🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
21-05-1445 ᴴ | 06-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
بتاریخ 6 دسمبر 1992
یوم شہادت بابری مسجد 😢
🆔 @islaamic_Knowledge
محمد جمال الدین خان قادری
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
بتاریخ 6 دسمبر 1992
یوم شہادت بابری مسجد 😢
🆔 @islaamic_Knowledge
محمد جمال الدین خان قادری
😢2
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
فلسطینی بھائیوں کے لیے ہم کیا کریں؟
(1)دعا ضرور کرنا ہے۔گرچہ ہم اس لائق نہیں کہ ہماری دعائیں قبول ہوں,لیکن فضل الہی پر اعتماد کرتے ہوئے ہمیں فلسطینی بھائیوں اور جملہ مومنین کے لئے دعائے خیر کرتے رہنا ہے۔
(2)اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ وسیع پیمانے پر ہونا چاہئے۔دشمن کو جس طرح آپ کمزور کرسکتے ہیں,وہ تدبیر اپنائیں۔
(3)فلسطینی مسلمانوں کی مالی امداد کی جو صورت ہو,اسے اختیار کیا جائے۔
(4)یہودیوں کے ظلم وجبر کے خلاف جس طرح ممکن ہو,آواز بلند کی جائے۔پرامن احتجاج ممکن ہو تو احتجاج کریں۔تحریر وتقریر اور اپنے عمل سے ظالموں سے اظہار نفرت کریں۔مظلوموں کی حمایت کریں۔
(5)فلسطین اہل فلسطین کا ہے۔جب جرمنی نے اپنے ملک سے انہیں نکال باہر کیا تو یہ لوگ 1948میں فلسطین میں پناہ لئے۔رفتہ رفتہ فلسطین کے علاقوں پر قبضہ جما کر ایک ملک قائم کر لئے۔غاصب اور ظالم یہودی لوگ ہیں۔نہ کہ فلسطینی مسلمان۔
انگریزوں نے بھارت پر قبضہ کر لیا تھا۔اہل بھارت نے آزادی کی لڑائی لڑی اور ملک کو انگریزوں کے اقتدار سے آزاد کرایا۔مجاہدین آزادی آتنگ وادی نہیں تھے۔اسی طرح فلسطینی مسلمان اپنے ملک کی آزادی کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔وہ آتنگ وادی نہیں ہیں۔ان کو آتنگ وادی کہنا غلط ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:20:اکتوبر 2023
فلسطینی بھائیوں کے لیے ہم کیا کریں؟
(1)دعا ضرور کرنا ہے۔گرچہ ہم اس لائق نہیں کہ ہماری دعائیں قبول ہوں,لیکن فضل الہی پر اعتماد کرتے ہوئے ہمیں فلسطینی بھائیوں اور جملہ مومنین کے لئے دعائے خیر کرتے رہنا ہے۔
(2)اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ وسیع پیمانے پر ہونا چاہئے۔دشمن کو جس طرح آپ کمزور کرسکتے ہیں,وہ تدبیر اپنائیں۔
(3)فلسطینی مسلمانوں کی مالی امداد کی جو صورت ہو,اسے اختیار کیا جائے۔
(4)یہودیوں کے ظلم وجبر کے خلاف جس طرح ممکن ہو,آواز بلند کی جائے۔پرامن احتجاج ممکن ہو تو احتجاج کریں۔تحریر وتقریر اور اپنے عمل سے ظالموں سے اظہار نفرت کریں۔مظلوموں کی حمایت کریں۔
(5)فلسطین اہل فلسطین کا ہے۔جب جرمنی نے اپنے ملک سے انہیں نکال باہر کیا تو یہ لوگ 1948میں فلسطین میں پناہ لئے۔رفتہ رفتہ فلسطین کے علاقوں پر قبضہ جما کر ایک ملک قائم کر لئے۔غاصب اور ظالم یہودی لوگ ہیں۔نہ کہ فلسطینی مسلمان۔
انگریزوں نے بھارت پر قبضہ کر لیا تھا۔اہل بھارت نے آزادی کی لڑائی لڑی اور ملک کو انگریزوں کے اقتدار سے آزاد کرایا۔مجاہدین آزادی آتنگ وادی نہیں تھے۔اسی طرح فلسطینی مسلمان اپنے ملک کی آزادی کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔وہ آتنگ وادی نہیں ہیں۔ان کو آتنگ وادی کہنا غلط ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:20:اکتوبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
یہودی مذہب کی دہشت گردانہ تعلیمات
از قلم: محمد یوسف رضا قادری
رکن جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء نئی دہلی
و تنظیم علماے اہل سنت بھیونڈی
٧ اکتوبر ٢٠٢٣ ء سے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ جاری ہے، اس جنگ میں اسرائیل کی جانب سے جس ظلم و سفاکیت کا مظاہرہ کیا جا رہاہے اس نے دنیا کے ہر انسان کو بے چین و بے قرار کر دیا ہے ، اقوام متحدہ نے جنگ کے بھی کچھ اصول متعین کیے ہیں مگر اسرائیل ان اصولوں کی خلاف ورزی کرکے جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے ، اہل غزہ پر کھانا ، پانی ، بجلی ، دوا سب کی فراہمی روک کر اسرائیل جس سنگ دلی کا ثبوت دے رہا ہے اس پر دنیا حیرت و استعجاب میں مبتلا ہے کہ آخر انسان ہو کر انسانوں کے ساتھ ایسا غیر انسانی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہودیوں کی مقدس کتاب '' تالمود''میںیہودیوں کو یہی تعلیم دی گئی ہے کہ یہودیوں کے علاوہ دنیا کے تمام انسان ہندو، مسلم ، سکھ، عیسائی ، بدھست سب کے سب انسان نہیں جانور ہیں اور یہودیوں کے سوا کسی انسان کو دنیا میں جینے کا کوئی حق نہیں اور غیر یہودیوں پر ظلم و ستم ڈھانا باعث اجر و ثواب ہے ۔
یہاں ہم یہودیوں کی مقدس کتاب '' تالمود'' سے ان کی تعلیمات کے چند نمونے پیش کر رہے ہیں جس سے آپ کو یہ اندازہ ہو جائے گا کہ اس کتاب میں یہودیو ں کو دہشت گردی کی کیسی خطرناک تعلیم دی گئی ہے اسی کے نتیجہ میں غزہ پر آگ برسائی جا رہی ہے انسانوں کو خاک و خون میں تڑپایا جا رہا ہے ، ننھے ننھے بچوں کو بھوکا ، پیاسا مارا جا رہا ہے ، ہاسپیٹل پر بھی بم باری کی جارہی ہے اور اقوام عالم کی اپیل پر بھی اسرائیل جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہورہا ہے۔واضح رہے کہ تالمود یہودیوںکی فقہ کی بہت ہی معتمد و مستند کتاب ہے جسے'' یوخاس''
نے مرتب کیا ہے اور یہودی اسے توریت سے بھی زیادہ معتبر سمجھتے ہیںاور اپنے مذہبی امور کو اسی کے مطابق انجام دیتے ہیں ۔
آج یوروپ اور امریکہ جس کے باشندے مذہبا ً عیسائی ہیں اور اسرائیل کی حمایت و پشت پناہی کر رہے ہیں وہ تالمود کی تعلیمات کا مطالعہ کریں اور اندازہ کریں کہ یہودیوں کی نظر میں عیسائیوں اور دوسری اقوام کی کیا حیثیت ہے :
(١) عیسائیوں کو قتل کرنا ہمارے مذہبی واجبات میں سے ہے ۔
(٢) عیسائی مذہب کے روساء جو یہودیوں کے دشمن ہیں ان پر روزانہ تین مرتبہ لعنت کرنا ضروری ہے۔
(٣) ہم پر لازم ہے کہ عیسائیوں کے ساتھ حیوانات جیسا سلوک کریں۔
(٤) عیسائیوں کے کلیسا گمراہیوں کے مسکن ہیں اور ان کو ڈھا دینا واجب ہے۔
(٥) اگر یہودی عیسائیوں کے ساتھ کوئی معاہدہ کریں تو اس کو پورا کرنا ہم پر ضرور ی نہیں۔
(٦) عیسائیوں کے کلیسا جس میں آدمیوں کی صورت میں کتے بھوکتے ہیں کوڑے دان کی مثل ہیں۔
(٧) عیسائیوں کو ہلاک کرنا باعث اجرو ثواب ہے اور اگرقتل پر قادر نہ ہو تو کم سے کم ہلاکت کے اسباب ضرور پیدا کردینا چاہیے۔
(٨) یسو ع مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جھوٹے نبی تھے مگر عیسائی ان کے دھوکے میں آگئے ۔
(٩) حضرت عیسیٰ علیہ السلام جہنم میں جلائے جائیں گے]معاذ اللہ[۔
(١٠) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایک شخص نے زناکیا تھا اس کے نتیجہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی]معاذ اللہ[۔
(١١) غیر یہودی (ہندو، مسلم ، سکھ ، عیسائی ، بدھست)چاہے کتنے ہی نیک اور اچھے کردار کے ہوں ان کو مار ڈالنا چاہیے۔
(١٢) کسی غیر یہودی کو کسی مصیبت و پریشانی سے نجات دینا حرام ہے یہاں تک کہ اگر وہ کنویں میں گر جائے تو فوراً اس کنویں کو پتھر سے پر کردینا چاہیے۔
(١٣) اگر کسی غیر یہودی کو ہم نے قتل کردیا تو یہ راہ خدا میں قربانی کے مترادف ہے۔
(١٤) کسی غیر یہودی کی مدد کرنا ناقابل معافی گناہ ہے ۔
(١٥) اگر کوئی غیر یہودی دریا میں ڈوب رہا ہو تو اسے ہر گز نہ بچائیں اس لیے کہ وہ سات قومیں جو سرزمین کنعان میں تھیں اور یہودیوں کو ان کو مار ڈالنے کا حکم دیا گیا تھا وہ سب کے سب قتل نہیں کیے جا سکے تھے ممکن ہے یہ ڈوبنے والا شخص انہیں میں سے ہو۔
(١٦) جہاں تک ممکن ہو غیر یہودیوں کو قتل کردو اور اگر قتل کی قدرت ہونے کے باوجود تم نے اسے قتل نہ کیا تو تم گنہگار ہوگے۔
(١٧)یہودیوں کویہ حق حاصل ہے کہ وہ غیر یہودیوں کی عورتوں کو بالجبر حاصل کریں۔
(١٨) غیر یہودیوں کے ساتھ زنا و لواطت کوئی جرم نہیں اور اس پر کوئی سزا نہیں۔
(١٩) روزانہ تین مرتبہ عیسائیوں کی تباہی و بربادی کی دعا کرنا لازم ہے۔
(٢٠) سود کے ذریعہ دوسروں کا مال کھانا کوئی عیب کی بات نہیں ہے اس لیے کہ اللہ نے غیر یہودیوں سے سود خوری کا حکم دیا ہے ۔
از قلم: محمد یوسف رضا قادری
رکن جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء نئی دہلی
و تنظیم علماے اہل سنت بھیونڈی
٧ اکتوبر ٢٠٢٣ ء سے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ جاری ہے، اس جنگ میں اسرائیل کی جانب سے جس ظلم و سفاکیت کا مظاہرہ کیا جا رہاہے اس نے دنیا کے ہر انسان کو بے چین و بے قرار کر دیا ہے ، اقوام متحدہ نے جنگ کے بھی کچھ اصول متعین کیے ہیں مگر اسرائیل ان اصولوں کی خلاف ورزی کرکے جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے ، اہل غزہ پر کھانا ، پانی ، بجلی ، دوا سب کی فراہمی روک کر اسرائیل جس سنگ دلی کا ثبوت دے رہا ہے اس پر دنیا حیرت و استعجاب میں مبتلا ہے کہ آخر انسان ہو کر انسانوں کے ساتھ ایسا غیر انسانی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہودیوں کی مقدس کتاب '' تالمود''میںیہودیوں کو یہی تعلیم دی گئی ہے کہ یہودیوں کے علاوہ دنیا کے تمام انسان ہندو، مسلم ، سکھ، عیسائی ، بدھست سب کے سب انسان نہیں جانور ہیں اور یہودیوں کے سوا کسی انسان کو دنیا میں جینے کا کوئی حق نہیں اور غیر یہودیوں پر ظلم و ستم ڈھانا باعث اجر و ثواب ہے ۔
یہاں ہم یہودیوں کی مقدس کتاب '' تالمود'' سے ان کی تعلیمات کے چند نمونے پیش کر رہے ہیں جس سے آپ کو یہ اندازہ ہو جائے گا کہ اس کتاب میں یہودیو ں کو دہشت گردی کی کیسی خطرناک تعلیم دی گئی ہے اسی کے نتیجہ میں غزہ پر آگ برسائی جا رہی ہے انسانوں کو خاک و خون میں تڑپایا جا رہا ہے ، ننھے ننھے بچوں کو بھوکا ، پیاسا مارا جا رہا ہے ، ہاسپیٹل پر بھی بم باری کی جارہی ہے اور اقوام عالم کی اپیل پر بھی اسرائیل جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہورہا ہے۔واضح رہے کہ تالمود یہودیوںکی فقہ کی بہت ہی معتمد و مستند کتاب ہے جسے'' یوخاس''
نے مرتب کیا ہے اور یہودی اسے توریت سے بھی زیادہ معتبر سمجھتے ہیںاور اپنے مذہبی امور کو اسی کے مطابق انجام دیتے ہیں ۔
آج یوروپ اور امریکہ جس کے باشندے مذہبا ً عیسائی ہیں اور اسرائیل کی حمایت و پشت پناہی کر رہے ہیں وہ تالمود کی تعلیمات کا مطالعہ کریں اور اندازہ کریں کہ یہودیوں کی نظر میں عیسائیوں اور دوسری اقوام کی کیا حیثیت ہے :
(١) عیسائیوں کو قتل کرنا ہمارے مذہبی واجبات میں سے ہے ۔
(٢) عیسائی مذہب کے روساء جو یہودیوں کے دشمن ہیں ان پر روزانہ تین مرتبہ لعنت کرنا ضروری ہے۔
(٣) ہم پر لازم ہے کہ عیسائیوں کے ساتھ حیوانات جیسا سلوک کریں۔
(٤) عیسائیوں کے کلیسا گمراہیوں کے مسکن ہیں اور ان کو ڈھا دینا واجب ہے۔
(٥) اگر یہودی عیسائیوں کے ساتھ کوئی معاہدہ کریں تو اس کو پورا کرنا ہم پر ضرور ی نہیں۔
(٦) عیسائیوں کے کلیسا جس میں آدمیوں کی صورت میں کتے بھوکتے ہیں کوڑے دان کی مثل ہیں۔
(٧) عیسائیوں کو ہلاک کرنا باعث اجرو ثواب ہے اور اگرقتل پر قادر نہ ہو تو کم سے کم ہلاکت کے اسباب ضرور پیدا کردینا چاہیے۔
(٨) یسو ع مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جھوٹے نبی تھے مگر عیسائی ان کے دھوکے میں آگئے ۔
(٩) حضرت عیسیٰ علیہ السلام جہنم میں جلائے جائیں گے]معاذ اللہ[۔
(١٠) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایک شخص نے زناکیا تھا اس کے نتیجہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی]معاذ اللہ[۔
(١١) غیر یہودی (ہندو، مسلم ، سکھ ، عیسائی ، بدھست)چاہے کتنے ہی نیک اور اچھے کردار کے ہوں ان کو مار ڈالنا چاہیے۔
(١٢) کسی غیر یہودی کو کسی مصیبت و پریشانی سے نجات دینا حرام ہے یہاں تک کہ اگر وہ کنویں میں گر جائے تو فوراً اس کنویں کو پتھر سے پر کردینا چاہیے۔
(١٣) اگر کسی غیر یہودی کو ہم نے قتل کردیا تو یہ راہ خدا میں قربانی کے مترادف ہے۔
(١٤) کسی غیر یہودی کی مدد کرنا ناقابل معافی گناہ ہے ۔
(١٥) اگر کوئی غیر یہودی دریا میں ڈوب رہا ہو تو اسے ہر گز نہ بچائیں اس لیے کہ وہ سات قومیں جو سرزمین کنعان میں تھیں اور یہودیوں کو ان کو مار ڈالنے کا حکم دیا گیا تھا وہ سب کے سب قتل نہیں کیے جا سکے تھے ممکن ہے یہ ڈوبنے والا شخص انہیں میں سے ہو۔
(١٦) جہاں تک ممکن ہو غیر یہودیوں کو قتل کردو اور اگر قتل کی قدرت ہونے کے باوجود تم نے اسے قتل نہ کیا تو تم گنہگار ہوگے۔
(١٧)یہودیوں کویہ حق حاصل ہے کہ وہ غیر یہودیوں کی عورتوں کو بالجبر حاصل کریں۔
(١٨) غیر یہودیوں کے ساتھ زنا و لواطت کوئی جرم نہیں اور اس پر کوئی سزا نہیں۔
(١٩) روزانہ تین مرتبہ عیسائیوں کی تباہی و بربادی کی دعا کرنا لازم ہے۔
(٢٠) سود کے ذریعہ دوسروں کا مال کھانا کوئی عیب کی بات نہیں ہے اس لیے کہ اللہ نے غیر یہودیوں سے سود خوری کا حکم دیا ہے ۔
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
(٢١) غیر یہودی کو ہر گز قرض نہ دو اور اگر دو تو اس قدر سود اصول کرو کہ وہ تنگ دست و قلاش ہو جائے۔
(٢٢) یہودیوں پر لازم ہے کہ وہ دوسروں کی زمینوں کو خرید لیں تاکہ غیر یہودی کسی چیز کے مالک نہ ہوں اور یہودی تمام غیر یہودیوں پر مسلط ہو سکے۔
(٢٣) اس سے پہلے کہ یہودی عالمی حکومت قائم کریں اور بین الاقوامی غلبہ حاصل کریں عالمی جنگ برپا کی جائے اور دو تہائی انسانوں کو ہلاک کردیا جائے۔
(٢٤) اگر یہودی نہ ہوتے تو زمین سے برکتیں اٹھالی جاتیں اور نہ سورج نکلتا نہ آسمان سے پانی برستا۔
(٢٥) جس طرح حیوانوں پرانسانوں کو فضیلت حاصل ہے اسی طرح یہودیوں کو دوسری اقوام پر فضیلت حاصل ہے۔
(٢٦) کتا غیر یہودیوں سے زیادہ افضل ہے اس لیے کہ عید کے موقع پر کتے کو روٹی اور گوشت دیا جاتاہے مگر غیر یہودی کو روٹی اور گوشت دینا حرام ہے۔
(٢٧) اللہ تعالیٰ کی روزانہ کی بارہ گھنٹے کی مصروفیت۔۔۔شروع کے تین گھنٹوں میں اللہ تعالیٰ شریعت کا مطالعہ کرتا ہے]معاذ اللہ [۔۔۔۔ اس کے بعد تین گھنٹوں تک احکامات صادر کرتا ہے]معاذ اللہ[ ۔۔۔ اس کے بعد تین گھنٹوں تک مخلوق میں روزی تقسیم کرتا ہے]معاذ اللہ [۔۔۔اس کے بعد تین گھنٹہ سمندر کی حوت نامی مچھلی سے کھیلتا ہے]معاذ اللہ[ ۔
(٢٨) ہیکل کو برباد کرنے کا حکم دے کر خدا نے خطا کی اس خطا کا اعتراف کرکے خدا رو پڑا اور کہنے لگا ہاے افسوس کہ میں نے ہیکل کو برباد کرنے کا حکم دیا اور اپنے فرزندوں کا تباہ کردیا ]معاذ اللہ [۔
(٢٩) یہودیوں کو ان حالات سے دو چار کرکے خدا بہت پشیماںہے اور روزانہ اپنے چہرے پر طمانچہ مارتا ہے اور گریہ وزاری کرتا ہے۔
(٣٠) کبھی کبھی خدا کی آنکھوں سے دو قطرے آنسووں کے سمندر میں گرجاتے ہیں جس سے سمندر میں طلاطم برپا ہوجاتاہے اور زمین لرز جاتی ہے۔
٭٭٭
(٢٢) یہودیوں پر لازم ہے کہ وہ دوسروں کی زمینوں کو خرید لیں تاکہ غیر یہودی کسی چیز کے مالک نہ ہوں اور یہودی تمام غیر یہودیوں پر مسلط ہو سکے۔
(٢٣) اس سے پہلے کہ یہودی عالمی حکومت قائم کریں اور بین الاقوامی غلبہ حاصل کریں عالمی جنگ برپا کی جائے اور دو تہائی انسانوں کو ہلاک کردیا جائے۔
(٢٤) اگر یہودی نہ ہوتے تو زمین سے برکتیں اٹھالی جاتیں اور نہ سورج نکلتا نہ آسمان سے پانی برستا۔
(٢٥) جس طرح حیوانوں پرانسانوں کو فضیلت حاصل ہے اسی طرح یہودیوں کو دوسری اقوام پر فضیلت حاصل ہے۔
(٢٦) کتا غیر یہودیوں سے زیادہ افضل ہے اس لیے کہ عید کے موقع پر کتے کو روٹی اور گوشت دیا جاتاہے مگر غیر یہودی کو روٹی اور گوشت دینا حرام ہے۔
(٢٧) اللہ تعالیٰ کی روزانہ کی بارہ گھنٹے کی مصروفیت۔۔۔شروع کے تین گھنٹوں میں اللہ تعالیٰ شریعت کا مطالعہ کرتا ہے]معاذ اللہ [۔۔۔۔ اس کے بعد تین گھنٹوں تک احکامات صادر کرتا ہے]معاذ اللہ[ ۔۔۔ اس کے بعد تین گھنٹوں تک مخلوق میں روزی تقسیم کرتا ہے]معاذ اللہ [۔۔۔اس کے بعد تین گھنٹہ سمندر کی حوت نامی مچھلی سے کھیلتا ہے]معاذ اللہ[ ۔
(٢٨) ہیکل کو برباد کرنے کا حکم دے کر خدا نے خطا کی اس خطا کا اعتراف کرکے خدا رو پڑا اور کہنے لگا ہاے افسوس کہ میں نے ہیکل کو برباد کرنے کا حکم دیا اور اپنے فرزندوں کا تباہ کردیا ]معاذ اللہ [۔
(٢٩) یہودیوں کو ان حالات سے دو چار کرکے خدا بہت پشیماںہے اور روزانہ اپنے چہرے پر طمانچہ مارتا ہے اور گریہ وزاری کرتا ہے۔
(٣٠) کبھی کبھی خدا کی آنکھوں سے دو قطرے آنسووں کے سمندر میں گرجاتے ہیں جس سے سمندر میں طلاطم برپا ہوجاتاہے اور زمین لرز جاتی ہے۔
٭٭٭
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
عرب ممالک اور مغربی ممالک
(1) فلسطین پر چونتیس دنوں سے مسلسل اسرائیلی حملے جاری ہیں۔مغربی ممالک خاص کر صدر امریکہ اور اس کے بعض اہم وزرا عرب ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔مسلم حکمرانوں کو سمجھا دیا گیا ہے کہ یہ جنگ فلسطین واسرائیل کے درمیان ہے،لہذا آپ لوگوں کو اس میں حصہ لینے کی ضرورت نہیں۔سوال یہ ہے کہ جب یہ اسرائیل وفلسطین کی جنگ ہے تو اس میں امریکہ ومغربی ممالک کو کودنے کی کیا ضرورت تھی؟
(2)اسی طرح جب کسی مسلم ملک پر حملہ کیا جائے گا تو دیگر مسلم ممالک کو سمجھا دیا جائے گا کہ یہ جنگ تو فلاں وفلاں ملک کے درمیان ہے۔آپ لوگوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے۔اسی طرح رفتہ رفتہ دیگر مسلم ملکوں کا نام ونشان مٹا دیا جائے گا۔
(3)عرب ممالک زیادہ کچھ کر بھی نہیں سکتے۔عرب ممالک سلطنت عثمانیہ ترکیہ میں شامل تھے۔پہلی جنگ عظیم(1914-918)کے موقع پر عربوں نے یورپ کی اتحادی طاقتوں کے اشارے پر سلطنت عثمانیہ سے بغاوت کر دی۔اتحادی ممالک نے سلطنت عثمانیہ سے عرب علاقے چھین کر بہت سے چھوٹے چھوٹے ممالک بنا دیئے اور غدار عربوں کو ان ممالک کے حکمراں مقرر کر دیئے۔جب عرب حکمرانوں کو اتحادی ممالک نے ہی حکمرانی سپرد کی ہے تو یہ عرب حکمراں اپنے آقاؤں کی بات مانیں گے یا مسلمانوں کی ہمدردی دکھلائیں گے۔اگر یہ لوگ اسلام کے خیر خواہ ہوتے تو سلطنت عثمانیہ سے بغاوت ہی نہ کرتے۔اگر عرب عوام کا خوف نہ ہو تو عرب ممالک کے حکمراں اہل فلسطین سے رسمی ہمدردی کا اظہار بھی نہ کریں۔
باپ پر پوت پتا پر گھوڑا
بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا
عرب کا مشہور مقولہ ہے:
الولد سر لابیہ
غداروں کی اولادوں سے امید وفاداری خود فریبی نہیں تو اور کیا ہے؟
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:09:نومبر2023
عرب ممالک اور مغربی ممالک
(1) فلسطین پر چونتیس دنوں سے مسلسل اسرائیلی حملے جاری ہیں۔مغربی ممالک خاص کر صدر امریکہ اور اس کے بعض اہم وزرا عرب ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔مسلم حکمرانوں کو سمجھا دیا گیا ہے کہ یہ جنگ فلسطین واسرائیل کے درمیان ہے،لہذا آپ لوگوں کو اس میں حصہ لینے کی ضرورت نہیں۔سوال یہ ہے کہ جب یہ اسرائیل وفلسطین کی جنگ ہے تو اس میں امریکہ ومغربی ممالک کو کودنے کی کیا ضرورت تھی؟
(2)اسی طرح جب کسی مسلم ملک پر حملہ کیا جائے گا تو دیگر مسلم ممالک کو سمجھا دیا جائے گا کہ یہ جنگ تو فلاں وفلاں ملک کے درمیان ہے۔آپ لوگوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے۔اسی طرح رفتہ رفتہ دیگر مسلم ملکوں کا نام ونشان مٹا دیا جائے گا۔
(3)عرب ممالک زیادہ کچھ کر بھی نہیں سکتے۔عرب ممالک سلطنت عثمانیہ ترکیہ میں شامل تھے۔پہلی جنگ عظیم(1914-918)کے موقع پر عربوں نے یورپ کی اتحادی طاقتوں کے اشارے پر سلطنت عثمانیہ سے بغاوت کر دی۔اتحادی ممالک نے سلطنت عثمانیہ سے عرب علاقے چھین کر بہت سے چھوٹے چھوٹے ممالک بنا دیئے اور غدار عربوں کو ان ممالک کے حکمراں مقرر کر دیئے۔جب عرب حکمرانوں کو اتحادی ممالک نے ہی حکمرانی سپرد کی ہے تو یہ عرب حکمراں اپنے آقاؤں کی بات مانیں گے یا مسلمانوں کی ہمدردی دکھلائیں گے۔اگر یہ لوگ اسلام کے خیر خواہ ہوتے تو سلطنت عثمانیہ سے بغاوت ہی نہ کرتے۔اگر عرب عوام کا خوف نہ ہو تو عرب ممالک کے حکمراں اہل فلسطین سے رسمی ہمدردی کا اظہار بھی نہ کریں۔
باپ پر پوت پتا پر گھوڑا
بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا
عرب کا مشہور مقولہ ہے:
الولد سر لابیہ
غداروں کی اولادوں سے امید وفاداری خود فریبی نہیں تو اور کیا ہے؟
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:09:نومبر2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
جنگی اصولوں کی خلاف ورزی اور اسرائیل
(1)یہودی دنیا کی بدترین قوم ہے۔اس قوم نے بے شمار انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو شہید کیا ہے۔اللہ تعالی نے ان یہودیوں پر ذلت وخواری مسلط فرما دی ہے۔دیگر لوگوں کی پشت پناہی سے ہی یہ قوم تخت وتاج کے قابل ہو سکتی ہے۔اپنی قوت کے سہارے یہ قوم تخت وتاج کے لائق نہیں۔ان حقائق کو قرآن مقدس میں تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔
(2) مجاہدین اسلام کی حالیہ بمباری میں چند اسرائیلی(سات/آٹھ)ہلاک ہوئے ہیں۔یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ فوجی نہیں،بلکہ عام شہری تھے۔یہودیوں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مجاہدین اسلام نے عالمی جنگی قوانین کی پاسداری نہیں کی۔دوسری جانب آغاز امر سے ہی اسرائیل غزہ پٹی میں عام شہریوں پر جنگی جہازوں سے مسلسل بمباری کر رہا ہے اور تادم تحریر حالیہ بمباری میں قریبا چودہ ہزار عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ان مہلوکین میں بچے،بوڑھے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔
یہودی اپنے جرائم کو نہیں دیکھتے ہیں۔وہ لوگ خود جنگی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور دوسروں کو جنگی قوانین کی پابندی کی نصیحت کرتے ہیں،حالاں کہ غیر فوجی یہودی بھی دامے،درمے،قدمے،سخنے اپنی فوج کے ساتھ ہیں،لہذا وہ لوگ بھی مجرم ہیں۔سات لاکھ فلسطینی مسلمانوں کے گھروں پر یہودیوں نے قبضہ کر لیا اور ان علاقوں سے مسلمانوں کو نکال باہر کیا۔1948 سے آج تک بے شمار مسلمانوں کو قتل کیا۔مسلمانوں کے گھروں پر قبضہ کرنے والے اور ان میں رہنے والے سب کے سب فوجی نہیں،بلکہ غاصبین کی غالب اکثریت عام شہریوں کی ہے۔یہ تمام یہودی مجرم ہیں۔
(3) اسرائیل کی پالیسی یہ ہے کہ فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کر دیا جائے،تاکہ پھر کوئی فلسطین کا دعویدار باقی نہ رہے،لہذا اپنی پالیسی کے مطابق وہ عام شہریوں کو عام دنوں میں بھی ہلاک کرتا رہتا ہے۔یہ فلسطینیوں کی مسلسل نسل کشی ہے۔بھارت کے متعصبین بھی سو سال سے بھارتی مسلمانوں کو ہلاک کرنے اور انہیں ملک سے باہر نکالنے کی تمنا اپنے دلوں میں دبائے بیٹھے ہیں۔اگر بفضل الہی فلسطینی مسلمانوں کو کامیابی مل گئی تو بھارتی متعصبین کا بھی کلیجہ پھٹے گا،شاید اور بھی کچھ پھٹے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:14:نومبر 2023
جنگی اصولوں کی خلاف ورزی اور اسرائیل
(1)یہودی دنیا کی بدترین قوم ہے۔اس قوم نے بے شمار انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو شہید کیا ہے۔اللہ تعالی نے ان یہودیوں پر ذلت وخواری مسلط فرما دی ہے۔دیگر لوگوں کی پشت پناہی سے ہی یہ قوم تخت وتاج کے قابل ہو سکتی ہے۔اپنی قوت کے سہارے یہ قوم تخت وتاج کے لائق نہیں۔ان حقائق کو قرآن مقدس میں تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔
(2) مجاہدین اسلام کی حالیہ بمباری میں چند اسرائیلی(سات/آٹھ)ہلاک ہوئے ہیں۔یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ فوجی نہیں،بلکہ عام شہری تھے۔یہودیوں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مجاہدین اسلام نے عالمی جنگی قوانین کی پاسداری نہیں کی۔دوسری جانب آغاز امر سے ہی اسرائیل غزہ پٹی میں عام شہریوں پر جنگی جہازوں سے مسلسل بمباری کر رہا ہے اور تادم تحریر حالیہ بمباری میں قریبا چودہ ہزار عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ان مہلوکین میں بچے،بوڑھے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔
یہودی اپنے جرائم کو نہیں دیکھتے ہیں۔وہ لوگ خود جنگی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور دوسروں کو جنگی قوانین کی پابندی کی نصیحت کرتے ہیں،حالاں کہ غیر فوجی یہودی بھی دامے،درمے،قدمے،سخنے اپنی فوج کے ساتھ ہیں،لہذا وہ لوگ بھی مجرم ہیں۔سات لاکھ فلسطینی مسلمانوں کے گھروں پر یہودیوں نے قبضہ کر لیا اور ان علاقوں سے مسلمانوں کو نکال باہر کیا۔1948 سے آج تک بے شمار مسلمانوں کو قتل کیا۔مسلمانوں کے گھروں پر قبضہ کرنے والے اور ان میں رہنے والے سب کے سب فوجی نہیں،بلکہ غاصبین کی غالب اکثریت عام شہریوں کی ہے۔یہ تمام یہودی مجرم ہیں۔
(3) اسرائیل کی پالیسی یہ ہے کہ فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کر دیا جائے،تاکہ پھر کوئی فلسطین کا دعویدار باقی نہ رہے،لہذا اپنی پالیسی کے مطابق وہ عام شہریوں کو عام دنوں میں بھی ہلاک کرتا رہتا ہے۔یہ فلسطینیوں کی مسلسل نسل کشی ہے۔بھارت کے متعصبین بھی سو سال سے بھارتی مسلمانوں کو ہلاک کرنے اور انہیں ملک سے باہر نکالنے کی تمنا اپنے دلوں میں دبائے بیٹھے ہیں۔اگر بفضل الہی فلسطینی مسلمانوں کو کامیابی مل گئی تو بھارتی متعصبین کا بھی کلیجہ پھٹے گا،شاید اور بھی کچھ پھٹے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:14:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
دنیا چڑھتے سورج کو سلام کرتی ہے
اسرائیل نے جنگی جہازوں سے بمباری کر کے تقریبا چودہ ہزار عام فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کر دیا۔ان میں بچوں،بوڑھوں اور عورتوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔اسرائیل نے غزہ پٹی کے نصف علاقے کو عام شہریوں سے خالی کرا لیا۔بے شمار عمارتوں،اسکولوں،اسپتالوں اور مسجدوں کو بھی تباہ وبرباد کر دیا۔
حماس کے پاس جنگی جہازوں کو مار گرانے کا مستحکم نظام نہیں ہے،لہذا یہودیوں نے جنگی جہازوں سے عام شہریوں کو بے دریغ ہلاک کیا اور بے شمار عمارتوں کو تہس نہس کر دیا۔لیکن زمینی حملوں کا حال بالکل برعکس ہے۔حماس کے سپاہی اسرائیل کے جنگی ٹینکوں کو ایسے تباہ کر رہے ہیں جیسے بچے ڈھیلے پھینک کر مٹی کی ہانڈیوں کو توڑ دیتے ہیں۔یہودی ٹینکوں کی تباہی کا منظر دیکھنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیلی ٹینک نیست ونابود ہونے کے لئے ہی غزہ پٹی میں داخل ہوئے ہیں۔اگر حماس اسی طرح کاروائی کرتا رہا تو زمینی جنگ میں اسرائیل کی تاریخی شکست یقینی ہے۔
بسا اوقات یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ حماس نے اسرائیل کے جنگی ہیلی کاپٹروں کو ایسے مار گرایا جیسے بچے غلیل سے کوے مار گراتے ہیں۔
اب تو اسرائیلی شہروں پر بھی بمباری ہو رہی ہے اور دنیا کی خبیث ترین قوم یعنی خروج دجال کی امید لگائے بیٹھے غاصب وظالم یہودی اسرائیل چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں اور بہت سے یوروپین ممالک اسرائیل کا ساتھ دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ان شاء اللہ تعالی حماس مضبوطی کے ساتھ میدان میں ڈٹا رہا تو دیگر ممالک بھی اسرائیل کے خلاف ہو جائیں گے۔
ع/ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:15:نومبر 2023
دنیا چڑھتے سورج کو سلام کرتی ہے
اسرائیل نے جنگی جہازوں سے بمباری کر کے تقریبا چودہ ہزار عام فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کر دیا۔ان میں بچوں،بوڑھوں اور عورتوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔اسرائیل نے غزہ پٹی کے نصف علاقے کو عام شہریوں سے خالی کرا لیا۔بے شمار عمارتوں،اسکولوں،اسپتالوں اور مسجدوں کو بھی تباہ وبرباد کر دیا۔
حماس کے پاس جنگی جہازوں کو مار گرانے کا مستحکم نظام نہیں ہے،لہذا یہودیوں نے جنگی جہازوں سے عام شہریوں کو بے دریغ ہلاک کیا اور بے شمار عمارتوں کو تہس نہس کر دیا۔لیکن زمینی حملوں کا حال بالکل برعکس ہے۔حماس کے سپاہی اسرائیل کے جنگی ٹینکوں کو ایسے تباہ کر رہے ہیں جیسے بچے ڈھیلے پھینک کر مٹی کی ہانڈیوں کو توڑ دیتے ہیں۔یہودی ٹینکوں کی تباہی کا منظر دیکھنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیلی ٹینک نیست ونابود ہونے کے لئے ہی غزہ پٹی میں داخل ہوئے ہیں۔اگر حماس اسی طرح کاروائی کرتا رہا تو زمینی جنگ میں اسرائیل کی تاریخی شکست یقینی ہے۔
بسا اوقات یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ حماس نے اسرائیل کے جنگی ہیلی کاپٹروں کو ایسے مار گرایا جیسے بچے غلیل سے کوے مار گراتے ہیں۔
اب تو اسرائیلی شہروں پر بھی بمباری ہو رہی ہے اور دنیا کی خبیث ترین قوم یعنی خروج دجال کی امید لگائے بیٹھے غاصب وظالم یہودی اسرائیل چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں اور بہت سے یوروپین ممالک اسرائیل کا ساتھ دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ان شاء اللہ تعالی حماس مضبوطی کے ساتھ میدان میں ڈٹا رہا تو دیگر ممالک بھی اسرائیل کے خلاف ہو جائیں گے۔
ع/ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:15:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
تمام ہیرو مسلمانوں کے سامنے زیرو
سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کے پاس کوئی مرکزی قوت نہیں۔او آئی سی یا عرب لیگ کی حالت جگ ظاہر ہے۔اس عہد زوال میں مسلمانوں نے دنیا کی سپر پاور طاقتوں کو شکست وریخت سے دو چار کیا ہے۔
روس وامریکہ یقینا بڑے طاقتور اور سپر پاور ملک ہیں۔لیکن یہ ممالک ناقابل تسخیر نہیں۔ افغانستان وچیچینیا نے روس کو شکست فاش دی،پھر اسی افغانستان نے امریکہ کو اپنے ملک سے باہر نکالا۔
اسرائیل کے بارے میں بھی بہت سے حقائق یا افسانے مشہور ہیں۔اسرائیل کی فوج دنیا کی بہت طاقتور فوج مانی جاتی ہے۔اس کے جنگی ہتھیاروں کو بہت مستحکم ہتھیار مانا جاتا ہے۔اس کے محکمہ انٹلی جنس یعنی موساد کو دنیا کا ماہر ترین شعبہ انٹلی جنس مانا جاتا ہے۔آئرن ڈوم کا شہرہ بھی آسمان کی بلندیاں چھو رہا ہے،لیکن حماس کے سامنے اسرائیل کی فوج،اس کے جنگی ہتھیار،اس کا محکمہ انٹلی جنس اور آئرن ڈوم سب زیرو نظر آ رہے ہیں۔
غزہ پٹی میں اسرائیل کے جنگی ٹینک تباہ کئے جا رہے ہیں۔اسرائیلی فوجی مسلسل مارے جا رہے ہیں۔موساد مسلسل بے دست و پا نظر آ رہا ہے۔اسرائیلی شہروں پر بمباری ہو رہی ہے اور میزائیل بھی داغے جا رہے ہیں۔اسرائیل کا آئرن ڈوم سسٹم دہشت کے مارے خاموش ہو چکا ہے۔دنیا کی بدترین قوم یہودی اپنے گھروں کو چھوڑ کر اسرائیل سے بھاگ رہی ہے۔
انہی مقامات پر مسلمان مارے اور کاٹے جاتے ہیں،جہاں انہوں نے ڈیفنس کی خاطر خواہ تیاری نہ کی ہو۔ہم کسی بے قصور پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتے،لیکن جو ہم پر ظلم وستم ڈھائے تو ہمیں ڈیفنس کا حق اسلامی قانون بھی دیتا ہے اور ملکی وعالمی قانون بھی۔مسلمانوں کو اپنا دفاع کرنا ہو گا،تب اللہ تعالی کی مدد مسلمانوں کی دستگیری کرے گی۔
ابھی عالمی وملکی میڈیا دو خیموں میں منقسم ہو چکا ہے۔میڈیا سے صحیح جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کریں۔حماس کے مسلسل حملوں سے اسرائیل بدحواس ہو چکا ہے۔اسرائیلی فوج حماس کا مقابلہ نہیں کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ہاں،یہودی فوج نہتے شہریوں پر حملے کرتی ہے اور اسرائیل کے جنگی جہاز عام شہریوں پر بمباری کرتے ہیں۔حماس کو اسرائیل کے ہوائی حملے روکنے کی تدبیر کرنی چاہئے۔
جنگ بندی جلد ہو گی یا کچھ وقت لگے گا،یہ بتانا مشکل ہے۔امید ہے کہ نومبر کے اخیر تک منظر نامہ بدل جائے،کیوں کہ حماس کے حملے تیز ہوتے جا رہے ہیں اور اسرائیلی شہروں پر مسلسل بمباری جاری ہے۔مغربی ودجالی میڈیا کب تک اسرائیل کی عزت بچائے گا۔دیگر ذرائع سے حقائق سامنے آ رہے ہیں۔سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ چالیس دنوں سے مسلسل جنگ جاری ہے۔اسرائیل کی طاقتور فوج اب تک حماس کا خاتمے کیوں نہیں کر سکی۔سچ تو یہ ہے کہ اسرائیلی فوج کے کچھ لوگ روزانہ موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور اسرائیلی ٹینک تباہ وبرباد ہو رہے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:16:نومبر 2023
تمام ہیرو مسلمانوں کے سامنے زیرو
سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کے پاس کوئی مرکزی قوت نہیں۔او آئی سی یا عرب لیگ کی حالت جگ ظاہر ہے۔اس عہد زوال میں مسلمانوں نے دنیا کی سپر پاور طاقتوں کو شکست وریخت سے دو چار کیا ہے۔
روس وامریکہ یقینا بڑے طاقتور اور سپر پاور ملک ہیں۔لیکن یہ ممالک ناقابل تسخیر نہیں۔ افغانستان وچیچینیا نے روس کو شکست فاش دی،پھر اسی افغانستان نے امریکہ کو اپنے ملک سے باہر نکالا۔
اسرائیل کے بارے میں بھی بہت سے حقائق یا افسانے مشہور ہیں۔اسرائیل کی فوج دنیا کی بہت طاقتور فوج مانی جاتی ہے۔اس کے جنگی ہتھیاروں کو بہت مستحکم ہتھیار مانا جاتا ہے۔اس کے محکمہ انٹلی جنس یعنی موساد کو دنیا کا ماہر ترین شعبہ انٹلی جنس مانا جاتا ہے۔آئرن ڈوم کا شہرہ بھی آسمان کی بلندیاں چھو رہا ہے،لیکن حماس کے سامنے اسرائیل کی فوج،اس کے جنگی ہتھیار،اس کا محکمہ انٹلی جنس اور آئرن ڈوم سب زیرو نظر آ رہے ہیں۔
غزہ پٹی میں اسرائیل کے جنگی ٹینک تباہ کئے جا رہے ہیں۔اسرائیلی فوجی مسلسل مارے جا رہے ہیں۔موساد مسلسل بے دست و پا نظر آ رہا ہے۔اسرائیلی شہروں پر بمباری ہو رہی ہے اور میزائیل بھی داغے جا رہے ہیں۔اسرائیل کا آئرن ڈوم سسٹم دہشت کے مارے خاموش ہو چکا ہے۔دنیا کی بدترین قوم یہودی اپنے گھروں کو چھوڑ کر اسرائیل سے بھاگ رہی ہے۔
انہی مقامات پر مسلمان مارے اور کاٹے جاتے ہیں،جہاں انہوں نے ڈیفنس کی خاطر خواہ تیاری نہ کی ہو۔ہم کسی بے قصور پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتے،لیکن جو ہم پر ظلم وستم ڈھائے تو ہمیں ڈیفنس کا حق اسلامی قانون بھی دیتا ہے اور ملکی وعالمی قانون بھی۔مسلمانوں کو اپنا دفاع کرنا ہو گا،تب اللہ تعالی کی مدد مسلمانوں کی دستگیری کرے گی۔
ابھی عالمی وملکی میڈیا دو خیموں میں منقسم ہو چکا ہے۔میڈیا سے صحیح جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کریں۔حماس کے مسلسل حملوں سے اسرائیل بدحواس ہو چکا ہے۔اسرائیلی فوج حماس کا مقابلہ نہیں کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ہاں،یہودی فوج نہتے شہریوں پر حملے کرتی ہے اور اسرائیل کے جنگی جہاز عام شہریوں پر بمباری کرتے ہیں۔حماس کو اسرائیل کے ہوائی حملے روکنے کی تدبیر کرنی چاہئے۔
جنگ بندی جلد ہو گی یا کچھ وقت لگے گا،یہ بتانا مشکل ہے۔امید ہے کہ نومبر کے اخیر تک منظر نامہ بدل جائے،کیوں کہ حماس کے حملے تیز ہوتے جا رہے ہیں اور اسرائیلی شہروں پر مسلسل بمباری جاری ہے۔مغربی ودجالی میڈیا کب تک اسرائیل کی عزت بچائے گا۔دیگر ذرائع سے حقائق سامنے آ رہے ہیں۔سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ چالیس دنوں سے مسلسل جنگ جاری ہے۔اسرائیل کی طاقتور فوج اب تک حماس کا خاتمے کیوں نہیں کر سکی۔سچ تو یہ ہے کہ اسرائیلی فوج کے کچھ لوگ روزانہ موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور اسرائیلی ٹینک تباہ وبرباد ہو رہے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:16:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
خفیہ حقائق،غداریاں اور فلسطین
(1)یہود ونصاری،بلکہ تمام غیر مسلم اقوام ہی مسلمانوں کے ازلی دشمن ہیں۔
کافر ہر فرد وفرقہ دشمن ما را
مرتد مشرک یہود وگیر وترسا
(2)عظیم سلطنت عثمانیہ ترکیہ کا وجود ہمیشہ یورپ کے یہود ونصاری کو کھٹکتا رہا۔پہلی جنگ عظیم(1914-1918)میں سلطنت عثمانیہ ترکیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا،حالاں کہ سلطنت عثمانیہ ترکیہ کو اس جنگ سے الگ رہنا چاہیے۔ممکن ہے کہ یوروپین ممالک کے زر خرید مشیروں نے سلطنت عثمانیہ ترکیہ کو جرمنی کا ساتھ دینےکا مشورہ دیا ہو،تاکہ یورپ کے اتحادی ممالک سلطنت عثمانیہ کونیست ونابود کر سکیں،کیوں کہ عرب دنیا اور سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے زیر اقتدار علاقوں میں یہود ونصاری سلطنت عثمانیہ کے بہت سے غدار تلاش کر چکے تھے۔
پھر ایسا ہی ہوا کہ سلطنت عثمانیہ ترکیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا اور جرمنی کو شکست ہوئی اور سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے غداروں نے داخلی انتشار پھیلایا،سلطنت عثمانیہ ترکیہ سے غداری کی اور عرب ممالک اور دیگر بہت سے علاقوں پر سلطنت عثمانیہ ترکیہ کا کنٹرول قائم نہیں رہ سکا۔یورپ کی اتحادی طاقتوں نے سلطنت عثمانیہ ترکیہ سے الگ ہونے والے علاقوں کو چھوٹے چھوٹے ممالک میں تقسیم کر دیا اور سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے غداروں کو ان ممالک کا اقتدار سونپ دیا۔وہ بظاہر مسلمان اور کلمہ گو ہیں،لیکن مسلمانوں کی بھلائی اور خیر خواہی نہیں کر سکتے،بلکہ اپنے آقاؤں کی وفاداری نبھائیں گے۔
یوروپین ممالک ان عرب علاقوں کو بھی چھوٹے چھوٹے ممالک میں تقسیم کیا،تاکہ یہ ممالک کبھی طاقتور نہ ہو سکیں،نیز بعد میں کسی نے آنکھ دکھانے کی کوشش کی تو اسے کچل بھی دیا گیا۔
(3)سلطنت عثمانیہ ترکیہ کو نیست ونابود کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یوروپین سائنس دانوں نے یہ معلوم کر لیا تھا کہ مشرق وسطی اور عرب علاقوں میں تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ان ذخائر پر اہل یوروپ قبضہ کرنا چاہتے تھے۔اس کی صورت یہی تھی کہ سلطنت عثمانیہ ترکیہ کا اقتدار ان علاقوں سے ختم کر دیا جائے۔
پہلی جنگ عظیم کے موقع پر ان علاقوں سے سلطنت عثمانیہ ترکیہ کا اقتدار ختم ہو گیا اور اب ان علاقوں میں یوروپین ممالک کے غلام اور سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے غدار بر سر اقتدار آ چکے تھے،لیکن غدار کسی سے بھی غداری کر سکتا ہے،لہذا فلسطین کو یہودیوں کا مسکن بتا کر یہودیوں کو فلسطین میں بسایا جانے لگا اور پھر 1948 میں ایک یہودی ملک"اسرائیل"کے نام سے بنا دیا گیا۔اسرائیل کو مالی امداد اور ہتھیاروں کے ذریعہ مضبوط بنایا گیا،پھر کئی بار عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ مقابلہ آرائی کئے اور ہار گئے۔
خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ غلام ممالک کو یہی پلان دیا گیا تھا کہ تمہیں اسرائیل سے ہار جانا ہے،تاکہ اسرائیل کی دہشت مشرق وسطی میں قائم ہو جائے اور اسے ناقابل تسخیر سمجھا جائے اور مشرق وسطی یوروپین ممالک کے غلام بنے رہیں۔ان ممالک کے عوام شور وہنگامہ نہ کریں۔اگر یہ بات حقیقت ہے تو پھر عرب ممالک سو بار بھی اسرائیل سے جنگ لڑیں گے تو سو بار بھی جان بوجھ کر شکست کھائیں گے۔
مسلم ممالک میں موجود ملیشیا یعنی رضا کارانہ فوجی گروہ یوروپین ممالک کے غلام نہیں،لہذا وہ اہل یورپ کی بات نہیں مانیں گے اور یورپ وامریکہ ان فوجی گروہوں کو نیست ونابود کرنے کے واسطے کوشش کرتا رہے گا۔
چوں کہ فلسطین کی موجودہ فوجی جماعتیں یورپ وامریکہ کے زیر اثر نہیں ہیں،لہذا وہ مکمل کوشش میں ہیں کہ اسرائیل کو شکست دی جائے اور سازش کے ذریعہ قائم کی جانے والی اسرائیل کی فوقیت وبرتری کو تہس نہس کر دیا جائے۔اس سے پہلے بھی حزب اللہ نے اسرائیل کی دادا گیری کو ملیامیٹ کر دیا تھا۔
(4)او آئی سی اور عرب لیگ میں یورپ وامریکہ کے غلام ممالک شامل ہیں۔اگر اسرائیل کے خلاف کوئی تجویز آئے گی تو ہرگز اس پر اتفاق نہیں ہو سکے گا۔چند ممالک مخالفت کریں گے،تاکہ تجویز پاس نہ ہو سکے۔
سازشی انداز میں اکثر ممالک ان تجاویز کے حق میں ہوں گے،تاکہ عوام کو غلام ممالک کی گہری سازش کا علم نہ ہو سکے۔
(5)پہلی جنگ عظیم کے وقت جب سلطنت عثمانیہ ترکیہ کو شکست ہوئی تو برطانیہ نے 1917 میں فلسطین کو اپنی تحویل میں لے لیا۔فلسطین کسی غدار کو نہیں دیا گیا،کیوں کہ یوروپین ممالک فلسطین میں یہودیوں کو آباد کرنا چاہتے تھے۔1948 میں فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ایک حصہ یہودیوں کو دیا گیا اور ایک حصہ فلسطینی مسلمانوں کو دیا گیا۔اس کے بعد اسرائیل نے رفتہ رفتہ فلسطین کے دیگر حصوں پر بھی قبضہ کر لیا۔اب غزہ پٹی اور ویسٹ بینک فلسطین میں ہے اور دیگر سارے علاقے اسرائیل میں شامل ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:18:نومبر 2023
خفیہ حقائق،غداریاں اور فلسطین
(1)یہود ونصاری،بلکہ تمام غیر مسلم اقوام ہی مسلمانوں کے ازلی دشمن ہیں۔
کافر ہر فرد وفرقہ دشمن ما را
مرتد مشرک یہود وگیر وترسا
(2)عظیم سلطنت عثمانیہ ترکیہ کا وجود ہمیشہ یورپ کے یہود ونصاری کو کھٹکتا رہا۔پہلی جنگ عظیم(1914-1918)میں سلطنت عثمانیہ ترکیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا،حالاں کہ سلطنت عثمانیہ ترکیہ کو اس جنگ سے الگ رہنا چاہیے۔ممکن ہے کہ یوروپین ممالک کے زر خرید مشیروں نے سلطنت عثمانیہ ترکیہ کو جرمنی کا ساتھ دینےکا مشورہ دیا ہو،تاکہ یورپ کے اتحادی ممالک سلطنت عثمانیہ کونیست ونابود کر سکیں،کیوں کہ عرب دنیا اور سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے زیر اقتدار علاقوں میں یہود ونصاری سلطنت عثمانیہ کے بہت سے غدار تلاش کر چکے تھے۔
پھر ایسا ہی ہوا کہ سلطنت عثمانیہ ترکیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا اور جرمنی کو شکست ہوئی اور سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے غداروں نے داخلی انتشار پھیلایا،سلطنت عثمانیہ ترکیہ سے غداری کی اور عرب ممالک اور دیگر بہت سے علاقوں پر سلطنت عثمانیہ ترکیہ کا کنٹرول قائم نہیں رہ سکا۔یورپ کی اتحادی طاقتوں نے سلطنت عثمانیہ ترکیہ سے الگ ہونے والے علاقوں کو چھوٹے چھوٹے ممالک میں تقسیم کر دیا اور سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے غداروں کو ان ممالک کا اقتدار سونپ دیا۔وہ بظاہر مسلمان اور کلمہ گو ہیں،لیکن مسلمانوں کی بھلائی اور خیر خواہی نہیں کر سکتے،بلکہ اپنے آقاؤں کی وفاداری نبھائیں گے۔
یوروپین ممالک ان عرب علاقوں کو بھی چھوٹے چھوٹے ممالک میں تقسیم کیا،تاکہ یہ ممالک کبھی طاقتور نہ ہو سکیں،نیز بعد میں کسی نے آنکھ دکھانے کی کوشش کی تو اسے کچل بھی دیا گیا۔
(3)سلطنت عثمانیہ ترکیہ کو نیست ونابود کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یوروپین سائنس دانوں نے یہ معلوم کر لیا تھا کہ مشرق وسطی اور عرب علاقوں میں تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ان ذخائر پر اہل یوروپ قبضہ کرنا چاہتے تھے۔اس کی صورت یہی تھی کہ سلطنت عثمانیہ ترکیہ کا اقتدار ان علاقوں سے ختم کر دیا جائے۔
پہلی جنگ عظیم کے موقع پر ان علاقوں سے سلطنت عثمانیہ ترکیہ کا اقتدار ختم ہو گیا اور اب ان علاقوں میں یوروپین ممالک کے غلام اور سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے غدار بر سر اقتدار آ چکے تھے،لیکن غدار کسی سے بھی غداری کر سکتا ہے،لہذا فلسطین کو یہودیوں کا مسکن بتا کر یہودیوں کو فلسطین میں بسایا جانے لگا اور پھر 1948 میں ایک یہودی ملک"اسرائیل"کے نام سے بنا دیا گیا۔اسرائیل کو مالی امداد اور ہتھیاروں کے ذریعہ مضبوط بنایا گیا،پھر کئی بار عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ مقابلہ آرائی کئے اور ہار گئے۔
خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ غلام ممالک کو یہی پلان دیا گیا تھا کہ تمہیں اسرائیل سے ہار جانا ہے،تاکہ اسرائیل کی دہشت مشرق وسطی میں قائم ہو جائے اور اسے ناقابل تسخیر سمجھا جائے اور مشرق وسطی یوروپین ممالک کے غلام بنے رہیں۔ان ممالک کے عوام شور وہنگامہ نہ کریں۔اگر یہ بات حقیقت ہے تو پھر عرب ممالک سو بار بھی اسرائیل سے جنگ لڑیں گے تو سو بار بھی جان بوجھ کر شکست کھائیں گے۔
مسلم ممالک میں موجود ملیشیا یعنی رضا کارانہ فوجی گروہ یوروپین ممالک کے غلام نہیں،لہذا وہ اہل یورپ کی بات نہیں مانیں گے اور یورپ وامریکہ ان فوجی گروہوں کو نیست ونابود کرنے کے واسطے کوشش کرتا رہے گا۔
چوں کہ فلسطین کی موجودہ فوجی جماعتیں یورپ وامریکہ کے زیر اثر نہیں ہیں،لہذا وہ مکمل کوشش میں ہیں کہ اسرائیل کو شکست دی جائے اور سازش کے ذریعہ قائم کی جانے والی اسرائیل کی فوقیت وبرتری کو تہس نہس کر دیا جائے۔اس سے پہلے بھی حزب اللہ نے اسرائیل کی دادا گیری کو ملیامیٹ کر دیا تھا۔
(4)او آئی سی اور عرب لیگ میں یورپ وامریکہ کے غلام ممالک شامل ہیں۔اگر اسرائیل کے خلاف کوئی تجویز آئے گی تو ہرگز اس پر اتفاق نہیں ہو سکے گا۔چند ممالک مخالفت کریں گے،تاکہ تجویز پاس نہ ہو سکے۔
سازشی انداز میں اکثر ممالک ان تجاویز کے حق میں ہوں گے،تاکہ عوام کو غلام ممالک کی گہری سازش کا علم نہ ہو سکے۔
(5)پہلی جنگ عظیم کے وقت جب سلطنت عثمانیہ ترکیہ کو شکست ہوئی تو برطانیہ نے 1917 میں فلسطین کو اپنی تحویل میں لے لیا۔فلسطین کسی غدار کو نہیں دیا گیا،کیوں کہ یوروپین ممالک فلسطین میں یہودیوں کو آباد کرنا چاہتے تھے۔1948 میں فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ایک حصہ یہودیوں کو دیا گیا اور ایک حصہ فلسطینی مسلمانوں کو دیا گیا۔اس کے بعد اسرائیل نے رفتہ رفتہ فلسطین کے دیگر حصوں پر بھی قبضہ کر لیا۔اب غزہ پٹی اور ویسٹ بینک فلسطین میں ہے اور دیگر سارے علاقے اسرائیل میں شامل ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:18:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
امام مہدی کا ظہور اور دجال کا خروج بہت دور
(1)ابھی نہ حضرت امام مہدی رضی اللہ تعالی عنہ کا ظہور ہو گا،نہ ہی دجال کا خروج ہو گا،نہ ہی حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کا نزول ہو گا۔ابھی بہت سی نشانیاں باقی ہیں۔
(2)دجال کے ساتھ اصفہان کے یہودیوں کا ستر ہزار لشکر ہو گا اور ستر ہزار کلمہ اسلام پڑھنے والے بدمذہبوں کا لشکر ہو گا۔جس طرح ابھی بہت سے کلمہ گو یہودیوں کے ساتھ کھڑے ہیں،اسی طرح ستر ہزار کلمہ گو دجال کے لشکر میں ہوں گے،کیوں کہ ان کے یہودی دوست دجال کے ساتھ نکلیں گے۔ابھی سعودی میں فلسطینی مسلمانوں کے لئے دعا کرنے پر بھی پابندی ہے۔
(3)خروج دجال کے وقت اسرائیل کا وجود رہے گا یا نہیں۔یہ اللہ تعالی کو معلوم ہے۔ابھی تو اسرائیل کا وجود ہی خطرے میں ہے۔
(4)بھارتی گودی میڈیا کی طرح دنیا بھر میں پروپیگنڈہ میڈیا ہے جو روزانہ یہ بیان دے رہا ہے کہ آج حماس کا نام ونشان مٹ جائے گا،لیکن آج تک وہ آج نہیں آ سکا۔کہیں وہ آج نہ آ جائے جس دن اسرائیل اپنا وجود کھو بیٹھے۔
(5) اسرائیل نے نصف غزہ پٹی فلسطینی باشندوں سے خالی کرا لیا۔اب باقی ماندہ نصف حصہ خالی کرانے کی پلاننگ کر رہا ہے۔وہ اس حصے پر بھی بمباری کرے گا،اس کے بعد عرب ممالک کے ملیشیا یقینا میدان میں پوری قوت سے کود پڑیں گے اور اسرائیل کے پاس اتنی قوت نہیں کہ فوجی ملیشیا سے جیت جائے،نہ ہی فوجی ملیشیا کسی کے کنٹرول میں ہے۔اگر اسرائیل اپنا رعب ودبدبہ قائم کرنے کے چکر میں باقی ماندہ غزہ پٹی پر بمباری کرنے کی غلطی کر بیٹھا تو اسرائیل کے حالات بہت خراب ہو سکتے ہیں۔
(6)اسرائیل دہشت گردی کا الزام دے کر فلسطینی مسلمانوں کو گرفتار کر کے اپنے جیلوں میں ڈال دیتا ہے اور انہیں ناقابل بیان اذیتیں دیتا ہے۔ان کے ساتھ جیلوں میں انتہائی غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔حماس اور دیگر ملیشیا کا وجود اسرائیل کے مسلسل ظلم وستم کے سبب ہوا ہے۔
(7)حالیہ دنوں میں قریبا چودہ پندرہ ہزار عام فلسطینی شہریوں کو بمباری کر کے اسرائیل نے ہلاک کر دیا۔اسرائیل فلسطینی عوام تک کسی قسم کی مدد بھی پہنچنے نہیں دے رہا ہے۔غزہ پٹی کے اسپتالوں کو بھی تباہ کرتا جا رہا ہے،تاکہ فلسطینی مسلمان بھوک،پیاس،علاج کی عدم فراہمی اور بیماریوں سے ہلاک ہو جائیں،لیکن ظلم وجبر کی فتح نہیں ہوتی ہے،جب کہ لوگ ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہو جائیں۔ظلم سہنا ظالم کی مدد کرنا ہے۔اللہ تعالی ان کی مدد فرماتا ہے جو لوگ خود اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
جسے نہ ہو خیال خود ہی اپنی حالت بدلنے کا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:18:نومبر 2023
امام مہدی کا ظہور اور دجال کا خروج بہت دور
(1)ابھی نہ حضرت امام مہدی رضی اللہ تعالی عنہ کا ظہور ہو گا،نہ ہی دجال کا خروج ہو گا،نہ ہی حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کا نزول ہو گا۔ابھی بہت سی نشانیاں باقی ہیں۔
(2)دجال کے ساتھ اصفہان کے یہودیوں کا ستر ہزار لشکر ہو گا اور ستر ہزار کلمہ اسلام پڑھنے والے بدمذہبوں کا لشکر ہو گا۔جس طرح ابھی بہت سے کلمہ گو یہودیوں کے ساتھ کھڑے ہیں،اسی طرح ستر ہزار کلمہ گو دجال کے لشکر میں ہوں گے،کیوں کہ ان کے یہودی دوست دجال کے ساتھ نکلیں گے۔ابھی سعودی میں فلسطینی مسلمانوں کے لئے دعا کرنے پر بھی پابندی ہے۔
(3)خروج دجال کے وقت اسرائیل کا وجود رہے گا یا نہیں۔یہ اللہ تعالی کو معلوم ہے۔ابھی تو اسرائیل کا وجود ہی خطرے میں ہے۔
(4)بھارتی گودی میڈیا کی طرح دنیا بھر میں پروپیگنڈہ میڈیا ہے جو روزانہ یہ بیان دے رہا ہے کہ آج حماس کا نام ونشان مٹ جائے گا،لیکن آج تک وہ آج نہیں آ سکا۔کہیں وہ آج نہ آ جائے جس دن اسرائیل اپنا وجود کھو بیٹھے۔
(5) اسرائیل نے نصف غزہ پٹی فلسطینی باشندوں سے خالی کرا لیا۔اب باقی ماندہ نصف حصہ خالی کرانے کی پلاننگ کر رہا ہے۔وہ اس حصے پر بھی بمباری کرے گا،اس کے بعد عرب ممالک کے ملیشیا یقینا میدان میں پوری قوت سے کود پڑیں گے اور اسرائیل کے پاس اتنی قوت نہیں کہ فوجی ملیشیا سے جیت جائے،نہ ہی فوجی ملیشیا کسی کے کنٹرول میں ہے۔اگر اسرائیل اپنا رعب ودبدبہ قائم کرنے کے چکر میں باقی ماندہ غزہ پٹی پر بمباری کرنے کی غلطی کر بیٹھا تو اسرائیل کے حالات بہت خراب ہو سکتے ہیں۔
(6)اسرائیل دہشت گردی کا الزام دے کر فلسطینی مسلمانوں کو گرفتار کر کے اپنے جیلوں میں ڈال دیتا ہے اور انہیں ناقابل بیان اذیتیں دیتا ہے۔ان کے ساتھ جیلوں میں انتہائی غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔حماس اور دیگر ملیشیا کا وجود اسرائیل کے مسلسل ظلم وستم کے سبب ہوا ہے۔
(7)حالیہ دنوں میں قریبا چودہ پندرہ ہزار عام فلسطینی شہریوں کو بمباری کر کے اسرائیل نے ہلاک کر دیا۔اسرائیل فلسطینی عوام تک کسی قسم کی مدد بھی پہنچنے نہیں دے رہا ہے۔غزہ پٹی کے اسپتالوں کو بھی تباہ کرتا جا رہا ہے،تاکہ فلسطینی مسلمان بھوک،پیاس،علاج کی عدم فراہمی اور بیماریوں سے ہلاک ہو جائیں،لیکن ظلم وجبر کی فتح نہیں ہوتی ہے،جب کہ لوگ ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہو جائیں۔ظلم سہنا ظالم کی مدد کرنا ہے۔اللہ تعالی ان کی مدد فرماتا ہے جو لوگ خود اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
جسے نہ ہو خیال خود ہی اپنی حالت بدلنے کا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:18:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
جنگ بندی کا امکان اور اسرائیل کا پلان
(1) اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس وقت تک جنگ جاری رکھے گا جب تک کہ حماس کا خاتمہ نہیں ہو جاتا،لیکن اب ساری دنیا کے حقائق شناسوں کو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو اسرائیل کا خاتمہ ہو جائے گا،لہذا امریکہ سیاسی انداز میں جنگ بندی کی کوشش کر رہا ہے۔
(2)بتایا جاتا ہے کہ شمالی غزہ پٹی میں اسرائیل نے اتنے بم برسایا تھا کہ دوسری جنگ عظیم میں دنیا بھر میں اتنے بم نہیں برسائے گئے تھے،لیکن جنوبی غزہ پٹی میں اسرائیل اس قدر بمباری نہیں کر رہا ہے۔اس کا یہ معنی نہیں کہ دنیا کی بدترین قوم یعنی یہود کے دل میں انسانیت کا جذبہ بیدار ہو گیا ہے،بلکہ وہ جتنے عام فلسطینی شہریوں کو مار رہا ہے،اسی مقدار میں یا اس سے کچھ زیادہ اس کے فوجی حماس وحزب اللہ کے حملوں سے مارے جا رہے ہیں۔اسرائیل کے سرپرستوں کو بخوبی معلوم ہے کہ اسرائیل نے جنوبی غزہ میں بمباری تیز کی تو حزب اللہ اور حماس کے حملے تیز ہوں گے اور اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔
مرتا کیا نہ کرتا۔چین میں اسلامی ممالک کا اجلاس کرایا گیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بار بار جنگ بندی کی آواز اٹھائی گئی کہ غزہ میں بے قصور فلسطینی عوام،عورتوں،بچوں اور بزرگوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔یہ تو بتا نہیں سکتے کہ اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے اور اسرائیلی فوج کا بے تحاشہ جانی ومالی نقصان ہو رہا ہے۔
مسلمانوں کی جان ومال کی تو کچھ پرواہ ہی نہیں ہے۔جب حزب اللہ نے اپنے تیور سخت کئے تو امریکہ بھی حواس باختہ ہو گیا کہ کہیں حزب اللہ اور عرب ممالک کے ملیشیا (غیر سرکاری فوجی گروپ)اسرائیل کا نام ونشان نہ مٹا دیں۔اسرائیل اور مغربی طاقتوں نے داعش کو وجود دیا تھا،حزب اللہ اس کا نام ونشان مٹا چکا تھا۔اب مغربی ملکوں کے فرزند ارجمند مسٹر اسرائیل کی گوشمالی جاری ہے۔ایک دو دن میں جنگ بندی سے متعلق مزید کچھ معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔
ع/ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:21:نومبر 2023
جنگ بندی کا امکان اور اسرائیل کا پلان
(1) اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس وقت تک جنگ جاری رکھے گا جب تک کہ حماس کا خاتمہ نہیں ہو جاتا،لیکن اب ساری دنیا کے حقائق شناسوں کو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو اسرائیل کا خاتمہ ہو جائے گا،لہذا امریکہ سیاسی انداز میں جنگ بندی کی کوشش کر رہا ہے۔
(2)بتایا جاتا ہے کہ شمالی غزہ پٹی میں اسرائیل نے اتنے بم برسایا تھا کہ دوسری جنگ عظیم میں دنیا بھر میں اتنے بم نہیں برسائے گئے تھے،لیکن جنوبی غزہ پٹی میں اسرائیل اس قدر بمباری نہیں کر رہا ہے۔اس کا یہ معنی نہیں کہ دنیا کی بدترین قوم یعنی یہود کے دل میں انسانیت کا جذبہ بیدار ہو گیا ہے،بلکہ وہ جتنے عام فلسطینی شہریوں کو مار رہا ہے،اسی مقدار میں یا اس سے کچھ زیادہ اس کے فوجی حماس وحزب اللہ کے حملوں سے مارے جا رہے ہیں۔اسرائیل کے سرپرستوں کو بخوبی معلوم ہے کہ اسرائیل نے جنوبی غزہ میں بمباری تیز کی تو حزب اللہ اور حماس کے حملے تیز ہوں گے اور اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔
مرتا کیا نہ کرتا۔چین میں اسلامی ممالک کا اجلاس کرایا گیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بار بار جنگ بندی کی آواز اٹھائی گئی کہ غزہ میں بے قصور فلسطینی عوام،عورتوں،بچوں اور بزرگوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔یہ تو بتا نہیں سکتے کہ اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے اور اسرائیلی فوج کا بے تحاشہ جانی ومالی نقصان ہو رہا ہے۔
مسلمانوں کی جان ومال کی تو کچھ پرواہ ہی نہیں ہے۔جب حزب اللہ نے اپنے تیور سخت کئے تو امریکہ بھی حواس باختہ ہو گیا کہ کہیں حزب اللہ اور عرب ممالک کے ملیشیا (غیر سرکاری فوجی گروپ)اسرائیل کا نام ونشان نہ مٹا دیں۔اسرائیل اور مغربی طاقتوں نے داعش کو وجود دیا تھا،حزب اللہ اس کا نام ونشان مٹا چکا تھا۔اب مغربی ملکوں کے فرزند ارجمند مسٹر اسرائیل کی گوشمالی جاری ہے۔ایک دو دن میں جنگ بندی سے متعلق مزید کچھ معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔
ع/ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:21:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
کیا انسانی دلوں میں انسانیت بیدار ہو گئی؟
(1)ممنوعہ جنگی ہتھیار رکھنے کی جھوٹی افواہ کی بنیاد پر امریکہ وبرطانیہ نے عراق پر حملہ کیا تھا اور قریبا دس لاکھ عراقی مارے گئے۔بعد میں امریکہ نے معافی مانگ لی کہ عراق میں کچھ نہیں ملا۔الغرض محض شک کی بنیاد پر عراق کو تباہ وبرباد کر دیا گیا اور دس لاکھ مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا،بعض رپورٹ کے مطابق بیس لاکھ مسلمانوں کو مارا گیا،اسی لاکھ مسلمان اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے،لیکن انسانیت بیدار نہیں ہوئی۔اسی طرح ملک شام،لیبیا،افغانستان میں بھی بے شمار مسلمان مارے گئے،لیکن دنیا تماشا دیکھتے رہی۔دنیا والوں کے دلوں میں انسانیت کا جذبہ بیدار نہیں ہوا۔
(2)اسرائیل کے قیام یعنی 1948 سے آج تک اسرائیل نے بے شمار فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک اور تباہ وبرباد کیا۔ان کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔سات لاکھ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال کر ان کے مکانات پر قبضہ کر لیا،یہودی لوگ فلسطینیوں پر مسلسل وحشیانہ مظالم ڈھاتے رہے،لیکن انسانیت بیدار نہیں ہوئی۔
(3)آج انسانیت بیدار کیسے ہو گئی؟
ابھی فلسطین میں عراق،لیبیا،شام وافغانستان کی طرح تباہی و بربادی نہیں ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق حالیہ اسرائیلی حملوں میں قریبا چودہ ہزار فلسطینی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔دس لاکھ،بیس لاکھ،پندرہ لاکھ انسانوں کی ہلاکت پر دنیا خاموش رہی،لیکن چودہ پندرہ ہزار ہلاکت ہوتے ہی دنیا کے بیشتر ممالک فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔دنیا کے مختلف ممالک میں جنگ بندی کی میٹنگیں ہو رہی ہیں۔اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ فلسطینی کمزور اور مظلوم ہیں،لہذا دنیا مظلوم وکمزور کے ساتھ کھڑی ہو رہی ہے،بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ فلسطین زبردست مقابلہ آرائی کر رہا ہے۔اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور جنگی ٹینکوں کو تباہ کر رہا ہے۔زمینی جنگ میں اسرائیل شکست کھا رہا ہے۔نیز اسرائیلی علاقوں پر سخت بمباری کے سبب اسرائیلی سپاہی مارےجا رہے ہیں اور اسرائیلی شہر تباہ وبرباد ہو رہے ہیں۔روئے زمین کی بدترین قوم یعنی یہودی اپنے گھروں اور شہروں کو چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔
یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ دنیا چڑھتے سورج کو سلام کرتی ہے۔خبر کے مطابق اسرائیل بھی وقتی جنگ بندی کے لیے راضی ہو چکا ہے۔جب کوئی قوم ظالموں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے اور ظالموں کو سخت ٹکر دیتی ہے،تب دنیا کے لوگ مظلوموں سے ہمدردی کا اظہار کرنے لگتے ہیں،کیوں کہ مظلوموں کی فتح یابی کے آثار نظر آنے لگتے ہیں۔
آج کل امریکہ بھی نرم ہو چکا ہے۔مغربی ممالک سوچ رہے ہیں کہ دنیا والوں کو یہ کیسے بتایا جائے کہ مسٹر اسرائیل شکست کھا رہا ہے۔مغربی ملکوں نےاسرائیل کو مشرق وسطی کا سب سے طاقتور ملک بنانے کی کوشش کی تھی،تاکہ مشرق وسطی میں مغربی ممالک کی دادا گیری قائم رہے۔حماس نے مسٹر اسرائیل کا سینہ چھلنی کر دیا۔اب اسرائیل نیم غشی کی حالت میں باؤلے کتے کی طرح نہتے فلسطینی بچوں،عورتوں،بوڑھوں اور نہتے عوام پر حملہ کر رہا ہے۔
اگر غزہ پٹی پر اسرائیل کا قبضہ ہو چکا ہے تو غزہ پٹی سے اسرائیلی شہروں پر بمباری کیسے ہو رہی ہے۔غزہ پٹی میں اسرائیلی فوجیوں کی لاشوں کے انبار کون لگا رہا ہے۔اسرائیلی ٹینک تباہ کیسے ہو رہے ہیں۔
(4)حالات سے بے خبر لوگ کہتے ہیں کہ حماس کی غلطی کے سبب اسرائیل نے غزہ پٹی پر حملہ کر دیا،حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل آئے دن فلسطینیوں کو ہلاک کرتا رہتا ہے۔جھوٹے الزام عائد کر کے فلسطینیوں کو اسرائیلی جیلوں میں ڈال دیتا ہے اور ان کو ایسی وحشیانہ سزائیں دیتا ہے کہ سن کر انسانوں کے کلیجے پھٹ جاتے ہیں۔فلسطینی بچوں کو ہلاک کرتا ہے۔فلسطینی عورتوں کی عصمت دری کرتا ہے۔الغرض یہودیوں کے شیطانی مظالم کی ایک طویل تاریخ ہے۔حماس نے جو کچھ کیا،وہ دفاعی عمل تھا،وہ اقدامی عمل نہیں تھا۔اگر آج بھی فلسطین قوت وطاقت سے مقابلہ نہ کرتا تو فلسطینیوں کی ہلاکت پر دنیا تالی بجاتی اور اسرائیل کو شاباشی دیتی کہ اسرائیل نے دہشت گردوں کو ختم کر دیا،لیکن حماس نے اسرائیل کو بدحواس کر دیا۔اب تو اندھ بھکتوں کے علاوہ کوئی بھی حماس کو دہشت گرد گروپ نہیں کہتا ہے۔
(5)بھارت نے فلسطینیوں کے لئے دو بار راحت کاری کے سامان بھیجے۔سلامتی کونسل میں بھی فلسطین کے حق میں ووٹ دیا۔یہ سب کچھ دیکھ کر اندھ بھکتوں کے تن بدن میں آگ لگی ہوئی ہے۔اگر کوئی اندھ بھکت انڈیا کی فلسطین حمایت کے سبب خود کشی کرتا ہے تو ان شاء اللہ تعالی اس کی خبر دی جائے گی۔ابھی صرف ان کے نیم پاگل ہونے کی خبریں گشت کر رہی ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:22:نومبر 2023
کیا انسانی دلوں میں انسانیت بیدار ہو گئی؟
(1)ممنوعہ جنگی ہتھیار رکھنے کی جھوٹی افواہ کی بنیاد پر امریکہ وبرطانیہ نے عراق پر حملہ کیا تھا اور قریبا دس لاکھ عراقی مارے گئے۔بعد میں امریکہ نے معافی مانگ لی کہ عراق میں کچھ نہیں ملا۔الغرض محض شک کی بنیاد پر عراق کو تباہ وبرباد کر دیا گیا اور دس لاکھ مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا،بعض رپورٹ کے مطابق بیس لاکھ مسلمانوں کو مارا گیا،اسی لاکھ مسلمان اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے،لیکن انسانیت بیدار نہیں ہوئی۔اسی طرح ملک شام،لیبیا،افغانستان میں بھی بے شمار مسلمان مارے گئے،لیکن دنیا تماشا دیکھتے رہی۔دنیا والوں کے دلوں میں انسانیت کا جذبہ بیدار نہیں ہوا۔
(2)اسرائیل کے قیام یعنی 1948 سے آج تک اسرائیل نے بے شمار فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک اور تباہ وبرباد کیا۔ان کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔سات لاکھ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال کر ان کے مکانات پر قبضہ کر لیا،یہودی لوگ فلسطینیوں پر مسلسل وحشیانہ مظالم ڈھاتے رہے،لیکن انسانیت بیدار نہیں ہوئی۔
(3)آج انسانیت بیدار کیسے ہو گئی؟
ابھی فلسطین میں عراق،لیبیا،شام وافغانستان کی طرح تباہی و بربادی نہیں ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق حالیہ اسرائیلی حملوں میں قریبا چودہ ہزار فلسطینی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔دس لاکھ،بیس لاکھ،پندرہ لاکھ انسانوں کی ہلاکت پر دنیا خاموش رہی،لیکن چودہ پندرہ ہزار ہلاکت ہوتے ہی دنیا کے بیشتر ممالک فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔دنیا کے مختلف ممالک میں جنگ بندی کی میٹنگیں ہو رہی ہیں۔اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ فلسطینی کمزور اور مظلوم ہیں،لہذا دنیا مظلوم وکمزور کے ساتھ کھڑی ہو رہی ہے،بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ فلسطین زبردست مقابلہ آرائی کر رہا ہے۔اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور جنگی ٹینکوں کو تباہ کر رہا ہے۔زمینی جنگ میں اسرائیل شکست کھا رہا ہے۔نیز اسرائیلی علاقوں پر سخت بمباری کے سبب اسرائیلی سپاہی مارےجا رہے ہیں اور اسرائیلی شہر تباہ وبرباد ہو رہے ہیں۔روئے زمین کی بدترین قوم یعنی یہودی اپنے گھروں اور شہروں کو چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔
یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ دنیا چڑھتے سورج کو سلام کرتی ہے۔خبر کے مطابق اسرائیل بھی وقتی جنگ بندی کے لیے راضی ہو چکا ہے۔جب کوئی قوم ظالموں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے اور ظالموں کو سخت ٹکر دیتی ہے،تب دنیا کے لوگ مظلوموں سے ہمدردی کا اظہار کرنے لگتے ہیں،کیوں کہ مظلوموں کی فتح یابی کے آثار نظر آنے لگتے ہیں۔
آج کل امریکہ بھی نرم ہو چکا ہے۔مغربی ممالک سوچ رہے ہیں کہ دنیا والوں کو یہ کیسے بتایا جائے کہ مسٹر اسرائیل شکست کھا رہا ہے۔مغربی ملکوں نےاسرائیل کو مشرق وسطی کا سب سے طاقتور ملک بنانے کی کوشش کی تھی،تاکہ مشرق وسطی میں مغربی ممالک کی دادا گیری قائم رہے۔حماس نے مسٹر اسرائیل کا سینہ چھلنی کر دیا۔اب اسرائیل نیم غشی کی حالت میں باؤلے کتے کی طرح نہتے فلسطینی بچوں،عورتوں،بوڑھوں اور نہتے عوام پر حملہ کر رہا ہے۔
اگر غزہ پٹی پر اسرائیل کا قبضہ ہو چکا ہے تو غزہ پٹی سے اسرائیلی شہروں پر بمباری کیسے ہو رہی ہے۔غزہ پٹی میں اسرائیلی فوجیوں کی لاشوں کے انبار کون لگا رہا ہے۔اسرائیلی ٹینک تباہ کیسے ہو رہے ہیں۔
(4)حالات سے بے خبر لوگ کہتے ہیں کہ حماس کی غلطی کے سبب اسرائیل نے غزہ پٹی پر حملہ کر دیا،حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل آئے دن فلسطینیوں کو ہلاک کرتا رہتا ہے۔جھوٹے الزام عائد کر کے فلسطینیوں کو اسرائیلی جیلوں میں ڈال دیتا ہے اور ان کو ایسی وحشیانہ سزائیں دیتا ہے کہ سن کر انسانوں کے کلیجے پھٹ جاتے ہیں۔فلسطینی بچوں کو ہلاک کرتا ہے۔فلسطینی عورتوں کی عصمت دری کرتا ہے۔الغرض یہودیوں کے شیطانی مظالم کی ایک طویل تاریخ ہے۔حماس نے جو کچھ کیا،وہ دفاعی عمل تھا،وہ اقدامی عمل نہیں تھا۔اگر آج بھی فلسطین قوت وطاقت سے مقابلہ نہ کرتا تو فلسطینیوں کی ہلاکت پر دنیا تالی بجاتی اور اسرائیل کو شاباشی دیتی کہ اسرائیل نے دہشت گردوں کو ختم کر دیا،لیکن حماس نے اسرائیل کو بدحواس کر دیا۔اب تو اندھ بھکتوں کے علاوہ کوئی بھی حماس کو دہشت گرد گروپ نہیں کہتا ہے۔
(5)بھارت نے فلسطینیوں کے لئے دو بار راحت کاری کے سامان بھیجے۔سلامتی کونسل میں بھی فلسطین کے حق میں ووٹ دیا۔یہ سب کچھ دیکھ کر اندھ بھکتوں کے تن بدن میں آگ لگی ہوئی ہے۔اگر کوئی اندھ بھکت انڈیا کی فلسطین حمایت کے سبب خود کشی کرتا ہے تو ان شاء اللہ تعالی اس کی خبر دی جائے گی۔ابھی صرف ان کے نیم پاگل ہونے کی خبریں گشت کر رہی ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:22:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
جنگ بندی اور منصوبہ بندی
(1)آج غزہ پٹی میں جنگ بندی ہونے والی تھی،لیکن آج اسرائیل نے جنوبی غزہ پر زبردست بمباری کی اور سو سے زائد فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کر دیا۔حماس نے بھی جوابی کارروائی کی اور اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا اور اسرائیلی شہروں پر بمباری کی۔
حماس کا دعویٰ ہے کہ حالیہ جنگ میں اس نے قریبا تین ہزار اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا۔ممکن ہے کہ مرنے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو،کیوں کہ قریبا چار سو اسرائیلی ٹینکوں کو تباہ کرنے کی خبر بھی آئی ہے۔ہر ٹینک میں چار پانچ فوجی بیٹھے ہوتے ہیں۔جب ٹینک پر میزائل مارا جائے تو ٹینک میں بیٹھے لوگ بھی ہلاک ہوں گے۔اسی طرح اسرائیلی شہروں پر بھی بمباری ہو رہی ہے اور اس بمباری میں بھی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔
سوشل میڈیا کے اکثر اقسام مثلا واٹس ایپ،فیس بک،انسٹا گرام،ٹیلی گرام وغیرہ پر یہود ونصاری کا قبضہ ہے،لہذا حماس کے حملوں کے ویڈیوز ڈلٹ کر دیئے جاتے ہیں،تاکہ دنیا کو یہ معلوم نہ ہو سکے کہ اسرائیل کا کتنا نقصان ہوا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ کل بروز جمعہ 24:نومبر 2023 سے چار دنوں کے لئے جنگ بندی ہو گی۔اس کے بعد دوبارہ جنگ ہو گی یا کوئی حل نکالا جائے گا۔فی الفور اس بارے میں کوئی صحیح خبر نہیں دی جا رہی ہے۔
(2) اسرائیل 1948 سے مسلسل فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کرتا آ رہا ہے۔حالیہ جنگ میں اس نے سوچا کہ بے تحاشہ بمباری کر کے فلسطینیوں کی نسل کشی کی جائے اور انہیں اتنا کمزور کر دیا جائے کہ کئی سالوں تک وہ سر نہ اٹھا سکیں۔اسی مقصد کی تکمیل کے لئے حماس کا نام لے کر وہ عام شہریوں پر بمباری کرتا رہا۔
مساجد،مدارس،اسکول،اسپتال،شہریوں کے مکانات اور دیگر مقامات کو حماس کا ٹھکانہ بتا کر جنگی جہازوں سے بمباری کرتا رہا۔عام رپورٹ کے مطابق قریبا پندرہ ہزار عام فلسطینی شہریوں کو یہودیوں نے ہلاک کر دیا ہے اور حقیقی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو گی۔
(3)غزہ پٹی میں ایک آبادی زمین کے اوپر ہے اور دوسری آبادی زمین کے نیچے ہے۔زمین میں صرف سرنگ ہی نہیں،بلکہ اسپتال،خوراک کے گوڈاون،ہتھیاروں کے ذخیرے،مجاہدین کے رہنے سہنے کا انتظام اور دیگر تمام ضروری ساز وسامان موجود ہیں۔زیر زمین حصہ اس قدر مستحکم ہے کہ زمین کے اوپر ہونے والی بمباری کا کچھ اثر سرنگوں کے اندر نہیں ہوتا ہے۔کوئی مخالف فوج زیر زمین جا کر جنگ نہیں کر سکتی۔جب زمین کے اوپر حماس اسرائیلیوں کو تباہ وبرباد کر رہا ہے تو سرنگوں میں اسرائیلیوں کا کیا حال ہو گا۔
(4)ابتدائی مرحلہ میں اسرائیل کے حامی مغربی ممالک نے سمجھا تھا کہ یہ جنگ حماس اور اسرائیل تک محدود رہے گی۔اسرائیل بمباری کرتا رہے گا اور فلسطینی مسلمان ہلاک ہوتے رہیں گے۔امریکی صدر اور دیگر امریکی منسٹرس وافسران عرب ممالک کا دورہ کرتے رہے اور عرب ممالک کو سمجھاتے رہے کہ یہ اسرائیل وحماس کی جنگ ہے۔آپ لوگ خاموش رہیں۔
(5)عرب ممالک کی خاموشی اور بے نتیجہ میٹنگوں کو دیکھ کر عرب دنیا کے ملیشیا(غیر سرکاری فوجی گروپس)حرکت میں آ گئے۔عرب ملکوں کو امریکہ نے خموشی کا سبق پڑھا دیا تھا،لیکن عرب ملیشیا کو خموشی کا سبق کون پڑھائے۔
عرب ملیشیا صرف اسرائیلی فوجیوں کی طرح تربیت یافتہ نہیں ہیں،بلکہ عملی طور پر مختلف محاذ پر جنگ لڑ چکے ہیں،جب کہ اسرائیلی فوج نہتے فلسطینی عوام پر زور آزمائی کرتے رہی ہے۔کل جنگ بندی ہو جاتی ہے تو رفتہ رفتہ مستقبل کی منصوبہ بندی کی خبر بھی عام ہو جائے گی۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:23:نومبر 2023
جنگ بندی اور منصوبہ بندی
(1)آج غزہ پٹی میں جنگ بندی ہونے والی تھی،لیکن آج اسرائیل نے جنوبی غزہ پر زبردست بمباری کی اور سو سے زائد فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کر دیا۔حماس نے بھی جوابی کارروائی کی اور اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا اور اسرائیلی شہروں پر بمباری کی۔
حماس کا دعویٰ ہے کہ حالیہ جنگ میں اس نے قریبا تین ہزار اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا۔ممکن ہے کہ مرنے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو،کیوں کہ قریبا چار سو اسرائیلی ٹینکوں کو تباہ کرنے کی خبر بھی آئی ہے۔ہر ٹینک میں چار پانچ فوجی بیٹھے ہوتے ہیں۔جب ٹینک پر میزائل مارا جائے تو ٹینک میں بیٹھے لوگ بھی ہلاک ہوں گے۔اسی طرح اسرائیلی شہروں پر بھی بمباری ہو رہی ہے اور اس بمباری میں بھی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔
سوشل میڈیا کے اکثر اقسام مثلا واٹس ایپ،فیس بک،انسٹا گرام،ٹیلی گرام وغیرہ پر یہود ونصاری کا قبضہ ہے،لہذا حماس کے حملوں کے ویڈیوز ڈلٹ کر دیئے جاتے ہیں،تاکہ دنیا کو یہ معلوم نہ ہو سکے کہ اسرائیل کا کتنا نقصان ہوا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ کل بروز جمعہ 24:نومبر 2023 سے چار دنوں کے لئے جنگ بندی ہو گی۔اس کے بعد دوبارہ جنگ ہو گی یا کوئی حل نکالا جائے گا۔فی الفور اس بارے میں کوئی صحیح خبر نہیں دی جا رہی ہے۔
(2) اسرائیل 1948 سے مسلسل فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کرتا آ رہا ہے۔حالیہ جنگ میں اس نے سوچا کہ بے تحاشہ بمباری کر کے فلسطینیوں کی نسل کشی کی جائے اور انہیں اتنا کمزور کر دیا جائے کہ کئی سالوں تک وہ سر نہ اٹھا سکیں۔اسی مقصد کی تکمیل کے لئے حماس کا نام لے کر وہ عام شہریوں پر بمباری کرتا رہا۔
مساجد،مدارس،اسکول،اسپتال،شہریوں کے مکانات اور دیگر مقامات کو حماس کا ٹھکانہ بتا کر جنگی جہازوں سے بمباری کرتا رہا۔عام رپورٹ کے مطابق قریبا پندرہ ہزار عام فلسطینی شہریوں کو یہودیوں نے ہلاک کر دیا ہے اور حقیقی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو گی۔
(3)غزہ پٹی میں ایک آبادی زمین کے اوپر ہے اور دوسری آبادی زمین کے نیچے ہے۔زمین میں صرف سرنگ ہی نہیں،بلکہ اسپتال،خوراک کے گوڈاون،ہتھیاروں کے ذخیرے،مجاہدین کے رہنے سہنے کا انتظام اور دیگر تمام ضروری ساز وسامان موجود ہیں۔زیر زمین حصہ اس قدر مستحکم ہے کہ زمین کے اوپر ہونے والی بمباری کا کچھ اثر سرنگوں کے اندر نہیں ہوتا ہے۔کوئی مخالف فوج زیر زمین جا کر جنگ نہیں کر سکتی۔جب زمین کے اوپر حماس اسرائیلیوں کو تباہ وبرباد کر رہا ہے تو سرنگوں میں اسرائیلیوں کا کیا حال ہو گا۔
(4)ابتدائی مرحلہ میں اسرائیل کے حامی مغربی ممالک نے سمجھا تھا کہ یہ جنگ حماس اور اسرائیل تک محدود رہے گی۔اسرائیل بمباری کرتا رہے گا اور فلسطینی مسلمان ہلاک ہوتے رہیں گے۔امریکی صدر اور دیگر امریکی منسٹرس وافسران عرب ممالک کا دورہ کرتے رہے اور عرب ممالک کو سمجھاتے رہے کہ یہ اسرائیل وحماس کی جنگ ہے۔آپ لوگ خاموش رہیں۔
(5)عرب ممالک کی خاموشی اور بے نتیجہ میٹنگوں کو دیکھ کر عرب دنیا کے ملیشیا(غیر سرکاری فوجی گروپس)حرکت میں آ گئے۔عرب ملکوں کو امریکہ نے خموشی کا سبق پڑھا دیا تھا،لیکن عرب ملیشیا کو خموشی کا سبق کون پڑھائے۔
عرب ملیشیا صرف اسرائیلی فوجیوں کی طرح تربیت یافتہ نہیں ہیں،بلکہ عملی طور پر مختلف محاذ پر جنگ لڑ چکے ہیں،جب کہ اسرائیلی فوج نہتے فلسطینی عوام پر زور آزمائی کرتے رہی ہے۔کل جنگ بندی ہو جاتی ہے تو رفتہ رفتہ مستقبل کی منصوبہ بندی کی خبر بھی عام ہو جائے گی۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:23:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
سچ جاننے کے لیے محنت کی ضرورت
(1)الجزیرہ ٹی وی کا اعتراف ہے کہ حالیہ اسرائیل فلسطین جنگ کی مدت میں سب سے زیادہ جھوٹی خبریں بھارت کے گودی میڈیا نے پھیلایا ہے۔آج فلسطین میں جنگ بندی ہو چکی ہے اور غزہ کے مختلف علاقوں سے یہودی فوج اپنے جنگی ٹینکوں کے ساتھ اسرائیل واپس جا رہی ہے،لیکن بھارت کے گودی میڈیا ابھی بھی یہی خبر نشر کر رہا ہے کہ غزہ پٹی میں جنگ جاری ہے۔در اصل گودی میڈیا جھوٹی خبریں پھیلا کر اپنے جیجا مسٹر نتن یاہو کے سر پر فتح کا تاج رکھنا چاہتا ہے،لیکن حزب اللہ ودیگر عرب ملیشیا نے یہودیوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔
امریکہ کو یہ خوف ستا رہا ہے کہ اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو امریکہ کو عرب دنیا سے اسی طرح ذلیل وخوار کر بھاگنا پڑے گا جیسے وہ افغانستان سے بھاگا تھا،لہذا امریکہ جنگ بندی کے لئے حکمت عملی اپنا رہا ہے۔
(2) اسرائیل نے حالیہ جنگ میں عام فلسطینی شہریوں کو ہلاک کیا،تاکہ فلسطینی عوام حماس کے خلاف ہو جائیں،لیکن ایسا نہ ہو سکا،بلکہ اسرائیلی منشا کے برخلاف بہت سے فلسطینی حماس میں شریک ہونے لگے۔
دوسری جانب حماس وحزب اللہ کے خوف سے بہت سے اسرائیلی فوجی اپنی فوج سے بھاگ گئے۔انہیں چاروں طرف موت نظر آنے لگی تھی۔غزہ پٹی میں اسرائیلی فوجیوں نے حماس کا مقابلہ بہت کم کیا،وہ عام شہریوں کو ہلاک کرتے رہے اور اسپتالوں،اسکولوں،مسجدوں، رہائشی مکانوں اور بے گھر فلسطینیوں کے کیمپوں پر حملہ کرتے رہے اور اسرائیلی جنگی جہاز عوامی مقامات پر بمباری کرتا رہا۔
حالیہ جنگ میں اسرائیل کا بھی بہت نقصان ہوا ہے۔اس کے بہت سے فوجی مارے گئے۔ٹینک اور جہاز تباہ ہوئے۔اسرائیل کے بہت سے علاقے تباہ ہوئے۔بمباری میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔اسرائیل نے حماس سے مقابلہ ہی نہیں کیا۔اسرائیل عام شہریوں پر حملہ کرتا رہا،لہذا دنیا کے اکثر ممالک اسرائیل کے خلاف ہو گئے اور دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہوئے۔
حماس نے گوریلا جنگ کا طریقہ اختیار کیا اور بہت سے اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا،اس کے فوجی ٹینکوں اور فوجی ہیلی کاپٹرس کو تباہ کیا۔اسرائیلی شہروں پر راکٹ اور میزائیل سے حملے کرتا رہا۔
اسرائیل نے بمباری کر کے شمالی غزہ کو تباہ کر دیا تھا۔ہزاروں عام شہریوں کو ہلاک کر چکا تھا۔اس کے بعد اسرائیلی علاقوں سے متصل جنوبی غزہ میں بھی جہازوں سے پرچیاں گرا چکا تھا کہ یہ علاقے خالی کرو،ورنہ بمباری ہو گی۔اس کے بعد اسرائیل نے کچھ بمباری بھی کی۔یہ دیکھ کر حزب اللہ نے کہا کہ ہم آ رہے ہیں۔اس کے بعد حزب اللہ نے لبنان سے اسرائیلی علاقوں پر میزائیل وراکٹ داغنے شروع کئے اور اسرائیل کے فوجی اڈوں اور فوجی تنصیبات کو تہس نہس کرنا شروع کر دیا۔اسی درمیان یمن کے ملیشیا نے ایک بحری جہاز پر قبضہ کر لیا۔مختلف علاقوں میں امریکہ کے فوجی ٹھکانوں پر عرب ملیشیا نے حملہ شروع کر دیا۔یہ سب کچھ دیکھ کر جنوبی غزہ پر بمباری کی رفتار سست پڑ گئی،ورنہ اسرائیل جنوبی غزہ میں بھی شمالی غزہ کی طرح بمباری کرتا۔
یہ سب کچھ دیکھ کر امریکی اشارہ پر عرب ممالک چین و روس ودیگر ممالک گئے اور جنگ بندی کی باتیں ہونے لگیں،ورنہ سعودیہ میں تو فلسطین کے لئے دعا مانگنا بھی جرم تھا۔اگر عرب ممالک اسرائیل سے تعلقات توڑ لیتے تو اسرائیل اس قدر ظلم وستم سے باز رہتا۔اسرائیل تو دیکھ رہا ہےکہ ہم فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک بھی کرتے ہیں اور عرب ممالک ہمارے ساتھ دوستی بھی نبھاتے ہیں۔یہ سب کچھ دیکھ کر اسرائیل جری ہو چکا ہے،لیکن عرب ملیشیا(غیر سرکاری فوجی گروپس)نے اسرائیل وامریکہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
(3)یہودیوں کا خیال ہے کہ ہر فلسطینی حماس کے ساتھ ہے،لہذا ہر فلسطینی قتل وہلاکت کا مستحق ہے۔اگر یہ نظریہ درست ہے تو ہر یہودی اسرائیل کے ساتھ ہے،لہذا ہر یہودی بھی قتل کا مستحق ہونا چاہیے،خواہ وہ فوجی ہو یا عام شہری۔
جب دو ملکوں میں جنگ ہوتی ہے تو ہر ملک کے عوام اپنے ملک کے ساتھ ہوتے ہیں،لیکن اس کی وجہ سے عام شہریوں پر بمباری نہیں کی جاتی ہے،نہ ہی عام شہریوں کو ہلاک کیا جاتا ہے۔
(4)اگر جنگ بندی کی مدت میں اقوام متحدہ اور عرب ممالک نے مستقل جنگ بندی کی کوشش کی تو ممکن ہے کہ مستقل جنگ بندی ہو جائے،ورنہ انجام انتہائی دردناک ہو گا۔دونوں طرف بے تحاشہ ہلاکت ہو گی۔اسرائیل کے اندرونی حالات بھی خراب ہیں۔ممکن ہے کہ نتن یاہو کو اپنے عہدہ سے مستعفی ہونا پڑے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:24:نومبر 2023
سچ جاننے کے لیے محنت کی ضرورت
(1)الجزیرہ ٹی وی کا اعتراف ہے کہ حالیہ اسرائیل فلسطین جنگ کی مدت میں سب سے زیادہ جھوٹی خبریں بھارت کے گودی میڈیا نے پھیلایا ہے۔آج فلسطین میں جنگ بندی ہو چکی ہے اور غزہ کے مختلف علاقوں سے یہودی فوج اپنے جنگی ٹینکوں کے ساتھ اسرائیل واپس جا رہی ہے،لیکن بھارت کے گودی میڈیا ابھی بھی یہی خبر نشر کر رہا ہے کہ غزہ پٹی میں جنگ جاری ہے۔در اصل گودی میڈیا جھوٹی خبریں پھیلا کر اپنے جیجا مسٹر نتن یاہو کے سر پر فتح کا تاج رکھنا چاہتا ہے،لیکن حزب اللہ ودیگر عرب ملیشیا نے یہودیوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔
امریکہ کو یہ خوف ستا رہا ہے کہ اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو امریکہ کو عرب دنیا سے اسی طرح ذلیل وخوار کر بھاگنا پڑے گا جیسے وہ افغانستان سے بھاگا تھا،لہذا امریکہ جنگ بندی کے لئے حکمت عملی اپنا رہا ہے۔
(2) اسرائیل نے حالیہ جنگ میں عام فلسطینی شہریوں کو ہلاک کیا،تاکہ فلسطینی عوام حماس کے خلاف ہو جائیں،لیکن ایسا نہ ہو سکا،بلکہ اسرائیلی منشا کے برخلاف بہت سے فلسطینی حماس میں شریک ہونے لگے۔
دوسری جانب حماس وحزب اللہ کے خوف سے بہت سے اسرائیلی فوجی اپنی فوج سے بھاگ گئے۔انہیں چاروں طرف موت نظر آنے لگی تھی۔غزہ پٹی میں اسرائیلی فوجیوں نے حماس کا مقابلہ بہت کم کیا،وہ عام شہریوں کو ہلاک کرتے رہے اور اسپتالوں،اسکولوں،مسجدوں، رہائشی مکانوں اور بے گھر فلسطینیوں کے کیمپوں پر حملہ کرتے رہے اور اسرائیلی جنگی جہاز عوامی مقامات پر بمباری کرتا رہا۔
حالیہ جنگ میں اسرائیل کا بھی بہت نقصان ہوا ہے۔اس کے بہت سے فوجی مارے گئے۔ٹینک اور جہاز تباہ ہوئے۔اسرائیل کے بہت سے علاقے تباہ ہوئے۔بمباری میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔اسرائیل نے حماس سے مقابلہ ہی نہیں کیا۔اسرائیل عام شہریوں پر حملہ کرتا رہا،لہذا دنیا کے اکثر ممالک اسرائیل کے خلاف ہو گئے اور دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہوئے۔
حماس نے گوریلا جنگ کا طریقہ اختیار کیا اور بہت سے اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا،اس کے فوجی ٹینکوں اور فوجی ہیلی کاپٹرس کو تباہ کیا۔اسرائیلی شہروں پر راکٹ اور میزائیل سے حملے کرتا رہا۔
اسرائیل نے بمباری کر کے شمالی غزہ کو تباہ کر دیا تھا۔ہزاروں عام شہریوں کو ہلاک کر چکا تھا۔اس کے بعد اسرائیلی علاقوں سے متصل جنوبی غزہ میں بھی جہازوں سے پرچیاں گرا چکا تھا کہ یہ علاقے خالی کرو،ورنہ بمباری ہو گی۔اس کے بعد اسرائیل نے کچھ بمباری بھی کی۔یہ دیکھ کر حزب اللہ نے کہا کہ ہم آ رہے ہیں۔اس کے بعد حزب اللہ نے لبنان سے اسرائیلی علاقوں پر میزائیل وراکٹ داغنے شروع کئے اور اسرائیل کے فوجی اڈوں اور فوجی تنصیبات کو تہس نہس کرنا شروع کر دیا۔اسی درمیان یمن کے ملیشیا نے ایک بحری جہاز پر قبضہ کر لیا۔مختلف علاقوں میں امریکہ کے فوجی ٹھکانوں پر عرب ملیشیا نے حملہ شروع کر دیا۔یہ سب کچھ دیکھ کر جنوبی غزہ پر بمباری کی رفتار سست پڑ گئی،ورنہ اسرائیل جنوبی غزہ میں بھی شمالی غزہ کی طرح بمباری کرتا۔
یہ سب کچھ دیکھ کر امریکی اشارہ پر عرب ممالک چین و روس ودیگر ممالک گئے اور جنگ بندی کی باتیں ہونے لگیں،ورنہ سعودیہ میں تو فلسطین کے لئے دعا مانگنا بھی جرم تھا۔اگر عرب ممالک اسرائیل سے تعلقات توڑ لیتے تو اسرائیل اس قدر ظلم وستم سے باز رہتا۔اسرائیل تو دیکھ رہا ہےکہ ہم فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک بھی کرتے ہیں اور عرب ممالک ہمارے ساتھ دوستی بھی نبھاتے ہیں۔یہ سب کچھ دیکھ کر اسرائیل جری ہو چکا ہے،لیکن عرب ملیشیا(غیر سرکاری فوجی گروپس)نے اسرائیل وامریکہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
(3)یہودیوں کا خیال ہے کہ ہر فلسطینی حماس کے ساتھ ہے،لہذا ہر فلسطینی قتل وہلاکت کا مستحق ہے۔اگر یہ نظریہ درست ہے تو ہر یہودی اسرائیل کے ساتھ ہے،لہذا ہر یہودی بھی قتل کا مستحق ہونا چاہیے،خواہ وہ فوجی ہو یا عام شہری۔
جب دو ملکوں میں جنگ ہوتی ہے تو ہر ملک کے عوام اپنے ملک کے ساتھ ہوتے ہیں،لیکن اس کی وجہ سے عام شہریوں پر بمباری نہیں کی جاتی ہے،نہ ہی عام شہریوں کو ہلاک کیا جاتا ہے۔
(4)اگر جنگ بندی کی مدت میں اقوام متحدہ اور عرب ممالک نے مستقل جنگ بندی کی کوشش کی تو ممکن ہے کہ مستقل جنگ بندی ہو جائے،ورنہ انجام انتہائی دردناک ہو گا۔دونوں طرف بے تحاشہ ہلاکت ہو گی۔اسرائیل کے اندرونی حالات بھی خراب ہیں۔ممکن ہے کہ نتن یاہو کو اپنے عہدہ سے مستعفی ہونا پڑے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:24:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
اسرائیل کا غرور مکمل چکنا چور
(1) اسرائیل نے حالیہ جنگ میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ چند دنوں میں حماس کا خاتمہ کر دے گا۔قریبا ڈیڑھ ماہ غزہ پٹی میں اسرائیلی فوج بمباری اور حملے کرتی رہی۔اسرائیل نے غزہ پٹی میں 383 جنگی ٹینک بھیجے تھے۔ان میں سے صرف گیارہ ٹینک سلامت رہے اور 372 ٹینکوں کو حماس نے تباہ وبرباد کر دیا۔ان ٹینکوں کے جنازے غزہ پٹی میں جا بجا بکھرے پڑے ہیں اور اسرائیل کی شکست کی حقیقت بیان کر رہے ہیں۔
حماس کا دعویٰ ہے کہ تین ہزار اسرائیلی فوجیوں کو حماس نے ہلاک کیا ہے۔اسرائیلی فوج نے حماس کے کتنے لوگوں کو مارا،اسرائیلی فوج آج تک کوئی تفصیل نہ بتا سکی۔
اسرائیل نے بمباری کر کے قریبا پندرہ ہزار عام فلسطینی شہریوں کو ہلاک کیا اور سات ہزار فلسطینی لاپتہ ہیں۔کچھ عمارتوں کے ملبے میں دبے ہوں گے اور کچھ کو اسرائیلی فوج نے گرفتار کر لیا ہو گا۔رپورٹ کے مطابق حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے ویسٹ بینک سے تین ہزار سے زائد فلسطینی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
اسرائیل کی بمباری کے جواب میں حماس نے بھی اسرائیلی شہروں پر راکٹوں اور میزائلوں سے حملے کئے۔ان حملوں میں بھی یہودی ہلاک ہوئے ہوں گے۔یہودی بہت سے شہر چھوڑ کر بھاگ گئے اور بہت سے یہودی ملک چھوڑ کر بھاگ گئے اور بہت سے اسرائیلی سپاہی فوج چھوڑ کر بھاگ گئے،یعنی یہودی ہر طرف سے بھاگ رہے ہیں۔
جنگی ٹینک لوہے سے بنا ہوتا ہے اور اس قدر مضبوط و مستحکم ہوتا ہے کہ اس پر گولیوں کا کچھ اثر نہیں ہوتا ہے،لیکن حماس کے سپاہی اسرائیلی ٹینکوں پر گولی کی بجائے گولا پھینکنے لگے جس سے ٹینکوں میں آگ لگ جاتی اور ٹینک میں بیٹھے ہوئے پردہ نشیں اسرائیلی فوجی جل کر راکھ ہو جاتے۔
اسرائیلی بمباری کے جواب میں حماس نے بھی اسرائیلی شہروں پر راکٹوں اور میزائلوں کے حملے تیز کر دیئے۔اسرائیل کی راجدھانی تل ابیب پر اتنے میزائل داغے کہ تل ابیب میں جا بجا کالے کالے تل نظر آنے لگے۔
اسرائیل نے سوچا تھا کہ وہ غزہ پٹی پر بمباری کر کے عام شہریوں کو ہلاک کرتا رہے گا اور پھر اسرائیلی فوجی عام فلسطینی شہریوں کو ہلاک کرتے رہیں گے،لیکن حماس کے راکٹوں اور میزائلوں نے یہودیوں کا خواب چکناچور کر دیا۔اسرائیلی شہر تباہ ہونے لگے اور یہودیوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔یہودی دہشت کے مارے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔
(2)حماس کے ٹھکانے زیر زمین سرنگوں میں ہیں۔اسرائیل غزہ کے عام شہریوں کے مکانات،اسکولوں،مسجدوں اور اسپتالوں کو حماس کے ٹھکانے بتا کر ان پر حملے کرتا رہا اور عام شہریوں کو ہلاک کرتا رہا۔وہ نہ حماس کے سرنگوں میں داخل ہوا،نہ ہی حماس کا کچھ نقصان کر سکا۔اسرائیل کے جاسوسی طیارے غزہ پٹی کی فضا میں گشت لگاتے رہے،لیکن حماس کے حملے جاری رہے۔اسرائیلی شہروں پر بمباری جاری رہی۔اسرائیلی ٹینک تباہ ہوتے رہے۔اسرائیل کے ڈرون اور اس کے جنگی طیارے حماس پر بمباری نہ کر سکے۔شاید کہ حماس کے سپاہی برق رفتاری کے ساتھ حملے کر کے غائب ہو جاتے کہ جنگی طیاروں کو ان تک پہنچنے کا موقع ہی نہ ملتا ہو۔الغرض اسرائیل کے جاسوسی طیارے اور بمبار طیارے حماس کو راکٹ اور میزائل داغنے سے نہ روک سکے اور اسرائیل کا آئرن ڈوم سسٹم حماس کے راکٹوں اور میزائلوں کو نہ روک سکا،تب اسرائیل کے یہودی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے اور یہ لوگ اسرائیلی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے لگے،ورنہ دنیا کی یہ بدترین قوم تو صدیوں سے قتل وغارت گری کرتی آئی ہے۔یہودی لوگ تو یہی چاہتے ہیں کہ تمام فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کی جائے،بلکہ 07:اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد نتن یاہو نے ایک خطاب میں فلسطینوں کی نسل کشی کا اشارہ بھی دیا تھا۔اس کے ایک وزیر نے ایٹم بم گرانے کا ذکر بھی کیا تھا،لیکن دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف احتجاج ومظاہرے ہونے لگے اور دنیا کے ممالک اسرائیل کے خلاف ہو گئے۔انجام کار امریکہ کو بھی قدم پیچھے ہٹانا پڑا۔
(3)مغربی ممالک میں بے شمار مسلمان آباد ہیں،لیکن وہ ممالک مسلمانوں کو اپنے یہاں سے باہر نہیں نکالتے،لیکن یہودی وہ بدترین قوم ہے کہ کوئی ملک اپنے یہاں یہودیوں کو رکھنا نہیں چاہتا۔مغربی ممالک اسرائیل کا سپورٹ اس لئے کرتے ہیں کہ کہیں یہ دجالی قوم یورپ میں آباد نہ ہو جائے۔یہ لوگ جہاں جائیں گے،وہاں فتنہ پھیلائیں گے اور امن وسکون کو غارت کر دیں گے۔
(5)موجودہ فلسطین دو علاقوں پر مشتمل ہے:غزہ پٹی اور ویسٹ بینک(غرب اردن)۔غزہ پٹی اور ویسٹ بینک میں یہودی فوج رہتی تھی اور فلسطینی مسلمانوں پر قہر ڈھاتے رہتی تھی۔فلسطینیوں کو قتل کرںا،ان کو مار پیٹ کرنا،فلسطینی عورتوں کی عصمت دری کرںا،کوئی الزام لگا کر فلسطینیوں پر حملہ کرنا اور ان کو اسرائیلی جیلوں میں ڈال دینا اسرائیلی فوجیوں کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔جب حماس جوابی کاروائی کرنے لگا تو 2005 میں اسرائیل نے اپنے فوجیوں کو غزہ سے واپس بلا لیا۔
اسرائیل کا غرور مکمل چکنا چور
(1) اسرائیل نے حالیہ جنگ میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ چند دنوں میں حماس کا خاتمہ کر دے گا۔قریبا ڈیڑھ ماہ غزہ پٹی میں اسرائیلی فوج بمباری اور حملے کرتی رہی۔اسرائیل نے غزہ پٹی میں 383 جنگی ٹینک بھیجے تھے۔ان میں سے صرف گیارہ ٹینک سلامت رہے اور 372 ٹینکوں کو حماس نے تباہ وبرباد کر دیا۔ان ٹینکوں کے جنازے غزہ پٹی میں جا بجا بکھرے پڑے ہیں اور اسرائیل کی شکست کی حقیقت بیان کر رہے ہیں۔
حماس کا دعویٰ ہے کہ تین ہزار اسرائیلی فوجیوں کو حماس نے ہلاک کیا ہے۔اسرائیلی فوج نے حماس کے کتنے لوگوں کو مارا،اسرائیلی فوج آج تک کوئی تفصیل نہ بتا سکی۔
اسرائیل نے بمباری کر کے قریبا پندرہ ہزار عام فلسطینی شہریوں کو ہلاک کیا اور سات ہزار فلسطینی لاپتہ ہیں۔کچھ عمارتوں کے ملبے میں دبے ہوں گے اور کچھ کو اسرائیلی فوج نے گرفتار کر لیا ہو گا۔رپورٹ کے مطابق حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے ویسٹ بینک سے تین ہزار سے زائد فلسطینی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
اسرائیل کی بمباری کے جواب میں حماس نے بھی اسرائیلی شہروں پر راکٹوں اور میزائلوں سے حملے کئے۔ان حملوں میں بھی یہودی ہلاک ہوئے ہوں گے۔یہودی بہت سے شہر چھوڑ کر بھاگ گئے اور بہت سے یہودی ملک چھوڑ کر بھاگ گئے اور بہت سے اسرائیلی سپاہی فوج چھوڑ کر بھاگ گئے،یعنی یہودی ہر طرف سے بھاگ رہے ہیں۔
جنگی ٹینک لوہے سے بنا ہوتا ہے اور اس قدر مضبوط و مستحکم ہوتا ہے کہ اس پر گولیوں کا کچھ اثر نہیں ہوتا ہے،لیکن حماس کے سپاہی اسرائیلی ٹینکوں پر گولی کی بجائے گولا پھینکنے لگے جس سے ٹینکوں میں آگ لگ جاتی اور ٹینک میں بیٹھے ہوئے پردہ نشیں اسرائیلی فوجی جل کر راکھ ہو جاتے۔
اسرائیلی بمباری کے جواب میں حماس نے بھی اسرائیلی شہروں پر راکٹوں اور میزائلوں کے حملے تیز کر دیئے۔اسرائیل کی راجدھانی تل ابیب پر اتنے میزائل داغے کہ تل ابیب میں جا بجا کالے کالے تل نظر آنے لگے۔
اسرائیل نے سوچا تھا کہ وہ غزہ پٹی پر بمباری کر کے عام شہریوں کو ہلاک کرتا رہے گا اور پھر اسرائیلی فوجی عام فلسطینی شہریوں کو ہلاک کرتے رہیں گے،لیکن حماس کے راکٹوں اور میزائلوں نے یہودیوں کا خواب چکناچور کر دیا۔اسرائیلی شہر تباہ ہونے لگے اور یہودیوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔یہودی دہشت کے مارے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔
(2)حماس کے ٹھکانے زیر زمین سرنگوں میں ہیں۔اسرائیل غزہ کے عام شہریوں کے مکانات،اسکولوں،مسجدوں اور اسپتالوں کو حماس کے ٹھکانے بتا کر ان پر حملے کرتا رہا اور عام شہریوں کو ہلاک کرتا رہا۔وہ نہ حماس کے سرنگوں میں داخل ہوا،نہ ہی حماس کا کچھ نقصان کر سکا۔اسرائیل کے جاسوسی طیارے غزہ پٹی کی فضا میں گشت لگاتے رہے،لیکن حماس کے حملے جاری رہے۔اسرائیلی شہروں پر بمباری جاری رہی۔اسرائیلی ٹینک تباہ ہوتے رہے۔اسرائیل کے ڈرون اور اس کے جنگی طیارے حماس پر بمباری نہ کر سکے۔شاید کہ حماس کے سپاہی برق رفتاری کے ساتھ حملے کر کے غائب ہو جاتے کہ جنگی طیاروں کو ان تک پہنچنے کا موقع ہی نہ ملتا ہو۔الغرض اسرائیل کے جاسوسی طیارے اور بمبار طیارے حماس کو راکٹ اور میزائل داغنے سے نہ روک سکے اور اسرائیل کا آئرن ڈوم سسٹم حماس کے راکٹوں اور میزائلوں کو نہ روک سکا،تب اسرائیل کے یہودی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے اور یہ لوگ اسرائیلی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے لگے،ورنہ دنیا کی یہ بدترین قوم تو صدیوں سے قتل وغارت گری کرتی آئی ہے۔یہودی لوگ تو یہی چاہتے ہیں کہ تمام فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کی جائے،بلکہ 07:اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد نتن یاہو نے ایک خطاب میں فلسطینوں کی نسل کشی کا اشارہ بھی دیا تھا۔اس کے ایک وزیر نے ایٹم بم گرانے کا ذکر بھی کیا تھا،لیکن دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف احتجاج ومظاہرے ہونے لگے اور دنیا کے ممالک اسرائیل کے خلاف ہو گئے۔انجام کار امریکہ کو بھی قدم پیچھے ہٹانا پڑا۔
(3)مغربی ممالک میں بے شمار مسلمان آباد ہیں،لیکن وہ ممالک مسلمانوں کو اپنے یہاں سے باہر نہیں نکالتے،لیکن یہودی وہ بدترین قوم ہے کہ کوئی ملک اپنے یہاں یہودیوں کو رکھنا نہیں چاہتا۔مغربی ممالک اسرائیل کا سپورٹ اس لئے کرتے ہیں کہ کہیں یہ دجالی قوم یورپ میں آباد نہ ہو جائے۔یہ لوگ جہاں جائیں گے،وہاں فتنہ پھیلائیں گے اور امن وسکون کو غارت کر دیں گے۔
(5)موجودہ فلسطین دو علاقوں پر مشتمل ہے:غزہ پٹی اور ویسٹ بینک(غرب اردن)۔غزہ پٹی اور ویسٹ بینک میں یہودی فوج رہتی تھی اور فلسطینی مسلمانوں پر قہر ڈھاتے رہتی تھی۔فلسطینیوں کو قتل کرںا،ان کو مار پیٹ کرنا،فلسطینی عورتوں کی عصمت دری کرںا،کوئی الزام لگا کر فلسطینیوں پر حملہ کرنا اور ان کو اسرائیلی جیلوں میں ڈال دینا اسرائیلی فوجیوں کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔جب حماس جوابی کاروائی کرنے لگا تو 2005 میں اسرائیل نے اپنے فوجیوں کو غزہ سے واپس بلا لیا۔
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
(6)اسرائیل نے ویسٹ بینک(غرب اردن)میں عرب اسرائیل جنگ:1967 میں غرب اردن(ویسٹ بینک)پر قبضہ کر لیا اور ان علاقوں میں یہودیوں کو بسانا شروع کر دیا۔رفتہ رفتہ قریبا پانچ لاکھ یہودی ویسٹ بینک میں بسائے جا چکے ہیں۔اسرائیل ان یہودیوں پر اربوں روپے خرچ کرتا ہے۔ان یہودیوں کو ویسٹ بینک میں بسانے کا مقصد ہی یہی تھا کہ وہ لوگ مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھاتے رہیں۔یہ یہودی مسلمانوں کو مار پیٹ کرتے ہیں۔ان پر ظلم وستم کرتے ہیں۔مسلم لڑکیوں کی عصمت دری کرتے ہیں۔یہ دہشت گرد یہودی سیکڑوں مسلمانوں کا قتل کر چکے ہیں۔اگر کوئی مسلمان آواز بلند کرتا ہے تو اسے پکڑ کر اسرائیلی جیلوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔اسی طرح آئے دن مسلمان مردوں،عورتوں،چھوٹے بچوں اور بچیوں کو اسرائیلی جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جاتا ہے۔
اسرائیلی جیلوں میں جن مسلمانوں کو قید کیا جاتا ہے۔وہ اسرائیلی کورٹ سے رہائی نہیں پا سکتے ہیں۔ان کو کورٹ میں اپیل کرنے اور وکیل رکھنے کی سہولت مہیا نہیں۔الغرض ویسٹ بینک کے مسلمانوں کی زندگی کو جہنم بنا دیا گیا ہے۔
لامحالہ ایسی صورت میں لوگ ظلم وجبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور ظالم کو سبق سکھائیں گے۔اگر فلسطینیوں کو ان کے حقوق نہ دیئے گئے اور فلسطین کو ایک مستقل آزاد ملک کا درجہ نہ دیا گیا تو فلسطین واسرائیل کے درمیان جنگ ہوتی رہے گی۔
(7)اسرائیل وحماس کے حالیہ معاہدہ کے مطابق جمعہ کے دن سے غزہ میں چار روزہ جنگ بندی ہو چکی ہے،لیکن یہودی کائنات عالم کی سب سے بدترین قوم ہے۔اس قوم نے بے شمار انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو شہید کیا ہے۔ایسے لوگ جنگ بندی کے معاہدہ کی پوری پابندی کر ہی نہیں سکتے۔جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج غزہ پٹی اور ویسٹ بینک میں مسلمانوں پر حملے کر رہی ہے اور مسلمانوں کو ہلاک کر رہی ہے۔حماس نے معاہدہ کی خلاف ورزی پر سخت اعتراض درج کرایا ہے۔دوشنبہ کو جنگ بندی کی مدت مکمل ہو جائے گی۔اس کے بعد کیا ہو گا۔اس بارے میں قیاس آرائیاں تیز ہو چکی ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:26:نومبر 2023
اسرائیلی جیلوں میں جن مسلمانوں کو قید کیا جاتا ہے۔وہ اسرائیلی کورٹ سے رہائی نہیں پا سکتے ہیں۔ان کو کورٹ میں اپیل کرنے اور وکیل رکھنے کی سہولت مہیا نہیں۔الغرض ویسٹ بینک کے مسلمانوں کی زندگی کو جہنم بنا دیا گیا ہے۔
لامحالہ ایسی صورت میں لوگ ظلم وجبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور ظالم کو سبق سکھائیں گے۔اگر فلسطینیوں کو ان کے حقوق نہ دیئے گئے اور فلسطین کو ایک مستقل آزاد ملک کا درجہ نہ دیا گیا تو فلسطین واسرائیل کے درمیان جنگ ہوتی رہے گی۔
(7)اسرائیل وحماس کے حالیہ معاہدہ کے مطابق جمعہ کے دن سے غزہ میں چار روزہ جنگ بندی ہو چکی ہے،لیکن یہودی کائنات عالم کی سب سے بدترین قوم ہے۔اس قوم نے بے شمار انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو شہید کیا ہے۔ایسے لوگ جنگ بندی کے معاہدہ کی پوری پابندی کر ہی نہیں سکتے۔جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج غزہ پٹی اور ویسٹ بینک میں مسلمانوں پر حملے کر رہی ہے اور مسلمانوں کو ہلاک کر رہی ہے۔حماس نے معاہدہ کی خلاف ورزی پر سخت اعتراض درج کرایا ہے۔دوشنبہ کو جنگ بندی کی مدت مکمل ہو جائے گی۔اس کے بعد کیا ہو گا۔اس بارے میں قیاس آرائیاں تیز ہو چکی ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:26:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
فلسطینی مسلمانوں کی مسلسل گرفتاریاں
(1)حالیہ جنگ بندی معاہدہ کے دوران بعض ایسے فلسطینی بچے بھی اسرائیلی جیلوں سے رہا کیے گئے جن کو پانچ سال کی عمر میں اسرائیلی فوج پر پتھر پھینکنے کا الزام لگا کر اسرائیلی جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا اور وہ کئی سالوں تک اسرائیلی جیلوں میں رہے۔
اسرائیلی فوجی آٹھ نو سال کے بچوں کو پتھر پھینکنے کے الزام میں گرفتار کر لیتی ہے اور پھر انہیں غیر متعینہ مدت کے لئے اسرائیلی جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔یہودی فوجی فلسطینی نابالغ لڑکیوں اور عورتوں کو بھی گرفتار کر لیتے ہیں۔
عرب اسرائیل جنگ:1967میں عرب ممالک اسرائیل سے شکست کھا گئے تھے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ ہے کہ 1967 سے آج تک 56 سالوں میں دس لاکھ فلسطینی مسلمانوں کو اسرائیلی فوج نے گرفتار کر کے اسرائیلی جیلوں میں ڈال دیا۔ان میں سے بہت سے لوگ اسرائیلی جیلوں میں وفات پا گئے۔بہت سے لوگ لمبی مدت تک اسرائیلی جیلوں میں رہنے کے بعد آزاد ہوئے۔اسرائیلی کورٹ میں بھی فلسطینی مسلمانوں کو انصاف نہیں ملتا ہے۔
(2)حالیہ فلسطین واسرائیل جنگ سے متعلق یہ خبر بھی گشت کر رہی ہے کہ اسرائیلی فوجی تلاشی کے نام پر فلسطینی مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیتے اور ان کے گھروں سے روپے اور زیورات چوری کر لیتے۔اسرائیلی فوجیوں نے عام فلسطینی شہریوں کے گھروں سے چوری کر کے قریبا دس کروڑ روپے اسرائیلی حکومت کے پاس جمع کئے ہیں،پھر چوری تو اس سے زیادہ کئے ہوں گے۔
(3)اسرائیلی فوجیوں نے حالیہ جنگ کے دوران تین ہزار سے زائد عام فلسطینی شہریوں کو گرفتار کیا ہےجن میں بہت سے بچے بھی شامل ہیں۔پندرہ ہزار سے زائد عام فلسطینی شہریوں کا قتل کیا ہے،جن میں چھ ہزار بچے اور چار ہزار عورتیں شامل ہیں۔
(4) اسرائیلی حکومت نے اپنے انٹلی جنس محکمہ یعنی موساد کو حکم دیا ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی حماس کے لیڈر ہوں،ان کو قتل کر دیا جائے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ دنیا بھر میں فلسطینی مسلمانوں کا قتل ہو گا،خواہ وہ حماس کے ممبر ہوں یا عام فلسطینی۔چند دن قبل 25:نومبر کو امریکہ میں تین فلسطینی اسٹوڈنٹس کو گولی ماری گئی ہے۔امریکی کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہے۔
(5)اسرائیلی میڈیا جھوٹ پھیلانے میں بہت ماہر ہے۔اسی طرح مغرب کا پروپیگنڈہ میڈیا اور بھارت کا گودی میڈیا بھی جھوٹ پھیلانے میں اسرائیلی میڈیا کے ہم پلہ ہیں۔حالیہ فلسطین واسرائیل جنگ سے متعلق بھی بہت جھوٹ پھیلایا گیا،لیکن سوشل میڈیا کے سبب دنیا والوں کو صحیح خبریں بھی موصول ہوتی رہیں۔
(6)کل بروز دوشنبہ 27:نومبر کو چار روزہ جنگ بندی کی مدت پوری ہو چکی تھی،لیکن فلسطین واسرائیل نے باہمی رضامندی سے مزید دو دنوں کے لئے جنگ بندی کی مدت بڑھا دی ہے۔امید ہے کہ رفتہ رفتہ مستقل جنگ بندی ہو جائے گی۔
(7)موجودہ فلسطین واسرائیل جنگ سے دنیا بھر کے حالات بدلتے نظر آ رہے ہیں۔مشرق وسطی سے امریکہ و یورپ کی سامراجیت ختم ہوتی نظر آ رہی پے۔ان شاء اللہ تعالی اگلے مضمون میں تفصیل رقم کی جائے گی۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:28:نومبر 2023
فلسطینی مسلمانوں کی مسلسل گرفتاریاں
(1)حالیہ جنگ بندی معاہدہ کے دوران بعض ایسے فلسطینی بچے بھی اسرائیلی جیلوں سے رہا کیے گئے جن کو پانچ سال کی عمر میں اسرائیلی فوج پر پتھر پھینکنے کا الزام لگا کر اسرائیلی جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا اور وہ کئی سالوں تک اسرائیلی جیلوں میں رہے۔
اسرائیلی فوجی آٹھ نو سال کے بچوں کو پتھر پھینکنے کے الزام میں گرفتار کر لیتی ہے اور پھر انہیں غیر متعینہ مدت کے لئے اسرائیلی جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔یہودی فوجی فلسطینی نابالغ لڑکیوں اور عورتوں کو بھی گرفتار کر لیتے ہیں۔
عرب اسرائیل جنگ:1967میں عرب ممالک اسرائیل سے شکست کھا گئے تھے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ ہے کہ 1967 سے آج تک 56 سالوں میں دس لاکھ فلسطینی مسلمانوں کو اسرائیلی فوج نے گرفتار کر کے اسرائیلی جیلوں میں ڈال دیا۔ان میں سے بہت سے لوگ اسرائیلی جیلوں میں وفات پا گئے۔بہت سے لوگ لمبی مدت تک اسرائیلی جیلوں میں رہنے کے بعد آزاد ہوئے۔اسرائیلی کورٹ میں بھی فلسطینی مسلمانوں کو انصاف نہیں ملتا ہے۔
(2)حالیہ فلسطین واسرائیل جنگ سے متعلق یہ خبر بھی گشت کر رہی ہے کہ اسرائیلی فوجی تلاشی کے نام پر فلسطینی مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیتے اور ان کے گھروں سے روپے اور زیورات چوری کر لیتے۔اسرائیلی فوجیوں نے عام فلسطینی شہریوں کے گھروں سے چوری کر کے قریبا دس کروڑ روپے اسرائیلی حکومت کے پاس جمع کئے ہیں،پھر چوری تو اس سے زیادہ کئے ہوں گے۔
(3)اسرائیلی فوجیوں نے حالیہ جنگ کے دوران تین ہزار سے زائد عام فلسطینی شہریوں کو گرفتار کیا ہےجن میں بہت سے بچے بھی شامل ہیں۔پندرہ ہزار سے زائد عام فلسطینی شہریوں کا قتل کیا ہے،جن میں چھ ہزار بچے اور چار ہزار عورتیں شامل ہیں۔
(4) اسرائیلی حکومت نے اپنے انٹلی جنس محکمہ یعنی موساد کو حکم دیا ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی حماس کے لیڈر ہوں،ان کو قتل کر دیا جائے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ دنیا بھر میں فلسطینی مسلمانوں کا قتل ہو گا،خواہ وہ حماس کے ممبر ہوں یا عام فلسطینی۔چند دن قبل 25:نومبر کو امریکہ میں تین فلسطینی اسٹوڈنٹس کو گولی ماری گئی ہے۔امریکی کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہے۔
(5)اسرائیلی میڈیا جھوٹ پھیلانے میں بہت ماہر ہے۔اسی طرح مغرب کا پروپیگنڈہ میڈیا اور بھارت کا گودی میڈیا بھی جھوٹ پھیلانے میں اسرائیلی میڈیا کے ہم پلہ ہیں۔حالیہ فلسطین واسرائیل جنگ سے متعلق بھی بہت جھوٹ پھیلایا گیا،لیکن سوشل میڈیا کے سبب دنیا والوں کو صحیح خبریں بھی موصول ہوتی رہیں۔
(6)کل بروز دوشنبہ 27:نومبر کو چار روزہ جنگ بندی کی مدت پوری ہو چکی تھی،لیکن فلسطین واسرائیل نے باہمی رضامندی سے مزید دو دنوں کے لئے جنگ بندی کی مدت بڑھا دی ہے۔امید ہے کہ رفتہ رفتہ مستقل جنگ بندی ہو جائے گی۔
(7)موجودہ فلسطین واسرائیل جنگ سے دنیا بھر کے حالات بدلتے نظر آ رہے ہیں۔مشرق وسطی سے امریکہ و یورپ کی سامراجیت ختم ہوتی نظر آ رہی پے۔ان شاء اللہ تعالی اگلے مضمون میں تفصیل رقم کی جائے گی۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:28:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
کیا فلسطین آزاد ملک بن جائے گا؟
(1) فلسطینی تحریک"حماس"کی ناقابل یقین فتح یابی دیکھ کر ایسا ہی لگتا ہے کہ اب اقوام متحدہ فلسطین کو ایک مستقل ملک بنانے کی کوشش کرے۔دنیا میں طاقتور اور فاتح کی بات مانی جاتی ہے۔حالیہ جنگ میں اسرائیل کو بدترین شکست ہوئی ہے۔اسرائیل اور اس کے حمایتی اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھے ہیں۔امریکی فضاؤں سے بھی رونق غائب ہو چکی ہے۔حماس نے امریکی سامراجیت کو روند کر رکھ دیا ہے۔
اگر اسرائیل کو شکست نہ ہوتی تو وہ ہرگز جنگ بندی نہیں کرتا۔ یہودی دنیا کی وہ بدترین قوم ہے کہ اسے فتح یابی کی ایک فی صد بھی امید ہوتی تو اسرائیل ہرگز جنگ بندی نہیں کرتا۔
عرب اسرائیل جنگ:1967 میں کامیابی کے بعد اسرائیل خود کو مشرق وسطی کا سب سے طاقتور ملک اور اپنے آپ کو ناقابل تسخیر سمجھتا رہا ہے۔حماس سے بدترین شکست کے بعد امریکہ بھی نرم پڑ چکا ہے۔
اقوام متحدہ میں پانچ ممالک مستقل ارکان ہیں جن کو ویٹو پاور حاصل ہے۔ان پانچ ممالک میں امریکہ بھی شامل ہے۔امریکہ ہمیشہ فلسطین کو مستقل ملک بنانے کی مخالفت کرتا رہا اور ویٹو پاور کا استعمال کرتا رہا ہے۔اب رائے عامہ کے دباؤ میں امریکہ بھی ٹو نیشن تھیوری کی بظاہر حمایت کر رہا ہے،لیکن امریکہ کا ظاہر وباطن یکساں نظر نہیں آتا۔
(2)فی الحال جنگ بندی ہو چکی ہے۔اگر جنگ بندی کے بعد دوبارہ جنگ شروع بھی ہو جائے تو اسرائیل وامریکہ مل کر بھی اس جنگ کو جیت نہیں سکتے،کیوں کہ اس مرتبہ عرب دنیا یا فلسطین میں کسی بڑے غدار کو تلاش کرنے میں امریکہ ناکام رہا ہے۔عام طور پر اہل مغرب دو ملکوں یا دو جماعتوں میں نا اتفاقی پیدا کر کے محاذ جنگ پر کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں۔اس بار نہ عرب ممالک کو آپس میں لڑایا جا سکا،نہ ہی فلسطین میں حماس کے خلاف کسی غدار کو میدان میں لانے کی کوشش کامیاب ہوئی۔غزہ پٹی اور ویسٹ بینک میں اسرائیل نے سازش ضرور کی تھی کہ عام فلسطینیوں کو حماس کے خلاف کر دیا جائے،لیکن 75:سال سے اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم وستم ڈھا رہا ہے،لہذا فلسطینی عوام حماس کے خلاف نہ ہو سکے۔اسرائیل چند فلسطینی شہریوں کو اپنا جاسوس بنانے میں ضرور کامیاب ہوا،لیکن حماس سے جب خود اسرائیل شکست کھا گیا تو کوئی غدار جماعت کیسے حماس سے جیت سکتی ہے۔
(3)موجودہ حالات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اب امریکہ رفتہ رفتہ مشرق وسطی سے اپنے فوجی اڈے ہٹا لے گا اور مشرق وسطی میں ایران سپر پاور کی حیثیت اختیار کر لے گا۔اسرائیل ذلت وخواری کے ساتھ موجود رہے گا اور عرب ممالک کو آپس میں لڑانے کی کوشش کرتا رہے گا،کیوں کہ یہودی قوم کبھی اپنی غلط حرکتوں سے باز نہیں آ سکتی۔جیسے قوم جن میں شیاطین ہیں،اسی طرح بنی آدم میں یہودی قوم ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:29:نومبر 2023
کیا فلسطین آزاد ملک بن جائے گا؟
(1) فلسطینی تحریک"حماس"کی ناقابل یقین فتح یابی دیکھ کر ایسا ہی لگتا ہے کہ اب اقوام متحدہ فلسطین کو ایک مستقل ملک بنانے کی کوشش کرے۔دنیا میں طاقتور اور فاتح کی بات مانی جاتی ہے۔حالیہ جنگ میں اسرائیل کو بدترین شکست ہوئی ہے۔اسرائیل اور اس کے حمایتی اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھے ہیں۔امریکی فضاؤں سے بھی رونق غائب ہو چکی ہے۔حماس نے امریکی سامراجیت کو روند کر رکھ دیا ہے۔
اگر اسرائیل کو شکست نہ ہوتی تو وہ ہرگز جنگ بندی نہیں کرتا۔ یہودی دنیا کی وہ بدترین قوم ہے کہ اسے فتح یابی کی ایک فی صد بھی امید ہوتی تو اسرائیل ہرگز جنگ بندی نہیں کرتا۔
عرب اسرائیل جنگ:1967 میں کامیابی کے بعد اسرائیل خود کو مشرق وسطی کا سب سے طاقتور ملک اور اپنے آپ کو ناقابل تسخیر سمجھتا رہا ہے۔حماس سے بدترین شکست کے بعد امریکہ بھی نرم پڑ چکا ہے۔
اقوام متحدہ میں پانچ ممالک مستقل ارکان ہیں جن کو ویٹو پاور حاصل ہے۔ان پانچ ممالک میں امریکہ بھی شامل ہے۔امریکہ ہمیشہ فلسطین کو مستقل ملک بنانے کی مخالفت کرتا رہا اور ویٹو پاور کا استعمال کرتا رہا ہے۔اب رائے عامہ کے دباؤ میں امریکہ بھی ٹو نیشن تھیوری کی بظاہر حمایت کر رہا ہے،لیکن امریکہ کا ظاہر وباطن یکساں نظر نہیں آتا۔
(2)فی الحال جنگ بندی ہو چکی ہے۔اگر جنگ بندی کے بعد دوبارہ جنگ شروع بھی ہو جائے تو اسرائیل وامریکہ مل کر بھی اس جنگ کو جیت نہیں سکتے،کیوں کہ اس مرتبہ عرب دنیا یا فلسطین میں کسی بڑے غدار کو تلاش کرنے میں امریکہ ناکام رہا ہے۔عام طور پر اہل مغرب دو ملکوں یا دو جماعتوں میں نا اتفاقی پیدا کر کے محاذ جنگ پر کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں۔اس بار نہ عرب ممالک کو آپس میں لڑایا جا سکا،نہ ہی فلسطین میں حماس کے خلاف کسی غدار کو میدان میں لانے کی کوشش کامیاب ہوئی۔غزہ پٹی اور ویسٹ بینک میں اسرائیل نے سازش ضرور کی تھی کہ عام فلسطینیوں کو حماس کے خلاف کر دیا جائے،لیکن 75:سال سے اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم وستم ڈھا رہا ہے،لہذا فلسطینی عوام حماس کے خلاف نہ ہو سکے۔اسرائیل چند فلسطینی شہریوں کو اپنا جاسوس بنانے میں ضرور کامیاب ہوا،لیکن حماس سے جب خود اسرائیل شکست کھا گیا تو کوئی غدار جماعت کیسے حماس سے جیت سکتی ہے۔
(3)موجودہ حالات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اب امریکہ رفتہ رفتہ مشرق وسطی سے اپنے فوجی اڈے ہٹا لے گا اور مشرق وسطی میں ایران سپر پاور کی حیثیت اختیار کر لے گا۔اسرائیل ذلت وخواری کے ساتھ موجود رہے گا اور عرب ممالک کو آپس میں لڑانے کی کوشش کرتا رہے گا،کیوں کہ یہودی قوم کبھی اپنی غلط حرکتوں سے باز نہیں آ سکتی۔جیسے قوم جن میں شیاطین ہیں،اسی طرح بنی آدم میں یہودی قوم ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:29:نومبر 2023