🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-05-1445 ᴴ | 05-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
20-05-1445 ᴴ | 05-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نکاح پڑھانے کا طریقہ انوار شریعت
مہر کا بیان / مہر کی قسمیں
حضرت فاطمہ کا مہر 400 درہم تھا
مہر کم سے کم 10 درہم ہے ...
یعنی 2 تولہ ساڑھے 7 ماشہ چاندی
مہر معجل | مہر مؤجل | مہر مطلق
عدت کا بیان IDDAT
❶ بیوہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے ـ ❷ بیوہ غیرِ حاملہ کی عدت 4 مہینہ 10 دِن ہے ـ ❸ طلاق والی حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے ـ ❹ طلاق والی مدخولہ عورت اگر آئسہ یعنی 55 سالہ یا نابالغہ ہو تو اس کی عدت 3 ماہ ہے ـ ❺ طلاق والی مدخولہ عورت اگر حاملہ نابالغہ یا 55 سالہ نہ ہو تو اس کی عدت 3 حیض ہے، خواہ یہ 3 حیض 3 ماہ یا 3 سال یا اس سے زیادہ میں آئیں ـ ❻ اور طلاق والی غیر مدخولہ عورت کے لئے کوئی عدت نہیں ـ انوار الحدیث صفحہ³³¹-³³² ـ
سوال: کیا عورت اجنبی کے گھر ملازمت کر سکتی ہے؟ جواب: پانچ شرطوں کے ساتھ اِجازت ہے ـ ❶ کپڑے باریک نہ ہوں ـ ❷ کپڑے تنگ و چست نہ ہوں ـ ❸ بالوں یا گلے یا پیٹ یا کلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہر نہ ہوتا ہو ـ ❹ کبھی نا محرم کے ساتھ خفیف (یعنی معمولی سی) دیر کے لئے بھی تنہائی نہ ہو ـ ❺ اس کے وہاں رہنے یا باہر آنے جانے میں کوئی فتنہ کا گمان نہ ہو ـ فتاوٰی رضویہ ج²²
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نکاح پڑھانے کا طریقہ انوار شریعت
مہر کا بیان / مہر کی قسمیں
حضرت فاطمہ کا مہر 400 درہم تھا
مہر کم سے کم 10 درہم ہے ...
یعنی 2 تولہ ساڑھے 7 ماشہ چاندی
مہر معجل | مہر مؤجل | مہر مطلق
عدت کا بیان IDDAT
❶ بیوہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے ـ ❷ بیوہ غیرِ حاملہ کی عدت 4 مہینہ 10 دِن ہے ـ ❸ طلاق والی حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے ـ ❹ طلاق والی مدخولہ عورت اگر آئسہ یعنی 55 سالہ یا نابالغہ ہو تو اس کی عدت 3 ماہ ہے ـ ❺ طلاق والی مدخولہ عورت اگر حاملہ نابالغہ یا 55 سالہ نہ ہو تو اس کی عدت 3 حیض ہے، خواہ یہ 3 حیض 3 ماہ یا 3 سال یا اس سے زیادہ میں آئیں ـ ❻ اور طلاق والی غیر مدخولہ عورت کے لئے کوئی عدت نہیں ـ انوار الحدیث صفحہ³³¹-³³² ـ
سوال: کیا عورت اجنبی کے گھر ملازمت کر سکتی ہے؟ جواب: پانچ شرطوں کے ساتھ اِجازت ہے ـ ❶ کپڑے باریک نہ ہوں ـ ❷ کپڑے تنگ و چست نہ ہوں ـ ❸ بالوں یا گلے یا پیٹ یا کلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہر نہ ہوتا ہو ـ ❹ کبھی نا محرم کے ساتھ خفیف (یعنی معمولی سی) دیر کے لئے بھی تنہائی نہ ہو ـ ❺ اس کے وہاں رہنے یا باہر آنے جانے میں کوئی فتنہ کا گمان نہ ہو ـ فتاوٰی رضویہ ج²²
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت حافظ سید عبد اللہ بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حافظ سید عبد اللہ بلگرامی ۔ حنفی المذہب ۔ قادری المشرب ۔
سلسلۂ نسب:
آپ سید آل احمد واسطی بلگرامی کے بیٹے تھے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
21 جمادی الاول 1248ھ، بمطابق 1832ء ، " قصبہ بلگرام " میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
سید عبد اللہ بلگرامی علیہ الرحمہ نے 12 سال کی قلیل عمر میں ناظرہ قرآنِ پاک اور فارسی کی مروجہ کتب مکمل فرمالیں تھیں ۔ صرف و نحو اور منطق کی ابتدائی کتابیں جناب مولانا محمد سلامت اللہ بدایونی کانپوری کے بعض شاگردوں سے پڑھیں، اس کے بعد قطبی سے شرح سلم حمد اللہ تک، خاص مولانا سلامت اللہ بدایونی سے پڑھیں، منطق و فلسفہ کی بقیہ کتابیں، عربی قصائد، استاذ الکل مجاہدِ جنگِ آزادی مولانا فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ سے رام پور اور لکھنؤ میں پڑھیں، اس کے بعد فقہ، حدیث اور تفسیر کی دوسری درسی کتابیں ریاست الور میں مولوی نور الحسن کا ندھلوی سے پڑھیں ۔ شیخ الاسلام سید احمد زینی دحلان مفتیِ مکۃ المکرمہ و مدرس مدرسہ بیت الحرام سے فقہ، حدیث اور تفسیر کی اسناد حاصل کیں، اور ماہ شوال 1276ھ بمطابق 1860ء میں سندِ فر اغ حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
حاٖفظ عبد العزیز دہلوی علیہ الرحمہ خلیفہ سید شاہ آل احمد مارہری علیہ الرحمہ سے سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
معقولات میں سلسلہ خیر آبادیت ، منقولات میں شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، طریقت میں " مارہرہ مطہرہ " کی جامع الکمال شخصیت ، جامع المعقولِ والمنقول، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، محسنِ اسلام، قاطعِ بدعت، شمشیر بر رفض و وہابیت، آلِ نبی اولادِ علی حافظ سید عبد اللہ بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ ہندوستان کے ان مشائخ میں سے ہیں جنہوں نے ملتِ اسلامیہ کی مشکل وقت میں صحیح راہنمائی فرمائی ہے ۔ اس وقت فتنۂ وہابیت نے عالمِ اسلام میں " شرک و بدعت " کی مہم کو برطانوی پشت پناہی اور فنڈز کی قوت سے بڑے زور و شور سے برپا کر رکھا تھا ۔
آپ نے اس فتنے کے سدِ باب کے لئے کئی رسائل تحریر فرمائے ۔ اسی وجہ سے تاج الفحول شاہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ آپ سے بہت محبت فرماتے تھے ۔
آپ کو عربی و فارسی ادب ، نظم اور نثر میں کمال حاصل تھا ۔ خاص کر عربی قصائد میں مولانا فضلِ حق خیر آبادی علیہ الرحمہ کا رنگ نظر آتا تھا ۔ آپ علیہ الرحمہ ساری زندگی تدریس و تحریر کی صورت میں دینِ اسلام کی خدمات سر انجام دیتے رہے ۔
وصال:
بروز ہفتہ یکم رمضان المبارک ، 1305ھ، بمطابق 1888ء کو داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ آپ کا مزار کانپور میں ہے ۔
؎ نکو سیرت چو عبد اللہ
حافظ ہوئے ملک بقا ناگاہ رفتہ
بسال رحلتش ہاتف ندا
داد بجنت پاک عبد اللہ رفتہ (۱۳۰۵)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-abdullah-bilgrami
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حافظ سید عبد اللہ بلگرامی ۔ حنفی المذہب ۔ قادری المشرب ۔
سلسلۂ نسب:
آپ سید آل احمد واسطی بلگرامی کے بیٹے تھے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
21 جمادی الاول 1248ھ، بمطابق 1832ء ، " قصبہ بلگرام " میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
سید عبد اللہ بلگرامی علیہ الرحمہ نے 12 سال کی قلیل عمر میں ناظرہ قرآنِ پاک اور فارسی کی مروجہ کتب مکمل فرمالیں تھیں ۔ صرف و نحو اور منطق کی ابتدائی کتابیں جناب مولانا محمد سلامت اللہ بدایونی کانپوری کے بعض شاگردوں سے پڑھیں، اس کے بعد قطبی سے شرح سلم حمد اللہ تک، خاص مولانا سلامت اللہ بدایونی سے پڑھیں، منطق و فلسفہ کی بقیہ کتابیں، عربی قصائد، استاذ الکل مجاہدِ جنگِ آزادی مولانا فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ سے رام پور اور لکھنؤ میں پڑھیں، اس کے بعد فقہ، حدیث اور تفسیر کی دوسری درسی کتابیں ریاست الور میں مولوی نور الحسن کا ندھلوی سے پڑھیں ۔ شیخ الاسلام سید احمد زینی دحلان مفتیِ مکۃ المکرمہ و مدرس مدرسہ بیت الحرام سے فقہ، حدیث اور تفسیر کی اسناد حاصل کیں، اور ماہ شوال 1276ھ بمطابق 1860ء میں سندِ فر اغ حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
حاٖفظ عبد العزیز دہلوی علیہ الرحمہ خلیفہ سید شاہ آل احمد مارہری علیہ الرحمہ سے سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
معقولات میں سلسلہ خیر آبادیت ، منقولات میں شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، طریقت میں " مارہرہ مطہرہ " کی جامع الکمال شخصیت ، جامع المعقولِ والمنقول، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، محسنِ اسلام، قاطعِ بدعت، شمشیر بر رفض و وہابیت، آلِ نبی اولادِ علی حافظ سید عبد اللہ بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ ہندوستان کے ان مشائخ میں سے ہیں جنہوں نے ملتِ اسلامیہ کی مشکل وقت میں صحیح راہنمائی فرمائی ہے ۔ اس وقت فتنۂ وہابیت نے عالمِ اسلام میں " شرک و بدعت " کی مہم کو برطانوی پشت پناہی اور فنڈز کی قوت سے بڑے زور و شور سے برپا کر رکھا تھا ۔
آپ نے اس فتنے کے سدِ باب کے لئے کئی رسائل تحریر فرمائے ۔ اسی وجہ سے تاج الفحول شاہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ آپ سے بہت محبت فرماتے تھے ۔
آپ کو عربی و فارسی ادب ، نظم اور نثر میں کمال حاصل تھا ۔ خاص کر عربی قصائد میں مولانا فضلِ حق خیر آبادی علیہ الرحمہ کا رنگ نظر آتا تھا ۔ آپ علیہ الرحمہ ساری زندگی تدریس و تحریر کی صورت میں دینِ اسلام کی خدمات سر انجام دیتے رہے ۔
وصال:
بروز ہفتہ یکم رمضان المبارک ، 1305ھ، بمطابق 1888ء کو داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ آپ کا مزار کانپور میں ہے ۔
؎ نکو سیرت چو عبد اللہ
حافظ ہوئے ملک بقا ناگاہ رفتہ
بسال رحلتش ہاتف ندا
داد بجنت پاک عبد اللہ رفتہ (۱۳۰۵)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-abdullah-bilgrami
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت حافظ سید عبد اللہ بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ نام و نسب: اسمِ گرامی: حافظ سید عبد اللہ بلگرامی ۔ حنفی المذہب ۔ قادری المشرب ۔ سلسلۂ نسب: آپ سید آل احمد واسطی بلگرامی کے بیٹے تھے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ سے ملتا…
حضرت حافظ سید عبد اللہ بلگرامی
https://t.me/islaamic_Knowledge/64498
https://t.me/islaamic_Knowledge/64498
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-05-1445 ᴴ | 05-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-05-1445 ᴴ | 06-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1