🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-05-1445 ᴴ | 04-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-05-1445 ᴴ | 04-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-05-1445 ᴴ | 04-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-05-1445 ᴴ | 04-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
شہیدِ ناموس رسالت ، غازی ملک ممتاز حسین قادری شہید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: ملک ممتاز حسین قادری ۔لقب: غازیِ اسلام ، غازیِ ملت ، محافظِ ناموسِ رسالت ، پروانۂ شمعِ رسالت ، شہیدِ ناموسِ مصطفیٰ ﷺ ۔
والد کا اسمِ گرامی:
ملک بشیر اعوان صاحب مدظلہ العالی ۔ (ملک صاحب نہایت ہی ایمان دار شخص ہیں ۔ محنت مزدوری کرتے ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے ہمیشہ اپنی اولاد کو رزقِ حلال کھلایا ہے، کبھی اپنی اولاد کو حرام کا لقمہ نہیں کھلایا) ـ
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
غازی ملک ممتاز حسین قادری بن ملک بشیر اعوان بن ملک خان محمد بن ملک دادن خان ۔ ملک دادن خان علیہ الرحمہ غازی صاحب کے پڑ دادا تھے ۔ یہ خدا رسیدہ اور خدا ترس بزرگ تھے ۔ مسافروں کو کھانا کھلانا فرض جانتے تھے ۔ آج بھی لوگ ان کی پرہیزگاری و سخاوت کو بیان کرتے ہیں، اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ ان کا مزار شریف اسلام آباد میں " کھڈا مارکیٹ " کے ساتھ سی، ڈے، اے، کی عمارت کے عقب میں ہےٖ [1] ۔
آبائی گاؤں:
غازی صاحب کا آبائی گاؤں " باغ بھٹاں"ہے، باغ بھٹاں موجودہ " آبپارہ " کے قریب واقع تھا ۔ اسلام آباد کی تعمیر کی غرض سے حکومت نے سب دیہاتوں کو منہدم کرکے ان کے مکینوں کو یہاں سے بے دخل کر دیا تھا ۔
آپ حضرت علی کی اولاد سے ہیں:
آپ نسباً " قطب شاہی اعوان " برادری سے ہیں ۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت محمد بن حنفیہ بن مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم تک منتہی ہوتا ہے ۔ اس قوم میں میں بڑے بڑے اولیاء، اور نامور سپہ سالار پیدا ہوئے ہیں [2] ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 8 ربیع الاول 1405ھ مطابق یکم جنوری 1985ء بروز منگل صادق آباد کے علاقے " مسلم ٹاؤن " راولپنڈی، پاکستان میں پیدا ہوئے [3] ۔
ولادت سے قبل بشارت:
غازی صاحب کے والدِ محترم فرماتے ہیں: ممتاز کی ولادت سے دو سال قبل میں نے ایک عجیب واقعہ دیکھا ۔ میرا معمول تھا کہ میں رات کے پچھلے پہر اُٹھ کر تہجد کی نماز ادا کرتا تھا اور اس مقصد کے لئے ہمارے گھر کا ایک کونہ مختص تھا جہاں مصلیٰ بچھا ہوتا تھا ۔ جس نے گھر والوں میں سے نماز ادا کرنی ہوتی وہ اسی جگہ نماز ادا کرتا ۔
ایک رات میں بیدار ہوا اور نماز کے لئے مذکورہ گوشے میں پہنچا تو دیکھا کہ ایک نورانی شخصیت اس مصلے پر نماز ادا کر رہی ہے، میں انہیں دیکھنے لگا، انہوں نے نماز مکمل کی اور خاموشی سے جانے لگے، پھر اچانک واپس مڑے اور مجھے فرمایا: " اس گھر کے جنوبی کونے میں ایک اللہ کا ولی پیدا ہوگا، جو پوری دنیا میں اسلام کی عزت کا پرچم بلند کرےگا اور تمہارا نام روشن کرے گا " یہ کہتے ہوئے وہ تشریف لے گئے ۔ دو سال بعد میرے بیٹے ممتاز حسین کی ولادت اسی جگہ ہوئی، جہاں بزرگ نے نشاندہی فرمائی تھی ۔ اس کے بعد میں اس بات کو بھول گیا تاآنکہ 4 جنوری 2011ء کو سلمان تاثیر قتل ہوا، اور سارے معاملات سامنے آئے ۔ پھر مجھے وہ بزرگ والا واقعہ یاد آیا کہ جس شخص کے متعلق اس بندۂ خدا نے خبر دی تھی وہ تو ممتاز حسین نکلا [4] ۔ ایک اور بات کہ غازی صاحب کی ولادت سے ہمارے گھر کے معاشی حالات بھی بہتر ہو گئے ۔
تحصیلِ علم:
غازی صاحب نے میٹرک تک تعلیم اپنے گھر کے قریب پرائیویٹ انگلش میڈیم اسکول " عائشہ لاثانی پبلک اسکول " مسلم ٹاؤن میں حاصل کی ۔ بچپن سے ہی میں غازی صاحب خاموش طبع اپنے کام سے کام رکھنے والے بغیر کسی کی مدد کے سکول کے لئے تیار ہو جانا اپنا ہوم ورک بغیر کسی کی مدد کے کر لینا وغیرہ ۔ اسکول کی تقریبات میں نعتیں شوق سے پڑھتے تھے ۔ نعتیہ مقابلے میں بھی حصہ لیتے تھے ۔ اسی طرح محلے میں جہاں کہیں نعت خوانی، یا میلاد شریف کا پروگرام ہوتا اس میں ضرور شرکت کرتے ۔
میٹرک کے بعد " سویڈش کالج " میں الیکٹرونکس ڈپلومہ کیا ۔ پھر اسی دوران 2002ء میں محکمہ پولیس میں بھرتی ہو گئے ۔ آپ جسمانی اور ذہنی طور پر انتہائی مضبوط اور نشانہ بازی میں اپنے بیج کے تمام لڑکوں سے مسابقت رکھتے تھے ۔
بیعت:
میٹرک کے بعد امیرِ دعوتِ اسلامی ابو بلال حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری مد ظلہ کے دستِ حق پرست پر بذریعہ خط بیعت ہو گئے، اور دعوتِ اسلامی کے اجتماعات میں شریک ہونے لگے ۔
ممتاز سیرت:
غازیِ اسلام، غازیِ ملت، محافظِ ناموسِ رسالت ﷺ، پروانۂ شمعِ رسالت ﷺ، پیکرِ غیرت و حمیت، شہیدِ ناموسِ مصطفیٰ، جناب ملک ممتاز حسین قادری شہید رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ فنا فی الرسول ﷺ تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کی محبت آپ کا سرمایۂ حیات تھا ۔ ہر وقت ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کرنا، اور سننا ان کا محبوب مشغلہ تھا ۔ غازی صاحب کا مسلک عشق و محبت ہے ۔ ایک مرتبہ غازی صاحب فرمانے لگے: کہ اگر اللہ جل شانہ مجھ سے پوچھے ممتاز قادری! مانگ کیا مانگتا ہے؟ تو میں عرض کروں گا اے باری تعالیٰ! اپنے نبی ﷺ کے ساری امتیوں کو اپنے نبی ﷺ کا عشق عطاء فرما ۔ [5]
نام و نسب:
اسمِ گرامی: ملک ممتاز حسین قادری ۔لقب: غازیِ اسلام ، غازیِ ملت ، محافظِ ناموسِ رسالت ، پروانۂ شمعِ رسالت ، شہیدِ ناموسِ مصطفیٰ ﷺ ۔
والد کا اسمِ گرامی:
ملک بشیر اعوان صاحب مدظلہ العالی ۔ (ملک صاحب نہایت ہی ایمان دار شخص ہیں ۔ محنت مزدوری کرتے ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے ہمیشہ اپنی اولاد کو رزقِ حلال کھلایا ہے، کبھی اپنی اولاد کو حرام کا لقمہ نہیں کھلایا) ـ
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
غازی ملک ممتاز حسین قادری بن ملک بشیر اعوان بن ملک خان محمد بن ملک دادن خان ۔ ملک دادن خان علیہ الرحمہ غازی صاحب کے پڑ دادا تھے ۔ یہ خدا رسیدہ اور خدا ترس بزرگ تھے ۔ مسافروں کو کھانا کھلانا فرض جانتے تھے ۔ آج بھی لوگ ان کی پرہیزگاری و سخاوت کو بیان کرتے ہیں، اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ ان کا مزار شریف اسلام آباد میں " کھڈا مارکیٹ " کے ساتھ سی، ڈے، اے، کی عمارت کے عقب میں ہےٖ [1] ۔
آبائی گاؤں:
غازی صاحب کا آبائی گاؤں " باغ بھٹاں"ہے، باغ بھٹاں موجودہ " آبپارہ " کے قریب واقع تھا ۔ اسلام آباد کی تعمیر کی غرض سے حکومت نے سب دیہاتوں کو منہدم کرکے ان کے مکینوں کو یہاں سے بے دخل کر دیا تھا ۔
آپ حضرت علی کی اولاد سے ہیں:
آپ نسباً " قطب شاہی اعوان " برادری سے ہیں ۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت محمد بن حنفیہ بن مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم تک منتہی ہوتا ہے ۔ اس قوم میں میں بڑے بڑے اولیاء، اور نامور سپہ سالار پیدا ہوئے ہیں [2] ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 8 ربیع الاول 1405ھ مطابق یکم جنوری 1985ء بروز منگل صادق آباد کے علاقے " مسلم ٹاؤن " راولپنڈی، پاکستان میں پیدا ہوئے [3] ۔
ولادت سے قبل بشارت:
غازی صاحب کے والدِ محترم فرماتے ہیں: ممتاز کی ولادت سے دو سال قبل میں نے ایک عجیب واقعہ دیکھا ۔ میرا معمول تھا کہ میں رات کے پچھلے پہر اُٹھ کر تہجد کی نماز ادا کرتا تھا اور اس مقصد کے لئے ہمارے گھر کا ایک کونہ مختص تھا جہاں مصلیٰ بچھا ہوتا تھا ۔ جس نے گھر والوں میں سے نماز ادا کرنی ہوتی وہ اسی جگہ نماز ادا کرتا ۔
ایک رات میں بیدار ہوا اور نماز کے لئے مذکورہ گوشے میں پہنچا تو دیکھا کہ ایک نورانی شخصیت اس مصلے پر نماز ادا کر رہی ہے، میں انہیں دیکھنے لگا، انہوں نے نماز مکمل کی اور خاموشی سے جانے لگے، پھر اچانک واپس مڑے اور مجھے فرمایا: " اس گھر کے جنوبی کونے میں ایک اللہ کا ولی پیدا ہوگا، جو پوری دنیا میں اسلام کی عزت کا پرچم بلند کرےگا اور تمہارا نام روشن کرے گا " یہ کہتے ہوئے وہ تشریف لے گئے ۔ دو سال بعد میرے بیٹے ممتاز حسین کی ولادت اسی جگہ ہوئی، جہاں بزرگ نے نشاندہی فرمائی تھی ۔ اس کے بعد میں اس بات کو بھول گیا تاآنکہ 4 جنوری 2011ء کو سلمان تاثیر قتل ہوا، اور سارے معاملات سامنے آئے ۔ پھر مجھے وہ بزرگ والا واقعہ یاد آیا کہ جس شخص کے متعلق اس بندۂ خدا نے خبر دی تھی وہ تو ممتاز حسین نکلا [4] ۔ ایک اور بات کہ غازی صاحب کی ولادت سے ہمارے گھر کے معاشی حالات بھی بہتر ہو گئے ۔
تحصیلِ علم:
غازی صاحب نے میٹرک تک تعلیم اپنے گھر کے قریب پرائیویٹ انگلش میڈیم اسکول " عائشہ لاثانی پبلک اسکول " مسلم ٹاؤن میں حاصل کی ۔ بچپن سے ہی میں غازی صاحب خاموش طبع اپنے کام سے کام رکھنے والے بغیر کسی کی مدد کے سکول کے لئے تیار ہو جانا اپنا ہوم ورک بغیر کسی کی مدد کے کر لینا وغیرہ ۔ اسکول کی تقریبات میں نعتیں شوق سے پڑھتے تھے ۔ نعتیہ مقابلے میں بھی حصہ لیتے تھے ۔ اسی طرح محلے میں جہاں کہیں نعت خوانی، یا میلاد شریف کا پروگرام ہوتا اس میں ضرور شرکت کرتے ۔
میٹرک کے بعد " سویڈش کالج " میں الیکٹرونکس ڈپلومہ کیا ۔ پھر اسی دوران 2002ء میں محکمہ پولیس میں بھرتی ہو گئے ۔ آپ جسمانی اور ذہنی طور پر انتہائی مضبوط اور نشانہ بازی میں اپنے بیج کے تمام لڑکوں سے مسابقت رکھتے تھے ۔
بیعت:
میٹرک کے بعد امیرِ دعوتِ اسلامی ابو بلال حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری مد ظلہ کے دستِ حق پرست پر بذریعہ خط بیعت ہو گئے، اور دعوتِ اسلامی کے اجتماعات میں شریک ہونے لگے ۔
ممتاز سیرت:
غازیِ اسلام، غازیِ ملت، محافظِ ناموسِ رسالت ﷺ، پروانۂ شمعِ رسالت ﷺ، پیکرِ غیرت و حمیت، شہیدِ ناموسِ مصطفیٰ، جناب ملک ممتاز حسین قادری شہید رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ فنا فی الرسول ﷺ تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کی محبت آپ کا سرمایۂ حیات تھا ۔ ہر وقت ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کرنا، اور سننا ان کا محبوب مشغلہ تھا ۔ غازی صاحب کا مسلک عشق و محبت ہے ۔ ایک مرتبہ غازی صاحب فرمانے لگے: کہ اگر اللہ جل شانہ مجھ سے پوچھے ممتاز قادری! مانگ کیا مانگتا ہے؟ تو میں عرض کروں گا اے باری تعالیٰ! اپنے نبی ﷺ کے ساری امتیوں کو اپنے نبی ﷺ کا عشق عطاء فرما ۔ [5]
❤1👍1