🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-05-1445 ᴴ | 06-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-05-1445 ᴴ | 06-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
21-05-1445 ᴴ | 06-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
بتاریخ 6 دسمبر 1992
یوم شہادت بابری مسجد 😢
🆔 @islaamic_Knowledge
محمد جمال الدین خان قادری
😢2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
😢3
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

فلسطینی بھائیوں کے لیے ہم کیا کریں؟

(1)دعا ضرور کرنا ہے۔گرچہ ہم اس لائق نہیں کہ ہماری دعائیں قبول ہوں,لیکن فضل الہی پر اعتماد کرتے ہوئے ہمیں فلسطینی بھائیوں اور جملہ مومنین کے لئے دعائے خیر کرتے رہنا ہے۔

(2)اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ وسیع پیمانے پر ہونا چاہئے۔دشمن کو جس طرح آپ کمزور کرسکتے ہیں,وہ تدبیر اپنائیں۔

(3)فلسطینی مسلمانوں کی مالی امداد کی جو صورت ہو,اسے اختیار کیا جائے۔

(4)یہودیوں کے ظلم وجبر کے خلاف جس طرح ممکن ہو,آواز بلند کی جائے۔پرامن احتجاج ممکن ہو تو احتجاج کریں۔تحریر وتقریر اور اپنے عمل سے ظالموں سے اظہار نفرت کریں۔مظلوموں کی حمایت کریں۔

(5)فلسطین اہل فلسطین کا ہے۔جب جرمنی نے اپنے ملک سے انہیں نکال باہر کیا تو یہ لوگ 1948میں فلسطین میں پناہ لئے۔رفتہ رفتہ فلسطین کے علاقوں پر قبضہ جما کر ایک ملک قائم کر لئے۔غاصب اور ظالم یہودی لوگ ہیں۔نہ کہ فلسطینی مسلمان۔

انگریزوں نے بھارت پر قبضہ کر لیا تھا۔اہل بھارت نے آزادی کی لڑائی لڑی اور ملک کو انگریزوں کے اقتدار سے آزاد کرایا۔مجاہدین آزادی آتنگ وادی نہیں تھے۔اسی طرح فلسطینی مسلمان اپنے ملک کی آزادی کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔وہ آتنگ وادی نہیں ہیں۔ان کو آتنگ وادی کہنا غلط ہے۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:20:اکتوبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
یہودی مذہب کی دہشت گردانہ تعلیمات
از قلم: محمد یوسف رضا قادری
رکن جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء نئی دہلی
و تنظیم علماے اہل سنت بھیونڈی
٧ اکتوبر ٢٠٢٣ ء سے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ جاری ہے، اس جنگ میں اسرائیل کی جانب سے جس ظلم و سفاکیت کا مظاہرہ کیا جا رہاہے اس نے دنیا کے ہر انسان کو بے چین و بے قرار کر دیا ہے ، اقوام متحدہ نے جنگ کے بھی کچھ اصول متعین کیے ہیں مگر اسرائیل ان اصولوں کی خلاف ورزی کرکے جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے ، اہل غزہ پر کھانا ، پانی ، بجلی ، دوا سب کی فراہمی روک کر اسرائیل جس سنگ دلی کا ثبوت دے رہا ہے اس پر دنیا حیرت و استعجاب میں مبتلا ہے کہ آخر انسان ہو کر انسانوں کے ساتھ ایسا غیر انسانی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہودیوں کی مقدس کتاب '' تالمود''میںیہودیوں کو یہی تعلیم دی گئی ہے کہ یہودیوں کے علاوہ دنیا کے تمام انسان ہندو، مسلم ، سکھ، عیسائی ، بدھست سب کے سب انسان نہیں جانور ہیں اور یہودیوں کے سوا کسی انسان کو دنیا میں جینے کا کوئی حق نہیں اور غیر یہودیوں پر ظلم و ستم ڈھانا باعث اجر و ثواب ہے ۔
یہاں ہم یہودیوں کی مقدس کتاب '' تالمود'' سے ان کی تعلیمات کے چند نمونے پیش کر رہے ہیں جس سے آپ کو یہ اندازہ ہو جائے گا کہ اس کتاب میں یہودیو ں کو دہشت گردی کی کیسی خطرناک تعلیم دی گئی ہے اسی کے نتیجہ میں غزہ پر آگ برسائی جا رہی ہے انسانوں کو خاک و خون میں تڑپایا جا رہا ہے ، ننھے ننھے بچوں کو بھوکا ، پیاسا مارا جا رہا ہے ، ہاسپیٹل پر بھی بم باری کی جارہی ہے اور اقوام عالم کی اپیل پر بھی اسرائیل جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہورہا ہے۔واضح رہے کہ تالمود یہودیوںکی فقہ کی بہت ہی معتمد و مستند کتاب ہے جسے'' یوخاس''
نے مرتب کیا ہے اور یہودی اسے توریت سے بھی زیادہ معتبر سمجھتے ہیںاور اپنے مذہبی امور کو اسی کے مطابق انجام دیتے ہیں ۔
آج یوروپ اور امریکہ جس کے باشندے مذہبا ً عیسائی ہیں اور اسرائیل کی حمایت و پشت پناہی کر رہے ہیں وہ تالمود کی تعلیمات کا مطالعہ کریں اور اندازہ کریں کہ یہودیوں کی نظر میں عیسائیوں اور دوسری اقوام کی کیا حیثیت ہے :
(١) عیسائیوں کو قتل کرنا ہمارے مذہبی واجبات میں سے ہے ۔
(٢) عیسائی مذہب کے روساء جو یہودیوں کے دشمن ہیں ان پر روزانہ تین مرتبہ لعنت کرنا ضروری ہے۔
(٣) ہم پر لازم ہے کہ عیسائیوں کے ساتھ حیوانات جیسا سلوک کریں۔
(٤) عیسائیوں کے کلیسا گمراہیوں کے مسکن ہیں اور ان کو ڈھا دینا واجب ہے۔
(٥) اگر یہودی عیسائیوں کے ساتھ کوئی معاہدہ کریں تو اس کو پورا کرنا ہم پر ضرور ی نہیں۔
(٦) عیسائیوں کے کلیسا جس میں آدمیوں کی صورت میں کتے بھوکتے ہیں کوڑے دان کی مثل ہیں۔
(٧) عیسائیوں کو ہلاک کرنا باعث اجرو ثواب ہے اور اگرقتل پر قادر نہ ہو تو کم سے کم ہلاکت کے اسباب ضرور پیدا کردینا چاہیے۔
(٨) یسو ع مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جھوٹے نبی تھے مگر عیسائی ان کے دھوکے میں آگئے ۔
(٩) حضرت عیسیٰ علیہ السلام جہنم میں جلائے جائیں گے]معاذ اللہ[۔
(١٠) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایک شخص نے زناکیا تھا اس کے نتیجہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی]معاذ اللہ[۔
(١١) غیر یہودی (ہندو، مسلم ، سکھ ، عیسائی ، بدھست)چاہے کتنے ہی نیک اور اچھے کردار کے ہوں ان کو مار ڈالنا چاہیے۔
(١٢) کسی غیر یہودی کو کسی مصیبت و پریشانی سے نجات دینا حرام ہے یہاں تک کہ اگر وہ کنویں میں گر جائے تو فوراً اس کنویں کو پتھر سے پر کردینا چاہیے۔
(١٣) اگر کسی غیر یہودی کو ہم نے قتل کردیا تو یہ راہ خدا میں قربانی کے مترادف ہے۔
(١٤) کسی غیر یہودی کی مدد کرنا ناقابل معافی گناہ ہے ۔
(١٥) اگر کوئی غیر یہودی دریا میں ڈوب رہا ہو تو اسے ہر گز نہ بچائیں اس لیے کہ وہ سات قومیں جو سرزمین کنعان میں تھیں اور یہودیوں کو ان کو مار ڈالنے کا حکم دیا گیا تھا وہ سب کے سب قتل نہیں کیے جا سکے تھے ممکن ہے یہ ڈوبنے والا شخص انہیں میں سے ہو۔
(١٦) جہاں تک ممکن ہو غیر یہودیوں کو قتل کردو اور اگر قتل کی قدرت ہونے کے باوجود تم نے اسے قتل نہ کیا تو تم گنہگار ہوگے۔
(١٧)یہودیوں کویہ حق حاصل ہے کہ وہ غیر یہودیوں کی عورتوں کو بالجبر حاصل کریں۔
(١٨) غیر یہودیوں کے ساتھ زنا و لواطت کوئی جرم نہیں اور اس پر کوئی سزا نہیں۔
(١٩) روزانہ تین مرتبہ عیسائیوں کی تباہی و بربادی کی دعا کرنا لازم ہے۔
(٢٠) سود کے ذریعہ دوسروں کا مال کھانا کوئی عیب کی بات نہیں ہے اس لیے کہ اللہ نے غیر یہودیوں سے سود خوری کا حکم دیا ہے ۔
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
(٢١) غیر یہودی کو ہر گز قرض نہ دو اور اگر دو تو اس قدر سود اصول کرو کہ وہ تنگ دست و قلاش ہو جائے۔
(٢٢) یہودیوں پر لازم ہے کہ وہ دوسروں کی زمینوں کو خرید لیں تاکہ غیر یہودی کسی چیز کے مالک نہ ہوں اور یہودی تمام غیر یہودیوں پر مسلط ہو سکے۔
(٢٣) اس سے پہلے کہ یہودی عالمی حکومت قائم کریں اور بین الاقوامی غلبہ حاصل کریں عالمی جنگ برپا کی جائے اور دو تہائی انسانوں کو ہلاک کردیا جائے۔
(٢٤) اگر یہودی نہ ہوتے تو زمین سے برکتیں اٹھالی جاتیں اور نہ سورج نکلتا نہ آسمان سے پانی برستا۔
(٢٥) جس طرح حیوانوں پرانسانوں کو فضیلت حاصل ہے اسی طرح یہودیوں کو دوسری اقوام پر فضیلت حاصل ہے۔
(٢٦) کتا غیر یہودیوں سے زیادہ افضل ہے اس لیے کہ عید کے موقع پر کتے کو روٹی اور گوشت دیا جاتاہے مگر غیر یہودی کو روٹی اور گوشت دینا حرام ہے۔
(٢٧) اللہ تعالیٰ کی روزانہ کی بارہ گھنٹے کی مصروفیت۔۔۔شروع کے تین گھنٹوں میں اللہ تعالیٰ شریعت کا مطالعہ کرتا ہے]معاذ اللہ [۔۔۔۔ اس کے بعد تین گھنٹوں تک احکامات صادر کرتا ہے]معاذ اللہ[ ۔۔۔ اس کے بعد تین گھنٹوں تک مخلوق میں روزی تقسیم کرتا ہے]معاذ اللہ [۔۔۔اس کے بعد تین گھنٹہ سمندر کی حوت نامی مچھلی سے کھیلتا ہے]معاذ اللہ[ ۔
(٢٨) ہیکل کو برباد کرنے کا حکم دے کر خدا نے خطا کی اس خطا کا اعتراف کرکے خدا رو پڑا اور کہنے لگا ہاے افسوس کہ میں نے ہیکل کو برباد کرنے کا حکم دیا اور اپنے فرزندوں کا تباہ کردیا ]معاذ اللہ [۔
(٢٩) یہودیوں کو ان حالات سے دو چار کرکے خدا بہت پشیماںہے اور روزانہ اپنے چہرے پر طمانچہ مارتا ہے اور گریہ وزاری کرتا ہے۔
(٣٠) کبھی کبھی خدا کی آنکھوں سے دو قطرے آنسووں کے سمندر میں گرجاتے ہیں جس سے سمندر میں طلاطم برپا ہوجاتاہے اور زمین لرز جاتی ہے۔
٭٭٭
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

عرب ممالک اور مغربی ممالک

(1) فلسطین پر چونتیس دنوں سے مسلسل اسرائیلی حملے جاری ہیں۔مغربی ممالک خاص کر صدر امریکہ اور اس کے بعض اہم وزرا عرب ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔مسلم حکمرانوں کو سمجھا دیا گیا ہے کہ یہ جنگ فلسطین واسرائیل کے درمیان ہے،لہذا آپ لوگوں کو اس میں حصہ لینے کی ضرورت نہیں۔سوال یہ ہے کہ جب یہ اسرائیل وفلسطین کی جنگ ہے تو اس میں امریکہ ومغربی ممالک کو کودنے کی کیا ضرورت تھی؟

(2)اسی طرح جب کسی مسلم ملک پر حملہ کیا جائے گا تو دیگر مسلم ممالک کو سمجھا دیا جائے گا کہ یہ جنگ تو فلاں وفلاں ملک کے درمیان ہے۔آپ لوگوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے۔اسی طرح رفتہ رفتہ دیگر مسلم ملکوں کا نام ونشان مٹا دیا جائے گا۔

(3)عرب ممالک زیادہ کچھ کر بھی نہیں سکتے۔عرب ممالک سلطنت عثمانیہ ترکیہ میں شامل تھے۔پہلی جنگ عظیم(1914-918)کے موقع پر عربوں نے یورپ کی اتحادی طاقتوں کے اشارے پر سلطنت عثمانیہ سے بغاوت کر دی۔اتحادی ممالک نے سلطنت عثمانیہ سے عرب علاقے چھین کر بہت سے چھوٹے چھوٹے ممالک بنا دیئے اور غدار عربوں کو ان ممالک کے حکمراں مقرر کر دیئے۔جب عرب حکمرانوں کو اتحادی ممالک نے ہی حکمرانی سپرد کی ہے تو یہ عرب حکمراں اپنے آقاؤں کی بات مانیں گے یا مسلمانوں کی ہمدردی دکھلائیں گے۔اگر یہ لوگ اسلام کے خیر خواہ ہوتے تو سلطنت عثمانیہ سے بغاوت ہی نہ کرتے۔اگر عرب عوام کا خوف نہ ہو تو عرب ممالک کے حکمراں اہل فلسطین سے رسمی ہمدردی کا اظہار بھی نہ کریں۔

باپ پر پوت پتا پر گھوڑا

بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا

عرب کا مشہور مقولہ ہے:

الولد سر لابیہ

غداروں کی اولادوں سے امید وفاداری خود فریبی نہیں تو اور کیا ہے؟

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:09:نومبر2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

جنگی اصولوں کی خلاف ورزی اور اسرائیل

(1)یہودی دنیا کی بدترین قوم ہے۔اس قوم نے بے شمار انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو شہید کیا ہے۔اللہ تعالی نے ان یہودیوں پر ذلت وخواری مسلط فرما دی ہے۔دیگر لوگوں کی پشت پناہی سے ہی یہ قوم تخت وتاج کے قابل ہو سکتی ہے۔اپنی قوت کے سہارے یہ قوم تخت وتاج کے لائق نہیں۔ان حقائق کو قرآن مقدس میں تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔

(2) مجاہدین اسلام کی حالیہ بمباری میں چند اسرائیلی(سات/آٹھ)ہلاک ہوئے ہیں۔یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ فوجی نہیں،بلکہ عام شہری تھے۔یہودیوں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مجاہدین اسلام نے عالمی جنگی قوانین کی پاسداری نہیں کی۔دوسری جانب آغاز امر سے ہی اسرائیل غزہ پٹی میں عام شہریوں پر جنگی جہازوں سے مسلسل بمباری کر رہا ہے اور تادم تحریر حالیہ بمباری میں قریبا چودہ ہزار عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ان مہلوکین میں بچے،بوڑھے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔

یہودی اپنے جرائم کو نہیں دیکھتے ہیں۔وہ لوگ خود جنگی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور دوسروں کو جنگی قوانین کی پابندی کی نصیحت کرتے ہیں،حالاں کہ غیر فوجی یہودی بھی دامے،درمے،قدمے،سخنے اپنی فوج کے ساتھ ہیں،لہذا وہ لوگ بھی مجرم ہیں۔سات لاکھ فلسطینی مسلمانوں کے گھروں پر یہودیوں نے قبضہ کر لیا اور ان علاقوں سے مسلمانوں کو نکال باہر کیا۔1948 سے آج تک بے شمار مسلمانوں کو قتل کیا۔مسلمانوں کے گھروں پر قبضہ کرنے والے اور ان میں رہنے والے سب کے سب فوجی نہیں،بلکہ غاصبین کی غالب اکثریت عام شہریوں کی ہے۔یہ تمام یہودی مجرم ہیں۔

(3) اسرائیل کی پالیسی یہ ہے کہ فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کر دیا جائے،تاکہ پھر کوئی فلسطین کا دعویدار باقی نہ رہے،لہذا اپنی پالیسی کے مطابق وہ عام شہریوں کو عام دنوں میں بھی ہلاک کرتا رہتا ہے۔یہ فلسطینیوں کی مسلسل نسل کشی ہے۔بھارت کے متعصبین بھی سو سال سے بھارتی مسلمانوں کو ہلاک کرنے اور انہیں ملک سے باہر نکالنے کی تمنا اپنے دلوں میں دبائے بیٹھے ہیں۔اگر بفضل الہی فلسطینی مسلمانوں کو کامیابی مل گئی تو بھارتی متعصبین کا بھی کلیجہ پھٹے گا،شاید اور بھی کچھ پھٹے۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:14:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

دنیا چڑھتے سورج کو سلام کرتی ہے

اسرائیل نے جنگی جہازوں سے بمباری کر کے تقریبا چودہ ہزار عام فلسطینی مسلمانوں کو ہلاک کر دیا۔ان میں بچوں،بوڑھوں اور عورتوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔اسرائیل نے غزہ پٹی کے نصف علاقے کو عام شہریوں سے خالی کرا لیا۔بے شمار عمارتوں،اسکولوں،اسپتالوں اور مسجدوں کو بھی تباہ وبرباد کر دیا۔

حماس کے پاس جنگی جہازوں کو مار گرانے کا مستحکم نظام نہیں ہے،لہذا یہودیوں نے جنگی جہازوں سے عام شہریوں کو بے دریغ ہلاک کیا اور بے شمار عمارتوں کو تہس نہس کر دیا۔لیکن زمینی حملوں کا حال بالکل برعکس ہے۔حماس کے سپاہی اسرائیل کے جنگی ٹینکوں کو ایسے تباہ کر رہے ہیں جیسے بچے ڈھیلے پھینک کر مٹی کی ہانڈیوں کو توڑ دیتے ہیں۔یہودی ٹینکوں کی تباہی کا منظر دیکھنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیلی ٹینک نیست ونابود ہونے کے لئے ہی غزہ پٹی میں داخل ہوئے ہیں۔اگر حماس اسی طرح کاروائی کرتا رہا تو زمینی جنگ میں اسرائیل کی تاریخی شکست یقینی ہے۔

بسا اوقات یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ حماس نے اسرائیل کے جنگی ہیلی کاپٹروں کو ایسے مار گرایا جیسے بچے غلیل سے کوے مار گراتے ہیں۔

  اب تو اسرائیلی شہروں پر بھی بمباری ہو رہی ہے اور دنیا کی خبیث ترین قوم یعنی خروج دجال کی امید لگائے بیٹھے غاصب وظالم یہودی اسرائیل چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں اور بہت سے یوروپین ممالک اسرائیل کا ساتھ دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ان شاء اللہ تعالی حماس مضبوطی کے ساتھ میدان میں ڈٹا رہا تو دیگر ممالک بھی اسرائیل کے خلاف ہو جائیں گے۔

ع/ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:15:نومبر 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

تمام ہیرو مسلمانوں کے سامنے زیرو

سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کے پاس کوئی مرکزی قوت نہیں۔او آئی سی یا عرب لیگ کی حالت جگ ظاہر ہے۔اس عہد زوال میں مسلمانوں نے دنیا کی سپر پاور طاقتوں کو شکست وریخت سے دو چار کیا ہے۔

روس وامریکہ یقینا بڑے طاقتور اور سپر پاور ملک ہیں۔لیکن یہ ممالک ناقابل تسخیر نہیں۔ افغانستان وچیچینیا نے روس کو شکست فاش دی،پھر اسی افغانستان نے امریکہ کو اپنے ملک سے باہر نکالا۔

اسرائیل کے بارے میں بھی بہت سے حقائق یا افسانے مشہور ہیں۔اسرائیل کی فوج دنیا کی بہت طاقتور فوج مانی جاتی ہے۔اس کے جنگی ہتھیاروں کو بہت مستحکم ہتھیار مانا جاتا ہے۔اس کے محکمہ انٹلی جنس یعنی موساد کو دنیا کا ماہر ترین شعبہ انٹلی جنس مانا جاتا ہے۔آئرن ڈوم کا شہرہ بھی آسمان کی بلندیاں چھو رہا ہے،لیکن حماس کے سامنے اسرائیل کی فوج،اس کے جنگی ہتھیار،اس کا محکمہ انٹلی جنس اور آئرن ڈوم سب زیرو نظر آ رہے ہیں۔

غزہ پٹی میں اسرائیل کے جنگی ٹینک تباہ کئے جا رہے ہیں۔اسرائیلی فوجی مسلسل مارے جا رہے ہیں۔موساد مسلسل بے دست و پا نظر آ رہا ہے۔اسرائیلی شہروں پر بمباری ہو رہی ہے اور میزائیل بھی داغے جا رہے ہیں۔اسرائیل کا آئرن ڈوم سسٹم دہشت کے مارے خاموش ہو چکا ہے۔دنیا کی بدترین قوم یہودی اپنے گھروں کو چھوڑ کر اسرائیل سے بھاگ رہی ہے۔

انہی مقامات پر مسلمان مارے اور کاٹے جاتے ہیں،جہاں انہوں نے ڈیفنس کی خاطر خواہ تیاری نہ کی ہو۔ہم کسی بے قصور پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتے،لیکن جو ہم پر ظلم وستم ڈھائے تو ہمیں ڈیفنس کا حق اسلامی قانون بھی دیتا ہے اور ملکی وعالمی قانون بھی۔مسلمانوں کو اپنا دفاع کرنا ہو گا،تب اللہ تعالی کی مدد مسلمانوں کی دستگیری کرے گی۔

ابھی عالمی وملکی میڈیا دو خیموں میں منقسم ہو چکا ہے۔میڈیا سے صحیح جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کریں۔حماس کے مسلسل حملوں سے اسرائیل بدحواس ہو چکا ہے۔اسرائیلی فوج حماس کا مقابلہ نہیں کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ہاں،یہودی فوج نہتے شہریوں پر حملے کرتی ہے اور اسرائیل کے جنگی جہاز عام شہریوں پر بمباری کرتے ہیں۔حماس کو اسرائیل کے ہوائی حملے روکنے کی تدبیر کرنی چاہئے۔

جنگ بندی جلد ہو گی یا کچھ وقت لگے گا،یہ بتانا مشکل ہے۔امید ہے کہ نومبر کے اخیر تک منظر نامہ بدل جائے،کیوں کہ حماس کے حملے تیز ہوتے جا رہے ہیں اور اسرائیلی شہروں پر مسلسل بمباری جاری ہے۔مغربی ودجالی میڈیا کب تک اسرائیل کی عزت بچائے گا۔دیگر ذرائع سے حقائق سامنے آ رہے ہیں۔سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ چالیس دنوں سے مسلسل جنگ جاری ہے۔اسرائیل کی طاقتور فوج اب تک حماس کا خاتمے کیوں نہیں کر سکی۔سچ تو یہ ہے کہ اسرائیلی فوج کے کچھ لوگ روزانہ موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور اسرائیلی ٹینک تباہ وبرباد ہو رہے ہیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:16:نومبر 2023