریوں کو ہلاک کرتا رہے گا اور پھر اسرائیلی فوجی عام فلسطینی شہریوں کو ہلاک کرتے رہیں گے،لیکن حماس کے راکٹوں اور میزائلوں نے یہودیوں کا خواب چکناچور کر دیا۔اسرائیلی شہر تباہ ہونے لگے اور یہودیوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔یہودی دہشت کے مارے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔

(2)حماس کے ٹھکانے زیر زمین سرنگوں میں ہیں۔اسرائیل غزہ کے عام شہریوں کے مکانات،اسکولوں،مسجدوں اور اسپتالوں کو حماس کے ٹھکانے بتا کر ان پر حملے کرتا رہا اور عام شہریوں کو ہلاک کرتا رہا۔وہ نہ حماس کے سرنگوں میں داخل ہوا،نہ ہی حماس کا کچھ نقصان کر سکا۔اسرائیل کے جاسوسی طیارے غزہ پٹی کی فضا میں گشت لگاتے رہے،لیکن حماس کے حملے جاری رہے۔اسرائیلی شہروں پر بمباری جاری رہی۔اسرائیلی ٹینک تباہ ہوتے رہے۔اسرائیل کے ڈرون اور اس کے جنگی طیارے حماس پر بمباری نہ کر سکے۔شاید کہ حماس کے سپاہی برق رفتاری کے ساتھ حملے کر کے غائب ہو جاتے کہ جنگی طیاروں کو ان تک پہنچنے کا موقع ہی نہ ملتا ہو۔الغرض اسرائیل کے جاسوسی طیارے اور بمبار طیارے حماس کو راکٹ اور میزائل داغنے سے نہ روک سکے اور اسرائیل کا آئرن ڈوم سسٹم حماس کے راکٹوں اور میزائلوں کو نہ روک سکا،تب اسرائیل کے یہودی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے اور یہ لوگ اسرائیلی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے لگے،ورنہ دنیا کی یہ بدترین قوم تو صدیوں سے قتل وغارت گری کرتی آئی ہے۔یہودی لوگ تو یہی چاہتے ہیں کہ تمام فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کی جائے،بلکہ 07:اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد نتن یاہو نے ایک خطاب میں فلسطینوں کی نسل کشی کا اشارہ بھی دیا تھا۔اس کے ایک وزیر نے ایٹم بم گرانے کا ذکر بھی کیا تھا،لیکن دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف احتجاج ومظاہرے ہونے لگے اور دنیا کے ممالک اسرائیل کے خلاف ہو گئے۔انجام کار امریکہ کو بھی قدم پیچھے ہٹانا پڑا۔

(3)مغربی ممالک میں بے شمار مسلمان آباد ہیں،لیکن وہ ممالک مسلمانوں کو اپنے یہاں سے باہر نہیں نکالتے،لیکن یہودی وہ بدترین قوم ہے کہ کوئی ملک اپنے یہاں یہودیوں کو رکھنا نہیں چاہتا۔مغربی ممالک اسرائیل کا سپورٹ اس لئے کرتے ہیں کہ کہیں یہ دجالی قوم یورپ میں آباد نہ ہو جائے۔یہ لوگ جہاں جائیں گے،وہاں فتنہ پھیلائیں گے اور امن وسکون کو غارت کر دیں گے۔

(5)موجودہ فلسطین دو علاقوں پر مشتمل ہے:غزہ پٹی اور ویسٹ بینک(غرب اردن)۔غزہ پٹی اور ویسٹ بینک میں یہودی فوج رہتی تھی اور فلسطینی مسلمانوں پر قہر ڈھاتے رہتی تھی۔فلسطینیوں کو قتل کرںا،ان کو مار پیٹ کرنا،فلسطینی عورتوں کی عصمت دری کرںا،کوئی الزام لگا کر فلسطینیوں پر حملہ کرنا اور ان کو اسرائیلی جیلوں میں ڈال دینا اسرائیلی فوجیوں کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔جب حماس جوابی کاروائی کرنے لگا تو 2005 میں اسرائیل نے اپنے فوجیوں کو غزہ سے واپس بلا لیا۔
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
(6)اسرائیل نے ویسٹ بینک(غرب اردن)میں عرب اسرائیل جنگ:1967 میں غرب اردن(ویسٹ بینک)پر قبضہ کر لیا اور ان علاقوں میں یہودیوں کو بسانا شروع کر دیا۔رفتہ رفتہ قریبا پانچ لاکھ یہودی ویسٹ بینک میں بسائے جا چکے ہیں۔اسرائیل ان یہودیوں پر اربوں روپے خرچ کرتا ہے۔ان یہودیوں کو ویسٹ بینک میں بسانے کا مقصد ہی یہی تھا کہ وہ لوگ مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھاتے رہیں۔یہ یہودی مسلمانوں کو مار پیٹ کرتے ہیں۔ان پر ظلم وستم کرتے ہیں۔مسلم لڑکیوں کی عصمت دری کرتے ہیں۔یہ دہشت گرد یہودی سیکڑوں مسلمانوں کا قتل کر چکے ہیں۔اگر کوئی مسلمان آواز بلند کرتا ہے تو اسے پکڑ کر اسرائیلی جیلوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔اسی طرح آئے دن مسلمان مردوں،عورتوں،چھوٹے بچوں اور بچیوں کو اسرائیلی جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جاتا ہے۔

اسرائیلی جیلوں میں جن مسلمانوں کو قید کیا جاتا ہے۔وہ اسرائیلی کورٹ سے رہائی نہیں پا سکتے ہیں۔ان کو کورٹ میں اپیل کرنے اور وکیل رکھنے کی سہولت مہیا نہیں۔الغرض ویسٹ بینک کے مسلمانوں کی زندگی کو جہنم بنا دیا گیا ہے۔

لامحالہ ایسی صورت میں لوگ ظلم وجبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور ظالم کو سبق سکھائیں گے۔اگر فلسطینیوں کو ان کے حقوق نہ دیئے گئے اور فلسطین کو ایک مستقل آزاد ملک کا درجہ نہ دیا گیا تو فلسطین واسرائیل کے درمیان جنگ ہوتی رہے گی۔

(7)اسرائیل وحماس کے حالیہ معاہدہ کے مطابق جمعہ کے دن سے غزہ میں چار روزہ جنگ بندی ہو چکی ہے،لیکن یہودی کائنات عالم کی سب سے بدترین قوم ہے۔اس قوم نے بے شمار انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو شہید کیا ہے۔ایسے لوگ جنگ بندی کے معاہدہ کی پوری پابندی کر ہی نہیں سکتے۔جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج غزہ پٹی اور ویسٹ بینک میں مسلمانوں پر حملے کر رہی ہے اور مسلمانوں کو ہلاک کر رہی ہے۔حماس نے معاہدہ کی خلاف ورزی پر سخت اعتراض درج کرایا ہے۔دوشنبہ کو جنگ بندی کی مدت مکمل ہو جائے گی۔اس کے بعد کیا ہو گا۔اس بارے میں قیاس آرائیاں تیز ہو چکی ہیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:26:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

فلسطینی مسلمانوں کی مسلسل گرفتاریاں

(1)حالیہ جنگ بندی معاہدہ کے دوران بعض ایسے فلسطینی بچے بھی اسرائیلی جیلوں سے رہا کیے گئے جن کو پانچ سال کی عمر میں اسرائیلی فوج پر پتھر پھینکنے کا الزام لگا کر اسرائیلی جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا اور وہ کئی سالوں تک اسرائیلی جیلوں میں رہے۔

اسرائیلی فوجی آٹھ نو سال کے بچوں کو پتھر پھینکنے کے الزام میں گرفتار کر لیتی ہے اور پھر انہیں غیر متعینہ مدت کے لئے اسرائیلی جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔یہودی فوجی فلسطینی نابالغ لڑکیوں اور عورتوں کو بھی گرفتار کر لیتے ہیں۔

عرب اسرائیل جنگ:1967میں عرب ممالک اسرائیل سے شکست کھا گئے تھے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ ہے کہ 1967 سے آج تک 56 سالوں میں دس لاکھ فلسطینی مسلمانوں کو اسرائیلی فوج نے گرفتار کر کے اسرائیلی جیلوں میں ڈال دیا۔ان میں سے بہت سے لوگ اسرائیلی جیلوں میں وفات پا گئے۔بہت سے لوگ لمبی مدت تک اسرائیلی جیلوں میں رہنے کے بعد آزاد ہوئے۔اسرائیلی کورٹ میں بھی فلسطینی مسلمانوں کو انصاف نہیں ملتا ہے۔

(2)حالیہ فلسطین واسرائیل جنگ سے متعلق یہ خبر بھی گشت کر رہی ہے کہ اسرائیلی فوجی تلاشی کے نام پر فلسطینی مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیتے اور ان کے گھروں سے روپے اور زیورات چوری کر لیتے۔اسرائیلی فوجیوں نے عام فلسطینی شہریوں کے گھروں سے چوری کر کے قریبا دس کروڑ روپے اسرائیلی حکومت کے پاس جمع کئے ہیں،پھر چوری تو اس سے زیادہ کئے ہوں گے۔

(3)اسرائیلی فوجیوں نے حالیہ جنگ کے دوران تین ہزار سے زائد عام فلسطینی شہریوں کو گرفتار کیا ہےجن میں بہت سے بچے بھی شامل ہیں۔پندرہ ہزار سے زائد عام فلسطینی شہریوں کا قتل کیا ہے،جن میں چھ ہزار بچے اور چار ہزار عورتیں شامل ہیں۔

(4) اسرائیلی حکومت نے اپنے انٹلی جنس محکمہ یعنی موساد کو حکم دیا ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی حماس کے لیڈر ہوں،ان کو قتل کر دیا جائے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ دنیا بھر میں فلسطینی مسلمانوں کا قتل ہو گا،خواہ وہ حماس کے ممبر ہوں یا عام فلسطینی۔چند دن قبل 25:نومبر کو امریکہ میں تین فلسطینی اسٹوڈنٹس کو گولی ماری گئی ہے۔امریکی کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہے۔

(5)اسرائیلی میڈیا جھوٹ پھیلانے میں بہت ماہر ہے۔اسی طرح مغرب کا پروپیگنڈہ میڈیا اور بھارت کا گودی میڈیا بھی جھوٹ پھیلانے میں اسرائیلی میڈیا کے ہم پلہ ہیں۔حالیہ فلسطین واسرائیل جنگ سے متعلق بھی بہت جھوٹ پھیلایا گیا،لیکن سوشل میڈیا کے سبب دنیا والوں کو صحیح خبریں بھی موصول ہوتی رہیں۔

(6)کل بروز دوشنبہ 27:نومبر کو چار روزہ جنگ بندی کی مدت پوری ہو چکی تھی،لیکن فلسطین واسرائیل نے باہمی رضامندی سے مزید دو دنوں کے لئے جنگ بندی کی مدت بڑھا دی ہے۔امید ہے کہ رفتہ رفتہ مستقل جنگ بندی ہو جائے گی۔

(7)موجودہ فلسطین واسرائیل جنگ سے دنیا بھر کے حالات بدلتے نظر آ رہے ہیں۔مشرق وسطی سے امریکہ و یورپ کی سامراجیت ختم ہوتی نظر آ رہی پے۔ان شاء اللہ تعالی اگلے مضمون میں تفصیل رقم کی جائے گی۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:28:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

کیا فلسطین آزاد ملک بن جائے گا؟

(1) فلسطینی تحریک"حماس"کی ناقابل یقین فتح یابی دیکھ کر ایسا ہی لگتا ہے کہ اب اقوام متحدہ فلسطین کو ایک مستقل ملک بنانے کی کوشش کرے۔دنیا میں طاقتور اور فاتح کی بات مانی جاتی ہے۔حالیہ جنگ میں اسرائیل کو بدترین شکست ہوئی ہے۔اسرائیل اور اس کے حمایتی اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھے ہیں۔امریکی فضاؤں سے بھی رونق غائب ہو چکی ہے۔حماس نے امریکی سامراجیت کو روند کر رکھ دیا ہے۔

اگر اسرائیل کو شکست نہ ہوتی تو وہ ہرگز جنگ بندی نہیں کرتا۔ یہودی دنیا کی وہ بدترین قوم ہے کہ اسے فتح یابی کی ایک فی صد بھی امید ہوتی تو اسرائیل ہرگز جنگ بندی نہیں کرتا۔

عرب اسرائیل جنگ:1967 میں کامیابی کے بعد اسرائیل خود کو مشرق وسطی کا سب سے طاقتور ملک اور اپنے آپ کو ناقابل تسخیر سمجھتا رہا ہے۔حماس سے بدترین شکست کے بعد امریکہ بھی نرم پڑ چکا ہے۔

اقوام متحدہ میں پانچ ممالک مستقل ارکان ہیں جن کو ویٹو پاور حاصل ہے۔ان پانچ ممالک میں امریکہ بھی شامل ہے۔امریکہ ہمیشہ فلسطین کو مستقل ملک بنانے کی مخالفت کرتا رہا اور ویٹو پاور کا استعمال کرتا رہا ہے۔اب رائے عامہ کے دباؤ میں امریکہ بھی ٹو نیشن تھیوری کی بظاہر حمایت کر رہا ہے،لیکن امریکہ کا ظاہر وباطن یکساں نظر نہیں آتا۔

(2)فی الحال جنگ بندی ہو چکی ہے۔اگر جنگ بندی کے بعد دوبارہ جنگ شروع بھی ہو جائے تو اسرائیل وامریکہ مل کر بھی اس جنگ کو جیت نہیں سکتے،کیوں کہ اس مرتبہ عرب دنیا یا فلسطین میں کسی بڑے غدار کو تلاش کرنے میں امریکہ ناکام رہا ہے۔عام طور پر اہل مغرب دو ملکوں یا دو جماعتوں میں نا اتفاقی پیدا کر کے محاذ جنگ پر کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں۔اس بار نہ عرب ممالک کو آپس میں لڑایا جا سکا،نہ ہی فلسطین میں حماس کے خلاف کسی غدار کو میدان میں لانے کی کوشش کامیاب ہوئی۔غزہ پٹی اور ویسٹ بینک میں اسرائیل نے سازش ضرور کی تھی کہ عام فلسطینیوں کو حماس کے خلاف کر دیا جائے،لیکن 75:سال سے اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم وستم ڈھا رہا ہے،لہذا فلسطینی عوام حماس کے خلاف نہ ہو سکے۔اسرائیل چند فلسطینی شہریوں کو اپنا جاسوس بنانے میں ضرور کامیاب ہوا،لیکن حماس سے جب خود اسرائیل شکست کھا گیا تو کوئی غدار جماعت کیسے حماس سے جیت سکتی ہے۔

(3)موجودہ حالات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اب امریکہ رفتہ رفتہ مشرق وسطی سے اپنے فوجی اڈے ہٹا لے گا اور مشرق وسطی میں ایران سپر پاور کی حیثیت اختیار کر لے گا۔اسرائیل ذلت وخواری کے ساتھ موجود رہے گا اور عرب ممالک کو آپس میں لڑانے کی کوشش کرتا رہے گا،کیوں کہ یہودی قوم کبھی اپنی غلط حرکتوں سے باز نہیں آ سکتی۔جیسے قوم جن میں شیاطین ہیں،اسی طرح بنی آدم میں یہودی قوم ہے۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:29:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

اسپین،اسرائیل اور اسلامو فوبیا

(1)اگر بفضل الہی فلسطین کو فتح یابی نصیب ہو گئی اور فلسطین ایک آزاد ملک بن گیا تو دنیا بھر میں مسلمانوں پر ظلم وجبر کم ہونے کی امید ہے۔بھارت میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم بھی کم ہونے کی امید ہے۔

دراصل اسلامو فوبیا پھیلانے میں یہودی سب سے آگے ہیں۔یورپ وامریکہ کے نصاری کو بھی یہودیوں نے اپنے ساتھ کر لیا ہے۔اسی طرح دنیا کے دیگر ممالک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں یہودی سر فہرست ہے۔2014 میں بھارت میں بھاجپا کی حکومت قائم ہوئی۔اس کے بعد بھارت واسرائیل کے درمیان قربت بڑھتی گئی اور بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کے جدید طریقے اپنائے جانے لگے۔چند سالوں سے بھاجپا کی ریاستی حکومتیں مسلمانوں پر کوئی الزام عائد کرتی ہیں اور پھر ان کے گھروں کو بلڈوزر سے مسمار کر دیا جاتا ہے۔مساجد ومدارس کو غیر قانونی بتا کر توڑ دیا جاتا ہے۔ماب لنچنگ کا حادثہ بھی مسلسل پیش آتا رہتا ہے۔

(2)آر ایس ایس کا قیام 1925 میں ہوا۔غالبا1930 میں بھارت کے متعصب ہنود کا ایک قافلہ اسپین بھیجا گیا تھا،تاکہ معلوم کیا جائے کہ کس طرح اسپین سے مسلمانوں کا نام ونشان مٹایا گیا تھا۔

اسرائیل کا قیام 1948 میں ہوا تھا۔بھارت میں طویل مدت تک کانگریس کی حکومت قائم رہی۔اس کے بعد اکثر مخلوط حکومتیں رہیں۔2019 کے لوک سبھا الیکشن میں بھاجپا کو اکثریت ملی۔بھاجپائی حکومت اسرائیل سے تعلقات بڑھانے لگی،حالاں کہ بھارتی حکومت ہمیشہ فلسطین کی حمایت کرتی رہی ہے اور اسرائیل سے بھارت کے تعلقات نہ تھے۔

جس طرح اسرائیل نے فلسطینی مسلمانوں کو حیوانوں سے بھی بدتر درجہ دے رکھا ہے۔مسلسل 75 سالوں سے فلسطینیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جا رہا ہے،تاکہ فلسطینی مسلمان فلسطین چھوڑ کر بھاگ جائیں۔چند سالوں سے یہودیوں کے جابرانہ طرز عمل کو بھارت کے متعصب ہنود اور بھاجپائی لوگ اپنانے لگے۔مسلمانوں کے خلاف سخت نفرت پھیلائی جانے لگی اور ظلم وجبر کے نئے نئے طریقے اختیار کئے جانے لگے۔

فلسطین واسرائیل کی حالیہ جنگ سے متعلق بھارت کے گودی میڈیا نے بہت سے جھوٹ پھیلائے۔حالیہ جنگ میں اسرائیل بدترین شکست سے دو چار ہوا ہے،لیکن گودی میڈیا یہودیوں کو فاتح کی حیثیت سے پیش کر رہا ہے۔در اصل یہ سب اسلام دشمنی کا نتیجہ ہے۔

بھارت کی مرکزی حکومت نے ابتدائی مرحلہ میں اسرائیل کی حمایت کی،پھر ملک کی خارجہ پالیسی کے سبب فلسطین کی حمایت کرنے لگی،کیوں کہ بھارت ہمیشہ فلسطین کا حامی رہا ہے۔

فلسطین کی فتح یابی کا معنی یہ ہے کہ مشرق وسطی میں ایران کا اثر ورسوخ بڑھے گا اور امریکہ کو مشرق وسطی سے رخصت ہونا پڑے گا۔یہ سب کچھ دیکھ کر بھارت کی مرکزی حکومت ایران سے تعلقات کو مزید مضبوط کر رہی ہے۔چند دنوں قبل بھارتی وزارت خارجہ کے ایک افسر کو ایران بھیجا گیا تھا۔

ابھی جنگ بندی ہے اور جنگ بندی کی مدت بڑھانے پر بھی بحث ہو رہی ہے،لیکن اسرائیل اپنی تاریخی شکست سے تلملا اٹھا ہے۔اسرائیل کو اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا ہے۔اگر اسرائیل دوبارہ جنگ شروع کرتا ہے تو اسے اپنا وجود بچانا مشکل ہو جائے گا۔


اقوام متحدہ میں فلسطین کو ایک آزاد ملک کا درجہ دینے سے متعلق بات چیت ہو رہی ہے۔اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں جن علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ان علاقوں کو چھوڑنے کی بات کی جا رہی ہے۔ان شاء اللہ تعالی چند ماہ میں سارا منظر نامہ واضح ہو جائے گا۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:29:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

دفاع کی برکت اور ضرورت واہمیت

فلسطینی مسلمانوں پر1948 سے یہود ونصاری ظلم وستم ڈھاتے رہے ہیں۔فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔وہ مسلسل مزاحمت ودفاع کرتے رہے ہیں،لیکن اس بار فلسطینی مسلمانوں نے ایسی جرات و بہادری دکھائی کہ مشرق وسطی کا سپر پاور اس کے سامنے بھیگی بلی بنا بیٹھا ہے۔ابھی اسرائیل جو دھمکیاں دے رہا ہے،وہ دراصل گیدڑ بھبکی ہے۔

اسرائیلی فوجی حماس سے زمینی جنگ جیت نہیں سکتے اور اسرائیل ہوائی حملے کر کے فلسطینیوں کو ضرور تباہ وبرباد کر سکتا ہے،لیکن وہ خود بھی بچ نہیں پائے گا حماس بھی راکٹوں اور میزائلوں سے اسرائیلی شہروں پر حملہ کرتا ہے اور جس طرح امریکہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے،اسی طرح عرب ملیشیا (غیر سرکاری فوجی گروپس)حماس کے ساتھ کھڑے ہیں۔اگر امریکہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا ہے تو دنیا کا کوئی ملیشیا بھی کسی کو خاطر میں نہیں لاتا ہے۔ان کے لئے
امریکہ اور غیر امریکا سب یکساں ہے۔

عہد حاضر میں دنیا میں جتنے بھی ملیشیا ہیں،وہ ملکی یا عالمی قوانین کو نہیں مانتے ہیں،بلکہ دنیا میں بہت سے قوانین ملیشیا کے کہنے پر بنائے گئے ہیں اور ملکوں کو ان ملیشیا کے سامنے جھکنا پڑا ہے۔دستور ہند میں بھی متعدد قوانین آسام،ناگالینڈ ودیگر ریاستوں کے ملیشیا کے کہنے پر بنائے گئے ہیں۔

حماس کوئی ملیشیا نہیں،بلکہ غزہ پٹی کی حکمراں پارٹی ہے،لیکن عرب ممالک کے ملیشیا جماس کے ساتھ ہیں۔جب حماس نے سخت دفاعی پوزیشن اختیار کی تو دنیا کے لوگ اس کے ساتھ ہو گئے اور اقوام متحدہ میں بھی فلسطین کی حمایت میں آوازیں بلند ہونے لگیں،ورنہ فلسطین کے لوگ 75 سالوں سے ظلم وجبر کے شکار ہیں۔دنیا میں نہ کبھی فلسطین کی حمایت میں اتنے مظاہرے ہوئے،نہ اقوام متحدہ میں اتنی قوت کے ساتھ فلسطین کی حمایت میں بحث ہو سکی تھی۔

آج بھی دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں پر ظلم وجبر ہو رہا ہے،لیکن وہ خود دفاعی پوزیشن اختیار نہ کر سکے تو دنیا کے لوگ بھی ان کے حق میں آواز بلند نہیں کرتے۔چند دنوں قبل مسلم ممالک کے سربراہان وذمہ داران چین گئے تھے،تاکہ فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے ظلم وجبر کو ختم کیا جا سکے۔چین اس واسطے اقدام کے لئے راضی بھی ہو گیا۔دوسری جانب خود چینی حکومت اپنے ملک میں آباد مسلمانوں پر مسلسل ظلم وستم ڈھاتی رہتی ہے۔

چینی مسلمان اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا مضبوط دفاع نہیں کرتے،لہذا دنیا کے لوگ چینی مسلمانوں سے متعلق کچھ نہیں بولتے۔

دنیاوی قوانین میں صرف سلف ڈیفنس کا قانون موجود ہے۔شرعی قوانین میں سلف ڈیفنس کے ساتھ ہجرت کا قانون بھی موجود ہے۔جہاں کے مسلمان اپنا ڈیفنس نہ کر سکیں،ان کے لئے ہجرت کی صورت موجود ہے۔مکہ معظمہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور مکی صحابہ کرام کا آبائی وطن تھا۔مکہ مکرمہ میں ہی کعبہ مقدسہ ہے جو مسلمانوں کا قبلہ ہے،لیکن حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو مکہ معظمہ سے ہجرت کا حکم دیا گیا۔ایسا حکم نہیں کہ دفاع کی قوت نہ ہو تو بھی اسی مقام پر ذلت وخواری کے ساتھ زندگی گزارتے رہیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:30:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

نیو ورلڈ آرڈر اور یہود ونصاری

(1)نیو ورلڈ آرڈر کا خلاصہ یہ ہے کہ ساری دنیا پر یہودیوں کی حکومت قائم ہو،لیکن یہودی دنیا میں قلیل تعداد میں ہیں،لہذا نصاری کی ذہن سازی کی گئی اور یورپ وامریکہ میں یہودیوں نے نصاری کے ساتھ مل کر متعدد تنظیمیں قائم کی ہیں،تاکہ بالواسطہ ساری دنیا پر یہودیوں کی حکمرانی قائم ہو سکے۔

(2)ساری دنیا میں یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ یہودی بہت زیادہ تعلیم یافتہ اور بہت عقل مند ہوتے ہیں۔بہت مالدار ہوتے ہیں۔یہودیوں کو ٹیکنالوجی کے میدان میں سب سے بالاتر بتانے کی کوشش کی گئی،حالاں کہ فلسطینی مسلمان جو اسرائیل کی جانب سے پچھتر سال سے ظلم وجبر اور مختلف قسم کی پابندیوں میں گھرے ہوئے ہیں۔

ان مظلوم وکمزور فلسطینی نوجوانوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو اسرائیل کے آئرن ڈوم نظام کو ہیک کر لیتے ہیں۔چند دنوں قبل اسرائیل کی ایمرجنسی سروس کو ہیک کر لیا گیا۔فلسطینیوں نے ایسے میزائل تیار کیے کہ اسرائیل کے مشہور عالم مرکاوا ٹینک کو تباہ وبرباد کر دیا۔383 ٹینک میں سے صرف گیارہ ٹینک سلامت رہے۔اسرائیل کی وزارت خارجہ کی معلومات ہیک کر لی گئیں۔اسرائیل کے انٹلی جنس محکمہ موساد کو بے اثر کر دیا گیا۔ڈیڑھ ماہ تک غزہ پٹی میں اسرائیل کی فوج گشت لگاتی رہی،لیکن نہ اسرائیلی فوج حماس پر قابو پا سکی،نہ ہی حماس سے مقابلہ کر سکی،نہ حماس کے سرنگوں کو تباہ کر سکی،بلکہ دنیا میں سب سے تربیت یافتہ اور بہادر مانی جانے والی اسرائیلی فوج حماس سے شکست کھا کر بھاگ کھڑی ہوئی۔اسرائیل میں ان بھگوڑے فوجیوں پر مقدمے چلائے جا رہے ہیں۔بہت سے فوجیوں کو حماس نے قیدی بنا لیا ہے۔انہیں قیدی سپاہیوں کے سبب حماس کا مطالبہ ہے کہ سارے فلسطینی قیدیوں اسرائیل کے جیلوں سے رہا کیا جائے۔ابھی اسرائیل نے اس مطالبہ کو قبول نہیں کیا ہے۔

عرب ممالک میں بے شمار مسلمان ہیں جو یہودیوں سے زیادہ مالدار ہیں۔جھوٹ پھیلا کر اور ڈھکوسلا بازی کر کے یہودیوں کو بالاتر قوم بتانے کی کوشش کی گئی۔

اگر یہ کہا جائے کہ فریب بازی،ظلم وجبر،کذب بیانی اور شیطانی میں یہودی قوم سب سے اوپر ہے تو یہ ضرور سچ ہے۔قران مقدس میں یہودیوں کی بہت سی شرارتوں کا ذکر ہے۔یہودیوں کو اللہ تعالی نے بہت سی فضیلت عطا فرمائی تھی،لیکن ان کی شیطانی کے سبب وہ فضیلتیں سلب کر لی گئیں اور یہ دنیا میں اللہ تعالی کی غضب یافتہ قوم ہے۔

ارشاد الہی ہے:(
ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْكَنَةُؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّؕ-ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ(سورہ آل عمران:آیت 112)
ترجمہ:
ان پر جمادی گئی خواری (ذلت)جہاں ہوں امان نہ پائیں مگر اللہ کی ڈور اور آدمیوں کی ڈور سے اور غضبِ الٰہی کے سزا وار ہوئے اور اُن پر جمادی گئی محتاجی یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے اور پیغمبروں کو ناحق شہیدیہ اس لیے کہ نافرمان بردار اور سرکش تھے۔(کنز الایمان)

{ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ: ان پر ذلت مسلط کردی گئی۔} اس آیت میں بیان فرمایا گیا کہ یہودیوں پر ذلت اور محتاجی لازم کر دی گئی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس آیت میں استثناء بھی ہے’’اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ‘‘سوائے اس کے کہ انہیں اللہ کی طرف سے سہارا مل جائے یا لوگوں کی طرف سے سہارا مل جائے۔ اِستِثناء کے آنے سے معنی یہ بن گیا کہ یہودی ذلت و خواری سے کسی صورت اورکسی طرح بچ نہیں سکتے مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رسی کے ساتھ اور لوگوں کی رسی کے ساتھ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رسی کے ساتھ یوں کہ یہودی مسلمان ہو جائیں تو ذلت وخواری سے بچ سکتے ہیں اور حقیقی عزت حاصل کر سکتے ہیں اور لوگوں کی رسی کی صورت یہ کہ لوگوں سے عہد و پیمان کریں،اسلامی حکومت کے ذمی بن جائیں یا کافر حکومتوں سے بھیک مانگیں اور تعاون حاصل کریں تو دنیاوی عزت پا سکتے ہیں اور ایسی صورت میں ان کی سلطنت بھی بن سکتی ہے۔ چند سالوں قبل اگرچہ اسرائیل میں مغربی ممالک کی مدد سے یہودی سلطنت وجود میں آ گئی ہے،لیکن اس حکومت کا قیام قرآنِ مقدس کی صداقت کے خلاف نہیں بلکہ قرآنِ کریم کی صداقت کی بڑی صاف اور واضح دلیل ہے۔قرآن مقدس میں استثنا موجود ہے:(وحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ)صدیوں سے ذلیل و خوار یہودیوں کو نصاری کی مدد سے ایک ملک مل گیا اور ان کی حکومت قائم ہو گئی۔

(3)یہود ونصاری نے دنیا بھر میں ایک ملک کو دوسرے ملک سے لڑایا۔اپنے ہتھیار فروخت کئے اور ان ملکوں پر بالواسطہ اپنی حکم رانی قائم کر لی۔
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
عرب ممالک کو بھی ایک دوسرے سے لڑایا گیا۔کبھی صدام حسین کا خوف دلایا گیا،کبھی ایران کا خوف دلایا گیا،کبھی شیعہ سنی کہہ کر ایک دوسرے کو لڑایا گیا۔عراق،شام،لیبیا،افغانستان کو تباہ وبرباد کر دیا گیا۔لاکھوں عوام کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

حالیہ فلسطین واسرائیل جنگ کے موقع پر بھی شیعہ و سنی کا اختلاف درمیان میں لانے کی کوشش کی گئی،لیکن ایران اور سعودی ساتھ مل گئے۔

غیروں کے مقابلے میں کلمہ گو طبقات کو متحد ہو کر مقابلہ آرائی کی اجازت ہے۔فلسطین میں بھی مختلف فرقوں کے لوگ ہوں گے،لیکن ساری دنیا کے مسلمان کلمہ گوئی کے نام پر فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔

(4)عرب ممالک نہ اپنی مضبوط فوج بنا سکے،نہ ہی محکمہ دفاع کو مضبوط کر سکے۔ایران پر بھی ہمیشہ پابندی لگی رہی،لیکن ایران نے ہتھیار بھی بنایا اور اپنی فوجی پوزیشن کو بھی مستحکم کیا۔آج بھی ایران پر پابندیاں عائد ہیں،لیکن ایران ہمیشہ امریکہ کو آنکھ دکھاتا رہا ہے۔وہ کبھی امریکہ کے سامنے جھکا نہیں ہے۔

ایران ایک شیعہ ملک ہے،لیکن سعودی ودیگر تمام عربی ممالک بھی خالص سنی نہیں ہیں۔جب اغیار حملہ آور ہوں تو کلمہ گو طبقات کو متحد ہو کر اغیار سے مقابلہ آرائی کی اجازت ہے۔اگر موجودہ منظر نامہ سے ایران کو غائب کر دیا جائے تو اکثر مسلم ممالک امریکہ کو جھک کر سلام کرنے والے اور امت مسلمہ کو یہود ونصاری کی غلامی میں ڈالنے والے ہیں۔

قرآن عظیم کا فرمان ہے:(فاستعدوا لہ ما استطعتم)

اپنی قوت بھر دشمن کے مقابلے کی تیاری رکھو،لیکن اکثر مسلم ممالک امریکہ یا روس کے دربار میں سلامی ٹھونکتے رہے۔

حسب ضرورت غیر مسلم ممالک سے مدد لینا بھی جائز ہے،لیکن اغیار پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔کون کب کدھر پلٹ جائے،کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔

حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے بھی بعض مواقع پر مدینہ منورہ کے یہود اور مشرکین عرب کے بعض قبیلوں سے معاہدہ فرمایا تھا۔تفصیلات فقہ وسیرت کی کتابوں میں دیکھ لی جائیں۔

(4)گرچہ چند دنوں کی جنگ بندی ہو چکی ہے اور اپنے عوام کے خوف سے مغربی ممالک بھی اعلانیہ طور پر اسرائیل کی حمایت میں نہیں ہیں،لیکن اندرون خانہ کی رپورٹ اطمینان بخش نہیں۔دوبارہ جنگ شروع ہو سکتی ہے،لہذا مسلمانوں کی فتح یابی کی دعائیں کی جائیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:30:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

اسرائیل وامریکہ کی خفیہ پلاننگ

(1)مختلف میڈیائی رپورٹ کے مطابق غزہ کی زمین میں گیس اور تیل کا ذخیرہ وافر مقدار میں موجود ہے،لہذا امریکہ و اسرائیل نے یہ پلاننگ بنائی تھی کہ غزہ پر حملہ کیا جائے اور اس علاقہ میں آباد بیس لاکھ مسلمانوں کو آس پاس کے ملکوں میں منتقل ہونے پر مجبور کر دیا جائے۔

یہ خبر حماس کو معلوم تھی،لہذا اس نے اسرائیل کے حملہ سے پہلے ہی اسرائیل پر 7:اکتوبر کو حملہ کر دیا۔اسرائیل کے فوجی ٹھکانوں پر راکٹ داغے اور حملہ کے دوران ہی حماس کو معلوم ہوا کہ اسرائیلی علاقوں میں یہودیوں کا اجتماعی تہوار ہو رہا ہے تو بہت سے لوگوں کو قیدی بنا لیا،تاکہ اس کے بدلے اسرائیل کے جیلوں میں قید فلسطینیوں کو رہا کرا سکے۔

اسی دوران اسرائیل کے فوجی ہیلی کاپٹر نے حماس پر بم برسایا اور اس بمباری کے سبب بہت سے لوگ ہلاک ہوئے۔الغرض 7:اکتوبر کو اسی فی صد یہودی اسرائیلی فوج کے ہیلی کاپٹر حملوں سے ہلاک ہوئے،پھر حماس کے اسی حملہ کو بہانہ بنا کر اسرائیل نے غزہ پٹی پر بمباری شروع کر دی۔

(2)اس میں کوئی شک نہیں کہ زمینی جنگ میں حماس نے اسرائیل کو بدترین شکست دی ہے،لیکن اسرائیل جنگی جہازوں سے حملہ کر کے اب تک سولہ ہزار عام فلسطینیوں کو ہلاک کر چکا ہے۔قریبا سات ہزار فلسطینی لاپتہ ہیں۔بے شمار فلسطینی زخمی ہیں۔جنگ دوبارہ شروع ہو چکی ہے اور امریکہ درپردہ اسرائیل کی حمایت میں ہے۔

اسرائیل کے فضائی حملوں کو روکنے کا کوئی مضبوط ذریعہ حماس کے پاس نہیں ہے۔حماس بھی میزائلوں اور راکٹوں سے اسرائیلی شہروں پر حملے کر رہا ہے،لیکن اسرائیلی فضائیہ جس قدر تباہی مچا رہا ہے،حماس کے راکٹ ومیزائل اس قدر تباہی نہیں مچا سکتے،بلکہ امریکہ نے بھی فضائی بمباری کے ذریعہ ہی مختلف ملکوں کو تباہ کیا ہے۔

حماس نے اپنے شدید حملوں سے عالمی اقوام کو ضرور بیدار کر دیا ہے اور سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیا ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ کسی علاقہ پر قبضہ کے لئے اس مینی جنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔فضائی بمباری سے صرف تباہی لائی جا سکتی ہے،لیکن کسی علاقے پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔اس تناظر میں یہ بات ضرور وثوق واعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ غزہ پٹی پر قبضہ کر لینا اسرائیل وامریکہ کی قوت سے باہر ہے،لیکن اسرائیل فضائی حملوں سے بے شمار فلسطینی شہریوں کو ہلاک کرے گا۔

یہ بھی خبر ہے کہ دوبارہ جنگ شروع ہونے کے بعد امریکہ نے اسرائیل کو بہت سے ایسے خطرناک بم دئیے ہیں جن سے حماس کے سرنگوں کو تباہ کیا جا سکے،یعنی یہ امریکہ واسرائیل کی آخری کوشش ہے۔امریکہ نے اسرائیل کو چند دن کا موقع دیا ہے۔اسرائیل حماس سے جیت تو نہیں سکے گا،لیکن عام فلسطینیوں پر بمباری کر کے وہ عام فلسطینیوں کو حماس کا مخالف بنانے کی زبردست کوشش کر رہا ہے۔ان شاء اللہ تعالی اس سازش میں اسرائیل کامیاب نہیں ہو سکے گا،لیکن اسرائیل بہت سے فلسطینیوں کو ہلاک کر دے گا اور حماس کے سخت حملوں کے سبب اسرائیل بھی تباہی کا شکار ہو گا۔ممکن ہے کہ یہودی مہلوکین کی تعداد فلسطینیوں سے کم رہے،لیکن حماس کے سخت حملے اسرائیلی شہروں پر جاری ہیں۔

(3)اسرائیل کے حملوں کو دیکھ کر مصر اور جارڈن کی فوج ہائی الرٹ پر ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ممالک اسرائیل سے مقابلہ آرائی کریں گے،بلکہ مصر وجارڈن کی فوج فلسطینی مسلمانوں کو اپنے ملکوں میں داخل ہونے نہیں دے گی۔خواہ ان تمام فلسطینی مسلمانوں کو اسرائیل بمباری کر کے نیست ونابود کر ڈالے۔
مصر وجارڈن فلسطینی مسلمانوں کی کوئی مدد نہیں کر رہے ہیں،نہ ہی مدد کر سکتے ہیں،کیوں کہ یہ ممالک امریکہ کے زیر اثر ہیں۔

حزب اللہ سے بھی کافی مدد کی امید تھی،لیکن اب تک اس نے بھی کوئی بڑی کاروائی نہیں کی ہے۔حزب اللہ کی جانب سے چند حملے ضرور ہوئے ہیں،لیکن وہ ناکافی ہیں۔یمن کے حوثی اگر اسرائیل پر فضائی حملہ بھی کرتے ہیں تو امریکی بحری جہاز راستے ہی میں حوثیوں کے میزائل کو تباہ کر دیتا ہے۔الغرض یہ جنگ حماس کو ہی لڑنا ہے اور حماس کو ہی کلیدی کردار ادا کرنا ہے۔چند دنوں انتظار کیا جائے۔حماس بھی ایک طاقتور جماعت ہے اور میدان میں ڈٹا ہوا ہے۔اب خداوندی مدد ہی فلسطین کا سہارا ہے:(لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا)

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:02:دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

نہ آئےامام مہدی،نہ نکلا دجال

میدان میں حماس اور اسرائیل

(1)سات روزہ جنگ بندی کے بعد آج سے اسرائیل نے غزہ پٹی پر بمباری شروع کر دی ہے۔جنگ بندی کی مدت میں اسرائیل نے صرف بمباری بند کی تھی،لیکن اسرائیلی فوج غزہ اور ویسٹ بینک میں فلسطینیوں کو مسلسل ہلاک کرتی رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آج کی بمباری میں سو سے زائد عام فلسطینی مسلمان ہلاک ہو چکے ہیں اور قریبا سو اسرائیلی فوجی بھی مارے جا چکے ہیں۔مختلف شہروں میں حماس نے بھی راکٹ ومیزائل داغے ہیں۔ان حملوں میں بھی کچھ یہودی ہلاک ہوئے ہوں گے،لیکن اسرائیلی میڈیا اپنی ہلاکت کی خبر عام نہیں کرتا،تاکہ دنیا اسے فاتح سمجھے،لیکن ساری دنیا میں اسرائیل کی شکست کی داستان پھیل چکی ہے۔

(2)چوں کہ دو ملکی نظریہ(Two Nation Theory)اقوام متحدہ میں زیر بحث ہے،لہذا اسرائیل اور اس کے حامی ممالک چاہتے ہیں کہ حماس کا نام ونشان مٹا دیا جائے،تاکہ فلسطین میں اسرائیل کی حمایت کرنے والی حکومت قائم ہو،تاکہ مشرق وسطی میں مغربی ممالک اور اسرائیل کے اثرات قائم رہیں۔

(3)دوسری جنگ عظیم کے بعد1949 میں دنیا دو خیموں میں تقسیم ہو چکی ہے۔دنیا کے اکثر ممالک پر امریکہ اور مغربی ممالک کے اثرات ہیں اور بعض ممالک روس کے زیر اثر ہیں۔امریکہ نے اپنے حامی ممالک کی ایک تنظیم بنائی ہے جو نیٹو(NATO)کے نام سے مشہور ہے۔فی الوقت قریبا تیس ممالک اس کے ممبر ہیں۔

(4)دنیا کے بہت سے ممالک امریکی اثرات سے خود کو آزاد کرنے کی کوشش میں ہیں۔مشرق وسطی اور عرب کے بہت سے ممالک بھی امریکہ سے آزاد ہونا چاہتے ہیں،لیکن بہت سے عرب ممالک بھی امریکہ کے حامی ہیں۔

(5)ذو الفقار علی بھٹو(پاکستان)،شاہ فیصل(سعودی عرب)ودیگر مسلم لیڈروں نے مسلم ممالک کا ایک اتحاد بنانا چاہا تھا،لیکن امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے(CIA)نے اسے کامیاب ہونے نہیں دیا۔بعض ممالک میں ان لیڈروں کی حکومت گرا دی گئی اور بعض ممالک کے لیڈروں کو قتل کروا دیا گیا۔اس کے بعد مسلم حکم راں امریکہ کے غلام بنے رہتے ہیں۔

ایران اگر امریکہ کو آنکھیں دکھاتا رہتا ہے تو اس کی پشت پر روس ہے اور خود ایران نے ہتھیار بنا لیا ہے اور اپنی فوجی پوزیشن مستحکم کر لیا ہے۔ترکی 1952سے نیٹو(NATO)کا ممبر ہے۔وہ مسلمانوں کی حمایت میں بیان بازی کر سکتا ہے اور حسب ضرورت مالی مدد کر سکتا ہے،لیکن کسی مسلم ملک پر آفت آئے تو وہ فوجی کاروائی نہیں کر سکتا ہے۔

اسلامی ممالک میں روس وایران کے اثرات بڑھنے کی امید ہے۔ابتدائی مرحلہ میں روس مسلمانوں پر زیادہ ظلم نہیں کرے گا،کیوں کہ اسے اپنے اثرات قائم کرنے ہیں۔بعد میں وہی ہو گا جو امریکہ اور مغربی ممالک کرتے رہے ہیں۔

مسلم ممالک پر جب ایران کے اثرات بڑھیں گے تو جیسے سعودی عرب نے دنیا بھر میں وہابیت کو پھیلانے کی کوشش کی ہے،ویسی کوشش ایران بھی کرے گا۔یہ مذہبی محاذ ہے۔اس محاذ کو سر کرنے کے لئے علمائے کرام کو تیار رہنا ہو گا۔یہاں جنگ وجدال کی ضرورت نہیں،بلکہ شواہد ودلائل کی ضرورت ہے۔مغربی ممالک کی خفیہ ایجنسیاں سنی شیعہ میں جنگی محاذ آرائی کی کوشش کریں گی،لیکن علمائے کرام کو علمی محاذ آرائی کرنی چاہیے،جیسے وہابیوں سے محض علمی محاذ آرائی ہوتی ہے۔

پاکستان،عراق،شام،لیبیا وغیرہ میں شیعہ سنی جھگڑے خوب کروائے گئے اور ان ملکوں کو تباہ کر دیا گیا۔چند دن قبل ایران اور سعودی عرب نے دفاعی معاہدہ کیا ہے۔امریکی سیاست اسے برداشت نہیں کر پائے گی،کیوں کہ یہ شیعہ و سنی اتحاد ہے۔سعودی وہابی ملک ہے،لیکن دنیاوی اصطلاح کے اعتبار سے مسلمانوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:سنی اور شیعہ۔اسی اصطلاح کے اعتبار سے غیر شیعہ ممالک کو سنی ملک کہا جاتا ہے۔

عراق،شام،لیبیا،افغانستان وغیرہ میں شیعہ و سنی کو ایک دوسرے مقابل کھڑا کر دیا گیا اور جنگی محاذ آرائی کرائی گئی،اور امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کسی ایک جانب ہو کر بے شمار مسلمانوں کو ہلاک کیے۔دشمن کو بس موقع ملنا چاہیے،لہذا شیعہ و سنی اختلاف کی وہی نوعیت ہونی چاہئے جو قرآن وحدیث میں بیان کی گئی ہے،یعنی ترک تعلق اور علمی محاذ آرائی۔علمائے کرام دنیاوی وملکی سیاست کا اس قدر مطالعہ ضرور کریں کہ وہ تحفظ مذہب ومسلک کے ساتھ امت مسلمہ کو ہلاکت سے بچا سکیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:یکم دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

دنیا کی بدترین قوم سے مشکل ترین جنگ

(1)غزہ پٹی کو تین اطراف سے اسرائیل نے گھیر رکھا ہے۔ایک طرف مصر کی سرحد ہے جو جنگ کے سبب بند کر دی گئی ہے۔مصر کی سرحد سے بھی کوئی چیز غزہ پٹی داخل نہیں ہو سکتی۔جب کہ اسرائیل نے غزہ پٹی میں بجلی اور پانی کی سپلائی 7:اکتوبر کے بعد ہی بند کر دی تھی۔

اسرائیل نے ہوائی حملے کر کے جس طرح عام شہریوں کے رہائشی مکانات کو تباہ وبرباد کیا،اسی طرح غزہ پٹی کے تمام بڑے اسپتالوں کو تباہ کر دیا،تاکہ لوگ علاج ودوا نہ ملنے کے سبب مر جائیں۔اناج کے گوداموں کو بھی بمباری کر کے تباہ کردیا،تاکہ لوگ بھوک سے مر جائیں۔بہت سے کنواں کو ناقابل استعمال کر دیا گیا،تاکہ لوگ پیاس سے مر جائیں۔بمباری کے سبب بے شمار لوگ مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے۔غزہ پٹی میں اسپتالوں کی تباہی کے سب علاج ودوا کا کوئی معقول انتظام نہیں۔اوپر سے مسلسل بمباری ہو رہی ہے۔

ایسی صورت میں غزہ پٹی کے مسلمان کس قدر ذہنی و جسمانی پریشانیوں میں مبتلا ہوں گے،اس کا صحیح اندازہ وہی کر سکتا ہے جو خود اس منزل سے گزر چکا ہو۔ایسی صورت میں غزہ کے مسلمانوں کا زندہ رہ جانا ہی ایک بہت بڑی کرامت ہے۔

امریکہ نے دوبارہ جنگ کی اجازت دی ہے تو اسے مستحکم گائیڈ لائن بھی مرتب کرنا چاہئے،لیکن ایسا نہیں ہو سکتا۔قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہود ونصاری اسی وقت مسلمانوں سے راضی ہوں گے،جب مسلمان بھی یہودی ونصرانی مذہب قبول کر لیں۔

(2)یو ٹیوب وغیرہ پر فلسطین کی فتح یابی اور اسرائیل کی شکست سے متعلق جو ویڈیو ہو،اسے ڈلٹ کر دیا جاتا ہے،لہذا یو ٹیوبرس زیادہ تر ایسے ویڈیوز بناتے ہیں جن میں اسرائیل کی شکست کا ذکر نہ ہو۔اگر اسرائیل کے پانچ سو فوجی مارے جائیں تو اسرائیل کہے گا کہ ہمارے پانچ فوجی زخمی ہوئے ہیں۔یوٹیوبرس کو بھی ایسا ہی کہنا ہے،ورنہ یوٹیوب ڈلٹ کر دیا جائے گا اور یو ٹیوبرس کی روزی روٹی یوٹیوب سے چلتی ہے،لہذا وہ بھی یوٹیوب کمپنی کے خلاف نہیں جا سکتے،یعنی صحیح خبر ملنا بھی مشکل ہے۔

(3)جب حماس کے مختلف گروپ بھی مسلسل زمینی اور فضائی حملے کر رہے ہیں تو ضرور اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔حماس کے ٹھکانے گرچہ سرنگوں میں ہیں،لیکن وہ مقابلہ آرائی کے لئے باہر آتے ہیں اور مختلف مقامات پر گھات لگا کر بیٹھے رہتے ہیں اور اسرائیلی فوجیوں سے جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔حماس کے لڑاکے آزادانہ طور پر سڑکوں پر موجود رہیں تو غزہ پٹی کی فضا میں گشت لگانے والے اسرائیل کے جاسوسی طیارے اپنے کمانڈ سینٹر کو اس کی اطلاع بھیجیں گے اور اسرائیلی طیارے ان پر بمباری کریں گے،لہذا بلا ضرورت سڑکوں پر گھوم کر خود کو ہلاکت میں ڈالنا کوئی عقل مندی نہیں۔

(4)غزہ پٹی میں انسانی ضرورتوں کے سامان نہیں پہنچ رہے ہیں اور لوگ زیادہ دنوں تک بھوک پیاس برداشت نہیں کر سکتے،نہ ہی طویل مدت تک دوا وعلاج کے بغیر رہ سکتے ہیں۔یہ ایک مشکل مرحلہ ہے۔معلوم نہیں کہ حماس نے اس کا کیا انتظام کیا ہے،لہذا فلسطینی مسلمانوں کی بھلائی کے لئے دعائیں کی جائیں۔

(5)رپورٹ کے مطابق امریکہ نے یکم دسمبر سے سات دسمبر تک اسرائیل کو موقع دیا ہے،تاکہ وہ ان سات دنوں میں حماس کو ختم کر سکے۔اسرائیل ان سات دنوں میں بمباری کر کے بے شمار فلسطینی عوام کو ہلاک کرے گا،کیوں کہ حماس کو ختم کرنا اسرائیل وامریکہ کی قوت سے باہر ہے۔امریکہ بیس سال میں طالبان کو ختم نہ کر سکا۔امریکہ نے بھی تورا بورا کے پہاڑ پر خوب بمباری کی تھی۔آخر کار اپنے سر پر ذلت وخواری کا ٹوکرا اٹھائے سوئے امریکہ روانہ ہو گیا۔

خبر کے مطابق اس مرتبہ حماس بھی بہت سخت زمینی حملے کر رہا ہے اور اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر راکٹ ومیزائل کی بارش برسا رہا ہے۔اللہ تعالی مسلمانوں کو فتح عطا فرمائے:(آمین)

(6)قوم یہود کے بہت سے مذہبی پیشواؤں نے متفقہ طور پر فتویٰ دیا تھا کہ مسلمانوں کو ہلاک کرنا کوئی گناہ نہیں ہے۔ان مذہبی پیشواؤں کا لیڈر چند دنوں قبل یروشلم میں ہلاک کیا جا چکا ہے اور اسرائیل کا سب سے بڑا سائنسدان بھی ہلاک کر دیا گیا ہے۔اس سائنس داں کی ہلاکت پر یہودیوں کو بہت افسوس ہوا۔

(7)جنگی محاذ پر صورت حال بدلتے رہتی ہے۔اگر آج کوئی فریق غالب رہا تو کل وہ شکست بھی کھا سکتا ہے،لہذا رحمت الہی سے نا امید ہونے کی ضرورت نہیں،استقامت اور دعا کی ضرورت ہے۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:02:دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

اسرائیل کی قسمت میں شکست پر شکست

(1)آج 03:دسمبر کو بھی فلسطین واسرائیل کے درمیان سخت معرکہ آرائی جاری ہے۔حماس کا پلہ بھاری ہے۔آج حماس نے تین اسرائیلی کمانڈر کو ہلاک کیا۔بہت سے اسرائیلی ٹینک تباہ کیے۔حماس کی طرف سےاسرائیلی شہروں پر بمباری جاری ہے۔اسرائیل کا آئرن ڈوم کام کرنا چھوڑ دیا ہے،بلکہ وہ اسرائیلی شہروں میں میزائل داغ رہا ہے۔

اج بھی بہت سے اسرائیلی فوجی مارے گئے ہیں۔مختلف رپورٹ میں مختلف تعداد بتائی جا رہی ہے۔خلاصہ یہ کہ پچاس سے زائد اسرائیلی فوجی مارے گئے ہیں۔

(2)یہودیوں کے فضائی حملوں سے بہت سے عام فلسطینی شہری ہلاک ہوئے۔تعداد کی صحیح رپورٹ نہیں ہے۔ڈھائی سو سے زیادہ تعداد بتائی جاتی ہے۔

اسرائیلی فوج اعلان کرتی ہے کہ عام فلسطینی شہری فلاں مقام پر چلے جائیں۔وہاں بمباری نہیں ہوگی،پھر اسرائیلی طیاروں سے وہاں بھی بمباری کر دی جاتی ہے۔غزہ پٹی سے فلسطینیوں کی ہجرت کی خبر بھی آئی ہے۔

(3) اسرائیل کے جاسوسی طیارے حماس کے سرنگوں کو تلاش کر رہے ہیں،تاکہ امریکہ کے دیئے ہوئے بنکر بسٹر بموں کے ذریعہ ان سرنگوں کو تباہ کر دیا جائے،لیکن امید ہے کہ سرنگوں کی تلاش سے قبل ہی اسرائیل شکست کھا کر غزہ پٹی سے بھاگ کھڑا ہو گا۔حماس کے حملے انتہائی خطرناک اور تیز ہو چکے ہیں۔یہودی فوج کو غزہ پٹی میں قدم جمانے کا موقع نہیں مل پا رہا ہے۔

اندازہ یہی ہے کہ سرنگوں کو کمال مہارت سے بنایا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس جاسوسی طیارے بھی ان سرنگوں کو تلاش کرنے میں ناکام ہیں جیسے اسرائیل کا آئرن ڈوم نظام ناکام اور پاگل ہو چکا ہے۔اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد جو سمندر کے اندر کی خبر بھی حاصل کر لیتی ہے،وہ اپنے پڑوسی علاقہ کی سرنگوں کا پتہ لگانے میں ناکام کیوں ہے؟

درحقیقت اسرائیل محض ڈینگ مارتا ہے کہ اس کی خفیہ ایجنسی بہت طاقتور ہے۔اس کی فوج بہت بہادر ہے۔اس کا آئرن ڈوم سسٹم بہت موثر ہے۔وغیرہ

حماس نے اسرائیل کو تاریخی شکست سے دو چار کر رکھا ہے۔یہ بات واضح ہے کہ دنیا چڑھتے سورج کو سلام کرتی ہے۔اگر حماس نے استقامت وشجاعت دکھائی تو ان شاء اللہ تعالی فلسطین ایک آزاد ملک بن جائے گا۔اسرائیلی فضائی حملوں سے فلسطینی عوام کثیر تعداد میں ہلاک ہو رہے ہیں۔اس کا ہمیں بہت افسوس ہے۔حماس کے پاس فضائی حملہ روکنے کا کوئی موثر ذریعہ نہیں،لیکن زمینی جنگ میں حماس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:03:دسمبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

فلسطین واسرائیل جنگ:کون جیتا؟ کون ہارا؟

(1) اسرائیل نے جنگ بندی کے بعد یکم دسمبر سے دوبارہ جنگ شروع کر دی ہے۔اس نے سوچا تھا کہ اس بار اسرائیل کی پیشانی سے شکست کا داغ دھل دیا جائے،لیکن اس مرتبہ زمینی جنگ میں یہودیوں کا قدم جم نہیں پا رہا ہے۔ہر مقام پر وہ ہلاک ہو رہے ہیں۔اس کے ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ کی جا رہی ہیں۔اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کی صحیح تعداد بتائی نہیں جا رہی ہے۔کل ایک ہی جگہ 60: اسرائیلی فوجی واصل جہنم ہوئے۔دیگر مقامات پر بھی یہودی فوجی مارے گئے۔مجموعی تعداد دو سو کے قریب ہو گی۔ویسٹ بینک میں بھی جنگ شروع ہو چکی ہے اور حماس کے متعدد گروپ ویسٹ بینک میں مقابلہ آرائی کر رہے ہیں۔خبر کے مطابق شمالی غزہ سے ستر فی صد اسرائیلی فوجی بھاگ چکے ہیں۔

(2)شمالی غزہ کی طرح جنوبی غزہ اور دیگر حصوں میں بھی اسرائیل کی وحشیانہ بمباری جاری ہے۔کل سات سو عام فلسطینی شہری ہلاک ہوئے۔

(3)حماس کے زمینی حملے سخت ہو چکے ہیں۔اج بھی قریبا سو یہودی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔حزب اللہ بھی حملے کر رہا ہے۔ یمن کے حوثی بحر احمر میں اسرائیلی جہازوں کو تباہ کر رہے ہیں اور امریکہ وبرطانیہ کے جہازوں پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔عراق وشام میں امریکہ کے فوجی اڈے ہیں۔ان فوجی ٹھکانوں پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔اگر بفضل الہی حماس نے چند دن مزید ثابت قدمی دکھائی تو ان شاء اللہ تعالی اسرائیل شکست فاش سے دوچار ہو گا اور مستقل جنگ بندی اور دو ملکی نظریہ پر بات چیت شروع ہو جائے گی۔

(4) اسرائیل کے اندرونی حالات اچھے نہیں ہیں۔غزہ جنگ سے متعلق اہل حکومت آپس ہی میں جھگڑ رہے ہیں۔نتن یاہو پر گھوٹالے کا مقدمہ بھی چل رہا ہے۔دوسری جانب ہر جگہ یہودی شکست بھی کھا رہے ہیں۔دنیا بھر میں فلسطین کی حمایت میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:04:دسمبر 2023